No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
دیکھو بیٹی اگر تمہارا دل مطمئن نہیں تو کوئی بات نہیں. میں تمہارے ساتھ زبردستی نہیں کروں گا. تم اس نکاح کے لیے منع کر سکتی ہو. فاروق صاحب نے بہت ہی محبت اور شفقت ساتھ دعا سے پوچھا
بابا میرا اب شادی کرنے کو دل نہیں کرتا کم از کم آپ تو میری بات سمجھتے ہیں نااااا دعا نے آس بھری نظروں سے فاروق صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا بیٹا میں نہ صرف تمہاری بات سمجھتا ہوں بلکہ میں تمہاری تکلیف سے بھی بخوبی واقف ہوں لیکن میں یہ نہیں چاہتا کہ میری بیٹی دنیا کے ڈر سے اپنی خوشیوں سے محروم رہے یا خود اپنے اوپر خوشیوں کے دروازے بند کر دے فاروق صاحب کے سمجھانے پر دعا نے انھیں عجیب نظروں سے دیکھا
بیٹا میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ماضی میں ہوا اس میں تمہارا کوئی بھی قصور نہیں تھا اب اب اگر تم صرف اپنی پھوپھو یا تائی کے ڈر سے شادی نہیں کرنا چاہتی تو تم اپنے اوپر خود ظلم کر رہی ہو. فارغ صاحب کے جواب پر دعا نے نظریں جھکا لیں
شایان بہت سمجھدار بچہ ہے. اوپر سے تمہاری خالہ بھی یہاں پر ہی ہیں. جس کی وجہ سے میرا دل مطمئن ہے کہ وہ تمہارے ساتھ کسی کو بھی غلط نہیں کرنے دیں گئیں. میرے خیال سے یہ شادی تم پر ضرور خوشیوں کے دروازے کھولے گی. فاروق صاحب کی آواز میں ایک امید تھی.
اور اگر یہ شادی بھی ناکام ہوگئی تو……… ؟؟؟ دعا نے مایوسی کی حدوں کو چھوتے ہوئے پوچھا
تو اللہ کی مرضی میں _ کل بھی اپنی بیٹی کے ساتھ کھڑا تھا اور آج بھی اور آنے والے دنوں میں بھی تم مجھے اپنے ساتھ ہی پاؤ گی. میں مت دم تک تمہارا ساتھ دوں گا. فاروق صاحب کی آخری بات پر دعا ان کے ساتھ لگ کے رونے لگی ٹھیک ہے جیسے آپ کو مناسب لگتا ہے دعا کا دل تو مطمئن نہیں تھا مگر نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے اس نکاح کے لیے حامی بھر لی “درد دلوں کے کم ہو جاتے اگر رشتہ داروں کے منہ بند ہو جاتے.” دعا نے دل میں سوچا 🔖🔖🔖🔖🔖 عصر کی نماز کے بعد عموماً کسی نہ کسی کا نکاح درگاہ پر ہو رہا ہوتا تھا. حاکم علی صاحب خود نکاح پڑھاتے اور ہر جوڑے کو دعاؤں کے ساتھ جو کچھ بھی وہ نقدی کی صورت میں دے سکتے کپڑوں اور راشن ساتھ دیتے تھے. لہٰذا گاؤں والوں کی زیادہ تر یہی خواہش ہوتی تھی کہ نکاح مخدوم حاکم علی سے ہی پڑھوایا جائے. ایک تو ان لوگوں کا کھانے کا خرچہ بچتا تھا دوسرا انہیں کچھ مال بھی مل جاتا تھا جس سے انہیں کافی سہولت رہتی. سرمد کی یہ ڈیوٹی تھی کہ وہ نکاح کے سارے انتظامات پہلے ہی مکمل کر لے. جس میں لڑکی اور لڑکے کی رضامندی، گواہ، دونوں گھرانوں کی تھوڑی بہت پڑتال وغیرہ شامل تھی. ویسے تو حاکم علی دوسرے علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا نکاح نہیں پڑھاتے تھے. وہ صرف اپنے گاؤں کے لوگوں کا ہی نکاح پڑھاتے مگر پھر بھی نکاح سے پہلے سرمد کو یہ حکم تھا کہ وہ جوڑوں کی اچھی طریقے سے تحقیق کر لے اگر کسی پر زرا برابر بھی شک ہوتا تو وہ انکار کر دیتے. ابھی بھی وہ شایان کے ساتھ رجسٹر پر ان جوڑوں کی تفصیل لکھ رہا تھا جن کا آج نکاح ہونے والا تھا. یہ تقریبا تین جوڑے تھے. سرمد میں ان تینوں کے لئے کپڑے، راشن اور خود نقدی سلامی کے طور پر ایک لفافے میں ڈالی اور کرسی پر تقریبا گرنے کے انداز میں بیٹھا چلو جی یہ کام بھی مکمل ہوا سرمد نے رجسٹر بند کرتے ہوئے ٹیبل کی ایک سائیڈ پر رکھا
آج تین نہیں بلکہ چار لوگوں کا نکاح ہے. شایان نے کہتے ساتھ رجسٹر کھینچ کر اپنی طرف کیا اور اس پر اپنا اور دعا کا نام مع ولدیت لکھ کر بند کر دیا
تُو پہلے نہیں بتا سکتا تھا اب ان کی بھی تحقیق کرنی پڑے گی اور سامان بھی پیک کرانا ہوگا. سرمد نے سخت ناگواری سے رجسٹر اپنی طرف کرتے ہوئے کھولا
بے فکر ہوجا اس جوڑے کے لیے تجھے کچھ بھی کرنا نہیں پڑے گا. نہ ہی اس جوڑے کو کپڑے، راشن اور سلامی کی ضرورت ہے اور نہ کسی قسم کی پڑتال کی.
آرام سے اے سی کے نیچے بیٹھ کر ہوا لے اور آرام کر شایان نے مسکراتے ہوئے اپنی انگلیوں میں پن کو گھمایا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کچھ ضرورت نہیں کیسے ضرورت نہیں……. ؟؟
حاکم صاحب کو پتہ چلا تو مجھے غصہ ہوں گے. سرمد نے جیسے ہی رجسٹر پر بمع ولدیت شایان اور دعا کا نام پڑھا تو حیرانگی سے شایان کی طرف دیکھا جو اپنے موبائل پرمصروف تھا.
“بندہ کھسرے سے اولاد کی امید رکھ لے مگر تجھ سے کسی چیز کی امید نہ رکھے” _ جیسے ہی سرمد کے منہ سے یہ الفاظ نکلے شایان کا بے ساختہ قہقہ آفس میں بلند ہوا جبکہ سرمد شدید غصے میں باہر جانے لگا رکو تو سہی میری بات سن، کیا ہوگیا ہے……. ؟؟؟ شایان نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے روکا ابھی بھی پوچھ رہا ہے کہ کیا ہو گیا ہے…….. ؟؟ یعنی تیری شادی ہے اور مجھے معلوم ہی نہیں. تو نے بھی بتانا پسند نہیں کیا. میری کوئی اہمیت بھی ہے تیری زندگی میں یا نہیں……. ؟؟ سرمد نے شدید ناراضگی کا اظہار کر رہا تھا یار اہمیت تو میری بھی نہیں ہے. بقول تیرے جس کی آج شادی ہے. مجھے بھی ابھی ابھی کچھ دیر پہلے ہی پتہ چلا ہے کہ آج میرا نکاح ہے اب بتا تجھے کیسے اور کب بتاتا……. ؟؟ شایان کے بتانے پر سرمد نے اسے مڑ کر حیرانگی سے دیکھا یار یہ شادی اصل میں شادی نہیں بلکہ ایک مریضہ کی ٹریٹمنٹ ہے. جب میری اصلی شادی ہوگی تو میں تجھے ضرور تین دن پہلے بتا دوں گا. شایان کی آنکھوں میں شرارت تھی. تین دن، صرف تین دن پہلے سرمد ے دہرایا اور کیا تین دن تھوڑے ہیں شادی میری ہو گئی تیری نہیں شایان ہنسا
بلاوجہ کی ہنسی آرہی ہے. سرمد میں طنز کیا
بھئی جب پاگل ساتھ شادی ہو گئی تو اثرات تو آئیں گے نااااا _ شایان پینٹ کی جیت میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اٹھا جبکہ سرمد نے اسے افسوس بھری نظروں سے دیکھا تجھے کیا ہوا ہے…….. ؟؟ میری شادی کا دکھ ہے یا اپنی نہ ہونے کا شایان نے آبرو اچکا کر سوال کیا کیوں کہ آج وہ اسے ضرورت سے زیادہ ہی ڈسٹرب لگ رہا تھا.
میری شادی تو ہو ہی نہیں سکتی. سر مد نے سرد آہ بھری اسے عنایہ کی آخری کال یاد آگئی تھی.
کیوں کیا ہوا کیا تجھے ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے……. ؟؟ شایان کھل کر مسکرایا
ڈاکٹرز نے تو جواب نہیں دیا مگر میری قسمت نے مجھے صاف جواب دے دیا ہے. سرمد کو ضرورت سے زیادہ سنجیدہ دیکھ کر شایان بھی سنجیدہ ہوا.
آخر ماجرا کیا ہے……. ؟؟
جس نے میرے اچھے خاصے نمونے کو سیریس ہونے پر مجبور کر دیا ہے. شایان نےسرمد کے مقابل کھڑے ہوتے ہوئے تفتیشی انداز میں پوچھا جس پر سرمد نے اسے ساری بات بتا دی.
میں تو کہتا ہوں جتنی ہو گئی ہے وہی کافی ہے اب بس کر شایان کے مخلصانہ مشورے پر سرمد نے طنزیہ مسکراہٹ سے اسے دیکھا کیوں کیا مشورہ پسند نہیں آیا جو یوں مسکرا رہا ہے……. ؟؟ شایان نے اسے مزید چھڑا چلیں اب آپ دفع ہو جائیں. میرا مزید موڈ خراب نہ کریں. یہ نہ ہو کہ میں آپ کو نکاح والے دن سلامی میں گالیاں دوں. سرمد کہتا ہوں اپنی کرسی پر واپس جا بیٹھا جب کہ شایان سیٹی بجاتے ہوئے آفس سے باہر نکل آیا 🔖🔖🔖🔖🔖 یہ بات تو سبھی کہتے ہیں مگر اس پر عمل نہیں کرتے. میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر سب کے سامنے تمہیں اپنی بیٹی کہہ رہا ہوں اور اس پر انشاءاللہ عمل بھی کر کے دکھاؤں گا. تمہیں اس گھر میں وہی اہمیت اور جگہ ملے گی جو میری بیٹی ہوتی تو اسے ملتی. حاکم علی نے نکاح کے بعد دعا کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا مبارک ہو شادی ہوتے ہیں تجھے طلاق بھی ہوگئی ہے. تیرے والد نے تیری بیوی کو اپنی بیٹی بنانے کا اعلان کردیا ہے. سرمد نے شایان کے کان میں سرگوشی کی جس پر شایان نے اسے گھورتے ہوئے کہا میری قسمت نکاح کے معاملے میں بھی اتنی ہی خراب ہے جتنی دوستی کے اور ساتھ ہی اسے مزید بولنے سے منع کیا. میں آپ دونوں کا احسان مرتے دم تک یاد رکھوں گا. میری دعا خوش رہے تو میری زندگی کا یہ آخری حصہ آرام سے گزر جائے گا. فاروق صاحب نے حاکم علی اور دعا ساتھ بیٹھی نائلہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا احسان ہم نے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر کیا ہے اپنی اتنی پیاری بیٹی ہمیں دے کر نائلہ نے دعا کومحبت سے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے جواب دیا جس پر حاکم علی نے بھی ہلکا سا مسکرا تے ہو ئے سر ہلایا
میں اب سکون سے واپس جا سکتا ہوں. کیوںکہ مجھے معلوم ہے کہ میری بیٹی اپنوں میں ہے جو اسے بہت محبت کرتے ہیں. فاروق صاحب کی آنکھیں نم تھیں مگر چہرے پر سکون واضح دیکھا جا سکتا تھا
آپ بے فکر ہو کر جائیں اور جب مرضی اپنی بیٹی سے ملنے آئیں. ہمارے دل اور گھر کے دروازے آپ کے لئے کھلے ہیں. حاکم علی کی فراخ دلی پر فاروق صاحب نے سکھ کا سانس لیا اور اپنے اللہ کا شکر ادا کیا جس نے ان کی بیٹی کے لیے نیک سبب بنایا
یہ سب تو بڑوں والی سنجیدہ باتیں کر رہے ہیں ہمارا ان میں بھلا کیا کام……… ؟؟
چلو میں تمہیں شایان کے کمرے میں چھوڑ آتی ہوں. نائلہ نے دعا کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اسے وہاں سے چلنے کا اشارہ کیا
تیری دعا تو اوپر کی طرف جارہی ہے. سرمد نے سیڑھیاں چڑھتی ہوئی دعا کی طرف اشارہ کیا
دعا اوپر جائے گی تو قبول ہوگی ناااااا شایان کے جواب پر دونوں ہنسنے لگے
مجھے لگتا ہے تجھے سچ مچ میں کسی کی دعا لگ گئی ہے. جو تو اتنا ہنسنے لگا ہے. سرمد اب کی بار بالکل سنجیدہ تھا.
پتہ نہیں یہ تو اوپر جا کر پتہ چلے گا شایان نے کندھے اچکاتے ہوئے دل میں سوچا
🔖🔖🔖🔖🔖
کمرہ رہنے والے کی نفاست کا منہ بولتا ثبوت تھا. ہر چیز قیمتی اور اپنی جگہ پر پرفیکٹ تھی. آج سے یہ کمرہ تمہارا بھی ہے. نائلہ نے دعا کو بیڈ پر بٹھاتے ہوئے کہا
معاف کرنا ہم نے تمہارا کمرہ نہیں سجایا مگر اس میں ہمارا نہیں بلکہ تمہارے ابا جی کا قصور ہے. انہوں نے ہمیں کسی بھی قسم کی سجاوٹ اور رسم کرنے سے منع کیا تھا. ان کے خیال میں ایسا کرنے سے تمہاری خوشیوں کو نظر لگ جاتی ہے. نائلہ کے کہنے پر دعا نے انھیں خاموشی سے دیکھا مگر کہا کچھ نہیں
اچھا اب تم آرام کرو. تمہارے کپڑے میں نے یہاں الماری میں رکھ دیے ہیں. کل ہم دونوں بازار جا کر نئے کپڑے خرید لائیں گے اور بھی تمہیں جو کچھ لینا ہوا تم لے سکتی ہو.
نائلہ دعا کو مسکرا کر پیار دیتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی جب کہ دعا اپنی سابقہ شادیوں کے بارے میں سوچنے لگی.
ایک شادی مہندی والے دن ہی خوب ہنگامے کے بعد ختم ہو گئی _ دوسری رخصتی کے ایک ماہ بعد انتہائی ذہنی اور جسمانی تشدد کے بعد اپنے انجام کو پہنچی اور اب تیسری انہی کے گھر رہ کر سادگی سے نکاح کے بعد نا جانے کونسی کروٹ لیتی ہے.
مگر یہ طے ہے کہ میں سابقہ شادیوں کی طرح اب کی بار ڈر کر زندگی نہیں گزاروں گی. جو بھی ہوگا آج سے ہی ہوگا.
دعا بی بی تمہاری شادیاں سب کی سب ہی سرپرائز تھیں. دعا اپنے اوپر خود ہی ہنسی. پھر پاؤں اوپر کرتے ہوئے بیڈ ساتھ ٹیک لگا لی.
پتا نہیں اب وہ چرسی بھنگی آ کر کیا کہے گا. ایک تو مجھے اس سے سگریٹ کی اتنی گندی بدبو آتی ہے کہ بس _ دعا نے فورا اپنی ناک پر ہاتھ رکھا. سامنے لگی گھڑی کی سوئیاں آہستہ آہستہ وقت گزرنے کا پتہ دے رہی تھیں. گیارہ بجے کے قریب دروازے کا ہینڈل کسی نے گھمایا تو دعا نہیں حیرت اور پریشانی سے آنے والے کو دیکھا شایان نے کمرے میں قدم رکھتے ہوئے ایک نظر دعا کو دیکھا جو اسے ہی ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی پھر آگے بڑھ کر دروازہ بند کیا. ابھی تک وہ دعا کی نظروں کے حصار میں تھا. بازو کے بٹن کھولتے ہوئے اس نے کف فولڈ کیے. کلائی پر بندھی گھڑی اتار کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی ساتھ ہی موبائل اور وائلٹ بھی دعا کی نظر اس کی ایک ایک حرکت پر تھی. شایان نے مرر میں اس کے عکس کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی.
الماری سے اپنے کپڑے لیتے ہوئے وہ واش روم میں چلا گیا دعا اب واش روم کے بند دروازے کو گھور رہی تھی. کچھ دیر بعد شایان فریش ہو کر باہر نکلا تو اسے ابھی بھی اسی حالت میں دیکھ کر جھنجھلا گیا.
آپ کو کوئی بات کرنی یا پوچھنی ہے تو آپ بلا جھجک پوچھ اور کہہ سکتی ہیں. شایان نے تولیہ کرسی پر ڈالتے ہوئے اسے مخاطب کیا
مجھے آپ سے کچھ کہنا یا پوچھنا نہیں ہے بلکہ بتانا ہے.
دعا کی بات پر شایان نے ہیئر برش واپس رکھا اور ڈریسنگ ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا.
بتائیں…….. ؟؟؟ انداز عجیب طنزیہ تھا
کل سے آپ دروازہ نوک کر کے آئیں گے یوں منہ اٹھا کر نہیں میں ڈر جاتی ہوں. دوسرا اندر آ کر اگر میں جاگ رہی ہو تو سلام کریں گے. تاکہ پتہ چلے کہ کوئی اپنا کمرے میں آیا ہے. یہ کمرہ ہے کوئی کلب یا ہوٹل نہیں جہاں منہ اٹھا کر چلے آؤ کوئی پوچھنے والا نہیں.
جوتے ادھر اتار دیئے گا. دعا نے انگلی سے دروازے کے پاس بنے رینک کی طرف اشارہ کیا اور پھر فریش ہونے جائیے گا. اور یہ تولیہ مجھے کل سے کرسی پر دکھائی نہ دے. دعا کے اشارہ کرنے پر شایان طنزاً مسکرایا.
اور مزید کچھ ؟؟؟ شایان نے اپنے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے پوچھا اور یہ کہ آپ کمرے میں سگریٹ نہیں پئیں گے اس کے لیے آپ کو ٹیرس استعمال کرنا پڑے گا. اب مجھے نیند آرہی ہے برائے مہربانی لائٹ بند کر دیں مجھے تیز روشنی میں نیند نہیں آتی. اور ہاں میں ٹی وی نہیں دیکھتی برائے مہربانی آپ کو کچھ بھی دیکھنا ہو تو ٹی وی لاؤنچ میں جا کر دیکھیے گا کمرے میں آپ ٹی وی نہیں لگا سکتے. دعا کہتی ہوئی بیڈ پر لیٹ گئی جب کہ شایان اسے حیرت سے کچھ دیر دیکھتا رہا. جیسے یقین کر رہا ہوں کہ جو کچھ اس نے ابھی سنا ہے وہ سب سچ ہے. مطلب نہ شرم، نہ حیا سیدھا سیدھا حکم، دھمکی شایان کی حیرت اب غصے میں بدلنے لگی تھی. او بی بی کیا نام ہے تمہارا یہ کمرہ میرا ہے اور میں اپنی مرضی کا مالک ہوں. یہاں رہنا ہے تو سکون سے رہو مجھے تنگ کیے بغیر ورنہ اپنا بوریا بستر سمیٹو _ شایان نے چٹکی بجاتے ہوئے دروازے کی طرف اشارہ کیا شکریہ تم نے میرا مسئلہ تو بہت جلدی حل کر دیا ہے. دعا جلدی سے بیڈ سے نیچے اتری اور اپنا ڈوپتہ سر پر درست کرتے ہوئے چپل پہننے لگی. شایان اس کی ایک ایک حرکت کو بہت حیرت سے دیکھ رہا تھا. پھر وہ دروازے کی طرف چل پڑی جس پر شایان چونکا اس وقت کہاں جا رہی ہو……. ؟؟شایان نے اس کا راستہ روکا بابا کو بتانے کی یہ شادی بھی ہمیشہ کی طرح ناکام ہوگئی ہے. آپ نے مجھے اپنے کمرے سے نکال دیا ہے تاکہ وہ مجھے کل اپنے ساتھ ہی واپس لے جائیں بعد میں میں کیسے اکیلی راولپنڈی جاؤنگی. دعا کی معصومیت پر شایان کا دل کیا ایک زور دار تھپڑ اس کی گال پر لگائے. میں نے یہ کب کہا کہ جاؤ یہاں سے……. ؟؟ شایان نے سختی سے پوچھا خود ہی تو کہا ہے کہ وہ رہا دروازہ دعا نے اسی کے سٹائل میں جملہ دوہرایا
تم کیا چیز ہو، دیکھنے میں تو اتنی چالاک نہیں لگتی……. ؟؟ شایان نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا جس پر دعا بالکل خاموش رہی
اچھا ٹھیک ہے میں کل سے احتیاط کروں گا اب تم جا کر سو جاؤ. شایان نے اپنے لہجے میں نرمی لائی جبکہ دعا خاموشی سے دوبارہ بیڈ پر جا کر لیٹ گی.
کون کہتا ہے کہ اسے مردوں سے ڈر لگتا ہے. اس میں اعتماد نہیں شایان صوفے پر بیٹھا اسے مسلسل گھور رہا تھا. جو شاید اب واقعی ہی نیند کی وادیوں میں اتر چکی تھی. کچھ دیر وہ اسے یوں ہی گھورتا رہا پھر اپنا موبائل اٹھا کر آہستہ سا ٹیرس پر آگیا اور نائلہ کو کال ملائی.
سب ٹھیک تو ہے نااااااا تم نے اس وقت کال کی. نائلہ نے کال اٹینڈ کرتے ہی انتہائی پریشانی سے پوچھا جس پر شایان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا.
جی بالکل خیریت ہے. شایان نے سگریٹ سلگاتے ہوئے جواب دیا
تو پھر……… ؟؟ نائلہ نے پوچھا
آپ سے یہ پوچھنے تھا کہ علاج کس کا کرنا ہے اس کا یا میرا …….. ؟؟ شایان نے دھواں فضا میں چھوڑا.
پاگل تمہارا نہیں دعا کا وہ بیچاری بیمار ہے تم نہیں نائلہ نے دبا دبا سا غصہ کیا
اچھا مگر مجھے تو اپنا لگ رہا ہے جیسے میں بیمار ہوں اور وہ میرا ٹریٹمنٹ کر رہی ہے شایان نے آسمان کی طرف نظر اٹھا ئی
بکواس بند کرو اور اس کے پاس جاؤ وہ ڈر جاتی ہے. نائلہ کو دعا کی فکری ہوئی.
اور اگر میں ڈر گیا تو……… ؟؟ شایان نے سگریٹ نیچے پھینکتے ہوئے اس پر پاؤں مارا.
شایان _ نائلہ نے غصے سے پکارا
جا رہا ہوں. شایان کہتے کال بند کی اور کمرہ کی طرف بڑھ گیا.
🔖🔖🔖🔖🔖
جاری ہے
