Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2 NovelR50556 Koi Sath Ho (Episode 02)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 02)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2
یہ تقریبا دو بجے کا وقت تھا جب پیزا ہٹ کے اندر ونڈو کے ساتھ رکھی میز پر وہ تینوں بیٹھے ویٹر کے پیزا سرو کرنے کا ویٹ کر رہے تھے ۔۔
” تو ہمیشہ کی طرح اس بار بھی میرے پیارے سے آحل نے پوزیشن لی ہے ۔۔
“بتائیں پھر آحل صاحب کیا گفٹ چاہئےآپکو ؟“ اس نے اپنے ساتھ کرسی میں بیٹھے اس آٹھ سال کے بچے کی جانب جھک کر کہا۔۔ بلو اینڈ وائیٹ کلر کے سکول یونیفارم میں ، چھوٹے گہرے براؤن بال ، صاف رنگت ، چہرے پر معصومیت ، ملکی براؤن آنکھیں اور کلائی میں پہنی چوٹی سے گھڑی کے ساتھ وہ اسے دیکھ کر مسکرایا ۔۔ اور اسکی مسکراہٹ نے اسکے چہرے کی معصومیت کو مزید پرکشش بنایا ۔۔
” مجھے لیپ ٹاپ چاہئے “ اور ایسی فرمائش صرف آحل ہی کر سکتاتھا ۔۔ آخر بیٹا کس کا تھا ؟
“مگر تم لیپ ٹاپ میں کیا کروگے ؟ “ امل نے ایک اور سوال کیا ۔۔
“میں ریسرچ کرونگا ۔۔ مجھے پاپا کی طرح ایکسپرٹ بننا ہے “ مسکرا کر کہتے وہ ان دونوں کو بھی مسکرانے پر مجبور کر چکا تھا ۔۔
“ڈن ۔۔ کل آپکو ایک پیارا سا لیپ ٹاپ مل جاۓ گا ۔۔ مگر ۔۔ آپکوایک پرامس کرنا ہو گا ؟ “ امل نے اسکی جانب ہاتھ بڑھایا ۔۔
“اسکی ضرورت نہیں ہے ۔۔ میرے پایا مجھے آرام سے پکڑ لینگے اس لئےمیں بھی اسکو مس یوز نہیں کرونگا “ اور یہ بھی سچ تھا کہ اس نے ذہانت بھی اپنے باپ ہی کی لی تھی ۔
“گڈ بوائے ۔۔ چلیں پھر پیزا کھاتے ہیں ۔۔ اور اسکے بعد ہم تینوںگھومنے جائنگے “ مایا کے کہنے پر وہ تینوں اب پیزا کی جانب متوجہ ہو چکے تھے۔
جبکہ امل کے موبائل کی میسیج ٹیون نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا ۔۔
“میں آج رات آرہا ہوں “
“جیسے مجھے پرواہ ہے ۔” کاندھے اچکا کر کہتے اس نے ریپلائی دیا۔ جس پردوسری جانب موجود ماسٹر کا غصہ اب مزید بڑھا ۔۔
” جسٹ ویٹ اینڈ واچ “ جیب میں موبائل رکھتے وہ گاڑی میں بیٹھا ۔
“ائیر پورٹ چلو ۔۔ ” اور اسی کے ساتھ گاڑی ائیر پورٹ کی جانب متوجہ ہوئ۔
٭٭٭٭
پورا دن گھومنے میں لگا ۔ آحل کے لئے شاپنگ ، پھر پارک اور ایک اچھے سے ڈنر کے بعد امل نے ان دونوں کو گھر ڈراپ کیا ۔۔۔ امل اور وہ ایک دوسرے سے بہت اٹیچ تھے ۔ اور ہونا بھی تھا ۔ کیونکہ مصطفی اور مایا سے زیادہ وقت ہمیشہ اس نے ہی اسکے ساتھ گزارا تھا ۔۔ مصطفی ماسٹر کے ساتھ اپنے کیسز میں ۔۔ اور مایا اپنے ہسپتال میں مصروف رہتی تھی ۔۔ ایسے میں امل ہی اسکے ساتھ زیادہ وقت گزارتی تھی اور اس طرح تو گزرے تھے ۔۔ زندگی کے یہ آٹھ سال ۔۔ بلکہ یوں کہیں کہ آٹھ پر سکون سال۔۔
وہ گھر آئی تو رات کے نو بج رہے تھے ۔۔ اور اسے پورا یقین تھا نائل ہمیشہ کی طرح بارہ بجے ہی گھر آئے گا ۔
اس لئے سیدھا کچن میں جاکر اس نے کھانےکی تیاری شروع کی ۔۔۔ ویسے کھانا تو وہ ریسٹورانٹ سے بھی لے کر آئی تھی مگر وہ کچھ نا کچھ اسکے لئے پکانا چاہتی تھی ۔۔ آخر وہ اتنے دنوں بعد گھر آرہا تھا ۔۔ اتنا تو کر ہی سکتی ہے وہ اس کے لئے ۔
کھانے سے فارغ ہوتے اسے ساڑھے دس بج گئے ۔ جب وہ اپنے روم میں آئی ۔۔۔ آج کا دن واقعی بہت تھکا دینے والا تھا ۔۔ اس لئے اب بس وہ سوناچاہتی تھی ۔۔۔ مگر اسے جاگنا تھا ۔۔ نائل نے جو آنا ہے ۔۔
ایسی سوچ کے ساتھ مسکراتے اس نے اپنا موبائل نکالا۔۔ اور پھر ایک کال ملائی ۔۔
” بولو ۔۔ مصطفی کی ناراض آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی ۔۔ جس پر اسکی مسکر اہٹ گہری ہوئی ۔۔
“واپس آرہے ہو تو اپنے بیٹے کے لئے گفٹ لیتے آیا ۔۔ اس نے اس بار بھی پوزیشن لی ہے۔
” تھینکس فار ور انفارمیشن۔۔ مگر افسوس کہ اب میں یہ خوشی اپنے بیٹے اور مایا کے ساتھ سیلیبریٹ نہیں کرسکتا ” مصطفی کی آواز بتا رہی تھی کہ وہ واقعی بہت ناراض ہے۔
” کیوں ؟ ” وجہ پوچھی گئ ۔
“کیونکہ تمہاری ایک شرارت کی وجہ سے ماسٹر نے مجھے یہاں روک دیاہے ۔۔ “ اور اسی کے ساتھ مصطفی نے کال کٹ کی ۔۔ جبکہ اب ۔۔ امل کو غصہ آنے لگا ۔۔
“یہ شخص کبھی نہیں سدھرے گا۔۔ حد ہو گئی ہے ۔۔ “ بڑ بڑاتے ہوئے اس نے موبائل بیڈ پر پھینکا ۔۔ اور پھر ۔۔ اچانک ایک خیال آیا ۔۔
“تمہیں تو میں اب سیدھا کرتی ہوں نائل شاہ “ اور اس کے ساتھ ۔۔
امل ایک بار پھر تیار تھی ۔۔۔ نائل شاہ کو سیدھا کرنے کے مشن میں ۔۔
٭٭٭
وہ رات ایک بجے گھر آیا ۔۔ تو اسے کوئی بھی نہ دکھا ۔۔ ٹی۔ وی لا ؤ نچ میں آکر وہ رکا ۔
“امل ؟ “ اس نے امل کو پکارا ۔ ۔ مگر شاید وہ یہاں موجود نہیں تھی ۔
“کہاں گئ؟“ اب اسکا رخ کچن کی جانب تھا ۔۔ جہاں ڈائینگ ٹیبل پرکھانا لگا تھا ۔۔ اور ساتھ ہی ایک چٹ بھی تھی ۔۔ اس نے آگے بڑھ کرچٹ اٹھائی ۔
“میں بہت تھکی ہوئی ہوں ۔۔ کھانا لگا دیا ہے کھا لیا ” اور اسے پڑھتے ہی اسکا غصہ آسمان کو چھونے لگا ۔۔ چٹ وہیں چھینک کر وہ فوراً اپنے روم کی جانب آیا ۔۔۔
“امل ۔۔ امل ۔۔ اٹھو ” اسے بیڈ پر سوتے دیکھ کر اس نے اور اونچی آوازمیں کہا ۔۔
“امل ۔۔۔ اٹھو “ اسے اسی طرح سوتے دیکھ کر اس نے کمبل کھینچا ۔۔ جس پر امل فوراً سیدھی ہوئی ۔۔
“یہ کیا طریقہ ہے “
” کیا طریقہ ہے ؟ تمہیں معلوم تھا کہ میں آج آرہا ہوں “ اس کے سر پر کھڑے اس نے کہا ۔۔
” ہاں تو ؟ “ اور ہماری انجان ،معصوم امل ۔۔ اسے کیا پتہ کیاہوا ؟
“کیا کوئی ایسا دن ہو گا جب میں اتنے دنوں بعد گھر آؤں اور تم ایک اچھی اور روایتی بیوی کی طرح تیار ہو کر کھانے میں میرا انتظار کر رہی ہو ؟ “ اس نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے کہا ۔۔
“اور کیا کبھی کوئی ایسا دن ہو گا کہ جب تم اتنے دن بعد گھر آؤ اور تمہارے ہاتھ میں ایک اچھے ، سمجھدار اور روایتی ہسبنڈ کی طرح میرے لئے کوئی تحفہ ، گجرے یا چلو ایک پھول ہی ہو ؟ “ جواب بھی اسی کے انداز میں آیا ۔
” اوہ کم آن امل ! تم جانتی ہو یہ دیسی ٹائپ کا چیپ رو مینس مجھ سے نہیں ہوتا ۔۔ میں ماسٹر ہوں ۔۔ کوئی مجنو نہیں”
” اوہ کم آن نائل ! تم جانتے ہو یہ دیسی ٹائپ کی روایتی بیویوں کی طرح اپنے شوہروں کے لئے تیار ہونے والے پو نچلے مجھ سے نہیں ہوتے ۔۔ میں سلیپنگ بیوٹی ہوں ۔۔ کوئی لیلہ نہیں “ اور وہ امل ہی کیا جو ٹکاسہ جواب نہ دے۔
” شوہروں ؟ “ اسے جیسے صدمہ لگا ۔۔ یہ کتنے شوہر ہیں آخر تمہارے ؟ ” وہ ایک بار پھر تیش میں آیا ۔۔
” اس وقت مجھے نیند آرہی ہے بہت ۔۔۔ صبح کیلکولیٹ کر کے بتا دونگی “ اور مقابل اتنا ہی پرسکون ہو کر ایک بار پھر کمبل اوڑھ چکا تھا ۔۔
” تم اب حد سے بڑھ رہی ہو ” اس نے ایک بار پھر کمبل کھینچا۔۔
“اور تم بھی ۔۔ ایسے کیسے تم نے مصطفی کو روک دیا ۔۔ ہاں ؟” اس نے اب اصل وجہ بیان کی ۔۔
” مصطفی ! مطلب اس وقت بھی تمہیں مصطفی کا خیال آرہا ہے ؟ “ اور اسی کے ساتھ انکا کمرہ ایک بار پھر میدان جنگ بن چکا تھا ۔۔
٭٭٭٭٭
وہ اس وقت ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھا امل کی جانب دیکھ رہا تھا جو کہ خاموشی سے ناشتہ لگا کر اس کے دائیں جانب رکھی کرسی پر بیٹھی ہے ۔۔ کل رات مصطفی کے نام پر شروع ہونے والی لڑائی تب ختم ہوئی جب امل نے اسے آحل کے ریزلٹ کا بتایا ۔۔اور اب اسے واقعی بہت افسوس ہوا ۔ مگر وہ بھی کیا کرتا ؟ امل اسے جب جب اگنور کرتی تھی تب تب اسے مصطفی زہر لگتا تھا ۔۔ کیونکہ وہ اسے اگنور کر کے ہمیشہ مصطفی کو وقت دیتی تھی ۔۔ اب دیکھا جائےتو یہ بھی زیادتی ہے نا ؟ شادی کے آٹھ سال بعد بھی وہ ویسی کی ویسی ہی تھی ۔۔ اور ویسا ہی وہ بھی تھا ۔۔ دونوں کو دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ آٹھ سال گزرے ہیں ؟ آج بھی ایسا لگتا تھا کہ جیسے کل ہی کی بات ہو جب وہ اس گھر میں آئےتھے ۔۔ اپنی زندگی کا آغاز کرنے ۔۔ اس گھر میں جہاں وہ پہلی بار ملے تھے ۔۔ اس گھر میں جہاں ایک در دناک ماضی اور ایک خوشگوار حال موجود ہے ۔۔ یہ گھر ۔۔ جو کئ کہانیاں سمیٹے ہوئےہے ۔۔ امل اور نائل شاہ کا گھر ۔
” آج شام کو تیار رہنا ۔۔ ” اس نے کہا جبکہ امل کی جانب سے جواب میں خاموشی ہی ملی ۔۔
” کچھ کہا ہے میں نے “ اس نے ایک بار پھر اسے متوجہ کرنے کی ناکام کوشش کی ۔
“امل ! “ اس بار آواز میں سختی تھی ۔۔
” اوک “ مختصر جواب کے ساتھ وہ اپنے ناشتے کی جانب متوجہ ہوئی ۔۔
“پوچھو گی نہیں کہ کیوں تیار ہونا ہے ؟ “
” کیوں ہونا ہے ؟ “ وہ اس وقت بحث کرنے کے موڈ میں بلکل نہیں تھی ۔۔
“کیونکہ ہم سب آج ڈنر پر جارہے ہیں ۔۔ “ سنجیدگی سے جواب دیا ۔۔
“اوک “ ایک بار پھر مختصر جواب آیا جس پر اب اسے غصہ آنے لگا تھا ۔۔
” یہ پوچھو کہ کون سب ؟”
“کیا مسئلہ ہے ماسٹر ؟ اگر تمہیں بتانا ہی ہے تو ایک ہی بار بتا دو میں کچھ نہیں پوچھنے والی ۔۔ “ اور وہ بھی کب تک کنٹرول کر سکتی تھی ۔۔ آخر بولنا ہی پڑا۔
” مایا، آحل اور مصطفی کے ساتھ “ کرسی سے ٹیک لگا کر اس نے کہا ۔۔ جبکہ امل نے چونک کر اسے دیکھا ۔۔
” تمہارا مطلب ہے ؟ “ وہ اس کی جانب جھکی ۔۔
” اب میں اتنا بھی ظالم نہیں ” مسکرا کر کہتا وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا ۔۔
” مان لیا ۔۔ تھینک یو۔۔۔۔ آج اسی خوشی میں، میں تمہاری پسند کا رنگ پہنو گی “ اچھل کر کہتی وہ اپنے کمرے کی جانب بھاگی جبکہ ماسٹر نے اب کسی کو کال ملائی ۔۔
“شام سے پہلے اگر تم یہاں نہ پہنچ سکے تو اگلی فلائیٹ سے واپس چلے جانا “ سنجیدگی سے کہہ کر اس نے کال کٹ کی جبکہ دوسری جانب مصطفی اب بھاگتا ہوا ائیر پورٹ کے اندر آیا ۔۔
” ایک تو اس انسان نے مجھے چابی کی گڑیا بنا رکھا ہے “ بڑبڑاتے ہوئے اب وہ اندر کی جانب بڑھا ۔۔۔ آج صبح ہی ماسٹر نے اسے کال کر کے آنے کا کہا ۔۔ اور اسے یقین تھا کہ یہ مہربانی بھی امل ہی کی وجہ سے کی گئی ہے ۔۔ جس کے لئے وہ امل کا شکر گزار تو ہرگز نہیں تھا ۔۔
” چلیں ؟ “ کچھ دیر بعد امل نے اسکے سامنے کھڑے ہو کر کہا ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ پنک کلر کی ٹاپ اور بلیک ڈراؤز کے ساتھ ، گلے میں بلیک دوپٹہ ، بالوں کی پونی ٹیل بنائے ۔۔ میک اپ سے بے نیاز چہرے کے ساتھ وہ ہاتھ میں بیگ پکڑے اسکے سامنے کھڑی تھی ۔۔
” میرا خیال ہے کہ میں نے شام کو جانے کا کہا تھا ” تعریف کرنا تو جیسے ماسٹر کی فطرت میں ہی نہ تھا ۔
” جانتی ہوں لیکن اس سے پہلے ہم نے کہیں اور جانا ہے “
” کہاں ؟ ” الجھ کر ہوچھا ۔
” شاپنگ پر “
” شاپنگ ؟ ” اسے حیرت ہوئ ۔ یہ شاپنگ کہا سے آگئ؟
“آکورس ۔۔ کیا تم نے آحل کے لئے کوئی گفٹ نہیں لینا ؟ “ ماسٹر نے سمجھ کر سر ہلایا ۔۔
” ہاں ۔۔ چلو پھر “ وہ دونوں اب اپنی گاڑی کی جانب آئے ۔
” لیکن لینا کیا ہے ؟ ” ماسٹر کی جانب سے سوال ہوا ۔
” لیپ ٹاپ “
” لیپ ٹاپ ؟ “
“ہاں ۔۔ آحل نے لیپ ٹاپ کی فرمائش کی ہے “
” کبھی نہیں “ صاف انکار کرتے ہوئے اس نے گاڑی آگے بڑھائی ۔۔
کیوں ؟” “
” وہ آٹھ سال کا بچہ ہے امل ۔۔ اسکے ہاتھ میں لیپ ٹاپ دینے کا کوئی جواز نہیں ہے “ بات تو اسکی بھی ٹھیک تھی ۔۔
” ہاں مگر وہ عام بچوں کی طرح نہیں ہے ۔۔ “ امل کے جواب پر اس نے الجھ کر اسے دیکھا ۔۔
“کیا مطلب ؟”
“مطلب یہ کہ وہ عام بچوں کی طرح نہیں ہے ۔۔ اپنا سارا وقت وہ پڑھائی یا پھر کسی نا کسی چیزپر غور کرنے میں لگاتا ہے ۔۔ کوئی کھلونہ بھی دو تو وہ اس سے کھیلنے کے بجائے اسکے ایک ایک حصے کو جانچنے اور اسکا ایک ایک فنکشن کیسے اور کیوں بنا ؟ اس پر اپنی ریسرچ شروع کر دیتا ہے ۔۔ کیونکہ وہ عام ماں باپ کی اولاد نہیں ہے ۔۔۔ اسکا دماغ بہت تیز ہے “ امل کی بات پر ماسٹر نے سر ہلایا ۔۔
” اس بات کی مجھے خوشی ہے مگر اسکا لیپ ٹاپ دینے سے کوئی تعلق نہیں “ وہ اب بھی اپنی بات پر قائم تھا ۔۔
“تعلق ہے ۔۔ وہ لیپ ٹاپ ریسرچ کے لئے یوز کرے گا ۔ اور کیونکہ وہ جانتا ہے مصطفی سے کچھ نہیں چھپ سکتا ۔۔ تو بس اسی لئے وہ اسے کبھی بھی مس یوز نہیں کرے گا “ اب بات تو امل کی بھی ٹھیک ہی لگ رہی تھی ۔۔
” اوک ۔۔ “ مختصر جواب کے ساتھ اس نے گاڑی ایک جانب گمائی ۔۔ جبکہ امل نے مسکرا کر کھڑ کی سے باہر دیکھا ۔۔ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا تھا ۔۔ وہ اپنی بات کوئی نا کوئی دلیل دے کر منوا ہی لیتی تھی ۔۔ اور وہ بھی ہمیشہ مان ہی جاتا تھا پھر چاہے دلیل مضبوط ہو یا نہیں ۔۔
یہ شام کے سات بجے کا وقت تھا جب وہ دونوں تیار ہو کر لاؤنچ میں آئے۔۔
” پاپا نہیں آئینگے کیا ؟ “ آحل نے اس سے پوچھا ۔۔ اور یہ وہ سوال تھا جو اکثر ایسے اوقات میں وہ اس سے کرتا تھا۔
” پاپا بزی ہیں نا آحل ” اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے کہا ۔
” میر ے بال ؟ ” اپنے بال خراب ہونے پر اسے غصہ آیا ۔۔ اپنے بالوں کو لے کر وہ ویسے ہی بہت سنسیٹیو تھا ۔
“اچھا سوری ۔۔ میں ٹھیک کر دیتی ہوں “ کہتے ساتھ ہی وہ جھک کر اسکے بال ٹھیک ہی کرنے لگی تھی کہ ایک آواز نے اسے روکا ۔۔
” خبر دار ۔۔ میں اپنے آحل کے بال خود بناؤ گا “ آحل کو اپنی جانب کھینچتے ہوۓ مصطفی نے کہا جبکہ مایا حیران ہو کر اپنی جگہ رکی اسے دیکھنے لگی ۔۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ وہ وقت پر آگیا تھا ۔۔
” آج آپ جلدی کیسے آگئے ؟ “ مصطفی کو سنجیدگی سے دیکھتے پوچھا ۔۔
” آفکورس میرے بیٹے کے لئے “ مسکرا کر کہتے مصطفی نے اسکے بال ٹھیک کئے جبکہ آحل نے نفی میں سر ہلایا ۔۔
” آپ مجھے مکھن نہیں لگا سکتے ۔۔ ضرور ماسٹر نے آپکو کوئی دھمکی دی ہوگی “ اور وہ کیسے بھول گیا کہ سامنے آحل ہے ۔۔ ایک چھوٹا ماسٹر۔۔
“یہ تمہاری زبان زیادہ نہیں چلنے لگ گئی “ مصطفی نے کھڑے ہوتے ہوۓ کہا ۔۔
“ماسٹر نے کہا تھا کہ جو سچ بولتا ہے دنیا اسے ایسے ہی جواب دیتی ہے ۔۔ اسکا مطلب میں نے ٹھیک کہا نا ؟ “ اور ایک بار پھر وہ بازی لے گیا۔
” آخر یہ سب انہوں نے تمہیں کب سکھایا ۔۔ “ اسے اب یہ بات سمجھ نہیں آئی ۔۔ اس نے تو کبھی ماسٹر کو آحل سے اتنی باتیں کرتے نہیں دیکھا تھا ۔۔
” یہ ہمارا سیکریٹ ہے ۔۔ “ سنجیدگی سے کہتے وہ آگے بڑھا جبکہ مصطفی کی نظر سامنے کھڑی مایا پر پڑی جو اب بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔ حیرانی سے۔۔
” ایسے مت دیکھو یار ۔۔ ماسٹر نے روکا تھا مجھے ورنہ میں تو کل ہی آجاتا “ اور اس کی بات پر مایا مزید حیران ہوئی ۔۔۔
” ماسٹر نے تمہیں کیوں روکا ؟ وہ توکل آگئے تھے ؟ “
” بس مت پوچھو ۔۔۔ دونوں میاں بیوی نے مجھے چابی کی گڑیا بنا رکھا ہے ۔۔۔ جسکا جب دل چاہتا ہے چلا دیتا جب دل چاہتا روک دیتا “ اور مصطفی کی اس غمزدہ داستان پر آحل کی آنکھوں میں تو آنسو ہی آگئے تھے ۔۔
” اوک پایا ۔۔ اب ہم چلیں ؟ وہ انتظار کر رہے ہونگے “ اور اسی کے ساتھ آحل صاحب سب سے پہلے آگے بڑھے جبکہ مصطفی اب مایا کے ساتھ آکر کھڑا ہوا ۔۔
” تم جانتی ہو کہ یہ ماسٹر سے کیسے کمیونیکیٹ کرتا ہے ؟ ” اسکے کان میں دھیمے سے کہا ۔۔
” ماسٹر کا سیکر یٹ کوئی کیسے جان سکتا ہے مصطفی ۔۔۔ چلو اب “ وہ بھی آگے بڑھی جبکہ مصطفی بھی سر ہلاتا اس دونوں کے پیچھے چل دیا ۔۔
اب اگر ماسٹر کے گھر کی جانب آؤ تو امل اس وقت اپنے کمرے کے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنے کانوں میں ٹاپس پہن رہی تھی جب ڈریسنگ روم سے ماسٹر باہر آیا اور نظر سیدھا امل پر پڑی ۔۔ ریڈ کلر کی سمپل فراک پہنے ، کھلے کمر تک آتے براؤن بال ، چہرے پر میک اپ کے نام پر کاجل اور ریڈ لپ سٹک لگاۓ وہ اب کانوں میں ٹاپس پہن رہی تھی ۔۔ جب وہ چلتا ہوا اس کے پیچھے آکھڑا ہوا۔
” تم نے کہا تھا کہ تم میری پسند کا رنگ پہنو گی “ آئینے میں اسے گھورتے ہوئے اس نے سنجیدگی سے کہا جبکہ امل مسکرا کر پلٹی ۔۔ اب وہ اس کے سامنے اور قریب کھڑی تھی ۔۔
” اور میری پسند تمہاری پسند ہے نا ؟ “ شرارتی انداز میں جواب آیا ۔۔
“اور میری پسند ؟ “ سینے پر ہاتھ باندھے ماسٹر نے سوال کیا ۔۔
” وہ تو میں ہوں “ تھوڑا آگے جھکتے ہوۓ اس نے جواب دیا ۔۔
ایک ایسا جواب جو ہمیشہ ہی ماسٹر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کی وجہ بنتا تھا ۔۔
“تم بہت سمارٹ ہوگئی ہو “ بال اسکے کانوں کے پیچھے کرتے ہوۓ ماسٹر نے گھمبیر لہجے میں کہا ۔۔
“وہ تو میں ہمیشہ ہی سے تھی ۔۔ بس تم ہی نہیں مانتے “ کاندھے اچکا کر کہتے وہ اب اس سے تھوڑا دور ہوئی ۔۔
“اب مان لیا ہے تو کوئی انعام ہی دے دو “ اسکا ہاتھ پکڑتے ہوۓ کہا ۔
“کیسا انعام چاہئے آپکو ؟ “ اور یہ امل ہی جانتی تھی کہ اس نے اپنی حیرانگی اس نے کیسے چھپا رکھی تھی ۔۔
” مصطفی سے کم از کم چار فٹ دور رہنے کا انعام “ اور ماسٹر کے الفاظ نے اسکی حیرانگی کو نہ صرف بڑھایا بلکہ منہ کھولنے پر بھی مجبور کر دیا ۔۔
“کیا کہا تم نے ؟ “ اسے لگا شاید اسے سننے میں کچھ غلطی ہوئی ہو۔۔
“تم سن چکی ہو ۔۔ زیادہ اس سے فری ہوتے نظر نہ آؤ مجھے تم “ اب وہ اپنے مخصوص انداز میں کہتا آئینے کے سامنے کھڑا ہوا ۔۔
” تم ۔۔ تم مصطفی سے جیلس ہورہے ہو ؟ “ ایک بار پھر شرارتی انداز میں کہا گیا ۔۔
“بلکل نہیں ۔۔ مجھے بس فکر ہے کہیں تمہارے ساتھ رہ کر وہ تمہاری طرح نکما نہ ہو جاۓ “ اور وہ ایک بار پھر جنگ کا آغاز کر چکا تھا۔
“کیا ؟ تمہارا مطلب ہے میں نکمی ہوں ؟ “ اور امل بھی ہمیشہ کی طرح جنگ کے میدان میں اترنے کو تیار تھی ۔۔
“آفکورس ۔۔۔ اپنی پڑھائی ختم ہونے کے بعد سے تم نے اب تک کیا ہی کیا ہے ؟ سوائے اس گھر میں بیٹھنے ۔۔ آحل کے ساتھ وقت گزارنے اور مصطفی سے باتیں کرنے کے “ ایک بار پھر بات مصطفی پر ہی آگئی تھی ۔۔
” ٹھیک کہا تم نے ۔۔ اور پتہ ہے سب سے زیادہ وقت میں نے کس کے ساتھ گزارا ؟ “ ایک خطرناک مسکراہٹ کے ساتھ امل نے اس سے پوچھا ۔۔
“کس کے ساتھ ؟”
“مصطفی کے ساتھ “ اور اس کے ساتھ وہ فوراً روم سے باہر نکلی ۔۔ جبکہ ماسٹر ایک بار پھر اپنا غصہ روکنے میں مصروف ہوچکا تھا ۔۔
اب اگر یہاں سے دور ۔۔ ایک دوسرے شہر میں سمندر کے قریب موجود اس گھر کی جانب آؤ تو اس کی تمام لائیٹس آف تھیں ۔۔ جو بتا رہیں تھیں کہ یہاں کوئی نہیں رہتا ۔۔ مگر اگر ہم اس گھر کی بیسمنٹ کی جانب آئیں ۔۔ تو اس کے دروازے کے نیچے سے ایک روشنی باہر آتے دکھ رہی ہے ۔۔ جو بتا رہی ہے کہ اندر کوئی لائیٹ آن ہے ۔۔ مگر بیسمنٹ کی لائیٹ آن رکھنے کا کیا جواز ۔۔ اسی کنفیوژن کو دور کرنے کے لئے اگر ہم اب اندر آئیں ۔۔ تو یہ جیسے ایک بڑا ہال نما کمرہ تھا جس کے بیچوں بیچ ایک میز جس پر بہت سی تصاویر ، مارکرز اور فائیلز رکھی ہیں ۔۔ جبکہ میز کے سامنے رکھی کرسی پر ایک شخص بلیک جینس ، وائیٹ شرٹ اور اسکے اوپر بلیک جیکٹ پہنے ۔۔ سر پر ایک کیپ جس کی وجہ سے کمرے کے درمیان میں لگے اس بلب سے آتی روشنی اسکے چہرے تک پہنچ نہیں پارہی ۔۔ کیپ کے سائے میں ڈھکا اسکا چہرہ ہر نقش چھپا رہا ہے۔۔ جس سے اسکی پہچان کرنا مشکل ہے۔۔ ٹانگ پر ٹانگ لگائے سینے پر ہاتھ باندھے بیٹھا ہے۔۔
نظر سامنے کی جانب تھی ۔۔ جہاں ایک شخص عمر ستائیس سال کے قریب ، بلو شرٹ اور جینس پہنے ، کلین شیو ، بھوری سوچتی آنکھیں ، چھوٹے براؤن بال اور ہاتھ میں ایک فائل پکڑے کھڑا تھا ۔۔ رخ اسی کی جانب تھا ۔۔ کیپ پہنے اس شخص نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اسے کوئی اشارہ کیا ۔۔ شاید کچھ کہنے کا ؟ کیونکہ اسکا اشارہ پاتے ہی اس شخص نے فائل میز پر رکھی اور اب سب سے پہلی تصویر اٹھائی اور ٹیپ کی مدد سے اسے سامنے دیوار پر لگایا ۔۔ جہاں اس بلب کی روشنی ڈائیریکٹ اس پر پڑرہی تھی ۔۔
” نائل شاہ ۔۔ عرف ماسٹر ۔۔ کرائم انویسٹیگیٹر آفیسر “ تصویر لگا کر واپس آتے کہا ۔۔ ان وہ دوسری تصویر اٹھا کر دوبارہ دیوار کے پاس آیا اور اسے ماسٹر کی تصویر کے ساتھ دائیں جانب لگایا ۔۔۔
” امل شاہ ۔۔ عرف سلیپنگ بیوٹی ۔۔ “ مسکرا کر کہتے وہ ایک بار پھر میز کی جانب آیا ۔ ایک اور تصویر اٹھائی اور اسے ماسٹر کی تصویر کے بائیں جانب لگایا۔۔
“مصطفی ۔۔ دی ہیکر “ اب دوبارہ میز کی جانب آیا ۔۔ ایک اور تصویر اٹھائ۔
“ڈاکٹر مایا” سلسلہ آگے بڑھا ۔
“فرہاد ۔۔ کریمنل”
“احمد ۔۔۔ اسسٹنٹ “
” شہزاد شاہ ۔۔ پولیٹیشن اور فرہاد کا باس۔” اس نے ایک اور تصویر لگائی ۔۔
” یہاں سے آغاز ہوا تھا آٹھ سال پہلے کی کہانی کا ۔۔ “
” امل کے پیرٹس ۔۔ شہزاد شاہ کے بھائی بھابھی ۔۔ اور اس کہانی کا قربان کپل “ اس نے اس آخری تصویر پر مارکر سے ایک نشان لگاتے کہا ۔۔ جبکہ سامنے موجود اس شخص نے اسے سوالیاں نظروں سے دیکھا ۔۔ شاید وہ اسکی بات سمجھا نہیں تھا ۔۔
” کرائم اور قربانی دیکھا جاۓ تو ایک ہی جیسے ہوتی ہے ۔۔ دونوں میں ہی کسی نا کسی کو اس زندگی سے ہارنا ہی ہوتا ہے ۔ مگر دونوں کا انجام بہت الگ ہو تا ہے ۔۔ ایک بہترین کریمنل وہ ہوتا ہے ۔۔ جو اپنے کرائم کو قربانی نہیں بننے دے ۔۔ جیسے شہزاد شاہ کے ساتھ ہوا ۔۔ اس نے اپنی نفرت میں امل کے ماں باپ کو فرہاد کے ذریعے جلا کر مار دیا ۔۔ مگر امل ان سب سے بچ نکلی اور اسے بچانے والا کوئی اور نہیں اسکا اپنا بیٹا ۔۔ نائل شاہ تھا ۔۔ اس نے ماسٹر کی تصویر پر مار کر رکھا ۔۔
نائل شاہ نے اپنے اسسٹنٹ احمد کے ساتھ امل کو اس کھائی سے نکالا اور وہ اسے لے گیا ۔۔۔
اس نے اب مار کر مایا کی تصویر پر رکھا ۔۔ ڈاکٹر مایا کے پاس ۔۔ جس نے اسکا علاج کیا اور وہ بیچ تو گئی مگر کوما میں چلی گئی ۔۔۔ جس کے بعد ماسٹر نے اسکی سیکیورٹی کے ذمہ داری دے دی ۔۔
اب مار کر مصطفی کی تصویر پر رکھا ۔۔ مصطفی کو ۔۔ جو کہ ایک بہترین ہیکر ہے ۔۔ ماسٹر کے بعد ایک مصطفی ہی ہے جس سے کوئی بچ نہیں سکتا ۔۔ خیر ۔۔ کہانی میں ٹوسٹ تب آیا جب امل جاگی ۔۔ اور اس کے ساتھ شروع ہوا ۔۔ انصاف حاصل کرنے کا سفر ۔۔
جس پر ماسٹر ، امل ، مصطفی ، مایا ، احمد ۔۔ یہاں تک کے فرہاد جو کہ امل کی محبت میں گرفتار ہو گیا تھا ۔۔ سب ایک ہوگئے ۔۔۔ اور جہاں یک جہتی ہو ۔۔ وہاں جیت مکمل اور پکی ہوتی ہے ۔۔ اور شہزاد شاہ کی ہار بھی اسطرح لازم ہوگئی ۔۔۔ اس لئے “ وہ اب پلٹا ۔۔
“شہزاد شاہ نے غلطی کی ۔۔ بہت بڑی غلطی “ اس نے اب اپنا مار کر دوباره میز پر رکھا اور واپس دیوار کی جانب آیا ۔۔ رخ تصاویر کی جانب تھا ۔۔ جبکہ پیچھے بیٹھا شخص بہت غور سے اسےہی سن رہا تھا ۔۔
” آٹھ سال پہلے صرف دو لوگوں کی موت نے پانچ لوگوں کو ایک کر دیا تھا “ اس نے پلٹ کر کہا ۔۔
“پانچ ؟ “ کہیں سے ایک آواز آئی تھی ۔۔ مگر کس کی ۔۔ یقینا یہ وہ سامنے بیٹھا شخص نہیں تھا ۔۔ کوئی اور بھی آیا تھا اب ۔۔
” ہاں ۔۔ شہزاد شاہ کے مارے گئے یہ دو لوگ ۔۔ “ اس نے دوبارہ اس تصویر کی جانب اشارہ کیا ۔۔۔
” جو امل کے ماں باپ تھے ۔۔ دیکھا جاۓ تو یہ مرڈر نہیں ۔۔ قربانی تھی “ اس نے کہتے ساتھ دوبارہ دیوار کا رخ کیا۔۔ جہاں سب کی مسکراتی تصاویر اسے ہی دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔
” وہ کیسے ؟ “ ایک بار پھر وہی آواز آئی ۔۔
“امل کے پیرنٹس کی قربانی ہی تو اسے ماسٹر تک لائی ۔۔ یہ قربانی ہی تو تھی ۔۔ جس نے ان دونوں کو ملایا ۔۔ جس نے امل کو مصطفی اور مایا جیسے دوستوں سے ملایا ۔۔ جس نے فرہاد جیسے کرمنل کا ضمیر جگایا ۔۔ جس نے ان پانچ زندگیوں کو ایک بہترین منزل تک پہنچایا ۔۔ اس لئے مجھے لگتا ہے کہ شهزاد شاہ نے مرڈر نہیں ۔۔ قربانی کی تھی “ اور اس طرح اس نے ایک بار پھر سامنے بیٹھی شخصیت کی جانب دیکھا ۔۔ جس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی ۔۔ ایک پر سرار مسکراہٹ ۔۔
“اور ہم نے “ وہ اب میز کی جانب آیا ۔۔ دونوں ہاتھ میز پر ٹکاۓ وہ اس اندھیرے چہرے میں ڈوبے شخص کی جانب جھکا ۔۔
” ہم نے مرڈر کرنا ہے ؟ “ ایک بار پھر وہی آواز کسی جانب سے آئی ۔۔ جس پر اس کے ہونٹ مسکرائے۔۔
” نہیں ۔۔۔ ہم نے بھی قربانی کرنی ہے ۔۔۔ ایک ایسی قربانی ۔۔ جو ان پانچوں لوگوں کو اتنی ہی تیزی سے الگ کر دےگی ۔۔ جتنی تیزی سے وہ ایک ہوۓ “ وہ کہہ کر سیدھا ہوا ۔۔ مار کر اٹھایا ۔۔ دوبارہ دیوار کی جانب آیا ۔۔ سب تصاویر پر نظر دوڑائی ۔۔ اور پھر ۔۔ نظر ایک تصویر پر رکی اس نے مارکر کا کیپ کھولا اور ہاتھ اس تصویر کی جانب بڑھایا ۔۔
” ایک ایسی قربانی ۔۔ جو ان سب کی منزلوں کا یو۔ ٹرن ثابت ہوگی ۔۔ “ اس نے اب اس تصویر پر کر اس کا نشان لگایا ۔۔
” ایک ایسا یو۔ ٹرن جو اس کہانی کو پلٹ دے گا ۔۔ ایک بہترین پلٹاؤ “ اور اسی کے ساتھ بیسمنٹ میں خاموشی چھا گئی ۔۔ طوفان سے پہلے کی سی خاموشی ۔۔۔
