No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
جی بیٹا آپ نے کون سی ضروری بات کرنا تھی ……؟ ؟ فاروق صاحب نے شایان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
میرے خیال سے آپ کی بیٹی پر کسی “ہوائی چیز” کا سایہ ہے. اس کا یہاں علاج ممکن نہیں شایان نے بہت سوچتے ہوئے ناپ تول کے جملہ ادا کیا. مگر کیوں …..؟؟ ؟ فاروق صاحب کو شایان کے جملے نے شدید پریشانی میں مبتلا کردیا تھا. میرے پاس اتنا علم اور تجربہ نہیں جتنا ابا کے پاس ہے. میرے خیال میں آپ کی بیٹی کو درگاہ پر حاضری بھی دینی چاہیے اور اسے ابا سے دم کرانا چاہیے.تو یہ ٹھیک ہو جائے گی. ابا بہت مصروف ہوتے ہیں وہ تو کہیں نہیں آتے جاتے. دوسرا آپ کا شہر دور بھی بہت ہے. پھر آپ لوگوں میں محبت نام کی چیز بھی نہیں. معزرت چاہتا ہوں زیادہ سچ بول دیا. شایان نے فاروق صاحب کے تاثرات نوٹ کرتے ہوئےفوراً معزرت کی. یہ بات مجھے تو سمجھ آ رہی ہے مگر باقی گھر والوں کو کون سمجھائے گا. فاروق صاحب نے اپنی عینک اتار کر میز پر رکھی. بیٹی آپ کی ہے توفکر بھی صرف آپ کو ہی ہونی چاہیے باقیوں کی فکر کرنا
بےوقوفی ہے.
یا آپ بیٹی کا علاج کرا لیں یا باقیوں کی فکر کر لیں _ مگر مجھے ہر صورت صبح واپس جانا ہے. میں یہاں رہ نہیں سکتا. شایان کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا. پتہ نہیں وہ مانے گی بھی کہ نہیں …… ؟؟ فاروق صاحب نے خود سے سرگوشی کی اس کی آپ فکر نہ کریں. بس جا کر اسے بتا دیں کہ ہم صبح ملتان جا رہے ہیں. وہ کچھ نہیں کہے گی چپ چاپ تیار ہو جائے گی. شایان کہتا ہوا دروازے سے نکلا مگر پھر دروازے ساتھ لگی رخسانہ اور عذرا بیگم کو دیکھ کر رک گیا. آپ دونوں میری ماں کے برابر ہیں. کیا آپ کو یہ سب زیب دیتا ہے ……. ؟؟ اگر باتیں سننی تھیں تو اندر آ جاتیں. میں چوری چھپے بات نہیں کرتا. آپ کے سامنے بھی وہی کہتا جو اب کہا ہے. شایان افسوس سے سر ہلاتا چل دیا. بھائی صاحب مجھے تو اس لڑکے کی نیت پر پہلے دن سے ہی شک تھا. دیکھا وہ کس طرح بہلا پھسلا کر دعا کو ملتان لے جانا چاہ رہا ہے. آپ بھی اخبار پڑھتے ہیں یہ درباروں، زیارتوں پر عورتوں خاص طور پر لڑکیوں ساتھ جو سلوک ہوتا ہے. واقف ہیں. یہ بڈھے پیر چھوٹی لڑکیوں کے ریپ میں عذرا بیگم ابھی اپنی زبان کا زہر نکال ہی رہیں تھیں کہ فاروق صاحب کی دھاڑ پر رکیں.
بس بس کر دو عذرا اول تو وہ ایسے پیر نہیں. دوسرا دعا سے ان کا خونی رستہ بھی ہے. پھر نائلہ ادھر دعا کا خیال رکھے گی اور مجھے یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں کہ وہ تم دونوں سے زیادہ میری دعا سے محبت کرتی ہے. فاروق صاحب کی بات پر عذرا اور رخسانہ بیگم منہ بنا کر رہ گئیں. اچھا تو اب آپ اپنی جوان بیٹی کو اس ساتھ ملتان بھیجیں گے. وہ دونوں تو مجھے شکل سے ہی بدمعاش لگتے ہیں. ٹرینوں میں بھی کیا کچھ نہیں ہوتا….؟ اب کی بار رخسانہ بیگم نے عذرا بیگم کے دل کی بات کہی تم دونوں کیا چاہتی ہو…… ؟ فاروق صاحب نے دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے سوال کیا. بھائی صاحب دعا ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے. آپ اس ساتھ زرا سختی سے پیش آئیں وہ ٹھیک ہو جائے گی. اسے کہیں کہ گھر کا کام کرے. کھانا بنانا، صفائی کرنا، برتن کپڑے دھونا وغیرہ اپنے کمرے سے نکلے گی تو ٹھیک ہوجائے گی. رہی بات اس کے رشتہ کی تو بہت معزرت مگر اب کوئی لڑکا تو اسے بیاہنے سے رہا.
ہمیں حقیقت مان لینی چاہیے. پہلی بار تو چلو جو بھی تھا رخصتی نہیں ہوئی تھی. مگر عرفان ساتھ تو اس نے پورا مہینا گزارا ہے. کون اسے کنواری مانے گا …….. ؟؟
اس لیے کوئی دوسری شادی والا یا رنڈوا دیکھتے ہیں. آپ اجازت دیں تو میں کوشش کرتی ہوں.
ویسے عرفان جیسا خوبصورت، امیر اور خاندانی رکھ رکھاؤ والا فرمانبردار داماد قسمت والوں کو ہی ملتا ہے.
میں نے آپ کو کتنا روکا تھا مگر آپ نے صرف دعا کی سنی. جبکہ وہ جھوٹ بول رہی تھی. آج اگر وہ عرفان ساتھ ہوتی تو اس کے آنگن میں پھول کھل چکا ہوتا.
عذرا بیگم پھر فاروق صاحب کی برین واشنگ میں مصروف تھی.
اس کی گود میں کبھی پھول نہیں کھلتا. اسی بات کا تو مسئلہ تھا. فاروق صاحب عرفان کے نام سے دکھی ہوئے کیوں کہ وہ بلاشبہ ایک فرمانبردار داماد تھا.
دعا نے آپ سےجھوٹ بولا تھا. عرفان کو لڑکیوں کی کیا کمی پچھلے سال اس نے شادی کی تھی اور ابھی چند دن پہلے اس کا بیٹا ہوا ہے. سارے علاقے میں اس نے مٹھائی تقسیم کی ہے. رخسانہ بیگم نے بھی چسکا لیا.
یہ ناممکن ہے فاروق صاحب نے بے یقینی سے انھیں دیکھا
یہ سب سچ ہے بھائی صاحب مگر آپ کیوں یقین کرنے لگے آپ کی آنکھوں پر تو دعا نے اپنے جھوٹ کی پٹی باندھ رکھی ہے. عذرا بیگم کی بات پر فاروق صاحب خاموش ہو گئے.
بھائی صاحب ہم نے آپ کو پہلے بھی سمجھایا تھا اب دوبارہ کہہ رہے ہیں. دعا ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے.
بس وہ کسی لڑکے کو پسند کرتی ہے اور اس کے پیچھے یہ سب کر رہی. آپ اس سے پوچھیں کہ “وہ” کون ہے ….. ؟؟؟ عذرا بیگم کی بات پر رخسانہ بیگم نے سر ہلایا.
جو اسے پسند ہے اس ساتھ نکاح کر دیں یہ بلکل ٹھیک ہو جائے گی اسے کہیں بھیجنے کی ضرورت نہیں.
اگر وہاں کوئی “گل” کھل گیا تو کون ذمہ دار ہو گا …… ؟؟ بات کڑوی ہے مگر سچی ہے. رخسانہ بیگم نے فاروق صاحب کو نرم پڑتا دیکھ کر ایک اور وار کیا.
میں خود ساتھ جاؤں گا. فاروق صاحب نے دلیل دی.
جو لڑکا آپ کے گھر میں، آپ کے سامنے، آپ کی بیٹی کے کمرے میں گھس سکتا ہے وہ اپنی حویلی میں کیا کچھ کر سکتا ہے. سوچ لیں ……؟ ؟؟
آپ خود بدنامی کو گلے لگانا چاہتے ہیں. تو ہم کیا کریں …..؟؟ ؟
کل ہم سے گلہ مت کرنا. آپ تو اپنی بیٹی کی محبت میں اندھے ہو چکے ہیں. جو دل چاہتا ہے کریں. ہمارا کام تھا اپنا فرض ادا کرنا وہ ہم نے کر دیا ہے. چلو رخسانہ عذرا بیگم کہتیں ہوئے جانے کے لیے کھڑی ہوئیں اور رخسانہ بیگم کو بھی اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا.
فاروق صاحب نے گردن جھکا لی. مطلب وہ اب مزید ان کی باتیں سننے کے موڈ میں نہیں تھے. جس پر وہ پیر پٹختیں باہر نکل گئیں
🔖🔖🔖🔖🔖
دیکھو کسی کو کچھ معلوم نہیں ہو گا. ہم کسی سے ذکر ہی نہیں کریں گے. میرا دوست یہاں کسی کو نہیں جانتا بس اس نے تمہیں شادی پر دیکھا تو تمہارا دیوانہ ہوگیا.
وہ تم سے دوستی کرنا چاہتا ہے. بس تم دونوں کچھ دن ایک ساتھ گزار لو.
ویسے بھی میرے ساتھ تو تم “ہنی مون” منا نہیں سکتی. تو اس طرح تمہارا یہ شوق بھی پورا ہو جائےگا.
اور یوں مجھے بار بار تنگ نہ کیا کرو. دیکھو خامخواہ اتنی مار کھا لی. عرفان نے دعا کی گال پر اپنا انگوٹھا رگڑا جہاں اسی کے ہاتھ کا نشان تھا.
آپ سمجھتے کیوں نہیں یہ “گناہ” ہے. ہزار دفعہ کہی ہوئی بات دعا نے دوبارہ دہرائی
چلو ٹھیک ہے میں نے مان لیا کہ گناہ ہے پھر …..؟؟ عرفان نے دعا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا
پھر سے کیا مطلب ……؟ ؟؟ دعا اپنی مار کو بھول کر حیرت سے اسے دیکھنے لگی
دیکھو میری جان، اگر تم یہ گناہ کر لو گی تو کوئی قیامت نہیں آئے. تم اللہ سے معافی مانگ لینا وہ تمہیں معاف کر دے گا. بلکہ ایسا کرتے ہیں کہ جیسے ہی تم مجھے خوشخبری سناؤ گی ہم معافی مانگنے اللہ کے گھر چلے جائیں گے.
تمہیں عمرے کرنے کا شوق ہے نااااااا عرفان نے دعا کے تاثرات نرم پڑتے دیکھ کر پوچھا
ہاں ہے بہت زیادہ ہے دعا نے فوراً جواب دیا.
چلو پھر میرا وعدہ رہا کب تم میرے دوست ساتھ کچھ وقت گزار کر واپس آؤ گی میں تمہیں عمرے پر لے جاؤ گا. ویسے بھی میں اب تمہارے ساتھ صرف عمرہ ہی کر سکتا ہوں کچھ اور نہیں عرفان نے خباثت سے قہقہ لگاتے ہوئے دعا کو آنکھ ماری.
یعنی آپ کا دل سیاہ ہو چکا ہے. میں سب کو بتادوں گی کہ آپ اندر سے کیسے انسان ہیں …… ؟؟ دعا نے عرفان کے حصار سے نکلتے ہوئے کہا
میری بھولی بھالی دلہن تم دوسروں کو چھوڑو اگر تمہارے اپنے گھر والے تمہاری بات پر ایمان لے آئیں تو میں مان جاؤں گا. عرفان بیڈ ساتھ ٹیک لگائے اسے چیلنج کر رہا تھا.
میرے بابا ضرور مجھے سمجھیں گے دعا نے نم آواز میں کہا
ہاہاہاہہاہاہا بابا تو میری مٹھی ہیں. ہر وقت میری تعریفیں کرتے رہتےہیں. کہ مجھ جیسا داماد ملنا ان کی خوش نصیبی ہے. عرفان نے فاروق صاحب کی نقل اتاری
وہ یقین کریں گے دعا نے چیخ کر کہا
ٹھیک ہے تم اپنی سی کوشش کر لو. مگر جیت میری ہی ہو گی کیونکہ میرے اخلاق اور پرسنیلٹی کے سحر میں تمہارا گھر والے بری طرح جکڑے ہوئے ہیں. عرفان کہہ کر بیڈ سے نیچے اترا اور دعا کے مقابل کھڑا ہو گیا.
اگر تم پیار سے میری بات مانو گی تو بدلے میں میں تمہاری سارے خواہشات جن میں عمرہ، زیارتوں پر جانا، یورپ کا ٹرپ، نت نئے ڈیزائن کے کپڑ زیورات اور پر آسائش زندگی شامل ہے. بخوشی پوری کروں گا.
تمہیں سر آنکھوں پر بیٹھاؤں گا کیونکہ تم مجھے اتنی بڑی جاگیر کا وارث دو گی.
لیکن اگر تم نے میری بات نہ مانی یا کسی کو اس بارے میں بتانے کی کوشش کی تو میں زبردستی تمہیں اپنے دوست کے آگے ڈالوں گا ہے. ساتھ میں ساری زندگی کی زلت رسوائی تمہارا مقدر کر دوں گا.
اپنے دوست اور تمہاری ان خاص لمحات کی تصویریں میں تمہارے بابا کو سینڈ کر دوں گا اور تم اپنے میکے کے قابل بھی نہیں رہو گی. جن پر اکڑ رہی ہو.
کیا سمجھی …… ؟؟؟ عرفان کی باتوں سے دعا کے جسم میں سنسنی سی دوڑنے لگی
سوچو اچھی طرح سوچ لو ابھی وقت ہے. میری پیاری بیوی عرفان پیار سے اس کا گال مس کرتا کمرے سے باہر نکل گیا.
دعا چپ چاپ ٹیرس پر گرتی بارش کو دیکھ کر ماضی کی تلخ یادوں کو سوچ رہی تھی.
اگر میں اس کی بات مان لیتی تو اچھا ہی تھا. اک گناہ ہی تھا اپنے رب سے معافی مانگ لیتی وہ تو “الرحمن الرحیم” ہے معاف کر دیتا مگر اس کے بندے کہتی ہوئی ہچکیوں سے رونے لگی.
ایک گناہ نہیں یہ ایک گناہ نہیں تھا. میں بہت گنہگار ہوں مگر پھر بھی مجھ سے یہ ایک گناہ نہیں ہوا. دعا گھنٹوں میں سر دیے خود ہی مجرم، منصف بنی ہوئی تھی.
🔖🔖🔖🔖🔖
سنیں کیا آپ لوگ سچ مچ صبح جا رہے ہیں…… ؟؟؟ عنایہ نے سرمد کو لاؤنچ سے گزرتے ہوئے پکارا
لوگ یا تو پتہ نہیں البتہ میں جا رہا ہوں. سرمد نے عنایہ کو دیکھتے ہوئے شرارت سے جواب دیا.
مجھے آپ کا نمبر چاہیے کیا آپ دے دیں گے ……. ؟؟؟
میں نے ایک ضروری بات کرنی ہے. عنایہ نے کہتے ہوئے پیچھے دیکھا کہیں پھپھو یا ماما تو نہیں دیکھ رہیں.
میرا نمبر مجھ سے بات آپ ہوش میں تو ہیں یا آپ کو بھی اپنی کزن کی طرح دورہ پڑتا ہے. سرمد نے مشکوک نظروں سے عنایہ کو سر سے پاؤں تک دیکھا جی میں بلکل ٹھیک ہوں اور پورے ہوش میں آپ کا نمبر مانگ رہی ہوں. عنایہ نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا جس پر سرمد کی مسکراہٹ گہری ہوئی اور اس نے جیب سے ایک کارڈ نکال کر عنایہ کو دیا. شکریہ عنایہ جلدی سے کہتی واپس ہلٹی
آپ اپنا نام تو بتا دیں ……. ؟؟ سرمد نے پیچھے سے آواز دی.
میں کال کروں گی تو سب بتا دوں گی. عنایہ کہتی اپنے پوشن میں گم ہو گئی.
سب کچھ لفظ تو خطرناک ہے. چل یاررر سرمد لگتا پے تیری بے رنگ زندگی میں ہیروئین نے انٹری مار دی ہے
چلو کچھ تو فائدہ ہوا اتنا لمبا سفر کرنے کا سرمد مسکراتا ہوا آگے بڑھ گیا.
🔖🔖🔖🔖🔖
جاری ہے
