Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Part 2

سرمد نے جوں ہی درگاہ کے دفتر میں قدم رکھا شایان کو اپنا منتظر پایا.
آ گیا ہے …… ؟؟ شایان نے نظر اٹھائے بغیر مصروف سے انداز میں ہوچھا
دل تو نہیں کر رہا تھا مگر _ سرمد نے کرسی پر گرنے والے انداز میں بیٹھتے ہوئے جواب دیا. تو دل کو وہیں چھوڑ آتے. میرا تو اصول ہے جو جہاں رہنا چاہے اسے وہیں رہنے دو. زبردستی کرنے کا فائدہ شایان ساتھ ساتھ کمپیوٹر پر کچھ ٹائپ کر رہا تھا.
شایان صاحب ایسی باتیں آپ کو زیب نہیں دیتیں. آپ تو خود خیر سے سرمد خاموش ہوا کیونکہ شایان نے ایک سنجیدہ نظر اس پر ڈالی.
کیا کام کرنا ہے ……. ؟ ؟ سرمد اب سنبھل کر بیٹھ گیا تھا.
تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ کیا کام تم نے کرنا ہوتا ہے. تمام دعوت نامے تقسیم ہو گئے ہیں یا نہیں لنگر، عام اور خاص لوگوں کی رہائش کا بندوبست فنڈز. عطیات وغیرہ کا حساب، لین دین
سیکیورٹی وغیرہ شایان کی انگلیوں کے ساتھ ساتھ زبان بھی تیزی سے چل رہی تھی. جس پر سرمد سر ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا.
کیا تاریخ رکھی ہے …… ؟؟ شایان کی آواز پر سرمد نے پلٹ کر اسے دیکھا
کس چیز کی …..؟ ؟ سرمد اس وقت اپنے ذہن میں کاموں کو ترتیب دے رہا تھا اسی لیے سمجھ نہ سکا.
تمہاری خانہ بربادی کی ………. ؟؟ شایان کا جواب سرمد کو مسکرانے پر مجبور کر گیا.
فلحال تو ان لوگوں نے نکاح کی تاریخ دی ہے. جب اس کا ابا دوبئی سے آئے گا پھر وہ شادی کی تاریخ دیں گے البتہ نکاح اگلے جمعہ کو ہے. سرمد نے اداس سے لہجے میں بتایا
میرے حساب میں تجھے شکر کرنا چاہئے کہ کم از کم جلدی یا بدیر وہ تجھے اپنی لڑکی دینے پر راضی ہو گئے ہیں ورنہ تجھے تو معلوم ہی ہے کہ تُو کتنا “بھاگِ وان” ہے چندہ لینے جب بھی بھیجا ہے آگے ہی انکار ہی ہوا ہے. جسے لوگ چندہ نہیں دیتے اسے وہ بیچارے اپنے بیٹی دے رہے ہیں.
ناشکری کرنے سے نعمتیں چھین لی جاتیں ہیں شایان کے لیکچر نے سرمد نے اپنا کان کھجاتے ہوئے گلا صاف کیا.
شادی کے بعد تجھ میں اور کوئی تبدیلی آئی ہے یا نہیں مگر یہ سچ ہے کہ تو دیکھنے میں سمجھدار لگنے لگا ہے. دوسرا تیرے اندر ایک ابو جی کی روح آ گئی ہے جس کی وجہ سے اب مجھے تیرے ساتھ وقت گزارتے ہوئے ان کی کمی محسوس نہیں ہوتی. سرمد نے نہایت عاجزی سے طنز کیا
تو شادی شدہ ہو کر بھی سمجھدار نہیں لگے گا چلو میں کم از کم دیکھنے میں ہی سہی سمجھدار تو لگتا ہوں. شایان کے جواب پر سرمد جاتے جاتے رکا.
وہ کیوں ……؟ ؟ سرمد نے بےساختہ پوچھا
کیونکہ تیری برادری کے لوگ یونہی اچھل کود کر وقت گزارتے ہیں. کبھی بندروں کو بھی انسان بنتے دیکھا ہے. خیر میں اگلے ہفتے برطانیہ جا رہا ہوں خبردار جو میری غیرموجودگی میں شادی کی تو یہ حادثہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہوں. شایان کی بات سنتے ہی سرمد مسکرایا. اپنی آنکھوں ساتھ “گنہگار” کا لفظ بھی لگا دیتے تو جملہ مکمل ہو جاتا خیر بھابی کے ڈاکومنٹس میں نے حویلی بھجوا دیے تھے کیونکہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ اس وقت یہاں ہوں گے …..؟ سرمد نے گھڑی دیکھی جہاں صبح کے دس بج رہے تھے. ابا کو تو جانتے ہی ہو ان دنوں اُن کا بس چلے تو مجھے رات میں بھی سونے نہ دیں یہ تو پھر صبح کے دس ہیں. شایان کے جواب پر سرمد سر ہلاتا باہر نکل گیا. 🔖🔖🔖🔖 آدھی رات کے قریب شایان نے اپنے کمرے میں قدم رکھا دروازہ اس خیال کے تحت آہستہ سا بند کیا کہ کہیں دعا کی نیند خراب نہ ہو جائے مگر دروازہ بند کر کے وہ جیسے ہی پلٹا اسے شدید حیرت کا جھٹکا لگا کیونکہ دعا بستر کی بجائے صوفے پر سمٹی بیٹھی تھی. مجھے کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے تمہارے اندر کسی پرانے زمانے کی مفکر آتما رہتی ہے جو تمہیں خوش نہیں دیکھ سکتی. پتہ نہیں کیا کیا سوچتی رہتی ہو. ابھی تک کیوں جاگ رہی تھی. سو جاؤ ، بہت رات ہو گئی ہے مجھے تو تمہارے سسر صاحب سونے نہیں دیتے ورنہ میں کب کا سو جاتا. شایان نے اپنی جمائی روکتے ہوئے دعا سے کہا
مجھے نیند نہیں آ رہی تھی. دعا نے آہستہ سی آواز میں جواب دیا
یہ کیا بات ہوئی. وقت دیکھا ہے کیا ہو رہا ہے ……. ؟؟ شایان نے حیرانگی ہے وال کلاک کی طرف دیکھا
چلو اٹھو جلدی سے اور بستر پر لیٹو،. لیٹو گی تو نیند آئے گی ناااااا چلو شاباش، شایان نے محبت سے دعا کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے زبردستی بیڈ کی طرف کیا اور خود واشروم میں فرش ہونے چلا گیا. شایان آپ میرا اتنا خیال رکھتے ہیں کہ مجھے آپ کی عادت ہوتی جا رہی ہے اگر کبھی آپ نے رہے یا مجھ سے دور ہو گئے تو میں کیا کروں گی ……. ؟؟ دعا نے دل میں سوچتے ہوئے اپنا لحاف سیدھا کیا. ارے تم ابھی تک جاگ رہی ہو ……… ؟؟ شایان نے واش روم سے باہر آتے ہی دعا کو بستر پر بیٹھا دیکھ کر کہا مجھے سائنس کی اس ایجاد سے شدید نفرت ہے خاص طور پر رات کے وقت شایان تولیے سے بال خشک کرتا اپنا موبائل سائیلنٹ پر لگانے لگا جبکہ دعا اس کی ایک ایک حرکت کو غور سے دیکھ رہی تھی.
چلو اب لیٹ جاؤ بہت رات ہو گئی ہے. شایان نے کہتے ساتھ ہی لائٹ بند کی اور اپبا لحاف سیدھا کرنے لگا.
مجھے بلکل اندھیرے میں نیند نہیں آتی. دعا نے نائٹ بلب کے بند ہوتے ہی احتجاج کیا.
آگے کونسا آ رہی ہے شاید اب ڈر کے ہی آ جائے. شایان نے ہنستے ہوئے نائٹ بلب دوبارہ جلا دیا اور اپنا لحاف سیدھا کرتے ہوئے وہ لیٹنے لگا مگر پھر کسی خیال کے تحت لیٹتے لیٹتے اٹھ بیٹھا جیسے کوئی بہت ضروری بات یاد آ گئی ہو.
دعا شایان کے پکارنے میں کچھ خاص اور مختلف تھا تبھی دعا نے فوراً شایان کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا.
وہ میں نے تمہیں بتانا تھا کہ جہاں اور بہت سے وی آئی پیز اور ہائی پروفائل لوگ عرس کی تقریب میں شرکت کریں گے وہاں ایک ایسا شخص بھی ہے جو شاید تمہیں پسند نہ ہو بلکل یقیناً پسند نہیں ہے. شایان نے سوچ کر اپبا جملہ مکمل کیا.
کون ہے. وہ کون ہے …….. ؟؟دعا کے دل میں ڈر اور خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں. شایان نے فوراً دعا کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا جو ٹھنڈا ہو رہا تھا.
پہلے جب ابا نے مجھے اس شخص کے بارے میں بتایا تو میرا خون کھول گیا مگر پھر _
میں چاہتا ہوں تم اپنی آنکھوں سے اس کا انجام دیکھو. تم دیکھو کہ سرکشی کرنے والوں، ظلم کرنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے.
ککککککککککون ہے وہ ……. ؟؟ دعا نے ہکلاتے ہوئے پوچھا
عرفان شایان کے منہ سے جیسے ہی یہ نام نکلا دعا کے چہرے کی رنگت بدل گئی. اس کی آنکھوں کے آگے بہت سے اذیت ناک منظر گزرنے لگے. بیک وقت چہرے پر دکھ، غم اور غصے کے ملے جلے تاثرات نظر آنے لگے.
دعا ادھر میری طرف دیکھو، میری آنکھوں میں شایان نے دعا کا رخ اپنی طرف کیا مگر وہ شایان کا ہاتھ جھٹکتی دوسری طرف رخ کر کے لیٹ گئی.
دعا
شایان کے دوبارہ پکارنے پر دعا نے لحاف کے اندر منہ کر لیا. جس کا مطلب صاف تھا کہ وہ مزید بات نہیں کرنا چایتی. شایان نے ایک دو بار اسے پکارا مگر جواب ندارد.
دعااااااااا شایان نے زور سے پکارتے ہوئے اس کا لحاف کھینچ ڈالا
کیا ہے ……. ؟؟ دعا کی ناراض اور نم آواز شایان کے کانوں سے ٹکرائی.
تم ڈر کیوں رہی ہو ……… ؟ ؟ شایان کے پوچھنے پر دعا کو غصہ آ گیا
شایان آپ جان بجھ کر میرے ساتھ ایسا کرتے ہیں. میں جب بھی سب کچھ بھول کر آپ کے بارے میں سوچنے لگتی ہوں آپ میرا ماضی اٹھا کر میرے منہ پے دے مارتے ہیں. اب اس خبیث انسان کا ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی ……. ؟؟ دعا چیخی
ضرورت تھی کیونکہ میں چاہتا ہوں تم اسے دیکھو
شاید بلکہ یقیناً اسے تمہاری معافی کی ضرورت ہے اور میری دلی خواہش ہے کہ تم اسے معاف کر دو. شایان کی بات پر دعا نے ایک نفرت بھری نظر شایان پر ڈالی اور غصے سے لحاف زمین پر اچھال دیا.
شایان نے دعا کی حرکت کو دیکھتے ہوئے اسے کشن دیا جسے دعا نے زور سے دروازہ پے دے مارا پھر شایان نے باری باری کش اور تکیے دیے جو دعا کے ہاتھوں زمین بوس ہوئے.
اب مجھے بھی بستر سے دھکا دے دو تاکہ تمہارا غصہ ختم ہو جائے
جب بستر پر صرف دعا اور شایان بچے تو مسکراتے ہوئے شایان نے کہا
مجھے ساتھ لے کر جائیں گے …… ؟؟ دعا نے روٹھے سے لہجے میں پوچھا یا فرمائش کی اسے خود بھی معلوم نہیں تھا.
فرش پر _ شایان نے فرش پر گرے سامان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شرارت سے پوچھا تو دعا غصے سے رخ موڑ گئ جس پر شایان نے قہقہ لگاتے ہوئے اسے اپنے حصار میں لیا. “‏اک عجیب ٹھنڈک ہے اُسکے نرم لہجے میں لفظ لفظ شبنم ہے ، بات بات پیاری ہے” 🔖🔖🔖🔖🔖🔖 سرمد بستر پر سونے کی نیت سے لیٹا ہی تھا کہ عنایہ کا خیال اس کی تھکاوٹ اتار گیا لب خودبخود ہی مسکرانے لگے. ابھی وہ اسے سوچ ہی رہا تھا کہ اس کا فون بجا جس کی رنگ ٹون پر پر اس کا عاشق مزاج دل بھنگڑے ڈالنے لگا. یعنی میری طرح بےقرار وہ بھی ہے. اگر مجھے نیند نہیں آ رہی تو وہ بھی بےچین ہے. اسے ہی “اصلی محبت” کہتے ہیں (حالانکہ اتنی مہنگائی میں اصلی چیز ملنا کافی مشکل ہے). یعنی میں نے یاد کیا اور اس کا فون آ گیا. تھوڑا انتظار تو بنتا ہے. اگر میں نے فوراً کال اٹھا لی تو میری ویلیو کم ہو سکتی ہے. سرمد صبر کر دوسری دفعہ کال آنے پر فون اٹینڈ کرنا. اپنے آپ کو مصروف ظاہر کر سرمد نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے سوچا
فون بج بج کر بند ہو گیا. اس کے خاموش ہوتے ہی سرمد کو پریشانی ہونے لگی. کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ دوبارہ کال ہی نہ کرے. وہ سوچے کہ میں سو گیا ہوں گا. سرمد اپنی سوچ پر خود ہی چونکتا ہوا اٹھ بیٹھا تبھی دوبارہ کال آنے لگی جسے سرمد نے فورا اٹینڈ کیا.
سوری وہ میں واش روم میں تھا اس لیے پہلے کال نہیں اٹھا سکا. تم ناراض تو نہیں …… ؟؟ سرمد نے کال رسیو کرتے ہوئے جلد بازی سے کہا
تجھے میری ناراضگی کی کب سے اتنی فکر ہونے لگی ……….؟؟ دوسری طرف سے شایان کی چہکتی آواز سن کر سرمد کا موڈ شدید خراب ہو گیا.
یہ کونسا وقت ہے فون کرنے کا …..؟ ؟ سرمد نے پوچھا
اچھا پھر فون کرنے کا کونسا وقت مناسب ہے وہ بتا دے …….. ؟؟ شایان کے پوچھنے پر سرمد نے ہنکار بھری
خیر سے اتنی رات کو یاد کرنے کی وجہ بتا دیں تاکہ میں دوبارہ سے سرمد نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ شایان نے اس کا جملہ اچک لیا. تاکہ تو دوبارہ واش روم جا سکے. شایان نے قہقہ لگایا تو پاس لیٹی دعا نے حیرت سے شایان کی طرف دیکھا بکواس کرنا تو جناب کی پرانی عادت ہے. مگر پہلے آپ صرف دن میں کرتے تھے رات میں پہلی بار دورہ پڑا ہے. سرمد کو اچانک سخت نیند آنے لگی میں نے یہ پوچھنا تھا کہ سارے انتظامات مکمل ہیں نااااا
شایان نے اب کی بار سنجیدگی سے پوچھا
جی مکمل ہیں. سرمد نے بیزاری سے جواب دیا.
اچھاااااا _ ویسے تیرا نکاح اگلے جمعے کو ہے نااااا اس جو تو عرس ہے. شایان کے پوچھنے پر سرمد نے صرف “ہمممم” سے گزارہ کیا. جبکہ دل میں وہ کوس رہا تھا.
چل ٹھیک ہے پھر تو سو جا کافی رات ہو گئی ہے.جاگنے کا فائدہ نہیں ویسے بھی جس کے لیے جاگ رہا ہے وہ سو گئی ہو گی. شایان کی بات مکمل ہوتے ہی سرمد نے کال کاٹ دی اور بیزار سا بیٹھ گیا.
آپ سرمد بھائی کو کیوں تنگ کرتے ہیں ……. ؟؟ دعا کے پوچھنے پر شایان نے شرارت سے مسکرا کر اسے دیکھا
کیونکہ میں تمہیں تنگ نہیں کر سکتا اگر تم مجھے تنگ کرنے کی اجازت دے دو تو میں اسے تنگ نہیں کروں گا. پکا وعدہ شایان کی فرمائش پر دعا نے بات بدلی
آپ ہنستے ہوئے اچھے لگتے ہیں. ہنستے رہا کریں. دعا کی بات پر شایان نے اسے گھور کر دیکھا
کیا میں سچ مچ تمہیں اچھا لگتا ہوں
؟؟ شایان نے دعا کی طرف جھکتے ہوئے پوچھا تو وہ شرماتے ہوئے سر ہلانے لگی.
اچھا آج ایک بات پوری سچائی سے بتاؤ کہ میں تمہیں کب کب اچھا لگتا ہوں. شایان اب بلکل سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا.
جب آپ سو رہے ہوں تب بھی مجھے بہت اچھے لگتے ہیں. دعا کا جواب شایان کی امیدوں کے برخلاف تھا لہٰذا وہ منہ بناتا لیٹ گیا.
کیا ہوا. …..؟؟ دعا نے شایان کے یوں لیٹنے پر پوچھا
تمہیں اچھا لگنے لگا ہوں شایان ناراضگی سے کہتا ہوا آنکھیں موند گیا. دعا کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر اس کی ناراضگی دور کرنے کے لیے ہمت کر کے اس کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گئی.
اگر تم ایسا نہیں بھی کروں گی تب بھی میں تمہیں ساتھ لے کر ہی جاؤں گا. شایان نے محبت سے اس کے گرد بازو حائل کرتے ہوئے دل میں سوچا.
🔖🔖🔖🔖🔖
سرمد کا موڈ شایان کی کال سے سخت خراب ہو گیا تھا. اس سے پہلے کہ وہ شایان کو دو چار بھاری گالیاں دے کر دوبارہ سونے کی کوشش کرتا اس کا موبائل ایک بار پھر بجنے لگا تھا
اب سونے دے گا یا میں خودکشی کر لوں. یہ وقت ہے کال کرنے کا
سارا دن کام کرتے گزری ہے اب تو سکون سے سونے دے. سرمد نے انتہائی بتمیزی سے چیخ کر کہا
آپ کو فون پر کیا ہو جاتا ہے. میرے خیال سے آپ جان بجھ کر میرے ساتھ ایسا کرتے ہیں. آپ کو فون پر بات کرنے کی تمیز نہیں ہے یا آپ میرے ساتھ بات کرتے ہوئے تمیز بھول جاتے ہیں …….. ؟؟ عنایہ کی ناراض آواز سنتے ہی سرمد کو سانپ سونگھ گیا.
سوری یارررر قسم سے میں نے جان بجھ کر کچھ نہیں کیا وہ شایان تنگ کر رہا تھا. میں نے بغیر دیکھے کال اٹھائی تھی. سرمد نے بےچینی سی پہلو بدلا
ہر دفعہ شایان ہی آپ کو تنگ کر رہا ہوتا ہے ناااااا عنایہ نے طنز کیا.
سوری کر تو رہا ہوں کہ بغیر دیکھے کال اٹینڈ کی ہے. سرمد نے بیچارگی سے کہا
سرمد صاحب یہ “اینڈرائیڈ فون ” کا زمانہ ہے. “نوکیا 3310” کا نہیں کہ آپ کو سکرین پر میرا نمبر نظر نہیں آیا. آج کل کے موبائل کی اتنی روشنی ہوتی ہے کہ پورا کمرہ روشن ہو جاتا ہے. فون کی سکرین پر اتنا بڑا بڑا نمبر صاف نظر آ رہا ہوتا ہے اور آپ ابھی عمر کے اس حصہ میں نہیں پہنچے کہ آپ کو نمبر دیکھنے کے لیے عینک کی ضرورت پڑے. عنایہ کے دلائل پر سرمد نے ایک سانس خارج کرتے ہوئے موبائل کی طرف دیکھا
اب کیسے یقین دلاؤں …..؟ ؟ سرمد نے دل میں سوچا
میں اب آپ کو کال نہیں کروں گی
عنایہ نے کہتے ساتھ ہی کال کاٹ دی. سرمد نے بار بار اسے کال کی مگر وہ فون بزی کر دیتی آخر تنگ آ کر اس نے فون پاور آف کر دیا.
سرمد نے ٹینشن سے کمرے میں ٹہلنا شروع کر دیا. نیند تو پہلے بھی نہیں آ رہی تھی اب رہتی کسر بھی نکل گئی تھی.
شایان کے بچے اچانک شایان کا خیال آتے ہی سرمد نے شایان کا نمبر ڈائل کیا اور پھر ری ڈائل پر انگلی رکھ لی.
اگر میری والی ناراض ہو گی تو راضی میں تیری والی بھی نہیں رہنے دوں گا. سرمد نے دل میں سوچا
شایان آپ کا فون وائیبریٹ کر رہا ہے. دعا نے سائیڈ ٹیبل پر پڑے فون کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
بجنے دو خود ہی بج بج کر سو جائے گا اور مجھے سونے دو بہت مزے کی نیند آ رہی ہے. اسی طرح میرے ساتھ لیٹی رہو میرے دل کے قریب _
شایان نے اس کے بالوں پر محبت سے بوسہ دیا.
🔖🔖🔖🔖🔖
جاری ہے.