Kis Maan Pe Tujko Azmaao By Amna Mehmood Readelle50145 Last Episode Last Part
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Last Part
شایان سارے دن کا تھکا ہارا اپنے کمرے کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا کہ حاکم علی کی آواز سن کر رکا مگر مڑا نہیں کیونکہ وہ جانتا تھا اب وہ کیا کہیں گے.
ابا جی پلیز ہم بھی آپ کی طرح سارے دن پریشان رہے ہیں اور یہ سب کیوں اور کیسے ہوا اس پر مجھ سے زیادہ ٹی وی اینکر روشنی ڈال چکے ہیں اور جو رہ گئی ہے وہ سرمد سے ٹارچ لے کر خود ہی ڈال لیں مگر فلحال مجھے سونے دیں
اگر ابھی بھی آپ نے مجھے آرام نہ کرنے دیا تو آپ اپنے اکلوتے بیٹے سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے. شایان نے ایک ہی سانس میں اتنا کچھ کہہ دیا کہ حاکم علی کے پیچھے مودبانہ انداز میں کھڑے سرمد کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا
لگتا ہے آج گدی نشین صاحبزادہ شایان علی نے بھی میری طرح بغیر نمبر دیکھے کال اٹھا لی ہے اب اللہ خیر کرے. سرمد اپنی سوچ پر خود ہی گردن جھکائے مسکرایا.
شایان جبکہ حاکم علی کی کڑک دار آواز سے لاؤنچ گونج اٹھا. شایان نے اپنے نام کی پکار پر منہ بناتے ہوئے الٹے قدم پیچھے کا سفر کیا اور گردن جھکا کر حاکم علی کے سامنے کھڑا ہو گیا کیونکہ اب بےعزتی کروانے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا. شایان میں دیکھ رہا ہوں تم دن با دن بدتمیز ہوتے جا رہے ہو. حاکم علی نے اپنے لہجے کو متوازن رکھتے ہوئے شایان کے جھکے سر کو دیکھا جب کہ سرمد نے زیر لب “دن بدن بد تمیز” کو دہرایا. (میرے خیال سے سائیں آپ کا اکلوتا چشم و چراغ پیدائشی طور پر بدتمیز ہے. پتہ نہیں کیوں والدین کو اپنی اولاد اور خاص طور پر اکلوتی اولاد تمیزدار ہی لگتی ہے چاہے وہ شایان جیسی ہی کیوں نہ ہو …….. ؟؟ سرمد نے ایک گہرا سانس خارج کرتے ہوئے سر اوپر اٹھایا.) ابا جی آپ کو ساری صورتحال کا پتہ تو ہے. پھر اس وقت میرا ٹائم برباد کرنے کا مقصد …….. ؟؟ شایان کے لہجے سے تھکاوٹ عیاں تھی. تمہارے خیال سے میں اور سرمد صبح سے آرام کر رہے ہیں اور تم اکیلے تھکے ہوئے ہو. حاکم علی کے جملے پر شایان نے فورا سراٹھاکر سرمد کو تلاش کرنا چاہا جو حاکم علی کے پیچھے موؤدب سا کھڑا تھا. (یہ کمینہ اس وقت یہاں کیا کر رہا ہے ……. ؟؟ اسے تو ابھی میں روتا چھوڑ کر آیا تھا. یہ تو اپنی کبھی نہ کبھی ہونے والی دلہن کا سوگ منا رہا تھا. شائع نے سرمد کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا) میں نے تم سے صرف یہ پوچھنا تھا کہ اب آگے کا کیا پروگرام ہے ……. ؟؟ کیا ہمیں عرس کی تقریبات ملتوی کر دینی چاہئے اور چراغوں اور قوالی کے پروگرام کا کیا کرنا ہے وہ تو ہمارے باپ دادا کی روایت ہے …….. ؟؟ ویسے بھی عرس کی تقریبات ایک ہفتہ چلتی ہے اب تو سب کلیئر ہو گیا ہے پھر کیا خیال ہے …..؟ ؟ حاکم علی کی بات پر شایان نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے ناگواری سے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر ٹائم دیکھا. (اتنے ہنگامے کے بعد بھی انہیں آتش بازی اور چراغاں کا شوق چڑھا ہوا ہے. سارا دن تو اینکر قوالی کرتے رہے ہیں. شایان نے دل میں سوچتے ہوئے سرمد کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا. خود تو یہ دونوں فارغ ہیں میں تو بیوی والا ہوں میری جان تو چھوڑ دیں.) ابا آپ سرمد سے ڈسکس کر لیں. صبح مجھے بتا دیجیے گا. آگے کبھی میں نے آپ سے اختلاف کیا ہے جو اب کروں گا …….. ؟؟ ویسے بھی آپ اپنی مرضی کرتے ہیں میں تو اس عرس کے ہی خلاف ہوں. شایان کے جواب پر سرمد اور حاکم علی دونوں کے ہی تاثرات بگڑے. اپنی جان بچا رہا ہے اور مجھے پھنسا رہا ہے. میں نے آرام نہیں کرنا کیا میں سارا دن بستر توڑتا رہا ہوں ……… ؟؟سرمد کی سوچ کو شایان پڑھ سکتا تھا تبھی شرارت سے مسکرایا. ویسے بھی آج کل سرمد کو نیند تو آتی نہیں کیوں سرمد ………. ؟؟ شایان کا سوال سرمد کو مزید تپاگیا. سائیں میں انسان ہوں “الو” نہیں سرمد نے طنزاً جواب دیا
تم دونوں کیا سوتنوں کی طرح لڑنا شروع کر دیتے ہو. میری بات کا جواب دو. تقریبات ملتوی کر دی جائیں یا نہیں، بولو …….. ؟؟ حاکم علی نے دوبارہ پوچھا
ابّا جو دل چاہتا ہے کریں مگر مجھے جانے دیں قسم سے گر جاؤں گا. ٹانگوں میں بہت درد ہو رہا ہے. شایان نے باقاعدہ منت کی جس پر حاکم علی نفی میں سر ہلانے لگے.
مردوں کو اتنا نازک نہیں ہونا چاہیے. حاکم علی کے جملے پر شایان نے انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھا
ابا کیا مردوں کی ٹانگیں نہیں ہوتی یا ان کی ٹانگوں میں درد نہیں ہو سکتا. اس میں نازک ہونے والی کونسی بات ہے……. ؟؟ صبح سے لے کے اب تک میں انہیں دو ٹانگوں پر کھڑا رہا ہوں. شایان کے سوال پر سرمد کو شرارت سوجھی.
سائیں جب آپ مجھ معصوم پر یہ ٹانگیں اٹھاتے ہیں تب آپ کی یہ ٹانگیں کیوں نہیں دکھتی ……. ؟؟ سرمد کے پوچھنے پر شایان نے اپنی قمیض کے کف فولڈ کرنا شروع کیے.
میرے خیال سے آج میں اپنا اصول توڑ دیتا ہوں. ہاتھ سے مار کر دیکھتے ہیں کیسا محسوس ہوتا ہے ……. ؟؟ شایان نے کہتے ہوئے سرمد کی طرف اپنے قدم بڑھائے.
سائیں آپ کو تو اچھا ہی محسوس ہوگا البتہ میری سچویشن کافی مختلف ہو جائیں گی.سرمد نے الٹے قدم لیے. (سرمد حاکم علی کے سامنے شایان کو زیادہ تر سائیں ہی بولتا تھا کیونکہ حاکم علی کا حکم تھا سب شایان کو اسی نام سے پکاریں کیوں کہ وہ سجادہ نشین ہے تو اس کا احترام سب پر لازم ہے.)
تم دونوں سنجیدہ ہو گے کہ نہیں ……. ؟؟ حاکم علی کے گرجنے پر دونوں اپنی اپنی جگہ جم گے.
جو حکم سرکار کا دونوں کے منہ سے ایک ساتھ نکلا. ٹھیک ہے پھر ہم تقریبات مختصر کر دیتے ہیں مگر ہوںگی ضرور حاکم علی کہتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف جانے لگے مگر پھر اپنے پیچھے tom & jarry show شروع ہونے کے ڈر سے پلٹے.
شایان تم اوپر اپنے کمرے میں جاؤ اور سرمد تم درگاہ پر _ دونوں کو اپنی اپنی سمت روانہ کرتے ہوئے وہ بھی اپنے کمرے کی طرف چل دیے. 🔖🔖🔖🔖🔖 دعا شام سے شایان کا انتظار کرتے کرتے تھک گئی تھی. پتہ نہیں کیوں مگر آج اسے شایان کا شدت سے انتظار تھا. اسے صحیح معنوں میں آج شایان کی اہمیت کا اندازہ ہوا تھا جس کی وجہ سےوہ معاشرے میں باعزت مقام رکھتی تھی. وہ اس کا سائیان تھا، محرم تھ. ا جو اسے ہر سرد گرم سے بچا رہا تھا. جس کی وجہ سے لوگ اس کے احترام میں اُٹھ کھڑے ہوتے تھے. اس کا ہاتھ عقیدت سے چومتے تھے. اس کے آگے سر جھکا لیتے تھے. خاص طور پر عرفان کی بیوی کو دیکھنے کے بعد تو دعا نے دل میں سو بار اللہ کا شکر ادا کیا تھا کہ اسے شایان جیسے شخص محرم کے روپ میں ملا. وہ اس ہیرے کی قدر نہیں کر پائی تھی مگر اب مزید نہیں. وہ اپنے ہر غلط عمل کی شایان سے معافی مانگ لے گی. دعا دل میں سوچتے ہوئے مسلسل گھڑی کی سوئیاں دیکھ رہی تھی. بالآخر رات کے 3 بجے شایان نے دروازہ کھولا تو نیند سے بوجھل آنکھیں لیے دعا کو اپنا منتظر پایا. تم ابھی بھی جاگ رہی ہوں. حیرت ہے. لڑکی تم سوتی کب ہو ……. ؟؟ شایان حیرت کا اظہار کرتا جوتے سائیڈ پے اتار کر ننگے پاؤں کارپٹ پر چلتا قدم قدم دعا کی طرف بڑھنے لگا آج پہلی بار دعا کا دل شایان کی قربت کا طلبگار تھا. اس لیے وہ اپنی جگہ پر بیٹھی شایان کو دیکھنے لگی. یہاں تک کہ وہ اس کے پہلو میں آ بیٹھا. آنکھیں تو نیند سے بوجھل ہیں. پھر کیوں نہیں سو رہی ہو ……… ؟؟ شایان نے محبت سے دعا کے بال پیچھے کرتے ہوئے پوچھا تو وہ ایک دم اس کے سینے سے آ لگی دعا کی اس حرکت پر شایان پریشان ہوا کیونکہ وہ زیادہ تر ایسا تب کرتی تھی جب پریشان ہوتی تھی. دعا تم ٹھیک ہو. کیا ہوا ہے کسی نے کچھ کہا تو نہیں ……… ؟؟ شایان کی فکر اپنے لیے دعا کو ایک انوکھا احساس سے دوچار کر رہی تھی. کچھ نہیں دعا کے جواب پر شایان نے حیرت سے ڈریسنگ ٹیبل کے مرر میں اس کے عکس کو گھورا.
چلو پھر پیچھے ہٹو میں بہت تھکا ہوا ہوں. فلحال تمہارے نخرے نہیں اٹھا سکتا. شایان نے کہتے ساتھ ہی دعا کو پیچھے کرنا چاہا جس پر وہ ناکام رہا کیونکہ دعا نے اپنی گرفت مزید سخت کر دی تھی.
میں بھی بہت تھک گئی ہوں. اب سکون سے سونا چاہتی ہوں. دعا کے جواب پر شایان چونکا
دعا تم عرفان کی وجہ سے اپ سیٹ ہو. میں جانتا ہوں. میں نے تمہارے ساتھ غلط کیا ہے تمہارے زخم پھر سے ہرے کر دیے ہیں. مگر وہ اس وقت بے بسی اور رحم کی انتہا پر ہے.
جب میں نے اسے ابا ساتھ فون پر بات کرتے سنا تھا تو میں نے بہت غصہ کیا تھا مگر پھر ابا کی پوری بات سننے کے بعد میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اسے تم سے معافی ضرور دلواؤں گا.
اور دوسرا میں چاہتا تھا کہ تم اپنی آنکھوں سے اس کا انجام دیکھو کہ اللہ کتنا مہربان ہے وہ کسی کی تکلیف کو رائیگاں نہیں جانے دیتا. جان بوجھ کر گناہ کرنے والوں کا سخت حساب ہوتا ہے ان کے لیے شدید عزاب ہے معافی نہیں شایان نے کہتے ہوئے دعا کو نرمی سے خود سے جدا کیا. چلو ہٹو مجھے آج سخت نیند آرہی ہے. باقی کل صبح باتیں کریں گے. آج تو میری ٹانگوں میں اتنا درد ہے کہ پوچھو مت. رہی سہی کسر ابا نے نیچے اپنا تھیٹر لگا کر پوری کر دی ہے. یہ بزرگ بھی ناااااا شایان نے کہتے ہوئے دعا کو پیچھے کیا اور اوندھے منہ بستر پر لیٹ گیا.
دعا کچھ دیر شایان کو دیکھتی رہی پھر آہستہ سے اس کے پاؤں دبانے لگی. شایان کی آنکھیں نیند سے بند ہو رہی تھیں کہ اسے اپنے پاؤں پر نرم گرم لمس محسوس ہوا جو اسے سکون دے رہا تھا
دعا ٹانگیں درد کر رہی ہیں پاؤں نہیں _ شایان نے بوجھل آواز میں بتایا تو دعا ٹانگیں دبانے لگی اسے آج شایان کی خدمت میں مزہ آ رہا تھا. دعا کیا چاہیے ……؟ ؟ دس منٹ گزرنے کے بعد شایان کی آواز کمرے میں گونجی تو دعا حیران رہ گئی وہ تو سمجھ رہی تھی کہ شایان سو گیا ہے. دعا کیا چاہیے مانگ لو _ مگر یوں مت کرو. حالانکہ کے مجھے بہت سکون مل رہا ہے مگر اچھا نہیں لگتا کہ تم میرے پاؤں وغیرہ دباؤ. شایان نے پہلو کے بل کروٹ لیتے ہوئے کہا کیا چاہیے بولو نااااا …….؟؟ شایان نے تیسری بار پوچھا تو دعا نے سر جھکا لیا. آپ شایان مجھے آپ چاہیں. دعا کے جواب پر شایان کی نیند سے بوجھل آنکھیں پٹ سے پوری کھل گئیں.
دعا تم ٹھیک ہو …… ؟؟ بخار وغیرہ تو نہیں، کچھ الٹا سیدھا تو نہیں کھا لی ا…….. ؟؟ شایان نے اٹھ کر بیٹھے ہوئے دعا کے ماتھے پر ہاتھ رکھا
شایان دعا نے غصے سے شایان کا ہاتھ پیچھے کیا.
کیا ہے ……. ؟؟ دیکھ رہا ہوں کہ میری بیوی کو کیا ہوا ہے. آج سے پہلے تو ہر وقت رونا دھونا، شک کرنا، لڑنا جھگڑنا اس کے علاوہ کوئی بات سننے کو نہیں ملتی تھی. پھرآج ایسا کیا ہوا ہے…… ؟؟
اگر یہ دھماکے کا اثر ہے تو پہلے بتا دیتی. میں خود جیب سے پیسے دے کر کرواتا. ویسے ہی اتنا وقت ضائع کیا.
شایان کی ایکٹنگ پر دعا نے غصے سے شایان کو گھورا تو وہ ہنسنے لگا اور دعا کو اپنے حصار میں لے لیا.
محبت دل پر دستک ضرور دیتی ہے اور تب تک دیتی رہتی ہے جب تک دروازہ کھل نہ جائے. میری محبت نے بالآخر تمہارے دل کا دروازہ کھول دیا ہے بلکہ توڑ دیا ہے.اب تم چاہ کر بھی یہ دروازہ مجھ پر بند نہیں کر سکتی. شایان نے مسکراتے ہوئے دعا کے کان میں سرگوشی کی.
نہایت فضول اور سستے ترین ڈائیلاگ ہیں. دعا نے چھڑا.
اب سارا دن خوار ہونے کے بعد بندہ اتنا ہی رومنس کر سکتا ہے. شایان نے اعتراف کیا.
مجھے آپ سے محبت ہو گئی ہے اور میں اب آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی لہذا آپ مجھے اچھے شوہروں کی طرح اپنے ساتھ لے کر جائیں گے ورنہ میں آپ کو بھی نہیں جانے دوں گی. دعا کی بات پر شایان نے سر نفی میں ہلایا
فی الحال تو تم میرے ساتھ نہیں جا سکتی کیونکہ تمہارے ڈاکومنٹس ابھی مکمل نہیں ہے مگر اگلی بار پکا وعدہ تمہیں ساتھ لے کر جاؤں گا. شایان سے صاف گوئی سے کام لیا.
مجھے نہیں معلوم میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گی ورنہ آپ نہیں جائیں گے. دعا نے ناراضگی سے شایان کی طرف دیکھا
اچھا اب ناراض مت ہو. سوچتا ہوں کہ کیا کرنا ہے. شایان نے دعا کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جس پر دعا مسکرا دی.
دعا وعدہ کرو کہ اب تم مسکراتی رہو گی، نہ کبھی مجھ پر شک کرو گی، نہ بلاوجہ رو گی، جو بیت گیا سو بیت گیا. اب اس کو دہرانے کا فائدہ نہیں چلو اپنی نئی زندگی شروع کرتے ہیں جس میں ہم دونوں ایک دوسرے پر اعتبار اور یقین کریں گے وعدہ شایان نے کہتے ہوئے اپنا ہاتھ پھیلایا تو دعا نے فوراً اسے تھام لیا.
“میں بتاؤں میرے دل کی خواہش کیا ہے؟
ایک ہی تصویر میں ہنستے ہوئے ‘ہم دونوں’ “
🔖🔖🔖🔖🔖
خدا خدا کرکے سرمد کے نکاح کا دن آیا تھا. اس ایک ہفتے میں سرمد نے عنایہ سے بات کرنے کی بہت کوشش کی تھی مگر اس کا نمبر بند جا رہا تھا. اب بھی وہ شدید پریشان سا سٹیج پر بیٹھا تھا.
میں نے اپنی زندگی میں اتنی منحوس شکل والا دولہا کبھی نہیں دیکھا اسے ٹھیک کر کیوں لوگوں کو ڈرا کر بھگا ئیے گا …… ؟؟ شایان نے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے تبصرہ کیا. یار وہ سائن کر تو دے گی نااااااا بہت ہی
منہ پھٹ قسم کی ہے. خوش قسمتی سے مجھے دوست اور بیوی دونوں ہی ایک “برینڈ” کے ملے ہیں. کبھی بھی کچھ بھی کر سکتے ہیں اور دونوں کو ہی مجھ سے عجیب نوعیت کی “محبت” ہے جسے کم ازکم میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا. سرمد نے عنایہ کے ساتھ ساتھ شایان سے بھی گلہ کیا.
ارے واہ اکیلی بیوی کی کلاس لیتے ہوئے شرم آتی ہے. جو مجھے خوامخواہ گھسیٹ لیا. میں تو تیرا نکاح کروا رہا ہوں. رشتہ بھی لے کر گیا تھا. تم دونوں کے لیے اتنی محنت کی ہے اب اور کیا کروں……؟ ؟ میں کیسے تیری بیوی جیسا ہو گیا. بے مروت انسان شایان نے کوسا
وہ تو ہوں اور کچھ سرمد نے جواب دیا. کمینہ _ شایان نے دوسرا کمنٹس پاس کیا. ایسا ہی ہے سرمد نے ہاں میں ہاں ملائی.
پرلے درجے کا گھٹیا اور ذلیل شایان کی طرف سے تیسرا جملہ آیا.
آگے سرمد نے مزید شیہہ دی.
آگے بچے وہ گالیاں اپنے آپ کو نکال لے. جو اباجی غصے میں مجھے نکالتے ہیں. شایان کی بات پر سرمس کے منہ سے بے ساختہ “استغفراللہ” نکلا تو دونوں ہنس پڑے.
یار پتہ کر یہ مولوی صاحب اتنی دیر کیوں لگا رہے ہیں. ایک منٹ لگتا ہے پوچھنے میں سرمد کو پھر پریشانی ہوئی.
ایک منٹ کی جلد بازی ہی تجھے ہمیشہ ذلیل کرواتی ہے. صبر کرآ رہے ہیں. ویسے بھی ان کی نظر کمزور ہے آدھا گھنٹہ تو وہ اپنی عینک سیٹ کرنے میں لگا دیتے ہیں. شایان نے مولوی کی مجبوری بتائی.
تو یہ بابائے آدم کے زمانے کا نکاح خواں لانے کی کیا ضرورت تھی……… ؟؟ سرمد نے دانت پیسے.
خاندانی ہے _ شایان نے فخر سے بتایا. کون……؟ ؟ سرمد نے بے ساختہ پوچھا مولوی شایان کے جواب پر سرمد نے بےچینی سے پہلو بدلا تبھی اسے دور سے مولوی صاحب آتے ہوئے نظر آئے.
مولوی صاحب کے پوچھنے پر سرمد نے فورا تین بار قبول کیا اور سائن کرنے کا پوچھا جس پر سب نے حیرت سے اسے دیکھا.
اس کی بریک “فیل” ہوگئی ہیں مگر وہ خود “پاس” ہونا چاہتا ہے تو شایان نے رجسٹر مولوی صاحب کے حوالے کیا جس پر سب نے مبارکباد کی صدا بلند کی اور باری باری سرمد سے گلے ملے. شکر ہے نکاح ہوگیا ہے مجھے بہت سخت پریشانی تھی. اب میں اسے دیکھ لوں گا مگر اس سے پہلے پتا ہے کیا کرنا ہے …… ؟؟ سرمد نے اپنے گلے سے پھولوں کی مالا اتارتے ہوئے سائیڈ پر رکھی. کیا ……. ؟؟ اب پریشان ہونے کی باری شایان کی تھی. کھانا کھانا ہے میں نے کل رات سے کچھ نہیں کھایا. پتہ کر تیرے سسر نے کیا پکایا ہے …… ؟؟ سرمد کے جواب پر شایان نے افسوس کا اظہار کیا کم از کم اپنی شادی میں تو عزت اور تمیز سے کھانا کھا لے. شائع نے کہتے ہوئے سائیڈ پر پڑی مالا اٹھا کر دوبارہ سرمد کو پہنائی. رہنے دے تمیز کو اس وقت بھوک لگی ہے. شایان نے سرمد کے جواب پر بہرے کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا. 🔖🔖🔖🔖🔖 تین سال بعد ………!!! سرمد اٹھ بھی جائیں آج دعا لوگوں نے آنا ہے. عنایہ کوئی تیسری بار اٹھانے آئی تھی. تو میں کیا کروں …….. ؟؟ سرمد نے چڑ کر پوچھا آپ نے انہیں ایئرپورٹ لینے جانا ہے. شاید آپ کو یاد نہیں. جلدی کریں. تھوڑا ٹائم ہی رہ گیا ہے. عنایہ نے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے سرمد کو جھنجھوڑا جس پر وہ منہ بناتا اٹھ بیٹھا بڑی خوشی چڑھی ہے جناب کو کزن کے آنے کی سرمد نے طنز کیا
ہاں نااااا چڑھی ہے خوشی، آپ کو نہیں ہے ……. ؟؟ عنایہ کے پوچھنے پر سرمد نے لحاف کو ایک طرف پھینکا اور سلیپر پہن کر بڑ بڑانے لگا
میرا دوست فالتو کی خوشیاں چڑھنے ہی نہیں دیتا فوراً اتار دیتا ہے. سرمہ کہتا ہوا واش روم میں چلا گیا.
مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ آپ دونوں دوست آرام سے ایک دوسرے سے بات کیوں نہیں کرتے …….. ؟؟
عنایہ کے پوچھنے پر سر مت میں سر ہلایا کیونکہ وہ صابن سے منہ ہاتھ دھو رہا تھا اس وقت بول نہیں سکتا تھا.
لڑکوں کی دوستی تو اتنے مزے کی ہوتی ہے ایک دوسرے پر جان چھڑکتے ہیں. میں نے ڈراموں اور فلموں میں دیکھا ہے. کاش میں بھی لڑکا ہوتی. عنایہ نے حسرت سے کہا
وہ جان چھڑکتا نہیں بلکہ جان لیتا ہے اور رہی بات تمہاری اگر تم لڑکا ہوتی تو میں تم پر ضرور جان چھڑکتا. سرمد نے شرارت سے کہتے ہوئے گیلا تولیہ عنایہ کی طرف اچھالا اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہو گیا.
ہم ایسے ہی ہیں بچپن سے نہ تو وہ نرمی سے مجھ سے بات کرتا ہے اور نہ مجھ سے اس کی نرمی برداشت ہوتی ہے. ابھی تو شکر کرو شادی کے بعد جناب صرف مجھ پر غصہ ہی کرتے ہیں ورنہ پہلے تو مارتے بھی تھے. سرمد کے جواب پر عنایہ خوب ہنسی. آپ کی حرکتیں بھی تو مار کھانے والی ہیں. عنایہ نے شرارت سے کہا بدتمیز شوہر کے بارے میں یوں کہتے ہیں ……. ؟؟ سرمد نے آنکھیں دکھائی جس پر عنایہ نے کندھے اچکا دیے
دعا کو اللہ نے کتنی جلدی رحمت اور نعمت سے نوازا ہے مجھے اس کے بیٹا بیٹی بہت پیارے لگتے ہیں موٹو موٹو سے _ عنایہ نے پہلے اداسی اور پھر خوشی سے کہا ایک تو تم بچوں کو لے کر اتنی اداس رہتی ہوں شکر کرو کہ ابھی ہمارے بچے نہیں ہیں. سرمد نے عنایہ کے ہاتھ سے تولیہ لیتے ہوئے تسلی دی. سرمد صاحب اس میں خوشی کی کوئی بات نہیں ہے. لوگ بار بار پوچھتے ہیں تو کیا کہوں …….. ؟؟ عنایہ کی اداسی پر سرمد بھی سنجیدہ ہو گیا. دیکھو عنایہ تم ایسی باتوں کا جواب ہی نہ دیا کرو. پتا جب میرا میٹرک کا رزلٹ آیا تھا مجھ سے سب نے پوچھا میں نے کسی کو بھی کچھ نہیں بتایا کوئی بتانے والی بات ہوتی تو بتانا نااااااا سرمد کی تسلی پر عنایہ نے اسے گھورا
میرا مطلب ہے جب کوئی بات ہوگی تو بتائیں گے نااااااا سرمد کو احساس ہوا شاید غلط مثال دے دی.
ویسے آپ کے میٹرک میں کتنے نمبر تھے ……… ؟؟ عنایہ کو اپنا غم بھول گیا اور سرمد کے نمبروں کی فکر ہوئی.
دفع کرو یار دیر ہو رہی ہے اس. سے پہلے کے شایان ایئرپورٹ پر پہنچتے ہی گرجنے برسنے لگے چلو چلتے ہیں. سرمد نے گاڑی کی چابی ڈریسنگ ٹیبل سے اٹھاتے ہوئے عنایہ کو باہر نکلنے کا اشارہ کیا
پھر بھی کتنے نمبر تھے ……. ؟؟ عنایہ مسلسل یہی پوچھے جا رہی تھی اور سرمد کو اپنی مثال پر شدید غصہ آ رہا تھا.
شایان بالکل ٹھیک کرتا ہے میرے ساتھ __ سرمد نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے دل میں سوچا جبکہ عنایہ مسلسل اس سے نمبر پوچھ رہی تھی.
🔖🔖🔖🔖
الحمدللہ آج میرا “آٹھواں ناول” بھی مکمل ہوا. دل کرے تو تبصرہ کر دیجیے گا کہ کیسا لگا ….؟؟
آپ تمام لوگوں کی حوصلہ افزائی، تعریف اور پسندیدگی کا بہت بہت شکریہ
یہ ناول میری کولیگ کی آپ بیتی ہے. جو اب دوبئی میں اپنے ایک بیٹی اور بیٹے کے ساتھ رہی ہے. سب مرد برے نہیں ہوتے میری کولیگ کی تیسری جبکہ اس کے شوہر کی پہلی شادی تھی پھر بھی وہ دونوں بہت اچھی زندگی گزار رہے ہیں.
اس کہانی میں اور بھی بہت سے اذیت ناک پہلو تھے جو میں اپنی تربیت کی وجہ سے لکھ نہیں پائی کیونکہ میرے خیال سے ایسے بے ہودہ واقعات لکھنے کے قابل نہیں ہوتے. مگر میں یہ ضرور کہوں گی کہ اگر کوئی لڑکی شادی کے بعد اپنے خاوند میں ایسی عادات دیکھے جس کا اسلام سے تعلق نہیں تو برائے مہربانی فوراً اپنے گھر والوں کو اطلاع کرے.
گناہ کا ساتھ دینا بھی گناہ کے برابر ہی ہے. خاوند کا بے شک اسلام میں بیوی پر بہت حق ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اس کی تمام جائز اور ناجائز باتیں مانیں اور اپنی آخرت برباد کریں یقین مانے اگر آپ اللہ کے حکم پر چلیں گے تو اللہ آپ کے لئے بہتر وسیلہ بنائے گا جیسے دعا کے لیے شایان کو بنایا.
خوش رہیں خوشیاں بانٹیں اللہ آپ تمام لوگوں کی دلی مرادیں پوری کرے اور عافیت والی، صحت والی، ایمان والی زندگی عطا کرے. آمین ثم آمین
