Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

کیا میں تم سے پوچھ سکتا ہوں کہ یہ حرکت کس خوشی میں کی ہے …… ؟؟ سرمد کے غصے پر پہلے تو عنایہ بہت حیران ہوئی مگر پھر مسکرانے لگی
میرے خیال سے آپ مجھ پر غصہ کرنے کا حق نہیں رکھتے. اس لیے آرام سے بات کریں ورنہ میں کال کاٹ دوں گی. عنایہ کے اس قدر پر سکون دھمکی آمیز انداز پر سرمد اش اش کر اٹھا.
میں غصہ نہیں کر رہا بس پوچھ رہا ہوں جو کہ میرا حق بھی ہے. سرمد اب بھی غصے میں ہی تھا مگر اسے اپنے لہجے کی شدت کا اندازہ نہیں تھا.
اگر آپ نے اپنا لہجہ تبدیل نہ کیا تو میں سچ مچ کال کاٹ دوں گی _ عنایہ کے انداز پر سرمد نے کان ساتھ لگا موبائل ہٹایا. یہ کس طرح بات کر رہی ہے. یہ اس کا اندازہ گفتگو تو نہ تھا ……. ؟؟ دیکھو مجھے انکار کی وجہ جاننی ہے اور بس سرمد نے گہرا سانس خارج کرتے ہوئے اب کی بار نرمی سے پوچھا
ہممممم اب ٹھیک ہے. یوں بات کریں نااااا وہ دراصل مجھے آپ کے رشتہ بھیجنے کا طریقہ پسند نہیں آیا. عنایہ کی دلیل پر سرمد پھے غصے میں آ گیا.
عنایہ بی بی جیسے ریاضی کا سوال جس مرضی طریقے سے حل کرو اگر جواب درست ہو تو استاد اسے کاٹتا نہیں ہے _ بلکل ویسے ہی رشتہ جس مرضی طریقے سے بھیجا جائے اگر بندہ ٹھیک ہو تو انکار نہیں کرتے. سرمد کے جواب پر عنایہ نے سر نفی میں ہلایا.
جی نہیں یہ لوجک مجھے منظور نہیں. نہ ماں باپ، نہ بہن بھائی، یہ کیا کہ دوست کے ہاتھ انتہائی “شُودے” لوگوں کی طرح قیمتی تحائف بھجوا کر پوچھ لیا ……… ؟؟
اس قسم کے لوگ رشتہ لینے کے لیے پہلے ہی سارا زور لگا دیتے ہیں اور بعد میں ولیمے پر ” آلو والے چاول” کی دیگ بھی نہیں دے سکتے.
بہت معزرت مگر پہلے اپنے والدین لے کر آئیں پھر میں جواب دوں گی اور ہاں میری ماما کے اقرار کو بلکل بھی سیریس نہ لیں. انہیں تو کوئی میرے نکاح والے اگر آپ سے زیادہ قیمتی اشیاء دے کر رشتہ مانگے گا تو وہ نکاح کینسل کر دیں گئیں. امید ہے بات سمجھ شریف میں آ گئی ہو گی دوسری طرف مکمل خاموشی پر عنایہ نے سرمد کو مخاطب کیا.
واہ کمال ہو گیا . شودے
آلو والے چاول _ یعنی بے عزتی ہی بے عزتی، وہ بھی دن دیہاڑے میرے منہ پر سرمد ساکت کھڑا عنایہ کے الفاظ تول رہا تھا.
مجھے لگتا ہے کہ اتنی قیمتی چیزیں دیکھ کر تمہارا دماغ گھوم ہو گیا ہے اس میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رہی. ورنہ تم ایسی باتیں نہ کرتی. سرمد میں طنز کیا
سرمد صاحب صحیح وقت پر دماغ کا گھومنا بھی ایک نعمت ہے. عنایہ نے ترکی بہ ترکی جواب دیا
ٹھیک ہے میں اپنے والدین کو لے آتا ہوں مگر اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ پھر انکار نہیں ہوگا ……. ؟؟ سرمد نے بات بدلتے ہوئے پوچھا
انکار تو کبھی بھی کسی نے نہیں کیا ہے. دوسرا اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ تمہارے والدین مجھے پسند کر لیں گے ……؟ ؟ عنایہ نے سوال برائے سوال پوچھا تو کچھ دیر کے لیے سرمد خاموش ہو گیا.
واقعی اگر اُس کے والدین نے عنایہ کو ناپسند کیا تو وہ کیا کرے گا اس بارے میں تو ابھی تک اس نے سوچا ہی نہیں تھا.
بولیں بھی جواب دیں. کیا اب آپ کو میری آواز نہیں آرہی ہے …….. ؟؟ اب کی بار عنایہ کے لہجے میں طنز تھا.
دیکھو عنایہ اس طرح آپس میں لڑنے جھگڑنے یا ایک دوسرے کو طعنہ دینے سے کیا فائدہ ہوگا. اگر تم یہ شادی نہیں کرنا چاہتی تو انکار کر دو یوں مجھے ذلیل نہ کرو.سرمد نے اب کی بار تھکے سے انداز میں پوچھا تو عنایہ مسکرا دی مگر جواب نہیں دیا.
مجھے لگا کہ شاید تم بھی مجھے پسند کرتی ہو اس لئے – سرمد اب نرمی سے گفتگو کر رہا تھا.
اور یہ آپ کو کیوں لگ ا…….. ؟؟ عنایہ کے سوال پر سرمد پھیکا سا مسکرایا
جس طرح عورت کے اندر اللہ تعالی نے ایک سسٹم لگا رکھا ہے کہ جب کوئی اسے بری یا اچھی نظر سے دیکھتا ہے تو اسے پتہ چل جاتا ہے
بالکل ایسے ہی جب کوئی لڑکی اپنائیت سے اپنے مسلے کسی سے بیان کرتی ہے تو اسے بھی پتہ چل جاتا ہے کہ وہ اس کے لیے خاص ہے.
تم جس طرح وقت بے وقت مجھے فون کر کے اپنے مسائل کے بارے میں بتاتی تھی. میرے ڈانٹنے پر خاموش ہو جاتی تھی. میرے معذرت کرنے پر کھل اٹھتی تھی. تو مجھے یہ غلط فہمی ہونے لگی کہ تم مجھے پسند کرتی ہوں مگر سرمد نے اپنی بات کے آخر میں حسرت سے آسمان کی طرف دیکھا
خیر اب اتنے مایوس ہونے والی بات بھی نہیں ہے. آپ اپنے والدین لے آئیں اور عنایہ نے جان بوجھ کر ذومعنی انداز میں “اور” ادا کیا.
اور …….. ؟؟ سرمد نے دہرایا
اور آلو والے چاولوں کی جگہ کچھ اور سوچیں عنایہ نے شرارت سے کہتے ہوئے کال بند کر دی تو سرمد کی بند قسمت کھل گی.
🔖🔖🔖🔖
بڑا مسکرایا جا رہا ہے وہ بھی اکیلے اکیلے، لگتا ہے ہائی کمان نے اپنے آرڈر واپس لے لیے ہیں. شایان نے سرمد کو اکیلے مسکراتا دیکھا تو اسے چھیڑا.
میں نے اکثر دیکھا ہے کہ لوگ شادی کے بعد کافی سنبھل جاتے ہیں مگر تیرے کیس میں ایسی کوئی امید نہیں . حالانکہ شادی سے پہلے تو تُو نے ہر وقت بارود چبایا ہوتا تھا اور شادی کے بعد اب تیرے خوامخواہ دانت نکل رہے ہوتے ہیں. جیسے تجھے کسی ہلکان کتے نے کاٹ لیا ہو. سرمد اب اپنی فارم میں واپس آ چکا تھا.
ہائے میرے دوست مجھے افسوس ہوتا ہے بلکہ شدید دکھ لگتا ہے جب میں تیری یہ حالت دیکھ سکتا ہوں تو
کبھی تیری حالت صدقے خیرات لینے والی ہوتی ہے، تو کبھی شادی میں ناچنے والے گھسروں جیسی، اللہ تیرے حال پر رحم کرے. شایان نے مصنوعی دکھ کا اظہار کیا.
یار تو بہت بدل گیا ہے پہلے تو ایسی بات نہیں کرتا تھا اب ہر وقت طنز کرتا رہتا ہے. سرمد سچ مچ ناراض ہوا.
اچھا سوری اب میں ہر مذاق نہیں کروں گا بس صبح اور شام _ سنجیدگی سے بات کرتے کرتے آخر میں شایان مسکرا دیا. رات رہ گئی ہے اسے بھی شامل کر لے سرمد نے افسوس سے سر نفی میں ہلایا
نہیں رات میں تیرے ساتھ برباد کرنا پسند نہیں کرتا شایان نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے جواب دیا
ہاں وہ تو تیری پہلے ہی برباد شدہ ہے. سرمد کے جواب پر شایان نے اسے زور سے مکا رسید کیا.
خبردار جو ذاتیات پر اترا تو اور ہاں اپنا بوریا بسترا سمیٹ، ہم کل صبح زیادہ امکان اور آج رات بھی شاید جا سکتے ہیں. شایان نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بتایا.
کیا اوپر دیکھ کر خبریں پڑھ رہا ہے ……. ؟؟ سرمد نے بھی اس کی نقل اتارتے ہوئے اوپر دیکھا
خبریں نہیں صرف ایک خبر بالکل تازہ ترین عنایہ بی بی سوری آپ کی ہونے والی بیگم نے “ہاں” کر دی ہے. لہذا اب یہاں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں. چل ملتان چلیں اور بارات لانے کی تیاری کریں. مجھے تو یہ فنکشن نصیب نہیں ہوا تیری ہی انجوائے کر لوں. شایان کہتا ہوں اندر کی طرف بڑھ گیا جبکہ سرمد ہکا بکا اس کی پشت کو دیکھ رہا تھا. ابھی کچھ دیر پہلے تو عنایہ
سرمد نے زیر لب بڑبڑایا اور پھر آسمان کی طرف تشکر بڑی نظر سے دیکھا
🔖🔖🔖🔖🔖
چلیں محترمہ یہ کام بھی ختم ہوا. اب آپ اپنا سامان باندھ لیں کیوں کہ میرا دل تو آج رات ہی جانے کو کر رہا ہے. پتا نہیں کیوں مگر میرا دل ملتان کے علاوہ کہیں بھی نہیں لگتا ……. ؟؟ شایان نے سنجیدگی سے دعا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور خود فرش ہونے واش روم چلا گیا.
دعا ہمت کر اور اس بندے کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ معذرت بھی کر لے. جس کی وجہ سے تجھے اپنے رشتوں کی محبت ملی ہے اور ساتھ ہی تیری سہیلی بھی ہمیشہ کے لیے تیرے پاس آ جائے گی _ دعا نے اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں دیکھتے ہوئے شایان کا نام تلاش کرنا چاہا. اگر تم یہاں مزید رہنا چاہتی ہو تو رہ سکتی ہو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے.شایان واش روم سے باہر آیا تو اسے دعا بہت اداس لگی. اس لیے وہ محبت بھرے انداز میں کہتا ہوئے اس کے برابر بیٹھ گیا. دعا کی آنکھیں شایان کے اس انداز اور فکرمندی پر پانی سے بھرنے لگیں. ارے کیا ہوا تم تو رونے لگی ہو …… ؟؟ شایان نے پریشان ہوتے ہوئے دعا کے گالوں پر پھیلتے آنسو صاف کیے تو وہ یک دم شایان کے سینے ساتھ لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی جبکہ شایان حیرت کا مجسمہ بنے اسے دیکھ رہا تھا بعض دفعہ ہمارے الفاظ وہ کام نہیں کرتے جو ہمارے آنسو اور خاموشی کر جاتے ہیں. شایان نے کافی دیر بعد دعا کی کمر تھپکتے ہوئے اسے حوصلہ دیا. اب بتاؤ کیا ہوا ہے ……. ؟؟شایان کے لہجے میں حد سے زیادہ فکر اور محبت تھی مگر آواز بہت آہستہ جیسے وہ خود کلامی کر رہا ہو. سوری دعا نے ہچکیوں کے دوران کہا تو شایان
کو سوچنے کے باوجود بھی یاد نہیں آیا کہ صبح سے اب تک دعا نے ایسی کیا حرکت کی ہے جس پر اسے معذرت کی ضرورت پڑی.
دعا تم نے ایسا کیا کیا ہے تم بول کیوں نہیں رہی …….. ؟؟ شایان نے نرمی سے اسے خود سے جدا کرتے ہوئے پوچھا وہ مجھے لگا سب لوگ عرفان جیسے ہی ہوتے ہیں تو
دعا کے اس ایک جملے نے شایان کی ساری الجھن ختم کر دی. کچھ دیر وہ اس کے غمزدہ چہرے کو دیکھتا رہا.
دعا ویسے تو تم روتی ہوئی بھی بری نہیں لگتی مگر میں چاہتا ہوں کہ تم ہنستی رہو کیونکہ ہنستے ہوئے تم زیادہ پیاری لگتی ہو اور جب لڑتی ہو یا طعنے دیتی ہو تب تو مت پوچھو کہ تم مجھے کیسے لگتی ہو ……… ؟؟
کیا میں آپ کو لڑتے ہوئے بھی بہت پیاری لگتی ہوں . بتائیں ناااااا دعا کو تجسس ہوا کہ اتنی بدتمیزی کے باوجود بھی وہ کیسے اسے لڑتے ہوئے اچھی لگ سکتی ہے…….. ؟؟
دعا نے کہتے ہوئے شایان کی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھا اور یہ پہلی بار تھا کہ وہ یوں اسے دیکھ رہی تھی. شایان نے دعا کے آس پاس کی جگہ کا جائزہ لیا جب اسے اطمینان ہو گیا کہ کوئی نقصان دہ چیز اس کی پہنچ میں نہیں تو اپنا گلا صاف کرنے لگا.
دعا تم نے فروزن مووی دیکھی ہے “Elsa” جس کی ہیروئن ہے. شایان کے ہوچھنے پر دعا نے پہلے حیرانگی سے اسے گھورا پھر ہاں میں سر ہلا دیا.
جب تم لڑتی ہو تو مجھے بلجل “Anna ” لگتی ہو. شایان کے جواب پر دعا کی آنکھوں میں حیرت کی جگہ غصہ آنے لگا جس پر شایان نے مسکراتے ہوئے اسے زبردستی اپنے ساتھ لگا لیا
چھوڑیں مجھے
حد ہوتی ہے. یعنی ولن سے ملا دیا. دعا اپنا آپ چھڑانے لگی.
دعا ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا اور ہر رشتہ ہر کسی ساتھ ایک جیسا برتاؤ بھی نہیں کرتا.
کبھی کسی کی ماں بہت اچھی ہوتی ہے تو کبھی باپ _ کبھی کوئی لڑکی اپنے بھائی کی جان ہوتی ہے تو کبھی شوہر کی کبھی کسی کا بیٹا بہت فرمانبردار ہوتا ہے تو کبھی بیٹی سہارا _ ہر کسی کو ہر رشتہ مختلف رنگ میں ملتا ہے. کسی کو یہ رشتے اذیت دینے کے باعث بنتے ہیں تو کسی کو خوشی
تم نے بہت دکھ دیکھیں ہیں مجھے اندازہ ہے
اور ان دو مردوں کو تو میں کبھی معاف نہیں کروں گا جس کی وجہ سے نہ صرف مرد ذات بلکہ شادی جیسے مقدس بندھن پر تمہارا اعتبار ختم ہوا. میرے بس میں ہو تو میں انھیں سرعام کوڑے لگواؤں.
یہ ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے کہ ہم بیٹی کو بیاہ کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے. اب اگلے بندے کی مرضی وہ جو مرضی سلوک کرے ہمیں کچھ لینا دینا نہیں. یہ میاں بیوی کے آپس کا معاملہ ہے.اور یہاں سے ہی ہم غلط ہیں
مجھے تمہاری اسی بات نے بہت متاثر کیا ہے کہ تم سچ گو ہو. سچ کہنے سے ڈرتی نہیں اور نہ ہی ظلم سہنا پسند کرتی ہو. تمہیں ہر غلط چیز غلط لگتی ہے یعنی تم غلط اور سہی میں فرق کر سکتی ہو.
مگر کبھی سوچا ہے کہ تم ایسی کیوں ہو …….. ؟؟ شایان نے رک کر دعا سے پوچھا تو وہ شایان کی طرف دیکھنے لگی جیسے پوچھ رہی ہو کہ کیوں ……؟
تمہاری اس بہادری اور اعتماد کی وجہ تمہارے بابا ہیں. اگر ہمارے معاشرے کے سبھی باپ ایسے ہو جائیں تو کبھی کوئی لڑکی شادی کے بعد خودکشی نہ کرے، نہ جل کر مرے، نہ گھر سے بھاگے اور نہ ہی ساری زندگی ظلم سہتے گزارے.
ہم بلاوجہ کچھ باتوں کو اپنی انا اور غیرت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں جبکہ وہ باتیں سمجھداری سے حل کرنے والی ہوتیں ہیں.
طلاق یافتہ بچی بلکل سہی سلامت گھر واپس آ جائے تو اللہ کا شکر ادا کریں بجائے اس کے کہ وہ قبرستان چلی جائے. شایان کی سوچ دعا کو بیک وقت خوشی اور حیرت سے ہمکنار کر گئی.
تم بہت اچھی ہو ویسے تو برا میں بھی نہیں ہوں مگر _
شایان کے سنجیدہ تاثرات بدلنے لگے تھے.
مگر کیا ……؟ دعا نے بےصبری سے پوچھا
اچھی، پیاری اور فرمانبرداری بیوی میں فرق ہوتا ہے. شایان کی وضاحت پر دعا نے دلفریب مسکراہٹ ساتھ اسے دیکھا
چلیں سوچتے ہیں ایسی بیوی بننے کے بارے میں، اب یہ اتنا مشکل بھی نہیں ہے. اچھی، پیاری تو میں بچپن سے ہوں بس فرمانبرداری زرا مشکل کام ہے. دعا نے اپنے بالوں کی پونی بناتے ہوئے جواب دیا تو شایان اس کے جواب پر حیرت سے ششد رہ گیا. اسے دعاسے ایسی کوئی امید نہ تھی.
🔖🔖🔖🔖
جاری ہے.