Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2 NovelR50556 Last updated: 2 March 2026
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 01)Koi Sath Ho (Episode 02)Koi Sath Ho (Episode 03)Koi Sath Ho (Episode 04,05)Koi Sath Ho (Episode 06)Koi Sath Ho (Episode 07)Koi Sath Ho (Episode 08)Koi Sath Ho (Episode 09)Koi Sath Ho (Episode 10)Koi Sath Ho (Episode 11)Koi Sath Ho (Episode 12)Koi Sath Ho (Episode 13)Koi Sath Ho (Episode 14)Koi Sath Ho (Episode 15)Koi Sath Ho (Episode 16)Koi Sath Ho (Episode 17)Koi Sath Ho (Episode 18)Koi Sath Ho (Episode 19)Koi Sath Ho (Last Episode)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2
سردیوں کی اس اندھیری رات میں جہاں سب اپنے اپنے کمروں میں نیند کی آغوش میں گم ہیں ۔ وہیں آبادی کے ہی بیچ ایک سنسان سڑک کے کنارےکھڑی گاڑ ی جو کہ دو گھنٹوں سے یہاں موجود ہے میں آؤ تو اسکی پچھلی سیٹ میں ایک شخص بلو جینس اور شرٹ پر گرے اپر پہنے ، صاف رنگت ، آنکھوں میں گلاسس لگائے ، گود میں رکھے لیپ ٹاپ پر تیزی سے انگلیاں چلا رہا ہے جبکہ کان میں لگے ائیر فون پر مسلسل ایک بلو بتی جل بجھ رہی ہے ۔
اپنی مکمل توجہ سے لیپ ٹاپ سکرین کو دیکھتے کچھ دیر بعد اسکی انگلیاں تھمیں۔ تھوڑا جھک کر غور سے سکرین کو دیکھا اور پھر ۔۔
" مل گیا ! “ وہ اچانک ہی ایکسائیڈ ہو کر چیخا ۔۔ جسکی وجہ سے دوسری جانب موجود کچھ لوگوں کے کان کے پردے ضائع ہوتے بچے ۔۔
” آرام سے مصطفی “ دو لوگوں کی ایک ساتھ آواز ائیر فون کے ذریعے اسکے کونوں سے ٹکرائی ۔۔
"سوری سوری ۔۔ میں بس ایکسائیڈ ہو گیا تھا ۔۔ آخر میں نے اسے ٹریس کر ہی لیا" چیخ کر کہتے وہ ایک بار پھر کی۔ بورڈ پر انگلیاں چلانے لگا ۔۔
" کام کی بات بتاؤ ۔۔ کہاں ہے دو ؟ " ایک سنجیدہ آواز آئی ۔۔
” وہ اپنے آفس سے کچھ دور ایک گاڑی میں ہے ۔ اس نے اب رائیٹ ٹرن لیا ہے۔۔ اور اسے وہاں سے پکڑنا آپ سب کے بائیں ہاتھ کا کام ہے ۔۔ ہے نا ؟ " ٹیک لگاتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا جبکہ دوسری جانب چار لوگوں کا یہ گروپ اپنی اپنی گاڑی کو رائیٹ ٹرن کی جانب موڑ رہا تھا ۔۔
"بلکل ۔۔ ہمارے ہاتھ سے آج تک کوئی بچا کر نہیں گیا “ انہیں میں سے ایک نے مسکرا کر کہا۔
"مجھے امید ہے کہ ایسا ہی ہو کیونکہ ماسٹر اور میرے علاوہ کسی نے آج تک ایسا ثابت نہیں کیا “ چیلینجنگ انداز میں کہتا وہ ایک بار پھر سکرین کی جانب متوجہ ہوا ۔۔
جو اسے کسی کی موومنٹ کا سگنل دے رہی تھی ۔۔
” تو آج ہم کر لیتے ہیں “ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص نے گاڑی کی سپیٹ بڑھائی ۔ جبکہ تیسری جانب موجود اند ھیرے کمرے میں بیٹھا یہ شخص ۔۔ جو کہ ائیر فون کے ذریعے انکی باتیں سن رہا تھا ۔۔ دھیما سا مسکرایا جس سے بئیرڈ میں چھپے اسکے ہلکے سے ڈمپلز ظاہر ہوئے۔۔
” ایک منٹ ۔۔۔ رک جاؤ “ ایک بار پھر مصطفی کی آواز نے سب کے کانوں کو تکلیف پہنچائ۔
” آرام سے مصطفی ۔۔ اب کیا ہوا ؟ “ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص نےگاڑی سلو کرتے ہوئے کہا ۔۔
” اسکی گاڑی رک گئی ہے ۔۔ “ اس نے سکرین کی جانب دیکھ کر کہا جہاں سگنل رک چکا تھا ۔۔
"واٹ ! اسکی گاڑی رک گئی ہے اور تم ہمیں بھی روک رہے ہو ؟ پاگل ہو تم ۔۔ اتنا اچھا موقع ہے اسے پکڑنے کا “ اور اس شخص نے ایک بار پھر گاڑی کی سپیٹ تیز کی ۔۔
" یہ اچھا چانس نہیں ہو سکتا ۔۔ ایک مجرم ایسے خطرناک موقع پر کبھی گاڑی اتنے قریب نہیں روکتا ۔۔ یہ ضرور کوئی ٹریپ ہے ۔۔ رک جاؤ “ لیپ ٹاپ کے کی۔ بورڈ پر ایک بار پھر مصطفی نے اپنی انگلیاں چلاتےہوئے کہا ۔
"وہ اس گاڑی میں ہے مصطفی ۔۔ ہو سکتا ہے اسکی گاڑی خراب ہو گئی ہو ۔۔ ہم بس پہنچنے والے ہیں" اسی کے ساتھ اس شخص نے گاڑی تیز کی ۔
" لیکن میرے خیال ۔۔۔ "
" مل گئی گاڑی ۔۔ ہم جارہے ہیں “ اور مصطفی کی بات کو بیچ میں روکتے وہ چاروں پولیس آفیسرز اپنی گاڑی سے باہر نکلے۔۔۔ اب وہ آہستہ آہستہ سامنے کھڑی اس گاڑی کی جانب بڑھے۔۔
" پولیس ۔۔ گاڑی سے باہر نکلو " پسٹل کا رخ گاڑی کی جانب کر کے ایک نے کہا ۔۔ مگر کوئی بھی گاڑی سے نہ باہر آیا ، نہ کوئی حرکت ہوئی ۔۔
” گاڑی سے باہر نکلو ورنہ ہم فائیر کر دینگے “ ایک بار پھر وارننگ دی گئی اور پھر ۔۔ گاڑی کا دروازہ آہستہ سے کھلا اور ایک درمیانی عمر کا آدمی باہر آیا۔
" تم ! کون ہو تم ؟ اور باس کہاں ہے تمہارا ؟ “ ان میں سے ایک نے پوچھا ۔۔
" مجھے نہیں معلوم ۔۔ باس نے مجھے یہ گاڑی اپنے گھر لے جانے کا کہا تھا ۔۔ “ گھبراتے ہوئے اس نے کہا جبکہ اب ان آفیسرز کے چہرے کے تاثرات بدلے۔
” تو تمہارا باس اس گاڑی میں نہیں ہے ؟“ حیرانی سے پوچھا ۔۔
” نہیں ۔۔ آپ چیک کر لیں “ اور اس کے ساتھ ایک آفیسر نے آگے بڑھ کر گاڑی چیک کی ۔۔ " سر ۔۔ اندر کوئی نہیں ہے"
" تو ۔۔۔ “ اور وہ آفیسر تیزی سے اپنی گاڑی کی جانب بھاگا ۔۔
سیٹ پر رکھا ائیر فون ایک بار پھر اپنے کان سے لگایا ۔۔
" مصطفی ! مصطفی ! “ وہ اب اسے پکارنے لگا ۔۔ جبکہ اگلی جانب سے مصطفی کے بجائے ایک بہت سخت اور سنجیدہ آواز آئ۔
"ماسٹر اور اسکی ٹیم کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی ٹریپ ہونے والےلوگ ۔۔ ماسٹر کے ساتھ کام کرنے کے قابل نہیں “ اور اگلے ہی لمحے کنکشن ختم ہوگیا ۔
" ہیلو ۔۔ ماسٹر ۔۔ ماسٹر ۔۔ نو “ آفیسر نے اب پوری قوت سے ائیر فون پھینکا ۔۔ ماسٹر کے ساتھ کام کرنے کا چانس وہ کھو چکے تھے ۔۔
جبکہ یہاں سے بہت دور ۔۔ ایک فلیٹ کے اندھیرے کمرے میں بیٹھے ماسٹر نے اب ائیر فون کا بٹن پش کیا ۔۔
" مل گیا وہ ؟" سوال کیا ۔
"بس میں اس تک پہنچنے میں دس سیکنڈز دور ہوں “ لیپ ٹاپ پرتیزی سے ہاتھ چلاتے مصطفی نے جواب دیا ۔۔
" مل گیا ۔۔ وہ بس سٹیشن میں ہے ماسٹر ۔۔ اسکا مطلب ہے کہ۔۔۔۔ " مصطفی رک کر سیدھا ہوا ۔۔
" ہماری ملاقات کا وقت ہوا جاتا ہے “ اور اسی کے ساتھ ماسٹر کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری ۔۔ جبکہ مصطفی اب ایک بار پھرسکرین کی جانب متوجہ ہو چکا تھا ۔۔
