No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
شایان جس وقت کمرے میں داخل ہوا دعا کو چپ چاپ بیڈ پر بیٹھا دیکھ کر حیران ہوتا ہوا سارے کمرے کا جائزہ لینے لگا.
میں تو سمجھا تھا کہ تم خوشی میں اب تک ساری پیکنگ کر چکی ہوگی مگر یہاں تو ایسے آثار نظر نہیں آرہے. شایان نے قدر پریشانی سے دعا کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا جس پر وہ بلکل خاموش رہی.
او ہیلو میں تم سے بات کر رہا ہوں اپنا بوریا بستر سمیٹو تاکہ کل تمہارے ابا کے حوالے تمہیں پوری دیانت داری سے واپس کر دوں گا کہ میں نے کوئی خیانت نہیں کی. شایان نے شرارت بھرے لہجے میں کہتے ہوئے واش روم کا رخ کیا جب کہ دعا کا دل اس وقت آنے والی صورتحال کا سوچ کر رونے کو دل کر رہا تھا.
میں ابا کو کیا جواب دوں گی ……… ؟؟ میں تو پنڈی جانا ہی نہیں چاہتی اور یہ زبردستی مجھے بھیجنے پر تلا ہوا ہے. دعا کچھ ایسا کرو کہ تم وہاں نہ جا سکو. دعا نے سوچتے ہوئے کمرے میں بے چینی سے چکر لگانا شروع کیے.
شایان واش روم سے گنگناتا ہوا باہر نکلا تو دعا کو یوں ٹہلتا ہوا دیکھ کر سچ مچ ٹھٹھکا. تولیہ کرسی پر ڈالنے لگا مگر پھر دعا کی طرف دیکھتا ہوا ٹیرس پر چلا گیا.
دعا ہمت جمع کر اور جا کر کہہ دے کہ تو نے فی الحال راولپنڈی نہیں جانا. وہ ابھی اسی کشمکش میں تھی کہ فاروق صاحب کی کال اس کے فون پر آنے لگی دل تو ویسے ہی دکھی تھا باپ کی شفیق آواز سنتے ہی دعا نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا.
شایان نے کمرے میں قدم رکھا تو دعا کو یوں روتا دیکھ کر حیران رہ گیا. ابھی تو یہ بالکل ٹھیک ٹھاک تھی اب اسے کیا ہوا ………. ؟؟ دل میں سوچتا ہوا وہ دعا کی طرف بڑھا
کیا ہوا ہے. تم ٹھیک تو ہو. تمہیں کسی نے کچھ کہا تو نہیں ہے. شایان کا رویہ تمہارے ساتھ کیسا ہے ……… ؟؟ فاروق صاحب کو مختلف اندیشے اپنی لپیٹ میں لینے لگے
بابا میں بالکل ٹھیک ہوں. بس آپ کی یاد آ رہی تھی تو آپ کی آواز سنتے ہی رونا آگیا. دعا نے اپنے سامنے شایان کو کھڑا دیکھ کر فوراً بات بدلی جس پر شایان اسے گھورتا ہوا فون لے کر اپنے کان ساتھ لگا لیا.
انکل آپ پریشان نہ ہوں. یہاں پر سب ٹھیک ٹھاک ہے. انشاءاللہ کل ہم اس وقت آپ کے پاس ہوں گے پھر آمنے سامنے بیٹھ کر تفصیل سے بات کریں گے. شایان نے نہایت مہذب اور شائستگی سے کہتے ہوئے کال بند کی.
تمہیں آخر تکلیف کیا ہے ……… ؟؟ نہ خود چین سے رہتی ہو، نہ کسی دوسرے کو رہنے دیتی ہو. اپنے بوڑھے باپ پر تو رحم کرو. وہ بیچارہ پتہ نہیں کیا کیا سوچ رہا ہوگا ………. ؟؟ شایان نے برہمی سے کہتے ہوئے فون بیڈ پر اچھالا
سامان پیک کرو اپنا، کام چور لڑکی _ حاکمانہ انداز میں کہتے ہوئے شایان کمرے سے باہر جانے لگا تو دعا نے پکارا میں نے راولپنڈی نہیں جانا ہے. دعا کی بات شایان بےیقینی سے اپنی ایڑیوں پر گھوم گیا. کیا کہا دوبارہ کہنا ……… ؟؟ شایان سوچتے ہوئے دعا کی طرف بڑھا میں نے فی الحال راولپنڈی نہیں جانا ہے. دعا نے نظریں ملائے بغیر جملہ درست کیا مگر کیوں …….. ؟؟ شایان بالکل سنجیدہ تھا. کیونکہ میں تمہیں تمہارے مقصد میں کامیاب ہونے نہیں دوں گی. دعا نے قدرت تیز آواز میں جواب دیا. تمہیں کیسے پتا کہ میرا مقصد کیا ہے ………. ؟؟ شایان کو شدید حیرت ہوئی کہ میں نے تو کسی سے بھی کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ سرمد کو بھی نہیں بتایا پھر اسے کیسے پتہ چلا ……….. ؟؟ واہ کیا لڑکی ہے. گدی نشین میں ہوں اور الہام اسے ہوتے ہیں. شایان نے دل میں سوچتے ہوئے دعا کا جائزہ لیا. میں سب جانتی ہوں. تم مجھے میرے گھر والوں کے سامنے غلط ثابت کرنا چاہتے ہو تاکہ تمہاری عزت بھی رہ جائے اور مجھ سے جان بھی چھوٹ جائے مگر تم یہاں پر غلط ہو. میں تمہیں ایسا ہرگز کرنے نہیں دوں گئی. دعا نے شکایتی نظروں سے شایان کی طرف دیکھا “غلط” مگر کیوں، ایسا کرنے سے مجھے کیا فائدہ ہوگا ……… ؟؟ شایان کو ایک بار پھر دعا کی ذہنی حالت پر شک ہوا. کیونکہ تم میرے ساتھ وہی کرنا چاہتے ہو جو دعا نے جوش سے شایان کی طرف انگلی اٹھائی.
ایک منٹ، ایک منٹ یہی ٹھہرجاؤ. شایان نے دعا کی انگلی اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اسے روکا
میں جو کرنا چاہتا ہوں وہ میں کر لیتا ہوں کسی سے پوچھتا ہے یا بتاتا نہیں. دوسری بات مجھے نہیں معلوم تھا کہ تمہیں غیب کا علم بھی ہوتا ہے. شایان نے تنبیہہ کرتے ہوئے طنز بھی کیا.
چھوڑو میری انگلی دعا نے اپنا رخ موڑا.
چھوڑ دی اب ……… ؟؟ شایان نے دعا کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے اس کے گرد حصار باندھا جس پر دعا کو شدید حیرت ہوئی.
میں نے انگلی چھوڑنے کو کہا تھا دعا نے جتلایا ہاں مگر میرا دل تمہیں پکڑنے کو کیا تو شایان اسے زچ کر رہا تھا.
تم نے جانا ہے تو جاؤ مگر مجھے فی الحال نہیں جانا. جب جانا ہوگا تب میں بتا دوں گی. دعا کچھ نروس ہوئی.
اپنی یاداشت پر زور دو. کل تم نے ہی کہا تھا کہ میں تمہیں واپس بھیج دوں. میں تو صرف تمہاری خواہش کا احترام کر رہا ہوں. شایان کی یقین دہانی پر دعا کو کچھ سمجھ نہ آئی کہ اب کیا کرے جب کہ شاید اسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا.
مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ تم یہاں سے جانا نہیں چاہتی کہیں تمہیں میرے ساتھ رہتے رہتے محبت تو نہیں ہو گئی. فطری چیز ہے. اتنا خوبصورت انسان دن رات نظروں کے سامنے رہے تو اچھے اچھوں کے منہ میں پانی آ جاتا ہے تم تو پھر ایک معمولی لڑکی ہو. شایان کی شوخی پر دعا کو جی بھر کر رونا آیا .
یہ بات نہیں ہے .کسی خوش فہمی میں مت رہنا .دعا نے فوراً اسے ٹوکا
تو پھر کیسی بات ہے ……. ؟؟ جب کہ میں نے تو ابھی تک تمہیں کوئی بات بتائی ہی نہیں. شایان کے جواب پر دعا کو اپنی جلد بازی پر شدید غصہ آیا.
میرا مطلب تھا کہ ہم کل جا رہے ہیں. دعا کو کچھ سمجھ نہ آیا کہ وہ اب کیا کہے.
میں نے بھی یہی کہا ہے کہ ہم کل جا رہے ہیں لہذا تم اپنی پیکنگ کر لو اور میرے خیال سے کہ تمہیں سنائی بالکل ٹھیک دیتا ہے. شایان نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے چھوڑا جب کہ دعا کچھ پریشان ہوگی کہ اب گھر جاکر سب کو کیسے مطمئن کرے گی.
🔖🔖🔖🔖🔖
سرمد نے سامان تو سارا خرید لیا تھا مگر اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ شایان کے دماغ میں اس وقت کیا چل رہا ہے اور کیوں ………. ؟؟
کیا وہ اپنی بیوی کو واقعی ہی چھوڑنے جارہا ہے اور اگر ایسا ہے تو کیوں ……….. ؟؟ جبکہ ان کے درمیان اب سب کچھ ٹھیک ہو گیا تھا. پہلے پہل وہ کوئی شکایت کرتا تھا مگر اب تو وہ بالکل خوش اور مطمئن دکھائی دیتا ہے. سرمد اپنی سوچوں میں بری طرح الجھا ہوا تھا جب شایان نے کمرے میں قدم رکھا.
ہاں یار تیری تیاری ہو گئی یا ابھی باقی ہے……. ؟؟ شایان نے کرسی پر گرنے والے انداز میں بیٹھتے ہوئے پوچھا
ہو گئی ہے جس پر سرمد نے اسے ناگواری سے دیکھا
یہ منہ کیوں اتنا برا بنایا ہوا ہے …….. ؟؟ جبکہ میرے خیال سے اسے بنانے کی ضرورت ہی نہیں ہے. شایان نے ہنستے ہوئے کہا
میرا تو منہ ہی ایسا ہے مگر تیرا موڈ کیوں روز بروز بدلتا جا رہا ہے …….. ؟؟ سرمد کے طنز پر شایان خاموش ہو گیا.
بدلہ نہیں ہوں بلکہ کسی کو بدلنے کی کوشش کر رہا ہوں اگر وہ بدل گئی تو سب بدل جائیں گے. شایان بالکل سنجیدہ تھا
اگر میں پنڈی جانے سے انکار کردوں تو …….. ؟؟ سرمد کے اس اچانک سوال پر شایان نے اسے گھور کر دیکھا
میں نے تجھ سے پوچھا نہیں بتایا تھا اگر یاد ہو تو ایک تو آج کل سب کی یادداشت خراب ہو گئی ہے. شایان کے جواب پر سرمد خاموش ہو گیا.
جہاں وہ رہتی ہے میں وہاں جانا نہیں چاہتا. سرمد بظاہر چیزوں کو ٹھیک کر رہا تھا مگر اندر سے وہ بہت ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا
اچھااااااااااا، پھر شایان نے سرمد کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا.
پھر یہ کہ میں وہاں جانا نہیں چاہتا ہوں. سرمد نے اس بار شایان کی طرف شکایتی نظروں سے دیکھا جو اس کی بات جان بوجھ کر سمجھ نہیں رہا تھا.
اسی لئے تو پوچھ رہا ہوں کہ کیوں کیا وجہ ہے. جو تم اس سے کترا رہے ہو. تم نے آخر ایسا کیا کیا ہے……… ؟؟ شایان کے تفتیشی انداز پر سرمد کو شدید غصہ آیا.
اچھا ٹھیک ہے میں تیار ہو جاؤں گا. سرمد نے شایان ساتھ بحث کا ارادہ ترک کرتے ہوئے ہاتھ جھاڑے.
تم نے میرے سوالوں کے جواب نہیں دیے. شایان بدستور اسے گھور رہا تھا.
تمہیں میرا جواب پسند نہیں آئے گا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم مجھ سے ناراض ہو جاؤ لہذا رہنے دو. سرمد نے پھیکا سا مسکراتے ہوئے کہا
تم میری فکر نہ کرو. میں آج کل اتنی زہریلی باتیں سن رہا ہوں کہ میرا نہیں خیال مجھے تمہاری بات پر کسی قسم کا غصہ آئے گا. شایان جاننا چاہتا تھا کہ آخر ایسا کیا ہے جس نے اس کے ہنستے کھیلتے دوست کو اتنا سنجیدہ کر دیا ہے.
وجہ تم ہو میں نہیں چاہتا کہ تم وہاں جاؤ اور وہ تمہیں دیکھے. سرمد کی بات پر سچ مچ شایان کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا مگر وہ اپنے جذبات چھپا گیا.
میں وہاں کیوں نہ جاؤں، میرے جانے سے تمہیں کیا مسئلہ ہے ……. ؟؟ شایان اب سرمد کے مدمقابل تھا.
کیونکہ وہ تمہیں پسند کرتی ہے وہ بھی حد سے زیادہ، یہ چیز مجھے اچھی نہیں لگتی وہ تمہارے لئے ہی تعویذ بنوا رہی تھی. سرمد نے انکشاف کیا.
یہ کیسے ہو سکتا ہے. کیا اسے معلوم نہیں کہ میں اس کی کزن کا شوہر ہوں ……… ؟؟ شایان کے سوال پر سرمد نے کندھے اچکائے جیسے لاعلمی کا مظاہرہ کر رہا ہو.
ہمممممم تو یہ بات ہے مگر مجھے تو وہاں جانا ہے بلکہ میں تو وہاں آتا جاتا ہی رہوں گا. آخر کو وہ میرا سسرال ہے. اس لئے میں تمہارا یہ اعتراض مسترد کرتا ہوں. اس کے علاوہ اگر کوئی بات ہے تو بتاؤ …….. ؟؟ شایان کے سوال پوچھنے پر سرمف نے سر نفی میں ہلایا
ٹھیک ہے پھر صبح نکلتے ہیں. شایان سرمد کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کمرے سے باہر نکلنے لگا.
تم چیزیں دیکھ لیتے. سرمد نے سامان کی طرف اشارہ کیا
میرے سے زیادہ تمہارا دیکھنا معنی رکھتا ہے اور تم نے دیکھ لی ہیں. تو سمجھو کہ میں نے بھی دیکھ لیں ہیں. شایان کہتا ہوا رکا نہیں باہر نکل گیا.
🔖🔖🔖🔖🔖
میں نے تمہیں اس لئے بلوایا تھا کہ کل شادی کے بعد پہلی بار دعا گھر آ رہی ہے تو کچھ انتظامات کر لو. اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو وہ بھی بتا دو میں چاہتا ہوں کہ اس کے استقبال میں کوئی کمی نہ رہے. ویسے بھی اس کی شادی پر میرا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا اگر کچھ پیسے لگ بھی گئے تو کوئی بات نہیں. اسی بہانے میں اسے کچھ دے دوں گا. کھانے میں بھی کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے وہ لوگ شاید ایک یا دو دن یہاں رہیں. شایان کہہ رہا تھا کہ پھر انہوں نے آگے ہنزہ ویلی کی طرف سیر کے لیے نکل جانا ہے. فاروق صاحب کی بات پر عذرا بیگم نے بے چینی سے پہلو بدلا
بھائی صاحب وہ تو سب ٹھیک ہے مگر اب میں پہلے جتنی صحت مند نہیں رہی نہ ہی بھاگ دوڑ کر مجھ سے کام ہوتا ہے. عذرا بیگم کے جواب پر فاروق صاحب ہنس دیے.
عذر ایک تو تم ابھی اتنی بوڑھی نہیں ہوئی ہو. دوسرا میں نے کب کہا کہ سب کچھ تم اکیلے ہی کرو. تم اپنے ساتھ عنایہ اور رخسانہ بھابھی کو بھی لگا سکتی ہو.
عنایہ تو جوان جہاں ہے. بھاگ دوڑ کے کام کر سکتی ہے. ویسے بھی دعا اس کی بہن اور دوست ہے کیا وہ اپنی دوست کو ویلکم نہیں کرے گی ………..؟؟
رخسانہ بھابی نہ صرف ہمارے گھر بلکہ اپنے میکے میں بھی بڑی ہیں. وہ ایسے انتظامات آرام سے کر لیتی ہیں میرے خیال سے تو تم لوگوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے.
اور ہاں یاد آیا ان کی رہائش کا بھی بندوبست کر دینا. میرے خیال سے دعا کا کمرہ ہی ٹھیک رہے گا. تم ایسا کرو کہ دعا کا کمرہ ان دونوں کے لئے سجا دو. فاروق صاحب کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کے لیے آسمان سے تارے توڑ لائیں.
پکانا کیا ہے……. ؟؟ عذرا بیگم کا موڈ تو شدید خراب ہو گیا تھا مگر وہ بھائی کو ناراض نہیں کرسکتی تھی.
بھئی مجھے کیا پتہ …….. ؟؟ یہ تو تم عورتوں کا کام ہے تم اور رخسانہ بھابھی باہم مشورے سے طے کر لو کہ ناشتے اور کھانے میں کیا کچھ بنانا ہے. سامان میں تمہیں بازار سے لا دوں گا. بس “رس ملائی” ضرور بنا لینا دعا کو وہ بہت پسند ہے. فاروق صاحب کے لہجے میں جہاں بیٹی کی محبت کا سمندر کے ٹھاٹھے رہا تھا وہاں عذرا بیگم زہر سے بھری پڑیں تھیں.
🔖🔖🔖🔖🔖
اب میں اس منحوس کے لیے کھانا تیار کروں گی. یہ وقت بھی مجھ پر آنا تھا. عذرا بیگم مسلسل بڑبڑا رہی تھیں.
ارے کیوں اپنا خون جلا رہی ہو. بھائی صاحب سے کہہ دو کہ اتنی گرمی میں مجھ سے کھانا نہیں بنتا کسی خانسامے کا انتظام کر لیں. جو مزے مزے کے کھانے بنا کر ان کی دلاری کو کھلائے. ویسے بھی کون سا بھائی صاحب نے بارات کا کھانا دیا ہے. تم خود بھی آرام سے بیٹھ کر کھانا اور اسی بہانے ہمیں بھی مزے لینے دینا. رخسانہ بیگم نے اپنے شیطانی دماغ سے آئیڈیا پیش کیا جو ہمیشہ کی طرح عذرا بیگم کو بہت پسند آیا.
ہاں یہ ٹھیک ہے ویسے بھی وہ لوگ بہت امیر ہیں.
دعا کی تو بیٹھے بٹھاۓ لاٹری نکل آئی ہے. عذرا بیگم سے اپنا حسد چھپایا نہ گیا تو انہوں نے رخسانہ بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
یار دولت کو چھوڑو، مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ اس لڑکے کو اس طلاق یافتہ لڑکی میں نظر کیا آیا ہے. میرے خیال سے تو اسے اب تک اسے چھوڑ دینا چاہیے تھا مگر _ رخسانہ بیگم نے سوچتے ہوئے کہا کیا پتا چھوڑنے ہی آرہا ہو……. ؟؟ عذرا بیگم نے فوراً لقمہ دیا اللہ تیری زبان مبارک کرے.رخسانہ بیگم کی بات پر دونوں ہنسنے لگیں. میں نے سوچ لیا ہے کہ اس کے شوہر کو دعا کی تمام باتیں اور شادیوں کے قصے سنا دوں گی. آخر اسے بھی تو حقیقت معلوم ہونی چاہیے. عذرا بیگم نے حتمی لہجے میں فیصلہ کرتے ہوئے بتایا. فاروق بھائی نے اسے سب کچھ بتا دیا ہوگا. رخسانہ بیگم کے جواب پر عذرا بیگم ہنس پڑی. وہ میرا بھائی ہے اور میں اسے اچھی طرح جانتی ہوں. وہ اپنی بیٹی کے متعلق کسی بھی قسم کی کوئی غلط بات نہیں کریں گے. مجھے سو فیصد یقین ہے کہ بھائی صاحب نے دعا کا ماضی چھپا لیا ہوگا. جو کہ اپنے بتاؤں گی وہ بھی اپنے طریقے سے عذرا بیگم خوب جوشیلے انداز میں
اپنے منصوبے سے آگاہ کر رہی تھی کہ عنایہ نے لاؤنچ میں قدم رکھا.
کون آ رہا ہے ……… ؟؟ عنایہ کے پوچھنے پر رخسانہ بیگم نے عذرا کی طرف دیکھتے ہوئے دعا کے آنے کی اطلاع دی جس پر عنایہ خاموش ہوگی.
ارے تمہیں خوشی نہیں ہوئی تمہاری تو وہ بہترین دوست ہے اور شادی کے بعد پہلی بار آرہی ہے. عذرا بیگم اب عنایہ سے مخاطب تھی.
پھپھو میں بہت خوش ہوں آپ کو کس نے کہا کہ میں اداس ہوں. جبکہ عنایہ کا لہجہ کافی بجھا بجھا سا تھا.
مگر تمہارے لہجے سے تو نہیں لگ رہا. کہیں تمہیں یہ دکھ تو نہیں کھائے جا رہا تھا کہ اس کی شادی اتنے امیر کبیر لوگوں میں ہو گئی ہے اور تم رہ گئی ہو عذرا بیگم کے سوال پر عنایہ کے ساتھ ساتھ رخسانہ بیگم کا منہ بھی کھل گیا. عذرا یہ بچی ہے تم اس سے کس قسم کی بات کر رہی ہو. رخسانہ بیگم نے آنکھیں دکھائیں. جب کہ عنایہ اپنے اندر کا ڈر چھپاتی کمرے میں چلی گئی. میں نے کیا کہا ہے آج کل بھابھی آپ کو مجھ پر خوامخواہ غصہ آرہا ہے. عذرا بیگم اپنی فطرت سے مجبور تھیں. تم عنایہ کے سامنے اپنا منہ بند ہی رکھا کرو اور جو بھائی صاحب نے تمہیں کہا ہے اس پر جا کر عمل کرو. چلو شاباش اپنے پوشن کی طرف نکلو رخسانہ بیگم اب ہر طرح کا لحاظ سائیڈ پر رکھ کر بات کر رہی تھی.
اور ہاں خانسامے والی بات بھائی صاحب سے ضرور کر لینا اور کچھ نہیں تو کچھ دن مزے مزے کے کھانے کھانے کو ملیں گے. مجھ سے کسی قسم کی کوئی امید نہ رکھنا. میں اپنے گھر والی ہوں. جو بھی کرنا ہے تمہیں ہی کرنا ہے. رخسانہ بیگم نے اپنا سارا غصہ نکالا جس پر عذرا بیگم چپ چاپ کچھ کہے بغیر ہی اٹھ کر باہر چلی گئی.
🔖🔖🔖🔖🔖
جاری ہے.
