No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
کیا بات ہے تم کچھ پریشان لگ رہے ہو ……. ؟؟ نائلہ نے شایان کو لان میں بیٹھا دیکھ کر پوچھا
نہیں کچھ خاص نہیں _ شایان نے کہتے ہوئے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا چلو عام ہی بتا دو نائلہ مسکراتی ہوئی اس کے پاس پر بیٹھ گئی. دعا کی دوسری شادی کس وجہ سے ختم ہوئی تھی ………. ؟؟ شایان کے سوال پر نائلہ نے اسے گھور کر دیکھا جب دعا نے بتا دیا ہے تو مجھ سے تصدیق کیوں کر رہے ہو. تمہیں اپنی بیوی پر اعتماد ہونا چاہیے. نائلہ کے جواب پر شایان مسکرایا وہ میری “بیوی” نہیں بلکہ ایک “مریضہ” ہے. شایان کی تصحیح پر نائلہ نے منھ بنایا آپ بات کو بدل رہی ہیں. بتائیں ناااااا اس کی شادی کیوں ختم ہوئی تھی …….. ؟؟ شایان نے پھر اپنا سوال دہرایا
بقول دعا اور کچھ حد تک تمہارے بھی کہ تم دونوں کے درمیان سب کچھ نارمل ہے تو تم اسی سے پوچھ لو. نائلہ نے ناراضگی کا اظہار کیا
کیوں کہ ہم ایک نارمل کپل نہیں ہے تو ہمارے درمیان بھی کچھ نارمل نہیں. آپ بتا دیں اِس میں اُس کی ہی بہتری ہے. مجھے اس کا علاج کرنے میں کافی آسانی رہے گی ورنہ شایان نے کندھے اچکائے
تم اس بارے میں اس سے بات کرو پھر دیکھو کہ وہ کیا کہتی ہے ……… ؟؟ نائلہ کے جواب پر شایان خاموشی سے انھیں دیکھنے لگا
ایسے کیا دیکھ رہے ہو ……. ؟؟ نائلہ نے آبرو اچکائے
دیکھ رہا ہوں کہ اچھی خاصی میری خالہ ہوا کرتی تھیں. شایان نے “تھیں” پر زوردیا.
بدتمیز “تھیں” نہیں ” ہوں”. نائلہ نے اسے ایک تھپڑ رسید کیا
ہیں کہاں تھیں. میری خالہ مجھے ہر سوال کا سیدھا سیدھا جواب دیتی تھیں یوں گھما پھرا کر نہیں. شایان کے جواب پر نائلہ ہنس پڑی.
میں کل واپس اپنے گھر جا رہی ہوں. تم دعا کا بہت خیال رکھنا. مجھے امید ہے کہ تم دونوں کے درمیان جلد ہی سب کچھ نارمل ہو جائے گا. دعا بہت اچھی لڑکی ہے. نائلہ نے شایان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے تسلی دی جب کہ وہ سامنے لگے درختوں کی قطار کو دیکھ رہا تھا.
وہ بہت اچھی لڑکی ہے اور میں ایک بدمعاش لڑکا اس کا خیال تو میں رکھ لوں گا اور میرا کون رکھے گا کبھی یہ خیال آیا آپ کو ……….. ؟؟شایان نے گلہ کیا تم بالکل ٹھیک ٹھاک ہو اپنا خیال خود رکھ سکتے ہو. تمہیں بھلا کسی کی ضرورت کیوں ہوگئی. نائلہ کے سوال پر وہ ہنستا ہوا کھڑا ہو گیا. میں تو بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں مگر وہ آپ کی بھانجی جس کے ساتھ مجھے دن رات رہنا ہے وہ بالکل ٹھیک ٹھاک نہیں. لہذا میرا خیال رکھنے والا بھی تو کوئی ہونا چاہیے. شایان نے دونوں ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالتے ہوئے پوچھا اچھا اگر تمہیں “خیال رکھنے والا چاہیے” تو میں سرمد کو کہہ دیتی ہوں کہ تمہارا خاص خیال رکھے. نائلہ نے شرارت بھرے لہجے میں جواب دیا او خدا کا واسطہ ہے اسے کچھ مت کہنا. شایان نے نائلہ کے آگے اپنے ہاتھ جوڑ دیے. اتنا اچھا تو ہے ن. نائلہ نے شایان کے ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے کہا ہاں وہ بہت اچھا ہے. دعا بہت اچھی ہے. بس اک میں ہی برا ہوں. باقی تو سب جنت سے آئے ہیں. شایان کی مصنوعی ناراضگی پر نائلہ ہنس دی. 🔖🔖🔖🔖🔖 جب انسان کو کسی چیز کی عادت ہو جائے تو وہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتا. میرے ساتھ بھی شاید ایسا ہی ہو رہا ہے. مجھے دن رات سرمد ساتھ بات چیت کرنے کی عادت ہوگئی ہے. اب اس کا نمبر بلاک کرنے کے بعد مجھے یہ موبائل بھی بیکار لگنے لگا ہے. جیسے اس کا کوئی مقصد ہی نہ رہا ہو. ابھی بھی وہ موبائل ہاتھ میں تھا مے بیٹھی تھی. پچھلے ایک ہفتے میں کئی بار وہ اس کا نمبر ڈلیٹ، بلاک اور دوبارہ سیو کر چکی تھی اور غیر شعوری طور پر وہ مسلسل اس کے بارے میں سوچ رہی تھی. ارے تم یہاں بیٹھی ہو. کچھ پتہ بھی ہے تمہاری اس لاڈلی اور بھولی بھالی کزن نے کیا گل کھلا ہے …….. ؟؟ رخسانہ بیگم نے ٹیرس پر گم صم سی بیٹھی عنایہ کو اپنے طور پر اطلاع دینا مناسب سمجھا ماما پلیز بس کریں مجھے کسی کے بارے میں کچھ نہیں سننا اور رہی بات معصومیت کی تو وہ ہے ہی معصوم آپ مانیں یا نہ مانیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے. عنایہ نے نرم لہجے میں اپنا دبا دبا سا غصہ ظاہر کیا بھائی صاحب اسے وہاں ہی چھوڑ آئے ہیں وہ بھی ہمیشہ کے لیے رخسانہ بیگم عنایہ کے پاس بیٹھے ہوئے بتانے لگی
چچا واپس آ گئے ہیں مگر کب ……….؟؟ عنایہ نے حیرت سے پوچھا
لو بھی تمہیں کیسے پتہ چلے گا …….. ؟؟
آج کل دن رات تم اپنے کمرے میں ہی رہتی ہو. باہر نکلو تو پتہ چلے کون آ رہا ہے کون جا رہا ہے اور گھر میں کیا ہو رہا ہے ……… ؟؟؟ رخسانہ بیگم کے جواب پرانا یہ کچھ شرمندہ سی ہوئی
چلو اچھا ہے کچھ دن دعا کا ماحول بدلے گا تو یہ اس کی طبیعت پر اچھا اثر ثابت ہوگا. یہاں تو وہ اپنے کمرے سے ہی باہر نہیں نکلتی تھی. عنایہ کے جواب پر رخسانہ بیگم نے نفرت سے سر نفی میں ہلایا
کچھ دن نہیں اب وہاں ہمیشہ کے لئے چلی گئی ہے. بھائی صاحب اس کی شادی کر کے اسے وہاں ہی چھوڑ آئے ہیں. رخسانہ بیگم کی بات پر عنایہ کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا
یہ کیسے ممکن ہے ……… ؟؟ عنایہ نے بے یقینی سے پوچھا
ہمیں بھی یقین نہیں آرہا تھا مگر یہی سچ ہے. بھائی صاحب اسے وہاں ہی چھوڑ آئے ہیں. رخسانہ بیگم کے جواب پر عنایہ ایک دم خاموش ہو گئی.
پوچھو گی نہیں اس کی شادی کس ساتھ ہوئی ہے …….. ؟؟ رخسانہ بیگم نے عنایہ کو خاموش بیٹھا دیکھ کر کہا
جس سے بھی ہوئی ہے اللہ کرے وہ اسے خوش رکھے. میں تو اس کے لئے دل سے دعا ہی کر سکتی ہوں. آپ اور پھوپھو کو پتہ نہیں اس سے کیا مسئلہ ہے . …؟؟ بنایا نے ہلکا سا طنز کیا
بیٹا جی ماں پر طنز کرنے سے پہلے یہ سن لو کہ اس نے کس ساتھ شادی کی ہے …….. ؟؟ شاید پھر تمہاری آنکھوں پر بندھی معصومیت کی پٹی کھل جائے اور تم اس کا اصل روپ دیکھ سکو. رخسانہ بیگم نے مزے لیتے ہوئے دوبارہ کہا
لگتا ہے اس کی شادی کسی شہزادے سے ہو گئی ہے جو آپ سے برداشت نہیں ہو رہا. اللہ صبر کا پھل ضرور دیتا ہے اور وہ میٹھا بھی ہوتا ہے. عنایہ مسکرائی
وہ جو لڑکا یہاں آیا تھا یاد ہے. بڑا پیارا سا تھا اور تھوڑا بد تمیز بھی رخسانہ بیگم نے اپنے طور پر عنایہ کو شایان کا حلیہ بتایا جبکہ عنایہ کے ذہن میں آندھیاں چلنے لگیں.
ماما پلیز اب یہ مت کہنا کہ دعا کی شادی اس لڑکے سے ہوگئی ہے. عنایہ نے ماں کو روکنا چاہا اس کے دل کی دھڑکن بہت تیز ہو گئی تھی. وہ کچھ ایسا سننے کو تیار نہ تھی جو اس کی امیدیں توڑ دیتا.
یہی تو بتا رہی ہوں کہ اس معصوم نے اپنی اداؤں سے سب کو بیوقوف بناتے ہوئے اس خوبصورت امیرکبیر لڑکا سے شادی کر لی ہے. بھائی صاحب ان دونوں کا نکاح کرکے واپس آئے ہیں. اب بولو کہ تمہاری کزن معصوم ہیں. میں اور عذر خواہ مخواہ اس کے پیچھے پڑی رہتی ہیں. رخسانہ بیگم اور بھی بہت کچھ کہہ رہی تھی مگر عنایہ کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا اس کا دماغ یہ بات ماننے کو تیار نہ تھا کہ شایان کی شادی ہو گئی ہے وہ بھی اسی کی کزن سے، ناممکن عنایہ نے سر نفی میں ہلایا
عنایہ کو اس وقت دعا پر شدید غصہ آ رہا تھا. کچھ دیر پہلے کی ہمدردی ایک دم ختم ہوگئی تھی. چند لمحے وہ خاموش بیٹھی رہی پھر جب جذبات بڑھنے لگے تو وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گئی. جب کہ رخسانہ بیگم نے اُس کی اِس حرکت کو بہت غور سے دیکھا
نہیں ایسا نہیں ہو سکتا، میں اس بات کو نہیں مانتی وہ صرف میرا ہے. دعا اس سے کیسے شادی کر سکتی ہے. کبھی نہیں دعا تم میرے ساتھ ایسے کیسے کر سکتی ہو. کاش یہ جھوٹ ہو. عنایہ نے روتے ہوئے تکیہ منہ پر رکھا مگر منہ چھپانے سے غم نہیں چھپتے.
🔖🔖🔖🔖🔖
دعا اس وقت مزے سے ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی جب شایان کمرے میں داخل ہوا. جتنی حیرانگی شایان کو ہوئی اس سے کئی گناہ زیادہ دعا کو اس وقت اسے دیکھ کر ہوئی.
تم اس وقت اپنی حیرانگی پر قابو پاتے ہوئے دعا نے پوچھا تم نہیں آپ، دوسرا یہ میرا اپنا کمرہ ہے اور فی الحال یہاں کہیں بھی ایسا کچھ نہیں لکھا ہوا کہ میں اس وقت کمرے میں نہیں آ سکتا. شایان طنز کرتا خود بھی اس کے برابر بیٹھ گیا. عموماً تم رات کو ہی کمرے میں آتے ہو. اس لئے مجھے تھوڑی حیرت ہوئی. دعا نے جواب دیتے ہوئے ٹی وی بند کیا. اب اس کا یہاں بیٹھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا. اسے کھڑا ہوتا دیکھ کر شایان نے اسے بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا. کیا کوئی کام ہے ……. ؟؟ دعا نے کھڑے کھڑے پوچھا بیٹھ جاؤ مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے. شایان پچھلے دنوں کی نسبت آج دعا کو کافی سنجیدہ لگ رہا تھا لہذا وہ مزید بحث کیے بنا بیٹھ گئی. میری باتوں کا سچ سچ جواب دینا اگر کوئی ایک بات بھی بعد میں جھوٹی ثابت ہوئی تو میں تمہارا وہ حشر کروں گا کہ تم یاد رکھو گی. شایان کی حد سے زیادہ سنجیدگی اوپر سے دھمکی دعا کو اندر تک ہلا گی. پوچھو دعا نے اپنا اعتماد بحال رکھتے ہوئے شایان سے کہا
تمہاری دوسری شادی کس وجہ سے ناکام ہوئی تھی ……… ؟؟
مجھے اصل وجہ جاننی ہے وہ قصے کہانیاں نہیں جو تم دوسروں کو اب تک سناتی آئی ہو شایان کے منہ سے یہ سوال سنتے ہی دعا کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرا گیا. جس چیز کو وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی وہ اسی کے بارے میں پوچھ رہا تھا.
دعا نے اپنی نظریں جھکا تے ہوئے قریب پڑےکشن پر انگلیاں پھیرنا شروع کر دی. اس طرح وہ اپنے جذبات، غصے، دکھ، پریشانی سب کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی تھی.
بولو بھی، جواب دو کچھ پوچھا ہے. اب کی بار شایان نے اونچی آواز میں پوچھا
تم جان کر کیا کرو گے، تمہارا اس سب سے کیا لینا دینا ……… ؟؟ اپنے ڈر اور خوف پر قابو پاتے ہوئے دعا نے ہمت سے پوچھا
میں نہیں چاہتا کہ تم میرے سرہانے “تامل زبان” میں ساری زندگی بڑبڑاتی رہو اور میں اس کا مطلب اپنی سمجھ کے مطابق مطلب تلاش کرتا رہوں. نہ تو مجھے یہ زبان آتی ہے اور نہ ہی میں سیکھنے میں دلچسپی رکھتا ہوں. شایان طنز کر رہا تھا یا بتا رہا تھا دعا نے اس کی طرف دیکھنے کی غلطی نہیں کی.
نائلہ سے پوچھ لیں میں نے انہیں بتایا تھا. دعا نے نظریں چرائیں.
ان سے کیوں پوچھو تم بتاؤ میں تمہارا شوہر ہوں ان کا نہیں. شایان کی نظریں مسلسل دعا کو دیکھ رہیں تھیں.
میں نے انہیں بتا دیا تھا اور میں اپنی بات بار بار دہرانے کی عادی نہیں. دعا نے الجھے ہوئے انداز میں جواب دیا اور اٹھ کھڑی ہوئی اس سے پہلے کہ وہ وہاں سے جاتی شایان نے اس کا ہاتھ تھام لیا
جس طرح انہیں بتایا تھا بلکل ویسے ہی مجھے بھی بتا دو. میں تمہارے منہ سے سننا چاہتا ہوں. شایان نے اسے اپنے سامنے کھڑا کرتے ہوئے زور دیا.
دعا عجیب سی کشمکش میں مبتلا ہوگئی بتائے یا نہ بتائے _ بتائے تو کیسے بتائے. میرے بارے میں یہ سب جاننے کے بعد کیسے سوچے گا. یہ میرا یقین نہیں کرے گا …….. ؟؟ وہ میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے تھے. بالآخر دعا نے ہار مانتے ہوئے صرف اتنا کہا ارے واہ یہ تو کمال ہو گیا سابقہ شوہر کے لیے “نہیں کرتے تھے” اور جو حاضر سروس کے لیے “تم” دعا بی بی تم تو کمال کی چیز ہو …….. ؟؟ شایان ہنسا
وہ تمہارے ساتھ اچھا سلوک کیوں نہیں کرتے تھے …….. ؟؟ شایان نے دعا کی نقل اتارتے ہوئے پوچھا
” وہ اچھا سلوک نہیں کرتے تھے”. تم اس ساتھ بری طرح پیش آتی ہوگی جیسے میرے ساتھ آتی ہو. شایان نے دعا کو چپ دیکھ کر دوبارہ پوچھا
وہ مجھے غلط کام کرنے کا کہتے تھے. دعا کو اس سے مناسب الفاظ نہیں مل رہے تھے.
مثلاً شایان نے ابھی تک دعا کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا.
دعا نے ایک نظر اپنے ہاتھ پر شایان کی گرفت کو دیکھا اور آنکھیں زور سے بند کرتے ہوئے ساری بات ایک ہی سانس میں اسے بتا دی. جس پر شایان نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا
یہ کیسے ہو سکتا ہے ……. ؟؟ شایان کے لہجے میں کچھ ایسا ضرور تھا جسے محسوس کرنے کے لئے دعا نہ اس کی آنکھوں میں دیکھا
“وہ میرے درد کو سن کر فقط اداس ہوا
میں سوچتا ہی رہا اب گلے لگاۓ گا”
کوئی بھی شریف انسان اپنی بیوی کو ایسا کرنے پر کیسے مجبور کر سکتا ہے …….. ؟؟ جبکہ میں آپ کے سابق شوہر کو جانتا ہوں. شایان کا آخری جملہ دعا کے ہوش اڑانے کو کافی تھا.
وہ بہت اچھے انسان ہیں. لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے بہت کام کرتے ہیں. ہمارے پاس بھی ان کا کافی آنا جانا ہے. میں اس سارے خاندان کو ہی بہت اچھی طرح جانتا ہوں.
انہوں نے ایک بار کہا تھا کہ ان کی پہلی بیوی اچھی عورت نہیں تھی. تو مجھے مجبوراً اسے طلاق دینا پڑی. دوسری بیوی سے ان کا ایک بیٹا بھی ہے. شایان کی گرفت دعا کے ہاتھ پر اب ہلکج پڑھ چکی تھی جب کہ شایان کے الفاظ سے دعا کا دل چیر گئے تھے.
وہ جھوٹ بولتے ہیں. الزام لگاتے ہیں. وہ نا مرد تھے. میں نہیں مانتی کہ ان کا اپنا بیٹا ہے اچانک دعا نے چیخنا شروع کر دیا اور شاید شایان یہی چاہتا تھا.
ہو سکتا ہے کہ تم جھوٹی ہو. تم کسی کو پسند کرتی ہو اور پسند کی شادی نہ ہونے پر تم نے ایسا کیا ہو ……… ؟؟ شایان کی سوچ پر دعا کا دماغ گھوم گیا.
خبردار خبردار جو تم نے دوبارہ میرے بارے میں ایسا کچھ بھی کہا تو میں تمہیں جان سے مار دوں گی. دعا نے اِدھر اُدھر دیکھا مگر اسے کچھ خاص مارنے کے لیے نہیں ملا
سنو دعا بی بی میں اس بارے میں تحقیق کروں گا کیوں کہ تم پر مجھے اب شک ہوگیا ہے. میں نے ابھی ابھی ایک ڈاکٹر سے بات کی ہے اسے تمہارے تمام حالات اور بقول تمہارے ابا کے تمہاری بیماری کی علامتیں بتائی ہیں اور اس نے جواب میں پتہ ہے ڈاکٹر نے کیا کہا شایان نے دعا کو سختی سے پکڑتے ہوئے کہا
کیا ……. ؟؟ دعا کے منہ سے بےساختہ نکلا
یہی کہ وہ لڑکی ڈرامہ کر رہی ہے.وہ جھوٹ بولتی ہے. آج کل ایسے کیسز بڑھتے جا رہی ہیں لڑکیاں اپنی بات منوانے کے لئے ایسی حرکتیں کرتی ہیں. شایان نے دعا کو چھوڑا جس پر وہ اپنا بیلنس برقرار نہ رکھ سکی اور صوفے پر گر گئی.
تم سب مرد ایک جیسے ہوتے ہو. عورت کی سچی بات بھی الزام لگتی ہے اور مرد کا جھوٹ بھی تم لوگوں کو سچ اگر تمہاری اپنی کوئی بہن ہوتی تب میں پوچھتی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے تھے.
اچھا چلو میں تم پر آنکھیں بند کر کے ایمان لے آتا ہوں
مگر تمہیں میری ایک بات ماننا ہوگی. شایان اب قدرے نرم لہجے میں بات کر رہا تھا.
وہ کیا ہے …….. ؟؟ دعا نے نم آواز میں پوچھا
تمہیں میرے ساتھ ڈاکٹر پاس جانا ہوگا صرف ایک بار _ شایان کی بات پر دعا نے حمایت میں سر ہلا دیا. حالانکہ وہ کبھی اپنے بابا کے کہنے پر بھی ڈاکٹر پاس نہیں گئی تھی. اسے ڈاکٹر کے سوالوں سے الجھن ہوتی تھی. وہ پاگل نہیں تھی مگر یہ سچ تھا کہ کبھی کبھی پاگلوں والی حرکت ضرور کرنے لگ جاتی تھی. شایان اب کافی مطمئن اور پر سکون تھا. اس بے موبائل نکال کر کسی کو مءسج کیا اور پھروہ کمرے میں خوامخواہ ادھر ادھر چکر کاٹ کر کمرے سے باہر نکل گیا. وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکا تھا جس کی اسے خوشی تھی. 🔖🔖🔖🔖🔖 اپنی ہی دھن میں گنگناتے ہوئے وہ جیسے ہی سرمد کے کمرے میں داخل ہوا اسے پنکھے کو گھورتا ہوا پایا. جب ہم چھوٹے تھے بلکہ جب ہمارے بڑوں کے بڑے بھی چھوٹے تھے تب سے پنکھے کے تین ہی پر چلے آرہے ہیں اور وہ چھت ساتھ لٹکا ہی ہوتا ہے. تو اس پہ اتنا غرور نہ کر میں بتا دیتا ہوں. شایان کہتا ہوا اس کے قریب بڑی کرسی پر بیٹھ گیا. آپ نے بہت مزاحیہ بات کی ہے مگر میری طرف سے معذرت قبول کریں میں آپ کے اس قسم کے مذاق پر ہنس نہیں سکتا. سرمد کے طنز پر شایان خود ہی ہنسا کل تک تو تیرے منہ پر بارہ بج رہے تھے “میری نیند پوری نہیں ہو رہی” سرمد نے نقل اتاری اور اب نیند پورے ہوتے ہیں اپنی اصلیت میں واپس آ گیا ہے. سرمد کہتے ہوئے اُٹھ کر بیٹھ گیا. میری باتیں اور حرکتیں تو تجھے ایسے یاد رہتی ہیں جیسے میں تیری محبوبہ ہوں اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے …….. ؟؟ شایان نے کرسی پر جھولتے ہوئے پوچھا میں ایسے کام ہی نہیں کرتا. سرمد کہتا ہوا واش روم چلا گیا. کیا بنا آپ کی اس بلا کا ……… ؟؟ شایان نے اونچی آواز میں ہانک لگائی جبکہ سرمد بیسن پر چپ چاپ منہ دھوتا رہا. اس منہ کو “صابن” کی نہیں بلکہ بلیچ کی ضرورت ہے. میری مان تو کچھ دیر اسے “بلیچ” میں ڈبو کر دیکھ پھر کیسا رنگ نکلتا ہے ………. ؟؟ شایان کے مشورے پر سرمد نے سر ہلایا کم ازکم مجھے appreciate ہی کر دے کتنے گُر کی بات بتائی ہے. بیوٹی ٹپس وہ بھی بالکل مفت شایان کا موڈ ضرورت سے زیادہ ہی اچھا تھا جسے سرمد نے بھی محسوس کیا.
تُو اس وقت کہاں سے آ رہا ہے ………. ؟؟ سرمد نے تولیے سے منہ صاف کرتے ہوئے پوچھا
اپنے کمرے سے _ شایان نے پاؤں ہلاتے ہوئے مزے سے جواب دیا. کمرہ اپنا ہی تھا نااااااا …….. ؟؟ سرمد کی تصدیق پر شایان نے ٹیبل پر پڑا “ٹائم پیس” اٹھا کر اس کی طرف اچھالا جسے سرمد نے آسانی سے کیچ کر لیا بکواس نہیں جو پوچھا ہے وہ بتا اور یہاں سے گم ہو سرمد کی اس قدر بدتمیزی پر شایان نے اسے حیرت سے دیکھا
کیا کوئی آنے والا ہے ……… ؟؟ بہارو پھول برساؤ میرا محبوب آیا ہے. شایان کے گانے پر سرمد مزید چڑ گیا.
نہ کسی نے آنا ہے اور نہ ہی میں نے کہیں جانا ہے. بس آپ تشریف لے جائیں اس کمرے میں جہاں سے آپ آئے ہیں. سرمد کی بات پر شایان ہنستا ہوا اٹھ کھڑا ہوا.
معاملہ خطرناک حد تک سنجیدہ ہو چکا ہے. چل آ تیرے مسئلہ کا حل نکالتے ہیں. آ تو سہی _ سرمد کے لاکھ منع کرنے پر بھی بشایان اسے کمرے سے کھینچ کر باہر لے آیا. یہاں کیا ہے …….. ؟؟ باہر آ کر سرمد نے بیزاری سے پوچھا بارش _ شایان نے انتہائی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا
اچھا میں نے پہلی بار دیکھی ہے مجھے نہیں پتا تھا _ سرمد کے جواب پر شایان ایک بار پھر ہنس پڑا مجھے پنڈی جانا ہے وہ بھی تیرے ساتھ، صبح تک اپنی تیاری مکمل کر لینا _ شایان نے انتہائی سنجیدگی سے سرمد کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا اور اسے حیران پریشان چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا. یعنی وہ اس کے تمام معاملات سے باخبر تھا سرمد کو شدید شرمندگی ہوئی.
🔖🔖🔖🔖🔖
جاری ہو.
