No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
چلو شکر ہے کہ عنایت نے اپنی غنڈہ گردی کے زور پر عرفان سے تمہیں طلاق دلوا دی. نائلہ نے سکھ کا سانس لیتے ہوئے کہا .
ارے اتنے آرام سے تھوڑا ہی سب کچھ ہوا تھا. اچھا خاصا فلمی سین تھا. چچا عنایت نے عرفان کو اغوا کیا پھر اس کے منہ سے اقرار کرواتے ہوئے ویڈیو بنائی پھر خوب پٹائی کی. تب کہیں جا کر طلاق ہوئی.
سننے میں آیا تھا ایک مہینے تک وہ ہسپتال داخل رہا تھا. دعا ایک دم خوش سے بولنے لگی. جسے دیکھ کر نائلہ کو سکون ملا
تمہیں اتنا زیادہ ڈپریشن نہیں لینا چاہیے تھا. تم یہاں آ جاتی میرے پاس _ نائلہ نے پیار سے اسے اپنے ساتھ لگایا. کیسے آجاتی ……؟؟ اور ڈپریشن میں نے لیا نہیں تھا بلکہ مجھے دیا گیا تھا . ایک تو بری یادیں دوسرا ہر وقت ان دونوں کی باتیں ایسا لگتا تھا جیسے میں کوئی بہت بڑا گناہ کیا ہے. دعا کو افسردہ دیکھ کر نائلہ نے بات بدلی.
عذرا باجی کا طنز تو پھر بھی سمجھ میں آتا ہے مگر رخسانہ بھابی کو شرم آنی چاہیے تھی. آخر ان کی بھی ایک بیٹی ہے اگر اس کے ساتھ ایسا ہو جائے تو …… ؟؟ نائلہ نے سر نفی میں ہلایا
اللہ نہ کرے. آپ کیسی باتیں کر رہیں ہیں. وہ تو بہت اچھی ہے. دعا کو عنایہ کا خیال آیا.
یہ دنیا مکافات عمل ہے. جو کچھ تمہارے ساتھ عذرا باجی اور رخسانہ بھابی نے کیا ہے وہ کسی نہ کسی شکل میں بھگتنا تو پڑے گا. نائلہ کے یقین پر دعا کو دکھ ہوا.
آپ پلیز ایسا مت سوچیں. مجھے اچھا نہیں لگ رہا. عنایہ بہت اچھی لڑکی ہے. دعا ایک دم خاموش ہو گئی.
تم اچھی لڑکی نہیں ہو ……. ؟ تمہارے ساتھ بھی تو ایسا ہوا ہے ناااااا _ بات اچھے برے کی نہیں خیر دفع کرو. نائلہ نے جان بجھ کر اپنی بات مکمل نہیں کی. ہم ایسا کرتے ہیں کہ فاروق بھائی کو واپس بھیج دیتے ہیں اور تمہیں یہاں ہی رکھ لیتے ہیں. کیسا ……. ؟؟ نائلہ نے مسکراتے ہوئے دعا کی طرف دیکھا نہیں میں بابا کے ساتھ ہی واپس جاؤں گی. مجھے اکیلے ڈر لگتا ہے. دعا نے فوراً گردن نہ میں ہلائی. چپ کرو. خبردار جو اب تم نے مجھ سے دور جانے کی بات کی تو نائلہ نے اسے گھورتے ہوئے ڈانٹا
مگر دعا نے بولنا چاہا تبھی دروازے پر دستک ہوئی.
ارے شایان تم کب سے اتنے مہذب ہو گے …….. ؟؟ نائلہ نے اس کے دستک دینے پر چوٹ کی جبکہ دعا نے اسے دیکھتے ہی منہ پھیر لیا.
جب سے آپ غیر مہذب ہوئیں ہیں. یہ کیا طریقہ ہے میرے ہی گھر میں مجھے ہی کوئی لفٹ نہیں. شایان چلتا ہوا نائلہ کے قریب بیڈ ساتھ کھڑا ہو گیا.
شایان تمہیں یاد ہے ناااا ہم سب بچپن میں دعا کو پونیا کہتے تھے. نائلہ کی بات پر دعا نے انھیں گھور کر دیکھا جبکہ شایان کندھے اچکایا نائلہ ساتھ بیٹھ گیا
مجھے کیا پتہ میں اس وقت شاید پیدا نہیں ہوا تھا …….. ؟ شایان کے جواب پر نائلہ کے ساتھ ساتھ دعا نے بھی اسے حیرت سے دیکھا جو شریر سا مسکرا رہا تھا.
🔖🔖🔖🔖🔖🔖
پھر آپ نے کیا سوچا ہے. آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں ……. ؟؟ فاروق صاحب نے حاکم علی کی طرف دیکھا مگر خاموش رہے.
یہ سچ ہے کہ نظر لگنا بلکل برحق ہے لیکن ہم ہر معاملے میں نظر کا سہارا لے کر خود کو بےقصور ثابت نہیں کر سکتے.
آپ سے غلطیاں ہوئیں ہیں. پہلے آپ اس بات کو مانیں امیر لڑکے یا امیر گھرانے سے رشتہ آتے ہی پتہ نہیں کیوں لڑکی والے اندھے ہو جاتے ہیں …… ؟؟
یہ سوال میں ہر اس باپ سے پوچھتا ہوں جو آپ کی طرح سمجھتے ہیں کہ شاید بیٹی پر کسی نے کچھ کیا ہوا ہے تبھی اس کا گھر نہیں بس رہا یا اسے نظر لگ گئی ہے وغیرہ
حالانکہ ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے. زیادہ تر بیٹی کی تباہی میں ہمارا اپنا ہاتھ ہوتا ہے. حاکم علی اپنی بات کر کے خاموش ہو گئے.
بیٹیوں سے بھی غلطیاں ہوتیں ہیں . جیسے آپ کی بیگم سے ہوئی تھی (حاکم علی کا اشارہ بھاگنے کی طرف تھا) مگر ہم تو بڑے ہیں ہمارا کام بچوں کی غلطیوں کو سدھارنا ہے. بگاڑنا نہیں.
آپ میری بات پر غور کریں. یقین مانے یہ ہم سب کے فائدے میں ہے. باہر مریدین کا رش لگ رہا ہے. ہم آپ سے رات میں بات کریں گے. حاکم علی نے فاروق صاحب کو گہری سوچ میں ڈوبا دیکھ کر بہانہ بنایا کیونکہ وہ جانتے تھے اتنی جلدی فیصلہ کرنا ان کے بس کی بات نہیں.
فاروق صاحب چپ چاپ وہاں سے اٹھ کر اندر آ گئے.
🔖🔖🔖🔖🔖
بابا آپ کہاں سے آ رہے ہیں میں کب سے آپ کا پوچھ رہی تھی……؟ ؟ دعا نے جلدی سے فاروق صاحب کے پاس جاتے ہوئے پوچھا
میں زرا حاکم صاحب سے بات کرنے گیا تھا مگر تم کیوں پریشان ہو گی……. ؟؟
یہ اپنا ہی گھر ہے دیکھو یہاں سب لوگ تم سے کتنی محبت کرتی ہیں تمہارا کتنا خیال رکھتے ہیں فاروق صاحب نے کہتے ہوئے دعا کو اپنے ساتھ لگایا اؤر صوفے پر بیٹھ گئے.
دعا چپ چاپ فاروق صاحب کے پاس بیٹھی باہر لان میں لگے درختوں کو دیکھ رہی تھی جو ہوا چلنے سے ہلکے ہلکے ہل رہے تھے.
دعا مجھے معاف کر دو فاروق صاحب کی اس اچانک بات پر دعا نے حیرت سے انہیں دیکھا
میں نے تمہارے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے ہمیشہ بہت جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے. اگر میں نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہوتا تو آج صورتحال کافی مختلف ہوتی _ فاروق صاحب نے اپنی عینک اتار کر گود میں ہر کھی چہرے سے ندامت واضح تھی. بابا آپ سے معافی تو مجھے مانگنی چاہیے کیوں کہ میری وجہ سے آپ کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا ہے. دعا نے فورا فاروق صاحب کی گود سے عینک پکڑ کر اس کے شیشے اپنے دوپٹے سے صاف کیے. مجھے تو فخر ہے کہ آپ میرے بابا ہیں. دعا نہ محبت سے عینک فاروق صاحب کو پکڑائی. جو ماضی میں ہوچکا ہے میں اب دوبارہ ویسا نہیں ہونے دوں گا. میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ تمہارے پوچھے بغیر میں تمہارے بارے میں آپ کوئی فیصلہ نہیں کروں گا فاروق صاحب کی بات پر دعا نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا
نائلہ اور حاکم صاحب کا خیال ہے کہ تمہیں اس ماحول سے جلد از جلد نکال دیا جائے وہ ماحول تمہاری جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے نقصان دے ہے. فاروق صاحب کچھ دیر کے لئے رکے.
اور ان لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ جس طرح میں ان کی بیٹی کو بھگا کر یہاں سے لے گیا تھا میں اپنی اس غلطی کا ازالہ بھی کروں. اب کے فاروق صاحب کی آواز بہت ہلکی تھی.
مطلب…….. ؟؟ دعا کو اپنے اردگرد خطرے کی گھنٹیاں بجتی ہوئی محسوس ہوئیں.
وہ چاہتے ہیں کہ میں ان کی بیٹی کے بدلے میں اپنی پیاری بیٹی ہمیشہ کے لیے انہیں دے دوں فاروق صاحب کی بات پر پہلے دعا کو بہت دکھ ہوا مگر پھر اچانک غصے سے چیخ پڑی.
یہ کیا بکواس ہے……. ؟؟ غصہ ضبط کرنے کے باوجود اس کے منہ سے یہ جملہ بے ساختہ نکلا جو اندر داخل ہوتے ہوئے شایان نے بخوبی سنا
بیٹا تم ان لوگوں کو غلط مت سمجھو وہ جو بھی کہہ رہے ہیں یا کر رہے ہیں. اس میں تمہاری بہتری ہے. فاروق صاحب کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیسے اسے بتائیں……… ؟؟
یہ کیسی بہتری ہے…….. ؟؟ دعا نے ناراضگی سے باپ کی طرف دیکھا
ہم صبح ہی واپس جارہے ہیں ہم کوئی ان کے مرید نہیں ہیں. جو وہ حکم دیں گے ہم اس پر عمل کریں گے. دعا کو شدید غصہ میں دیکھ کر شایان دیوار ساتھ ہی ٹیک لگا کر اسے داد دینے لگا.
“ابھی نائلہ کہتی ہیں بچی بیمار ہے. صدمے میں ہے. اگر یہ صحیح ہوتی تو آج ہم سب صدمے میں جا چکے ہوتے” شایان دل میں سوچتے ہوا دونوں باپ بیٹی کی گفتگو کو انجوائے کرنے لگا
بیٹی میری بات آرام سے سنو پھر جیسا تم کہو گی میں بالکل ویسا ہی کروں گا _ فاروق صاحب نے دعا کو غصے میں آتا دیکھ کر پیار سے سمجھایا
حاکم بھائی اور نائلہ چاہتے ہیں کہ میں تمہارا نکاح شایان سے کر دوں تا کہ تم ہمیشہ یہاں ان کے پاس ہیی رہوں یہ جگہ تمہارے لئے سب سے محفوظ ہے.
اس طرح جو غلطی میں نے تمہاری ماں کو ان سے دور کرکے کی تھی اس کا ازالہ بھی ہو جائے گا. فاروق صاحب کی بات ایک ساتھ شایان اور دعا دونوں پر بم کی طرح پھٹی.
انہیں شرم نہیں آئی اپنے “چرسی بھنگی” بیٹے کے لئے میرا رشتہ مانگتے ہوئے.
کیسے محبت……. ؟؟
یہ تو سیدھی سادی خود غرضی ہے اسے یہاں کوئی اپنی بیٹی نہیں دیتا ہوگا تو انہوں نے سوچا چلو اس کا رشتہ کرکے اس پر احسان بھی کر دیتے ہیں اور اپنے بیٹے کا گھر بھی بسا لیتے ہیں یعنی ایک تیر سے دو شکار
دعا کے یہ الفاظ نہ صرف فاروق صاحب بلکہ شایان کو بھی حیران کر گے.
چرسی بھنگی شایان نے زیر لب الفاظ دہرائے
یعنی یہاں ایک دنیا میرے عشق میں پاگل ہوۓ پھر رہی ہے اور یہ محترمہ فرماتی ہیں کہ چرسی بھنگی کوئی رشتہ نہ دیتا ہوگا……. ؟؟
کیا خوداعتمادی ہے……. ؟؟ واہ، شایان نے کھلے دل سے داد دی.
دعا کیا بولے جا رہی ہو. کچھ تو خدا کا خوف کرو. اگر کسی نے سن لیا تو فاروق صاحب فورا صوفے سے اٹھ کھڑے ہوئے.
میں نائلہ سے خود بات کروں گی اور ہاں ہم صبح ہی اپنے گھر واپس جا رہے ہیں. دعا پاؤں پٹختی لاؤنچ سے باہر نکلی تبھی اسے دیوار کے ساتھ کسی وجود کے احساس نے پلٹنے پر مجبور کیا.
مجھے تو تم پہلے دن سے ہی ٹھیک نہیں لگ رہے تھے. مانا کہ میرے ساتھ کچھ اچھا نہیں ہوا مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں اب بھی “دھوئیں والے تندور” میں چھلانگ لگا دوں گی دعا کا اشارہ سموکنگ کی طرف تھا.
جبکہ شایان حیرت کا مجسمہ بنا اپنی جگہ پر ساکت کھڑا تھا اور فاروق صاحب مارے شرمندگی کے بالکل خاموشی سے دونوں کو دیکھ رہے تھے.
اور ہاں اگر تمہیں یاد نہیں ہے تو مجھے بہت اچھے سے یاد ہے کہ مجھے بچپن میں “پونیا” اور تمہیں “ٹینڈ” کہتے تھے دعا نے اگلے پچھلے حساب برابر کرتے ہوئے ایک بھرپور نگاہ شایان اور اس کے پیچھے کھڑے فاروق صاحب پر ڈالی پھر ہلکا سا مسکرا کر لان کی طرف بڑھ گئی.
🔖🔖🔖🔖🔖🔖
سرمد اس وقت سالانہ عرس میں بلائے جانے والے خاص اور اہم مہمانوں کے کارڈز لکھ رہا تھا. ساتھ ہی ساتھ ان لوگوں کے رابطہ نمبرز کی لسٹ کی تیاری بھی جاری تھی.
مجھے تو شروع سے ہی فاروق صاحب کا خاندان پسند نہیں.
انتہا کے بدتمیز لوگ ہیں. تمیز نام کی کوئی چیز ان میں نہیں ہے. اوپر سے ذرا اباجی کو دیکھو خود بخود مجھے ذلیل کرنے فیصلہ کر لیا.
ویسے تو ہر بات مجھ سے پوچھ کر کرتے ہیں. بلکہ خود تو کچھ کرتے ہی نہیں سب کچھ میرے سے ہی کرواتے ہیں.
ذرا مریدین کی شکایت سن لو کہ ان لوگوں کو کیا مسئلہ ہے…..؟ ؟
گاڑی چیک کرو اس میں تو کوئی مسئلہ نہیں چلتے ہوئے گڑبڑ کرتی ہے.
فلاں کا نمبر ملا دو.
فلاں نے مجھے بطور مہمان خصوصی بلایا ہے تم چلے جاؤ میری طرف سے معذرت کر لینا
فلاں بیمار ہے میری طرف سے عیادت کے لئے چلے جاؤ
فلاں کی شادی ہے دیکھ لو کیا کرنا ہے…… ؟
سالانہ جلسے تقریبات اور مزار کے سارے کاموں کا بندوبست مجھ سے کرواتے ہیں
اور تو اور گھر کے کام بھی مجھ سے شایان کے مسلسل بولنے کو بریک تب لگی جب سرمد پر اس کی کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہوا وہ جوں کا توں بیٹھا کارڈز ایک طرف رکھ رہا تھا.
میں تجھ سے بات کر رہا ہوں شایان نے اس کے آگے سے کارڈ کھینچ کر دور پھینکے.
آپ کون ہے…… ؟؟
میں آپ کو نہیں جانتا اور یوں بغیر اجازت آپ اندر کیسے آگے……. ؟؟ سرمد نے بھرپور اجنبیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شایان کی طرف دیکھا
یہ میں ہوں “شایان” اور مجھے اپنے آفس میں آنے کے لئے کسی سے اجازت کی ضرورت نہیں پڑتی. شایان کے جواب پر سرمد نے سر ہلایا اور دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا.
یہ آج تکلیف کیا ہے……. ؟
سیدھی طرح منہ سے بول جیسے بے غیرتوں کی طرح ہمیشہ بولتا آیا ہے. ایک تو ممجھے دعا بڑے زور سے لگی ہے. اوپر سے تو بد دعا کی صورت شایان نے سرمد کے ہاتھوں سے پن لیتے ہوئے پوچھا
دعا تو آپ سے لوگ لیتے ہیں اور بد دعا آپ کے کرتوتوں سے آپ کو لگتی ہے. سرمد بہت سنجیدہ تھا
اوئے ہوا کیا ہے…… ؟؟ شایان اب کی بار اس کے آگے چٹکیاں بچاتے ہوئے پوچھنے لگا
تم سوری آپ نے آخری بار مجھے کیا کہا تھا کہ “دفع ہو جاؤ یہاں سے” اور مجھے یہ دعا لگ گئی ہے.
سرمد کے جواب پر شایان نے اسے عجیب نظروں سے گھورتے ہوئے اپنے سامنے کھڑا کیا. پھر اس کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد کچھ سونگھنے کی ایکٹنگ کی.
اگر اپنی ناک سے گزارا نہیں ہو رہا ہے تو “فوجی کتے”بلوا لیں. سرمد نے چڑ کر کہا جس پر شایان نے ایک زبردست قہقہ لگایا
میں تو بس یہ دیکھنے اور سونگھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ نشے کی نوعیت کیا ہے….. ؟؟
سستا نشہ کرنے کے بعد بندہ بالکل تیری طرح کی حرکتیں کرتا ہے. اگر پیسے کم تھے تو مجھ سے لے لیتے یا صبر کرتے مہینے کی بالکل آخری تاریخیں ہیں. تجھے تنخواہ کچھ دنوں میں مل ہی جانی تھی. پھر سستا نشہ کرنے کا فائدہ……… ؟؟ شایان کے طنز کرنے پر سرمد نے اسے خونخوار نظروں سے دیکھا
ہزار روپے تو تجھ سے دیے نہیں گئے. پہلے وہ دے پھر آگے کی بات کرنا. سرمد دوبارہ خاموشی سے رجسٹر کھولنے لگا جس پر شایان کو آپ سچ مچ حیرت ہوئی
کیا ہوا ہے…..؟ ؟ شایان اب بالکل سنجیدہ تھا
تو نے مجھے کہا تھا کہ” یہاں سے دفع ہو جا” سرمد نے پھر دوبارہ وہی جملہ دوہرایا
میں یہ جملہ پچھلے تین سال سے تجھے کہہ رہا ہوں مگر آج تک تو دفع نہیں ہوا وہ بات بتا جو تجھے تکلیف دے رہی ہے. شایان نے آگے جھکتے ہوئے شرارت بھری سرگوشی کی
مجھے آرمی سے لیٹر آگیا ہے. سرمد کے جواب پر شایان پہلے ناسمجھی سے اسے دیکھتا رہا پھر ایک دم پر جوش ہوا.
یعنی میری دعا آخر کار تجھے لگ ہی گئی. واہ کمال ہوگیا دیکھ جو ہم پیروں کی خدمت کرتا ہے آفیسر بن جاتا ہے شایان نے کرسی ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے پاؤں میز پر رکھے.
دعا مجھے نہیں تجھے لگی ہے. مجھے تو بددعا لگی ہے. میں آرمی میں جانا نہیں چاہتا مگر پیر حاکم علی کا حکم ہے کہ میں فوراً جانے کی تیاری کروں. سرمد نے مسکین سی شکل بنائی.
ظاہری سی بات ہے تجھے مفت کا لنگر کھانے کی عادت جو پڑ گئی ہے. اچھا پریشان نہ ہو. میں کچھ کرتا ہوں مگر اس کے لیے تجھے پہلے ہدیہ دینا ہوگا وہ بھی کم از کم دو ہزار روپے شایان نے شرارت کی
1000 تیرے پاس ایڈوانس میں جمع ہے دوسرا کام ہونے کے بعد سرمد کے جواب پر شایان نے سر ہلایا
اب بتا تجھے کیا ہوا تھا………. ؟؟؟
تو کیوں سسرال سے آئی ہوئی لڑکی کی طرح رو رہا تھا. سرمد نے جیسے ہی یہ سوال کیا شایان کے چہرے سے مسکراہٹ ایک دم غائب ہو گئی.
ٹنڈ __ شایان کے منہ سے بے اختیار نکلا جبکہ سرمد نے اب اُسے ایسے دیکھا جیسے کچھ دیر پہلے وہ اُسے دیکھ رہا تھا
🔖🔖🔖🔖🔖
جاری ہے.
