Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2 NovelR50556 Koi Sath Ho (Episode 10)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 10)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2
یہ ہسپتال کی لفٹ ہے جس میں ایک نرس داخل ہوئ ۔۔ جبکہ اسکے ساتھ ہی ایک اور شخص اندر آیا ۔۔
نرس کی نظر اپنے ساتھ کھڑی شخصیت پر گئ جو کہ ایک لیڈی تھی ۔۔ گردن تک آتے سفید بال ۔۔ آنکھوں میں کالا چشمہ لگائے ۔۔ براؤں کوٹ کے نیچے سکن کلر کی ٹی شرٹ اور جینس پہنے ۔۔ دونوں کان جیبوں میں ڈالے ۔۔ منہ ببل چباتی وہ اس کی جانب دیکھ کر مسکرائ ۔۔ شیطانی مسکراہٹ ۔۔ نرس نے نظروں کا رخ لفٹ کے دائیں جانب چلتے نمبروں کی جانب کیا ۔۔ جہاں اب چوتھا فلور آچکا تھا ۔۔ لفٹ کا دروازہ کھلا ۔۔ وہ باہر نکلی اور اسکی ہے ساتھ وہ لیڈی بھی ۔۔ وہ نرس اب آہستہ آہستہ آگے بڑھی ۔۔ اپنے پیچھے آتی اس عجیب سی لیڈی سے اسے جانے کیوں ڈر لگ رہا تھا ۔۔ وہ جلدی سے بائیں جانب مڑی ۔۔ اور تیزی سے آگے کی جانب بڑھی ۔۔ اسی کے ساتھ اس لیڈی کی رفتار بھی تیز ہوئ ۔۔۔ وہ اب جلدی سے ایک روم کا دروازہ کھول کر اس میں داخل ہوئ ۔۔ وہ دروازہ بند کرنا چاہا ہی کہ ایک ہاتھ نے اسے ایسا کرنے سے روکا ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ یہ وہی لیڈی تھی ۔۔ وہ تیزی سے اندر آئ ۔۔ اپنے پیچھے دروازہ بند کیا اور اس سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئ ۔۔
” کک ۔۔۔ کون ہو تم ” نرس نے گھبراتے ہوئے آس پاس دیکھا ۔۔ یہ کمرہ خالی تھا ۔۔
” تمہاری خیر خواہ ” ببل چباتے ہوئے اس نے اسکی جانب بڑھتے کہا ۔۔
” دیکھو ۔۔ تم جو بھی ہو یہاں سے چلی جاؤ ورنہ ۔۔۔ ؟ ” وہ رکی ۔۔
” ورنہ کیا ؟ ” اس سے صرف ایک قدم کے فاصے پر رکتے اس نے کہا ۔۔
” ورنہ میں سیکیورٹی کو بلا ؤنگی ” اور اس کی بے تکی بات پر اسکا ایک جاندار قہقہہ گونجا ۔۔
” واؤ ۔۔ میں تو ڈر گئ ” کاندھے اچکا کر کہتی وہ ایک قدم پیچھے ہوئ ۔۔
” آخر تم ہو کون “
” کہا تو ہے تمہاری خیر خواہ ۔۔ ” اس کے جواب پر وہ نرس دروازی کے جانب بڑھی ۔۔ مگر اس تک پہنچنے سے پہلے ہی اس لیڈی نے اسکا بازو پکڑا ور اسے دوبارہ دوسری جانب دھکیلا ۔۔
” کیا کر رہی ہو تم ۔۔ جانے دو مجھے “
” تب تک تو بلکل نہیں جب تک میرا کام نہیں ہوجاتا ” ببل کا ایک غبارہ بنا کر پھاڑا ۔۔
” کونسا کام ؟ “
” ہاں ۔۔ یہ کیا نا تم نے کا م کا سوال ۔۔ ” وہ اب دوبارہ اسکی جانب بڑھی۔۔
” چلو پھر میں ٹو دا پوائینٹ بات کرتی ہوں۔۔ تین مہینے پہلے یہاں ایک قیدی کو لایا گیا تھا جسے شاید ہارٹ اٹیک ہوا تھا ۔۔ کیا نام تھا اس کا ” تھوڑی پر انگلی رکھتے ہوئے یاد کرنے کی کوشش کی ۔۔
” ہاں ۔۔۔ یاد آیا ” چٹکی بجا کر کہا ۔۔
” شہزاد شاہ ۔۔ سنا ہے کہ اس کے یہاں آنے کے بعد ایک میجگ ہوا اور وہ غائب ہوگیا ” دونوں ہاتھ کو ہوا لہراتے ہوئے اس نے ڈرامائ انداز میں کہا ۔۔
” نا تو وہ یہاں سے باہر گیا ۔۔ اور نا ہی وہ یہاں ملا ۔۔ ویسے کیا کمال ہوا ہے نا ؟ ” کسی بچے کی طرح ایکسائیٹڈ ہوکر اس نے پوچھا ۔۔
” کیا کہنا چاہتی ہو تم ؟ ” وہ نرس اب بھی کنفیوز تھی ۔۔
” ارے کچھ نہیں ۔۔ میں بس وہ ٹرک جاننا چاہتی ہوں ۔۔ آخر ایسا کیاجادو ہوا کہ ایک قیدی ہسپتال سے نکلے بنا فرار ہوگیا ۔۔ ضرو ر اس کے پیچھے کوئ راز ہے ” رازدرانہ انداز میں سرگوشی کی ۔۔
” مم ۔۔ مجھے اس بارے میں کچھ نہیں معلوم “
” آفکورس تمہیں کچھ نہیں معلوم ۔۔۔ لیکن تم معلوم کروگی ۔۔ وہ بھی ۔۔ کل صبح تک ۔۔ ” ایک بار پھر ببل کا غبارہ بنا کر پھاڑا ۔۔
” میں ایسا کچھ نہیں کرونگی ۔۔ یہ میری ڈیوٹی کے خلا ف ہے ۔۔ میں ابھی سیکیورٹی کو بلاتی ہوں ” وہ دوبارہ دروازے کے جانب بڑھی۔۔
” شوق سے بلاؤ ۔۔۔ آخر انہیں بھی تومعلوم ہو کہ انکی یہ قابل نرس جالی سرٹیفیکیٹس لے کر یہاں آئ ہیں ” اور اب اسکے قدم رک گئے ۔۔ اس نے پلٹ کر حیرانی سے سامنے کھڑی لیڈی کی جانب دیکھا ۔۔
” ارے ۔۔ اتنا حیران مت ہو ۔۔ میں نے یہ بات ابھی کسی کو بھی نہیں بتائ ” اس کے کانوں کے پاس سرگوشی کرتے ہوئے ایک آنکھ دبا ئ ۔۔
” اور میرا ایسا کوئ ارادہ بھی نہیں ہے ۔۔ میں تو بس اس ہسپتال میں ہونے والے جادو کا سیکریٹ جاننا چاہتی ہوں ۔۔ تم مجھے سیکرٹ بتا دو ۔۔ اور میں یہ بات ہمیشہ کے لئے بھول جاؤنگی ۔۔۔ ڈیل اچھی ہےنا ” ایکسائیٹڈہوکر پوچھا ۔۔
” اوک ” نرس نے سر جھکا کر کہا ۔۔ جس پر اسکے ہونٹوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ آئ ۔۔
” گڈ گرل ” اسکے کال تھپتھاتی ہوئ اب وہ دروازے کی جانب بڑھی ۔۔
” اور ہاں ۔۔ ” اسے پھر سے کچھ یاد آیا ۔۔
” کسی سے میری تعریف مت کرنا پلیز ۔۔ کیونکہ مجھے بلکل اچھا نہیں لگتا کہ کوئ میرے بیک پر میرے بارے میں بات کرے اور اگر کوئ ایسا کرتا ہے ۔۔ ” وہ دوبارہ اسکے کان کی جانب جھکی ۔۔
” تو وہ سوشل میڈیا اور ٹی۔وی پر مشہور ہوجاتا ہے ۔۔ ” اور اسی کے ساتھ وہ اسے وہی چھوڑ کر روم سے باہر نکلی ۔۔
تیزی سے لفٹ میں آکر گراؤنڈ فلور کا بٹن پش کیا ۔۔ لفٹ کا دروازہ بند ہوتے ہی موبائل نکالا اور ایک کال ملائ ۔۔
” کیسا تھا ؟” مسکرا کر پوچھا ۔۔
” ہمیشہ کی طرح آؤٹ کلاس ” اور ہسپتال سے کچھ دور کھڑی گاڑی میں بیٹھے مصطفی نے لیپ ٹاپ کی جانب دیکھ کر کہا ۔۔ جہاں لفٹ پرکھلنے اور اسکے ہسپتال سے باہر نکلنے کا منظر چل رہا تھا ۔۔
” مگر یہ وگ مجھے کچھ خاص پسند نہیں آئ ” اس نے اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتے کہا ۔۔
” او ر مجھے تمہاری ببل ۔۔ ” اسے دوبارہ ببل کا غبارہ بناتے دیکھ کر مصطفی نے کہا ۔۔ جس پر ایک بارپھر اسکا قہقہہ بلند ہوا ۔۔
٭٭٭٭٭**********************************
” یہ تمام جیلئرز کی انفارمیشن ہے ۔۔۔ ان میں سے تین ایسے ہیں جو شہزاد شاہ کے ساتھ ہوا کرتے تھے ۔۔ جبکہ یہ تمام ڈیوٹی آفیسرز کی لسٹ ہے ۔۔ صفائ کرنے والے سے لے کر ہر ایک بندے کی ڈیٹیل اس میں موجود ہے ۔۔ باقی یہ کیس جس کا تھا اس آفیسر کو ماسٹر پہلے ہی سبق سکھا چکے ہیں ” واجد نے دو فاٴلز اسکی جانب بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔
” اوک ۔۔۔ مجھے ان تین جیلئیرز کے ماضی سے لے کر انکی فیملی کے حال تک کی ساری ریپورٹ چاہئے مصطفی ” اس نے ایک فائل مصطفی کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔
” اوک ۔۔ میں آج رات ہی یہ کام ختم کر تا ہوں ” فاٴل لے کر لیپ ٹاپ کے اوپر رکھی ۔۔
” راتوں کو جاگنے کی ضرور نہیں ہے مصطفی ۔۔ تمہیں آرام پر بھی دھیان دینا چاہئے ” اسے غور سے دیکھتے ہوئے عنایہ نے پریشانی سے کہا ۔۔
” ٹھیک کہہ رہیں ہیں میم ۔۔ اپنی حالت دیکھو ۔۔ ایک مہینے میں کیا سے کیا بن گئے ہو تم ” واجد کی بات بھی سچ ہی تھی ۔۔ نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے آنکھوں کے نیچے ہلکے واضح تھے ۔۔
” آرام اب مجھے مایا کے قاتل کو پکڑنے کے بعد ہی ملے گا ۔۔ اور اس بار شہزاد شاہ کو سزا میں خود اپنے ہاتھوں سے دونگا “
” مجھے نہیں لگتا کہ یہ سب شہزاد شاہ نے کیا ہے ” عنایہ کی بات پر ماسٹر اور امل نے اسکی جانب چونک کر دیکھا ۔۔
” کیا مطلب ؟ ” سوال امل کی جانب سے ہوا ۔۔
” میں نے شہزاد شاہ کی میڈیکل فائلز دیکھیں ہیں ۔۔ وہ واقعی بہت عرصے سے بیمار تھا ۔۔ ڈاکٹر کے مطابق اس دن اسے اچانک ہی شدید قسم کا ہارٹ اٹیک ہوا ۔۔ جس سے وہ بچ تو گیا تھا مگر ہوش میں نہیں آیا تھا ۔۔۔ اور پھر بس دو گھنٹے بعد جب ڈاکٹر دوبارہ اس روم میں گئے تو وہ وہاں نہیں تھا ۔۔۔ جبکہ روم کے باہر پولیس کا پہرا موجود تھا ۔۔ اور سوائے پولیس آفیسرز کے کوئ بھی اندر نہیں گیا ۔۔ پھر اسکا اس حالت میں روم سے غائب ہوجاتا کچھ عجیب ہے ” عنایہ کی بات پر ماسٹر کے ماتھے پر سوچ کی لکیریں واضح ہوئیں ۔۔
” تمہارے کہنے کا مطلب ہے کہ جب وہ وہاں سے فرار ہوا ۔۔ تب وہ ہوش میں نہیں تھا ؟ ” مصطفی نے حیرانی سے پوچھا ۔۔
” میڈیکل رپورٹ کے مطابق تو کچھ ایسا ہی ہے ۔۔ جس کنڈیشن میں وہ تھا ۔۔ وہ اتنی جلدی ہوش میں نہیں آسکتا تھا ۔۔اور جہاں تک میرا خیال ہے ۔۔ اگر وہ ہوش میں نہیں تھا تو ۔۔۔۔ “
” تو یہ کڈنیپنگ ہوئ ۔۔۔ ” اور ماسٹر نے اسکی بات مکمل کر کے سب کو ہی حیران کر دیا ۔۔
دور ایک ویران جگہ پر موجود یہ پرانی تعمیراتی فیکٹری ۔۔ جو جانے کام رک جانے کی وجہ سے کتنے ہی عرصے سے کھنڈر کا نظارہ پیش کر رہی ہے ۔۔ اس کے اندر آؤ تو چاروں جانب اندھیرا ۔۔۔ کچھ بورے ۔۔ کچرہ ۔۔ لکڑیاں ۔۔ اور چوہے گومتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔۔ کسی انسا ن کا یہاں ہونا ناممکن ہی ہوسکتا ہے ۔۔ ظاہر ہے ۔۔ اب ایسی جگہ پر کوئ انسان تو رہ نہیں سکتا ۔۔ مگر ۔۔۔ چاروں جانب موجود خاموشی کو کسی کے قدموں کی آواز نے توڑا ۔۔۔ اب اگر اس آواز کی جانب آؤ تو دو پاؤں بلیک بوٹ پہنے ان کچی سیڑھیوں سے اوپر جارہے ہیں ۔۔ رات کے اس وقت کسی انسان کا یہاں کیا کام ہوسکتا ہے ؟ اگر اس سوال کا معلوم کر نے کے لئے ا ن قدموں کا پیچھا کی جائے تو یہ آخری فلور پر آکر دائیں جانب مڑے ۔۔۔ یہ جگہ کچھ صاف نظر آرہی ہے ۔۔ چند لکڑیوں کے علاوہ یہاں اور کوئ گند نہیں ہے ۔۔۔
وہ قدم اب ایک ٹوٹے پرانے دروازے کے سامنے رکے ۔۔ ہاتھ بڑھاکر دروازے پر ناک کیا ۔۔ خاموشی میں ایک اور آواز گونجی ۔۔
اب کسی اور کے قدموں کی آواز کمرے کے اندر سے آئ اور دروزہ کھولا گیا ۔۔ وہ قدم اب اس کمرے کے اندر داخل ہوئے ۔۔
اب اگر اس کمرے کی جانب دیکھا جائے تو یہ اس گھنڈر کا حصہ کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔ کمرہ بے حد صاف ستھرا ۔۔ درمیان میں ایک چھوٹا بیڈ جس پر ایک شخص ہوش سے بیگانہ لیٹا ہے ۔۔ جس کے دائیں ہاتھ پر ایک ڈرپ لگی ہے ۔۔ پاس ہی دو کرسیاں رکھی ہیں ۔۔ اس کے علاوہ پنکھا ۔۔ لائٹ ۔۔ کھانے کی چھوٹی میز ۔۔ الماری ۔۔ اور اٹیچ واش روم ۔۔ ہر بنیادی ضرورت اس کمرے میں موجود ہے ۔۔
کمرے میں دروازہ کھولنے والے کے علاوہ ایک اور شخص بھی موجود ہے جو کہ بائیں جانب کھڑا ہے ۔۔
” کیا کنڈیشن ہے ؟ ” ایک آواز اس کمرے میں گونجی ۔۔
” بہت بہتر ہے ۔۔ ” مختصر جوا دیا گیا ۔۔
” دوبارہ ہوش میں آئے یہ ؟ ” ایک سوال ہوا ۔۔
” جی ۔۔ مگر انہوں نے آفر ماننے سے انکار کردیا ۔۔ وہ یہاں سے نکلنا چاہتے تھے اس لئے ہمیں انہیں دوبارہ بے ہوش کرنا پڑا ” اس جواب پر اس نے ایک گہری سانس خارج کی ۔۔
” سمجھ نہیں آرہا کہ ان پر اچھائ کا کونسا بھوت آگیا ہے ۔۔ مجھے لگا تھا کہ آزاد ہونے کے بعد شاید انکا فیصلہ بدل جائے مگر نہیں ۔۔ ” افسوس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔
” باس ۔۔ ہم انہیں زیادہ عرصے تک ایسے نہیں رکھ سکتے ۔۔ انکی باڈی زیادہ دوائ برداشت نہیں کرسکتی ” بائیں جانب کھڑے شخص نے پریشان کن انداز میں کہا ۔۔
” معلوم ہے ۔۔ اب اگر یہ اپنی ضد نہیں چھوڑ رہے تو ہمیں ہی کچھ کرنا ہوگا ۔۔ ” وہ اب اس بیڈ کے سامنے آکھڑا ہوا ۔۔
” کیا کرنا ہے باس ؟ ” کچھ دیر اسے خاموش پاکر اس شخص نے سوال کیا ۔۔
” انکے ہوش میں آنے سے پہلے انہیں کراچی پہنچا دو ۔۔ وہاں انہیں مزید بے ہوش رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔۔ ” فیصلہ کن انداز میں کہہ کر وہ قدم دوبارہ دروازے کے جانب پلٹے ۔۔
” اوک باس ” پیچھے موجود دونوں اشخاص نے ایک ساتھ حامی بھری ۔۔
” ایسا کیسے ہوسکتا ہے ۔۔ شہزاد شاہ کو کوئ کیوں کڈبیپ کرے گا ؟ ” واجد کی جانب سے کہا گیا ۔۔
” تمہیں اب بھی سمجھ نہیں آئ واجد ؟ ” عنایہ نے اسے آنکھیں دکھاتے کہا ۔۔ جس پر اس نے کاندھے اچکائے ۔۔
” سوچنے والی بات ہے ۔۔ ہمیں اتنی آسانی سے سب سے پہلے فرہاد کے خلاف ثبوت ملے ۔۔ اور فرہاد باہر آگیا کیونکہ ہم جانتے تھے کہ اس نے ایسا کچھ نہیں کیا ” عنایہ نے فرہاد کی جانب دیکھ کر کہا ۔۔ جو اسے غور سے سن رہا تھا ۔۔
” اور پھر ہمیں معلوم ہوا کہ شہزاد شاہ بھاگ گیا ۔۔ جس سے ہمارا شک سیدھا اسکی جانب چلا گیا ۔۔ ” ماسٹر نے کھڑے ہوکر کہنا شروع کیا ۔۔
” مایا کے آفس سے مصطفی کا لگائے ہوئے کیمرے کے بارے میں انہیں کیسے معلوم ہوا ؟ شہزاد شاہ تین مہینے پہلے بھاگا ۔۔ سوچنے والی بات ہے کہ اگر اس نے یہ قتل کرنا ہی تھا تو وہ پہلے بھاگا کیوں ؟ ” ماسٹر نے دونوں ہاتھ میز پر رکھتے ہوئے جھک کر کہا ۔۔
” ہاں ۔۔ شہزاد شاہ اتنا بے وقوف نہیں ہے کہ وہ بھاگ کر قتل کرے ۔۔۔ ایسے تو الزام صاف صاف اسی پر آئے گا ۔۔ “
” ایکزیکٹلی ” امل کی بات پر ماسٹر نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا ۔۔
” کوئ بھی کریمنل ۔۔ کرائم کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچتا ہے کہ وہ اپنا نام اس معاملے میں آنے سے کیسے روکے ۔۔ کیسے وہ خود کو صاف ستھرا ظاہر کرے ۔۔۔ جبکہ اس کیس میں شہزاد شاہ نے ایسا بلکل نہیں کیا ۔۔۔ اس نے پہلے جیل سے بھاگ کر ساری توجہ اپنی جانب لی ۔۔ اور پھر اچانک ایک قتل کر کے خود کو مجرم بنا ڈالا ۔۔ اب صرف اسے پکڑنا باقی رہ گیا ۔۔ اتنا آسان کیسے ہوسکتا ہے یہ سب ۔۔ جبکہ قتل اتنی چالاکی سے ہوا ؟ ” عنایہ کی بات اب سب ہی کی سمجھ میں آگئ تھی ۔۔
” تو اسکا مطلب یہ ہے کہ ۔۔۔۔ ” امل کی بات فرہاد نے کاٹی ۔۔
” کہ وہ بھاگا نہیں ۔۔ اسے کڈنیپ کیا گیا ۔۔ تاکہ اس قتل کا الزام اس پر ڈال سکیں ۔۔۔ “
” مگر ۔۔ اس سے کیس اور بھی الجھ گیا ہے ۔۔ ” عنایہ نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے گہری سانس لے کر کہا ۔۔
” کیونکہ ہم دوبارہ وہیں آکھڑے ہوئے ہیں جہاں سے شروع ہوئے تھے ۔۔ ” ماسٹر نے بات مکمل کر تے ہوئے اپنی کرسی سنبھالی ۔۔
” یعنی ہم اب بھی نہیں جانتے کہ یہ کس نے کیا ؟ ” فرہاد نے کہا ۔۔
” اہم یہ نہیں کہ یہ کس نے کیا ؟ اہم یہ ہے کہ یہ کیوں کیا گیا ؟ ہر کرائم کا ایک موٹیو ہوتا ہے ۔۔ لیکن اسکا موٹیو ہم اب تک جان نہیں پائے ۔” عنایہ نے الجھ کر کہا ۔۔
” اور شہزاد شاہ کے پاس کوئ موٹیو نہیں ہے ۔۔ سوائے فرہاد سے انتقام لینے کے ۔۔ مگر ایسا ہوتا تو وہ فرہاد کو جیل سے باہر نہیں نکلنے دیتا” مصطفی کی بات بھی ٹھیک تھی ۔۔
” اسکا ایک ہی مطلب ہے ” اور سب نے امل کی جانب دیکھا ۔۔
” ان سب کا موٹیو جو بھی ہے ۔۔ اب تک وہ انہیں ملا نہیں ہے ۔۔ ” اور امل کی بات پر وہ مزید الجھے ۔۔
” کیونکہ اگر ایسا ہوتا ۔۔ تو اب تک ہم جان چکے ہوتے کہ انکا موٹیو کیا ہے ؟ لیکن دیکھو ۔۔ ہم اب بھی وہیں ہیں جہاں قتل کے پہلے دن تھے ۔۔ کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا ۔۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ ۔۔۔ “
” ابھی تبدیلی آنی باقی ہے ۔۔۔ ابھی موٹیو ملنا باقی ہے ۔۔۔ ” اور امل کی بات ماسٹر نے مکمل کی ۔۔
” ابھی پلین باقی ہے “
اور اس پوائینٹ پر سب ہی لاجواب ہوگئے ۔۔ اپنی اپنی جگہ وہ سب ہی آنے والے وقت کے بارے میں سوچنے میں مصروف ہوچکے تھے۔۔
آنے والا وقت بھی ایک پہلی ہی ہوتا ہے جسے سالو کرنے ، جسے جاننے کی کوشش میں شاید ہر کوئ لگا ہوا ہے ۔۔
لیکن یہ آنے والا وقت ہے کیا ؟ یہ آج تک کوئ جان نہیں پایا۔۔
جانے گا بھی کیسے ؟
وقت بھی کبھی بتا کر آیا ہے کیا ؟
اچھا ہو یا برا ۔
یہ ایک سرپرائیز ہی ہوتا ہے ۔۔
دعا ہے کہ یہ سرپرائیز سب پر راس آجائے۔۔
٭٭٭٭٭٭٭
یہ تمام قیدیوں کے باہر ٹہلنے کا وقت تھا ۔۔ ایک گیلری نما جگہ ان کے لئے مخصوص کی گئ تھی جہاں یہ سب کچھ دیر کے لئے کھلنے آسمان تلے رہتے اور پھر واپس چلے جاتے ۔۔ ان میں سے کچھ خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ کر ماضی کو یاد کرنے میں وقت گزارتے ۔۔ کچھ آپس میں اچھے دوست بن کر باتیں کرتے نظر آتے ،تو کچھ یہاں بھی اپنا روب قائم کرنے کے لئے کسی نہ کسی سے لڑتے نظر آتے ۔۔ ایسے میں ایک ایک جانب دیکھو ۔۔ تو ایک قیدی جس کا رنگ سیاہ ، گھنگھرالے الجھے بال ، ایک کان میں بالی پہنے دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا ہے ۔۔ نظر آسمان کی جانب ہے ۔۔ وہاں موجود کئ قیدی اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہے ہیں ۔۔ آج سے پہلے تو وہ کبھی یہاں نظر نہیں آیا۔۔ انہیں میں ایک قیدی جسے یہ نیا قیدی کچھ جانا پہچانا محسوس ہورہا تھا ۔۔ اسے غور سے دیکھتا اسکی جانب آیا ۔۔ وہ جو کب سے آسمان کی جانب کسی گہری سوچ میں گم دیکھ رہا تھا ۔۔ اس قیدی کے اپنے سامنے آنے پر اسکی جانب دیکھا ۔۔ اور مسکرایا ۔۔
” تم ۔۔ تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟ ” وہ جیسے اس سیاہ فام کو پہچان کر دھیمی آواز میں بولا ۔۔
” تم سے ملنے آیا ہو ں ۔۔ خبر ہے تمہارے لئے “
” کیسی خبر ؟ سب ٹھیک تو ہے نا ؟ ” وہ دونوں سرگوشی میں گفتگو کرنے لگے جبکہ باقی تمام قیدی انہیں مشکوک نگاہوں سے دیکھتے رہے۔۔
” تمہارے بیٹے کا ریزلٹ بہت اچھا آیا ہے ۔۔ وہ اب اچھی یونیورسٹی میں جانا چاہتا ہے ۔۔ کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کرنے ” سیاہ فام کی بات پر وہ قیدی مسکرایا ۔۔ اور پھر ۔۔ اسکی مسکراہٹ اگلے ہی پل غائب ہوئ ۔۔
” لیکن کیا ہے نا ۔۔ اس یونیورسٹی کی فیس بہت زیادہ ہے اور تم جانتے ہو ۔۔ اتنے سالوں میں ویسے ہی ہم نے تمہارے بیٹے پر بہت پیسہ لگایا ہے ۔۔ اور اب وہ مزید لاکھوں روپے چاہتا ہے ” سیاہ فام نے مصنوعی پریشانی چہرے پر ظاہر کرتے کہا ۔۔
” تم اس کے بدلے کیا چاہتے ہو ؟ ” وہ قیدی جیسے اسکی بات سمجھ چکا تھا ۔۔
” کچھ خاص نہیں ۔۔ بس ” سیاہ فام شخص اب اسکی جانب جھکا ۔
” اس جیل کے کچھ راز جاننے ہیں تم سے ۔۔ ” سرگوشی کی ۔۔
” کیسے راز ؟ ” اور اسی کے ساتھ اس سیاہ فام کے ہونٹ مسکرائے ۔۔۔ جیت کی مسکراہٹ ۔۔
