Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2 NovelR50556 Koi Sath Ho (Episode 17)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 17)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2
” وہ کہاں گئ ہے ؟ ” جانے کتنی ہی دیر بعد مصطفی کی جانب سے سوال ہوا ۔۔
” وہ ۔۔۔ ” عنایہ نے سوالیاں نظروں سے فرہاد کی جانب دیکھا جو اب چونکا تھا ۔۔ اسے خیال کیوں نہیں آیا ؟
” تم دونوں نہیں جانتے ؟ اس نے نہیں بتایا ؟ ” مصطفی کی آوازمیں اب حیرت تھی ۔
” نہیں ۔۔ ہمیں لگا تمہیں اور ماسٹر کو معلوم ہوگا کہ وہ کہاں گئ ہے ۔ کیا تمہیں اندازہ نہیں ؟ ” عنایہ نے اس سے پوچھا ۔
” مجھے کیسے معلوم ہوگا عنایہ ؟ کیا میں یہاں تھا ؟ ” اور اس بار مصطفی کا لہجہ عنایہ اور فرہاد کو حیران کر گیا ۔۔
یہ پہلی بار تھا جب انہوں نے مصطفی کو اس لہجے میں بات کرتے سنا تھا ۔۔
سختی تو مصطفی کی پرسنیلٹی میں کہیں دور دور تک نہیں تھی ۔۔ تو پھر کیسے آگئ ؟
” ہوسکتا ہے وہ اپنے گھر گئ ہو ” عنایہ نے کہا ۔
” اسکا گھر ؟ ” اب نظر فرہاد کی جانب گئ جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔
” آس پاس دیکھو ۔۔ کیا یہ اسکا گھر نہیں ہے ؟ “
اور اسکے الفاظوں پر فرہادنے چونک کر اپنے چاروں اور دیکھا ۔۔ یہ وہی گھر ہی تو تھا ۔۔ امل کا گھر ۔۔
اگروہ اس گھر کو چھوڑ کر گئ ہے تو کہاں گئ ہے ؟
” شاید ماسٹر کو معلوم ہو ؟ ” عنایہ نے اوپر کی جانب دیکھتے کہاں جہاں ماسٹر کچھ دیر پہلے بنا کچھ کہے گیا تھا ۔
” تمہیں واقعی لگتا ہے امل ایسی جگہ جائے گی جو ماسٹر کو معلوم ہو ؟ ” طنز کے تیر برساتا وہ تیزی سے وہاں سے چلا جبکہ عنایہ نے فرہاد کی جانب دیکھا ۔۔
” ہمیں اسےروکنا چاہئے گا “
” اسے اب کوئ نہیں روک سکتا ۔۔ اسکی آنکھیں اسکے فیصلے کی مضبوطی بتا چکی ہیں ۔” اسی کے ساتھ فرہاد کھڑا ہوا ۔
” کہاں جارہے ہو ؟ “
” اسے ڈھونڈنے ۔۔ ” اور ا ب وہ بھی تیزی سے باہر نکلا ۔۔ جبکہ عنایہ نے اوپر روم کی جانب دیکھا جہاں کچھ دیر پہلے ماسٹر گیا تھا ۔۔
٭٭٭٭٭٭٭
وہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے ان دونوں کو باہر جاتا دیکھ چکا تھا ۔
اب پلٹ پر سائیڈ ٹیبل کی جانب آیا جہاں اسکی اور امل کی تصویر رکھی تھی ۔۔
کتنی خوبصورت تصویر تھی یہ ۔۔ اور خوبصورت یاد ۔۔
اسے یاد تھا کہ تصویر سوات میں لی گئ تھی جب وہ پہلی بار گومنے نکلے تھے ہر مسئلے سے آزاد ہوکر ، ہر پریشانی سے چھٹکارہ پاکر ۔
اور یہ اسی دن کی تصویر تھی جب امل اور اسے اولاد جیسے تحفے کی خبر ملی تھی ۔۔ کتنے خوش تھے دونوں ۔۔
لیکن امل کی خوشی کی تو جیسے کوئ انتہاہ ہی نہیں تھی ۔۔ اور کیوں ہوتی ؟ ماسٹر کے بعد یہ اولاد اسکی واحد فیملی تھی ۔۔ تھا ہی کون اسکا ان دونوں کے علاوہ ۔۔
لیکن وہ اس بات سے انجان تھی کہ ماسٹر کے دماغ میں تو کچھ اور ہی چل رہا ہے ۔۔
اس فیملی کو کسی اور کے نام کر دینے کا خیال ۔۔
اسے آج بھی یاد ہے وہ دن ۔۔ وہ دن جب ایک بہت بڑ ا فاصلہ ان دونوں کے بیچ میں آیا تھا ۔۔ صرف اور صرف اس کے ایک فیصلے کی وجہ سے ۔۔۔
” نائل ۔۔ آحل کہاں ہے ؟ ” وہ کمرے میں آحل کو دیکھنے گئ تو وہ وہاں نہیں تھا ۔ اسے لگا کہ شاید وہ اپنے پاپا کے پاس ہوگا لیکن اسے اکیلے سٹڈی میں دیکھ کر وہ کچھ پریشان ہوئ ۔۔
” اسے مصطفی لے گیا ہے ” اور یہ وہی جانتا تھا کہ جس طرح اس نے ہمت کی تھی یہ کہنے کی ۔۔
” مصطفی کہاں لے گیا اسے ؟ مجھے بتایا بھی نہیں ” اسکے پاس آتے امل نے الجھ کر پوچھا ۔۔
” وہ اسے اسکے گھر لے کر گیا ہے ۔۔ ” وہ رکا ۔۔ نظر اٹھا کر امل کی جانب دیکھا جو سوالیاں نظروں سےا سے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔
” اسکی ماں کے پاس ” اور ماسٹر کے الفاظ نہیں کوئ جلتا تیزاب تھا جو امل کے دل پر گرا تھا ۔ وہ اتنی ناسمجھ نہیں تھی کہ اسکی بات کا مطلب نہ سمجھ سکے ۔۔
اور کبھی کبھی انسان کا سمجھدار ہونا بھی بہت بڑی سزا ہوتا ہے ۔۔
امل کو لگا اسے وہی سزا مل رہی ہے ۔۔
” تم ۔۔ تم ایسا نہیں کر سکتے نائل شاہ ۔۔ وہ میرا بیٹا ہے ” میز پر دونوں ہاتھ زور سے مارتے اس نے کہا ۔۔ اسکی یہ تڑپ یہ تکلیف دیکھ کر وہ بھی تڑپا تھا مگر ظاہر نہ کر سکا ۔۔ اسے امل کو سنبھالنے کے لئے خود کو سنبھالنا تھا پہلے ۔۔
” یہ اسکی سیفٹی کے لئے ہے امل ۔ میرا بیٹا بن کر رہا تھاوہ ہزاروں لوگوں کی نظروں میں رہے گا ۔۔ میری کمزوری بنا دیا جائے گا اور پھر اسے کوئ بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتا ہے ۔۔ میں اپنے بیٹے کو اتنے خطرے میں نہیں رکھ سکتا ۔۔ مجھے اسکی سیفٹی کے لئے اگر اسے خود سے الگ بھی رکھنا پڑا تو مں رکھونگا “
اور اسے کاندھوں سے تھامے کہہ رہا تھا جبکہ امل نے اگلے ہی لمحے اسکے دونوں ہاتھوں کو جھڑکا ۔۔
” کونسی اولاد اپنے ماں باپ سے دور ہوکر سیف رہتی ہے ماسٹر ۔۔ ” آواز اب تھوڑی اونچی ہوئ تھی ۔
” میری ” اور ماسٹر کا ایک لفظ اسکے اپنی جگہ ساکت کر گیا تھا ۔ کیا وہ صرف اسکی اولاد تھی ؟
” میں اسکی ماں ہوں ۔۔ وہ میرا بھی بیٹا ہے اور میں اپنا بیٹا اپنے پاس چاہتی ہوں ماسٹر” لہجے میں سختی لئے اس نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے کہا ۔
” یہ نہیں ہوسکتا امل ۔۔ وہ لوگ اب اب تک شہر سے دور چلے گئے ہونگے ۔ اور آحل یہاں تب تک نہیں آئے گا جب تک تم اسکی ماں کے بجائے اسکی آنی بننے کے لئے خود کو تیار نہیں کر لیتی ۔۔ ” اور اسی کے ساتھ وہ وہاں سے جانے لگا تھا کہ امل کے الفاظ نے اسکے قدم روک دیئے ۔۔
” تم پچھتاؤگے نائل شاہ ۔۔ تمہارا یہ فیصلہ ایک دن تمہارا پچھتاوہ بن جائے گا اور اس دن میں تمہیں معا ف نہیں کرونگی ۔۔ ” وہ رکی ۔۔ اسکی جانب دیکھا اور اپنے آنسو صاف کئے ۔
” کبھی نہیں ” اور اسی کے ساتھ وہ تیزی سے اسکے پاس سے گزرتی سٹڈی سے باہر نکل گئ ۔۔ جبکہ جانے کتنے ہی پل امل کے الفاظوں نے اسے جمائے رکھا ۔۔
” یہ میرے بیٹے کی سیفٹی کے لئے ہے ۔۔ میں کبھی نہیں پچھتاؤنگا ۔۔ کبھی نہیں “
ایک یقین تھا ماسٹر کو اپنے فیصلے پر ۔۔ اور اتنا پختہ کے کتنے ہی دن اور مہینوں تک امل کی خاموشی اور اداسی بھی اسے اپنے فیصلے سے ہٹا نہیں پائ تھی ۔۔
لیکن آج ۔۔
آج وہ یقین ٹوٹ گیا تھا ۔۔
آج وہ پچھتایا تھا ۔۔
” تمہارا دل دکھانے کی سزا مل رہی ہے مجھے ۔۔
زندہ ہوں ، پر سانسیں تڑپا رہی ہیں مجھے ۔۔ “
اور اسی کے ساتھ آنسو جو جانے کب سے نکلنے کو بے تاب تھے ۔۔ اب اسکا چہرہ بھگو رہے تھے ۔۔
٭٭٭٭٭
وہ پوری رات اسے جانے کہاں کہاں ڈھونڈتا رہا پر اسکا کوئ نام و نشان نہیں ملا ۔ اب سورج دوبارہ نئے دن کا آغاز کرنے لگا تھا پر اسے اب بھی رات ہی محسوس ہورہی تھی ۔۔ اندھیرا ہی اندھیرا ۔۔
” کہا ں ہو تم امل ۔۔۔ ” خود سے کہتے اس نے گاڑی سڑک کے ایک جانب روکی اور باہر نکلا ۔۔ روشنی آہستہ آہستہ ایک بار پھر پورے شہر میں پھیل رہی تھی مگر انکی زندگی کی روشنیاں تو آہستہ آہستہ مدھم ہی ہوتی جارہی ہیں ۔۔
گاڑی کے فرنٹ سے ٹیک لگاتے اس نے جیب سے موبائل نکالا اور ایک بار پھر امل کا نمبر ڈائل کیا جوکہ کل سے آف آرہا تھا اور اب بھی بند تھا ۔۔
” یہ سب کیا ہورہا ہے ؟ کیوں ہورہا ہے ہمارے ساتھ یہ سب ؟ ” آسمان کی جانب دیکھتے اس نے کہا ۔ آنکھیں ایک بار پھر سرخ ہوئیں ۔۔ کئ دنوں سے مسلسل جاگنے کی وجہ سے آنکھوں کے نیچے گہرے ہلکے پڑ چکے تھے۔ مگر اپنے حلیے یا نیند کی پرواہ ہی کسے تھی ۔ اسے تو پرواہ تھی اپنوں کی ۔۔ وہ اپنے تو ایک ایک کر کے الگ ہورہے تھے ۔۔
” تم کیوں چلی گئ مایا ۔ دیکھو ایک تم گئ تو سب تمہارے پیچھے پیچھے چلے گئے ۔۔
اگر آج تم یہا ں ہوتی ۔۔ اگر آج تم محفوظ ہوتی تو یہ سب نا ہورہا ہوتا ” آنکھیں اب ایک بار پھر نم ہوئیں ۔۔
” تم میری ساتھی ، میری دوست تھی ۔۔ اور دیکھو تم نہیں رہی تو میرے پاس آج کوئ بھی نہیں ہے ۔۔ میں اکیلا ہوں مایا ۔۔
میرا بیٹا چلا گیا اور میری بے بسی دیکھو کہ میں جو خود کو بہت بڑا ہیکر سمجھتا تھا آج اپنے بیٹے تک ہی نہیں پہنچ پارہا ۔۔ ” آنسو کا ایک قطرہ اب اسکی آنکھوں سے لکیر کھینچتا چہرے سے گزرنے لگا ۔۔
” اور اب امل ۔۔ امل بھی چلی گئ ۔ وہ ایسا کیسے کر سکتی ہے ؟ کیسے جاسکتی ہے وہ ہمیں چھوڑ کر ۔ مجھے چھوڑ کو ؟ کیا اسے مجھ پر بھی اعتبار نہیں ؟ ا س نے ایک بار بھی میرے بارے میں نہیں سوچا ۔۔ ” لہجا اب شکوہ کرنے لگا تھا ۔
” اس نے کیوں نہیں سوچا کہ مجھے اسکی ضرورت ہے ۔۔ وہ میرا بھی بیٹا ہے ۔۔ میرا ٓحل ہے وہ میں نے اپنی گود میں کھلایا ہے اسے ۔۔ یہ تنہا اسکا غم نہیں تھا ۔۔ یہ ہمارا غم تھا ۔ ” چہرہ اب بھیگ رہا تھا پر اسے پرواہ نہیں ۔۔ وہ اس پھیلتے اجالے میں خالی سڑک میں ایک مرد ہوکر رورہا تھا ۔۔ شکوہ کر رہا تھا ۔ مایا سے ۔۔ امل سے ۔۔
اور اسے کوئ پرواہ نہیں تھی کسی کے دیکھ لینے کی ۔۔
اسے پرواہ تھی تو سب اس غم کی ۔۔ یہ غم جو اپنوں کی جدائ کا تھا ۔۔
” میرے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے ۔۔ جس سے محبت کرتا ہوں ، جسے اپنا سمجھتا ہوں وہ چھوڑ جاتا ہے مجھے یا پھر دور کر لیا جاتا ہے ۔۔ ” اب ایک تلخ مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر نمودار ہوئ ۔۔
” عنایہ سے محبت ہوئ تو وہ دور ہوگئ ۔۔
تمہیں اپنایا تو تم زندگی چھوڑ گئ ۔۔
آحل کو اپنا بیٹا بنایا تو وہ دور کر لیا گیا ۔۔
اور امل ۔۔
امل تو بہت خاص ہے ۔۔
اسے خاص بنایا تو وہ بھی چلی گئ ؟
بتاؤ میں ا ب کیا کروں ؟ کیا کروں میں اس بے بسی کا ۔۔” وہ کہہ کر خاموش ہوا ۔۔ لیکن اب بھی بول رہے تھے ۔ آنکھیں اب بھی چیخ رہی تھیں ۔۔ ہونٹ اب بھی مسکرا رہے تھے ۔۔
بے بسی ۔۔
یہ بے بسی بہت ظالم شے ہوتی ہے ۔۔ دھوکہ انسان کو توڑ دیتا ہے لیکن بے بسی انسان کو زندہ درگور کر دیتی ہے ۔۔
اور اسے لگا ۔۔
جیسے وہ بھی زندگی درگور ہورہا تھا ۔۔
یا ۔۔
ہونے ہی لگا تھا کہ اچانک اسکا موبائل بجا ۔۔
اپنے آنسو صاف کرتے اس نے اپنا موبائل نکالا ۔۔ کسی انجان نمبر سے میسج آیا تھا ۔۔
اس نے میسیج کھولا ۔۔
اور اگلے ہی پل ۔ آنکھوں میں حیرت ۔۔ پھر چمک ۔۔ اور پھر ایک خوشی کی لہر دوڑی ۔۔
وہ تیزی سے موبائل واپس جیب میں رکھتا ، اپنا چہرہ صا ف کرتے گاڑی میں آکر بیٹھا اور اسے آگے بڑھا دیا ۔۔۔
جانے کس جانب ؟
٭٭٭٭٭٭
وہ نہیں جانتا تھا کہ امل کہاں ہوسکتی ہے ۔۔ شہر کی ہر سڑک اور ہر گلی میں کو دیکھ آیا تھا پر امل اسے کہیں نہیں ملی ۔۔
اس شہر میں ایک یہی گھر تھا اسکا جہاں وہ پہلے اپنے ماں باپ اور اسکے بعد ماسٹر کے ساتھ رہ رہی تھی ۔۔
دوستوں میں مصطفی اور مایا کے علاوہ کوئ نہیں تھا اور دونوں ہی کو نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں ہے ؟
گاڑی دوبارہ امل کے گھر میں روکتے اس نے ایک نظر اس گھر پر ڈالی ۔۔
ایک وقت تھا جب وہ اس گھر کے ہر فر د کو جلا دینے یہاں آیا تھا ۔ پر ایک بچ گیا تھا ۔
اور آج جب وہ جل رہا ہے تو اسے اتنی تکلیف کیوں ہورہی ہے ؟
” تم نہیں ہو تو ایسا لگ رہا ہے جیسے سب ختم ہوگیا ۔ میں تمہارا مجرم تھا ۔ میں آج بھی تمہارا مجرم ہوں امل پر تم سامنے تھی چاہے ماسٹر کی ہی بن کر ، پر تمہیں خوش دیکھ کر میں مطمئن رہتا تھا ۔ لیکن آج جب تم ماسٹر کے ساتھ نہیں ہو تو مجھے کوئ خوشی محسوس نہیں ہورہی کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تم جہاں بھی ہو ، بہت تکلیف میں ہو۔ واپس آجاؤ امل ۔ ہم سب کو اس وقت ایک دوسرے کی ضرورت ہے ۔ ماسٹر کو اس وقت تمہاری ضرورت ہے “
گہری ساتھ لیتے اب وہ گاڑی سے باہر نکلا اور اندر کی جانب چل دیا ۔
٭٭٭٭٭
امل کو گئے آج پانچ دن ہوچکے تھے ۔۔
اور ان پانچ دنوں میں ان سب نےا سے ہر جگہ تلاش کیا تھا پر وہ کہیں نہیں ملی ۔۔
اسکا نمبر بھی مسلسل آف آرہا تھا ۔ جس کی وجہ سے وہ اسے ٹریک نہیں کر پارہے تھے ۔۔
اور جہاں تک بات آحل کی ہے ۔۔ تو اس تک پہنچنے کے لئے دانش تک پہنچنا بہت ضروری تھا ۔۔
لیکن وہ جیسے منظر سے ہی غائب ہوگیا تھا ۔۔ بلکل جمشید شاہ اور زویا کی طرح ۔۔
وہ سب پانچ دن بعد اس بیسمنٹ میں موجود تھے جہاں اس وقت خاموشی کا راج تھا ۔۔ وہ سب گہری سوچ میں گم تھے ۔۔
ماسٹر کی نظر مسلسل اپنے دائیں جانب رکھی کرسی پر تھی جہاں اکثر وہ بیٹھا کرتی تھی ۔۔
لیکن آج وہ خالی تھی ۔
مصطفی اس کرسی سے نظریں چرا رہا تھا جبکہ فرہاد اور عنایہ اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے ۔
” کیوں بلایا ہے آپ نے ہمیں یہاں ” مصطفی کی آواز نے اس خاموشی کو توڑا ۔۔
جبکہ اسکا انداز ماسٹر کے علاوہ وہاں موجود ہر شخص کو حیران کر گیا تھا ۔
” پانچ دن ہوگئے ہیں ۔۔ اب تک کوئ ایپروچ کیوں نہیں ہوئ ہمیں آحل کی جانب ؟ ” اسکا لہجہ اگنور کرتے ماسٹر نے کہاں سب پر مصطفی نے اپنی سرخ نظروں سے اسکی جانب دیکھا ۔۔
” صرف آحل ؟ اور امل ؟ اسے ایپروچ نہیں کرنا آپ نے ؟ ” طنزیہ لہجا تھا ۔۔ ایک بار پھر وہ سب چونکے ۔۔
” اسے کیا ہوا ہے ؟ ” واجد نے فرہاد کی جانب جھک کر سرگوشی کی ۔
” وہ غصے میں ہے ۔۔ اپنا غصہ نکال رہا ہے ” جواب عنایہ کی جانب سے آیا جو بہت سنجیدہ نظر آرہی تھی ۔
” کیا اتنے دن اسے تلاش کرنے کے بعد تمہیں اندازہ نہیں ہوا کہ وہ اپنی مرضی سے گئ ہے ۔۔ اور واپس بھی اپنی مرضی سے آئے گی ” اسکی آنکھوں میں دیکھتے ماسٹر سے سنجیدگی سے جواب دیا اور مصطفی کو جلا گیا تھا ۔۔
اگلے ہی لمحے وہ تیزی سے اپنی کرسی اٹھا اور میز پر دونوں ہاتھ مارتے ماسٹر کی جانب جھکا ۔۔
جبکہ اسکا اچانک یہ درعمل دیکھ کر وہ ب کھڑے ہوگئے سوائے ماسٹر کے جو اب بھی اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ۔۔
اپنے لئے غصہ ، ناراضگی اور شاید نفرت ۔۔
دل میں ایک درد اٹھا جسے وہ اپنے چہرے پر ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتا تھا ۔۔
” وہ اپنی مرضی سے نہیں ۔۔ تمہاری ان ۔سیکیورٹی کی وجہ سے گئ ، تمہارے ڈر کی وجہ سے، تمہارے خاندان کی وجہ سے گئ ہے وہ ۔۔ جس نے پہلے اس سے اسکے ماں باپ چھینے اور اب اسکا بیٹا ۔” وہ جھکا ، ماسٹر کی آنکھوں میں اپنی سرخ آنکھیں گاڑے ۔۔
” وہ تمہیں چھوڑ کر گئ ہے نائل شاہ ۔ ” اور اسی کے ساتھ اگلے ہی لمحے ماسٹر تیزی سے میز پر دونوں ہاتھ مارتا اسکے مزید قریب ہوا ۔۔ آنکھیں اب غصے سے سرخ ہورہی تھیں ۔۔
” تمیز سے بات کرو مصطفی ۔۔ مت بولو کہ تم کس کے سامنے اور کس کے بارے میں بات کر رہے ہوں ” دھیمی لہجے میں دھمکی آمیز لہجے میں کہا ۔۔ جس پر مصطفی کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ دوڑی ۔۔ وہ سیدھا ہوا ۔۔
” اچھی طرح جانتا ہوں کہ تم کون ہو ۔۔ تم کریمنل اسویسٹیگیٹر آفیسر نائل شاہ ہو ۔۔ وہ جسکا اپنا خاندان ہی کریمینل ہے ۔۔ وہ جس کے خاندان نے پہلے میری بیوی کا قتل گیا اور پھر میرے بیٹے کو اغواہ کرلیا ۔”
” وہ میرا بھی بیٹا ہے ” ماسٹر کی جانب سے فوراً کہا گیا جس پر اسکی مسکراہت مزید گہری ہوئ ۔
” کاش ۔۔ کاش نائل شاہ تمہیں یہ یاد کرنے میں آٹھ سال نا لگتے ۔۔ تو آج میری بیوی زندہ ہوتی ۔۔
تمہارا بیٹا اور بیوی بھی تمہارے ساتھ ہوتے ۔۔ پر افسوس ۔۔۔ اب تمہارے پاس کچھ نہیں ہے ۔۔ نا بیٹا ، نا بیوی اور۔۔” وہ رکا اور ایک کارڈ جیب سے نکال کر میز پر رکھا جسے دیکھتے ہی سب کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں ۔۔ یہ وہ کیا کر رہا ہے ۔
” نا ہی مصطفی ” اور اسی کے ساتھ وہ تیزی سے وہاں سے چلا گیا ۔۔ جبکہ سب اپنی جگہ پتھر اس کارڈ کو دیکھ رہے تھے جو ماسٹر کے ہر ٹیم ممبر کے پاس ہوتا ہے ۔۔ جو انکے ماسٹر کی ٹیم ہونے کی نشانی ہے ۔۔
تو کیا وہ ماسٹر کو چھوڑ گیا ہے ؟
” یہ ۔۔ یہ اس نے کیا کیا ؟ ” عنایہ نے بے یقینی سے کہا ۔۔ اتنے سالوں کی دوستی ، اتنے سالوں کا ساتھ وہ ایک لمحے میں کیسے چھوڑکر جاسکتا ہے ۔
” اچھا کیا ۔۔ ” ماسٹر نے کارڈ میز سے اٹھاتے کہا ۔
” ایسے جزباتی لوگوں کی اس ٹیم میں کوئ جگہ نہیں ہے “
اور اسی کے ساتھ وہ بھی وہاں سے چلا گیا ۔۔
” یہ سب اچھا نہیں ہوا ” فرہاد کی جانب سے کہا گیا ۔۔
” مجھے تو اب بھی یقین نہیں آرہا ۔۔ مصطفی نے ٹیم چھوڑ دی؟ ” واجد اب بھی بے یقین تھا ۔۔
” میں نے اسے اتنے غصے میں کبھی نہیں دیکھا ۔۔ یہ صرف غصہ نہیں ہے ۔یہ ناراضگی ہے ۔ وہ ماسٹر سی شدید ناراض ہے ” عنایہ نے کہہ کر گہری سانس لی ۔۔
” اب ہم کیا کریں ؟ ” واجد کی جانب سے سوال ہوا ۔
” وہی جو مصطفی او ر ماسٹر کو کرنا چاہئے ” جواب فرہا د کی جانب سے آیا جس پر دونوں نے اسکی جانب دیکھا ۔۔
” کیا؟ “
” اس آنکھ مچولی کا اختتام ۔۔ صرف یہی ایک طریقہ ہے سب پہلے جیسا کرنے کا ۔۔ ہمیں جلد از جلد آحل تک پہنچنا ہوگا “
اور فرہاد کی بات پر ان دونوں سے سر ہلایا ۔۔
ایک بار پھر ۔۔ وہ اپنے کیس کی جانب متوجہ ہوئے ۔۔ جس میں اب تک انہیں کوئ خاص کامیابی نہیں ہوئ تھی ۔۔
پر ٹیم ٹوٹ جانے کے بعد کیا اب کسی قسم کی کامیابی کے چانسس تھے ؟
کیا وہ تینوں یہ کر سکتے تھے ؟
جواب ان میں سے کسی کے پاس نہیں تھا ۔۔
بس تھا تو ایک جزبہ ۔۔
سب ٹھیک کردینے کا ۔۔
اس ٹیم کو دوبارہ جوڑ دینے کا ۔۔
