Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2 NovelR50556 Koi Sath Ho (Episode 04,05)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 04,05)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2
دل کی دھڑکن سے بہترین دوست بھی شاید ہی کوئی اور ہوسکتا ہے ۔۔ دھڑکن ۔۔ محسوس کرو تو بس ایک آواز یا احساس ۔۔ سائنس کی بات کرو تو بس پمپنگ ۔۔ مگر کبھی سوچا ہے ۔۔ یہ ایک دھڑکن کتنے ہی معاملوں میں ایک بہترین دوست کی طرح مشورہ دیتی ہے ۔۔ آنے والے وقت کے لئے تیار کرتی ہے ۔۔ کچھ برا ہونے والا ہو ۔۔ یا کچھ خطرناک ہو ۔۔ کوئی کام غلط کرنے والے ہوں یا کوئی خوشی ملی ہو؟ محبت ہو یا نفرت ہو ۔۔ غصہ ہو یا پیار ۔۔ یہ دل اور اس دل کی دھڑکن ۔۔ ہر معاملے میں پہلے ہی خبردار کردیتی ہے ۔۔ مگر یہ انسان ۔۔ یہ سمجھ ہی نہیں پاتا کچھ بھی ، اور اگر سمجھ بھی جائے تو وہ اسکی سنتا ہی نہیں ہے ۔۔ اب اگر دل چلا چلا کر کہہ رہا ہو کہ یہ کام غلط ہے ۔۔ مت کرو ۔۔ تو کون سنتا ہے اسکی ؟ کوئی نہیں ۔۔ اب اگر دل دھڑک رہا ہو ۔۔ کہ یہاں خطرہ ہے تو کون سنتا اسکی ؟ کوئی نہیں ۔۔ ہاں اب اگر بات نفس کی آجائے ۔۔ تو دل کی چاہت کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اور پھر ہر گناہ اور نقصان کے بعد کہا جاتا ہے کہ دل سے مجبور تھا ۔۔ کوئی پوچھے ذرا ۔۔ جب دھڑکن چیخ چیخ کر روکنا چاہتی تھی تو کوئی سنتا نہیں تھا ۔۔ اور جب نقصان کر بیٹھے ۔۔ تو ہائے ۔۔ یہ دل کا قصور ہے سب ۔۔ اب سوچو تو انسان تو اپنے دل کے ساتھ ہی مخلص نہیں ۔۔ تو پھر کسی اور کے ساتھ کیا ہوگا ؟
اب اگر ہسپتال کے تیسرے فلور کی جانب آیا جائے ۔۔ تو یہاں بھی دلوں کی الگ الگ ہی کہانیاں تھیں ۔۔ الگ الگ ہی احساسات تھے ۔۔
مصطفی کرسی پر سر جھکاتے بیٹھا ۔۔ ضبط سے لال آنکھیں اور چہرہ ، بکھرے بال ، دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنسائے ۔۔ وہ جانے کب سے اسے طرح بنا کسی حرکت کے زمین کو تک رہا تھا ۔۔ مگر شاید وہ زمین کو نہیں دیکھ رہا تھا ۔۔ نظر اور دماغ تو کہیں اور ہی تھا۔۔ اور دل ۔۔ دل کی دھڑکن ۔۔ خاموش ۔۔۔ ویران ۔۔ ہر احساس سے انجان۔۔
اسی کے سامنے دائیں بائیں چکر لگاتی امل ۔۔ بھیگا چہرہ ، بکھرے بال ، رونے سے لال ہوتی آنکھیں ، اور بے چینی ۔۔۔ ہتھیلیوں کو مسلتے جانے کب سے وہ چکر لگا رہی تھی ۔۔ اور دل ۔۔ تیزی سے دھڑک رہا تھا ۔۔ کچھ مزید برا ہوجانے کے ڈر سے ۔۔ کچھ کھو دینے کے ڈر سے ۔۔
جبکہ یہاں سے کچھ دور اس کاریڈار کی دوسری جانب آؤ جہاں پولیس آفیسرز اور انہیں کے درمیان کھڑا ماسٹر چہرے پر انتہائی سنجیدگی ، لال آنکھیں ، لمبے کانوں تک آتے مگر بکھرے بال ، شرٹ کی آئیستین فولڈ کئے ایک پولیس آفیسر سے ہاتھ ملا رہا ہے ۔۔
“یہ کیس سیکریٹ رکھا جائے گا ۔۔ اگر خبر باہر نکلی تو اگلا قدم میں خود اَٹھاؤنگا ‘‘ سنجیدگی سے کہتے اس نے آفیسر کا ہاتھ چھوڑا ۔
“آپ فکر مت کریں ۔۔ جیسا آپ نے کہا ہے بلکل ویسا ہی ہوگا ‘‘ اسے جواب دیتے وہ سب اب باہر کی جانب بڑھے جبکہ ماسٹر کی نظر سامنے بیٹھے مصطفی اور چکر لگاتی امل پر پڑی ۔۔ ایک گہری سانس لے کر اور جانے کتنی ہی ہمت جمع کرتے ہوئے اس نے انکی جانب قدم بڑھائے ۔۔ مگر دل ۔۔ دل کی دھڑکن تیز تھی ۔۔ا تنی کہ کانوں تک سنائی دے رہی تھی ۔۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے کچھ اور برا بھی ہونے والا ہے ۔۔ جیسے کچھ مزید خطرناک ۔۔
“اسے پوسٹ مارٹم کے لئے ہماری سیکریٹ پلیس پر لے گئے ہیں ‘‘ مصطفی کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اس نے جھجھک کر کہا۔۔ یہ زندگی میں پہلی بار تھا جب اس طرح کی لائن بولتے ہوئے اسے اتنی تکلیف ہورہی تھی ۔۔ ورنہ وہ مختلف کیسس میں ایسی لائنز اکثر ہی کہتے اور سنتے تھے ۔۔۔
“تم ٹھیک ہو ؟ ‘‘ مصطفی کی جانب سے کوئی درعمل نہ آتے دیکھ کر ماسٹر نے اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھتے پوچھا ۔۔
“مصطفی ؟ ‘‘ اس نے اسکا نام لیا ۔۔ مگر وہ تو جیسے کسی اور ہی جہان میں تھا ۔۔ جیسے پتھر بنا بیٹھا تھا ۔۔ جسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا ۔ کچھ کہا نہیں جارہا تھا ۔۔
سامنے موجود روم کا دروازہ کھلا اور ایک ڈاکٹر نرس کے ساتھ باہر آیا ۔۔ امل فوراً اسکی جانب بڑھی ۔۔
“وہ ٹھیک ہے نا ڈاکٹر ‘‘ کیسی تڑپ تھی اسکی آواز میں ۔۔
“جی ۔۔ وہ بہتر ہے ۔۔ ایکچولی اس معصوم ذہن کو بہت بڑا شاکٹ لگا ہے جسے وہ برداشت نہیں کر پارہا ۔۔ اور پھر جو اس نے دیکھا ہے اسکے بعد اسے سنبھلنے میں وقت لگ سکتا ہے ۔۔ ابھی وہ نیند کے انجیکشن کی وجہ سے سورہا ہے مگر اسکے ہوش میں آنے کے بعد کوشش کیجئے گا کہ اسکے سامنے کوئی ایسی بات نہ کریں کہ وہ مزید پریشان ہو ۔۔ ورنہ اسکے لئے خطرہ ہوسکتا ہے ‘‘ اور یہ ڈاکٹر کے الفاظ کا اثر ہی تھا کہ مصطفی سے سر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا ۔۔
“میں اسے کچھ نہیں ہونے دونگا ‘‘ سنجیدگی سے کہے گئے مصطفی کے الفاظ جانے کیوں اتنے پرتپش تھے ۔۔ جسکی حبس امل اور ماسٹر ۔۔ دونوں ہی نے محسوس کی ۔۔
“میں اسے دیکھتی ہوں ‘‘ امل کہہ کر روم کے اندر گئی جبکہ مصطفی اب اپنی جگہ سے کھڑا ہوا ۔۔
“خود کو سنبھالوں مصطفی ۔۔۔ یہ وقت بہت مشکل اور تکلیف دہ ضرور ہے مگر تم جانتے ہو کہ یہی وقت ہوش میں رہ کر آگے بڑھنے کا بھی ہے ۔۔ ورنہ جزبات ہمیں مزید نقصان پہنچائینگے ‘‘ وہ اسے سمجھا رہا تھا ۔۔ اور شاید مصطفی سمجھ بھی رہا تھا ۔۔
“فکر مت کریں ماسٹر ۔۔۔ جزبات میں بہہ کر اپنا نقصان کرنے کے بجائے انہیں جزبات کو اپنی طاقت بنا کر مزید نقصان ہونے سے روکنا ایک ہنر ہے ۔۔ اور مصطفی کو یہ ہنر آپ نے ہی سکھایا ہے ۔۔ جسے وہ کبھی نہیں بھولا ‘‘ ایک پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے ماسٹر کو دیکھتے کہا ۔۔ اور یہ ماسٹر ہی تو تھا جس نے اسے مسکراہٹ کے پردے میں درد چھپانا سکھایا تھا ۔۔ اور اپنا سکھایا ہوا ہنر وہ کیسے نہیں پہچان سکتا تھا ۔۔
“ہم اسے انصاف دلائینگے ۔۔ تم تیار ہو ؟ ‘‘ اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ماسٹر نے اس سے ایک سوال کیا ۔۔ ایک ایسا سوال ۔۔ جو انصاف کے نئے سفر کے آغاز کی شروعات تھا ۔۔ ایک ایسا سفر ۔۔ جس پر پہلے بھی وہ چل چکے تھے ۔۔
“مصطفی انصاف ہی کے لئے تو بنا ہے ماسٹر ۔۔ کیسے تیار نہیں ہوگا ‘‘ وہ ایک بار پھر مسکرایا ۔۔ ضبط کرتی مسکراہٹ ۔۔
اور ماسٹر یہ ضبط توڑنا چاہتا تھا ۔۔ اس لئے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا اور شاید مصطفی کو اسی کا انتظار تھا ۔۔ اور اسی کے ساتھ ۔۔ کتنی ہی دیر سے روکے آنسوؤں کا سیلاب ماسٹر کے کاندھے میں بہنا شروع ہوا ۔۔ ایک ایسا سیلاف جس نے اپنے ساتھ بہت کچھ بہا لے جانا تھا ۔۔ درد ۔۔ تکلیف ۔۔ترپ۔۔ سب ۔۔
اب اگر اس ہسپتال کے باہر سڑک کی دوسری جانب موجود اس بلیک کرولا کہ جانب آؤ تو ایک شخص نے اپنے موبائل سے کسی کو کال ملا کر موبائل کان سے لگایا ۔۔
“سب نارمل ہے ۔۔ باڈی کو پوسٹ مارٹم کے لئے لے کر جایا گیا ہے ‘‘ وہ رکا ۔۔
“جی ۔۔ فکر مت کریں ۔۔ انہیں بس وہی ملے گا جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ ہونٹوں پر دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔۔
“اوک ‘‘ اور اسی کے ساتھ موبائل کان سے ہٹایا ۔۔ اور گاڑی تیزی سے آگے بڑھائی ۔۔
٭٭٭٭
یہ صبح کے دس بجے کا وقت تھا جب ہسپتال کے اس کمرے میں آحل بیڈ پر لیٹا سورہا تھا جبکہ امل اسکے ساتھ ہی ٹیک لگائے بیٹھی اسکے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی ۔۔ ماسٹر کل رات ہی مصطفی کو یہاں سے لے گیا تھا ۔۔ جبکہ امل آحل کے ساتھ رہی ۔۔
“مم ۔۔ ماما ‘‘ آحل کے ہونٹوں سے یہ لفظ سنتے ہی وہ سیدھی ہوئی ۔۔ شاید انجکشن کا اثر ختم ہوگیا تھا ۔۔
“آحل ۔۔ سو جاؤ بیٹا۔۔ سب ٹھیک ہے ‘‘ اسکے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے کہا جبکہ آحل کے چہرے پر اب گبھراہٹ کے تاثرات آئے ۔۔
“نہیں ۔۔ ماما ۔۔ میری ماما کو بچاؤ ۔۔ ماما ‘‘ وہ شاید کسی خواب کے زیرِاثر تھا ۔۔
“آحل ۔۔ اٹھو بیٹا ۔۔ اٹھو ‘‘ اسے خواب سے جگانا ضروری تھا ۔۔
“ماما ۔۔ نہیں ۔۔ ماما ‘‘ وہ اب باقاعدہ چیخنے لگا ۔۔ جبکہ آحل کی چیخ امل کے دل کو چیرنے لگی تھی ۔۔
“اٹھو آحل ۔۔ آنکھیں کھولوں ۔۔ کچھ نہیں ہوا ماما کو ۔۔ ٹھیک ہیں وہ ‘‘ وہ اب اسے جنجھوڑ کر کہہ رہی تھی اور شاید اسی وجہ سے اسکی آنکھیں کھل بھی گئیں ۔۔
“سب ٹھیک ہے ۔۔ لو پانی پیو ‘‘ سائیڈ ٹیبل سے اس نے پانی کو گلاس اٹھا کر اسے دیا ۔۔
“نہیں ۔۔ مجھے ماما کو دیکھنا ہے ۔۔ مجھے ماما کے پاس لے جائیں ۔۔ کیا ہوا انہیں ‘‘ وہ روتے ہوئے کہہ رہا تھا جبکہ اسکا ایک ایک آنسو امل کی آنکھوں کو بھی بھگونے لگا ۔۔
“دیکھو ۔۔ آپ تو اپنے پاپا کی طرح بہادر ہونا ۔۔ پانی پیو ۔۔ شاباش ‘‘ اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے کہا اور اسے پانی پلایا ۔۔
“ماما کہاں ہیں ؟ مجھے انکے پاس جانا ہے ‘‘ وہ پانی کا گلاس رکھتے ہی دوبارہ رونے لگا تھا جبکہ امل کو اب کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔
“بلکل جائینگے ہم انہیں دیکھنے ۔۔ ‘‘ ماسٹر کی آواز پر ان دونوں نے سامنے دیکھا ۔۔ جہاں وہ سفید شلوار قمیض پہنے ، لال آنکھیں جو ساری رات جاگنے کی گواہی دے رہی تھیں ، چہرے پر ایک جھوٹی اور اداس مسکراہٹ لئے انکی جانب آیا ۔۔
“مگر آپکو مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہوگا ‘‘ بیڈ کے ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوئے اس نے کہا ۔۔
“کیسا وعدہ ؟ میں سب کرونگا ۔۔ مجھے پلیز ماما کے پاس لے جائیں”
“آپ جانتے ہونا اللہ کو جو لوگ اچھے لگتے ہیں وہ انہیں اپنے پاس بلا لیتا ہے ۔۔ ‘‘ اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے ماسٹر نے کہا جس پر آحل نے فوراً سر ہلایا ۔۔
“اور وہاں وہ انکو جنت میں رہنے کے لئے بھیج دیتا اور جنت تو بہت ہی پیاری جگہ ہے نا ۔۔ جہاں ہم سب جانا چاہتے ہیں ؟ ‘‘ اس نے مسکرا کر کہا جس سے اسکے چہرے پر ڈمپلز نمودار ہوئے ۔۔
“ماما بھی چلیں گئیں نا وہاں ؟ ‘‘ اور یہ وہ سوال تھا جسکا جواب ماسٹر کے لئے دینا بہت تکلیف دہ تھا ۔۔
“ہاں ۔۔ اور اب ہم سب انہیں سی آف کرنے جائینگے ۔۔ آپ بھی کروگے نا آحل ؟ ‘‘ جواب آمل کی جانب سے آیا تھا ۔۔جس پر ماسٹر نے اسکی جانب دیکھا ۔۔ وہ مسکرا کر آحل سے پوچھ رہی تھی ۔۔
“وہ کبھی واپس نہیں آئینگی ؟ میں کبھی انہیں نہیں مل سکونگا ‘‘ وہ ایک بار پھر رونے لگا ۔۔۔
“کس نے کہا کہ وہ نہیں آئینگی ؟ ‘‘ ماسٹر کے کہنے پر آحل نے اسکی جانب امید سے دیکھا ۔۔
“پتہ ہے جب ہم کسی اپنے کے دنیا سے جانے پر روتے ہیں نا تو ہمارا ایک ایک آنسو اسکے لئے تکلیف کا باعث ہوتا ہے ۔۔ کیا آپ اپنی ماما کو تکلیف دینا چاہتے ہو ؟ کیا آپ چاہتے ہو کہ وہ جنت میں بھی اداس رہیں ؟ ‘‘ ماسٹر کےسوالات پر آحل نے فوراً انکار میں سر ہلایا ۔۔
“تو پھر ۔۔ جب آپ روؤگے نہیں ۔۔ تو وہ بھی خوش رہینگی ۔۔ اور پھر وہ آپ سے ملنے آپکے خواب میں بھی آئینگی ‘‘ اور ماسٹر کے اس جملے پر آحل نے فوراً سے اپنا چہرہ اور آنکھیں صاف کیں ۔۔
“میں نہیں روؤنگا ۔۔ میں بلکل نہیں روؤنگا ۔۔”
“مگر صرف نہ رونے سے کچھ نہیں ہوگا ‘‘ اب امل کی جانب سے کہا گیا جس پر دونوں ہی کی نظریں اس پر گئیں ۔۔
“آپکو اپنی ماما کا بہادر اور مضبوط بیٹا بن کر رہنا ہے ۔۔ آپنے اپنے پاپا کو سنبھالنا ہے ۔۔ انہیں سپورٹ کرنا ہے تاکہ وہ ان لوگوں کو سزا دیں سکیں جنہوں نے آپکی ماما کو ہرٹ کیا ۔۔ آپ بھی انہیں سزا دینا چاہتے ہو نا ؟ ‘‘ اور امل کے سوال پر ایک بار پھر اقرار میں سر ہلا۔۔
“تو پھر آج سے آپنے رونے کے بجائے اپنے پاپا کو سپورٹ کرنا ہے ۔۔ انکو بتانا ہے کہ آپ انکے ساتھ ہیں ۔۔ تاکہ وہ بھی ایک سٹرانگ بیٹے کے سٹرانگ پاپا کی طرح ایک بار پھر برے لوگوں کو پکڑ کر انہیں سزا دیں ۔۔ اور پھر وہ پہلے کی طرح خوش رہ سکیں ۔۔ ماما انہیں آپکے لئے چھوڑ کر گئیں ہیں آحل ۔۔ اپنے پاپا کا ساتھ دوگے نا آپ ؟ ‘‘ اور امل کے الفاظ پر ماسٹر کے ہونٹ مسکرائے ۔۔ اور یہ شاید پہلی بار تھا جب مصطفی کا ذکر اسکے منہ سے اسے برا نہیں لگا تھا ۔۔ آج پہلی بار اسے مصطفی اور آحل کے لئے امل کی فکر اچھی لگی تھی ۔۔
آج اتنے سال بعد اسے احساس ہوا کہ وہ آج بھی ویسی ہی تھی ۔۔ بہادر ۔۔ اور پوزیٹو ۔۔
“آپ فکر مت کریں ۔۔ میں پاپا کا ساتھ دونگا ۔۔ انکی مدد بھی کرونگا ۔۔” ایک عزم کے ساتھ آحل نے کہا ۔
“چلو پھر ڈن ہوا ۔۔ ہم میں سے اب کوئی نہیں روئے گا ۔۔ ہم سب مل کر انہیں پکڑینگے ۔۔ ہم سب ساتھ لڑینگے۔۔ ایک ٹیم بن کر ۔۔ پرامس ‘‘ اور اسی کے ساتھ امل نے مسکرا کر اپنا ہاتھ آگے کیا ۔۔
“پرامس ‘‘ آحل نے اپنا ہاتھ امل کے ہاتھ میں رکھتے کہا ۔۔
“پرامس ‘‘ ماسٹر نے آحل کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے کہا ۔۔
“پرامس ‘‘ اور مصطفی جو جانے کب سے دروازے پر کھڑا انکی باتیں سن رہا تھا ۔۔ آگے بڑھ کر اپنا ہاتھ ماسٹر کے ہاتھ پر رکھتے کہا ۔۔ جس پر ان سب کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آئی ۔۔ اداس مسکراہٹ ۔۔ جھوٹی مسکراہٹ ۔۔ یا پھر ۔۔ بہادر مسکرہٹ ۔۔
“ہاں ۔۔ یہ مسکراہٹ ہی تو ہے جو کبھی کبھی ہمیں اتنا بہادر اور مضبوط بنا دیتی ہے کہ درد میں بہنے والے آنسوؤں کی بھی مات ہوتی ہے ۔۔
“تو پھر چلیں ‘‘ آحل کا ہاتھ پکڑ کر امل نے اسے بیڈ سے اتارا۔۔ وہ سب اب جارہے تھے ۔۔ مایا کے جنازے کے لئے ۔۔
“پوسٹ مارٹم کی ریپورٹ کب آئیگی ؟ ‘‘ ماسٹر نے پیسنجر سیٹ پر بیٹھتے کہا ۔۔ جبکہ امل اور آحل پیچھے اور مصطفی ڈرائیونگ سیٹ پر تھا ۔
“شام تک آجائیگی ‘‘ امل نے بیک مرر سے دیکھا ۔۔ مصطفی کا چہرہ بے تاثر تھا ۔۔ مگر وہ سب ہی جانتے تھے کہ یہ بھی ایک پردہ تھا ۔۔
“اوک ‘‘ اور اسی کے ساتھ گاڑی میں خاموشی چھا گئی ۔۔
جبکہ کچھ دیر بعد ہی اچانک ۔۔ کسی خیال نے امل کو چونکایا ۔۔
“وہ ۔۔۔ ‘‘ امل کے کہنے پر مصطفی اور ماسٹر دونوں ہی اسکی جانب متوجہ ہوئے ۔۔ جبکہ آحل کھڑکی سے باہر اداس نظریں آسمان پر ٹکائے بیٹھا تھا ۔۔
“وہ کیا ؟ ‘‘ اسے خاموش پاکر ماسٹر نے کہا ۔۔
“کیا اسے بتا دیا ؟ ‘‘ اور یہ ایک ایسا سوال تھا جس پر پہلے ماسٹر اور مصطفی الجھے اور پھر ۔۔ جیسے اسکا مطلب سمجھ آیا تو دونوں ہی نے ایک دوسرے کی جانب چونک کر دیکھا۔۔ اسے تو وہ بھول ہی گئے تھے ۔۔
“اسے لے آئیں ۔۔ یہ اسکا حق ہے ‘‘ اور ایک بار پھر اس گاڑی میں خاموشی چاہ گئی ۔۔ اب کوئی بھی کچھ کہنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا ۔۔ کیونکہ اب ۔۔ ہمت جمع کرنے کا وقت تھا ۔۔ آنے والے وقت کے لئے ۔۔ آنے والے شخص کے لئے ۔۔
٭٭٭٭
یہ مصطفی کے فلیٹ کے باہر کا منظر ہے ۔۔ جہاں سفید کپڑوں میں کچھ مرد ایک گروپ کی شکل میں آگے کی جانب چل رہے ہیں ۔۔ اگر سب سے آگے دیکھا جائے ۔۔ تو وہ ایک جنازہ ہے جسے کاندھے پر لے جایا جارہا ہے ۔۔ سب سے آگے دائیں جانب موجود کاندھا ہے ماسٹر کا ۔۔ چہرے پر دنیا جہان کی سنجیدگی ، آنکھوں میں اداسی لئے ۔۔ آہستہ آہستہ آگے قدم بڑھا رہا ہے ۔۔ بائیں جانب مصطفی ۔۔ چہرے پر ماسٹر جیسی ہی سنجیدگی اور سرخ آنکھیں جو جانے کتنا ضبط کر رہیں ہیں ۔۔ مصطفی کے ساتھ چلتا یہ آٹھ سال کا آحل ۔۔ آنکھیں نم ، مگر خود کو رونے سے روکنے کی بھرپور کوشش میں سرخ پڑتا چہرہ ۔۔ وہ اس وقت انہیں جیسا لگ رہا ہے ۔۔ جانے کتنے کی قدموں کا فاصلہ طے کرتے قبرستان کے قریب پہنچے تھے جب پولیس کی گاڑی انکے سامنے رکی ۔۔ اور اسی کے ساتھ انکے بڑھتے قدم بھی رکے۔۔ جیسے وہ پہلے ہی تیار تھے ۔۔ رکنے کے لئے ۔۔ اور پھر ۔۔ دو پولیس آفیسرز کے ہمراہ ایک شخص گاڑی نے باہر نکلا ۔۔ ٹوٹا ہوا ۔۔ بکھرا ہوا ۔۔
ماسٹر اور مصطفی نے اسکی جانب دیکھا ۔۔ اور وہ ۔۔ وہ انہیں نہیں دیکھ رہا تھا ۔۔ وہ تو انکے کاندھے میں موجود اس جنازے کو دیکھ رہا تھا۔۔ اور یہ بس وہی جانتا تھا کہ اس منظر نے اسکی آنکھوں کو کتنا جلایا تھا ۔۔ اتنا کہ آنکھیں جلنے سے بھرنے لگی تھیں ۔۔ لال سرخ آنکھوں نے آنسوؤں کی بارش جانے کب شروع کی ۔۔ اسے احساس ہی نہیں ہوا ۔۔ اسے بس اتنا محسوس ہوا کہ ایک آفیسر نے اسکے ہاتھ میں لگی ہتھکڑی کھولی ۔۔ اور وہ ۔۔ بھاری قدموں سے آگے بڑھا ۔۔ جانے کب وہ ماسٹر کے قریب پہنچا ۔۔ جانے کب ماسٹر نے پیچھے ہٹ کر اسے آگے آنے کا راستہ دیا ۔۔ جانے کب اس نے جنازے کو کاندھا دیا ۔۔۔ جانے کب ؟ جانے کب وہ قبرستان پہنچے ۔۔ اور جانے کب وہ ہاتھ جن میں کچھ دیر پہلے ہتھکڑی تھی اب اس قبر پر مٹی ڈال رہے تھے ۔۔
اور اسے آج احساس ہوا ۔۔ اگر ہاتھوں سے ہتھکڑی اتار کر کسی اپنے کی قبر کی مٹی دے دی جائے ۔۔ تو ہتھکڑی سے محبت ہوجاتی ہے جبکہ یہ مٹی ہاتھ جلا دیتی ہے ۔۔۔ اور آج ۔۔ اسکے ہاتھ بھی جل رہے تھے ۔۔ اتنے کے وہ بیان نہیں کر سکتا تھا ۔۔
“مامو ‘‘ کسی کی آواز اسے سوچوں کی دنیا سے باہر لائی ۔۔ اسے احساس ہی نہیں ہوا کہ کب وہ لوگ قبرستان سے باہر نکلے اور اب ۔ وہ دوبارہ پولیس کی اس گاڑی کی جانب جارہا تھا ۔۔ اس نے پلٹ کر دیکھا ۔۔ وہ آٹھ سال کا بچہ اس کے سامنے کھڑا تھا ۔۔ جسے اکثر اس نے تصاویر میں دیکھا تھا ۔۔ کتنا معصوم ۔۔ مگر کتنا بہادر تھا ۔۔ بلکل اپنی ماں کی طرح ۔۔ بلکل اپنے باپ کی طرح ۔۔
“تم ٹھیک ہو ؟ ‘‘ گٹنوں کے بل زمین میں بیٹھ کر اس سے پوچھا ۔۔
“میں ٹھیک ہوں ۔۔ آنی نے کہا ہے کہ ہمیں رونا نہیں ہے بلکہ ہم نے تو ماما کو ہرٹ کرنے والوں کو ڈھونڈ کر سزا دینی ہے ۔۔ اس لئے مامو ۔۔ پلیز آپ بھی مت روؤ ‘‘ اپنے چھوٹے سے ہاتھوں سے اسکے چہرے کے آنسو صاف کرتے ہوئے اس نے کہا ۔۔
“تمہارا مامو تمہاری طرح بہادر نہیں ہے نا ۔۔ اسے بہت رونا آرہا ہے ۔۔ بہت درد ہورہا ہے ‘‘ وہ بے بسی سےبولا ۔۔ ویسی ہی بے بسی جیسی آٹھ سال پہلے اس نے سہی تھی ۔۔ ہاں ۔۔ ایک بار پہلے بھی ایسا ہی درد ہوا تھا ۔۔ وہ اسی طرح رویا تھا ۔۔ تب ۔۔ جب اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنی محبت پر ظلم کیا ۔۔ اور آج ۔۔ آٹھ سال بعد پھر سے اسے ویسا ہی درد ہوا ۔۔ وہ ویسے ہی رونا چاہتا تھا ۔۔ پر آج ۔۔ آج ظلم اسکے اپنے پر ہوا ۔۔ آج کوئی اور اسکے اپنے کے لئے ظالم ہوگیا ۔۔
“پاپا کہتے ہیں ۔۔ کبھی کبھی کسی اپنے کے کاندھے پر اپنے سارے آنسو بہا دینے چاہئے ۔۔ اس سے دل کا بوجھ بھی ہلکا ہوجاتا ہے اور تکلیف بھی کم ہوجاتی ہے ‘‘ وہ اب ایک قدم اسکے قریب آیا ۔۔
” آنی نے بتایا کہ پاپا ماسٹر کے کاندھے پر روئے ، میں آنی کے ۔۔ اب آپ میرے کاندھے پر رو لو ‘‘ اور یہ پرورش اور حالات ہی تو ہوتے ہیں جو کم عمری میں ہی بڑی بڑی باتیں سکھا دیتے ہیں ۔۔ اور باتیں بھی ایسی جو دل کو چھو لیں ۔۔ اور سامنے موجود اسکے مامو کے دل کو بھی چھو لیا گیا تھا ۔۔
اس نے آحل کو گلے لگایا اور اپنے سارے آنسو اسکے کاندھے میں بہائے ۔۔
جبکہ یہاں سے کچھ دور کھڑےماسٹر اور مصطفی نے یہ منظر دیکھتے ہی اپنی نظریں پھیر لیں ۔۔
“کیا ہم اسے سوئم تک روک نہیں سکتے ؟ ‘‘ مصطفی کے کہنے پر ماسٹر نے ایک بار پھر آحل کے گلے لگ کر روتے اس شخص کی جانب دیکھا ۔۔
“یہ فیصلہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے ‘‘ ماسٹر نے اسکی جانب دیکھ کر کہا ۔۔
“اس سے پوچھ لیتے ہیں ۔۔ پتہ نہیں کیوں مگر ۔۔ اس وقت وہ اکیلا ہے بہت ۔۔ اسے ہماری نہ سہی پر آحل کی ضرورت ہوگی ‘‘ مصطفی نے کہا جبکہ ماسٹر اسکی بات کو اچھےسے سمجھ رہا تھا ۔۔
“میرا پوچھنا ٹھیک نہیں ہے ۔۔ تم پوچھ لو ‘‘ سنجیدگی سے کہتےماسٹر اب انکی جانب بڑھا ۔۔ جبکہ مصطفی نے ایک گہری سانس لے کر امل کو کال ملائی ۔۔
“ہاں مصطفی کہو ‘‘ امل کی سنجیدہ آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی ۔۔
“سب چلے گئے ؟”
“نہیں ۔۔ پر میں نے بتا دیا ہے سب کو کہ ہم یہ گھربند کر رہے ہیں ۔۔ تو اب تھوڑی دیر میں سب چلے جائینگے ‘‘ امل نے لاؤنچ میں بیٹھی کچھ خواتین کو دیکھتے کہا ۔۔
“گڈ ۔۔ وہ امل ‘‘ وہ تھوڑا ہچکچایا ۔۔
“ہاں کہو ؟”
“میں ۔۔ مجھے تم سے اجازت چاہئے ‘‘ اسے خود بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ یہ بات کیسے کرے ؟ امل سے اسے کچھ دن کے لئے رہا کرنے کی بات کرنا بہت مشکل تھا ۔۔ آخر وہ امل کا مجرم تھا ۔۔ اور اسے ڈر تھا کہ وہ کہیں اسے خودغرض نہ سمجھ لے ۔۔
“اسے لے آؤ مصطفی ‘‘ اور امل کے الفاظوں نے اسے چونکایا ۔۔
“کیا کہا تم نے ؟ ‘‘ اسے جیسے یقین نہ آیا ۔۔
“میں اس سے ملنا چاہتی ہوں ۔۔ اسے لے آؤ ‘‘ اور اسی کے ساتھ امل نے کال کٹ کر دی تھی ۔۔ جبکہ دوسری جانب موجود مصطفی حیران تھا ۔۔ وہ اس سے کیوں ملنا چاہتی ہے ؟
••••••••
یہ شام کے سات بجے کا وقت تھا جب امل اپنے گھر کے لاؤنچ میں بیٹھی ان سب کی واپسی کا انتظار کر رہی تھی ۔۔ وہ قبرستان کے بعد سے واپس نہیں آئے تھے ۔۔ وجہ مہمانوں کو جلدی رخصت کرکے یہاں آنا تھا ۔۔۔ انہیں اس وقت کسی کی تعزیت نہیں ۔۔ بلکہ انصاف کی ضرورت تھی ۔۔
“کہاں رہ گئے یہ لوگ ؟ ‘‘ دائیں بائیں چکر لگاتےہوئے وہ بڑبڑائی ۔۔
“ہمارا انتظار ہورہا ہے ؟ ‘‘ ماسٹر کی سنجیدہ آواز پر اسکے قدم رکے ۔۔
“اتنی دیر لگا دی آنے میں ؟ کہاں تھے تم لوگ ؟ ‘‘ اس کے پاس پہنچ کر اس نے فکرمندی سے پوچھا ۔
“کیا میں یہ سمجھو کہ تمہیں میری فکر ہے ؟ ‘‘ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نائل نے کہا ۔۔ اور امل کی زبان کچھ لمحےکے لئے رک گئی ۔۔ آج کتنے ہی عرصے بعد اس نےماسٹر کا یہ انداز دیکھا تھا ۔۔ کیسی امید ۔۔ کیسی خواہش تھی آج اسکی آنکھوں میں ۔۔ جس پر امل نے نظریں چرائی ۔۔
“تم جاکر فریش ہوجاؤ ۔۔ میں چائے بناتی ہوں ‘‘ وہ کہہ کر آگے بڑھنے لگی جب ماسٹر نے اسکی کلائی پکڑی ۔۔
“مجھے ڈر لگ رہا ہے امل ۔۔ مایا کے ساتھ جو ہوا اس کے بعد میں ڈر گیا ہوں ۔۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے اس سے برا بھی کچھ ہوگا ۔۔ جیسے ہمارے درمیان یہ جو فاصلے ہیں یہ مزید بڑھ جائینگے ۔۔ دریا کے دو کناروں کی طرح ۔۔ ‘‘ وہ جو محسوس کر رہا تھا ۔۔ اپنے الفاظ کے ذریعے اس تک پہنچا رہا تھا ۔۔ امل ایک گہری سانس لے کر اسکی جانب پلٹی ۔۔ نگاہیں اسکی گہری براؤن آنکھوں میں لئے اس نے کہناشروع کیا ۔۔
“ہمارا رشتہ اور ہم سمندر کی طرح ہی ہیں ماسٹر ۔۔ فاصلے تو اب بھی بہت ہیں ۔۔اور آگے بڑھ بھی سکتے ہیں ۔۔ مگر ‘‘ وہ رکی ۔۔ ماسٹر کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ۔۔
“یہ یاد رکھنا ۔۔ ہمارے بیچ اگر دریا کے دو کناروں جیسا فاصلہ آبھی گیا ۔۔ تو بھی ہماری پہچان ایک ہی رہی گی ۔۔ دریا ۔۔ سمندر ۔۔ اور سمندر کے کنارے دور ہوسکتے ہیں ۔۔ مگر سمندر جدا نہیں ہوسکتا ۔۔ کچھ بھی ہوجائے ۔۔۔ ہم جدا نہیں ہونگے ۔۔ ہماری پہچان نہیں بدلے گی ‘‘ وہ کہہ کر مسکرائی اور نائل نے دیکھا ۔۔ آج کتنے ہی عرصے بعد اسکا یہ انداز ۔۔ کیسی اداسی ۔۔ اور کیسی سچائی تھی ان آنکھوں میں ۔۔ کیسی ناراضگی مگر کیسی اپنائیت تھی ان آنکھوں میں ۔۔ دل میں ایک سکون سا اترا ۔۔ دوری اتنی بھی زیادہ نہیں تھی ۔۔ مگر تھی تو ۔۔
“میں فریش ہوکر آتا ہوں ۔۔ وہ تینوں بھی آرہے ہیں ‘‘ وہ کہہ کر سیڑھیوں کی جانب بڑھا ۔۔ جبکہ امل اسے ہی دیکھتی رہی ۔۔ جب تک وہ کمرے میں چلا نہ گیا ۔۔
“تم صرف دوری کے بڑھنے سے ڈر رہے ہو ماسٹر ۔۔ آخر اس تھوڑی دوری کو بھی ختم کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے ؟ کیا تمہیں اس سے فرق نہیں پڑتا ؟ ‘‘ دھیمی آواز میں اس نے کہا ۔۔ آنکھوں میں شکوہ لئے ۔۔ مگر کیسا شکوہ ؟
“کیا سوچ رہی ہو ؟ ‘‘ جانے وہ کتنی دیر وہی کھڑی کسی سوچ میں گم رہی جب مصطفی کی آواز پر وہ چونک کر پلٹی ۔۔ جہاں وہ اب آحل کے ساتھ کھڑا تھا ۔۔ دونوں ہی گھر سے فریش ہوکر آئے تھے ۔۔۔
“کچھ نہیں ۔۔ کیسے ہو تم دونوں ؟ ‘‘ اس نے آحل کی جانب دیکھا ۔۔ جس کی آنکھیں اداس مگر ہونٹ مسکرا رہے تھے ۔۔ اور یہ ہنر بھی تو اسے انہوں نے ہی سکھایا تھا ۔۔
“میں تو بلکل ٹھیک ہوں مگر پاپا کے سر میں درد ہے ۔۔ ‘‘ آحل نے کہا جس پر امل مسکرائی ۔۔
“اوک ۔۔ تو پھر آپ دونوں بیٹھو ۔۔ میں ابھی ایک سٹرانگ سی چائے بنا کر لاتی ہوں ۔۔ پھر دیکھنا سارا درد بھاگ جائے گا ‘‘ وہ چٹکی بجا کر کہتے ہوئے پلٹی ۔۔ رخ اب کچن کی جانب تھا ۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ چائے اور اس کے ساتھ کچھ سینڈوچز ریڈی کر کے لاؤنچ میں آئی تو وہ سب بھی وہاں موجود تھے ۔۔ درمیان کے صوفے پر ماسٹر ۔۔ دائیں جانب مصطفی ۔۔ اسکے ساتھ آحل ۔۔ اس نے ٹرے میز پر رکھی ۔۔
“میری چائے کہاں ہے ؟ ‘‘ آحل نے تین کپ دیکھتے ہوئے کہا ۔۔
“وہ تو آپکے روم میں ہے ۔۔ ‘‘ امل نے ماسٹر کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا ۔ آحل اکثر امل کے پاس رہنے آیا کرتاتھا اس لئے یہاں ایک روم اس کے لئے سیٹ تھا ۔۔
“کیوں ؟”
“کیونکہ یہ بڑوں کی کنورزیشن کا ٹائم ہے ۔۔ اور بچوں کے گیم کھیلنے کا ۔۔ ‘‘ مسکرا کر کہا ۔۔
“مگر میرا گیم کھیلنے کا دل نہیں چاہ رہا ‘‘ اس نے منہ بنا کر کہا ۔۔
“تو پھر آپ ریسرچ کر سکتے ہو ۔۔ اپنے نئے کمپیوٹر میں ‘‘ اور امل کی بات پر وہ حیران ہوا ۔۔
“میرا کمپیوٹر ؟”
“یس ۔۔ جلدی جاؤ اس سے پہلے چائے ٹھنڈی ہوجائے ‘‘ امل کے کہنے پر وہ جلدی سے اوپر کی جانب بھاگا ۔۔ اس نے ریسرچ جو کرنی تھی ۔۔ برے لوگوں کو پنش کرنے کی ریسرچ ۔۔
“چائے ؟ ‘‘ امل نے مصطفی اور پھر ماسٹر کو چائے کا کپ دیا ۔۔
“امل ‘‘ کچھ دیر بعد مصطفی نے اسے پکارا مگر نظر اسکی جانب نہیں تھی ۔۔
“کیا ہوا ؟ ‘‘ اس نے ناسمجھی سے پوچھا ۔۔
“وہ آگیا ہے ” اور یہی وہ لمحہ تھا جب امل کی نظریں پلٹیں ۔۔ اور سامنے کھڑے اس شخص پر پڑیں ۔۔ جوسر جھکائے کھڑا تھا ۔۔سفید قمیض شلوار میں ملبوس ، گہری براؤن مگر لال اور نم آنکھیں ، صاف رنگت ، کالے بال جو اسکے ماتھے کو چھو رہےتھے ۔۔ بڑھی ہوئی کالی داڑھی اور ہاتھوں میں ہتھکڑی ۔۔ وہ بے اختیار کھڑی ہوئی ۔۔
“فف ۔۔ فرہاد ‘‘ اس نے کپکپاتے ہوئے اسکا نام لیا ۔۔ اور یہ اسکی آواز کی طاقت ہی تھی کہ ایک جھٹکے سے اس نے سر اٹھا کر سامنے دیکھا ۔۔
“امل ! ‘‘ اور وقت ٹھہر گیا ۔۔ وہ بھی ٹھہر گئی ۔۔ ایک پتھر کے مجسمے کی طرح ۔۔
یہ وقت کا بھی کیا عجیب مزاق تھا ۔۔ وہ آٹھ سال پہلے ایک دوسرے کے سامنے تھے تو ایک مجرم اور ایک مظلوم تھا ۔۔
اور اب ۔۔ آٹھ سال بعد ۔۔ اب جب سامنے ہیں تو ایک ہی مجرم اور وہی مظوم بنا ۔۔ مگر وہ ؟ وہ تو اب بھی ویسی ہی تھی ۔۔ بس اب ۔۔ وہ مظلوم نہیں رہی تھی ۔۔
امل ایک ایک قدم اٹھائی اس کے سامنے آکر رکی ۔۔ اس بات سے بے خبر کے پیچھے موجود ماسٹر کی پرتپش نظریں اسے ہی دیکھ رہی ہیں۔۔
“کیسے ہو ؟ ‘‘ اس نے دھیمی آواز میں پوچھا ۔۔ نظریں اسکی آنکھوں میں تھیں ۔۔۔جہاں جانے کون کون سے جزبے تھے ۔۔ اداسی ۔۔ دکھ ۔۔ تکلیف ۔۔ جانے کیا کیا ۔۔ کچھ کو تو وہ کوئی نام ہی نہیں دے سکی ۔۔
“تمہارے سامنے ہوں ۔۔ تم کیسی ہو ؟ ‘‘ اس نے پوچھا ۔۔ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ۔۔ جہاں سب تھا ۔۔مگر اسکے لئے نفرت نہیں تھی ۔۔ نا ہی ناپسندیدگی ۔۔
“تمہارے سامنے ہوں ‘‘ کاندھے اچکا کر مسکرا کر کہا ۔۔ جس پر وہ بھی مسکرایا ۔۔ ایک اداس مسکراہٹ ۔۔
“اہمم ۔۔ ‘‘ مصطفی نے انہیں ہوش میں لانے کے لئے یہی کرنا تھا اور امل اس سگنل کو سمجھ کر پلٹی ۔۔ نظر سیدھا ماسٹر کی جانب گئی جو انہیں ہی دیکھ رہا تھا ۔۔
“آجاؤ ‘‘ اسے آنےکا کہتی وہ دوبارہ اپنی جگہ کی جانب آئی ۔۔ جبکہ فرہاد بھی اسی جانب آیا ۔۔ اب امل ماسٹر کے ساتھ ۔۔ جبکہ فرہاد بائیں جانب رکھے صوفے پر بیٹھا ۔۔
“یہ ۔۔ اسے اتار دیں ‘‘ امل نے فرہاد کے ہاتھوں میں لگی ہتھکڑی کی جانب اشارہ کرتے کہا ۔۔ جس پر ماسٹر نے مصطفی کو ایک اشارہ کیا ۔۔ اور مصطفی نے فرہاد کے پاس آکر وہ ہتھکڑی اتاری ۔۔ ماسٹر اسے سوئم تک کے لئے لے آیا تھا ۔۔۔ ہاں ہتھکڑی بھی وہ امل کی اجازت سے ہی اتارنا چاہتا تھا ۔۔
“آج ریپورٹ آنی تھی ۔۔ کیا بنا اسکا ؟ ‘‘ کچھ دیر بعد ماسٹر نے پوچھا ۔۔
“انہوں نے اپنے اسسٹنٹ کے ہاتھ ریپورٹ بھیجی ہے ۔۔ ‘‘ مصطفی نے چائے کا خالی کپ میز پر رکھتے کہا ۔۔
“اتنی امپارٹنٹ ریپورٹ وہ کسی اسسٹنٹ کے ہاتھ کیسے بھیج سکتے ہیں ؟ ‘‘ ماسٹر نے غصے میں کہا ۔۔
“میں نے بھی یہی کہا ان سے ۔۔ مگر وہ کہتے ہیں کہ کوئی بھروسے کا بندہ ہے”
“ہمارے علاوہ ہمارے لئے کوئی بھی بھروسے مند انسان نہیں ہے مصطفی ۔۔ اگر ریپورٹ بدل دی گئی ؟ اگر کچھ ہوگیا تو کیا کرینگے ہم ؟ ‘‘ اس نے اونچی آواز میں کہا ۔۔ جس پر امل نے فوراً اسے گھورا ۔۔ وہ کچھ کہنے ہی والی تھی کہ ایک آواز نے اسے روکا ۔۔
“ارے ۔۔ میرے ہوتے ہوئے اس ریپورٹ کو کچھ ہوسکتا ہے کیا ؟ امپاسیبل ‘‘ اور سب کی نظریں اس آواز کی جانب گئیں جہاں واجد ایک فائل ہاتھ میں لئے کھڑا مسکرا رہا تھا ۔۔
“تم ۔۔ ؟؟ یہاں ؟ ‘‘ مصطفی نے حیرانگی سے پوچھا ۔۔
“بلکل ۔۔ ایسا ہوسکتا ہے کہ ہمارے ماسٹر کو میری ضرورت ہو اور میں موجود نہ ہوں ؟ ‘‘ مسکرا کر کہتا وہ انکی جانب بڑھا ۔۔ ماسٹر ، مصطفی اور امل سے ملنے ۔۔ افسوس کرنے کے بعد وہ مصطفی کے ساتھ بیٹھا جب نظر سامنے بیٹھے فرہاد کی جانب گئ ۔۔
“مجھے پتہ لگا تھا کہ ماسٹر تمہیں لے گئے ہیں ۔۔پر مجھے حیرت نہیں ہوئی کیونکہ ماسٹر ہمیشہ سب سے آگے ہی رہتے ہیں ۔۔ ریپورٹ آنے سے پہلے ہی سسپیکٹ لے گئے ؟ کیا بات ہے ماسٹر ‘‘ اس نے فائل میز پر رکھتے ہوئے کہا ۔۔ جبکہ فرہاد سمیت سب ہی اسکی بات پر الجھے ۔۔
“کیا مطلب ؟ ‘‘ امل نے پوچھا ۔۔
“مطلب یہ کہ ۔۔ ریپورٹ کے مطابق ۔۔ مجرم کی ہائیٹ ، گن اور طریقہ واردات ۔۔ سب بلکل آٹھ سال پہلے جیسا ہے ۔۔۔ یعنی اس کیس کا پہلا سسپیکٹ اور کوئی نہیں ۔۔ بلکہ ہمارے سامنے بیٹھا مایا کا بھائی ۔۔ فرہاد ہے ‘‘ اور واجد نے ایک دھماکہ کیا ۔۔ جس نے وہاں موجود ہر انسان کو حیرت اور بے یقینی کے کنویں میں پھینک دیا تھا ۔۔
٭٭٭٭
یہ سمندر کے قریب موجود اسی گھر کی بیسمنٹ کا منظر تھا ۔۔ جہاں میز پر ایک شخص جسکا چہرہ سر پر ہیٹ پہننے اور اندھیرےمیں ہونے کی وجہ سے اب بھی ظاہر نہیں تھا ۔۔ سامنے ایک لیپ ٹاپ رکھے بیٹھا ہے ۔۔ اس کے سامنے موجود دیوار جہاں کچھ تصاویر ہیں جن میں مایا کی تصویر پر مارکر سے ایک کراس لگا ہے۔۔مگر اگر مایا کی تصویر کے دائیں جانب آؤ تو فرہاد کی تصویر موجود ہے ۔۔ جس میں وہ لڑکا ایک ٹک لگاتا ہے ۔
“کام بہت صفائی سے کیا گیا ہے ۔۔ اور فرہاد کو بھی ماسٹر لے گیا ہے ۔۔ یقیناً ریپورٹ وہی آئی ہے جو ہم چاہتے ہیں‘‘ لیپ ٹاپ کی سکرین میں موجود اس شخص نے کہا ۔۔ جس پر سر ہلاتے ہوئے ہیٹ پہنے شخص نے ویڈیو کال اینڈ کی ۔۔۔
“مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی ‘‘ پیچھے موجود ایک شخص نے میز کے پاس آتے کہا ۔۔
“مایا کی قربانی اور فرہاد پر الزام سے تو وہ سب اور قریب آجائینگے ۔۔ لیکن ہمارا مقصد تو انہیں الگ کرنا ہے نا ؟ ‘‘ اس کے سوال پر ہیڈ پہنے شخص کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی ۔۔ جبکہ سامنے تصاویر کی جانب رخ کیا ہوا یہ شخص پلٹا ۔۔
“یہ ہمارے پلین کا حصہ ہے ‘‘ وہ میز کی جانب آکر جھکا ۔۔
“انہیں ایک کرنا ۔۔ تاکہ ہم انہیں الگ کر سکیں ‘‘ اسکی بات پر وہ تیسرا شخص ہیٹ پہنے شخص کے دائیں جانب رکھی کرسی پر بیٹھا ۔۔
“تو ہم انہیں ایک کر رہے ہیں ۔۔ مگر کتنے وقت کے لئے ؟ ‘‘ ایک اور سوال ہوا ۔۔ جس پر سامنے کھڑے شخص کے ہونٹوں کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی ۔۔
“بس اس وقت تک کے لئے جب وہ خود کو اتنا قریب سمجھ لیں ۔۔ کہ اپنے ٹوٹنے کا خیال بھی نہ آئے ۔۔ اور تب ۔۔ تب ہم کرینگے ۔۔ ایک ایسا دھماکہ وہ موتیوں کی طرح بکھر جائینگے ۔۔ علیحدہ علیحدہ ‘‘ اور اسی کے ساتھ وہ سب سمجھتے ہوئے وہ مسکرایا ۔۔
جبکہ یہاں سے دور ۔۔ ماسٹر کے گھر کی بیسمنٹ کی جانب آؤ تو یہاں بھی ایسے ہی ایک میز درمیان میں رکھی ہے ۔۔ جس کے آس پاس وہ پانچوں لوگ بیٹھے ہیں ۔۔ بلکل سناٹے میں ۔۔ مگر یہ سناٹا لوگوں کے نا ہونے کی وجہ سے نہیں ۔۔ بلکہ وہاں موجود پانچ لوگوں کے سن ہونے کی وجہ سے تھا ۔۔۔اس وقت اگر تھوڑا دور سے دیکھا جائے تو وہ سب اپنی جگہ جمے تھے ۔۔ ایسے جیسے کرسیوں پر کوئی انسان نہیں بلکہ انکی مورتیاں ہوں ۔۔
“میں نے یہ نہیں کیا ‘‘ اور اس سناٹے کو توڑنی والی سب سے پہلی آواز فرہاد کی تھی ۔۔ اسکے کہنے پر سب کی نظریں اس پر گئیں ۔۔ اور وہ ۔۔ وہ کسے دیکھ رہا تھا ؟
اسکی نظروں کا رخ کرو تو وہ سامنے بیٹھی امل کی جانب دیکھ رہا ہے ۔۔ جو خاموشی سے اسی کی جانب دیکھ رہی ہے ۔۔ بناکسی تاثر کے ۔۔ جبکہ فرہاد کی نظروں میں ڈر تھا ۔۔ مگر کیسا ڈر ؟ پکڑے جانے کا ؟ یا اسے غلط سمجھ لینے کا ؟
“میں نے یہ نہیں کیا ‘‘ اس نے ایک بار کہا ۔۔مگر اس بار آواز میں جان بھی تھی اور مضبوطی تھی ۔۔ جس پر امل نے گہری سانس لے کر ماسٹر کی جانب دیکھا جو فرہاد کو دیکھ رہا تھا ۔۔ کھا جانے والی نظروں سے ؟
“کوئی انسان ایسے موقعے پر بھی جیلس ہوسکتا ہے کیا ؟ ‘‘ اس نے آنکھوں سے ایک سوال کیا ۔۔ مگر ماسٹر سے نہیں مصطفی سے ۔۔ جس نے اسکی آنکھوں میں موجود سوال پڑھ کر کاندھیں اچکائے ۔۔ جیسے کہہ رہا ہو ’’ اس میں کونسی نئی بات ہے ؟
“آگے کہو ‘‘ ماسٹر کی سنجیدہ آواز پر وہ تینوں ماسٹر کی جانب متوجہ ہوئے جو اب واجد کو دیکھ رہا تھا ۔۔ جس کا مطلب تھا کہ واجد نے بات کنٹینیو کرنی ہے اب ۔۔
“ریپورٹ کے مطابق اسے سب سے پہلی گولی بازو میں ماری گئی ۔۔ پھر شاید وہ بھاگنا چاہتی تھی اس لئے اسے روکنے کے لئے اگلی گولی اسکے پاؤں میں ماری گئی ۔۔ جس کی وجہ سے وہ کرسی پر گری ۔۔ اور ایسا ہی کچھ آٹھ سال پہلے بھی ہوا تھا ۔۔ ‘‘ واجد نے امل کی جانب دیکھا ۔۔جس کی نگاہوں کے سامنے دوبارہ وہی منظر آیا ۔۔ وہی رات ۔۔ وہی اندھیری سڑک ۔۔ ایک گولی بازو میں ۔۔ دوسری ٹانگ پر ۔۔ اور پھر ۔۔ وہ کھائی ۔۔۔
“نو سال ۔۔ نو سال پہلے ہوا تھا ‘‘ امل نے اسکی کرکشن کرتے ہوئے فرہاد کی جانب دیکھا ۔۔ جو نظر جھکاگیا تھا ۔۔ جیسے شرمندہ ہو ۔۔
“یس ۔۔ نو سال ۔۔۔ لیکن اہم بات یہ نہیں ہے ۔۔ اہم بات یہ ہے کہ تیسری گولی اسکے سینے پر ماری گئی ۔۔ اور یہ تینوں گولیاں جس گن سے چلائی گئی وہ بلکل ویسی ہی ہے جیسی نو سال پہلے استعمال ہوئی ۔۔ ‘‘ وہ ایک بار پھر رکا ۔۔ نظر ماسٹر کی جانب گئی جس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا ۔۔ پھر مصطفی کی جانب گئی جس نے مارکر اسکی جانب بڑھایا ۔۔ جسے اس نے پکڑا اور اپنی جگہ سے کھڑا ہوا ۔۔ اب وہ سامنے کی جانب آیا ۔۔ جہاں دیوار پر ایک بڑا وائیٹ بورڈ لگا ہے ۔۔۔
“مایا کے مرڈر سے اب تک تین اہم کلوز ملیں ہیں ۔۔ ‘‘ اس نے بورڈ کے ٹاپ پر مایا لکھا ۔۔ پھر اس نام کے نیچے تین لکیریں اس طرح لگائیں کہ ایک دائیں جانب ، ایک بائیں ۔۔ اور سیدھا نیچے آرہی ہے ۔۔
“سب سے پہلا طریقہ واردات ۔۔ یعنی بازو اور ٹانگ میں گولی مارنا ۔۔ زخم کے اینگل کے مطابق مرڈرر کی ہائیٹ تقریباً فائیو نائین ہے ۔۔ ‘‘ اس نے پہلی لکیر کے نیچے فائیو نائین لکھا ۔۔۔
“اس کے بعد جو گن استعمال ہوئی ۔۔ وہ نو سال پرانی گن جیسی ہے ‘‘اس نے دوسری لکیر کے نیچے گن لکھا ۔۔
“اور تیسری ۔۔ اور سب سے اہم چیز ۔۔ ‘‘ وہ اب پلٹا ۔۔ سامنے بیٹھا ماسٹر ۔۔ دائیں جانب امل ۔۔ بائیں جانب مصطفی اسکے ساتھ ہی فرہاد ۔۔ سب اسے ہی دیکھ رہے تھے ۔۔ تجسس سے ۔۔
“وہاں میز پر ایک پیپر میں خون سے ایک مسیج لکھا تھا ۔۔”
“آئی ایم بیک ‘‘ امل کو فوراً وہ الفاظ یاد آئے ۔۔ انہیں تو وہ بھول ہی گئی تھی ،۔
“تم نے دیکھا تھا ؟ ‘‘ سوال مصطفی کی جانب سے ہوا ۔۔
“ہاں ۔۔”
“بلکل ۔۔۔ آئی ایم بیک ۔۔ اب اگر آس پاس نظر دوڑائی جائے ۔۔ تو وہ کون ہے جو واپس آچکا ہے ‘‘ واجد نے تیسری لکیر پر مسیج لکھا ۔۔ اور اب ان تینوں ہی الفاط سے لکیریں نکالیں اور انہیں ایک پوائینٹ پر ملایا ۔۔ جہاں اس نے فرہاد لکھا ۔۔
“طریقہ واردات ، گن اور میسج ۔۔ سب ایک ہی انسان کی طرف اشارہ کر رہے ہیں ۔۔ فرہاد ‘‘ اور اب ۔۔ ایک بار پھر سب کی نظریں فرہاد پر گئیں ۔۔ جو کبھی بورڈ کو ۔۔ تو کبھی ان سب کی جانب دیکھتا ۔۔
“میں نے کچھ نہیں کیا ‘‘ اس نے ایک بار پھر وہی الفاظ دہرائے ۔۔ جس پر ان سب نے ہی ایک گہری سانس لی۔۔
“آفکورس تم نے یہ نہیں کیا ۔۔ کوئی بھی مرڈرر کبھی بھی اپنے خلاف اتنے کلوز نہیں چھوڑتا ۔۔ ایسا صرف تب ہوتا ہے جب وہ مرڈرر نہ ہو ‘‘ مصطفی کی جانب سے کہا گیا ۔۔ جس پر پہلے وہ تھوڑا حیران ہوا اور پھر جیسے سب سمجھتے ہوئے سر ہلایا ۔۔
“مگر ایسا اسلئے بھی ہوا کہ ہم فرہاد پر شک کریں ۔۔ لیکن مجھے ایسا لگتا کہ جیسے یہ ’’ آئی ایم بیک ‘‘ فرہاد کے لئے نہیں لکھا گیا ۔۔ ‘‘ امل نے الجھ کر کہا ۔۔
“ان سب میں بس یہی ایک رئیل کلو ہے ۔۔ ’’ آئی ایم بیک ‘‘ یعنی یہ جو بھی ہے ۔۔ کوئی انجان نہیں ۔۔ وہ ہمیں اور ہمارا ماضی دونوں ہی جانتا ہے ‘‘ ماسٹر کہتے ہوئے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا ۔۔ رخ اب وائیٹ بورڈ کی جانب تھا ۔۔ اس نے واجد کی جانب ہاتھ بڑھا ۔۔ جس پر اس نے مارکر ماسٹر کے ہاتھ میں دیا ۔۔
اب ماسٹر نے واجد کے بنائے ہوئے چارٹ کے ساتھ ایک لکیر کھینچیں ۔۔ جیسے بورڈ کو آدھے حصے میں ڈیوائیڈ کیا ہو ۔۔ اب اس نے بائیں جانب سب سے اوپر ’’ آئی ایم بیک ‘‘ لکھا ۔۔
“ہمارےرئیل سسپیکٹ کی سب سے پہلی پہچان یہ مسیج ہے ۔۔ وہ واپس آگیا ہے ۔۔ اب ہمیں بس کسی ایسے کو ڈھونڈھنا ہے جو ہمارے ماضی کا حصہ ہو ۔۔ اور جو واپس آگیا ہو ‘‘ وہ اب پلٹ کر میز کی جانب آیا ۔۔
“فرہاد کو سسپیکٹ بنانا بھی کوئی نارمل بات نہیں ہے ۔۔ یقیناً اس کے پیچھے بھی کوئی بہت بڑا پلین چھپا ہے ۔۔ ہمیں فرہاد کو اب اپنی سیکیورٹی میں رکھنا ہوگا ۔۔ ہوسکتا ہے وہ اب فرہاد تک پہنچنے کی کوشش کریں یا اسے کوئی نقصان پہنچائے ‘‘ ماسٹر نے فرہاد کی جانب دیکھ کر کہا ۔۔
“مجھے جیل واپس بھیج دیں ۔۔ وہاں مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا”
“ایسا کرنا بے وقوفی ہوگی ۔۔ تم اب دوبارہ جیل نہیں جاسکتے ۔۔ کم از کم اس کیس کے کلوز ہونے تک تو بلکل نہیں ‘‘ ماسٹر کے کہنے پر فرہاد اور امل ۔۔ دونوں ہی اپنی جگہ حیران ہوئے ۔۔ امل نے ماسٹر کی جانب دیکھا ۔۔
” اگر تمہیں کوئی اعتراض نہ ہو تو ‘‘ امل کو اپنی جانب دیکھتا پاکر ماسٹر نے کہا ۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ امل اس سے بد گمان ہو ۔۔
“مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔ مگر مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا کہ اسکے باہر رہنے سے اس کیس کا کیا تعلق ؟ ‘‘ اب امل کی سمجھ کو کیا کہہ سکتے ہیں ۔۔
“کیونکہ یہ سب ہوا ہی اسے باہر لانے کے لئے ہے ۔۔ ‘‘ مصطفی کا ایک سنجیدہ جواب آیا ۔۔
“مطلب ؟”
“مطلب یہ کہ ۔۔ کوئی ہمارے ماضی کو استعمال کر کے ہمارا حال خراب کرنا چاہتا ہے ۔۔”
“لیکن اب بھی یہ کنفرم نہیں ہے کہ وہ کیا چاہتا ہے ‘‘ ماسٹر دوبارہ اپنی کرسی کی جانب آیا جبکہ اب واجد بھی امل کے ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھ چکا تھا ۔۔
“اگر وہ مجھے باہر لانا چاہتا ہے ۔۔ تو یقیناً اس کے پیچھے کوئی اور مسیج بھی ہوگا ۔۔ وہ یا تو مجھے بھی مارنا چاہتا ہے یا پھر وہ مجھے استعمال کرنا چاہتا ہے ‘‘ فرہاد نے آگے جھکتے ہوئے کہا ۔۔
“اور اس تک پہنچنے کا راستہ اس طرح تم ہی ہو ۔۔ اگر وہ تمہیں مارنا چاہتا ہے تو بھی اور اگر وہ تمہیں استعمال کرنا چاہتا ہے تو بھی ۔۔ ‘‘ واجد نے کہا ۔۔
“اور اس لئے ہم وہیں کرینگے جو وہ چاہتے ہیں ۔۔ تمہیں باہر رکھینگے ‘‘ مصطفی نے کہہ کر کرسی سے ٹیک لگائ ۔۔
“مگر ۔۔ ‘‘ امل نے کچھ کہنا چاہا مگر وہ رک گئی ۔۔
“مگر ؟ ‘‘ ماسٹر کی جانب سے سوال ہوا ۔۔
“مگر کیا ہم جانتے نہیں ہیں کہ ہمارے ماضی میں ایسا کون ہے جو یہ سب کر سکتا ہے ؟‘‘ امل کی بات پر وہ سب چونکے ۔۔ کوئی بھی اس اینگل پر سوچنانہیں چاہتا تھا ۔۔ مگر امل کی سوچ وہاں تک جاچکی تھی ۔۔
“تم کیا کہنا چاہتی ہو ؟ ‘‘ ماسٹر کی جانب سے سوال ہوا ۔۔
“میں بس یہ کہنا چاہتی ہوں ماسٹر کہ اگر فرہاد کو کوئی استعمال کرتا آیا ہے ۔۔ اگر فرہاد کو کوئی مار سکتا ہے۔۔۔ تو وہ بس ایک ہی انسان ہے ۔۔ ‘‘ اور امل کی بات میں وزن تھا ۔۔ جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا تھا ۔۔
“مصطفی ‘‘ کرسی سے اچانک کھڑے ہوتے ماسٹر نے کہا ۔۔ اس کے ساتھ ہی سب اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے ۔۔ سوائے امل کے ۔۔ وہ اب بھی کسی سوچ میں گم تھی ۔۔
“ہاسپٹل کے کیمراز کی پچھلے ایک مہینے کی ریکارڈنگز چیک کرو ۔۔ ایک ایک چیز ۔۔ ‘‘ اس نے ایک آرڈر پاس کیا ۔۔
“اوک ۔۔ کل شام تک ہوجائے گا ‘‘ مصطفی نے اپنے مخصوص انداز میں کہا ۔۔
“واجد ۔۔ ‘‘ اب واجد الرٹ ہوا ۔۔
“مجھے شہزاد شاہ کے تمام ملاقاتیوں کی لسٹ چاہئے ۔۔”
“اوک ماسٹر ۔۔ کل تک مل جائے گی”
“اور تم ‘‘ اس نے اب فرہاد کی جانب دیکھا ۔۔۔
واجد تمہیں ہماری خفیہ جگہ لے جائےگا ۔۔تم وہیں رہوگے ۔۔ اور ایک لسٹ بناؤ ۔۔ تم سے کون کون ملنے آتا رہا ہے ۔۔ کس کس انسان کو ماضی میں ہونے والے واقعہ کا معلوم ہے ۔۔ اور جیل میں کس کس سے تمہاری اس بارے میں بات ہوئی ہے ۔۔ ساری لسٹ مجھے کل چاہئے ‘‘ اس نے ایک آرڈر پاس کیا ۔۔ جیسے وہ بھی اسکی ٹیم کا کوئی ممبر ہو ۔۔ اور فرہاد نے سر ہلایا ۔۔ جیسے وہ بھی اسکی ٹیم کا حصہ ہو ۔۔
“یو آل کین گو ناؤ ‘‘ اور اسی کے ساتھ وہ سب ہوا کی سی رفتار میں وہاں سے نکلے ۔۔ جبکہ اب ماسٹر نے امل کی جانب دیکھا جو اب بھی کسی سوچ میں گم وہی بیٹھی تھی ۔۔
“ہم اسے ڈھونڈ لینگے امل ۔۔ وہ چاہے کوئی بھی کیوں نہ ہو ۔۔ تم جانتی وہ ہم سے بچ نہیں سکتا ‘‘ اس نے نرم لہجے سے کہا ۔۔ جیسے اسے کوئی تسلی دی ہو یا جیسے خود کو کوئی تسلی دی ہو ۔۔
“ایک بات بتاؤ ماسٹر ‘‘ اسکے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے اس نے کہا ۔۔ سینے پر ہاتھ باندھے وہ اس کے مقابل آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھی ۔۔۔ اور ماسٹر یہ انداز جانتا تھا ۔۔۔ایسا بس تب ہی ہوتا تھا جب وہ کچھ کہنے والی ہو ۔۔ کچھ ایسا جو اسے ہرا دے ۔۔ جس سے وہ ہار جائے ۔۔
“اگر یہ وہی ہوا ۔۔ تو کیا اب تم خود کو پچھتاوے سے بچا سکوگے ؟ کیا تم اب ۔۔ خود کو بچا سکوگے ماسٹر ؟ ‘‘ اور وہی ہوا جس کا اسے ڈر تھا ۔۔ اس نےوہی الفاظ کہے جس نے اسے ڈرا دیا ۔۔ ایک بار پھر ۔۔ مگر وہ ہارا نہیں تھا ۔۔ اسے ہرانا اتنا آسان تھا بھی نہیں ۔۔
وہ کہہ کر وہاں سے جاچکی تھی ۔۔ جبکہ ماسٹر کی نظر سامنے وائیٹ بورڈ پر پڑی ۔۔
“میں نہیں ہارونگا ۔۔ میں نہیں پچھتاؤنگا امل ۔۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا ‘‘ اس نے کہا ۔۔ ایسے ۔۔ جیسے اسے یقین دلانا چاہ رہا ہو ۔۔ یا پھر جیسے ۔۔۔ وہ خود کو یقین دلانا چاہ رہا تھا ۔
وہ بیسمنٹ سے باہر نکلی تو اسکی آنکھیں نم تھیں ۔۔ کمرے میں تیزی سے آکر اس نے دروازہ بند کیا اور اس سے ٹیک لگا کر اس نے اپنے رکے آنسو بہائے ۔۔۔ چہرے پر درد کے آثار تھے ۔۔ اور پھر ۔۔ ماضی کی تصویر سے ایک آواز اسکے کانوں میں گونجی۔۔
“تم پچھتاؤگے نائل شاہ ۔۔ دیکھنا ۔۔ ایک دن تم ہار جاؤگے ۔۔ اور یاد رکھنا ۔۔اس دن تم سب ہار جاؤنگے ۔۔ امل کو بھی ‘‘ ایک بھیگی ہوئی آواز تھی ۔۔
“وہ دن کبھی نہیں آئے گا ‘‘ اسکی سنجیدہ آواز تھی ۔۔
ماضی سے آتی آواز اسی کے ساتھ بند ہوئی ۔۔ جبکہ اس نے اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔
“آئی وش ۔۔ آئی وش کہ وہ دن کبھی نہ آئے نائل ۔۔ آئی وش کہ تم کبھی نہ ہارو ۔۔ آئی وش کہ میں ہار جاؤں ۔۔ آئی وش کہ تم جیت جاؤ ماسٹر ۔۔ ہمیشہ کے لئے ۔۔ ‘‘ وہ دروازے سے ٹیک لگائے اب آہستہ آہستہ زمین پر بیٹھتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔۔ ساتھ ہی اسکی ہچکیوں کی آوازیں اس کمرے میں گونجنے لگی ۔۔
جبکہ باہر دروازے پر کھڑے ماسٹر کے دل پر اسکی یہ ہچکیاں چھریاں بن کر وار کر رہی تھیں ۔۔
اور کون جانے کہ یہ کونسا کھیل ہے ۔۔
کون جانے کہ یہ کونسی ہار ہے ۔۔
یہ کونسی جیت ہے ۔۔
جو دونوں ہی کو آہستہ آہستہ مار رہی تھی ۔۔
جو آگے جانے کتنا مارنے والی ہے ؟؟
