Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode Part 1

دعا کی آنکھ صبح بہت دیر سے کھلی گھڑی پر نظر پڑتے ہی اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا کہ وہ گیارہ بجے تک سوتی رہی ہے. پورے کمرے میں ایک غیر شعوری نظر ماری شاید وہ شایان کو تلاش کر رہی تھی. کمرہ خالی پاکر وہ پھر رات والی کیفیت سے دوچار ہو گئی.
بد دلی سے بستر سے اٹھ کر وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنا جائزہ لینے لگی تب اسے معلوم ہوا کہ اس کی آنکھیں رتجگے اور رونے کا حال بہت صفائی سے بیان کر رہیں ہیں.
اگر شایان نے نائلہ کو سب بتا دیا تو ………. ؟؟ اس نے دل میں سوچتے ہوئے اپنے بال باندھے اور الماری سے اپنے کپڑے نکالنے لگی
یہ والا ڈریس پہن لو اچھا لگے گا _ اپنے پیچھے سے اچانک شایان کی آواز سنتے ہی وہ کرنٹ کھا کر مڑی. ایک تو تمہارا ذرا ذرا سی بات پر دم نکل جاتا ہے. اب ایسے کیا دیکھ رہی ہو جیسے پہلی بار دیکھا ہو شایان کہتا ہوا الماری کے دراز سے اپنا پاسپورٹ نکالنے لگا
آپ مت جائیں دعا کے منہ سے بامشکل یہ الفاظ نکلے.
کہاں ………. ؟؟ شایان نے ناسمجھی سے پوچھا جبکہ دعا کی آنکھیں پاسپورٹ پر جم گئیں.
جہاں جانا چاہ رہے ہیں
دعا نے شایان کا بتایا ہوا سوٹ نکالتے ہوئے جواب دیا
میں تو فی الحال درگاہ پر جارہا ہوں کیونکہ سرمد اپنے والدین ساتھ راولپنڈی گیا ہوا ہے. تو سارے انتظامات مجھے ہی دیکھنے ہیں. شایان دعا کا مطلب سمجھ تو گیاا تھا مگر جان بوجھ کر انجان بن گیا.
آپ _ دعا نے یکدم اسے پکارا. ہاں میں
شایان نے اپنے ساتھ پاسپورٹ لگاتے ہوئے پوچھا
آپ نے مجھے بتایا نہیں کہ سرمد بھائی راولپنڈی گئے ہے.
دعا نے بات بدلی.
اچھااااااااااااا میں بھول گیا ہونگا. شایان نے اچھا کو لمبا کرتے ہوئے معصومیت سے جواب دیا اور پھر دوبارہ اپنے ڈاکومنٹس دیکھنے لگا جب کہ دعا چپ چاپ کھڑی شایان کی پشت کو دیکھ رہی تھی.
دعا تمہارا شناختی کارڈ کہاں ہے …….. ؟؟ اچانک شایان نے پلٹ کر دعا کی طرف دیکھا تو وہ اس ساتھ ٹکراتے ٹکراتے بچی. جس پر وہ کچھ نادم سی ہوتے ہوئے پیچھے صوفے پر جا بیٹھی.
میں نے پوچھا تمہارا شناختی کارڈ کہاں ہے ……. ؟؟ شایان نے دوبارہ اپنی بات زور دے کر دہرائی.
میرے سارے ڈاکومنٹس تو راولپنڈی پڑے ہیں. دعا کے جواب پر شایان نفی میں سر ہلاتا اپنا فون نکالنے لگا
دل تمہارا کہیں ہے، دماغ کہیں اور ڈاکومنٹس کہیں اور ہی پڑے ہیں. بس تم یہاں موجود ہو. کال ملتے ہی شائع نے کام ساتھ موبائل لگایا
یار آتے ہوئے فاروق انکل سے دعا کے تمام ڈاکومنٹس لیتے آنا. شایان کی بات پر سرمد نے سر ہلایا کیونکہ وہ اس وقت مزے سے برستی بارش میں چائے پی رہا تھا.
منہ سے کچھ بول دے کہ لڑکی والوں کی جگہ تو نے انہیں اپنی زبان دے دی ہے. شایان کے غصے پر سرمد کو ہنسی آ گئی.
جب میاں بیوی کی لڑائی ہوتی ہے تو بیوی اپنا غصہ بچوں پر جبکہ میاں دوستوں پر نکالتا ہے. سرمد کا جواب غیر متوقع تھا اس لیے شایان خاموش ہو گیا.
ویسے بھابھی کے ڈاکومنٹس کا کیا کرے گا ………. ؟ میرا مطلب “دری” تو ملتان میں بھی آسانی سے مل جاتی ہے. سرمد خوش تھا تبھی اتنا چہک رہا تھا
سرمد میری جان میرے دوست
شایان کا لہجہ ایک دم بدلا تو دعا سے حیرت سے سر اٹھا کر اسے دیکھا جبکہ سرمد کو زور کا اچھو لگا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اب شایان کیا کہنے والا ہے.
بس بس اب ایک لفظ اوع نہیں میں ڈاکومنٹس لے آؤں گا. دھمکی دینے کی ضرورت نہیں ہے. سرمد نے سنجیدگی سے جواب دیا.
ایک بات تم اپنی اس کھوپڑی اچھی طرح بیٹھا لو کہ ابھی ایک قبر کی گنجائش حجرے کے اندر موجود ہے. شایان کی باتیں دعا کو حیرت میں ڈال رہی تھی.
میں دھوم دھام سے اپنی شادی کرنا چاہتا ہوں.سرمد نے عاجزی سے اپنی فرمائش بتائی.
بیٹا تیرا جنازہ بھی دھوم دھام سے اٹھے گا. سالانہ عرس جو ہے. تو بے فکر رہ میں کوئی کثر نہیں چھوڑوں گا. دوست پر یقین رکھ. شایان کی تسلی پر سرمد نے منہ بناتے ہوئے کال کاٹ دی. جبکہ دعا حیرت کا مجسمہ بنی شایان کو دیکھ رہی تھی.
اب تمہیں کیا ہوا ہے یوں کیوں دیکھ رہی ہو ……. ؟؟ شایان نے فون بند کرتے ہوئے اس کے آگے چٹکی بجائی.
آپ کو یوں سرمد بھائی سے بات نہیں کرنی چاہیے تھی یہ بدشگونی ہوتی ہے. خوشی کے موقع پر ایسی باتیں کرنا. دعا کو برا لگا
اچھااااااااااااا _ اور کیا کیا بدشگونی کے زمرے میں آتا ہے وہ بھی بتا دو اور ساتھ ساتھ مجھے بات کرنے کا سلیقہ بھی شایان مذاق اڑانے والے انداز میں کہتا ہوا اس کے برابر بیٹھ گیا.
آپ کو میرے ڈاکومنٹس کیوں چاہیے ……؟ ؟ دعا نے ڈرتے ڈرتے پوچھا
تمہیں پاگل خانے داخل کرانا ہے تو انہیں پورے ثبوت بھی دینا ہوں گے ناااااااا شایان نے اپنی ہنسی دبائی.
سوری مجھے بس ویسے ہی رات کو غصہ آ گیا تھا. دعا کی معذرت پر شایان نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے سنجیدگی سے اسے دیکھا
دعا تم کب تک سوری سے کام چلاؤ گئی. زندگی سوری سے نہیں گزرتی. میں آج تمہیں ایک بات بتا رہا ہوں دوبارہ نہیں دہراؤں گا. اچھی طرح اسے ذہن نشین کر لو.
اگر کبھی تم سے غلطی ہو جائے تو اسے ٹھیک کرنے کی کوشش مت کرنا کیونکہ وہ ٹھیک نہیں ہو گی. اور نہ ہی بار بار اقرار کرنا کہ تم سے یہ غلطی ہوئی ہے بلکہ اسے بھول کر آگے بڑھ جانا.
ہاں مگر زندگی میں وہ غلطی دوبارہ کبھی مت دہرانا اور اپنی غلطی کو دوسروں کے سامنے justify بھی مت کرنا ورنہ ہو تمہارے پیچھے پڑ جائیں گے. لوگ غلطیوں پر ہمیشہ طعنے دیتے ہیں معاف نہیں کرتے. تم نے یہ بات یاد رکھنی ہے. شایان کہہ کر اٹھنے لگا تو دعا نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
اب کیا ہے…….. ؟؟ شایان نے چڑ کر پوچھا
آپ پلیزز مت جائیں. دعا کی شکل رونے والی تھی.
کہاں
شایان نے آبرو اچکا کر پوچھا
برطانیہ دعا نے سر جھکاتے ہوئے آہستہ آواز میں پوچھا
مگر مجھے وہاں کام ہے ویسے بھی میں ہر تین ماہ بعد وہاں جاتا ہوں. لڑکی ادھر ہمارا بزنس چل رہا ہے. شایان نے نرمی سے دعا کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ نکالتے ہوئے بتایا
میں یہاں اکیلی کیا کروں گی ……… ؟؟دعا نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا
تم شک کرنا جو تمہارا محبوب مشغلہ ہے. اب آگے سے ہٹو.مجھے بہت کام ہیں. شایان نے دعا کو کندھے سے پکڑ کر پیچھے کیا
نائلہ سے کچھ مت کہئے گا
دعا نے شایان کو جاتا دیکھ کر پیچھے سے کہا تو شایان جو دروازے کا ہینڈل گھمانے لگا تھا رکا.
ابھی میں تمہارے جتنا ذہین نہیں ہوا ہوں لہذا بے فکر رہو. میں اس طرح کا کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دوں گا. اب اپنا حلیہ درست کرو اور نیچے آؤ شایان کہتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا
🔖🔖🔖🔖🔖🔖
تم یہاں بیٹھی کیوں رو رہی ہو ……… ؟؟ نائلہ نے دعا کو اداس بیٹھا دیکھ کر محاورتا کہا مگر اگلے ہی پل وہ دعا کی حرکت پر ساکت رہ گئی.
نائلہ دعا نے نائلہ کے گلے لگ کر رونا شروع کر دیا.
ارے کیا ہوا. شایان نے کچھ کہا ہے …….. ؟؟ نائلہ نے اسے پیار سے تھپکتے ہوئے پوچھا
وہ مجھے چھوڑ کر جا رہے ہیں. دعا نے آنسوؤں کے درمیان بتایا.
ایہہہہہ مگر کہاں ……. ؟؟ نائلہ کو حیرت ہوئی
برطانیہ دعا کے جواب پر نائلہ کے چہرے پر حیرت کی جگہ مسکراہٹ نے لے لی ارے پگلی اس میں رونے والی کونسی بات ہے. وہ ہر تین ماہ بعد وہاں جاتا ہے ان لوگوں کا کاروبار ہے. نائلہ کے جواب پر دعا خاموش ہوگئی. اب کیا بتاتی کہ وہ اسے تین ماہ کی سزا دے رہا ہے. تم بھی ساتھ جانا چاہ رہی ہو ……. ؟؟ نائلہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے بس ویسے ہی
دعا کو اپنا آپ اس وقت عجیب سا لگا
بھی اس میں شرمانے والی کیا بات ہے …….. ؟؟ اگر ساتھ جانا چاہ رہی ہو تو اسے کہہ دو وہ لے جائے گا. ویسے بھی تم دونوں شادی کے بعد کہیں نہیں گئے. نائلہ کے جواب پر دعاا نے سر ہلایا
تو پھر آپ کہہ دیں نااااااا دعا نے کہا میں کیوں کہوں تم خود کہوں اسے، بیویاں تو اتنی فرمائشیں کرتی ہیں کیا تم دونوں میں ابھی تک دوستی نہیں ہوئی ……… ؟؟ نائلہ کے پوچھنے پر دعا نے مسکرا کر ان کی طرف دیکھا تبھی شایان کچھ پیپرز ہاتھ میں لیے اوپر آیا. کن کاموں میں مصروف ہو ……. ؟؟ نائلہ نے شایان کے ہاتھوں میں پیپرز دیکھ کر پوچھا کوئی ایک کام ہو تو خالہ بتاؤں ناااااا ایک تو وہ نواب میرے سسرال جا کر بیٹھ گیا ہے. دوسرا مجھے امبیسی کے چکر بھی خود ہی لگانا پڑ رہے ہیں. تیسرا اس محترمہ کا سسر میری جان کو آرہا ہے عرس کے انتظامات سے مطمئن نہیں ہو رہے اور چوتھا یہ محترمہ خود بذات خود شایان نے دعا کی طرف دیکھا تو وہ نائلہ کی طرف دیکھنے لگی
خالہ آپ کو اس نے اپنے نئے کارنامے کا بتایا ہے. شایان کے سوال پر نائلہ نے یکدم دعا کی طرف دیکھا جبکہ دعا کی رنگت اڑگئی.
اب کیا کیا ہے تم نے …….. ؟؟ نائلہ نے شایان کی بجائے دعا سے پوچھا
پہلے تو انہیں مردوں پر بھروسہ نہیں تھا مگر اب بات بہت بڑھ گئی ہے. شایان نے افسوس بھری شکل بنائی جبکہ دعا نے مسکینیت سے شایان کو دیکھا
مگر اب ……. ؟؟ نائلہ نے دہرایا
کیا بتاؤں اور کیسے بتاؤں ……. ؟ شایان فل ایکٹنگ کے موڈ میں تھا جبکہ دعا کا وہاں بیٹھنا مشکل ہو رہا تھا
آپ لوگ بیٹھ کے باتیں کریں میں کچھ کھانے کے لیے لاتی ہوں. دعا کہتی ہوئی جانے لگی لیکن شایان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھا لیا
ہمیں کچھ نہیں کھانا. میری تو بھوک ہی مر گئی ہے. پتا اب اسے پورے گھر پر شک ہے. کہتی میں نے آپ کے ساتھ جانا ہے مجھے پیچھے چھوڑ کر مت جانا مجھے کسی پر اعتبار نہیں. شایان کی ضاحت پر دعا نے سکھ کا سانس لیا
شایان تم نے مجھے ڈرا ہی دیا تھا. اس میں ایسی کوئی بات نہیں. تم لے جاؤ ساتھ
نائلہ نے مصنوعی ناراضگی سے شایان کی طرف دیکھا
ہاں میں بھی یہی سوچ رہا ہوں مجھے تو اب اس کی عادت ہوگئی ہے آپ لوگ تین مہینے اسے کیسے برداشت کریں گے …….. ؟؟ شایان ہنسا
خیر اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے اتنی پیاری بیٹی ہے اور ایسی ایسی کوئی حرکت بھی نہیں کرتی. نائلہ نے محبت سے دعا کی طرف دیکھا.
ہائے اب کیا بتاؤں کہ ایسی ویسی حرکت نہیں کرتی مگر کیسی کیسی حرکت کرتی ہے ……. ؟؟ شایان نے برابر بیٹھی دعا کو دیکھتے ہوئے کہا
پھر تم اسے ساتھ لے کر جا رہے ہو …….. ؟؟ نائلہ نے دعا کی تسلی کے لیے تصدیق چاہی
دیکھتے ہیں. فی الحال تو وہ سرمد کا بچہ واپس آجائے تاکہ مجھے کچھ فرصت ملے اور میں سوچ سکوں کہ کیا کرنا ہے ……. ؟؟ شایان کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا.
مت تنگ کیا کرو اور خوش رہو دونوں ایک ساتھ اچھے لگتے ہو …… ؟؟ نائلہ نے شایان کے پہلو میں بیٹھی دعا کو دیکھ کر کہا
سچی ……. ؟؟ شایان نے شک بھری نظروں سے دعا کو دیکھتے ہوئے نائلہ سے پوچھا. تبھی اس کا فون بجا جسے سننے کے لیے شایان باہر کی طرف بڑھ گیا.
اب مطمئن ہو …… ؟؟ نائلہ نے پوچھا تو دعا نے مسکراتے ہوئے اپنا سر ہلایا.
🔖🔖🔖🔖🔖
جاری ہے.