Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2 NovelR50556 Koi Sath Ho (Episode 06)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 06)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2
یہ صبح کے نو بجے کا وقت ہے جب اس ہسپتال کے تیسرے فلور میں جہاں کچھ دن پہلے ہی مایا کا قتل ہوا، لفٹ کا دروازہ کھلا اور مصطفی چہرے پر پتھریلے تاثر لئے باہر نکلا ۔۔ بلو شرٹ اور جیسن پہنے ، آنکھیں نیند کی محرومی سے لال ، ہاتھ میں کی۔چین پکڑے آگے بڑھا ۔۔ قدم مایا کے آفس کے بلکل سامنے رکے ۔۔ آس پاس نظر دوڑائی ۔۔ فلور بلکل خالی تھا۔۔ کوئی مریض کوئی ڈاکٹر بھی یہاں موجود نہیں تھا ۔۔ ہر شے ویسی کی ویسی ہی تھی جیسے چار دن پہلے تھی ۔۔ کوئی معمولی سی چیز بھی اپنی جگہ سے ہلائی نہیں گئی ۔۔ یہ جگہ مکمل طور پر ماسٹر کے انڈر انوسٹیگیشن تھی ۔۔ صرف ماسٹر ہی کی ٹیم یہاں آسکتی تھی ۔۔ بنا کسی روک ٹوک ہے ۔۔ نظر ایک بار پھر آفس کے دروازے پر گئی جو بند تھا ۔۔ ایک بار پھر چار دن پرانہ منظر اس کی نظروں کے سامنے گومنے لگا ۔۔۔
امل کے ساتھ لفٹ میں آنا ۔۔
امل کا دروازہ کھولنا ۔۔
کرسی میں بیٹھی مایا ۔۔
گولیاں ۔۔
خون ۔۔
آنکھوں میں اچانک ہی جلن کا احساس ہوا جس پر اس نے کرب سے آنکھیں بند کیں ۔۔ دو تین گہری سانسیں لینے کے بعد اس نے آنکھیں کھولیں ۔۔ اب چہرہ پہلے سے زیادہ سنجیدہ اور آنکھیں لال تھیں ۔۔ اس نے قدم مایا کے آفس کی جانب بڑھائے ۔۔۔ آفس کا دروازہ کھول کر وہ اندر آیا ۔۔ نظر سیدھا سامنے کرسی پر پڑئی ۔۔ جو اب بھی ویسی ہی تھی ۔۔ فرش پر خون کے نشان اب بھی موجود تھے ۔۔ میز کی ہر شے ویسی ہی ویسی ہی تھی ۔۔ اور جب تک ماسٹر نہیں چاہے گا ۔۔ یہ سب ایسا ہی رہنا تھا ۔۔ مگر یہ کتنا تکلیف دہ ہے ۔۔ یہ سب دیکھنا کتنا مشکل ہے کہ اس سے بہتر شاید کوئی نہیں جان سکتا ۔۔ ایک بار پھر ایک گہری سانس لی ۔۔ جیسے خود کو ریلیکس کرنے کی کوشش ہو ۔۔ جیسے سوچوں کو ماضی سے دور کرنے کی کوشش ہو ۔۔ اور جیسے کو کامیاب ہو بھی گیا ہو ۔۔ اگلے ہی لمحے اس کی نظریں چاروں دیواروں پر گئیں ۔۔ کسی چیز کی تلاش میں جیسے ۔۔ چھت پر دیکھا ۔۔ بہت غور سے ۔۔ پھر کچھ قدم مایا کی میز کے بلکل سامنے کی دیوار پر لگی انسانی ڈانچے کی تصویر ہی جانب بڑھائے ۔۔۔ وہ اس تصویر کو بہت غور سے دیکھتے اس کے قریب آیا ۔۔ نظر اس کے ایک ایک حصے کو بہت غور ست دیکھ رہی تھی ۔۔ اور پھر ۔۔ اس نے ہاتھ بڑھایا ۔۔ اور تصویر کے دائیں جانب کسی کونے سے کوئی چیز نکالی ۔۔ ایک بہت چھوٹی سی چیز نکالی ۔۔ اسے نظروں سے قریب کیا ۔۔ بہت غور سے دیکھا ۔۔ اور پھر ۔۔ ایک معنی خیز مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر پھیلی ۔۔
’’ مصطفی جیسا ہیکر ۔۔ ہسپتال کی تھرڈ کلاس سیکیورٹی اور کیمراز پر اعتبار کرتا ہوگا ؟ ایسا سوچ بھی کیسے لیا تم نے ۔۔ مسٹر کرمنل ‘‘ اور اسی کے ساتھ ماضی کی ایک یاد تازہ ہوئی ۔۔ وہ یاد ۔۔ جو کئی سال پہلے کی تھی ۔۔
’’ یہ تم کیا کر رہے ہو ؟ ‘‘ اس کے قریب آکر کھڑی ہوتی مایا نے سنجیدگی سے اس سے پوچھا ۔۔
’’ تمہاری سیکیورٹی کا انتظام ‘‘ ایک چھوٹی سی کالے رنگ کی چیز وہ وال پر لگی اس تصویر کے دائیں جانب چھپا کر سیٹ کررہا تھا ۔۔
’’ مصطفی ۔۔ ان سب کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔ وہ دیکھو ‘‘ اسکا ہاتھ پکڑ کر ایک جانب اشارہ کیا ۔۔ مصطفی نے اس جانب دیکھا جہاں اس نے اشارہ کیا ۔۔
’’ یہاں پہلے سے کیمرہ لگا ہوا ہے ۔۔ اور یہ کوئی لوکل ہسپتال نہیں ہے ۔۔ سیکیورٹی تمہاری سوچ سے بھی زیادہ اچھی ہے ۔۔ ایون کہ اگر میں دروازہ ان لاک کر کے سو بھی جاؤ تو مجھے کوئی خطرہ نہیں ‘‘ اسکی عجیب سی بات پر وہ مسکرایا ۔۔
’’ فرسٹ تو دروازہ ان لاک کر کے سونے کی غلطی بھول کر بھی نہ کرنا اور سیکینڈ ۔۔ میں مصطفی ہوں مایا ۔۔ دی ہیکر ۔۔ اور ایک ہیکر سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا کہ سیکیورٹی کتنی کمزور یا مضبوط ہے ۔۔ اس لئے میں جو کر رہا ہوں مجھے کرنے دو ‘‘ اسے جواب دیتا وہ دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوچکا تھا ۔۔ جبکہ مایا ایک گہری سانس لے کر اپنی کرسی پر آکر بیٹھی ۔۔
’’ اس طرح ہسپتال میں بنا اجازت کیمرہ لگایا غلط ہے مصطفی ۔۔ مجھے فوراً جاب سے نکال دیا جائے گا جب انہیں معلوم ہوگا ‘‘ اس نے اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔۔ ناکام کوشش ۔۔۔
’’ اور مصطفی دی ہیکر سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا کہ کسی بھی چیز کو سالوں تک نظروں سے اوجھل کیسے رکھنا ہے ۔۔ تم مجھے انڈرایسٹیمیٹ کیسے کرسکتی ہو مایا ؟ ‘‘ اسے گھورتے ہوئے مصطفی نے کہا ۔۔ جیسے شکایت کی ہو ۔۔ اتنا عرصہ ساتھ کام کرنے کے باوجود بھی وہ یہ جان نہیں پائی کہ مصطفی کا کام پکڑنا ۔۔ ناممکن ہے ۔۔
’’ اوک اوک ۔۔ کرو جو کرنا ہے ۔۔ مگر اسکا کوئی فائدہ نہیں ہونا ۔۔ سالوں بعد بھی نہیں ‘‘ دونوں ہاتھ اوپر کرتی اس نے جیسے اپنی ہار تسلیم کرتے کہا ۔۔۔ جبکہ مصطفی اپنا کام مکمل کر کے پلٹا ۔۔
’’ اسکا فیصلہ تو وقت کرتا ہے مایا ۔۔ کونسی چیز ۔۔ کب ۔۔۔ زندگی کے کس موڑ پر کام آجائے ۔۔ کسے پتہ ؟ ہمیں تو بس خود کو تیار رکھنا چاہئے ۔۔ ہر چیز کے لئے ۔۔ ہر ناممکن چیز کے لئے ‘‘ لفظ ناممکن پر زور دیتے اس نے کہا ۔۔ جس پر مایا مسکرائی ۔۔ وہ ہمیشہ ٹھیک ہی کہتا ہے ۔۔۔
’’ میں نے کہا تھا مایا ۔۔ ہمیں ہمیشہ خود کو تیار رکھنا چاہئے ۔۔ ہر ناممکن چیز کے لئے ‘‘ اس نے خود کلامی کی ۔۔ اور پھر ۔۔ وہ جیسے آیا تھا ۔۔ ویسے ہی اس آفس سے باہر نکلا ۔۔ فرق بس یہ تھا ۔۔۔ کہ اب اسکی جیب میں دو چیزیں تھیں ۔۔ ایک یو۔ایس۔بی ۔۔ اور ایک ۔۔ وہ چھوٹی سی کالی چپ ۔۔
اس نے سٹڈی کا دروازہ آہستہ سے کھول کر اندر جھانکا ۔۔ نظر سامنے میز کے پاس رکھی کرسی پر ٹیک لگائے آنکھیں موندے ماسٹر پر پڑی ۔۔ جو شاید سورہا تھا ۔۔اسے اس طرح کرسی پر سویا دیکھ کر دل میں ایک چبھن ہوئی ۔۔ رات ان دونوں کے درمیان جو بات ہوئی اس کے بعد ماسٹر کمرے میں واپس نہیں آیا تھا ۔۔ اور سچ یہ تھا کہ اس نے بھی کوئی پرواہ نہیں کی ۔۔ اسکی سوچیں تو کہیں اور ہی تھیں ۔۔ مگر اب ۔۔ اب صبح آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلا خیال اسی کا آیا تھا ۔۔ اور اسے اس طرح بے آرام دیکھ کر اسے اپنے رویے پر شرمندگی ہونے لگی ۔۔ یہ سب کے لئے بہت مشکل وقت تھا ۔۔ اور ایسے وقت میں تو سب کو ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے ۔۔ اور یہاں وہ ہے ۔۔ جو اپنے ہی مسئلے لے کر ماسٹر سے کسی نا کسی بات پر لڑ پڑتی ہے ۔۔ مگر وہ بھی کیا کرے ۔۔ دل میں ایک عجیب سا خوف ۔۔ ایک عجیب سا ڈر جانے کہاں سے بار بار سر اٹھا رہا تھا ۔۔۔ اسکی چھٹی حس اسے بار بار کوئی پیغام دے رہی تھی ۔۔ کچھ اس سے بھی زیادہ برا ہونے کا پیغام ۔۔ ماسٹر اور اسکے بیچ ۔۔ کچھ بہت غلط ہوجانے کا پیغام ۔۔ وہ چاہ کر بھی اپنے آپ کو ایسی سوچوں سے روک نہیں پارہی تھی ۔۔ حالانکہ وہ جانتی تھی کہ ماسٹر جو بھی کرتا ہے ۔۔ انہیں کے لئے کرتا ہے ۔۔
اپنی سوچوں کو ایک بار پھر روک کر وہ دبے قدموں آگے بڑھی ۔۔ کوشش تھی کہ وہ اپنی نیند سے جاگ نہ جائے ۔۔ یقیناً وہ پوری رات جاگا ہوگا ۔۔ اور یقیناً یہ نیند بھی اچانک ہی اس پر حاوی ہوئی ہوگی ۔۔ اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس نیند سے جاگے ۔۔ اسے آرام کی ضرورت تھی ۔۔
کرسی کے پاس پہنچ کر وہ رکی ۔۔ نظریں اس کے چہرے پر تھیں ۔۔ جہاں نیند میں بھی سنجیدگی اور پریشانی واضح تھی ۔۔ آنکھیں بند مگر انکی سرخی وہ اب بھی محسوس کر رہی تھی ۔۔۔ ماتھے پر بل ۔۔ گردن تک آگے لمبے بال جو بے ترتیب بکھرے تھے ۔۔ بے اختیار ہی اسکا ہاتھ آگے بڑھا ۔۔ اور اب وہ اسکے بے ترتیب بالوں میں انگلیاں پھیرتی انہیں ٹھیک کر رہی تھی ۔۔ بہت احتیاط سے ۔۔ بہت آرام سے ۔۔ اسے ہمیشہ سے ماسٹر کے بال بہت پسند تھے ۔۔ اسے آج بھی یہ بال بہت پسند ہیں ۔۔ بے اختیار ہی وہ مسکرائی ۔۔
’’ تم میرے ہر جذبے پر قابض ہو ماسٹر ۔۔۔ میرا غصہ ، میرا لڑنا ، میری شرارت ، میرا مسکرانا ، میری خوشی ، اور میری غمی ۔۔ سب تمہاری ذات سے ہی منسلک ہے ۔۔ تم میرا مدار ہو ماسٹر ۔۔ کچھ بھی ہوجائے ۔۔ میں نے تمہارے ارد گرد ہی رہنا ہے ۔۔ تم سے الگ ہوگئی تو گر جاؤنگی ۔۔ ختم ہوجاؤنگی ۔۔ تباہ ہوجاؤنگی ۔۔۔ تم ۔۔ تم ظالم ہو ماسٹر ۔۔ مگر مجھے تمہارے ظلم سے بھی محبت ہے ‘‘ نم آنکھیں لئے وہ بہت دھیمی آواز میں کہہ رہی تھی ۔۔ ایسے جیسے کوئی سرگوشی ہو ۔۔ ایسے جیسے وہ اپنی ذات سے کہہ رہی جو ۔۔
کچھ دیر اسکے بالوں پر ایسے ہی انگلیاں پھیرنے کے بعد وہ رکی ۔۔ ایک گہری سانس لے کر پلٹی اور دبے قدموں چلی گئی ۔۔۔ جبکہ اسکے جاتے ہی ماسٹر نے آنکھیں کھولیں ۔۔۔ آنکھیں لال ۔۔ مگر خوشی کی ایک چمک ظاہر ہوئی ۔۔ ہونٹ بے اختیار مسکرائے ۔۔ دائیں جانب ڈمپل گہرا ہوا ۔۔ اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتے وہ سیدھا ہوا ۔۔
’’ میں تمہارا مدار نہیں امل ۔۔ ہم دونوں ایک ہی مدار میں گومنے والے دو ستارے ہیں ۔۔ ہر طرح کے حالات میں گردش کرتے ۔۔ ایک دوسرے پر ظلم کرتے ۔۔۔ ایک دوسرے سے محبت کرتے ۔۔ یہ مدار نہیں رہی تو دونوں ہی گرے گیں امل ۔۔۔ ہم ساتھ چلینگے ۔۔ ہم ساتھ گرینگے ۔۔ ‘‘ مسکرا کر کہتا وہ ایک بار پھر آنکھیں موند گیا ۔۔ مگر اس بار ۔۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ لئے ۔۔
اب اگر یہاں سے دور سینٹرل جیل کے اندر ایک چھوٹے سے آفس میں آؤ تو واجد ایک کرسی پر بے چینی سے بیٹھا ہے بار بار گھڑی کی جانب دیکھ رہا ہے ۔۔ اسے یہاں آئے تقریباً ایک گھنٹہ ہوچکا تھا ۔۔ وہ ایک گھنٹے سے وہ یہاں بیٹھا شہزاد شاہ کے ملاقاتیوں کی فائل لسٹ کا انتظار کررہا تھا ۔۔ مگر جانے ایسا کیا مشکل کام تھا جو انتظارر ختم ہی نہیں ہورہا ۔۔ کچھ دیر مزید اسی طرح بیٹھنے کے بعد آخر وہ تنگ آکر اپنی جگہ سے اٹھا اور آفس سے باہر نکلنے لگا ۔۔ اور اسی لمحے ایک آفیسر اندر داخل ہوا۔۔
’’ آپ کہیں جارہےہیں ؟ ‘‘ اسے کھڑا کر پوچھا ۔۔
’’ میں یہ دیکھنے جارہا تھا کہ ایک فائل لانے اتنا ٹائم کیوں لگ رہا ہے ؟ ‘‘ سنجیدگی سے کہتا وہ اپنی جگہ واپس بیٹھا جبکہ آفیسر بھی اپنی کرسی پر اس کے سامنے بیٹھا ۔۔
’’ آپکو انتظار کروانے کے لئے معذرت ۔۔ میں دراصل ایک ضروری کام میں پھنس گیا تھا ۔۔ ‘‘
’’ تو آپ کسی کے ہاتھ بجھوا سکتے تھے یہ فائل ۔۔ میں ویسے بھی آپکو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا ۔۔ مجھے بس اس لسٹ کی ضرورت ہے ‘‘ اسکے جانب ہاتھ بڑھاتے واجد نے کہا ۔۔ جبکہ سامنے موجود شخص نے اب ایک کالے رنگ کی فائل اسکی جانب بڑھائی ۔۔ اور واجد کی شاطر آنکھیں اسکے ہاتھوں کی پکپکاہٹ محسوس کر چکی تھیں ۔۔ ضرور کچھ گڑبڑ ہے ۔۔
’’ تھینک یو ۔۔۔ ‘‘ مصنوئی انداز سے کہتے اس نے فائل کھولی ایک سرسری نظر اس پر ڈالی ۔۔ اور پھر ۔۔ وہ الجھا ۔۔۔ فائل میں موجود کاغذوں کو پلٹا اور ماتھے پر بل واضح ہوئے ۔۔ جبکہ سامنے بیٹھے آفیسر نے پہلو بدلا ۔۔ یقیناً وہ مشکل میں تھا ۔۔ یا مشکل میں آنے والا ہے ؟
’’ پچھلے تین مہینے کا اس میں کوئی ریکارڈ نہیں ہے ۔۔ کوئی ملاقاتی نہیں ۔۔ کوئی کال نہیں ۔۔ نا ہی شہزد شاہ کی کوئی ڈیٹیل ۔۔ میں پوچھ سکتا ہوں کہ تین مہینے کا ریکارڈ یہاں کیوں نہیں ہے ؟ ‘‘ میز پر فائل رکھتا وہ آگے جھکا ۔۔ اپنی سنجیدہ آنکھیں جو سامنے بیٹھے شخص کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہی تھیں اس پر ٹکاتے پوچھا ۔۔
’’ وہ ۔۔ مم ۔۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے ۔۔ مم ۔۔ میں ابھی چیک کر کے آتا ہوں ‘‘ میز سے فائل اٹھاتا وہ فوراً کھڑا ہوکر جانے لگا کہ واجد تیزی سے اسکے سامنے آکھڑا ہوا ۔۔ وہ بے اختیار ایک قدم پیچھے ہوا ۔۔ اسکے جسم کی کپکپاہٹ اسکے نظروں سے چھپ نہ سکی ۔۔
’’ کیا چھپایا ہے تم نے ماسٹر سے ؟ ‘‘ واجد کی آواز پہلے سے زیادہ سخت اور نظریں پہلے سے زیادہ سنجیدہ تھیں ۔۔
’’ کک ۔۔ کچھ نہیں ۔۔ ‘‘ ماتھے پر آئے پسینے کے قطرے صاف کرتے کہا ۔۔
’’ میں نے پوچھا ‘‘ واجد ایک قدم آگے بڑھا جبکہ وہ میز سے ٹکرا کر پیچھے کی جانب جھکا ۔۔ واجد سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں تھا اب ۔۔ “کیا چھپایا ہے تم نے ؟ کہاں ہے شہزاد شاہ کی تین مہینے کی ریپورٹ ؟ ‘‘ اس نے اپنے سوال دہرائے ۔۔
’’ وہ ۔۔ ہم ۔۔۔ مم ۔۔ میں انہیں بتانا چاہتا تھا ۔۔ مم ۔۔ مگر ہمیں چچ ۔۔ چپ رہنے کا آرڈر ملا ۔۔۔ مم ۔۔۔ ماسٹر سے ۔۔۔‘‘
’’ ڈر گئےتھے ؟ ‘‘ اسکی بات واجد نے بیچ میں کاٹ دی ۔۔اس شخص نے دھیرے سے اپنا سر ہلایا ۔۔ جبکہ واجد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی ۔۔ ایک خطرناک مسکراہٹ ۔۔ جیسی کسی شیر کے ہونٹوں پر کسی ہرنی کو دیکھ کر آتی ہو ۔۔
’’ بہت بڑی غلطی کر بیٹھے ہو آفیسر ۔۔۔ ماسٹر سے جھوٹ بول کر ۔۔ ماسٹر کے ڈر سے، ماسٹر ہی کو اندھیرے میں رکھ کر تم اپنے لئے اندھیروں کا انتظام کر چکے ہو ۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ اندھیرے تم نے زندگی کے لئے تیار کئے ۔۔ یا موت کے لئے ‘‘ اسکی بات جیسے کسی کرنٹ کی طرح اس شخص کو لگی ۔۔
’’ مم ۔۔۔ میں بتاتا ہوں ۔۔ پپ ۔۔ پلیز ماسٹر سے بچا لو مجھے ۔ْ۔۔ مم میں مجبور تھا ۔۔ میری جاب چلی جاتی ‘‘ وہ اب اس سے التجا کر رہا تھا ۔۔ بے اثر التجا ۔۔
’’ تمہیں زندگی کا خیال رکھنا چاہئے تھا آفیسر ۔۔ نوکری تمہیں ماسٹر کے ہوتے کہیں بھی مل جاتی ۔۔ لیکن ۔۔‘‘ واجد ایک قدم پیچھے ہوا ۔۔
’’ لیکن تمہاری زندگی کا چانس اب بھی ہے ۔۔ اگر غلطی قابلِ معافی ہے تو ۔۔ ماسٹر کو تو تم جانتے ہو ۔۔ وہ بے رحم تو بلکل نہیں ہیں ۔۔ ‘‘ مسکرا کر کہتا وہ دوبارہ ایک قدم آگے بڑھا ۔۔
’’ اب بتاؤ ۔۔۔ کیا چھپایا ہے تم نے ماسٹر سے ؟ ‘‘ اس کی آواز کسی خاموشی طوفان سے پہلے چلنے والی ہوا جیسی تھی ۔۔
’’ وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘ اور جواب ۔۔۔ جواب ایک طوفان بن کر آیا تھا ۔۔۔ ایسا طوفان جس نے اسکی آواز بند ۔۔ اور وجود ساکت کر دیا ۔۔ جس نے ۔۔ واجد کے پیروں تلے زمین کھینچ لی تھی ۔۔۔
وہ شہر سے کچھ دور اس سنسان اور کم آبادی والے علاتے میں موجود ایک گھر جو کہ دو کمروں ، ایک چھوٹا سا ٹی۔وی لاؤنچ، سٹڈی روم اور اوپن کچن پر مشتمل ہے کے اندر بیٹھا کسی گہری سوچ میں گم نظر آرہا تھا ۔۔ نظر سامنے چلتے ٹی۔وی پر لگے نیوز چینل پر تھی جہاں کبھی کوئی سیاسی خبر تو کبھی کوئی نیا کرائم بتایا جارہا تھا ۔۔ مگر کہیں بھی کسی بھی چینل یا ہیڈ لائین پر اس واقعے کی کوئی خبر نہیں تھی ۔۔۔ اور یقیناً یہ سب ماسٹر ہی کی وجہ سے تھا ۔۔ ماسٹر جو چیز ، جو بات چھپانا چاہے تو کوئی اسے ڈھونڈ نہیں سکتا ۔۔ماسٹر کو ظاہر کرنا چاہے تو کسی کی نظر سے بچ نہیں سکتا ۔۔ اور یہ اس سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے ۔۔ چند سال پہلے ہی کی تو بات ہے ۔۔ جب امل کو چھپایا تو ایسا چھپایا کہ وہ نظر کے سامنے ہوکر بھی کسی کو نظر نہ آسکی ۔۔ اور جب سامنے لایا ۔۔ تو ایسا لایا کہ کوئی چاہ کر بھی اسکا کچھ بگاڑ نہیں سکتا ۔۔ اور یہ سب ماسٹر ہی کی وجہ سے تو تھا ۔۔ لیکن صرف ماسٹر نہیں ۔۔۔ اس کی بہترین ٹیم کی وجہ سے بھی ۔۔۔
مایا جیسی ڈاکٹر ۔۔۔
مصطفی جیسا ہیکر ۔۔
واجد جیسا اسسٹنٹ ۔۔۔
اور امل ۔۔
امل جیسی بہارد لڑکی ۔۔
اتنے سال گزر گئے ۔۔ مگر سب آج بھی ویسے ہی ہیں ۔۔ وہی ماسٹر ، وہی مصطفی ، وہی امل ۔۔ اور وہی مایا ۔۔۔۔ اس نے کرب سے آنکھیں بند کیں ۔۔ آنسو کا ایک قطرہ اسکی پلکوں سے ہوتا گالوں پر سفر کرنے لگا ۔۔
’’ تم نہیں ہو ۔۔ ماسٹر کی بہترین ٹیم میں سے ایک فرد تکم ہوگیا ۔۔ ڈاکٹر مایا نہیں ہے اب ۔۔ ‘‘ دھیمی آواز میں کہتے اس نے اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔
’’ لیکن مجھے اس پر یقین ہے ۔۔۔ مجھے مصطفی پر ۔۔ ماسٹر پر ۔۔ امل پر ۔۔ مجھے ان سب پر یقین ہے مایا ۔۔ یہ جس نے بھی کیا ہے ۔۔ وہ بچ نہیں پائے گا ۔۔ ماسٹر سے کوئی بچ نہیں سکتا ۔۔ کبھی نہیں ۔۔ ‘‘ مضبوط انداز میں کہتا وہ سیدھا ہوا ۔۔ نظر اپنے آگے میز پر رکھی نوٹ بک اور پینسل پر گئی ۔۔ جانے کتنی ہی دیر وہ اسے گھورتا رہا ۔۔ جب کانوں میں ایک آواز گونجی ۔۔
’’واجد تمہیں ہماری خفیہ جگہ لے جائیگا ۔۔ تم وہیں رہوگے اور ایک لسٹ بناؤ ۔۔ تم سے کون کون ملنے آتا رہا ؟ کس کس کو ماضی میں ہونے والے واقعہ کا معلوم ہے اور جیل میں کس کس سے تمہاری اس بارے میں بات ہوتی رہی ۔۔ ساری لسٹ مجھے کل چاہئے ‘‘ ایک آرڈر دیا گیا تھا اسے ۔۔ ایسے جیسے وہ بھی اسکی ٹیم کا حصہ ہو ۔۔۔ اور اچانک ۔۔ وہ مسکرایا ۔۔
’’ آئیڈیا برا تو نہیں ۔۔۔ ‘‘ مسکرا کر کہتے اس نے میز پر سے نوٹ بک اور پینسل اٹھائی ۔۔
’’ ماسٹر کی ٹیم میں صرف ایک انسان کی کمی ہے ۔۔۔ ایک ایسے انسان کی ۔۔ جسے سو بار مار کر سو بار بھی پیدا کیا جائے ۔۔ تو اپنے ہر جنم کے ایک ایک دن کی ایک ایک بات یاد ہو ۔۔ جسے ایک ایک انسان یاد ہو ۔۔ جسے ایک ایک آواز یاد ہو ۔۔ جسے کسی بھی چیز کو سیو کرنے کے لئے کسی چپ کی ضرورت نہ ہو ۔۔ جو خود ایک چپ ہو ۔۔ ماضی کی ۔۔ حال کی ۔۔ ‘‘ صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھتے اس نے نوٹ بک کے پہلے بیچ پر ایک تاریخ لکھی ۔۔ آٹھ سال پہلے کی تاریخ ۔۔
’’ لگتا ہے اب تمہاری سیٹ مجھے سنبھالنی پڑے گی مایا ۔۔ ماسٹر کو اپنا اصل ٹیلینٹ دکھانے کا وقت آگیا ہے ۔۔ ماسٹر کی ٹیم میں ۔۔ ایک میموری مین کی کمی پوری کرنے کا وقت آگیا ہے ۔۔ ‘‘ اور اسی کے ساتھ اس نے لکھنا شروع کیا ۔۔ بہت تیزی سے ۔۔ ہونٹوں پر عجیب سی مسکراہٹ ۔۔ آنکھوں میں سنجیدگی لئے ۔۔ وہ ایک کے بعد ایک صفحہ پلٹتا گیا ۔۔ وہ لکھتا گیا ۔۔ یہاں تک کے گھنٹہ گزر گیا ۔۔ یہاں تک کہ رات گزرنے لگی ۔۔۔
