Kis Maan Pe Tujko Azmaao By Amna Mehmood Readelle50145 Last Episode Pt.3
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Pt.3
آج حویلی اور اس کے اردگرد خاص طور پر مزار کے احاطے میں لوگوں کا بہت ہجوم تھا. سالانہ عرس کی تقریبات کے سلسلے میں آج رات چراغاں کا انتظام بھی کیا گیا تھا بہت خاص لوگوں کو حویلی کے مہمان خانے میں جگہ دی گئی تھی. کچھ کو ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا. سرمد کی ڈیوٹی سب کو لانے لے جانے کی تھی. سیکورٹی کا بندوبست بھی اسی کے ذمہ تھا.
حویلی کا صحن مقامی اور دوسری عورتوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا. سب ہی عقیدت سے دعا کا ہاتھ چوم رہی تھیں جبکہ دعا کو یہ سب بہت عجیب اور ڈرامائی سا لگ رہا تھا.
زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے. یہ یہاں کا رواج ہے کہ وہ جس سے عقیدت کا اظہار کرتے ہیں ملتے وقت اس کا ہاتھ چوم لیتے ہیں. تم اس حویلی کی بہو اس لیے تمہیں اس طرح مل رہیں ہیں کیونکہ تم ان کے لیے حاکم بھائی کی حیثیت سے قابل احترام ہو. نائلہ کی تسلی پر بھی دعا کا دل عجیب سا ہو رہا تھا وہ فلحال سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنے کمرے میں جانا چاہتی تھی اسے یہاں پر یوں لوگوں کے درمیان بیٹھنا عجیب سا لگ رہا تھا.
سرمد اور شایان نے آج ایک جیسے سفید کرتا شلوار کے اوپر سبز واسکٹ پہنی ہوئی تھی دونوں آپس میں ear piece کے ذریعے رابطے میں تھے. لنگر سے پہلے حاکم علی صاحب کا بیان تھا پھر لنگر تقسیم ہونا تھا رات میں چراغ اور قوالی کی محفل بھی تھی. خالص دیسی گھی کے بنے لڈو تحفے کے طور پر آنے والے تمام زائرین کو بلا تفریق دیے جانے تھے جو کہ یہاں کی ایک روایت تھی.
دعا کو سخت بے چینی ہو رہی تھی کہ وہ عرفان کا سامنا کیسے کرے گی وہ بھی شایان کے ساتھ _ اس نے دل میں سوچتے ہوئے اپنے ماتھے پہ ہاتھ پھیرا جہاں پسینے کی ننھی منی بوندیں چمک رہیں تھیں. نائلہ مجھے اپنی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی ہے میں اتنے ہجوم اور شور کی عادی نہیں لہذا میں اپنے کمرے میں کچھ دیر آرام کرنے جا رہی ہوں. دعا بہانہ بناتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف چل دی وہ اپنے ہی دھیان میں لوگوں کی بھیڑ کراس کر رہی تھی کہ ایک بچے سے ٹکرائی. او سوری دعا نے اس کی ماں ساتھ فوراً معذرت بھی جو اپنے بچے کو اٹھا رہی تھی مگر ایک چیز جس نے دعا کو چونکا وہ بچہ کی خوبصورتی تھی. بچہ بے حد خوبصورت سفید رنگت، نیلی آنکھوں والا گول مٹول سا تھا جبکہ اس کی ماں سادہ سی معمولی شکل و صورت والی درمیانی عمر کی لڑکی تھی.
آپ کا بچہ بہت پیارا ہے. دعا نے اس بچے کے گال کو چومتے ہوئے کہا جب کہ وہ لڑکی خاموش سے دعا کو دیکھنے لگی مگر بولی کچھ نہیں نہ ہی دعا کی تعریف پر اس نے شکریہ ادا کیا. دعا بچے کو پیار کرتے آگے بڑھ گئی مگر کچھ دور جا کر اس نے مڑ کر دیکھا تو وہ لڑکی ابھی تک اسے ہی دیکھ رہی تھی دعا نے حیرت سے اپنا سر نفی میں ہلایا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی
🔖🔖🔖🔖🔖
سب ٹھیک ہے کوئی مشکوک بات ہو تو فوراً شئیر کرنا اور دیکھو سکورٹی کا خاص خیال رکھنا. پولیس کی گاڑیاں ڈیوٹی پر ہیں یا نہیں مجھے دیکھ کر بتاؤ ……… ؟؟ شایان نے خاص مہمانوں کو ویلکم کرتے ہوئے سرمد سے پوچھا
فی الحال تو سب ٹھیک ٹھاک ہے. میں مانیٹرنگ کر رہا ہوں. باقی پنجاب پولیس تو آپ کو پتہ ہی ہے. لاڈلی محبوبہ ہے کوئی پتا نہیں کب کیا کرے یا بلاوجہ بگڑ جائے. سرمد ہنسا جس پر شایان خاموش ہو گیا.
آج کے دن اپنی یہ تھرڈ کلاس کامیڈی بند کر، میں معززین میں بیٹھا ہوں تیری سستی کامیڈی پر تجھے داد نہیں دے سکتا سمجھا _ شایان نے دانت پیستے ہوئے جواب دیا. آپ معززین میں نہ بھی بیٹھے ہوں تب بھی مجھے داد کب دیتے ہیں ……… ؟؟ وہ تو میں ہی ہوں جو اپنا ٹیلنٹ آپ کو فری میں دکھاتا رہتا ہوں. ہائے اس ملک میں ٹیلنٹ کی قدر نہیں سرمد نے سرد آہ بھری
کام پر فوکس کر بکواس پر نہیں، اور سن میں ذرا حویلی کا چکر لگا آؤں. شایان نے کہتے ہوئے گھڑی کی طرف دیکھا.
بھابھی کی تصویر موبائل میں نہیں ہے کیا …….. ؟؟؟ سرمد کے پوچھنے پر شایان کو غصہ تو بہت آیا مگر لوگوں کو اپنے اردگرد بیٹھا دیکھ کر خاموش ہو گیا.
میں حویلی انتظامات دیکھنے جا رہا ہوں رومنس کرنے نہیں _ شایان نے آہستگی سے جواب دیا ہاں یہ بتانے والی بات تو نہیں تھی پھر بھی آپ نے بتا دی خیر میں تو یہی مشورہ دوں گا کہ رات کو دوسروں کی جاسوسی کرنے کی بجائے اگر اپنی بیگم پر توجہ دو تو جلدی ترقی کرو گے ورنہ میرے بچے تمہیں چاچو چاچو کہتے پھریں گے. سرمد نے بےہنگم قہقہ لگایا تو شایان نے رابطہ منقطع کر دیا. سر وہ ایک کالے رنگ کا بیگ ہے جو خاصی دیر سے مزار کے پچھلے گیٹ پاس پڑا ہے. جیسے ہی سرمد نے کال بند ہوتے ہی پلٹ کر دیکھا تو ایک نوکر بھاگتا بھاگتا اس کے قریب آیا. پولیس کو بتایا ہے. کہاں ہے. دیکھنے میں کیسا لگتا ہے. کوئی بچہ تو نہیں ہے یا بم وغیرہ ……..؟؟ سرمد پوچھتے ہوئے اس کے ساتھ تیز تیز قدم اٹھا رہا تھا. اس کی چھٹی حس اسے کچھ غلط ہونے کا اشارہ کر رہی تھی. وہ ساتھ ساتھ شایان سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی کر رہا تھا مگر شایان تو رابطہ منقطع کر چکا تھا. شایان نے حویلی پہنچتے ہی سب سے پہلے نائلہ سے دعا کا پوچھا پھر فوراً اپنے کمرے کا رخ کیا کیونکہ وہ دعا سے عرفان کو جلد از جلد منوانا چاہتا تھا. وقت کم تھا اور اس کے ذمے کام بہت زیادہ تھے. اپنے کمرے کا دروازہ کھولتے ہی ہمیشہ کی طرح اندھیرے نے اس کا استقبال کیا. دعا کبھی تو لائٹ آن کر کے بیٹھا کرو. شایان نے بورڈ پر ہاتھ مارتے ہوئے لائٹ آن کی تو وہ سامنے ہی افسردہ سی بیٹھی تھی. چلو جلدی کرو مجھے تمہیں کسی سے ملوانا ہے. میرے پاس زیادہ وقت نہیں. ابا مجھے تلاش کر رہے ہوں گے. شایان نے دعا کی طرف قدم بڑھائے تو وہ صوفے سے اٹھ کر ٹیرس کی طرف جانے لگی دعا شایان کے پکارنے پر دعا نے شکایتی نظروں سے اسے دیکھا
چلو یاررررر پھر بعد میں مزید رش ہو جائے گا. میرے پاس بالکل بھی وقت نہیں ہے. ابھی بہت مشکل سے ادھر آیا ہوں. شایان نے دعا کی کلائی پکڑتے ہوئے بتایا
آپ کو ذرا بھی شرمندگی محسوس نہیں ہورہی یہ سب کرتے ہوئے …….. ؟؟ دعا نے شایان کے ساتھ زبردستی چلتے ہوئے پوچھا
میں ایک بے شرم انسان ہوں اور کچھ شایان نے اسی لہجے میں جواب دیا تو دعا نے خاموشی سے سر جھکا لیا. شایان اسے تقریبا گھسیٹتے ہوئے حویلی کے مہمان خانے کی طرف لے آیا. پھر ایک کمرے کے دروازہ پر رک کر اس نے دعا کا ہاتھ چھوڑ دیا. اب تم مجھے اندر جانے کا کہو گے ہے ناااااا دعا نے طنزاً کہا
ہاں بالکل _ شایان کی بات کسی بم کی طرح دعا کے سر پر پھٹی اور آنکھیں حیرت سے باہر نکل آئیں تم میں اور عرفان میں کیا فرق ہے میں سمجھ نہیں پا رہی …….. ؟؟ دعا نے شدید غصے میں کہا جس پر شایان نے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا اور دعا کو دھکا دینے والے انداز میں اندر دھکیلا تو دعا نے شایان کو اپنے سے دور کیا مگر جیسے ہی وہ پلٹی اندر کا منظر دیکھ کر پریشان ہو گی. ایک بندہ ویل چئیر پر بیٹھا تھا اس کے سسر اور بھنوؤں کے بال بالکل غائب تھے. چہرے پر شدید تکلیف کے آثار نمودار تھے اور اس کے پاس وہی نیلی آنکھوں والا بچہ اور وہ لڑکی کھڑی تھی. دعا نے اس فیملی کو سوالیہ نظروں سے دیکھا یہاں تو عرفان نہیں ہے کیونکہ عرفان ایک بے حد خوبصورت، پڑھا لکھا اور صفائی پسند انسان تھا دعا نے مڑتے ہوئے دل میں سوچا اور دروازے میں کھڑے شان کی طرف دیکھا جس پر شایان سامنے ہی دیکھتا رہا یہ کون ہیں …… ؟؟ دعا نے بلآخر شایان کو مخاطب کیا یہ عرفان صاحب ہیں مشہور سوشل ورکر مگر اس وقت یہ بہت بے بس اور محتاجی کی انتہا پر ہیں کیونکہ انہیں تمام چاہنے والے چھوڑ گئے ہیں
انہیں پیٹ کا کینسر ہے ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے. یہ خاص طور پر بابا سے دعا کروانے یہاں آئے ہیں تاکہ بابا ان کے حق میں دعا کریں اور ان کی موت ان پر آسان ہوجائے. یہ ان کی بیوی اور بیٹا ہے. شایان کی آدھی بات ہی دعا کے لیے کسی دھماکے سے کم نہ تھی اوپر سے اس کا یہ کہنا کہ “یہ اس کے بیوی اور بیٹا ہے.”
اب وہ سمجھ سکتی تھی کہ اس لڑکی کی آنکھوں میں اتنی ویرانی کیوں تھی اور وہ اپنے بچے کی تعریف پر خوش کیوں نہیں ہوئی تھی ……….. ؟؟
دعا نے دل میں اپنے رب کا شکر ادا کیا اور اپنے پہلو میں کھڑے “مرد* کی طرف دیکھا جو یقینا اس کے لئے خدا کا ایک تحفہ تھا. ورنہ آج وہ اس لڑکی کی جگہ پر کھڑی ہوتی. دعا کے دل میں اچانک اس لڑکی کے لیے ہمدردی کے جذبات ابھرے.
میری دلی خواہش ہے دعا کہ تم نے اس شخص کو معاف کردو تاکہ اس کی موت اس پر آسان ہو جائے. شایان کہتا ہوا عرفان کے قریب آیا اور اسے پکارنے لگا
عرفان صاحب دیکھیں کون آیا ہے ……. ؟؟ شایان کے کہنے پر عرفان نے نگاہ اٹھا کر دعا کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے پر کرب کے آثار میں اضافہ ہوا. بڑی مشکل سے اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں جوڑتے ہوئے دعا کی طرف کیے تو دعا کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ نکلے
مسٹر عرفان میں نے آپ کو معاف کیا میرا اللہ بھی آپ پر رحم کرے. باقی اصل مجرم تو آپ اس لڑکی کے ہیں ہو سکے تو اس سے معافی ضرور مانگے لیجئے گا. دعا نے کہتے ساتھ ہی اپنا رخ اس لڑکی کی طرف موڑ لیا جو بڑے غور سے دعا کو دیکھ رہی تھی یا شاید حسرت سے …..؟ ؟
میرے خیال سے ہر لڑکی میں اتنی ہمت تو ہونی چاہیے کہ وہ “اچھائی برائی” میں نہیں تو کم از کم “گناہ اور فرض” میں فرق سمجھ سکے. دعا کی بات کا مفہوم وہ لڑکی بخوبی سمجھ رہی تھی تب بھی سر جھکا گی جبکہ دعا وہاں رکی نہیں اور شایان کے پاس سے گزرتی ہوئی کمرے سے باہر نکل آئی. شایان عرفان کا کندھا تھپکتے ہوئے اسے تسلی دی اور خود بھی دعا کے پیچھے چل دیا مگر دعا کو دروازے کے باہر کھڑا روتا دیکھ کر پریشان ہوا.
مجھے معلوم ہے یہ سب دیکھ کے تمہیں بہت دکھ ہوا ہے مگر میں چاہتا تھا کہ تم یہ سب دیکھو تاکہ تمہیں پتہ چلے کہ اللہ اپنے بندوں پر کتنا مہربان ہے. وہ کسی کی تکلیف بھی نہیں جانے دیتا. جنہوں نے کل تمہیں تکلیف دی. آج وہ خود بھی کتنی اذیت میں ہے مگر پھر بھی تم رحمدل کرو شایان ابھی دعا سے بات کر رہا تھا کہ ایک دھماکے کی آواز اس کے کان میں پڑی.
شایان نے ایک نظر دعا کی طرف دیکھا اور سمجھانے کی کوشش کی کہ کیا ہوا ہے ……. ؟؟ پھر جیسے ہی اسے بات سمجھائی اس کے منہ سے صرف ایک لفظ نکلا “سرمد”
🔖🔖🔖🔖🔖🔖
سرمد جو ابھی اس جگہ سے کچھ فاصلے پر تھا ایک زور دار دھماکے کی وجہ سے دور جا گرا. مگر اس کی خوش قسمتی کے نا تو وہ کسی ایسی چیز سے ٹکرایا اور نہ کوئی چیز اس پر گری کے وہ شدید زخمی ہوتا. اسے سنبھلنے میں چند لمحے لگے مگر اپنے آس پاس افراتفری اور لوگوں کی بھگڈر دیکھ کر وہ پریشان ہوگیا.
اتنے زبردست انتظامات کے باوجود یہ سب کیسے اور کیوں ہو گیا. آخر غلطی کہاں رہ گئی ……. ؟؟ سرمد نے سوچتے ہوئے اپنے کپڑے جھاڑے اور اٹھ کھڑا ہوا جبکہ اسے خود بھی معمولی چوٹیں آئیں تھیں. سرمد نے اپنا جائزہ لیا صرف چند خراشیں تھیں. بے شک اللہ نے اسے محفوظ رکھا تھا.ہاں البتہ اس کا موبائل گرنے کی وجہ سے بند ہو گیا تھا اس لئے اب وہ شایان سے یا کسی سے بھی رابطہ نہیں کر سکتا.
ہر طرف ایک دم اتنا ہنگامہ اور شور مچ گیا تھا کہ وہ خود بھی کنفیوز ہو گیا کہ باہر کی طرف جانے والا راستہ کونسا اور کس طرف ہے …….. ؟؟ بالآخر اس نے اپنے چاروں طرف نظر دوڑاتے ہوئے سمت کا تعین کیا اور باہر کی طرف چل دیا
شایان مسلسل سرمد کو کال کر رہا تھا مگر اس کا نمبر بند جا رہا تھا.شایان دربار کے اندر جانے کی کوشش کر رہا تھا مگر اسے سیکورٹی اہلکار منع کر رہے تھے.
سر آپ اندر نہیں جا سکتے پہلے ہمیں صورت حال کو کنٹرول کر لینے دیں. سیکورٹی اہلکار اور پولیس مسلسل شایان کو روک رہی تھی. ایمبولینس اور میڈیا کے لوگ ایسے نکل آئے تھے جیسے برسات میں کیڑے نکلتے ہیں. ہر کوئی دھماکے کی وجہ جاننا چاہ رہا تھا.
مگر _ شایان نے بے بسی سے اندر موجود ہجوم کی طرف دیکھا. سائیں آپ ہمیں بس آدھا گھنٹہ دے دیں سب کلیئر ہو جائے گا ایمبولینس اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی تھی. زخمیوں کو فورا ہسپتال پہنچایا جا رہا تھا. ابھی تک کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں آئی تھی مگر سرمد کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا جس کی وجہ سے شایان بے چینی سے ادھر ٹہل رہا تھا کہ اس سے فون پر دعا کی کال آنے لگی سرمد بھائی ٹھیک ہیں. وہ عنایہ کی کال آئی تھی.دعا کے سوال پر شایان اردگرد لوگوں کے ہجوم کو دیکھنے لگا بولیں نااااا دعا نے پھر پکارا
کیا بولوں مجھے سرمد کا کچھ پتہ نہیں چل رہا شدید پریشانی ہو رہی ہے. وہ اندر تھا سیکورٹی کے انتظامات دیکھ رہا تھا پھر کب کیسے یہ سب ………. ؟؟ شایان نے گاڑی کے بونٹ پر زور سے ہاتھ مارا تبھی اس کے کان میں سرمد کی آواز پڑی جس پر وہ کرنٹ کھا کر مڑا. شایان فون بند کیے بغیر ہی اس طرح بھاگا تو سرمد کو ایک پولیس والے ساتھ کھڑا پایا
قسم سے تجھ جیسے انسان کے لیے میں اتنا بے چین ہوں گا اور تجھے دیکھ کر میں زندگی میں پہلی بار اتنا خوش ہوں گا کہ میرا دل کرے گا تجھے گلے لگا یہ میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا.شایان نے دکھ اور خوشی کے ملے جلے لہجے میں کہتے ہوئے سرمد کو گلے لگا لیا تو دعا نے بھی سکھ کا سانس لیا اور عنایہ جو کال کرنے لگی.
🔖🔖🔖🔖🔖🔖
علاقے میں سرچ آپریشن جاری تھا پولیس اور امدادی ٹیمیں اپنا کام کر رہی تھیں. ٹی وی والے خوب زور و شور سے خبریں دے رہے تھے. عنایہ کا دل بہت بے چین تھا رخسانہ بیگم مسلسل اسے تسلیاں دے رہی تھی.
ارے تم تو خوامخواہ پریشان ہو رہی ہو. دیکھنا ابھی دعا کا فون آئے گا اور وہ بتائے گی کہ سرمد بالکل ٹھیک ہے. آج پہلی بار عنایہ کو احساس ہو رہا تھا کہ سرمد اس کے لیے کتنا خاص ہے اور وہ اسے کتنا چاہنے لگی ہے …….. ؟؟
سرمد کے فون پر مسلسل جانے والوں کی کالزززز آرہی تھی. جو اس کی خیریت دریافت کر رہے تھے. ابھی بھی اس کے گھر سے کال آئی ہوئی تھی جو مسلسل ایک ہی بات دہرا رہے تھے کہ “تم بالکل ٹھیک ہو نا تم ٹھیک ہو نا جھوٹ تو نہیں بول رہے تم بالکل ٹھیک ہو نا”.
سرمد اب یہ گردان سن سن کر اور ایک ہی جواب دے دے کر تنگ آگیا تھا. بالآخر اس نے غصے سے فون بند کر دیا یہ کہتے ہوئے کہ میں بالکل ٹھیک ہوں آپ مجھے بار بار تنگ نہ کریں اور کام کرنے دیں.
اس سے اچھا تو میں مر ہی جاتا کم از کم یہ سب اتنا حیران تو نہ ہوتے میرے صحیح سلامت ہونے پر _ سرمد نے شایان کی طرف دیکھتے ہوئے گلہ کیا. جملہ درست کر لو “صحیح سلامت” نہیں بلکہ “زندہ سلامت” کیونکہ صحیح تو تم کبھی بھی نہیں تھے. شایان نے ارد گرد کا جائزہ لیتے ہوئے جواب دیا. کمینہ ہے تو بھی باقی لوگوں کی طرح سرمد نے شایان کو غصہ سے دیکھتے ہوئے کہا تبھی اس کا فون دوبارہ بجا
اگر میں غلطی سے اس بار زندہ بچ گیا ہوں تو پکا وعدہ اگلی بار لازمی مر جاؤں گا. یوں بار بار فون کر کے جان عذاب نہ کرو. سرمد نے غصے سے کال اٹینڈ کی.
تم صرف میرے ساتھ ہی ایسا کرتے ہو. میں ہی پاگل ہوں جو کب سے تمہارے لیے پریشان ہو رہی تھی. دفع ہو جاؤ میری طرف سے _ میں ابھی پولیس کو فون کر کے بتاتی ہوں کہ تم نے مزار کے احاطے میں وہ خطرناک مواد رکھا تھا. عنایہ نے کہتے ہوئے کال بند کر دی جبکہ سرمد کی شکل قابل دید تھی. اب کیا کروں ……؟ ؟ سرمد نے رونی صورت ساتھ اپنا موبائل شایان کے آگے کیا. اب تو مجھے واقعی ہی مر جانا چاہیے. سرمد اداس ہو کر ایک جگہ بیٹھ گیا. اچھا پریشان نہ ہو کرتے ہیں کچھ شایان نے تسلی دی
کیا خاک کرتے ہیں. وہ مجھ سے ناراض ہو جاتی ہے بلکہ میں اسے ناراض کر دیتا ہوں پتہ نہیں کیوں مگر جب بھی اس کی کال آتی ہے میں اندھا ہو جاتا ہوں. سرمد نے اپنی غلطی تسلیم کی.
اچھا ایسا کرتے ہیں کہ نکاح کی جگہ شادی رکھ لیتے ہیں کیسا …… ؟؟ شایان کے آئیڈیا پر سرمد نے اسے ایسے دیکھا جیسے اس کی ذہنی حالت پر شک ہو.
یہاں نکاح خطرے میں ہے اور شادی __ سرمد طنزاً ہنسا
میں نے تو تیرے بچوں کے نام بھی سوچ لیے ہیں. شایان نے سوچنے کی ایکٹنگ کرتے ہو کہا جس پر سرمد نے ہاتھ جوڑ لیے.
🔖🔖🔖🔖🔖
