No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
تم سچ کہہ رہے ہو وہ آنے کے لیے تیار ہے …… ؟؟؟ نائلہ نے بےتابی سے پوچھا
جی بلکل _ آپ سے کبھی میں نے جھوٹ بولا ہے جو اب بولوں گا مگر شایان کہتے کہتے رکے.
مگر کیا ……. ؟؟؟ نائلہ کی بےچینی بڑھی
آپ کی بھانجی ایک نمبر کی بتمیز اور بدلحاظ لڑکی ہے. شایان کو دعا کے آخری الفاظ یاد آئے.
ہیییییییں یہ کیا بات ہوئی ……؟ ؟؟
وہ تو بہت سلجھی ہوئی سمجھدار لڑکی ہے. بڑوں کا احترام کرتی ہے اور نائلہ ابھی اور بھی کچھ کہنے لگی تھی کہ شایان نے بات کاٹ دی.
بڑوں کا احترام بس کریں خالہ اب زیادہ ہو رہا ہے.
آپ اور میں دونوں ہم عمر ہیں لیکن کبھی میں نے آپ کا نام نہیں لیا. ہمیشہ رشتے کا احترام کرتے ہوئے “خالہ” ہی کہا ہے.
مگر وہ آپ کی پاگل بھانجی آپ کو صرف نائلہ کہہ کر مخاطب کرتی ہے. شایان کے لہجے میں دبا دبا سا غصہ تھا
تمہیں مجھ سے اتنی محبت کب سے ہو گئی کہ دعا کے نام لینے سے موڈ آف ہو گیا زیادہ ڈرامہ نہ کرو اور سچ سچ بتاؤ کیا ہوا ہے …… ؟؟؟ نائلہ کے پوچھنے پر شایان نے نفی میں سر ہلایا
پہلی دفع بھی اس نے سگریٹ کی وجہ سے مجھے باتیں سنائیں تھی اور اب بھی شایان کے جواب پر نائلہ ہنسی.
تو مت پیا کرو نااااا نائلہ کے جواب پر شایان مزید تپ گیا. ارے واہ اس کے پیسوں سے پیتا ہوں. اسے کیا تکلیف ہے ….. ؟ شایان کے لہجے میں ناراضگی تھی. اچھا غصہ کو جانے دو. وہ حالات کی وجہ سے “اپ سیٹ” ہے. اس کی بات کو سیریس نہ لیا کرو. درگزر کر دیا کرو. نائلہ شایان کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی. جب وہ محترمہ ٹھیک تھیں تب کون سا پھول جھڑتی تھیں. میں آپ کو بتا رہا ہوں. آپ کے کہنے پر میں نے یہ سب کیا ہے. مگر اس سے زیادہ کی امید مت رکھیے گا. شایان نے وارنگ دی. منظور بس میری دعا میرے پاس آ جائے. نائلہ کی حسرت زدہ آواز سپیکر سے ابھری.
کل شام 7 بجے تک آپ کے پاس ہوں گے. شایان نے سرسری سا بتایا.
انشاءاللہ اپنا خیال رکھنا کل ملتے ہیں. نائلہ نے محبت سے دعائیں دیتے ہوئے فون بند کیا. چل شایان یہ کام بھی اپنے انجام کو پہنچا. شایان نے کندھے اچکاتے ہوئے موبائل پاکٹ میں رکھا اور سگریٹ کی ڈبی نکال لی. 🔖🔖🔖🔖🔖 کب تک واپس آئیں گے. آپ جانتے ہیں مجھے آپ کے بغیر یہ گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے عذرا بیگم نے فاروق صاحب کے کپڑے بیگ میں رکھتے ہوئے پوچھا پتہ نہیں کتنے دن لگے ہیں ……. ؟؟؟ یہ سب تو دعا کی حالت پر ہے. اگر جلدی سنبھل گئی تو جلدی لوٹ آؤں گا. اصل میں میرا دل دعا کے بغیر نہیں لگتا میں اسے اکیلا وہاں نہیں چھوڑ سکتا فاروق صاحب بہن کی پریشانی سمجھ رہے تھے. تو مت جائیں نااااااا عذرا بیگم نے ایک بار پھر روکنے کی کوشش کی.
عذرا تم جانتی ہو پھر بار بار کیوں وہی بات دہرا رہی ہو. فاروق صاحب نے قدرے سخت لہجے میں تنبہہ کی.
دعا کے کپڑے بھی اسی بیگ میں رکھ دوں یا دوسرا بیگ تیار کرنا ہے …… ؟؟ عذرا بیگم نے ناراض نظروں سے بھائی کو دیکھتے ہوئے پوچھا
ہاں اس کا بیگ بھی تیار کر دو وہ کرنے سے رہی . وہ خود مان گئی ہے یہی کافی ہے. فاروق صاحب عذرا بیگم کے ناراض لہجے پر نرم پڑے
مجھے تو حیرت ہے کہ وہ کیسے مان گئی ہے …….. ؟؟؟
وہ تو اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلتی کجا ملتان جانا کم از کم یہ بات مجھے ہضم نہیں ہو رہی ہے. عذرا بیگم کے دل کی بات زبان پر آتے ہی فاروق صاحب مسکرا دیے.
یہ جو لڑکا ہے نااااا شایان دیکھنے میں کم عمر لگتا ہے مگر اس کے پاس کافی علم ہے
پتہ نہیں اس نے دعا پر کون سا جادو پھونکا ہے کہ دعا مان گئی.
بہرحال جو بھی ہے. میں خوش ہوں. مجھے امید ہے کہ وہ اب جلد ٹھیک ہو جائے گی. فاروق صاحب کے چہرے پر انوکھی چمک تھی.
🔖🔖🔖🔖🔖🔖
دعا بار بار وال کلاک کی طرف دیکھ رہی تھی جہاں رات کے دس بج رہے تھے. خوش قسمتی سے ابھی تک عرفان بھی نہیں آیا تھا. وہ گھبراہٹ کے مارے کمرے میں پاؤں جلی بلی کی طرح چکر کاٹ رہی تھی. فون کی گھنٹی بجتے ہی دعا نے بے تابی سے رسیور اٹھایا.
بابا میں نے آپ سے ایک بہت ہی ضروری بات کرنی ہے. فاروق صاحب کی آواز سنتے ہی دعا کا ضبط خودبخود جواب دینے لگا اور اسے اپنی آواز گلے میں گھٹتی ہوئی محسوس ہوئی.
بیٹا سب خیرہت ہے نااااا اتنی رات کو فون کرنے کا کہا. عرفان کدھر ہیں. وہ تو ایک ذمہ دار انسان ہیں. فاروق صاحب کی آواز میں تشویش تھی.
بابا وہ عرفان دعا کو اپنے حلق میں کانٹے چبھتے ہوئے محسوس ہوئے. کیا ہوا عرفان بیٹا کو وہ ٹھیک تو ہیں …….. ؟؟؟ فاروق صاحب اب سچ مچ پریشان ہو گئے تھے.
بابا کچھ ٹھیک نہیں ہے. آپ پلیز میری بات غور سے سنیں. صبح کسی بھی طرح کوئی بھی بہانہ بنا کر مجھے یہاں سے لے جائیں پلیززززز دعا نے اپنی نم زدہ آواز میں منت کی.
دعا مجھے پریشان مت کرو. بتاؤ کیا بات ہے ……. ؟؟؟
میں ابھی آتا ہوں اور یہ عرفان کہاں ہیں میری ان سے بات کراؤ فاروق صاحب کی بات پر دعا پریشان ہو گئی.
بابا میں کل گھر آ کر بات کروں گی ابھی نہیں کر سکتی اور عرفان سے آپ میری اس کال کا ذکر مت کیجیے گا. دعا بات کرتے ہوئے بار بار بند دروازے اور وال کلاک دیکھ رہی تھی.
بابا پلیززز صبح جلدی آئیے گا. ورنہ آپ اپنی بیٹی کو ہمیشہ کے لیے کھو دیں گے. اگر آپ نہ آئے تو میں اپنی جان دے دوں گی. دعا اب باقاعدہ رونے لگی تھی.
ایسا کیا ہو گیا ہے جو تم یوں کہہ رہی ہو. میرا دل گھبرا رہا ہے. مجھ سے صبح کا انتظار نہیں ہو گا. میں ابھی آتا ہوں. فاروق صاحب نے سائیڈ ٹیبل پر پڑا اپنا چشمہ اور بائیک کی چابی اٹھائی.
نہیں ابھی نہیں _ اس طرح عرفان کو شک ہو جائے گا. دوسرا آپ رات میں بائیک نہیں چلا سکتے. ابھی مت آئیے گا. دعا کو اچانک اپنی بےوقوفی کا شدت سے احساس ہوا. کچھ بھی ہو جائے دعا تم خود کشی نہیں کرو گی. کچھ بھی ہو جائے یہ انتہائی قدم مت اٹھانا میں تمہارے ساتھ ہوں چاہے تم قتل ہی کیوں نہ کر دو …….. ؟؟ مگر تم اپنی جان نہیں لو گی فاروق صاحب کا ذہن لفظ خود کشی پر اٹکا ہوا تھا.
بابا میں کیا کروں. میں سخت ذہنی اور جسمانی اذیت میں ہوں. بابا آپ کا انتخاب ایک بار پھر غلط ثابت ہوا. وہ شخص فرشتے کے روپ میں شیطان ہے.
بابا وہ درندہ ہے. مجھے اس سے گھن آتی ہے. اسے رشتوں کے تقدس کا بھی خیال نہیں. وہ میری عزت کا محافظ نہیں دلال ہے. بابا مجھے بچا لوں. دعا سسک اٹھی تھی.
عرفان میاں تو بہت شریف النفس انسان ہیں. ہر روز مجھ سے بات کرتے ہیں. آج تو بلکہ گھر بھی آئے تھے. سچ پوچھو تو اس کے اتنے خیال پر میں شرمبدہ ہو جاتا ہوں.
عرفان میاں کہتے ہیں آپ نے بیٹی رخصت کی ہے بدلے میں آپ کو اللہ نے بیٹا دے دیا ہے. میرا بہت زیادہ خیال کرتے. اور تم کہہ رہی درندہ، شیطان فاروق صاحب شدید پریشان تھے. بابا وہ اصل میں دعا نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ گیٹ پر گاڑی کا ہارن ہوا.
بابا لگتا ہے عرفان آگئے ہیں. آپ پلیزززز صبح جلدی آ جائیے گا اور اس کال کا ذکر مت کیجیے گا نہ ہی دوبارہ کال دعا نے جلدی جلدی اپنا بول کر فون بند کر دیا اور ہسٹری ڈیلیٹ کی. عرفان گنگناتا ہوا کمرے میں داخل ہوا تو سارا کمرہ خالی پڑا تھا. ہاتھ میں پکڑے ڈھیر سارے شاپنگ بیگز صوفے پر رکھے اور ٹیرس کی طرف چل دیا. میری جان اتنی رات کو یوں آسمان کے نیچے کھڑے نہیں ہوتے. عرفان نے نہایت محبت بھرے لہجے میں کہتے ہوئے دعا کو اپنے حصار میں لیا. اندر آؤ دیکھو میں تمہارے لیے کیا کچھ لایا ہوں عرفان کا لہجہ آج ضرورت سے زیادہ ہی شیریں ہو رہا تھا جس پر دعا کا ماتھا ٹھنکا
عرفان نے بڑی محبت سے دعا کو صوفے پر بیٹھایا اور خود کوٹ اتار کر بیڈ پر پھینکا شرٹ کے بازو فولڈ کرتے ہوئے وہ مسلسل دعا کے نکھرے مگر الجھے چہرے کو دیکھ رہا تھا.
تم بہت خوبصورت ہو. اتنی کہ میں ساری رات بھی یوں بیٹھ کر تمہیں دیکھو تو میرا دل نہ بھرے. عرفان نے دعا کے پاؤں میں کارپٹ پر بیٹھتے ہوئے کہا
یہ دیکھو میں تمہارے لیے لانگ شوز، جیکٹس، سویٹرز. اور ڈھیر ساری کاسمیٹک اور پرفیوم لایا ہوں. عرفان ایک ایک چیز نکال کر دعا کے سامنے رکھ رہا تھا.
اگر عرفان کی جگہ اس کا کوئی اور شوہر ہوتا جو سہی معنوں میں اس کا شوہر ہوتا تو دعا اپنی قسمت پر ناز کرتی مگر اب وہ الجھی ہوئی تھی
اتنی گرمی میں سردی کے کپڑے دعا نے ایک نظر ان تمام چیزوں کو دیکھنے کے بعد اپنی نظریں پھیر لیں.
اچھی ہیں نااااااا …… ؟؟؟ عرفان نے دعا کا ہاتھ نرمی سے اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے لجاجت سے پوچھا
یہ سب سردی کے کپڑے ہیں اور موسم گرمی کا ….. ؟؟ دع کے کہنے پر عرفان ہنسنے لگا.
تمہاری بات کا جواب بعد میں دیتا ہوں پہلے یہ بتاؤ کہ میرے دیر سے گھر آنے پر بیویوں کی طرح مجھ سے لڑو گی نہیں عرفان کی حد سے زیادہ شوخی اور محبت دعا کو کچھ غلط ہونے کا اشارہ دے رہی تھی.
یارررر میرا بہت دل کرتا ہے کہ مجھ سے بیویوں کی طرح دیر سے آنے پر لڑا کرو. مجھے بار بار میسج کر کے پوچھا کرو
کہ آپ کہاں ہیں …….. ؟؟؟
ابھی تک گھر کیوں نہیں آئے …….. ؟؟؟
شاپنگ اور باہر کھانے کی ضد کیا کرو مگر تم نے ایک بےجا ضد کے پیچھے ساری چیزوں کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے.
خیر کچھ دنوں کی بات ہے سب کچھ نارمل ہو جائے گا اور مجھے یقین ہے کہ جب میں تمہاری تمام خواہشات پوری کر دوں گا تو تم میری محبت میں گرفتار ہو جاؤ گی.
عرفان نے کہتے ہوئے دعا کو اپنے حصار میں لیا اور اس کے بالوں می انگلیاں چلانے لگا جبکہ دعا کسی بھی قسم کے جزبات سے عاری تھی.
تم تو پوچھو گی نہیں چلو میں ہی بتا دیتا ہوں کہ مجھے کیوں دیر ہوئی اور یہ شاپنگ سردیوں کی کیوں ہے …… ؟؟؟ دعا کی مسلسل خاموشی پر بلآخر عرفان بول پڑا.
آج میرا دوست امریکہ سے آ گیا ہے. میں اسے لینے ہی ایئرپورٹ گیا تھا. پھر اسے ہوٹل چھوڑا اور باقی کی پلینگ بھی کی.
وہ زیادہ گرمی برداشت نہیں کر سکتا اس لیے میں نے “کمراٹ ویلی” کو تمہارے “ہنی مون” کے لیے سلیکٹ کیا ہے. یہ شاپنگ بھی اسی مناسبت سے کی ہے. عرفان کے الفاظ جو وہ انتہائی شیریں زبان میں ادا کر رہا تھا دعا کو پگھلا ہوا سیسہ لگے.
تم دونوں کل کمراٹ کے لیے نکل رہے ہو. میں تمہیں ہوٹل چھوڑ دوں گا آگے سے تم اور وہ ٹھیک ہے. اب کوئی گڑ بڑ نہیں کرنا. دیکھو اچھی بیویاں اپنے خاوندوں کے عیب چھپاتی ہیں اور تم ایک اچھی بیوی ہو مجھے معلوم ہے. ویسے بھی ہر لڑکی کو شادی کے بعد اولاد کی خواہش ہوتی ہے. اس طرح تمہاری خواہش بھی پوری ہو جائے گی. ہم بعد میں اللہ سے معافی مانگ لیں گے وہ معاف کر دے گا. تم پریشان مت ہو. میرا دوست بہت خوبصورت ہے. دیکھنے میں بلکل انگریز لگتا ہے. تم دیکھنا ہمارے بچے کو سب دیکھ کر یہی کہا کریں گے کہ یہ کسی انگریز کی اولاد ہے عرفان نے اپنی بات پر خود ہی قہقہہ لگایا جبکہ دعا اسے دکھ، غم اور حقارت سے دیکھ رہی تھی.
یار سب ٹھیک ہو جائے گا تم پریشان مت ہو. میں مے اسے تمہارے بارے میں خاص تاکید کی ہے. وہ تمہارا بہت خیال رکھے گا.
چلو مل کر کھانا کھاتے ہیں کتنے دن ہو گئے ساتھ کھانا کھائے ہوئے. پھر پیکنگ بھی کرنا ہے. صبح جلدی نکلنا ہے. چلو اٹھو شاباش عرفان نے کہتے ساتھ ہی دعا کا ہاتھ کھینچا
ایک جھٹکے سے ٹرین رکی تو دعا کو احساس ہوا شاید ملتان آ گیا یا کوئی دوسرا اسٹیشن مگر مسافر اتر رہے تھے. اس نے پہلو میں بیٹھے اپنے بابا کو دیکھ جو شاید ٹیک لگا کر سو رہے تھے.
پھر نظر ان کے ساتھ بیٹھے سرمد کو دیکھا تبھی اسے کسی نے پکارا
کچھ چاہیے ……؟ ؟؟ شایان جو کب سے اس کے نیند میں شکن زدہ چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا نے پوچھا
نہیں کچھ نہیں _ بس آپ اس بدبو ساتھ ادھر تشریف لے جائیں. دعا نے آہستہ سا جواب دیتے ہوئے ناک کے آگے اپنی چادر کی جبکہ شایان نے اپنی انگلیوں میں دبا سگریٹ غور سے دیکھا
🔖🔖🔖🔖🔖
جاری ہے.
