Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

گاڑی میں اس وقت مکمل خاموشی کا راج تھا. شایان ڈرائیونگ کرتے ہوئے بار بار اپنے برابر بیٹھی ہوئی دعا کو دیکھ رہا تھا.
میرا نہیں خیال کہ ڈاکٹر نے کچھ ایسا کہا ہے کہ تمہاری بولتی بند ہوگئی ہے. شایان نے ہلکے سے مسکراتے ہوئے دعا پہ طنز کیا مگر دعا مسلسل گزرتے گھروں کو غور سے دیکھ رہی تھی.
ڈاکٹر کے خیال میں تم بالکل ٹھیک ہو اور میرا بھی تمہارے بارے میں یہی خیال تھا. شاید تمہیں معلوم نہیں مگر میں نے آکسفورڈ سے سیکالوجی میں ماسٹرز کیا ہوا ہے. شایان نے دعا کو فخر سے بتایا مگر دعا کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہ دیکھ کر اسے غصہ آنے لگا.
یہ تو دعا تھی اگر اس کی جگہ سرمد ہوتا تو اب تک وہ اسے گاڑی سے باہر پھینک چکا ہوتا. گاڑی میں پھر پہلے والی خاموشی چھا گئی. شایان نے اپنے غصے کو قابو کرنے کے لیے ڈیش بورڈ پر پڑی سگریٹ کی ڈبیا جیسے ہی اٹھانا چاہیے دعا نے اسے پکڑ کر گاڑی سے باہر پھینک دیا. دعا کے اس عمل پر شایان نے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی.
یہ حرکت آج تو کی ہے دوبارہ مت کرنا. شایان کا غصہ اس کے الفاظ اور آنکھوں کی لالی سے واضح ہو رہا تھا.
بس اتنی سی بات بھی برداشت نہیں ہو سکی اور کل جو مجھ پر الزام لگا رہے تھے اس کے بارے میں کیا خیال ہے …….. ؟؟ ہم عورتیں ہی ہیں جو تم جیسے مردوں کی بکواس برداشت کر لیتیں ہیں ورنہ ہماری جگہ تم ہو تو کوئی شادی بھی کامیاب نہ ہو. دعا دے فوراً جواب دیا.
تم لڑکیاں اب پہلے کی طرح معصوم اور بھولی بھالی نہیں رہیں.جن پر مرد ظلم کرتے تھے اور وہ چپ چاپ اپنا گھر بسانے کے لیے برداشت کر لیتی تھیں. تم لوگ اب بہت چالاک ہو گئی ہو.
ہم لڑکے شیشے کی طرح صاف ہوتے ہیں. جو بھی کام اچھا یا برا کرتے ہیں ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں. تمہاری طرح دل میں کوئی اور، دماغ میں کوئی اور، گاڑی کسی اور کی میں نہیں بیٹھے ہوتے. شایان نے دعا کو دیکھتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی.
آج تو یہ بکواس کرلی ہے مگر آئندہ مجھ سے اس طرح بات نہیں کرنا ورنہ میں تمہیں جان سے مار دوں گی. میرا شمار ان لڑکیوں میں نہیں ہوتا مجھے کوئی شوق نہیں چڑھا تھا تم سے شادی کرنے کا _ دعا نے چیختے ہوئے کہا مگر مجھے تو بہت شوق چڑھا تھا ایک پاگل لڑکی سے شادی کر کے اپنی زندگی برباد کرنے کا شایان مسلسل طنز کے تیر چلا رہا تھا.
کوشش کیا کرو کہ تم مجھ سے بات نہیں کرو تو بہتر ہے. مجھے تمہاری شکل کے ساتھ ساتھ آواز سے بھی نفرت ہوگئی ہے. دعا نے سبکی کے احساس سے باہر دیکھا
اچھا مگر میرے ساتھ تو معاملہ الٹ ہو گیا ہے. میں تم پر بری طرح عاشق ہو گیا ہوں. تمہارے بغیر مجھے کہیں چین نہیں آتا میں مر جاؤں گا اگر تم مجھے چھوڑ کر گئی تو شایان اسے چڑا رہا تھا جب کہ دعا کا غصے سے برا حال تھا. اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کیسے اپنا غصہ نکالے.
مجھے اپنے گھر واپس جانا ہے میں تم جیسے انسان ساتھ نہیں رہ سکتی. دعا کے بولنے سے شایان نے فوراً گاڑی ایک سائیڈ پر لگائی اور مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا
ہم دونوں کو ایک دوسرے سے سچی محبت ہو گئی ہے. تبھی تو ہماری سوچیں بھی ملنے لگی ہیں. اسے ہی سچے عاشق کی نشانی کہتے ہے. شایان نے آنکھ مارتے ہوئے پاکٹ سے ٹکٹ نکال کر دعا کے آگے کیے.
مجھے تم سے بھی زیادہ جلدی ہے تمہیں واپس بھیجنے کی، یہ دیکھو میں نے کل ہی ٹکٹ بک کروا لیے تھے. شایان نے ٹکٹ دعا کے آگے لہراتے ہوئے دوبارہ پاکٹ میں رکھ لئے جب کہ شایان کی اس حرکت پر دعا ایک دم گم صن ہو گی.
اگر میں اب واپس گی تو سب کو کیا وجہ بتاؤں گی ……… ؟؟ پھپھو ، تائی اور سب سے بڑھ کر ابا
دعا کو ایک دم رونا آنے لگا.
مجھے جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے. میں نے جلدی میں غلطی کردی ہے. یہ میں نے کیا کر دیا. میں تو صرف اسے تنگ کرنا چاہ رہی تھی کہ یہ مجھے خود چھوڑ دے مگر میں نے سوچا ہی نہیں کہ اس کے بعد میرا کیا ہوگا………. ؟؟ دعا کو اپنا آپ پاگل لگ رہا تھا.
کیا گاڑی میں ہی رات رہنے کا ارادہ ہے. مانا کہ تمہیں اپنے گھر واپس جانے کی بہت خوشی ہے مگر ٹکٹ صبح کے ہیں ابھی کے لئے باہر تشریف لے آؤ. دعا اپنے خیالوں میں اتنی گم تھی کہ اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب وہ گھر پہنچی. شایان کے دروازہ کھولنے پر وہ باہر نکلی اور چپ چاپ اپنے کمرے کی طرف چل پڑی جبکہ شایان کو ایک بار پھر دعا کی ذہنی حالت پر شک گزرا.
🔖🔖🔖🔖🔖
رخسانہ بھابھی یہ اپنی عنایہ ساتھ کیا مسئلہ ہے یہ کیوں اتنی گم صم رہنے لگی ہے. مجھے تو دال میں کچھ کالا لگ رہا ہے ……….. ؟؟ عذرا بیگم کی بات پہلی بار رخسانہ بیگم کو سخت بری لگی.
عذرا کچھ شرم کرو تمہاری بھتیجی ہے کیسی باتیں کر رہی ہو ………. ؟؟ رخسانہ بیگم نے ناگواری سے جواب دیا.
رخسانہ بھابی دیکھ لیں کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ آپ کی ناک کے نیچے کوئی گل کھلا دے اور آپ ہاتھ ملتی رہ جائیں. عذرا بیگم کو تو عادت تھی ایسا بولنے کی وہ دعا کو اکثر ایسا بولتی رہتی تھی. اس لیے ان کے لیے یہ گفتگو نارمل تھی. وہ یہ بھول گئی تھیں کہ دعا بن ماں کی بچی تھی جبکہ عنایہ کی ماں زندہ ہے.
عذرا بس کرو یہ عنایہ ہے دعا نہیں اور دوسرا اس کی ماں ابھی زندہ ہے دعا کی طرح یہ لاوارث نہیں. خبردار جو تم نے کوئی ایسی بات میری بیٹی کے بارے میں بولی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا. اب کی بار اس رخسانہ بیگم شدید برہم ہوئیں تو عذرا بیگم کو اپنی غلطی کا احساس ہوا.
اچھا اچھا ٹھیک ہے میں تو ویسے ہی کہہ رہی تھی کہ عنایہ اب پہلے کی طرح ہنستی بولتی نہیں ہے. میری مانو تو اس کی شادی کردو یہی تو عمر ہوتی ہے ورنہ لڑکیاں چڑچڑی ہوجاتی ہیں. عذرا بیگم نے ایک بار پھر وہی بات کی جو پچھلے دنوں سے وہ دہراتی آ رہی تھیں.
مجھے تو یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ آج کل تمھیں عنایہ کی شادی کا اتنا بھوت کیوں چڑھا ہوا ہے. کس سے کرو شادی یہ بھی بتا دو. تم نے کوئی لڑکا دیکھا ہے یا ہندوؤں کی طرح آنگن میں لگے پیڑ سے کر دوں. رخسانہ بیگم نے تقریباً لڑتے ہوئے جواب دیا.
اچھا رشتہ ملنا آج کل کے دور میں بہت مشکل ہے. پھر بھی میں نے ایک دو لوگوں سے بات کی ہے. آخر عنایہ میری لاڈلی بھتیجی ہے مجھے اس کی فکر نہیں ہوگی تو اور کس کو ہوگی عذرا بیگم نے رخسانہ بیگم کو غصے میں دیکھ کر فوراً پینترا بدلا ابھی دونوں نند بھاوج آپس میں رشتے کو لے کر تکرار کر رہی تھیں کہ عنایہ کو آتا دیکھ کر خاموش ہو گئیں.
آؤ میری پیاری بیٹی ادھر آؤ آج کل تو پھوپھو کو بھول ہی گئی ہو. مجھے تو تمہاری آواز بھی یاد نہیں رہی. اپنی شکل ہی دکھا دیا کرو. عذرا بیگم نے انتہائی لاڈ سے عنایہ کا ماتھا چومتے ہوئے اسے اپنے پاس بٹھا لیا.
پھپھو کیا کرو کرنے کو کچھ ہوتا ہی نہیں ہے تو سوتی رہتی ہوں. عنایہ نے شرمندگی سے بہانا بنایا
میرے پاس آ جایا کرو. تمہیں تو پتہ ہی ہے بھائی صاحب سارا دن باہر گزار دیتے ہیں اور دعا منحوس ماری جب سے گئی ہے میرا پوشن تو سنسان ہء ہو گیا ہے. میں تو کسی آدم زاد کی آواز کو بھی ترس گئی ہوں. عذرا بیگم نے جیسے ہی دعا کا ذکر کیا عنایہ کے چہرے پر کرب کے آثار نمودار ہونے لگے.
تھوڑی بھی پھوپھو آپ کیوں اپنا خون جلاتی ہیں. اچھا ہی ہوا کہ چلی گئی. یہاں رہتی تو اس نے ہمارے لیے پریشانی کا ہی باعث بننا تھا ہمیشہ کی طرح، اس کا ذکر مت کیا کریں.
یہ پہلی بار تھی کہ عنایہ نے دعا کے خلاف بات کرنے پر ان لوگوں کو کچھ نہیں کہا ورنہ وہ تو ان سے لڑتی تھی. عنایہ کے جواب پر دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا جیسے یقین کر رہی ہوں کہ جو سنا ہے وہ عنایہ نے ہی کہا ہے.
عذرا بیگم نے آنکھوں کے اشارے سے رخسانہ بیگم سے اس تبدیلی کی وجہ پوچھی جس پر انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا.
چلو شکر ہے تمہیں بھی احساس ہوا کہ وہ غلط تھی اور ہم ٹھیک. عنایہ اس نے تمہیں بے وقوف بنایا ہوا تھا. عذرا بیگم نے لارڈ سے عنایہ کے بال پیچھے کرتے ہوئے کہا
پھپھو میں سچ مچ بہت بیوقوف ہوں. مجھے تو کوئی بھی ایرا غیرا اٹھ کر بے وقوف بنا لیتا ہے. وہ تو پھر اپنی تھی. عنایہ کا لہجہ بھیگنے لگا تھا اس سے پہلے کہ وہ روتی اس نے عذرا بیگم کی گود میں سر رکھ کر آنکھیں موند لیں.
🔖🔖🔖🔖
دعا دوپہر سے شدید اضطراب میں تھی. جب سے وہ کمرے میں آئی تھی ایک پل بھی سکون سے نہیں بیٹھی تھی. کیا مجھے شایان کو منع کر دینا چاہیے یا اس سے معافی مانگی چاہیے. کچھ سمجھ نہیں آ رہی کیا کروں …….. ؟؟ دعا کی آنکھیں اور چہرہ اس کے دکھ کی گواہی دے رہا تھا.
شایان کمرے میں داخل ہوا تو آرام سے جوتے رینک میں اتارے پھر بستر پر آ کر نیم دراز ہو گیا. شاید وہ بہت تھک گیا تھا. دعا نے اس کی دیکھتے ہوئے سوچا
تم نے کھانا کیوں نہیں کھایا …….. ؟؟ مانا کہ تمہیں اپنے گھر جانے کی بہت خوشی ہے مگر بی بی وہاں جانے میں ہمیں دو دن لگ جائیں گے اس لئے مجبوری سمجھ کر ہی کچھ زہر مار کر لو. شایان نے اچانک اپنی بند آنکھوں سے ہی دعا کو مخاطب کیا.
مجھے بھوک نہیں ہے. دعا نے آہستہ آواز میں جواب دیا.
اچھااااااااااا ا شایان اچھا کو خوب لمبا کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا.
دعا تمہارے کتنے روپ ہیں ……… ؟؟ شایان اس کے مقابل کھڑا اس دکھی سی لڑکی کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا.
پتہ تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے ……. ؟؟ شایان کے پوچھنے پر دعا کو لگا اگر جواب دیا تو رو پڑے گی لہذا سر نفی میں ہلایا
تمہیں حکومت کرنے کی عادت ہے. تم کسی کے ماتحت نہیں رہ سکتی اور نہ ہی کسی کی برتری کو تسلیم کر سکتی ہو. جب تک کوئی تمہاری بات مانتا رہے تمہارے آگے جواب نہ دے تمہارا ہر حکم پر آنکھوں پر رکھے. تم بالکل ٹھیک رہتی ہو. جہاں اسے کوئی اعتراض ہوا. وہاں تم پاگل ہو جاتی ہو. اسے ڈاکٹری زبان میں “مینٹل ڈسآرڈر” بولتے ہیں یا حد سے زیادہ اپنی ذات سے عشق شایان نے دعا کا گرتا ڈوپٹہ اس کے کندھے پر درست کرتے ہوئے بتایا
میرے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے. میں بالکل نارمل ہوں. اپنی بیکار کی ڈگری مجھ پر ثابت کرنے کی ضرورت نہیں. دعا نے شایان اور اپنے درمیان موجود کم فاصلہ کو بڑھاتے ہوئے جواب دیا.
یہ فضول کی ڈگری کہتی ہے جب تک میں تمہاری بات مانتا ہوں تم بالکل نارمل رہتی ہو. نہ ہنگامہ کرتی ہو، نہ لڑتی ہو، نہ غصہ کرتی ہو اور نہ ہی کوئی فضول بات مگر جیسے ہی میں تمہاری کسی بات کو اگنور کرتا ہوں یا ماننے سے انکار کرتا ہوں تم چیخنے لگتی ہو. شایان نے اپنے سے دور ہوتی دعا کو کھینچ کر اپنے حصار میں لیا.
بد تمیزی مت کرو
دعا نے اپنا آپ اس سے چھڑانا چاہا.
کون کر رہا ہے …….. ؟؟ شایان کی گرفت ہنوز قائم تھی جس پر دعا کنفیوز ہو نے لگی. شایان کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل گیا.
🔖🔖🔖🔖🔖🔖
یہ اچانک بیٹھے بٹھاۓ تم دونوں کو راولپنڈی جانے کا دورہ کیوں پڑ گیا ہے ………… ؟؟ تم مجھے سچ سچ بتاؤ کیونکہ شایان سے مجھے کچھ امید نہیں ہے. حاکم علی نے سرمد سے پوچھا جس پر سرمد کو سرد پسینے آنے لگے.
میں کیا کہہ سکتا ہوں. مجھ سے اس کی ابھی تک اس بارے میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے. سرمد نے جھوٹ بولا مگر اس بار اس کا لہجہ اس کی بات کی ترجمانی نہیں کر رہا تھا.
سرمد میرے خیال میں تم مجھے بتانا نہیں چاہتے. خیر میں نے صرف اتنا کہنا تھا کہ جلد واپس آجانا اور ہاں اس چیز کی ذمہ داری تم پر ہے کہ وہ بہو کو وہاں چھوڑ کر مت آئے. حاکم علی کی بات پر سرمد نے سر ہاں میں ہلایا مگر خود بھی اندر تک ہل گیا.
میں تو سمجھا تھا کہ وہ شاید میرے لئے پنڈی جا رہا ہے مگر یہاں تو معاملہ کچھ اور نظر آرہا ہے. وہ دعا کو چھوڑنے جارہا ہے مطلب وہ اپنی شادی سے خوش نہیں ہے. سرمد اب الجھ گیا تھا کہ آخر شایان کے دماغ میں چل کیا رہا ہے کے اسی وقت موبائل پر شایان کی کال آنے لگی.
ہاں بولو کال اٹینڈ ہوتے ہی سرمد نے جلد بازی سے پوچھا
خیر ہے اتنی خوشی چڑھی ہوئی ہے. میری بیگم کی خوشی تو سمجھ میں آتی ہے مگر تیری _ شایان کی شرارت بھری آواز پر سرمد مسکرا دیا
میری خوشی، تمہیں کیا پتا میری خوشی کیا ہے اور کس میں ہے ……… ؟؟ سرمد نے کہتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا
تیری اور میری بیگم دونوں کی خوشی راولپنڈی میں ہے میں نے سوچ لیا ہے جس طرح تم دونوں پنڈی کی طرف بھاگتے ہو مجھے ریلوے والوں سے تعلقات اچھے کر لینے چاہیے. شایان بدستور مسکرا رہا تھا.
کام بول کام سرمد نے اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے پوچھا تاکہ شایان کو مزید اس بات سے روکے کیوں کہ وہ اس بارے میں بات نہیں کرنا چایتا تھا.
دو ٹوکری مٹھائی کی، ایک ٹوکری ڈرائے فروٹ کی، دو ٹوکری پھلوں کی، ایک سونے کا سیٹ، ایک عدد ہیرے کی انگوٹھی اور ایک بنارسی جوڑا
کل تک مجھے تیار ملنا چاہیے. شایان کے آرڈر پر سرمد ہکا بکا رہ گیا
تو ان سب چیزوں کا آخر کیا کرے گا ……. ؟؟ سرمد نے حیرت سے پوچھا
بھئی میری بیگم یعنی خانزادہ گدی نشین عزت مآب شایان حاکم علی کی بیوی پہلی بار اپنے میکے جا رہی ہے تو لوگوں کو پتہ چلنا چاہیے. شایان کے جواب پر سرمد نے سر ہلایا
ان سب چیزوں کا بل کس سے لینا ہے ……. ؟؟ سرند نے کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے پوچھا
“ابّا جی سے ” میں نے بات کر لی ہے وہ اپنی بہو کے لئے ساری کمائی لٹانے کو تیار ہیں. میرا تو دل کرتا ہے کاش میں ان کا بیٹا نہیں بہو ہوتی. شایان کی حسرت پر سرمد نہ چاہتے ہوئے ہنس پڑا.
سوچ لے بہو بننا بیٹا بننے سے زیادہ مشکل کام ہے. سرمد کی شرارت سمجھتے ہوئے شایان نے قہقہ لگایا
چلو کوئی بات نہیں پھر جنت بھی تو ملتی ہے. شایان نے ڈھیٹ ہونے کے سارے ریکارڈ توڑ دیے مجبورا سرمد کو ہی ہار ماننی پڑی.
صبح کب تک نکلنا ہے ……. ؟؟سرمد نے پوچھا
جب آپ کی آنکھ کھل جائے. شایان کے جواب دے سرمد کو غصہ آیا
سہی طرح بتا ناااااا
سرمد قدرے بیزاری سے بولا
میری جان اب میں اپنی بیگم کو ٹرین کے دھکے تو نہیں کھلا سکتا. ٹرین کا سفر بس دوست ساتھ ہی مزہ دیتا ہے. لہذا ہم پہلے بائی روڈ لاہور جائیں گے اور وہاں سے بائی ایئر پنڈی کیا سمجھا ………… ؟؟ شایان اپنے خیالوں میں سرمد کے ایکسپریشن سے لطف اندوز ہورہا تھا.
دوست کے لئے ٹرین اور بیگم کے لیے جہاز واہ رے تیری یاری سرمد نے طنز کیا
کیا کریں بیگم کا ساتھ “دن رات” ہوتا ہے اور دوست کا صرف “دن” کو، تو پیکج بھی اسی حساب سے ملتے ہیں. شایان اب دبا دبا سا ہنس رہا تھا.
تو شادی کے بعد بلکل بے غیرت ہو گیا ہے. سرمد چڑا.
پہلے تُو تھا اب میں ہو گیا ہوں حساب برابر __
تجھے بھی تو پتہ چلنا چاہیے کہ بےغیرت دوست ساتھ گزارا کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے ……. ؟؟ شایان کے جواب پر سرمد نے کال کاٹ دی.
بس میرے یار آج کا دن، کل تیرے چہرے پر بھی کھوئی ہوئی مسکراہٹ واپس آجائے گی. شایان نے سوچتے ہوئے اپنے کمرے کا رخ کیا.
دعا بی بی اب آپ کا کیا کیا جائے ……. ؟؟ بقول شاعر
“تم سے عشق ہورہا ہے کیا کیا جائے. ….!!!
خود کو روک لیا جائے یا ہونے دیا جائے….!!!”
شایان ہنستے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگا.
🔖🔖🔖🔖🔖🔖
جاری ہے.