Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2 NovelR50556 Koi Sath Ho (Episode 12)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 12)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2
یہ دور ایک ویرانے میں موجود چھوٹے سے گھر کا منظر ہے ۔۔ جہاں فرہاد کمرے میں موجو د سٹڈی ٹیبل پر بیٹھا کسی گہری سوچ میں گم ۔
نظر سامنے رکھی اس لسٹ پر ہے جہاں وہ ہر شخص کا نام لکھ چکا تھا ۔۔ لیکن کوئ ایسا نہیں تھا جس پر اسے شک ہوسکے ۔۔ایساکوئ نہیں تھا جو آٹھ سال پرانی کہانی کو جان سکے اور ایسا جو اس کہانی کا فائدہ اٹھا سکے ۔۔
” کچھ تو ہے ۔” اب وہ کھڑا ہوا ۔۔
” کچھ تو ہے جو میں مس کر رہا ہوں ۔۔ کیا ؟ ” دائیں بائیں چکر لگاتے وہ اب سوچنے لگا ۔۔
” میری ہائیٹ ، مجھ جیسی گن ، میرا طریقہ یہاں تک کے مجھ جیسی باڈی لینگویج ۔۔ ایسا کون ہے جو مجھے اتنی اچھی طرح جانتا ہے ؟ “
” کون ہوسکتا ہے ؟ میرا تو کوئ دوست ۔۔ کو ئ ساتھی بھی نہیں ۔۔۔۔ ” اور اسی کے ساتھ وہ رکا ۔۔ ذہن کے پردے پر ماضی کا ایک منظر روشن ہوا ۔
اس نے گاڑی ایک گھر کے سامنے روکی ۔۔وہ گھر جسے آج اس نے خاک کر دینا تھا ۔۔
پیسنجر سیٹ پر بیٹھا شخص دروازہ کھول کر اترنے لگا پر اسے اپنی جگہ پر یونہی بیٹھا دیکھ کر رکا ۔
” کیا ہوا ؟ “
” یہ کام تم کروگے ۔۔ میں باہر نظر رکھتا ہوں ” اس کی با ت پر وہ تھوڑا الجھا ۔
” لیکن باس نے یہ کام آپکو دیا ہے “
” یہ کام میں ہی کر رہا ہوں ۔۔ باقی سب ہوچکا ہے تمہیں بس تیلی پھینکنی ہے ۔۔ کیا اتنا سا کام بھی نہیں کر سکتے تم ؟ ” اب بار اس کا لہجہ کچھ سخت ہوا ۔۔
” اوک ۔۔ ” اسے بگڑتا دیکھ کر وہ شخص باہر نکلا اور اب وہ اس گھر کی جانب گیا ۔۔
وہ گاڑی سے باہر نکلا ۔۔ نظر سامنے اس گھر کی جانب تھی ۔۔
اور اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔۔ اپنے بندوں کو وہا ں آگ لگاتے ہوئے ۔۔
شعلے بھڑکتے ہوئے ۔۔۔
اس آگ کی تپش اس تک پہنچ رہی تھی ۔۔ اس کے کانوں میں چیخنے کی آوازیں بھی پہنچ رہی تھی۔۔
دل کے کسی گوشے میں سوئے ضمیر نے انگڑائ لینے کی کوشش کی تھی پر ۔۔
اچانک اسکی نظر ایک وجوس پر پڑی ۔۔ ایک نسوانی وجود جو سڑک کی جانب بھاگ رہا تھا ۔۔
” فرہاد ۔۔ وہ لڑکی ، وہ بھاگ رہی ہے ” اسی شخص کی آواز اسے آئ ۔۔
اور اسی کے ساتھ اپمے ضمیر کو دوبارہ سلاتے وہ تیزی سے گن لئے اسکے پیچھے بھاگا ۔۔ اسکے پیچھے وہ شخص بھی تھا جو اسکا ساتھی تھا ۔
اندھیری رات میں وہ لڑکی جانے کیسے پر زخمی حالت میں بھی بھاگ رہی تھی ۔۔ وہ ان سے کافی دور تھی اس لئے اسے روکنے کے اسے گولی چلانی پڑی ۔۔
جو اسکے دائیں بازوں میں لگی تھی ۔ ۔
پر اسے حیران ہونا پڑا ۔۔ یہ دیکھ کر کہ گولی لگنے کے باوجود وہ لڑکی رکی نہیں وہ اب اپنا بازو اپنے دوسرے ہاتھ سے دبائے بھاگ رہی ہے ۔۔ اسی رفتار سے ۔۔ یہ کیسا جذبہ تھا ۔۔ یہ کونسی طاقت تھی ؟
اسے اب ایک اور گولی چلانی پڑی ۔۔ جو سیدھا اسکے پاؤں میں جاکر لگی اور اس نے دیکھا ۔۔ وہ لڑکھڑائ ۔۔ وہ گری ۔۔
پر زمین پر نہیں ۔۔ ایک گہری کھائ میں ۔۔
وہ دونوں اب بھاگتے ہوئے اس کھائ تک آئے ۔۔
” لگتا ہے مر گئ ۔ ۔ اس حالت میں گرنے کے بعد اسکے بچنے کا کوئ چانس نہیں ” اس کے ساتھی نے کہا۔
” چانس ہونا بھی نہیں چاہئے ۔۔ شہزاد شاہ کو یہ پورا خاندان قبر میں چاہئے اور ہم اسے یہ دینگے ” فرہاد نے اس کھائ کو غور سے دیکھتے کہا ۔۔ جو کافی گہری تھی اس کا بچنا واقعی مشکل تھا ۔
” د و لڑکوں کو نیچے بھیجو ۔۔ لڑکی کی لاش چاہئے ہمیں ” اسے ایک اور آرڈر کرتے اب وہ واپسی کی جانب بڑھا ۔۔
اسی کے ساتھ ۔۔ ماضی کا منظر غائب ہوا ۔۔
اور اب فرہاد کی آنکھوں لال سرخ تھیں ۔۔
اور کبھی کبھی ہمارا ماضی تیز دھاری تلوار بن جاتا ہے ۔۔ جب بھی یاد آتا ہے زخمی کر جاتا ہے ۔۔
ایسا ہی زخم اس وقت فرہاد کو بھی ملا تھا ۔۔
اپنی آنکھیں بند کر کے اس نے خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی ۔۔ اور پھر کچھ گہری سانسیں لینے کے بعد ۔۔
وہ آنکھیں کھول کرتیزی سے آگے بڑھا ۔۔
اور اس لسٹ میں ایک نام بڑے الفاظ میں لکھا ۔۔
” دانش “
**************************************
یہ ایک ریسٹورانٹ کا منظر ہے جہاں کاؤنٹر پر موجود شخص پیمنٹ اور آرڈر لینے میں مصروف نظر آرہا ہے ۔۔ وہیں کچھ لوگ اپنے پارسل کے انتظار میں سامنے رکھی کرسیوں او رصوفے میں بیٹھے ہیں ۔۔ ایک خاتون اپنا آرڈر بک کروا کر انہیں لوگوں کے درمیان جاکر بیٹھ گئیں جب ایک شخص اس کے سامنے آیا ۔
” یس ؟ ” اس نے اسے دیکھتے کہا ۔
” تیس منٹ ہوچکے ہیں ابھی تک میرا پارسل ریڈی نہیں ہوا ؟ ” سنجیدگی سے کہا ۔ انداز میں بے چینی واضح تھی ۔
” اپنا آرڈر نمبر بتائیے ” اس نے اب ایک سلپ کاؤنٹر پر رکھی جس پر لکھا نمبر پڑھتے ہی وہ شخص مسکرایا ۔۔
” آپکا آرڈر ریڈی ہے ” اسی کےساتھ بائیں جانب رکھا یک برگر کا باکس اسکی جانب بڑھایا ۔
” شکریہ ” اسکا شکریہ ادا کرتا وہ شخص اب اپنا برگر لے کر ریسٹورانٹ سے باہر نکلا اور اپنے گاڑی میں آکر بیٹھا ۔۔
بلیک مرر اوپر کرتے اس نے اب پچھلی سیٹ پر رکھا اپنا لیپ ٹاپ اٹھایا اور اپنی گود میں رکھ کر اسے کھولا ۔
اب اس نے برگر کا باکس کھولا ۔۔ جسے کھولتے ہی چیز اور کچن کی لی جلی خوشبوں اسکے ناک تک پہنچی ۔۔
” لگ تو بہت ٹیسٹی رہا ہے ” خو د سے کہتے اس نے برگر اٹھایا اور اسکا ایک باٹیٹ لیا ۔۔
” ہمم ۔۔۔ مزے کا ہے ” کہتے ساتھ ہی اس کی نظر باکس کے اندر گئ جہاں ایک کاغذ رکھا ہے ۔۔
اور جیسے اسے دیکھ کر اسے کچھ یاد آیا ۔۔ سنجیدگی سے کاغذ کا ٹکڑا لے کر برگر واپس رکھا ۔۔ باکس کو سامنے رکھتے اب اس نے کاغذ کھولا ۔ اندر کچھ کوڈز اور پاسورڈز کے ساتھ نیم بھی لکھے تھے ۔
اور اب وہ لیپ ٹاپ کی جانب متوجہ ہوا ۔۔ تقریباً دس منٹ بعد اسکی سکرین پر سی سی ٹی فوٹیج چلنے لگی ۔۔
یہ منظر تھا ہسپتال کے پچھلے دروازے کے روڈ کا ۔۔ اس نے ایک نظر اپنے بائیں جانب موجود اس ریسٹورانٹ پر ڈالی اور دوسری دائیں جانب روڈ کے اس بار موجود ہسپتال کے پچھلے حصے پر ۔۔
اور یقیناً یہ فوٹیج ریسٹورانٹ کے کے باہر لگے کیمرے کی تھی ۔۔
ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ اب اس نے مخصوص دن کی فوٹیج کھولی۔۔
کافی دیر تک سب بلکل نارمل ہی تھا ۔ ۔ اور پھر اچانک ایک وائیٹ وین ان روڈ پر ہسپتال کے بیک ڈور کے بلکل سامنے آکر رکی ۔۔
مصطفی نے اب ذرا جھک کر بہت غور سے اس وین اور پھر وقت دیکھا ۔۔ یہ پولیس کے آنے سے دس منٹ پہلے کا وقت تھا ۔۔
” صرف دس منٹ ؟ ” وہ کچھ حیران ہوا ۔۔
اس نے دیکھا ۔ وین ایسے ہی کھڑی رہی اور پھر پانچ منٹ بعد چلی گئ ۔۔ اور ٹھیک پانچ منٹ بعد پولیس کی گاڑیاں آتی نظر آئ ۔۔
” یہ کیا تھا ؟ ” اس نے ویڈیو روکی ۔۔ اور ریورس کی ۔۔
اب وہ بہت غور سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
وین آکر رکی ۔۔ اس نے ویڈیوں روکی اور کچھ بٹنس پریس کئے جس پر ویڈیوں وین کی پر زوم ہوئ ۔۔
اینگل کچھ ایسا تھا کہ وہ اس وین کی نمبر پلیٹ نہیں دیکھ سکتا تھا ۔۔ اور نا ہی اسکا وہ دروازہ جو ہسپتال کے جانب کھلتا ہے ۔۔
اور اسی سوچ پر اسکے دماغ میں کچھ کلک ہوا ۔۔ اس ویڈیوں اس بار سلو موشن میں چلا ۔۔ نظر اب وین پر نہیں بلکل کہیں اور تھی ۔۔ شاید زمین پر ۔۔
اور اسکا شک ٹھیک نکلا ۔۔
اس نے ایک بار پھر ویڈیو روکی اور ایک جگہ زوم کیا ۔۔کہاں زمین پر دو لوگوں کے سائے نظر آرہے تھے ۔۔ اور یقیناً یہ دونوں لوگ دوسری جانب کے دروازے سے وین سے باہر نکلے اور اندر گئے تھے ۔۔
” یقیناً وہ ریسٹورانٹ کے کیمرے کا اینگل دیکھ چکے تھے ۔۔ ” تھک کر کہتے اس نے کرسی کی پشت پر سر ٹکایا ۔۔
” ہر جانب سے ناکامی کیوں ہورہی ہے ۔۔ کوئ تو غلطی کی ہوگی انہوں نے ۔۔ کچھ تو ہے جو ہماری نظروں سے بچ رہا ہے ۔۔ پر کیا ؟ “
وہ اب ایک گہری سوچ میں گم ہوا ۔۔
جبکہ یہاں سے دور ۔۔ اس جیل کی جانب آؤ تو وہی سیاہ فام اب سلاخوں سے ٹیک لگائے بیٹھا ہے ۔۔ چہرہ بے تاثر ہے جبکہ سامنے بیٹھے د و لڑکے اس کمزور سے شخص کوعجیب نظروں سے دیکھ رہے ہیں جو کہ صبح ہی یہاں آیا ہے اور جب سے آیا ہے ایسے ہی بیٹھا ہے ۔
” چلو ۔۔ تم دونوں کی ضمانت ہوگئ ہے ” ایک حودار نے آکر کہا جس پر سامنے بیٹھے وہ دونوں شخص اٹھے ۔۔
حولدار نے دروازہ کھولا اور وہ دونوں باہر نکلے ۔۔ اب وہ دوبارہ لاک کر رہا تھا۔۔
” مجھے صاحب سے کچھ بات کرنی ہے ” سیاہ فام شخص نے کہا ۔۔ اپنی جگہ سے ہلے بنا ۔
” کون صاحب ؟ ” الجھ کر پوچھا ۔۔
” وہیں صاحب جس کی وجہ سے شیر پنجرے سےآزاد ہوا ” اسکی جانب دیکھتے ہوئے اس سیاہ فام شخص نے معنی خیز مسکراہٹ لئے کہا ۔۔
جبکہ اب اس حولدار کے ماتھے پر کچھ پسینے کے قطرے نمودار ہوئے ۔
” کون ہو تم ؟ “
” شیر کا ساتھی ۔۔ پیغام لے کر آیا ہوں صاحب کے لئے “
اور اسکی بات سنتے حولدار نے اپنے پیچھے کھڑے ان دونوں نوجوانوں کی جانب دیکھا ۔۔
” کیا فضول باتیں کر رہے ہوں ۔۔ پاگل ہوگیا ہے لگتا ہے ۔۔ چلو تم دونوں ” اور اسی کے ساتھ وہ ان دونوں کو لئے وہاں سے چلا گیا ۔۔
جبکہ اس سیاہ فام کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئ ۔۔
اچانک ہی مصطفی ایک جھٹکے سے لیپ ٹاپ پر جھکا ۔۔ دوبارہ ویڈیوں آن کی ۔۔ اسے دوبارہ دیکھا ۔۔
” عنایہ کے مطابق شہزاد شاہ کو وارڈ سے یہاں تک لانے میں آدھا گھنٹہ لگا ہوگا ۔۔ جبکہ یہ وین صر ف دس منٹ پہلے یہاں آئ اور اس کے جاتے ہی پولیس آگئ ۔۔ ” و ہ رکا ۔۔
” یہ سب پری پلین تھا ۔۔ پر یہ اکیلے سب نہیں کرسکتے ۔۔ ایسا فکس ٹائم ۔۔ یہ سب ضرور آپس میں کانٹیکٹ میں رہے ہیں ۔۔ جیسے ہی اندر موجود افراد شہزاد شاہ کو بیک ڈور تک لائے ۔۔ وین فوراً آگئ اور جیسے ہی وہ اس وین میں لے گئی ۔۔ پویس آگئ ؟ “
” چلو ۔۔ صاحب بلار ہے ہیں تمہیں ” کچھ دیر بعد اسی حولدارنے آکر کہا ۔۔ جس پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ اس سیاہ فام کے ہونٹوں پر پھیلی ۔۔
” چلو ۔۔ ” اور اسی کے ساتھ وہ حولدار اسے لئے آگے بڑھا ۔۔
مصطفی ا ب ایک بار پھر سیدھا ہوا ۔۔
” ایسا لگتا ہے جیسے سب کو ہی معلوم تھا کہ انہوں نے کس وقت پہنچنا ہے ۔۔
ایسا لگتا ہے جیسے ۔۔۔ ” مصطفی رکا ۔۔
” جیسے پولیس کو معلوم تھا کہ اسے اسی وقت وہاں آنا ہے ” اور اسی کے ساتھ مصطفی کی سوچ کو ایک نیا موڑ ملا ۔
” لیکن اگر یہ وین اتنی جلدی یہاں آئ ہے تو اسکا مطلب ہے کہ وہ پہلے سے کہیں کھڑی ہوگی ۔۔ کسی ایسی جگہ جہاں اسے کسی نے نوٹ نہیں کیا ہوگا ۔۔ کہیں قریب ہی ۔۔ لیکن کہا ؟ ” اس کی سوچ کو اب نیا رخ ملا ۔۔
اور اس سے پہلے کہ وہ اس رخ کے بارے میں زیادہ سوچتا ۔۔ اسکے موبائل پر آنے والی کال نے اسکی توجہ حاصل کی ۔
اس نے دیکھا ۔۔ آحل کے ٹیچر کی کال تھی ۔ ۔۔
” ہیلو ” اور جانے دوسری جانب سے کیا کہا گیا تھا کہ اگلے ہی پل موبائل مصطفی کے ہاتھ سے گرا تھا ۔۔
