Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Koi Sath Ho (Episode 16)

Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2

انکی گاڑی ایک پرانی عمارت کے سامنے رکی ۔۔ دونو ں نے ہی گاڑی سے نکل کر اس عمارت کی جانب دیکھا ۔

” کسی کو بھی چھپانے اور چھپنے کے لئے پرفیکٹ جگہ ہے یہ ” ماسٹر نے کہا ۔۔

” لیکن ہم سے چھپنے کے لئے نہیں ” سنجیدگی سے کہتا مصطفی آگے بڑھا ۔۔ جبکہ ماسٹر ایک گہری سانس لے کر اسکے پیچھے ۔۔ جیسے جانتا ہو کہ آگے کیا ہونےوالا ہے

اندر آتے ہی مصطفی کی نظر زمین پر گرے آحل کے کپڑوں پر گئ ۔۔

” آحل ۔۔۔ ” وہ جیسے تڑپ کر آگے بڑھا اور انہیں اٹھاکر دیکھا جن میں خون کے نشانات تھے ۔۔

” انہوں نے اسے مارا ہے ماسٹر ۔۔ ” شدید غصے سے آنکھیں لال ہوئ ۔ کپڑوں کو اپنی مضبوط گرفت میں لیا ۔۔

جبکہ ماسٹر نے ایک نظر اسکے ہاتھ میں موجود شرٹ پر گئ جہاں خون تھا ۔۔

اور اسے لگا جیسے اسکا دل بھی اب خون برسانے لگا ہے ۔۔

وہ فوراً ہی نظر ہٹاتے آگے بڑھا ۔۔

صبر اور برداشت سے اسکی آنکھوں میں ہلکی سے نمی آئ ۔

وہ اب ایک کمرے میں آیا جہاں ایک بیڈ اور بس ضرورت کو کچھ سامان تھا ۔۔

نظر پورے کمرے میں دوڑا کر وہ اب کونے میں رکھے ڈسٹ بن کے پاس آیا ۔۔

اس نے اندر دیکھا جہاں کچھ انجکشن اوردوائیوں کی خالی بوتلیں تھیں ۔۔

” مصطفی ” اس نے مصطفی کوآواز دی جو فوراً ہی اندر آیا ۔۔

” کیا ہوا ؟” اسے ڈسٹ بن میں سے کچھ نکالتے دیکھ کر پوچھا ۔۔

” یہ دیکھو ” ایک چھوٹی سے بوتل اسکے سامنے کرتے کہا ۔۔

” یہ ۔۔۔ ” مصطفی نے اسے غور سے دیکھا ۔۔

” اس کا مطلب وہ یہاں تھا ؟ ” وہ حیران ہوا ۔۔

” ہاں ۔۔ شہزاد شاہ کو بھی یہاں رکھا گیا تھا ۔۔ بے ہوشی کی حالت میں ” بیڈ کی جانب دیکھتے ماسٹر نے کہا ۔

” پر اب وہ کہاں ہیں ؟ آحل کو بھی لے گئے وہ ” مصطفی کے چہرے پر پریشانی تھی ۔

” وہ جان گئے تھے کہ ہم یہاں پہنچنے والے ہیں اس لئے اسے لے گئے اور شہزاد شاہ ۔۔ اسے شاید اب تک وہ یہاں سے بہت دور لے جاچکے ہونگے “

” لیکن کہاں ؟ ہم اب ان تک کیسے پہنچے گیں ماسٹر ؟ ” سوال ہوا مصطفی کی جانب سے ۔۔

” ہم نہیں ۔۔ اب وہ ہم تک پہنچے گے “

اور اسی کے ساتھ ۔۔ ایک مسکراہٹ نے ماسٹر کے ہونٹوں کو چھوا ۔۔ ایسی مسکراہٹ جو مصطفی کو الجھن میں ڈال گئ ۔۔

“انکے دماغ میں کیا چل رہا ہے ؟” وہ بس سوچ کر رہ گیا ۔۔

*********************

واجد نے گھر میں قدم رکھا تواسے کوئ بھی وہاں نظر نہیں آیا ۔۔

” یہ سب کہاں ہیں ؟ ” آس پاس دیکھتے اس نے کہا اور اپنا موبائل نکالا ۔

” کال بھی نہیں اٹھا رہا کوئ ” مسلسل کسی کو کال ملاتے کہا ۔۔

” کیا ہوا واجد ؟ ” امل کی آواز پر اس نے دیکھا وہ اوپر کھڑی اسے ہی دیکھ رہی تھی سوالیاں نگاہوں سے ۔۔۔

” میں ماسٹر او رمصطفی کو کال کرنے کی کوشش کر رہا ہوں پر کوئ کال ریسیو نہیں کر رہا “

” وہ سب بہت مصروف ہیں ۔۔ بتاؤ کیا بات ہے ؟ ” سیڑھیوں اتر کر اسکی جانب آتے اس نے سنجیدگی سے کہا ۔۔

اور اس کے چہرے کی سنجیدگی واجد کو بلکل ماسٹر جیسی لگی ۔۔

” مجھے ایک بہت اہم بات معلوم ہوئ ہے ۔ “

” کیا بات ؟ ” امل کی جانب سے سوال ہوا جس پر واجد کچھ پل کے لئے سوچ پر پڑگیا ۔۔

کیا اسے امل کو یہ پہلے بتانا چاہئے ؟

” تم بھول رہے ہو واجد کہ میں کون ہوں ؟ ” وہ ایک قدم آگے بڑھی ۔۔

“میں امل شاہ ہوں۔۔ نائل شاہ کی بیوی ” اسکی آنکھوں میں دیکھتے اس نے کہا ۔ لہجے کی سختی سامنے والے وہ اپنی جگہ جما دینے کے لئے کافی تھی ۔۔ وہ آج وہ امل لگ ہی نہیں رہی تھی جسے وہ لوگ آٹھ سالوں سے جانتے تھے۔۔

آج تو وہ کوئ اور لگ رہی تھی ۔۔

ماسٹر ۔۔

ہاں ۔۔ آج وہ ماسٹر لگ رہی تھی ۔۔

” میں فرہاد کی دی ہوئ لسٹ میں موجود تمام لوگوں کی معلومات نکلوا چکا ہوں ۔۔ کوئ بھی ان میں ایسا نہیں جو مشکوک ہو سوائے ۔۔ ” وہ رکا ۔۔

” سوائے ؟ “

” سوائے دانش نامی شخص کے “

” کون ہے یہ دانش ؟ “

” وہ فرہاد کے بعد شہزاد شاہ کا دوسرا خاص بندہ تھا ۔۔ پر فرہاد کی اہمیت زیادہ تھی اس لئے وہ فرہاد کے انڈر کال کر کرتا تھا ۔۔ آٹھ سال پہلے تک “

اور امل سمجھ گئ کہ اشارہ کس بات کی جانب ہے ۔۔ اس نے آنکھیں بند کر کے ایک گہری سانس لی اور پھر کھولیں ۔

” اب کہا ہے وہ ؟ “

” ہمیں نہیں معلوم ۔۔ اسکے گھر میں اسکی بیوی اور ایک بیٹا ہے پر وہ گھر نہیں آتا ۔۔ ناہی وہ کچھ مہینوں سے کسی سے رابطے میں ہے “

“اور ؟ ” وہ جانتی تھی کہ بات صرف اتنی نہیں ہے ۔۔

” مجھے شک ہوا کہ وہ شاید شہزاد شاہ کے بعد وہ جمشید شاہ کے ساتھ کام کرتا ہوگا اس لئے میں اسےڈھونڈتے حویلی گیا تھا ۔۔ “

” اور وہ تمہیں وہاں نہیں ملا۔۔ ” ایک عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے کہا جبکہ واجد نے حیران ہوکر اسکی جانب دیکھا ۔۔

” آپکو کیسے پتہ ؟ ” اور اس سوال پر امل کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئ ۔

” مجھے نہیں تو اور کسے معلوم ہوگا ۔۔ ان لوگوں کو مجھ سے بہتر بھی کوئ جان سکتا ہے کیا ؟ ” اور اس جواب پر واجد خاموش ہوگیا ۔۔

” خیر ۔۔ کیا تمہیں معلوم ہوا کہ وہ دونوں کہاں گئے ؟ “

اور واجد سمجھ گیا کہ یہ دوسرا شخص کون ہے ۔۔

” بس اتنا کہ شہزاد شاہ کے جیل جانے کے کچھ عرصے بعد ہی وہ لوگ حویلی اور علاقہ چھوڑ کر کسی اور شہر چلے گئے ۔۔ کہاں؟ یہ کسی کو نہیں معلوم “

” لیکن یہ دانش جانتا ہے ” امل نے کہا حتمی انداز میں ۔۔

” مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے ۔۔ “

” اور زویا ۔۔ اس کے بارے میں کیا معلوم ہوا تمہیں ؟ “

” اسکا کہیں کوئ ریکارڈ نہیں ہے ۔۔ لیکن مجھے شک ہے کہ شاید وہ بھی انہیں کے ساتھ ہے “

” پر مجھے یقین ہے کہ میرا آحل اسی کے پاس ہے ۔۔ “

” مجھے بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے ” اور فرہاد کی آواز پر اس دونوں کی دروازے کی جانب دیکھا جہاں وہ کھڑا جانے کب سے انکی باتیں سن رہاتھا ۔۔

” کیوں ؟ ” واجد کی جانب سے سوال ہوا ۔۔

” کیونکہ دانش اب بھی جمشید شاہ کے ساتھ کام کر رہا ہے اور وہ کیا کام کر رہے ہیں یہ ہم سب دیکھ چکے ہیں ۔۔ ” انکے پاس آکر فرہاد نے کہا ۔

” سب دیکھ رہے ہیں۔۔ پر نہیں دیکھ رہا تو نائل شاہ نہیں نہیں دیکھ رہا ۔۔ ” اور جس انداز میں امل نے کہا۔۔ وہ دونوں ہی چونکنے پر مجبور ہوگئے ۔۔ کیا وہ نائل سے بدگمان ہے ؟

” ایسی بات نہیں ہے بھابھی ۔۔ ماسٹر کو بس اندازہ نہیں تھا اور ہمارے پاس کوئ ثبوت بھی تو نہیں ہے نا ” واجد نے جیسے اسکی سمجھانا چاہا جس پر ایک تلخ مسکراہٹ امل کے ہونٹوں پر پھیلی ۔۔

” وہ نائل شاہ ہے واجد ۔۔ اور ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ نائل شاہ کو کبھی ثبوتوں کی ضرورت نہیں ہوتی وہ اتنا شارپ ہے کہ مجرم کی سانسیں بھی پہچان لیتا ہے ۔۔ اس لئے میرے سامنے کھڑے ہوکر میرے ہی شوہر کے بارے میں مجھے کچھ مت بتاؤ ” وہ ایک بار پھر سخت لہجے میں بولی ۔

اور اس بار اس لہجے ، اس روپ پر حیران ہونے کی باری فرہاد کی تھی ۔

” تم کیا سوچ رہی ہو امل ؟ ” فرہاد کی جانب سے سوال ہوا ۔

” یہ اچھا سوال ہے ۔۔ اسی کا انتظار کر رہی تھی میں ” مسکرا کر کہا ۔۔ اور اسکے موڈ سوئنگس پر دونوں ہی الجھے ۔۔ وہ اتنا عجیب بیہیو کیو ں کر رہی ہے ؟

” میں جارہی ہوں ” اس نے کہا ۔۔ وہ کہہ کر پلٹی اور اپنا بیگ اٹھایا ۔

” کہاں ؟ ” دونوں نے ایک ساتھ پوچھا ۔

” مایا کے قاتلوں اور آحل کے گڈنیپرز کو اپنے انداز سے پکڑنے ۔۔ اپنے آحل کو صحیح صلامت واپس لانے ” وہ کہہ کر آگے بڑھی ۔۔ جبکہ فرہاد تیزی سے اسکے سامنے آیا جس پر اسکے قدم رکے ۔

” یہ تم کیا کر رہی ہو امل ؟ “

” وہی تو صحیح ہے ۔۔ مایا کا قتل بھلے ہی جمشید شاہ یازویا نے کروایا ہو ۔۔ لیکن آحل آج جہاں ہے جس حال میں ہے اسکا ذمہ دار صرف او ر صرف نائل شاہ ہے ۔۔ میں نے اس سے کہا تھا کہ اگر اسکا فیصلہ غلط ثابت ہوا تو میں اسے کبھی معاف نہیں کرونگی ۔۔ اور میں ایسا ہی کرونگی ” وہ ایک قدم آگے بڑھی ۔۔

” میں ماسٹر کو کبھی معاف نہیں کرونگی اور میں اس گھر میں کبھی واپس نہیں آؤنگی ۔۔ “

اور اسی کے ساتھ وہ ان دونوں کو وہاں حیران چھوڑ کر چلی گئ ۔۔

باہر آکر وہ سیدھا گاڑی میں بیٹھی ایک گہری سانس لی ۔۔ آنکھیں اب بھیگنے لگی تھیں ۔۔ وہ مزید ان آنسوؤں کو روک نہیں پارہی تھی ۔ آنکھیں بند کر کے اس نے سر سیٹ پر ٹکایا ۔۔

“آٹھ سال پہلے ایک کرائم نے ہمیں ایک دوسرے سے جوڑا تھا ۔۔

اور آج ایک کرائم نے ہی ہمیں توڑ دیا نائل شاہ ۔۔

انصاف ایک کے سفر نے کبھی ہمیں محبت سے ملایا تھا ۔

اور آج محبت کے ایک سفر نےہمیں محبت سے ہی الگ کر دیا ۔۔

تو کیا یہ اختتام ہے ہماری کہانی کا ؟ “

آنکھوں اب چہرے کو بھگا رہا تھا ۔۔ بند آنکھوں سے وہ جس سے مخاطب تھی وہ سننے کے لئے وہاں تھا ہی نہیں ۔۔

اس نے ایک اورگہری سانس لی اور اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔

ہاتھ بیگ کی جانب بڑھا ۔۔

اپنا موبائل نکال کر اس نے کچھ دیر پہلے موصول ہونے والا ایک واٹس ایپ میسیج کھولا ۔۔

جہاں آحل کی زخمی حالت میں بے ہوش تصویر تھی ۔۔

اور کچھ لکھا تھا ۔۔

” تمہارے پاس صرف آدھا گھنٹہ ہے ۔۔ سوچ کر فیصلہ کرو کہ تمہیں کیا چاہئے ۔۔

ماسٹر اور اپنا رشتہ ۔۔

یا پھر اپنا بیٹا ۔۔ آحل شاہ “

” میرا بیٹا ۔۔ ” انہیں دو لفظوں کے ساتھ اس نے اپنے آنسو صاف کئے اور گاڑی آگے دوڑا دی ۔۔ تیزی سے ۔۔ راستوں کی پروا نہ کرتے ہوئے ۔۔

انجام کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ۔۔

*******************

اس نے دھیرے سے آنکھیں کھول کر چاروں اور دیکھا ۔۔ اب وہ کسی نئ جگہ تھا ۔۔ اٹھنے کی کوشش کرتے ہی اسے چکر آئے تو وہ دوبارہ لیٹ گیا ۔

” جاگ گیا میرا پرنس ” دانش نے کمرے میں آتے مسکرا کر کہا ۔۔

” مجھے ۔۔ مجھے پاپا کے پاس جانا ہے ” روتے ہوئے کہا جس پر اسکی مسکراہٹ مزید گہری ہوئ ۔۔

” اب یہ تو تمہاری مما کے ہاتھ میں ہے کہ تم اپنے پاپا کے پاس جاتے ہو یا ۔۔۔ ” اپنا جملہ ادھورا چھوڑ کر اب اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھے گلاس میں پانی ڈالا ۔

” میری ماما ؟ میری ماما تو نہیں ہیں ” اور مایا کی یاد اسکے آنسوؤں کی رفتا ر کو بڑھا گئیں تھیں ۔۔

اور اس معصوم بچے کا درد دیکھ کر بس ایک پل کے لئے دانش کا دل دکھا ۔۔

” ہیں ۔۔ ” اسکے ایک ہاتھ سے اونچا کرتے گلاس اسکے ہونٹو ں سے لگایا ۔۔ جانتا تھا کہ اسے پیاس لگی ہوگی ۔

” تمہاری ماما ہیں آحل ۔۔ اور وہ جو نہیں رہیں وہ تمہاری ماما نہیں تھیں “

اسکی بات سنتے آحل نے ناسمجھی کے عالم میں اسے دیکھا ۔

” کیا مطلب ؟ “

” سمجھ جاؤگے” اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اسے دوبارہ لٹایا ۔

” ٹھیک ہو جاؤ ایک بار ۔۔ پھر سب سمجھ جاؤنگے ” مسکرا کر کہتا وہ وہاں سے چلا گیا جبکہ آحل اب ایک بار پھر رونے میں مصروف ہوچکا تھا ۔۔

” کیا آپ کو یقین ہے ؟ ” آحل کے کمرے سے آتے ہی وہ دوسرے روم میں بیٹھے اپنے باس کے پاس آیا ۔

” اب ہے ” جواب آیا ۔۔ مسکراتی آواز میں ۔

” مطلب ؟ ” وہ الجھا ۔

” مطلب یہ کہ مجھے تو بس شک تھا اور اسی شک میں، میں نے ایک تیر چلایا ” وہ کہہ کر آگے جھکا ۔۔

” جوکہ بلکل نشانے پر لگا ہے ۔۔ ” اور اسی کے ساتھ اسکی مسکراہٹ گہری ہوئ ۔

” تو ۔۔ تو وہ چلی گئ ؟ ” وہ حیران تھا ۔۔ ایسے کیسے ہوسکتا ہے ؟ اتنے سال تک یہ سچ کسی کو معلوم کیسے نہ ہوسکا ؟ کیسے کسی کو شک تک نہ ہوسکا ؟ کیسے ؟

” ابھی صرف وہ ماسٹر کے گھر سے نکلی ہے ۔۔

بس۔۔ زندگی سے نکلنا باقی ہے ” کہتے ساتھ صوفے کی پشت سے ٹیک لگائ ۔

” تو یہ سب اتنا آسان تھا ؟ ” اور اس بات مسکرانے کی باری دانش کی تھی ۔۔

” چچ چچ چچ چچ ۔۔۔ بیچاری مایا تو فضول میں ماری گئ ۔ ” وہ کہتے ساتھ انکے سامنے بیٹھا ۔۔

” اتنے سال لگا دیئے ہم نے سب پلین کرنے میں اور آخر میں معلوم ہوا کہ یہ سب تو شروع سے ہی بہت آسان تھا۔ ضائع کر دیئے باس ہم نے اتنے سال ” اسے جیسے افسوس ہوا ۔

” لیکن اب ہم مزید وقت ضائع نہیں کرینگے ۔۔ ہمارے ہاتھ انکی کمزوری ہے اب ۔۔ وقت ضائع کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا “

اور اسکی بات سجھتے ہوئے دانش نے سر ہلایا ۔۔

٭٭٭٭٭

وہ دونوں گھر آئے تو لاؤنچ میں ان تینوں کو خاموشی سے بیٹھے پایا ۔

” تم واپس کب آئے ؟ ” ماسٹر نے واجد سے پوچھا ۔

” کچھ گھنٹے پہلے ہی ” دھیرے لہجے میں کہہ کر وہ ایک بار پھر خاموش ہوا ۔

” تم دونوں تو دانش کے گھر گئے تھے نا ؟ ” مصطفی کی جانب سے سوال ہوا۔۔ فرہاد اور عنایہ سے ۔

” ہاں ۔۔ ” مختصر جواب پر مصطفی کو حیرت ہوئ ۔۔

” سب ٹھیک ہے؟ ” مصطفی نے سب کی جانب دیکھتے پوچھا ۔۔

” کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔۔ ” اس بار جواب فرہاد کی جانب سے آیا جو ماسٹر کو دیکھ رہا تھا ۔

” کیا ہوا ہے ؟ ” ماسٹر کی جانب سے سوال ہوا ۔۔ جانے کیوں پر اسے دل میں ایک عجیب سے ڈر نے جگہ بنا لی تھی ۔۔

” یہ سب جمشید شاہ اور زویا نے کیا ہے ” واجد کی جانب سے کہا گیا جس پر مصطفی کی آنکھیں جہاں حیرت سے پھیلیں وہیں ماسٹر نے اپنی آنکھیں بند کیں ۔۔ ایسے ۔۔ جیسے حقیقت سے نظر چرانی چاہی ہو ۔۔ ایسے جیسے آنکھیں کھولے گا تو سامنے کچھ نہیں بچے گا ۔۔

ڈر دل میں بسا ہو تو سکون چھین لیتا ہے ۔۔

پر اگر وہی ڈر سچ بن کر سامنے آجائے توسانسیں روک دیتا ہے ۔۔

بس ایسا ہی کچھ محسوس ہوا تھا نائل شاہ کو ۔۔ پر ابھی یہ آدھا ڈر تھا ۔۔

اس لئے ابھی سانسیں نہیں رکی تھیں ۔۔

” وہ ۔۔ ” اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں نظر سیدھا فرہاد کی جانب گئ جو اب بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔ اور فرہاد کی نظریں اسے بہت کچھ بتا رہی تھیں ۔۔

لیکن وہ سننا چاہتا تھا ۔۔

” وہ ٹھیک ہے ؟ ” سوال ہوا ۔۔

اور وہاں موجود ہر شخص جانتا تھا کہ یہ سوال کس کے لئے ہے ۔۔

لیکن جوا ب دینے کی ہمت کسی کے اندر نہیں تھی ۔۔

” وہ ٹھیک ہے نا ؟ ” اس بار سوال مصطفی کی جانب سے ہوا ۔۔ جسے اپنے کانوں میں خطرے کی گھنٹی بجتی سنائ دی ۔

” میں نے کچھ پوچھا ہے ” مزید خاموشی پر ماسٹر نے اس بار تھوڑے سخت لہجے میں کہا ۔

” ٹھیک نہیں ہے ۔۔ وہ بلکل ٹھیک نہیں ہے ماسٹر” واجد کی جانب سے کہا گیا ۔۔

” اور ؟ ” وہ جانتا تھا کہ کچھ اور بھی ہے کیونکہ فرہاد کی نظریں اب بھی کچھ بتا رہی تھیں ۔۔ جو وہ سمجھ نہیں پارہا تھا ۔۔

” اس نے کہا وہ آپکو کبھی معاف نہیں کریگی ” وہ کہتے ساتھ کھڑا ہوا ۔۔ نظر اب ماسٹر کی نظروں میں تھیں ۔۔

” وہ چلی گئ ہے نائل شاہ ۔۔ اس گھر سے چلی گئ ہے وہ “

اور مصطفی کو لگاجیسے کسی نے اسکے پیروں تلے زمین کھینچ لی ہو ۔۔

اور ماسٹر کو لگا جیسے کیسے گلے میں کچھ اٹک گیا ہے ۔۔

اس نے کوشش کی ۔۔ لیکن اسے لگا اب وہ سانس لے نہیں سکے گا ۔۔

کبھی نہیں ۔۔

تو کیا یہ ہے اختتام ؟

ہماری کہانی کا ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *