Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2 NovelR50556 Koi Sath Ho (Episode 08)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 08)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2
خاموشی ۔۔۔
سناٹا ۔۔
ایسے جیسے کسی انسان ، کسی حیوان ۔۔ یہاں تک کے کسی ہوا تک کا کوئی گزر نہ ہو ۔۔
ایسے جیسے یہ جگہ ہر طرح کے وجود سے محروم ہو ۔۔
مگر ایسا ہے نہیں ۔۔
یہاں اب بھی چار لوگ ہیں ۔۔۔ ہاں ۔۔ چار لوگ ۔۔ مگر اگر آنکھیں بند کر دیں جائیں ۔۔ تو کوئی وجود محسوس ہی نہ ہو ۔۔
آنکھیں کھولیں جائیں تو ایسا لگتا ہے جیسے چاروں کوئی انسان نہیں ۔۔ بلکہ پتلے ہوں ۔۔ بے جان ۔۔ بے سانس ۔۔
لیکن بے احساس نہیں ۔۔ چاروں ہی کی آنکھوں میں ایک عجیب سا احساس ہے ۔۔ یا پھر ۔۔ احساسات ۔۔
غصہ ۔۔ غم ۔۔ درد ۔۔۔ تکلیف ۔۔ برداشت ۔۔ ضبط ۔۔۔ پچھتاوہ ۔۔۔
جانے کیا کیا ۔۔
لیپ ٹاپ کی سکرین اب مکمل اندھیرے میں ہے ۔۔۔ سپیکر سے اب کوئی آواز نہیں آئی ۔۔ اور جانے کب سے نہیں آرہی ۔۔
’’ وہ پوری تیاری کے ساتھ آئے ۔۔ ‘‘ فرہاد کی آواز نے اس خاموشی کو توڑا ۔۔۔ اور خاموشی کے ٹوٹتے ہی سارے پتلے حرکت کرنے لگے ۔۔ جیسے کسی ٹرانس سے بارہ نکلے ہوں ۔۔۔
’’ وہ ہر چیز کے لئے تیار ہوکر آئے ۔۔ یہاں تک کے اس خفیہ کیمرے کے لئے بھی ۔۔۔ ‘‘ یہ آواز ماسٹر کی جانب سے آئی ۔۔ جو مصطفی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اور مصطفی ۔۔ اس نے ہلکے سے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
’’ ایسا نہیں ہوسکتا ۔۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے ؟ میرا کام کوئی نہیں پکڑ سکتا ۔۔ انہیں ۔۔۔ انہیں کیسے معلوم ہوا ؟ کیسے ؟‘‘ مصطفی کے لئے یہ بات ماننا بہت مشکل تھا ۔۔ اتنے سالوں میں یہ پہلی بار تھا جب مصطفی کو ناکامی ہوئی ہو ۔۔ یہ پہلی بار تھا ۔۔ جب مصطفی تک کوئی پہنچا ہو ۔۔
’’ یہ ایک دن میں نہیں ہوسکتا ۔۔۔ یہ جو بھی ہے ۔۔ اس نے بہت پہلے پلین بنایا ہوگا ۔۔ فرہاد کے بارے میں ، ماضی کے بارے میں ۔۔ اور مصطفی کے طریقوں کے بارے میں معلوم کرنا کوئی آسان کام نہیں ۔۔ وہ مہینوں سے اس میں لگے ہونگے ۔۔ ‘‘ ماسٹر کی بات پر جیسے سب ہی نے حامی بھری ۔۔
’’ اور ہمیں بھنک تک نہیں پڑی ۔۔ کوئی احساس ۔۔ کچھ بھی نہیں ۔۔۔ سب اتنا نارمل تھا کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ کوئی جانے کتنے ہی عرصے سے ہم پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔۔ مایا پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔۔ اور ہمیں احساس تک نہ ہوا ؟ ایسا کیسے ہوگیا ماسٹر ؟ ‘‘ اپنے بالوں دونوں ہاتھوں سے جکڑ کر اس نے کہا ۔۔ انداز اور آواز میں کرب واضح تھا ۔۔ جبکہ ماسٹر نے ایک گہری سانس لی ۔۔
’’ جب کوئی آپ کو جان لیتا ہے نا ۔۔۔ تو اس کے لئے مشکل نہیں ہوتا ۔۔ آپکی آنکھوں میں دھول جھونکنا۔۔ اس لئے ہمیں ہمیشہ اپنا کوئی نہ کوئی پہلو راز میں ضرور رکھنا چاہئے ۔۔ تاکہ جب کوئی ہماری آنکھوں میں دھول جھونکے تو وہ پہلو آنکھیں صاف کرنے کے کام آجائے ۔۔۔ ‘‘ امل کے الفاظ پر مصطفی نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔۔
’’ وہ جو بھی ہے ۔۔ اس نے ہمارا وہ پہلو جانا ہے جس سے وہ ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے ۔۔ لیکن وہ ہمیں مکمل نہیں جانتا ۔۔ کوئی بھی نہیں جان سکتا ۔۔ اس کا مطلب سمجھتے ہو ؟ ‘‘ اور امل کے سوال پر سب ہی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑی ۔۔ معنی خیز مسکراہٹ ۔۔
’’ وہ غلطی کرے گا ۔۔۔ تصویر کا ایک رخ دیکھنے والے ہمیشہ غلطی کرتے ہیں ‘‘ اور مصطفی کی آواز اس بار مضبوط تھی ۔۔ بلکل اسکے ارادوں کی طرح ۔۔۔
’’ لیکن یہاں سب سے اہم بات موٹیو ہے ۔۔ مایا کو قتل کرنے کے پیچھے ۔۔ اس کا کیا موٹیو ہوسکتا ہے ؟ ‘‘ فرہاد کے کئے گئے سوالات نے ان سب کی سوچوں کو ایک نیا موڑ دیا ۔۔۔
’’ مایا کی کسی سے کبھی کوئی دشمنی نہیں رہی ۔۔ مجھے اب بھی سمجھ نہیں آرہا ۔۔ اسے کوئی کیوں مارے گا ؟ ‘‘ مصطفی بھی اس بات کو سمجھ نہیں پارہا تھا ۔۔۔ لیکن اسے زیادہ سوچنا نہیں پڑا ۔۔۔ پیچھے سے آنے والی آواز ۔۔ سب سوالوں کے جواب لے کر آئی تھی ۔۔
’’ مایا کا قتل نہیں ہوا ۔۔۔ ‘‘ اور اس جانی پہچانی آواز پر سب ہی کی گردنیں مڑیں ۔۔۔ سب ہی کی نگاہوں میں حیرت ابھری ۔۔ سامنے کھڑے واجد کو دیکھ کر نہیں ۔۔ اسکا یہاں ہونا کوئی حیرانگی کی بات نہیں تھی ۔۔ پر وہ جو کہہ رہا تھا ۔۔ وہ حیران کن تھا ۔۔
’’ کیا مطلب ہے تمہارا ؟ ‘‘ مصطفی نے کھڑے ہوکر کہا ۔۔ جبکہ نظریں واجد کے ساتھ ساتھ گھوم رہی تھیں ۔۔ جو اب انکی جانب ہاتھ میں دو فائلز لئے آہستہ آہستہ قدم بڑھائے آرہا تھا ۔۔ چہرے پر عجیب سے تاثرات لئے ۔۔ سنجیدگی ؟ غصہ ؟ جانے کیا ؟
’’ تم صبح سے کہاں تھے ؟ اور میری کالز ریسیو نہ کرنے کی وجہ ؟ ‘‘ ماسٹر نے سنجیدہ آواز میں پوچھا ۔۔ جبکہ وہ اب میز کے سامنے آکھڑا ہوا ۔۔ ماسٹر کے بلکل سامنے ۔۔ عجیب سے تاثر لئے۔۔ وہ کبھی ماسٹر کو دیکھتا ۔۔ تو کبھی امل کو ۔۔۔
’’ سوری ماسٹر ۔۔ مگر میں جو اہم معلومات لے کر آیا ہوں ۔۔ اسکے لئے مجھے ایسا کرنا پڑا ‘‘
’’ اور کیا معلومات لائے ہو تم ‘‘ آگے کی جانب جھکتے ہوئے ماسٹر نے اسے غور سے دیکھتے پوچھا ۔۔ وہ واجد کو سالوں سے جانتا تھا ۔۔ لیکن ایسا انداز ۔۔ واجد کے چہرے پر ایسی بے نام سنجیدگی پہلی بار دیکھی تھی ۔۔
’’ یہی کہ ۔۔۔۔ ‘‘ واجد نے مصطفی کی جانب دیکھا ۔۔ جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔
’’ مایا کا قتل نہیں ہوا ۔۔۔ ‘‘ اس نے اپنی بات دوبارہ دہرائی ۔۔
’’ یہ تم کیا کہہ رہے ہو واجد ؟ ‘‘ اب کھڑے ہونے کی باری فرہاد کی تھی ۔۔ اسکی آنکھوں میں غصہ واضح تھا ۔۔
’’ ہم سب نے دیکھا اسے ۔۔ اپنے ان ہاتھوں سے اسکی قبر پر مٹی ڈالی ہے میں نے ۔۔ اور تم کہہ رہے ہو کہ اسکا قتل نہیں ہوا ؟ ‘‘ فرہاد نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا ۔۔ جیسے اپنے آپ پر کنٹرول کر رہا ہو ۔۔
’’ ٹھیک کہہ رہا ہوں میں ۔۔ مایا کا قتل نہیں ۔۔۔ قربانی ہوئی ہے ۔۔ قربانی ‘‘ اور یہ الفاظ جیسے تیر بن کر سب کے دلوں پر لگے ۔۔۔
’’ قق۔۔۔ قربانی ‘‘ اس بار آواز امل کی جانب سے آئی ۔۔ جس کی آنکھوں میں ایک خوف تھا ۔۔ جس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے ۔۔ وہ بے اختیار ہی دھیرے سے کھڑے ہوئی ۔۔ واجد کی جانب دیکھتی ہوئی ۔۔ ایسی نظروں سے ۔۔ جیسے اس سے التجا کر رہی ہو ۔۔۔ التجا ۔۔ کہ اسکا ڈر سچ نہ ہو ۔۔ کہ یہ قربانی ۔۔ اسکے لئے نا ہو ۔۔ وہ یہ کبھی برداشت نہیں کر پائے گی ۔۔ کبھی نہیں ۔۔
’’ ہاں ۔۔ مایا کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی ۔۔ اسے تو بس قربان کیا گیا ہے ۔۔ ‘‘ اب واجد کی نظریں سامنے بیٹھے ماسٹر پر گئیں ۔۔ جو اسے ہی دیکھ رہاتھا ۔۔ سانس روکے ۔۔
’’ کسی اور کی دشمنی میں ‘‘ اور واجد کے الفاظ منہ سے الفاظ نکلتے ہی ایک زور دار آواز اس بیسمنٹ میں گونجی ۔۔ امل سمیت سب ہی کی نظریں حیرت سے ماسٹر کی جانب مڑی ۔۔ جو میز پر دونوں ہاتھ تیزی سے مارتے ہوئے کھڑا ہوا ۔۔ خطرناک تیور لئے۔۔ اپنی سنجیدہ نظریں واجد کی جانب رکھے ۔۔۔
‘’ صاف صاف بتاؤ واجد ۔۔۔ کیا خبر لائے ہو تم ؟ ‘‘ اور اس بار ماسٹر کی آواز کے روب اور سنجیدگی پر واجد بھی ڈرا ۔۔
’’ میں جیل گیا تھا ۔۔ وہاں میں آفیسر ۔۔۔۔۔ ‘‘
’’ کیا ریپورٹ ہے !! ‘‘ واجد کی بات ماسٹر کی گرجتی آواز نے کاٹی ۔۔ جس پر وہ بے اختیار ہی ایک قدم پیچھے ہوا ۔۔ ماتھے پر پسینے کے قطریں واضح ہوئے ۔۔
’’ شہزاد شاہ ۔۔۔۔۔ ‘‘ وہ رکا ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی سب کی سانسیں بھی رک گئیں ۔۔
’’ تت ۔۔۔ تین ماہ پہلے ‘‘ وہ ایک بار پھر رکا ۔۔ ایک گہری سانس لی ۔۔ اور گردن اٹھا کر ماسٹر کی لال غصیلی آنکھوں میں دیکھا ۔۔
’’ شہزاد شاہ بھاگ گیا ‘‘
اور ایک زور دار بجلی ان چاروں افراد پر گری ۔۔۔۔
اور ایک بار پھر سانس رک گئی ۔۔۔
ایک بار پھر سب پتلے بن گئے ۔۔
ایک بار پھر ۔۔ اس بیسمنٹ میں خاموشی کا راج ہوا ۔۔
سناٹا چھا گیا ۔۔۔
سرپرائیز !
کچھ لوگوں کو سرپرائیز بہت پسند ہوتے ہیں ۔۔۔ جب کوئی دوست دے ، کوئی چاہنے والا ، یا کوئی اپنا ۔۔ چھوٹا ہو یا بہت بڑا۔۔ سرپرائیز انسان کو ہر حال میں مسکرانے پر مجبور کر ہی دیتے ہیں ۔۔ پھر چاہے وہ کتنا ہی اداس ۔۔ کتنا ہی پریشان کیوں نہ ہو ۔۔ مگر ۔۔۔ کبھی کبھی کچھ سرپرائیز ایسے ہوتے ہیں جو ہر احساس سے محروم بھی کردیتے ہیں ۔۔ ایک خوش باش انسان کو اداس بھی کر دیتے ہیں ۔۔ مگر فرق پتہ ہے کیا ہے ؟
فرق ہے سرپرائیز دینے والے کا ۔۔۔
اگر ایسا سرپرائیز دینے والا کوئی انسان ہو ۔۔ تو بہت سے احساسات جنم لیتے ہیں ۔۔ حیرانگی، دکھ ، تکلیف اور ٹوٹ جانے کا احساس ۔۔۔ مگر ان سب کے باجود انسان سنبھل جاتا ہے ۔۔۔ تھوڑا وقت لگتا ہے ۔۔ پر انسانوں کے دیئے ہوئے سرپرائیسز ایک بار حیران کر دینے کے بعد دوبارہ نہیں کرتے ۔۔
مگر وقت ۔۔۔
وقت جب سرپرائیز دیتا ہے ۔۔ تو کوئی احساس نہیں بچتا ۔۔ ذہن ماؤف ہوجاتا ہے ۔۔۔ کیونکہ وقت ۔۔ ایک بار حیران نہیں کرتا ۔۔ وہ بار بار حیران کرتا ہے ۔۔ اور اتنا کرتا ہے ۔۔ کہ انسان حیرانی سے نکل بھی جائے تو بھی اسکا اثر نہیں نکال سکتا۔۔
اور کچھ ایسی ہی حالت تھی ان چار افراد کی ۔۔۔۔ کچھ ایسا ہی سرپرائیز ملا تھا ان چار افراد کو ۔۔۔
جس نے ان سب کے ذہن ماؤف کر دیئے ۔۔ اور بند ذہن کے ساتھ کوئی کب صحیح کام کیا کرتا ہے؟
میز کے پاس رکھی کرسی کسی کی ٹانگ لگنے سے تیز رفتاری اور آواز کے ساتھ دائیں جانب گری ۔۔۔ جس پر سامنے بیٹھا شخص گبھرا کر کھڑا ہوا ۔۔ جبکہ آواز سن کر دو حولدار دوڑتے ہوئے اندر آئے ۔۔
’’ مم ۔۔۔ مماسٹر ‘‘ کرسی پر حملہ کرنے والے شخص کو دیکھ کر اس نے ہچکچا کر کہا ۔۔۔
’’ تو تم نے پہچان لیا مجھے ہاں ۔۔۔ ‘‘ دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈالے وہ ایک قدم کہتا آفیسر کی جانب بڑھا ۔۔
’’ مجھے تو لگا ۔۔ تم میرا چہرہ بھی بھول گئے ہوگے ‘‘ اس سے صرف ایک قدم کی دوری پر رک کر کہا ۔۔ انداز خطرناک ، آنکھیں جانے کون کون کے جزبات سے سرخ ، ماتھے پر بل ۔۔ ماسٹر کا یہ روپ دیکھ کر آفیسر ایک قدم پیچھے ہوا ۔۔ مگر دیوار نے اسے مزید دور ہونے کی اجازت نہ دی۔۔
’’ نن ۔۔۔۔ نہیں ۔۔ ایسی تو کوئی بات نہیں ہے ۔۔ آپ کو کوئی کیسے بھول سکتا ہے ماسٹر ؟ ‘‘ نارمل ہونے کی ناکام کوشش کرتے اس نے کہا ۔۔ جس پر ماسٹر ایک قدم اور اسکی جانب بڑھا ۔۔ آنکھیں اسکی آنکھوں میں گاڑھے ۔۔
’’ مجھے بھی ایسا ہی لگتا تھا ۔۔ کہ کوئی بھی مجھے کبھی بھول نہیں سکتا ۔۔۔ ایسا ہی ہے نا ؟ ‘‘ ایک سوال ہوا ۔۔ جس پر آفیسر نے فوراً حامی میں سر ہلایا ۔۔۔
’’ لیکن ایسا نہیں ہے آفیسر ۔۔۔ جانتے ہو کوئی مجھے کب بھولتا ہے ؟ ‘‘ اب کی بار نفی میں سر ہلا ۔۔
’’ زبان استعمال کرو آفیسر ۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ تم گونگے ہوئے ہو اب تک ‘‘ ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا ۔۔
’’ کک ۔۔ کب ؟ ‘‘
’’ جب آٹھ سال سے جیل میں بند ایک قیدی اچانک بھاگ جاتا ہے ‘‘ اور اسی کے ساتھ ماسٹر کے ہاتھ اسکے گریبان تک گئے ۔۔ برق رفتاری سے اسے کھینچتے ہوئے اگلے ہی پل ماسٹر نے میز پر جھکایا ایسے کہ اسکا سر میز کی سطح پر لگا جبکہ پاس پڑا کچھ سامان اس وجہ سے زمین پر گرا ۔۔۔ پیچھے کھڑے دو حولدار اپنی جگہ سے ہلنا چاہتے تھے ۔۔ مگر ماسٹر کی جانب قدم بڑھا کر وہ خود کو اسکا نشانہ نہیں بنانا چاہتے تھے ۔۔
’’ تم جیسے بے ایمان پولیس آفیسر بھول جاتے ہو کہ ماسٹر کون ہے ۔۔ بھول جاتے ہو کہ ’’ کرائم انوسٹیگیٹر نائل شاہ ‘‘ کون ہے ۔۔ ‘‘ اسکا گریبان پکڑے اسکی جانب جھکتے ماسٹر نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے کہا ۔۔ جیسے اپنا ایک ایک لفظ اسکے ذہن میں نقش کر دیتا چاہتا ہو ۔۔۔
’’ مم ۔۔۔ ماسٹر ۔۔۔ معاف کردیں ماسٹر ۔۔۔ ‘‘ خوف سے کانپتے ہونٹوں سے جانے کیسے اس نے یہ لفظ ادا کئے ۔۔ جبکہ نائل کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ ابھری ۔۔۔ خطرناک مسکراہٹ ۔۔
’’ تم واقعی مجھے بھول گئے آفیسر ۔۔۔ لیکن فکر مت کرو ۔۔ میں آگیا ہوں نا ۔۔ تمہیں اپنی یاد دلانے ‘‘ اسکا چہرہ کسی بچے کی تھپتھپاتے ہوئے کہتا وہ اسکا گریبان چھوڑتا سیدھا ہوا ۔۔۔
’’ واجد ‘‘ اپنی نظریں اسی آفیسر پر ٹکائے اس نے واجد کو پکارہ اور اگلے ہی لمحے واجد اپنے ساتھ مزید چار افراد کے ساتھ اندر آیا۔۔
’’ اسے لے جاؤ ۔۔ اور اچھا سا کھانا کھلاؤ ۔۔ شام کو چائے دو ۔۔ رات کو ڈنر ۔۔ ہر طرح کی ضرویات پوری کرو اسکی ‘‘ نظریں آفیسر سے ہٹاتے واجد کی جانب گئیں۔
’’ مجھے ان کی جانب سے تمہاری شکایت نہ ملے ‘‘ اور اب مسکرانےکی باری واجد کی تھی ۔۔۔
’’ آپ کو پہلے کبھی شکایت ملی ہے ماسٹر ؟؟ ‘‘ مسکرا کر کہتا وہ آفیسر کی جانب بڑھا ۔۔ جبکہ اب وہ جیسے ہوش میں آیا ۔۔
’’ ماسٹر ۔۔۔ پلیز ماسٹر ہمیں معاف کر دیں ماسٹر ۔۔۔ مم ۔۔۔ میں ڈر گیا تھا ماسٹر آئی ایم سوری ۔۔ ایسا مت کریں ماسٹر پلیز ۔۔ معاف کردیں مجھے ‘‘ واجد کی گرفت سے خود کو چھڑوانے کی ناکام کوشش کرتے وہ تڑپ کر التجا کر رہا تھا ۔۔ مگر سامنے ماسٹر تھا ۔۔ جو اس وقت پتھر سے زیادہ سخت نظر آرہا تھا ۔۔
’’ اسکی پوری ٹیم کو ایک گھنٹے میں کورٹ کا نوٹس دے کر گھر روانہ کرو ۔ ‘‘ ایک اور آرڈر پاس کرتا وہ دروازے کی جانب بڑھا ۔۔
’’ ماسٹر ۔۔ پلیز ایسا مت کریں ماسٹر ۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہو ایسا پھر نہیں ہوگا پلیز ماسٹر ۔۔ ‘‘ دروازے کے قریب پہنچتے ہی وہ رکا ۔۔۔
’’ جس انسان نے اپنے سگے باپ کو معاف نہیں کیا ۔۔۔ وہ تمہیں معاف کردے گا ؟ تم واقعی بھول چکے ہو ۔۔ ماسٹرمجرموں کو سزا دیتا ہے ۔۔۔ معافی نہیں ‘‘ بنا پلٹے آخری الفاظ کہتے وہ اسے واجد کے رحم و کرم پر چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا ۔۔۔
••••••
اس نے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر جھانکا ۔۔ وہ اپنی سٹدی ٹیبل پر بیٹھا سکول کا ہوم ورک مکمل کرنے میں مصروف نظر آرہا تھا ۔۔ اس گھر میں بس ایک وہی تھا جسے نارمل کہا جاسکتا تھا ۔۔ یا شاید وہ بھی ان سب کی طرح نارمل نظر آنے کی کوشش کررہا ہو ؟
’’ کیا ہورہا ہے ‘‘ ہونٹوں پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے اسکے پاس پہنچ کر اس نے پوچھا ۔۔
’’ ہوم ورک ۔۔ اس کے بعد ٹیسٹ کی تیاری بھی کرنی ہے ‘‘ اور اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ اس نے اپنے ماں باپ سے ذہانت بھی لی تھی ۔۔
’’ گڈ بوائے ۔۔۔ ہوم کر کے دودھ پی کر سوجانا اوک ! ‘‘ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے اس نے کہا ۔۔
’’ اوک ۔۔۔ ‘‘ مسکرا کر اسے کہتا وہ دوبارہ اپنے کام کی جانب متوجہ ہوا ۔۔ جبکہ وہ اب دروازے کی جانب بڑھی ۔۔
’’ ماسٹر کہاں ہیں آنی ؟ ‘‘ آحل کے سوال پر امل کے بڑھتے قدم رکے ۔۔ ایک گہری سانس لے کر وہ پلٹی ۔۔
’’ تم جانتے ہو کہ سب کیس میں بزی ہیں ۔۔۔ ماسٹر بھی وہیں بزی ہے ‘‘
’’ لیکن وہ تین دن سے مجھ سے ملنے نہیں آئے ۔۔ پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا ۔۔ ‘‘
’’ پہلے جیسا کچھ رہا بھی تو نہیں ہے نا آحل ‘‘ وہ بس سوچ کر رہ گئی ۔۔
’’ تم پریشان مت ہو ۔۔ جیسے ہی انہیں وقت ملے گا وہ تم سے ملنے آئینگے ۔۔ تم بس اپنی بڑھائی پر دھیان دو ۔۔ تاکہ تم بھی ایک دن انکا ساتھ دے سکو ‘‘ اسکی بات پر سر ہلاتا وہ دوبارہ اپنے کام کی جانب متوجہ ہوا ۔۔۔ جبکہ امل ایک گہری سانس لے کر کمرے سے باہر نکلی ۔۔۔ رخ اب کچن کی جانب تھا ۔۔
٭٭٭٭
’’ کتنا عام اور سیاسی طریقہ تھا بھاگنے کا ۔۔۔ ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک مریض بنا کسی مدد کے اسپتال سے غائب ہوجائے ‘‘ فائل میز پر پھینکتے ماسٹر نے تیش میں کہا ۔۔ اسکا غصہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔۔ وہ ہر اس انسان کو سزا دے آیا ج تھا جس نے شہزاد شاہ کے بھاگنے کی خبر اس سے چھپائی ۔۔ مگر وہ اپنے اندر کا غصہ اب بھی کم نہیں کر پارہا تھا ۔۔۔ اور شاید ۔۔ یہ غصہ تھا بھی نہیں ۔۔ شاید یہ افسوس تھا ۔۔ اپنی ناکامی کا ۔۔
’’ بلکل ایسا ہی ہے ۔۔۔ لیکن یہ کام بہت صفائی سے کیا گیا ۔۔۔ کہیں بھی کوئی غلطی نہیں ۔۔ کسی ایک پر شک بھی نہیں کر سکتے ہم ۔۔ یقیناً یہ سب بہت عرصے میں پلین کیا گیا ہے ۔۔ ایک پرفکٹ پلین کی طرح ‘‘ واجد نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے کہا ۔۔
’’ ایسا ممکن نہیں ۔۔ کہیں تو ہوگی ۔۔ کوئی غلطی ۔۔ کوئی نشانی تو رہی ہوگی ۔۔ پر شاید وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہے‘‘ دائے بائے چکر لگاتے ماسٹر نے بے چینی سے کہا ۔۔۔
’’ فرہاد کے مطابق بھی سب نارمل ہی تھا۔۔۔ شہزاد شاہ سے اسکی ملاقات بہت کم ہوئی اور جب بھی اس نے اسے دیکھا ہمیشہ خاموش ہی دیکھا ۔۔ کسی سے کوئی بات نہیں کرتا تھا وہ ۔۔ اور نا ہی کوئی دوستی وغیرہ ۔۔ اور تو اور ان آٹھ سالوں میں اس سے کوئی بھی ملنے نہیں گیا ۔۔۔ کوئی بھی نہیں ‘‘ واجد نے مزید بتایا جس پر پاس بیٹھے مصطفی نے اپنا سر تھاما ۔۔ جو درد سے پھٹ رہا تھا ۔۔
’’ تمہیں کچھ ملا ؟ ‘‘ ماسٹر نے مصطفی کی جانب دیکھتے نرمی پوچھا ۔۔ جبکہ مصطفی سے سر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا ۔۔ اور ماسٹر نے نظریں پھیر لیں ۔۔ یہ پہلی بار تھا ۔۔ کہ وہ کسی سے نظریں چرا رہا تھا ۔۔
’’ نہیں ۔۔ ہسپتال اور جیل ہر جگہ کا پورا ڈیٹا نکال چکا میں ۔۔۔ کہیں بھی کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔ سب چیزیں بلکل کلئیر ہیں۔۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے یہ سب جادو سے ہوا ‘‘ مصطفی کی جانب سے آئے جواب پر ماسٹر نے ایک بار بھی اسکی جانب دیکھا ۔۔ اور یہ پہلی بار تھا جب وہ مصطفی کو اتنا بے بس دیکھ رہا تھا ۔۔ اور افسوس تو یہ کہ وہ بھی کچھ نہیں کرپارہا تھا ۔۔
’’ اور جانتے ہو جادو کون کرتا ہے ؟ ‘‘ اور سب کی نظریں ان الفاظ پر سامنے گئیں ۔۔ جہاں امل ہاتھ میں چائے کی ٹرے لئے انکی جانب آرہی تھی ۔۔۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے ۔۔۔ مضبوط مسکراہٹ ۔۔
’’ انسان ‘‘ میز پر ٹرے رکھتے مصطفی کی جانب دیکھتے کہا ۔۔۔ جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔
’’ جادوگر بھی انسان ہوتا ہے۔۔ وہ سٹیج پر کھڑا ہوکر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتا ہے۔۔ مگر جانتے ہو ۔۔ وہ کون ہیں جنہیں وہ بے وقوف نہیں بنا پاتا ؟ ‘‘ سب کے سامنے چائے کا کپ رکھتی اب وہ مصطفی کے پاس آئی ۔۔
’’ وہ جو اس جادو میں حصہ لیتے ہیں ۔۔ وہ جو سٹیج کے سامنے نہیں ۔۔ بلکہ پیچھے کھڑے ہوکر اسکا جادو دیکھتے ہیں ۔۔ ‘‘
اور امل کے الفاظ نے ماسٹر کے دماغ میں ایک دھماکہ کیا ۔۔۔
وہ حیران کھڑا امل کودیکھ رہا تھا جو اب بھی مصطفی کو دیکھ رہی تھی ۔۔
اور مصطفی ۔۔ وہ اسکی بات سمجھ کر اب چائے کا کپ اٹھا رہا تھا ۔۔ جیسے اسے حوصلہ ملا ہو ۔۔
’’ سٹیج کے پیچھے ! ‘‘ ماسٹر نے امل کے الفاظ دہرائے ۔۔ جس پر ان تینوں کی نظریں سوالیاں انداز میں اسکی جانب اٹھیں ۔۔ اور پھر
وہ مسکرایا ۔۔
واجد ۔۔ مصطفی ۔۔۔ امل ۔۔۔
تینوں حیران رہ گئے ۔۔۔ ان تین دنوں میں انہوں سے اسے پہلی بار مسکراتے دیکھا تھا ۔۔۔ مگر کیوں ؟
ماسٹر نے اب اپنا موبائل نکالا ۔۔۔ ایک مسیج سینڈ کیا اور مسکرا کر چائے کاکپ اٹھاتے امل کی جانب دیکھا ۔۔
’’ سٹیج کے پیچھے سے دیکھنے کا وقت آگیا ہے مائی سمارٹ لیڈی امل نائل شاہ ‘‘
اور ان سب کو حیرت میں ڈالتا وہ مسکراتا وہاں سے چلا گیا ۔۔
’’ سمارٹ لیڈی ؟؟ نائل شاہ نے مجھے ۔۔۔ مائی سمارٹ لیڈی کہا !!! ‘‘
اور امل کی حیرت انگیز آواز پر مصطفی اور واجد قہقہہ بلند ہوا ۔۔
••••••••
” کچھ بھی ۔۔ کچھ بھی ایسا نہیں ہورہا جیسا ہم چاہتے تھے ۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ جن لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑنا چاہیے وہ ایک دوسرے کے پہلے سے زیادہ قریب کیسے ہوگیے؟ ” تیش میں کہتے وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑکی کی جانب آیا ۔۔
” میں بھی سمجھ نہیں پاتا ۔۔ مجھے لگا تھا کہ شہزاد شاہ کے بھاگنے اور اس قتل کرنے کا جاننے کے بعد مصطفی اور امل ماسٹر کے خلاف ہو جائیگے ۔۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ۔۔ بلکہ وہ تو اب پہلے سے زیادہ تیز ہوگئے ہیں ۔۔۔ ” پیچھے کھڑے دانش نے اکتا کر کہا ۔۔۔
” تین دن ۔۔ صرف تین دن ہی وہ لوگ مجھے ڈسٹرب نظر آئے ۔۔ اور آج ۔۔ آج تم نے دیکھا انہیں دانش ۔۔ ماسٹر کے چہرے پر عجیب سا اطمینان ہے ۔۔ امل ، مصطفی اور واجد ماسٹر کو دیکھ کر مطمئن ہیں ۔۔۔ مجھے یہ سب نہیں چاہئے تھا دانش ۔۔ تم نے کہا تھا کہ مایا کی قربانی سب بدل دے گی ۔۔۔ مگر مجھے بدلاؤنظر کیوں نہیں آرہا ” اس بار آواز پہلے سے اونچی ہوئی ۔۔
“سوری باس ۔۔۔ مجھے لگتا ہے ۔۔ ہم نے غلطی کر دی ہے ۔۔۔ قربانی مایا کی نہیں دینی چاہئے تھی ۔۔ وہ شاید ان میں سے کسی کی بھی کمزوری نہیں ۔۔ “
” غلط ” ایک اور آواز پر وہ دونوں پلٹے ۔۔۔ سامنے ہی ایک شخص ہاتھ میں سگار پکڑے صوفے پر بیٹھا تھا ۔۔
” مایا کی قربانی دیکھا جائے تو ضائع نہیں گئ ۔۔۔ آخر اس کی وجہ سے فرہاد باہر آگیا ۔۔ مگر ہاں ۔۔۔ یہ سچ ہے کہ مایا کسی کی کمزوری نہیں تھی ۔۔ مصطفی کی بھی نہیں ۔۔ ہم سب جانتے تھے کہ مصطفی اور مایا کی ارینج میریج تھی ۔۔ وہ دونوں ہی اکیلے تھے اور بہت اچھے دوست ۔۔ تو سوچا دوستی کو شادی میں بدل دیں ۔۔ تو کر لی شادی ۔۔ یہاں محبت نہیں تھی ۔۔
اور انسان قابو سے باہر اور دماغ سے بند تب ہوتا ہے ۔۔ جب اسکی محبت پر وار ہوتا ہے ۔۔
مایا مصطفی کی بیوی اور اسکی دوست تھی ۔۔ وہ اپنی دوست نما بیوی کو انصاف دلانے کے لئےہر پر ممکن کوشش کرے گا ۔۔ اور وہ جانتا ہے کہ ماسٹر بھی ایسا ہی کرے گا ۔۔ آخر مایا اسکی ٹیم کا ایک اہم حصہ تھی ۔۔ ” سٹرے میں سگار کو مسلتے ہوئے وہ شخص صوفے کی پشت پر ٹیک لگا کر ٹانگ پر ٹانگ ٹکا کر بیٹھا ۔۔۔ نظریں اپنے سامنے کھڑے دونوں افراد پر تھیں ۔۔ جو اسکے بولنےکے منتظر تھے ۔۔
” جانتے ہو ۔۔ عورت کی محبت کے علاوہ وہ کونسی محبت ہے جو سب پر بھاری ہوتی ہے ؟ ” ایک سوال ہوا ۔۔۔ جس پر سامنے کھڑے دونوں افراد حیران ہوئے ۔۔
” آپ کا مطلب ہے ۔۔۔۔ ” باس نے اپنی بات ادھوری چھوڑی ۔۔ جبکہ صوفے پر بیٹھا شخص مسکرایا ۔۔
” اولاد کی محبت انسان کو اندھا کر دیتی ہے ۔۔۔ وہ اپنی اولاد کو ذرا سی بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا ۔۔ یقیناَ مصطفی کو بھی اپنی اولاد سے بے حد محبت ہے ” اور اسی کے ساتھ ایک خطرناک مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر ظاہر ہوئی ۔۔ جبکہ سامنے کھڑا دانش ایک قدم پیچھے ہوا ۔۔۔
” نہیں ۔۔۔ نہیں باس ” اس نے اپنے باس کی جانب دیکھا ۔۔۔ جو بے تاثر کھڑا کسی گہری سوچ میں گم نظر آرہا تھا ۔۔
” ہم ایک چھوٹے بچے کو نہیں مار سکتے ۔۔ انہیں الگ کرنے کے اور بھی ہزار طریقے ہونگے ۔۔ اس بچے کو مارنا ضروری نہیں ” وہ اپنے باس کو سمجھانا چاہتا تھا ۔۔ چاہے کتنا ہی برا انسان کیوں نہ ہو ۔۔ مگر وہ کسی معصوم بچے کو مارنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا ۔۔
” ہم جانتے ہیں کہ امل کی کوئ اولا د نہیں ہے ۔۔ اس لئے وہ اس بچے کو ہی اپنی اولاد سمجھتی ہے اور مصطفی کی تو وہ سگی اولا د ہے ۔۔ وہ دونوں پاگل ہوجائینگے ۔۔۔ اور پاگل انسان دماغ سے نہیں جزبات سے کام لیتے ہیں ” اس شخص نے اپنی بات جاری رکھی ۔۔ جبکہ دانش کی نظر اب بھی اپنے باس کی جانب تھی ۔۔ جو کسی سوچ میں گم تھا ۔۔
” باس ۔۔۔ ہم ایسا کچھ نہیں کرینگے نا ؟ ” دانش نے پوچھا ۔۔ ایک امید سے ۔۔
” یہ کام جلد ہوجانا چاہئے دانش ” اور امید ٹوٹ گئ ۔۔۔
” اوک باس ” دھیمی آواز سے سر جھکا کر کہا ۔۔۔
