Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2 NovelR50556 Koi Sath Ho (Episode 03)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 03)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz Season 2
یہ رات کے گیارہ بجے کا وقت تھا جب وہ لوگ ایک شاندار ریسٹورانٹ سے ڈنر کرنے کے بعد آحل کی فرمائش پر آئسکریم کھانے آۓ تھے ۔۔ باتوں کا سلسلہ جاری تھا جبکہ امل مسلسل مصطفی کو کوئی اشارہ کر رہی تھی جو کہ ماسٹر کی آنکھوں سے چھپا نہیں تھا ۔۔
” مجھے یاد آیا ایک امپار ٹنٹ کال کرنی تھی میں نے ۔۔ ابھی آتا ہوں “کچھ دیر بعد مصطفی نے ہاتھ میں موبائل پکڑے کھڑے ہو کر کہا ۔۔ جبکہ امل نے ماسٹر کی جانب دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔
کچھ دیر بعد ہی امل کے موبائل کی بیل بجی ۔۔
” میں کال پک کر کے آتی ہوں ۔۔ “ اور اسی کے ساتھ وہ بھی اپنا موبائل اٹھاتے وہاں سے کھسک چکی تھی ۔۔ جبکہ مایا نے مسکر اکر ماسٹر کی جانب دیکھا ۔۔ جو سامنے ہی دیکھ رہاتھا ۔۔
” ضرور کوئی ضروری بات کرنی ہوگی دونوں نے “ مایا کی بات پر ماسٹر بس سر ہی پاپا۔۔
” پاپا نے ضرور آنی سے میرے اور آپکے کمیونیکیشن کا سیکرٹ معلوم کرنا ہو گا “ آحل کو جو وجہ سمجھ آئی وہ یہی تھی ۔۔
” پھر تو اسے کوئی جواب نہیں ملنے والا “ ماسٹر نے ہلکی مسکراہٹ سے کہا جبکہ آحل دوبارہ اپنی آئسکریم کی جانب متوجہ ہو چکا تھا ۔۔
اب اگر اس ریسٹورانٹ کے دائیں جانب موجود بالکنی کی جانب آؤ تو مصطفی اور امل ایک دوسرے سے کوئی بات کرتے نظر آرہے ہیں ۔۔
” مجھ سے یہ مت کہنا کہ تم نے صرف ماسٹر کو غصہ دلانے کے لئے مجھے بلایا ہے “ مصطفی اب دوبارہ پھنسنا نہیں چاہتا تھا اس لئے پہلے ہی پوچھنا صحیح لگا ۔۔
” نہیں ۔۔ اس بار مجھے واقعی تم سے ایک بہت ضروری بات پوچھنی ہے “ امل آج واقعی بہت سنجیدہ تھی ۔۔
” ارے واہ ! بہت عرصے بعد امل میڈم کو سنجیدہ دیکھا ہے “ سینے پر ہاتھ باند ھتے کہا ۔۔
” تم مایا سے محبت کرتے ہو ؟ “ ایک سوال ہوا ۔۔ ایسا سوال جس کے لئے مصطفی تیار نہیں تھا ۔۔
” کیا مطلب ؟ “ اسے جیسے واقعی سمجھ نہیں آیا ۔۔
” سمپل سا سوال ہے مصطفی ۔۔ کیا تم مایا سے محبت کرتے ہو ؟ “ اس نے اپنا سوال ایک بار پھر دہرایا ۔۔
” یہ کیسا سوال ہے ؟ اور اچانک تمہیں محبت کہاں سے یاد آگئی ؟ “
” ہاں ۔۔ یاد بہت پہلے آجانی چاہئے تھی مگر میں نے دیر کر دی ۔۔ اب بتاؤ۔۔ تم نے اس سے شادی کیوں کی تھی ؟ “ ایک قدم اسکے قریب آتے امل نےکہا ۔۔
“اس سے پہلے ماسٹر کو غصہ آجائے ۔۔ ہمیں چلنا چاہئے امل “ وہ اس کے پاس سے گزرنے ہی والا تھا کہ امل نے فوراً اسکا بازو پکڑ کر اسے جانے سے روکا ۔۔
” تو تم واقعی کسی اور سے محبت کرتے ہو ۔۔ پھر مایا سے شادی کیوں مصطفی ؟ “ اس نے ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا ۔۔ جبکہ مصطفی سمجھ چکا تھا کہ اس سےجواب لئے بغیر وہ اسے جانے نہیں دے گی ۔۔ ماسٹر کے غصے کی پرواہ تو ویسے بھی اس نے کبھی نہیں کی تھی ۔۔
“اسے میری ضرورت تھی ۔۔ فرہاد اسکا آخری رشتہ تھا جسے اس نے خود خوشی خوشی انصاف کے حوالے کیا ۔۔ اور پھر وہ اکیلی ہوگئی تھی امل ۔۔ اس وقت اسے سب سے زیادہ میری ضرورت تھی ۔۔ اور مجھ سے بھی زیادہ ایک رشتے کی “ اور مصطفی کا جواب اسے بہت کچھ سمجھا گیا تھا ۔۔
اس نے دھیرے سے اسکا بازو چھوڑا ۔۔
” اور وہ لڑکی ؟ جس سے تم محبت کرتے تھے ؟ اسکا کیا ؟ کیا تم اسے بھول گئے ؟ “ اس نے بہت تکلیف دہ سوال ایک ساتھ کئے ۔۔ جبکہ مصطفی ایک گہری سانس لے کر اسکی جانب مڑا ۔۔
” وہ کسی اور کا نصیب تھی۔۔ اسے مل گئی ۔۔ میری محبت تو دل میں رہ گئی ۔۔ اور جہاں تک بات اسے بھولنے کی ہے تو امل ۔۔ “ وہ ایک قدم امل کے قریب ہوا ۔۔
” کیا تم ماسٹر کو کبھی بھول سکتی ہو ؟ ‘ اور یہ وہ سوال تھا جسکا جواب دونوں ہی جانتے تھے ۔۔
یہ وہ سوال تھا جس کے جواب میں بہت سے جواب چھپے تھے ۔۔ امل خاموش رہی جبکہ مصطفی ہلکا سا مسکرایا ۔۔ اور یہ پہلی بار تھا جب امل نے محسوس کیا ۔۔ اس مسکراہٹ کے پیچھے چھپے راز کو ۔۔
” اب چلیں ۔۔ وہ دونوں ہمارا انتظار کر رہے ہونگے ؟ “ وہ کہہ کر دوبارہ جانے کے لئے پلٹا ۔۔ جبکہ اگلے ہی قدم پر اسکے قدم رک گئے ۔۔ آنکھیں حیرت سے پھیلی ۔۔اسے رکتا دیکھ کر امل بھی پلٹی سامنے موجود مایا اور ماسٹر کو دیکھ کر وہ بھی اپنی جگہ پتھر ہو چکی تھی ۔۔
****************************************
واپسی کا راستہ ان دونوں کی گاڑیوں میں بہت خاموشی سے گزرا تھا ۔۔ دونوں کی گاڑیوں میں موجود افراد ایک دوسرے کی جانب دیکھنے سے بھی گریز کر رہے تھے ۔۔ امل اور مصطفی کے درمیان ہونے والی پوری بات وہ دونوں سن چکے تھے ۔۔
امل نے گاڑی چلاتے ماسٹر کی جانب دیکھا ۔۔ جو چہرے پر مکمل سنجیدگی سجائےسامنے کی جانب متوجہ تھا ۔۔ یہ ان آٹھ سالوں میں پہلی بار تھا کہ ان دونوں کے درمیان اس طرح کی خطرناک خاموشی رہی ہو ۔۔
جبکہ اگر مصطفی اور مایا کی گاڑی کی جانب آؤ ۔۔ تو مایا مسلسل گاڑی سے باہر نظر ٹکائے بیٹھی تھی ۔۔ جبکہ آحل پچھلی سیٹ پر بیٹھا خود کو سونے سے روکنے کی کوشش میں مصرورف تھا ۔۔ مصطفی نے کن انکھیوں سے مایا کی جانب دیکھا جس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا ۔۔ اور یہ ان آٹھ سالوں میں پہلی بار ہوا تھا جب مصطفی مایا کو سمجھ نہیں پارہا تھا ۔۔ وہ دونوں گھر آتے ہی خاموشی سے اپنے کمرے کی جانب آۓ ۔۔ اورامل کا صبر اب جواب دے چکا تھا ۔۔
” آخر تم کچھ کہہ کیوں نہیں رہے ؟ “ اسے ڈریسنگ روم میں جاتا دیکھ کر امل نے کہا ۔۔۔
” میں کہا کہوں امل ؟ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تم نے سب کچھ کتنا بگاڑ دیا ہے ؟ “ وہ سارا الزام ایک بار پھر اسکے سر ڈالنے کو تیار کھڑا تھا۔۔
” میں نے بگاڑا ؟ “ وہ اب اسکے سامنے آکر رکی ۔۔
” میں اس سے اکیلے میں بات کرنے گئی تھی ۔۔ لیکن تم مایا کو لے کر وہاں آگئے ۔۔ اس میں میرا کیا قصور ہے ؟ “ اسے واقعی اپنا قصور سمجھ نہیں آیا تھا ۔
“تمہارا قصور یہ ہے کہ تم نے مصطفی کو ایک بار پھر ماضی کی محبت یاد دلوائی ۔۔ تمہارا قصور یہ ہے کہ تمہاری وجہ سے مایا کو بھی اس شادی کی وجہ معلوم ہوگئی ۔۔ تمہیں اندازہ ہے کہ اس وقت مایا کیا محسوس کر رہی ہوگی ؟ اور مصطفی ؟ وہ کیسے سمجھاۓ گا اسے ؟ “
” تمہیں کیا لگتا ہے ماسٹر ؟ کیا مایا کچھ نہیں جانتی ؟ “ امل کے الفاظ پر ماسٹر نے حیران ہو کر اسے دیکھا ۔۔
”کیا مطلب ؟”
“عورت بہت پیچیدہ مخلوق ہے ماسٹر ۔۔ کبھی کبھی اسے سب معلوم ہوتا ہے ۔۔ وہ جانتی ہے کہ اسکے ساتھ موجود شخص اسکا نہیں ۔۔ وہ اپنے ہمسفر کے ہر جذبے سے آشنا ہوتی ہے۔۔ ہر راز جانتی ہے مگر وہ ظاہر نہیں کرتی ۔۔ کیونکہ وہ جانتی ہے کہ جس دن ہر راز سے پردہ اٹھ گیا ۔۔ جس دن سب ظاہر ہو گیا ۔۔ سمجھوتہ کرنا بہت مشکل ہو جاۓ گا ۔۔ کیونکہ سمجھوتہ تو کہتے ہی سب دیکھ کر آنکھیں بند کر دینے کو ہیں “ اور اسے اپنے الفاظ سے حیرانگی کی انتہاؤں پر چھوڑتی وہ ڈریسنگ روم کے اندر گئی ۔۔ جبکہ ماسٹر کو آج سمجھ آیا ۔۔ راز تو کبھی راز تھا ہی نہیں ۔۔۔
اب اگر یہاں سے کچھ دور مصطفی کے فلیٹ کی جانب آؤ تو وہ اپنے کمرے میں موجود دائیں بائیں چکر لگا رہا تھا ۔۔ بے چینی سے مایا کے کمرے میں آنے کا انتظار تھا جو آحل کے کمرے میں تھی ۔۔ کچھ دیر ایسے ہی چکر لگانے کے بعد کمرے کا دروازہ کھلا اور مایا اندرآئی ۔۔
” کیا ہوا ؟ تم نے اب تک چینچ نہیں کیا ؟ “ اسے اس طرح کمرے کے بیچ کھڑا دیکھ کر مایا نے پوچھا ۔۔
” تمہارا انتظار کر رہا تھا “ وہ سنجیدگی سے کہتا اسکی جانب آیا ۔۔
” میرا انتظار ؟ کیوں ؟ “ وہ انجان بنی ۔۔۔ یا شاید واقعی انجان تھی ۔۔
” آئی ایم سوری ” مصطفی نے اسکا ہاتھ تھام کر دھیمے سے کہا ۔۔
“کس لئے ؟ “
” تم جانتی ہو “ وہ اسکی جانب دیکھنے سے گریز کر رہا تھا ۔۔ نظر مسلسل اسکے ہاتھوں پر تھی۔۔
” میری طرف دیکھو مصطفی “ مایا نے جیسے اسے ایک آرڈر دیا جسے اس نے فورا مانا اور سر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا ۔۔ جس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔۔ اداس مسکراہٹ ۔۔
” کہتے ہیں اچھے ہمسفر وہ ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے بہت اچھے دوست بھی ہوں ۔۔ اور ہم تو ہمسفر بنے ہی دوست ہونے کی وجہ سے تھے نا مصطفی ؟ تو کیسے سمجھ لیا کہ میں اپنے دوست کو سمجھونگی نہیں ؟ “ وہ مسکرا کر کہہ رہی تھی اور مصطفی نے اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔۔ جہاں مکمل سچائی تھی ۔۔
“میں تمہارے ساتھ بہت خوش ہوں مایا ۔۔ اور مجھے ماضی کا کوئی افسوس کوئی غم نہیں ۔۔ میرے نصیب میں اللہ نے میری سوچ سے زیادہ بہتر ہمسفر لکھا ۔۔ اور میں اسکے ساتھ اپنے دل کی مکمل گہرائیوں سے مخلص ہوں ۔۔ تمہیں مجھ پر اعتبار ہے نا ؟ “ اس نے ایک سوال کیا ۔۔ امید سے ۔۔۔
” خود سے زیادہ ۔۔ اور میں بھی بہت خوش ہوں ۔۔ ایک بہترین دوست اور ہمسفر کا مکمل پیکچ جو ملا ہے “ شرارتی انداز میں کہتی وہ ہلکا سا ہنسی ۔۔ جبکہ مصطفی بھی اسکی بات پر مسکرایا ۔۔
” تھینک یو “ اور وہ دونوں ہی جانتے تھے کہ وہ کس بات کاشکر یہ ادا کر رہا ہے ۔
” تھینکس ٹو یو ٹو “ اور وہ دونوں ہی جانتے تھے کہ وہ کس بات کا شکر یہ ادا کر رہی ہے ۔۔۔
٭٭٭٭٭
یہ صبح کے نو بجے کا وقت تھا جب وہ دونوں ناشتے کے ٹیبل پر موجود ناشتہ کرنے میں مصروف تھے ۔۔ آحل تو اس وقت سکول میں تھا ۔۔ مایا نے بھی ایک گھنٹے میں ہسپتال کے لئے جانا تھا ۔۔ جبکہ مصطفی کا کام اس وقت صرف منہ بنانا تھا ۔۔ جس پر مایا کے ہونٹ مسلسل مسکرا رہے تھے ۔۔
“اب بس بھی کرو مصطفی ۔۔ کہہ رہی ہوں نا جلدی آجاؤنگی میں “ کھڑے ہو کر کرسی سے اپنا بیگ اٹھاتے ہوۓ مایا نے کہا ۔۔
” تم جانتی ہوں کہ مشکل سے ۔۔ بہت مشکل سے ہمیں یہ دن دیکھنا نصیب ہوا ہے کہ جب کوئی کیس نہیں آیا ۔۔ اور تم آج بھی جارہی ہو ؟ میرے لئے ایک چھٹی نہیں کر سکتی تم ؟ “ وہ تو جیسے رونے ہی والا تھا ۔۔ جبکہ مایا کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی ۔۔
“تمہیں بتا چکی ہوں کہ بہت ضروری آپریشن کرنا ہے آج ۔۔ پر تم فکر مت کرو ہم ڈنر ساتھ کرینگے ۔۔ پکا “ اس نے پرامس کیا ۔۔
” ٹھیک ہے جاؤ پھر تم اپنے پیٹنٹس کے پاس، اپنے اس ہینڈ سم فرینڈ کو چھوڑ کر ۔۔ کوئی ضرورت نہیں ہے واپس آنے کی “ اور اسی کے ساتھ وہ ایک بار پھر منہ بناتے ہوۓ ناشتے کی جانب متوجہ ہو چکا تھا جبکہ وہ اسکی جانب جھکی ۔۔
“سوچ لو ؟ نہیں آؤ واپس ؟ “ شرارتی انداز میں سوال ہوا ۔۔
” نہیں “ بچکانہ انداز میں جواب آیا ۔۔۔
“اوک ۔۔ پھر بعد میں پچھتانہ مت “ وہ کہتے ساتھ ہی وہاں سے جانے لگی ۔۔
“خوش فہمی ہے یہ تمہاری “ جبکہ مصطفی کی آواز اسکے کانوں پر پڑتے ہی وہ ہنسی ۔۔ ایک آخری ہنسی ۔۔
جبکہ مصطفی اپنے ہی انداز پر مسکرایا ۔۔ ایک آخری مسکراہٹ ۔۔۔
٭٭٭٭
جبکہ اب اگر ہم ماسٹر اور امل کے جانب آئیں ۔۔ تو دونوں ہی اس وقت سٹڈی روم میں موجود ایک ایک فائل کھولے بیٹھے تھے ۔۔
” تو کیا ہم پورا دن یہی کرنے والے ہیں ؟ “ کچھ دیر بعد امل نے فائل بند کر کے رکھتے ہوۓ کہا ۔۔
” ہاں ۔۔ شکر ہے کوئی فری ڈے ملا تو اب ان کلوز فائلز کو سیریز سے سیٹ کر کے رکھنے کا ٹائم ہے “ اپنی فائل کی جانب دیکھتے ہوۓ ماسٹر نے کہا ۔۔
” تمہیں نہیں لگتا کہ اللہ کا شکر ہے تمہیں کوئی ایک کیس فری ڈے ملا ہے تو تمہیں وہ اپنی پیاری سی وائف کے ساتھ گزارنا چاہئے ۔۔ نا کہ کام میں ؟ “ میز پر کہنی ٹکا کر اسکی جانب جھکتے ہوۓ امل نے کہا ۔۔
” میں ایسا ضرور کر تا اگر “ اب وہ اسکی جانب جھکا ۔۔
” اگر میری وائف پیاری ہوتی “ اور اسی کے ساتھ وہ مسکراہٹ دبائے دوبارہ فائل کی جانب متوجہ ہوا جبکہ امل اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی ۔۔ ایک بار پھر جنگ کرنے کے لئے۔۔
” تو تم خود کونسا ہیرو ہو ۔۔ تھرڈ کلاس ڈانسر “ اس نے ماسٹر کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ۔۔
” کیا کہا تم نے ؟ “ اور اسی کے ساتھ وہ فائل میز پر پھینکتے کھڑا ہوا ۔۔ جنگ کے لئے تیار ۔۔ ہمیشہ سے تیار ۔۔
” ارے ارے ماسٹر کیا ہوا ؟ اتنا غصہ کس بات پر آرہا ہے ؟ “ اس نے کچھ سوچنے کے انداز میں تھوڑی پر ہاتھ رکھا ۔۔
” اوہ اچھا ۔۔ تھرڈ کلاس ڈانسر کہنے کی وجہ سے “ ایک بار پھر اسے چھیڑا ۔۔
” تم سدھر جاؤ امل ورنہ ؟ “ اس نے سنجیدگی سے ایک ادھوری دھمکی دی ۔
“ورنہ کیا ؟ “ وہ بھی سینے پر ہاتھ باندھے مکمل دھمکی کے لئے تیار تھی ۔۔
” ورنہ کسی دن تمہیں پاگل خانے چھوڑ آؤنگا ۔۔ “ اور اسکی اس دھمکی پر امل کا قہقہہ گونجا ۔۔
” اس کی نوبت نہیں آئیگی ۔۔ دیکھ لینا ایک دن میں خودچلی جاؤنگی ۔۔ اپنے جیسے پاگل۔۔ مصطفی کے پاس “ اور اس بار امل نے پہلے سے زیادہ دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ۔۔
” اپنے پاگل مصطفی ؟؟؟ جاکر دکھاؤ تم مجھے ذرا “ وہ اب اسکی جانب بڑھا ۔۔۔
” ابھی جاکر دکھاتی ہوں ” شرارتی انداز میں کہتی وہ باہر کی جانب بھاگی ۔۔ ایک آخری شرارت ۔۔۔
اور اسی کے ساتھ ماسٹر اسکی شرارت کو سمجھتے ہوئے اس کے پیچھے بے ساختہ بھاگا ۔۔ مسکراتے ہوئے۔۔۔ ایک آخری مسکراہٹ ۔۔
اور کبھی کبھی مزاق میں کہے الفاظ ایک ایسی بھیانک حقیقیت بن کر سامنے آتے ہیں کہ زندگی ہی مزاق بن کر رہ جاتی ہے ۔۔
اور پھر انسان مزاق تو کیا ۔۔ مسکرانے سے بھی ڈرنے لگتا ہے ۔۔
کچھ ایسا ہی ہونے والا تھا ۔۔
ان سب کے ساتھ بھی ۔۔۔
***************************
وہ سکول سے باہر نکلا تو سامنے ہی اسے مصطفی گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا اسکے انتظار میں نظر آیا ۔۔ اسے دیکھتے وہ بھاگتا ہوا اسکی جانب آیا ۔۔
“آج آپ مجھے لینے کیسے آگئے ؟ ‘‘ وہ تھوڑا حیران ہوا ۔۔
“اب تم بھی اپنی ماما کی طرح مجھے طعنے دوگے ؟ ‘‘ مصطفی کو تو اسکی بات دل میں لگی ۔۔
“ماما نے تو کبھی آپکو کچھ نہیں کہا ؟ جھوٹ بولنا منع ہے پاپا ۔۔ میں ماسٹر سے شکایت لگاؤنگا ‘‘ اسے دھمکی دیتے ہوئے وہ اب گاڑی میں بیٹھنے لگا جبکہ مصطفی بھی فوراً ڈرائیونگ سیٹ پر آیا ۔۔۔
” شرم نہیں آتی اپنے پاپا کو بار بار دھمکی دیتے ہوئے ؟ ‘‘ اسکا سیٹ بیلٹ باندھتے ہوئے کہا ۔۔
” دھمکی نہیں پاپا ۔۔ یہ تو میری ڈیوٹی ہے”
“ڈیوٹی ؟ ‘‘ وہ حیران ہوا ۔۔
“ہاں ۔۔ ماسٹر نے مجھے ڈیوٹی دی ہے کہ میں آپکا کوئی بھی رانگ موو انہیں فوراً بتاؤں ‘‘ بے فکری سے کہتا وہ مصطفی کو مزید حیران کر گیا ۔۔
“اور یہ کب ہوا ؟”
“جب لاسٹ ائیر میں نے پوزیشن لی تھی”
“تم ۔۔ تم ماسٹر کو ایک سال سے میری اپڈیٹ دیتے رہے ہو ؟ ‘‘ اسے جیسے صدمہ لگا ۔۔
“یس ۔۔ وہ مجھے اسکی فیس دیتے ہیں آخر اور آپکو تو معلوم ہے میں اپنا کام ایمانداری سے کرتا ہوں ‘‘ اور کون مان سکتا ہے کہ وہ صرف آٹھ سال کا بچہ ہے ؟
“اوہ ۔۔ تو میرے ہی بیٹے کو میرا ہی جاسوس بنایا ہوا ہے ۔۔ واہ ماسٹر ۔۔ ایک امل کم تھی کہ یہ دوسرا بھی آگیا ‘‘ بڑبڑاتے ہوئے اس نے گاڑی سٹارٹ کی ۔۔
“فکر مت کریں میں یہ ماسٹر کو نہیں بتاؤنگا ‘‘ آحل نے شرارتی انداز میں کہا جبکہ مصطفی نے جواب میں بس اسے گھورا ہی تھا ۔۔
کچھ دیر بعد اس نے گاڑی ماسٹر کے گھر کے سامنے روکی ۔۔
“خبردار جو تم نے ماسٹر سے کچھ بھی کہا ‘‘ اب کی بارمصطفی نے دھمکی دی تھی ۔۔
“اوک ۔۔ مگر اسکی فیس ؟ ‘‘ اسکی جانب ہاتھ بڑھاتے ہوئے آحل نے کہا ۔۔
“تم رشوت مانگ رہے ہو ؟ ‘‘ مصطفی کو ایک اور صدمہ لگا ۔۔
“بلکل نہیں ۔۔ رشوت لینا گناہ ہے ۔۔ میں تو آپ سے اپنی اس نیوجاب کی پیمنٹ مانگ رہا ہوں ؟ ‘‘ اور آحل کی معصومیت ۔۔
“پیزا ؟”
“ڈن ‘‘ کاندھے اچکا کر وہ گاڑی سے باہر نکلا ۔۔ جبکہ مصطفی نے ایک گہری سانس لی ۔۔
اب اگر گھر کے اندر آؤ تو امل اور ماسٹر ٹی۔وی لاؤنچ میں بیٹھے شاید انہیں کا انتظار کررہے تھے ۔۔ جب آحل بھاگتا ہوا اندر آیا اور فوراً امل کے گلے لگا ۔۔
“ارے واہ آج تو بہت اچھا موڈ لگ رہا ہے میرے آحل کا ‘‘ اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے امل نے پیار سے کہا ۔۔
“میرے بال ‘‘ آحل کو ہمیشہ کی طرح اپنے بالوں کے خراب ہونے کی فکر ہوئی ۔۔
“سوری سوری ۔۔ میں ٹھیک کر دیتی ہوں ‘‘ اب وہ ہاتھ کی انگلیوں سے ہی اسکے بال ٹھیک کرنے لگی جبکہ ماسٹر کی نگاہیں اسی پر ٹکی تھیں ۔۔
“اتنے پیار سے کبھی مجھ سے تو بات نہیں کی ‘‘ اور دل ایک بار پھر دکھی ہوا ۔۔
“تو کھانے میں کیا کھائیں گے ہمارے چھوٹے ماسٹر ؟ ‘‘ اسکے بال ٹھیک کرتے ہی امل نے اسے اپنی پاس بٹھاتے ہوئے پوچھا ۔۔
“اصولاً ایسا سوال تمہیں اپنے اس اصلی ماسٹر سے کرنا چاہئے ‘‘ ایک بار پھر دل نے آہ بھری ۔۔
“پاپا پیزا آرڈر کر رہے ہیں”
“نہیں ۔۔ بلکل نہیں ۔۔ باہر کی چیزیں صحت کے لئے بلکل اچھی نہیں ہوتیں ۔۔ میں اپنے آحل کے لئے خود پیزا بناؤگی ۔۔ کھاؤگے ؟ ‘‘ اب یہ تو حد ہی ہوگئی ۔۔۔
“تمہیں اتنی محنت کرنے ہی ضرورت نہیں ہے ۔۔ مصطفی ۔۔ آرڈر کرو ‘‘ ماسٹر نے سنجیدگی سے کہا ۔۔ جس پر مصطفی نے فوراً موبائل نکالا ۔۔
“نہیں ۔۔ آحل کے لئے تو میں اس سے بھی زیادہ محنت کر سکتی ہوں ۔۔ کیوں آحل بتاؤ کھاؤ گے نا میرے ہاتھ کا پیزا ؟”
“یس ۔۔ ‘‘ وہ ایکسائیٹڈ ہوا ۔۔
“تم دونوں باتیں کرو ۔۔ ہم ایک اچھا سا پیزا بنا کر آتے ہیں ۔ چلو آحل ‘‘ اور اسی کے ساتھ وہ آحل کا ہاتھ پکڑے اسے کچن کی جانب لے گئی جبکہ ماسٹر کی تپتی ہوئی نگاہیں آخر تک انہیں پر تھیں ۔۔
” یہ بندہ اب ایک بچے سے بھی جیلس ہوگا ؟ سیریسلی ؟ ” اسکی نگاہیں محسوس کرتے امل نے سوچا۔
“فکر مت کریں ۔۔ امل بہت اچھا پیزا بناتی ہے ‘‘ مصطفی کو ماسٹر کے اس موڈ کی وجہ سمجھ نہیں آئی تو یہی کہہ دیا ۔۔
“تمہیں کیسے پتہ ؟ تم نے کھایا ہے ؟ ‘‘ اور اب توپوں کا رخ مصطفی کی جانب آیا ۔۔
“نن ۔۔۔ نہیں ۔۔ وہ ۔۔ آحل نے بتایا مجھے ۔۔ وہ اکثر اسکے لئے بناتی رہی ہے نا ‘‘ اب وہ بیچارہ اصل بات تو بتانے نہیں والا تھا ۔۔
“مایا کہاں ہے ؟ ‘‘ ٹی۔وی آن کرتے ہوئے ماسٹر نے پوچھا۔۔
“اسکا آپریشن ہے ۔۔ شام تک آجائے گی ‘‘ اس نے شکر کیا کہ بات بدلی ۔۔
“تم دونوں کے بیچ ۔۔ سب ٹھیک ہے نا ؟ ‘‘ وہ اسی طرح پوچھ سکتا تھا اور مصطفی سمجھ چکا تھا کہ وہ کیا جاننا چاہتا ہے ۔۔
“وہ ایک بہت سمجھدار لڑکی ہے ۔۔ اور بہت انڈرسٹیبل پارٹنر بھی ۔۔۔ ہماری بیچ کچھ بھی بگڑ نہیں سکتا ‘‘ مسکرا کر کہا جبکہ ماسٹر سر ہلا کر ٹی۔وی کی جانب متوجہ ہوا ۔۔
اب اگر شام کے پانچ بجے یہاں سے کچھ دور اس ہسپتال کے تیسرے فلور پر آؤ تو مایا اپنی مکمل تیاری اور دو نرسس کے ہمراہ آپریشن تھیٹر کی جانب جارہی ہے ۔۔
“میں اس آپریشن کے فوراً بعد ایک فیملی ڈنر پر جارہی ہوں ۔۔ میری جگہ ڈاکٹر راحیل ہونگے ‘‘ اس کی بات پر ساتھ چلتی نرس نے سر ہلایا ۔۔ اور اسی کے ساتھ آپریشن روم کا دروازہ بند ہوا ۔۔ جبکہ اسی کے سامنے دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑئے ایک انسان نے موبائل کان سے لگایا ۔۔
” آپریشن سٹارٹ ہوچکا ہے ۔۔ ‘‘ دوسری جانب سے کی گئی بات سنی ۔۔
“اوک ۔۔ سب ہوجائے گا ‘‘ اور اسی کے ساتھ اپنا موبائل بند کر کے وہ لفٹ کی جانب بڑھا ۔۔
تقریباً دو گھنٹے کے بعد آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلا اور وہ باہر آئی ۔۔ اور اسے باہر آتے دیکھتے ہی مریض کی فیملی اسکی جانب بڑھی ۔۔
“ڈاکٹر وہ ٹھیک ہے نا ؟”
“کیا کنڈیشن ہے اسکی ؟ ‘‘ ایک درمیانی عمر کی عورت اور دو لڑکے اب اس سے سوال کر رہے تھے ۔۔
“آپ فکر مت کریں ۔۔ وہ بہتر ہیں ۔۔ باقی ریپورٹ آتے ہی ہم کچھ صحیح طرح بتا سیکنگے ۔۔ ایکسکیوزمی ‘‘ اور اسی کے ساتھ وہ آگےبڑھی ۔۔
جبکہ یہاں سے اوپر اس آخری فلور کی جانب آؤ ۔۔ تو یہ ایک بڑا سا کمرہ ہے ۔۔ جس میں تقریباً پانچ ایل۔ای۔ڈیز جن میں ہپستال کے تمام کیمراز کی فوٹیج چل رہی ہیں ۔۔ دیوارپر لائن سے لگی ہیں ۔۔ جبکہ انہیں کے ساتھ ایک بڑی سی میز جس میں مختلف سامان ، ہیڈ فون ، ٹیلی فون ، الارم ، کی بورڈز اور ماؤس رکھے ہیں ۔۔اور ان کے سامنے دو شخص سیکیورٹی کا یونیفارم پہنے اپنی اپنی کرسی پر بیٹھے ہیں ۔۔ ایک کی نظر سکرین اور ایک موبائل میں مصروف ہے ۔۔ جبکہ اب روم کے دروازے کی جانب آؤ تو زمین پر ایک سایہ نظر آرہا ہے ۔۔ جو آہستہ آہستہ انکی جانب بڑھ رہا ہے ۔۔ دبے قدموں ۔۔ ہاتھ کوئی چیز پکڑے ۔۔ اور پھر ۔۔ وہ اچانک ہی تیزی سے انکے پیچھے آیا ۔۔ اور اپنا ہاتھ تیزی سے ہوا میں لہراتےہوئے ان میں سے ایک سیکیورٹی مین کے سر کی پچھلی جانب مارا جس سے وہ فوراً اپنا سر تھامتے ہوئے نیچے گرا ۔۔ جبکہ اس سے پہلے کہ دوسرا اٹھ کر اس سائے پر حملہ کرتا ۔۔ اس نے اتنی ہی تیزی سے وہ چیز اسکے سرپر بھی دے ماری ۔۔ اور اس طرح اب ۔۔
دو دونوں سیکیورٹی آفیسرز زمین میں ۔۔ جبکہ وہ سایہ میز کی جانب جھکا ۔۔
٭٭٭٭
“نو بج رہے ہیں اور وہ اب تک نہیں آئی ‘‘ امل نے گھڑی کی جانب دیکھتے ہوئے کہا وہ سب کب سے ڈنر پر جانے کے لئے تیار اس کا انتظار کر رہے تھے مگر اسکا اب تک کچھ پتہ نہیں تھا ۔۔
“اسے کال کرو ‘‘ ماسٹر نے مصطفی سے کہا ۔۔ جس پر مصطفی نے فوراً کال ملائی ۔۔
“اٹھا نہیں رہی ‘‘ موبائل کان سے ہٹاتے ہوئے کہا ۔۔
“میں نے میسیجز بھی کئے ۔۔ مگر کوئی ریسپانس نہیں آیا ‘‘ امل نے اپنا موبائل چیک کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
“ضرور کوئی کیس آگیا ہوگا اور ماما بھول گئیں ‘‘ آحل نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔
“نہیں ۔۔ وہ اپنے آحل کو کیسے بھول سکتی ہیں ۔۔ فکر مت کرو ابھی آجائینگی ‘‘ امل نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے مصطفی کو اشارہ کیا ۔۔ جس نے ایک بار پھر اسے کال ملائی مگر اس بار بھی کوئی جواب نہ آیا ۔۔
“ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا ۔۔ وہ دیر سے ہی صحیح مگر جواب ضرور دیتی ہے ۔۔ اور اب تو اتنی دیر ہوگئی ہے ‘‘ امل نے بھی کال ملاتے کہا ۔۔ مگر کوئی رسپانس نہیں ۔۔
“چلو پھر اسے ہاسپٹل سے پک کرتے ہیں ‘‘ ماسٹر کہتے ساتھ آگے بڑھا ۔۔
“یہ ٹھیک ہے ‘‘ اب امل ماسٹر کے ساتھ جبکہ آحل مصطفی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا ۔۔ وہ اب ہسپتال جارہے تھے۔۔
کچھ دیر بعد دونوں گاڑیاں ہسپتال کے سامنے رکیں ۔۔ اور گاڑی رکتے ہی امل نے باہر نکلنے کے لئے دروازہ کھولا ۔۔
“تم کہاں جارہی ہو ؟ ‘‘ ماسٹر نے ناسمجھتے ہوئے پوچھا ۔۔
“مایا کو لینے”
“مصطفی لے آئے گا اسے ۔۔۔ تم یہی بیٹھو ‘‘ اس نے جیسے ایک آرڈرردیا ۔۔
“سوری ماسٹر ۔۔ مگر مجھے آج اس سے بات کرنی ہے ۔۔ اپنے کام کے لئے وہ ہمیشہ آحل کو اسی طرح اگنور کرتی ہے ۔۔ اس لئے اسکا دماغ ٹھکانے لگانے مجھے جانا ہے ۔۔ ‘‘ اور اسی کے ساتھ وہ ماسٹر کے کچھ بھی کہنے سے پہلے گاڑی سے باہر نکلی ۔۔
“آج تمہاری خیر نہیں مایا ‘‘ اور ماسٹر کو پہلی بار مایا سے ہمدردی ہوئی ۔۔
جبکہ اب اگر ہاسپٹل کی جانب آؤ تو مصطفی اور امل لفٹ کے اندر آئے ۔۔ اور تیسرے فلور کا بٹن پریس کیا ۔۔
“تمہیں آنے کی ضرورت نہیں تھی ویسے ‘‘ مصطفی نے کہا ۔۔
“پر مجھے لگتا ہے میری ہی سب سے زیادہ ضرورت ہے آج ‘‘ وہ واقعی بہت غصے میں لگ رہی تھی اور ہونا بھی چاہئے تھا۔۔۔ پچھلی بار اس نے مایا کو سمجھایا بھی تھا مگر پھر بھی اس پر کوئی اثر نہ ہوا ۔۔
لفٹ کا دروازہ کھلا ۔۔ اور وہ دونوں مایا کے آفس کی جانب بڑھے ۔۔ اور جانے ایسا کیا تھا کہ امل نے مصطفی کا ہاتھ تھاما ۔۔ دل اچانک ہی جیسے بھاری ہوا ۔۔
“کیا ہوا ؟ ‘‘ اسے حیرانی سے دیکھتے ہوئے مصطفی نے پوچھا ۔۔
“پتہ نہیں ۔۔ کچھ عجیب فیل ہورہا ہے ‘‘ اس نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔۔
“تم ۔۔ ٹھیک تو ہو ؟ ‘‘ مصطفی اسے دیکھ کر پریشان ہوا ۔
“ہاں ۔۔ چلو ‘‘ اور وہ ایک بار پھر مایا کے آفس کی جانب بڑھے ۔۔
مصطفی نے ہاتھ آگے بڑھا کر دروازہ کھولنا چاہا مگر جانے ایسا کیا احساس تھا کہ اچانک ہی امل نےآگے بڑھ کر جلدی سے دروازہ کھولا ۔۔ اور پھر ۔۔ ایسا لگا ۔۔ جیسے دونوں ہی پتھر ہوگئے ہوں ۔۔ ایسا لگا ۔۔ جیسے اچانک ہی آسمان سر پر آگرا ہو ۔۔ ایسا لگا کہ جیسے زمین اچانک ہی پیروں تلے کھینچ لی گئی ہو ۔۔۔ ایسا لگا ۔۔ جیسے کوئی قیامت ہو ۔۔ جیسے سامنے کوئی موت کا فرشتہ آگیا ہو ۔۔ مگر نہیں ۔۔۔ کوئی موت کا فرشتہ نہیں تھا ۔۔ بلکہ ۔۔ موت تھی ۔۔۔
کرسی پر گردن اور ہاتھ لٹکائے بیٹھی مایا کی موت ۔۔ جس کے سینے پر ایک گول زخم تھا شاید ۔۔ جس سے خون نکل پر اسکے کپڑوں کو بھگورہا ہے۔۔ ایسا ہی گول زخم اسکے دائیں بازو پر بھی ہے ۔۔ جس ے نکلتا خون اسکے بازو سے ہوتے ہوئے ہتھیلی تک اور ہتھیلی سے زمین پر ٹپ ٹپ کرتا گر رہا ہے ۔۔۔ اور اگر نظر تھوڑا نیچے لے کر جاؤ ۔۔ تو ایسا ہی زخم اسکے بائیں پاؤں پر بھی ہے جس سے نکلتا خون زمین کو بھگو رہا ہے ۔۔
اور جانے یہ زخم امل کو اتنے جانے پہچانے کیوں لگے ؟ ہاں ۔۔۔ آٹھ سال پرانی جان پہنچان تو ہے ان سے ۔۔
“مایا ۔۔۔۔ مایا ‘‘ مصطفی کی آواز اسے ہوش کی دنیا میں واپس لائی ۔۔ وہ جنونی انداز میں آگے بڑھا ۔۔ مگر امل تیزی سے اسکے سامنے آئی ۔۔
“نہیں مصطفی ۔۔ سنبھالوں خود کو ‘‘ وہ جو مایا کی جانب بڑھ رہاتھا ۔۔ امل نے اسے بازو سے پکڑ کر روکا ۔۔
“چھوڑو مجھے ۔۔ مایا ۔۔ ‘‘ وہ خود کو چھڑوانا چاہتا تھا ۔۔
“مصطفی ۔۔ سنبھالوں خود کو ۔۔ اسے مت ہلاؤ ۔۔ پلیز سنبھالوں خود کو ‘‘ وہ بھیگی آنکھوں سے اسکا دوسرا بازو پکڑ کر اسے جھنجھوڑتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔۔۔ مگر مصطفی ۔۔ وہ اسے نہیں دیکھ رہا تھا ۔۔ وہ تو سامنے خون سے بھیگی اپنی اس دوست نما بیوی کو دیکھ رہا تھا ۔۔
“سوچ لو ۔۔ نہیں آؤں واپس ؟ پھر بعد میں پچھتانا مت ‘‘ ایک شرارتی آواز اسکے کانوں میں گونجی ۔۔ اور جانے کیا اثر تھا اس میں کہ وہ تڑپ اٹھا ۔۔
“مایا ۔۔۔ چھوڑو مجھے ‘‘ اور ایک جنونی اندازمیں امل کو دھکا دیتے وہ مایا کی جانب آیا ۔۔ جبکہ اسکے دھکے کی وجہ سے امل دوسری جانب گری جس سے اسکا سر میز کے کونے پر لگا اور فوراً خون بہنے لگا ۔۔
“مایا ۔۔۔ مایا آنکھیں کھولو ۔۔ اٹھو مایا ۔۔ تم نہیں جاسکتی ۔۔ میں نہیں پچھتانہ چاہتا مایا ۔۔ اٹھو ۔۔ مایا ‘‘ وہ جنونی انداز میں اسے دونوں کاندھوں سے تھام کر جھنجھوڑ رہا تھا ۔۔ مگر مقابل کا وجود بے جان تھا ۔۔
مصطفی کی حالت دیکھ کر امل فوراً اسکی جانب آئی ۔۔
“مصطفی ۔۔ چھوڑ دو مصطفی اسے ۔۔ پلیز ‘‘ وہ ایک بار پھر اسے روکنے کی کوشش کرنے لگی جبکہ ایک بار مصطفی نے اسکا ہاتھ جھٹکا ۔۔
“نہیں ۔۔ کبھی نہیں چھوڑونگا اسے میں ۔۔ مایا ۔۔ تم تومیری سب سے اچھی دوست ہونا ۔۔ پلیز اٹھو ۔۔ ہم نے ڈنر پر جانا ہے مایا ۔۔ پلیز دیر ہورہی ہے ‘‘ وہ اب اسکا چہرہ تھپتھا رہا تھا ۔۔
جبکہ امل کی نظر میز پر رکھے ایک کاغذ پر پڑی ۔۔ جس میں خون سے تین الفاظ لکھے تھے ۔۔
“آئی ایم بیک”
اور اسی کے ساتھ امل امل نے اب اپنے بیگ سے موبائل نکالا ۔۔
“ہیلو ۔۔ نائل ۔۔ جلدی آؤ ۔۔ جلدی آؤ نائل ‘‘ امل کی بھیگی اور گھبراتی آواز سن کر وہ تیزی سے گاڑی سے باہر نکلا ۔۔
“کیا ہوا امل ۔۔ تم ٹھیک ہو ‘‘ تیزی سے ہسپتال کے اندر بھاگتے کہا ۔۔
“کچھ ٹھیک نہیں ہے نائل ۔۔ قیامت آگئی ہے ۔۔ ‘‘ اور اسی کے ساتھ کال کٹ گئی تھی جبکہ نائل لفٹ کا دروازہ نہ کھلتے دیکھ کر سیڑھیوں کی جانب بھاگا ۔۔
“مایا ۔۔ اٹھو مایا ۔۔ پلیز ۔۔ اٹھو ‘‘ وہ اب بھی اسکا چہرہ تھپتھپا رہا تھا جب ماسٹر نے اسے بازو سے پکڑ کر اس سے الگ کیا ۔۔
“چھوڑیں ۔۔ مجھے چھوڑیں ماسٹر ۔۔۔ یہ اٹھ کیوں نہیں رہی ‘‘ وہ خود کو چھڑوانے کی کوشش کرنے لگا مگر ماسٹر کی گرفت مضبوط تھی ۔۔
“وہ نہیں اٹھےگی مصطفی ۔۔ سنبھالو خود کو ۔۔ اس طرح کر کے تم اسے اور تکلیف دے رہے ہو ‘‘ وہ اسے سمجھانا چاہتا تھا ۔۔ خود کو قابو میں رکھتے ہوئے ۔۔
“اسکے ساتھ یہ کس نے کیا ماسٹر ؟ کون ہے وہ ؟ ‘‘ مصطفی نے اب ماسٹر کا گریبان پکڑتے ہوئے چلا کر کہا اور اسی آواز کی وجہ سے ہسپتال میں موجود باقی سب بھی اس جانب آئے ۔۔
“اگر جاننا چاہتے ہو تو خود کو سنبھالوں ۔۔ اس سے دور رہو مصطفی ‘‘ اسکے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ کسی بچے کی طرح اسے سمجھا رہا تھا ۔۔ جبکہ امل میز سے ٹیک لگائے زمین پر بیٹھی آنسو بہاتے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔
“ماما ۔۔۔ ماما ‘‘ کسی کی روتی آواز پر جیسے اسکے وجود میں کرنٹ دوڑا ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ آحل روتے ہوئے اسی جانب آرہا تھا ۔۔
“نہیں ۔۔ آحل ۔۔ ‘‘ اور امل نے تیزی سے آگے بڑھ کر آحل کو سینے سے لگایا ۔۔
“ماما ۔۔ یہ کیا ہوا ہے ۔۔ ماما ‘‘ وہ امل کے سینے سے لگا مچل رہا تھا جبکہ امل نے اپنی گرفت مزید مضبوط کی ۔۔
“کچھ نہیں ہوا بیٹا ۔۔ سنبھالو خود کو ۔۔ آپ تو ماما کے بہادر بیٹے ہونا ‘‘ وہ اسے سمجھانا چاہتی تھی ۔۔ مگر کوئی بچہ جب اپنی ماں کو اس حال میں دیکھے ۔۔ تو ایسا کوئی نہیں ۔۔ جو اسے سمجھا سکے ۔۔ یہ ایک بہت بڑا صدمہ ہوتا ہے ۔۔
اور اس صدمے کو ہر بچہ سہہ نہیں پاتا ۔۔
اور اسی کے ساتھ آحل ۔۔ امل کے بازو میں جھول گیا ۔۔۔
“آحل ! ‘‘ امل ، ماسٹر اور مصطفی کی تڑپتی ہوئی آواز اس کمرے میں گونج اٹھی
