Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

ہم نے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے اور اس میں تمہاری بہتری ہے. کیا تم نہیں چاہتی ہو ہمارے پاس، ہمارے ساتھ رہو ……. ؟؟ نائلہ کے سوال پر دعا نے اسے ناگواری سے دیکھا
مگر ساتھ رکھنے کا یہ کون سا طریقہ ہے…… ؟؟
اس طریقے میں تو میں آپ ساتھ کم اور اس ” چرسی بھنگی” ساتھ زیادہ رہو گی. دعا نے دل میں سوچا
یہی تو سب سے بہترین طریقہ ہے تمہیں ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنے کا _ مجھے تم اور شایان دونوں ہی بہت اچھے لگتے ہو لہذا میں چاہتی ہوں تم دونوں ہمیشہ ایک ساتھ میری آنکھوں کے سامنے رہو. نائلہ کے لہجے میں محبت ہی محبت تھی. آپ سمجھتی کیوں نہیں. میں ایسا نہیں چاہتی. میں اب شادی نہیں کر سکتی. دعا نے دھیمے سے لہجے میں احتجاج کیا. دیکھو تم اب بہت زیادہ جذباتی ہو رہی ہوں. شادی تو کرنی ہی ہے کیونکہ اس کے بغیرگزارا نہیں. نائلہ نے دعا کو اداس ہوتا دیکھ کر قدرے نرمی سے سمجھایا جب میں شادی نہیں کرنا چاہتی تو آپ کیوں ضد کر رہی ہے…….. ؟؟ مجھے معلوم ہے یہ شادی بھی زیادہ دن نہیں چلے گی اور اس دفعہ شادی ناکام ہونے کی ساری ذمہ داری مجھ پر ہوگی. میں اب ایک نفسیاتی مریض بن چکی ہوں. میں نارمل لڑکی نہیں رہی. مجھے اس ” میاں بیوی” کے رشتے سے ہی نفرت ہوگئی ہے آپ سمجھے میری بات کو میں اب دعا یذہانی انداز میں بول رہی تھی شایان جو نائلہ سے بات کرنے آیا تھا دعا کی آواز سن کر باہر ہی کھڑا ہو گیا.
دعا ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا. تم شایان کو ایک موقع دے کر تو دیکھو. وہ اتنا بہترین شوہر ثابت ہوگا کہ تم اندازہ نہیں لگا سکتی. نائلہ کی بات پر دعا نے افسوس سے نفی میں سر ہلایا
آپ یہ بات اتنے دعوے سے کیسے کہہ سکتی ہیں…….. ؟؟دعا کے لہجے میں طنز تھا
میں یہ بات صرف دعوے سے ہی نہیں کہہ رہی بلکہ تمہیں ایک کاغذ پر لکھ کر دینے کو بھی تیار ہوں.
وہ ایک زمہ دار، فرمابردار، بڑوں کا احترام کرنے والا اور سب سے بڑھ کر مذہبی اور معاشرتی اونچ نیچ کو سمجھنے والا انسان ہے.
ایسا مرد بہترین شریک حیات ثابت ہوتا ہے. پھر وہ تمہاری ہسٹری سے بھی بخوبی واقف ہے. مجھے پورا یقین ہے کہ وہ تمہارے ساتھ بہت نرمی اور محبت والا معاملہ اختیار کرے گا. آخر تم اس کی اکلوتی کزن بھی تو ہو.
اپنی بات کے آخر میں نائلہ ہلکا سا مسکرائی جبکہ باہر دیوار ساتھ لگا شایان ان کی باتوں سے پریشان سا ہو گیا.
کوئی اس سے اس قدر محبت کرتا ہے اور اس پر اتنا اندھا اعتماد کرتا ہے. کیا مجھے نائلہ خالہ کا اعتماد توڑ دینا چاہیے ……. ؟؟اپنے آپ سے سوال کرتا وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا.
نائلہ آپ سمجھیں ناااااا اس بار شادی کی ناکامی پر میں اپنے آپ کو موت کے منہ سے نہیں بچا پاؤں گی. سب باتیں کریں گے کہ کیا اب بھی اس کا شوہر “نامرد” تھا جو اس کی شادی تیسری بار بھی ٹوٹ گئی ……….. ؟؟
پھپھو تو آگے ہیں کہتی ہیں کہ “دعا تم شادی نہ کیا کرو اچھے بھلے مرد کو اپنی منحوسیت سے نا مرد بنا دیتی ہو” دعا اب کی بار ہونے لگی
تمہیں کیوں لگتا ہے کہ یہ شادی ناکام ہوگئی…….؟؟ نائلہ نے اس کا وہم دور کرنے کے لئے پوچھا تھا تاکہ اسے تسلی بخش جواب دے سکے.
یہ تو ظاہری سی بات ہے کہ کوئی مجھ جیسی ابنارمل لڑکی ساتھ کیسے گزارا کر سکتا ہے……. ؟؟
مجھے اس رشتے سے ہی ڈر لگ رہا ہے میں کیسے بتاؤں گی اسے کہ دعا کو شدید ڈپریشن کی وجہ سے دورہ پڑنے لگا تھا. وہ اپنے بال نوچنے لگی نائلہ نے اس کی حالت کے پیش نظر خاموش رہنا مناسب سمجھا.
اچھا اچھا ٹھیک ہے تم پریشان مت ہو. میں شایان سے بات کرتی ہوں اگر اسے کسی بھی قسم کا کوئی اعتراض ہوا تو میں یہ شادی نہیں ہونے دوں گی.
ویسے بھی اب کچھ ایسا نہیں ہوگا کیونکہ میں خود یہاں موجود ہوں. شایان کی ہمت نہیں کہ میرے آگے زبان چلائے یا میری کسی بھی بات کو جھٹلائے.
نائلہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کس طرح وہ دعا کو سمجھائے. دعا کے چیخنے چلانے پر اب وہ بالکل خاموش ہو گئی.
🔖🔖🔖🔖
سرمد گہری نیند میں تھا. مگر اس کے کان مسلسل اپنے موبائل کی چیخ و پکار سن رہے تھے. لاکھ کوشش کے باوجود بھی جب وہ خاموش نہ ہوا تو سر مد نے بے بسی سے آنکھیں ملتے ہوئے دور لگے سوئچ بورڈ کی طرف دیکھا
“اے پیارے سوئچ بورڈ…!!!
میں بستر سے نکل نہیں سکتا. تو ذرا ہمت سے کام لے اور وہ موبائل جو میں نے تجھ پر چارجنگ کے لیے لگا رکھا ہے. اسے کسی طرح میرے تک پہنچا دے.”
ابھی وہ سوچ بورڈ سے مذاکرات کر ہی رہا تھا کہ ایک بار پھر موبائل پورے آب و تاب سے رونے لگا.
یہ تو کوئی مجھ سے بھی زیادہ ڈھیٹ انسان ہے. اوئے بھائی بس کر دے. میں اب سونے لگا ہوں سرمد نے کہتے ہوئے ایک بار پھر لحاف اپنے اوپر اوڑھا. مگر اس سے پہلے کہ وہ آنکھیں بند کرتا ہے پھر اس کے موبائل نے شور مچا دیا.
اتنا تو وہ چارج نہیں ہوا تھا جتنا اس کمینے کی کال کی وجہ لو ہو گیا ہے. سرمد بڑبڑاتا ہوا لحاف سے باہر نکلا بے دردی سے چارجنگ اتاری اور کان ساتھ موبائل لگایا
کتنی تکلیف ہے کمینے تجھے کہ تو صبح کا انتظار بھی نہیں کرسکتا……؟ ؟
مرنے لگا ہے سرمد کی غصیلی آواز جیسے ہی سپیکر سے ابھری عنایہ حیران پریشان سی موبائل کان سے ہٹائے اسے تکنے لگی.
اب کیا موت واقع ہوگئی ہے جو اپنی آخری خواہش بتائے بغیر ہی دفع ہو گیا ہے. اب بکواس بھی کر ورنہ میں موبائل سے نکل کر تجھے اتنا ماروں گا کہ تو کسی کو بتانے کے قابل نہیں رہے گا کہ کہاں مارا ہے ……. ؟؟
سرمد کی دھمکی آمیز جملوں پر عنایہ لرز کر رہ گئی اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتا وہ بول پڑی.
مم مم می می میں میں عنایہ
بامشکل ٹوٹے پتے لفظوں میں اس نے اپنا تعارف کروایا اور اب لرزنے کی باری سرمد کی تھی.
سرمد نے اپنا گلا صاف کیا .لڑکی کے ساتھ اس قدر بدتمیز گفتگو اس نے کبھی زندگی میں نہیں سوچا تھا . سرمد یاررررر سارا امیج خراب ہو گیا ہے سرمد نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سوچا
آپ نے خودہی کہا تھا میں جب چاہوں آپ کو فون کر سکتی ہوں کسی بھی وقت کبھی بھی
عنایہ نے
ڈری سہمی سی آواز میں کہا
پتا نہیں میں نے یہ بکواس کب اور کیوں کی تھی……؟
شایان صحیح کہتا ہے بندے کو سستا نشہ نہیں کرنا چاہیے. سرمد نے دل میں سوچا مگر منہ سے کچھ نہیں کہا
میں ابھی فارغ تھی تو سوچا کہ تفصیل سے آپ سے بات ہو جائے گی. مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ اتنی جلدی سو جاتے ہیں ابھی تو صرف 9 بجے ہیں. خیر معذرت عنایہ نے شرمندگی سے اپنی کالز کی وضاحت دی.
عنایہ کے ٹائم بتانے پر سرمد نے حیرت سے دیوار پر لگی گھڑی کی طرف دیکھا جہاں ابھی صرف رات کے ساڑھے نو بجے تھے مطلب وہ عصر کا سویا ہوا ابھی اٹھا تھا.
سرمد نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے گہرا سانس لیا خود کو نارمل کرنے کے بعد اس نے موبائل کی بند سکرین کی طرف دیکھا کچھ دیر اسے گھورنے کے بعد سرمد نے کال بیک کی جو یقیناً اب اٹینڈ نہیں ہونی تھی.
میں بہت شرمندہ ہوں. اصل میں آج بہت تھک گیا تھا تو جلدی ہی سو گیا. بعض دفع لوگ مریدین کے بھیس
میں خواہ مخواہ فون کرکے تنگ کر دیتے ہیں میں سمجھا کہ کوئی مرید ہی لگا ہوا ہے. معزرت
عنایہ ابھی بستر پر بیٹھی سرمد کی باتیں ہی سوچ رہی تھی کہ اس کے موبائل پر میسج ٹون بجی نا چاہتے ہوئے بھی میسج کھول کر پڑھا
کوئی بات نہیں _ لکھا کہ پھر مٹا دیا. میری ہی غلطی تھی جو رات میں کال کی
پھر وہ بھی مٹا دیا.
سرمد جو مسلسل ٹائیپنگ ہوتی دیکھ رہا تھا آخر میں جھنجھلا گیا. کیونکہ اسے ابھی تک کوئی میسج وصول نہیں ہوا تھا.
آپ مسلسل پچھلے پانچ منٹ سے ٹائپنگ کر رہی ہیں مگر مجھے آپ کی طرف سے کوئی میسج نہیں ملا اس کا کیا مطلب ہے…… ؟؟
مجھے گالیاں نکالنے کے لئے آپ کو مناسب الفاظ نہیں مل رہے شاید _ سرمد کا میسج پڑھتے ہی عنایہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی. نہیں ایسا کچھ نہیں ہے جیسا آپ سمجھ رہے ہیں میں پھر آپ سے بات کروں گی شب بخیر عنایہ کا میسج پڑھنے کے بعد سرمد نے اپنا موبائل صوفے پر اچھال دیا
ہائے ہائے _ غریب بندہ تو کبھی ہیرو بننے کا سوچے ہی نہ، ابھی کہانی شروع ہی نہیں ہوئی تھی کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے دفنا بھی دی. سرمد اپنے اوپر افسوس کرتا ہوا واشروم کی طرف بڑھ گیا. 🔖🔖🔖🔖🔖 شایان اپنے کمرے میں بے قرار سا چہل قدمی کر رہا تھا. اسے یہ بات بہت ڈسٹرب کر رہی تھی کہ نائلہ کیسے اس سے اتنی امیدیں رکھ سکتی ہے رکھنا تو دور کی بات ہے وہ تو دوسروں کو بھی امید دلا رہی تھی ……. ؟؟
میں اس لڑکی سے بات کرنا پسند نہیں کرتا کجا اس کے ساتھ ساری زندگی گزارنا وہ بھی اس کے طریقے سے _ ابھی وہ اپنی سوچوں میں بری طرح گم تھا کہ کسی نے دروازے پر دستک دی تھی جو اسے سخت ناگوار گزری خلاف عادت شایان نے اندر آنے سے منع کردیا. جو بھی ہے چلا جائے میرا کسی سے فی الحال بات کرنے کو دل نہیں کر رہا. اچھا مگر میرا تو فلحال کسی کو سننے کا بہت دل کر رہا ہے غیر متوقع طور پر نائلہ کی آواز پر وہ پلٹا
آپ ……؟ ؟ شایان نے انہیں ناراض کیسے دیکھا
ہاں میں
وہ مجھے خیال آیا کہ بھائی صاحب نے تم سے بات تو کردی ہوگی اور یقینا تمہیں کوئی اعتراض بھی نہیں ہوگا. پھر بھی چلو یہ رسم ہی سہی میں تم سے پوچھ لیتی ہوں کہ تمہیں دعا سے شادی پر کوئی اعتراض تو نہیں ہے ……. ؟؟
حالانکہ مجھے جواب معلوم ہے پھر بھی نائلہ کہتی ہوئی بےتکلف سی صوفے پر بیٹھ گئی. یہ آپ مجھےسننے آئی ہیں یا اپنے آپ کو ……. ؟؟ کیونکہ ابھی تک آپ نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی. ہاں البتہ خود کلامی ضرور سننے میں آئی ہے ناراض ناراض سا شایان ان کے برابر بیٹھ گیا
اچھا بھائی تم بتا دو کہ کون سا دن نکاح کے لیے ٹھیک رہے گا میرے خیال سے یہ جمعہ یا _ نائلہ نے سوچنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے پوچھا جس پر شایان کچھ دیر انہیں گھورتا رہا پھر اٹھ کر جانے لگا ارے کیا ہوا کہاں جا رہے ہو بتاؤ تو سہی کونسا دن ٹھیک رہے گا …… ؟؟ اصل میں ہم لوگوں بلکہ میرا ذاتی خیال ہے کہ سادگی سے نکاح کیا جائے تا کہ فاروق بھائی مطمئین واپس جا سکیں. ہم فاروق بھائی پر کسی قسم کا کوئی بوجھ نہیں ڈالیں گے ٹھیک ہے ناااااا……. ؟؟ نائلہ کی بات سننے کے بعد شایان نے عجیب نظروں سے انہیں دیکھا اور پھر اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا ہے. آپ مجھے سننے نہیں بلکہ سنانے آئی ہیں اور میں نے سب سن لیا ہے اب آپ جا سکتی ہیںشایان اب سچ میں ناراض ہو گیا تھا.
تمہیں کیا ہوا ہے منہ کیوں پھلا لیا ہے ……. ؟؟ کبھی خوش بھی ہو جایا کرو. بھائی آخر تمہاری “پہلی” شادی ہے نائلہ نے شرارت سے اس کے کندھے پر تھپڑ لگایا.
ارے واہ پہلی شادی یعنی آپ کے خیال سے اس قسم کی شادی کے بعد بھی میں دوسرا تجربہ کروں گا……. ؟؟؟؟ شایان ہنسا
مطلب تمہیں شادی نہیں کرنی یعنی دعا کا اندازہ بلکل ٹھیک تھا
نائلہ اب بالکل سنجیدگی سے شایان کو دیکھ رہی تھی.
ایک تو ماشاء اللہ سے آپ خود بہت بڑی نجومی ہیں. ہر کسی کے دل کا حال آپ کو پہلے سے ہی معلوم ہو جاتا ہے. دوسرا اب آپ کی بھانجی ذہین ترین کیا کہنے شایان نے تالی بجائی. تم اس طرح کا behave کیوں کر رہے ہو ……،؟ اگر تم نے دعا سے شادی نہیں کرنی تو ٹھیک ہے. میں اس کی شادی سرمد سے کر دیتی ہوں. وہ بھی مجھے بالکل تمہاری طرح ہی عزیز ہے. مگر یہ بات تو اب طے ہے کہ میں دعا کو اپنے پاس رکھوں گی. اسے اس پاگل خانے میں واپس کبھی جانے نہیں دوں گی. نائلہ نے حتمی انداز اپنایا. میرے خیال سے آپ کو پہلے اس کا علاج کرانا چاہئے اور پھر شادی
شایان نے ابھی بات شروع ہی کی تھی کہ نائلہ نے اسے ٹوک دیا.
شادی ہی اس کا علاج ہے کیونکہ جس رشتے سے اس کا اعتماد ختم ہوا ہے اب وہی رشتہ اس کا اعتماد بحال بھی کرے گا. نائلہ کے جواب پر شایان خاموش ہو گیا
دیکھو تم نے خود سائیکالوجی پڑھی ہے. میں چاہتی ہوں تم اس کا علاج کرو اگر ٹھیک ہونے کے بعد تمہیں لگا کہ تم اس کے ساتھ ایک خوشگوار زندگی گزار سکتے ہو تو ٹھیک ورنہ _ نائلہ نے کندھے اچکائے یہ علاج کا کونسا طریقہ ہے. میرے خیال سے یہ علاج کی کوئی بہت ہی بیہودہ قسم ہے شایان نے منہ بناتے ہوئے جواب دیا
بھئی اب ہم اپنی جوان بیٹی ویسے تو کسی کو نہیں دے سکتے اور اس کا علاج بھی یہی ہےکہ کوئی ایک مرد اس کو اپنی محبت کا یقین دلاتے ہوئے اس کا اعتماد بحال کرے اور وہ مرد اس کا شوہر ہی ہو سکتا ہے
نائلہ کی اتنی سمجھ داری پر شایان کا دل کیا کہ اپنا سر دیوار میں دے مارے یعنی یہ شادی نہیں بلکہ ایک ٹریٹمنٹ ہے …… ؟ شایان نے تصدیق چاہی جس پر نائلہ نے بغیر شرمندہ ہوئے اپنا سر ہاں میں ہلایا
چلیں ٹھیک ہے مگر آپ مجھ سے وعدہ کریں کہ آپ بعد میں مجھے اس شادی کو جاری رکھنے پر زور نہیں دیں گئی.
میں آپ کی بھانجی کا علاج کرنے کو تیار ہوں کیونکہ مجھے چیلنجنگ اچھے لگتے ہیں وہ کیا ہے ناااااا “ڈیو نہ کیا تو پھر کیا جیا” شایان نے ایک سٹائل سے اپنی شرٹ کا کالر جھاڑتے ہوئے کہا
پھر اس جمعہ کو نکاح رکھ لیں……. ؟؟ نائلہ نے شایان کے راضی ہونے پر پرجوش انداز میں پوچھا
میری طرف سے ابھی رکھ لیں مگر میں اپنی اصلی شادی بہت دھوم دھام سے کرونگا
شایان فورا بتانا ضروری سمجھا
ٹھیک ہے ٹھیک ہے تم ایسا کرنا کہ سالانہ عرس پر اپنی اصلی شادی رکھ لینا. ویسے ہی اتنا دھوم دھڑکا ہوتا ہے تھوڑا اور سہی نائلہ نے مذاق اڑاتے ہوئے شایان کی طرف دیکھا جو نفی میں سر ہلا رہا تھا خالہ آپ کچھ دن پہلے تک تو بالکل ٹھیک تھیں مگر اب آپ کو بھی علاج کی ضرورت ہے_
شایان کے جواب پر نائلہ دل کھول کر ہنسی اب اس کے دل کا بوجھ اتر گیا تھا
اور اسے اپنے اللہ پر پورا یقین تھا کہ یہ دونوں ایک دوسرے کو دل سے قبول کر لیں گے اور یہ دنیا کا بہترین کپل ثابت ہوگا
🔖🔖🔖🔖🔖
جاری ہے.