No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
مجھ سے ایک غلطی ہو گئی ہے …..؟
سرمد نے اپنا سر کھجاتے ہوئے کہا
بس ایک _ جیپ کا بونٹ کھولتے ہوئے شایان نے پوچھا پوچھ رہا ہے یا طنز کر رہا ہے …… ؟ سرمد نے جیپ ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے انجن پر نظر ڈالی. جیپ آج کل بہت جلدی گرم ہو جاتی ہے پتہ نہیں کیوں …..؟؟ شایان نے سوچتے ہوئے کہا ایک تو “موسم گرم” ہے دوسرا جس کی یہ جیپ ہے یعنی آپ کے “خالو جی” وہ بھی “سبی” جیسا مزاج رکھتے ہیں تیسرا چلانے والا “ملتان” سے آیا ہے. حیرت کی بات ہے کہ ابھی بھی آپ سوچ رہے کہ جیپ جلدی کیوں گرم ہو جاتی ہے …… ؟؟ سرمد کے تجزیے پر شایان نے پوری قوت سے بونٹ بند کیا اور اسے دیکھ کر مسکرانے لگا میرے اصول میں یہ بات شامل ہے کہ میں دوستوں پر کبھی ہاتھ نہیں اٹھاتا شایان کے جواب پر سرمد نے سر کو خم دیا
مگر رینچ تو اٹھا سکتا ہوں _ پاس پڑے ٹول باکس سے رینچ اٹھاتے ہوئے (شایان کو دیکھ کر) سرمد کے چہرے پر پھیلی مسکان سمٹی. کمینے دوست کو مارے گا …..؟ ؟؟ سرمد نے الٹے قدم لیے جبکہ شایان قمیض کے بازو فولڈ کر رہا تھا. جلدی بول کہ تو نے کیا کیا ہے تاکہ اسی حساب سے تجھے سزا دی جائے …..؟؟ ؟ شایان نے سنجیدگی کا لبادہ اوڑھتے ہوئے پوچھا کچھ “خاص” نہیں کیا مگر جو کیا ہے اسے “عام” بھی نہیں کہا جا سکتا سرمد نے ہاتھ سینے پر باندھتے ہوئے جواب دیا.
لگتا ہے کہ آج تجھے ایمرجنسی میں ہسپتال لے کر جانا پڑے گا. شایان نے پر سوچ انداز میں سرگوشی کی.
بتا رہا ہوں. اتنی جلد بازی کی ضرورت نہیں ہے. میرا موبائل بند ہو گیا تھا تو میں نےٹیلی فون کے زریعے گھر کال کی.
مگر پھر مجھے یاد ہی نہیں رہا کہ تار اتار کر رکھنی ہے. سرمد نے شرمندگی سے اپنی گردن پر ہاتھ پھیرا.
تجھے معلوم ہے کہ وہ ڈر جاتی ہے پھر بھی شایان کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے.
چل معاف کیا بس فاروق صاحب کو بتا دینا کہ تجھے یاد نہیں رہا تھا. شایان کہتے ساتھ دوبارہ جیپ کی طرف مڑا.
او بھائی غلطی تو سن لے سرمد کی آواز پر شایان نے گردن موڑ کر اسے دیکھا
غلطی بتا تو دی ہے اب کیا رہ گیا ہے …… ؟؟؟ شایان نے قدرے غصے سے پوچھا
غلطی یہ نہیں کہ میں نے تار لگی رہنے دی بلکہ غلطی یہ ہے کہ میں نے سب کو کہہ دیا ہے کہ مخدوم شایان کے حکم سے “میں نے تار جوڑی ہے اب اسے کوئی نہیں اتارے گا یہ بھی دعا بی بی کے علاج کا حصہ ہے”. سرمد نے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے اپنی کاروائی گوش گزار کی. ہممممم پہلے میں نے سوچا تھا کہ پرائی جگہ پر تجھے کچھ نہ کہوں مگر پھر خیال آیا وہ سرمد ہی کیا جو جگہ جگہ بے عزت نہ ہو. شایان نے طنزاً مسکراتے ہوئے جواب دیا اور سرمد کی طرف بڑھنے لگا.
نہیں نہیں تو ایسا کچھ نہیں کرے گا آخر میں تیرا یاررر ہوں. سرمد کہتا ہوا الٹتے قدم لے رہا تھا جب پیچھے سے آتی عنایہ سے ٹکڑاتے ہی کرنٹ کھا کر پلٹا جبکہ شایان اپنی ہنسی دباتے دوبارہ جیپ کی طرف مڑ گیا.
سسسسسسوری میں آگے دیکھ رہا تھا. سرمد نے شرمندگی سے عنایہ کی طرف دیکھا جو شاید انہی کے لیے ٹرے میں دو گلاس جوس لائی تھی. مگر افسوس وہ اب زمین کو دھو رہے تھے.
سب سامنے سے ہی دیکھتے ہیں مگر دھیان پیچھے کا بھی رکھا جاتا ہے. عنایہ نے بمشکل اپنا غصہ کنٹرول کیا اور اپنے کپڑے جھاڑنے لگی.
عنایہ کی بات پر سرمد کچھ چپ سا ہو گیا. کوئی مرد ہوتا تو وہ ٹکا کر جواب دیتا مگر اب اسے کچھ کہنا مناسب نہ لگا.
غلطی اس کی نہیں میری ہے. معزرت وہ کر چکا پے اور آئندہ آپ اس قسم کی زحمت مت کیجیے گا شایان کی آواز پر عنایہ نے اس کی طرف دیکھا اور دیکھتی ہی رہ گئی.
جب کوئی شخص آپ کو اچھا لگتا ہے تو پھر خامخواہ ہی اچھا لگتا چلا جاتا ہے. حالانکہ اس میں کچھ خاص نہیں ہوتا. عنایہ ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا تھا.
معزرت کی ضرورت نہیں وہ چچا جی نے کہا تھا تو عنایہ کوشایان کے آگے بولنے میں دشواری ہو رہی تھی
ٹھیک ہے آپ جائیں. شایان کے کہتے ہی عنایہ یوں غائب ہوئی جیسی تھی ہی نہیں
یہ کونسا طریقہ ہے صنفِ نازک سے بات کرنے کا _ اس بیچاری کو کیسا کرارہ جواب دیا. کوئی شرم “ہوتی” ہے کوئی لحاظ “ہوتا” ہے مطلب کچھ تو شایان کے گھورنے پر سرمد کی چلتی زبان کوبریک لگی
پیار سے بھی یہ سب کہا جا سکتا تھا. میں تو صرف یہی کہنے کی کوشش کر رہا ہوں. کچھ دیر بعد سرمد نے ہچکچاتے ہوئے کہا
مجھے اس لفظ ” پیار” سے کوئی دلچسپی نہیں سمجھا شایان کے بولنے پر سرمد نے سر نیچے جھکاتے ہوئے ہاں میں ہلایا. پیار کرنا ایک آرٹ ہے اور تُو تو سائنس کا سٹوڈنٹ رہ چکا ہے بس یہی ایک بات سارے پیار کا ستیا ناس کر دیتی ہے. . بس بات ختم. سرمد کہتا ہوا کپڑے بدلنے چل دیا جبکہ شایان سر نفی میں ہلانے لگا. 🔖🔖🔖🔖🔖 بھائی صاحب یہ کب تک ہمارے سروں پر منڈلاتے رہیں گے …… ؟؟؟ عزرا بیگم نے نہایت بیزاری سے پوچھا خدا خوفی کرو عذرا کیا ہو گیا ہے. کیسے بات کر رہی ہو …… ؟؟
وہ میرے کہنے پر رکے ہوئے ہیں ورنہ تو کب کے چلے گئے ہوتے. فاروق صاحب کو عذرا بیگم کا یوں ان کے بارے میں پوچھنا ناگوار گزرا.
تین دن میں ایسا بھی کیا ہو گیا ہے جو آپ ان کے مرید بن گئے ہیں. مجھے بھی تو پتہ چلے …….. ؟؟عذرا بیگم کو فاروق صاحب پر سخت غصہ آ رہا تھا.
تین سالوں سے خاموش میری دعا نے اس دن بات کی تھی اور ٹیلی فون کا بحال ہونا تمہیں نارمل بات لگ رہی ہے. فاروق صاحب کی آنکھوں میں امید کی چمک تھی.
بس کریں بھائی صاحب بھلا ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک بندہ بغیر عمل کیے ہی سب ٹھیک کر دے.
ویسے تو میرا ان عاملوں پر بلکل یقین نہیں ہے اور فرض کریں کہ وہ واقعی ہی کوئی موکل وغیرہ رکھتا ہے تو پھر بتاتا کیوں نہیں کہ دعا ساتھ کیا مسئلہ ہے . ….. ؟؟ عزرا بیگم کی بات فاروق صاحب کے دل کو لگی
اس نے بات کی تھی میں بھی کمرے میں ہی تھا. فاروق صاحب کو اپنی دلیل خود ہی کمزور سی لگی.
یہ اکیلے میں عمل کرنے والے عامل کچھ اور ہی عمل کرتے ہیں عذرا بیگم کی بات پر فاروق صاحب کا ضبط جواب دے گیا. عذرا خاموش ہو جاؤ. تم اس وقت بہتان لگا رہی ہو. میری بیٹی پر بھی اور ان پر بھی فاروق صاحب غصے سے اٹھ کھڑے ہوئے
میری بات آپ سے برداشت نہیں ہو رہی حالانکہ میں آپ کی اپنی ہوں. پھر سوچیں میں کس کس طرح لوگوں کے سوالوں کے جواب دے رہی ہوں. عذرا بیگم نے اپنے جھوٹے آنسو صاف کیے.
کیا مطلب ہے تمہاری بات کا کون لوگ باتیں بنا رہے ہیں اور کیوں …..؟؟ فاروق صاحب نے اب کی بار قدرے نرم لہجے سے پوچھا سارا محلہ ہی پوچھ رہا ہے کہ یہ دو عدد جوان جہاں لڑکے اس گھر میں کیا کر رہیں ہیں . …… ؟؟ کم از کم مجھ سے تو نہیں کہا جا رہا کہ وہ دعا کا علاج کرنے آئیں ہیں. عذرا بیگم اپنا زہر نکال رہیں تھیں. وہ لڑکے نہیں دعا کے کزن بھی ہیں اور اس کی روحانی تربیت کے لیے آئیں ہیں تم لوگوں کو بتا سکتی ہو اس میں شرم والی کوئی بات نہیں فاروق صاحب اب کی بار سنبھل چکے تھے.
معاف کیجیے گا میں نے ایک بار بھی انھیں دعا کا علاج کرتے نہیں دیکھا آپ انھیں کہیں کہ ہم سب کے سامنے جو بھی دعا سے پوچھنا ہے پوچھیں اور دوا دے کر چلتے بنیں. عذرا بیگم کہتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی جبکہ فاروق صاحب سوچ میں پڑ گئے.
🔖🔖🔖🔖🔖
دعا اپنی پسندیدہ جگہ پر بیٹھی پنجرے میں اڑتے آسٹریلین طوطوں کی جوڑی کو دیکھ رہی تھی. جو کبھی پنجرے میں بیٹھ جاتے کبھی اڑنے لگتے کبھی ایک دوسرے سے شرارت کرتے. وہ اتنے انہماک سے ان کو دیکھ رہی تھی کہ شایان کے آنے کا اسے پتہ ہی نہیں چلا
آپ کو بچپن میں “پونیا” کہہ کر بلاتے تھے ناااااا _ شایان چلتا ہوا پنجرے کے قریب کھڑا ہو گیا جبکہ دعا کا دماغ لفظ “پونیا” پر رک گیا. اگر میں غلط نہیں ہوں تو اس کی وجہ آپ کی وہ دو خوبصورت چھوٹی چھوٹی پونیا تھیں. جو آپ ہر وقت بنائے رکھتیں تھیں. شایان نے پلٹ کر دعا کے حیرت زدہ چہرے کو دیکھا آپ سوچ رہی ہوں گی کہ مجھے کیسے پتہ ……. ؟؟؟ بات تو واقعی ہی سوچنے کی ہے. سوچیں شوچیں …… ؟؟؟ شایان کہتا ہوا ریلنگ ساتھ جا لگا میں آپ کو صرف یہ بتانے آیا ہوں کہ میں کل واپس ملتان جا رہا ہوں. نائلہ خالہ نے مجھے آپ کو لینے بھیجا تھا. مگر آپ جانا نہیں چاہتیں. خیر میرا اس میں بھی فائدہ ہی ہے. شایاں نے دعا کے جھکے سر کو دیکھا جو مسلسل زمین کو گھور رہی تھی.
میری ان ساتھ شرط لگی تھی کہ تم نہیں آؤ گی آپ خامخواہ پریشان ہو رہی ہیں.
وہ اپنی تائی اور پھپھو ساتھ بہت خوش ہے. اسے اپنا ددھیال آپ سے کئی گنا زیادہ پیارا ہے. میں شرط جیت گیا ہوں.
بس ایک بار آپ خود انھیں کہہ دیں کہ آپ ملتان آنا نہیں چاہتی. زرا بات ریکارڈ میں آ جائے گی. ایسے تو وہ مجھ پر شک ہی کرتیں رہیں گی _ شایان نے دعا کے تاثرات نوٹ کرتے ہوئے کہا دعا کو کچھ دیر بے حس و حرکت بیٹھا دیکھ کر شایان نے ریلنگ سے ٹیک ختم کی اور ٹیرس سے باہر قدم بڑھا دیے. مگر ابھی وہ ٹیرس کا دروازہ کراس نہیں کر پایا تھا کہ ایک نازک کمزور آواز اس کے کانوں میں پڑی. میں جاؤں گی. مجھے نائلہ سے ملنا ہے. ان سے بہت باتیں کرنی ہیں مگر آپ میرے پاس دوبارہ مت آئیے گا آپ کے پاس سے سگریٹ کی گندی بدبو آتی ہے.
آپ کو اسی لیے جلدی جواب دیا ہے کہ آپ دوبارہ آ کر میرا دماغ خراب مت کریں _ دعا نے اتنے نرم لہجے میں سب کہا کہ شایان کو اپنی بےعزتج سمجھنے میں وقت لگا
🔖🔖🔖🔖
جاری ہے
