No Download Link
Rate this Novel
⭐ You already rated this novel. Thank you!
Episode 3
شایاں بیڈ پر لیٹا مسلسل چھت کو گھور رہا تھا. وہ غیر لاشعوری طور پر دعا کو سوچنے پر مجبور تھا.
ان کی خانقاہ پر کتنی ہی ایسی عورتیں اور لڑکیاں آتیں تھیں جو طلاق کے بعد اپنے نئے رشتوں کی تلاش میں دعاِ خیر کرواتیں.
پھر دعا نے اتنا اثر کیوں لیا ہے …؟؟؟
جبکہ وہ ایک پڑھی لکھی اور سمجھدار لڑکی تھی. گھر کی طرف سے بھی دباؤ نہیں ہے. خالو ابھی اسے اتنا سپوٹ کر رہے تو تب بھی کیا ہو گا.
پھر ایسا کیا ہے جو چھپایا جا رہا ہے یا چھپا ہوا ہے …… ؟؟؟
شایان مسلسل دعا کو سوچتے ہوئے اس کی حالت کے بارے میں فکر مند ہو رہا تھا. اس کے ماتھے پر شکن نمایاں تھے.
مرشد ہم پر بھی نظر کرم کریں. آپ تو پنکھے کے حسن میں کھو ہی گئے ہیں _ سرمد نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے شایان کو سوچوں کے گرداب سے نکالا کیا تکلیف ہے…… ؟؟؟ شایان نے انتہائی بیزاری سے پوچھا مرشد تھوڑا سا سوال بہتر کر لیں اور پوچھیں کہ کدھر تکلیف ہے…… ؟؟ سرمد کا مسخرہ پن عروج پر تھا.
سرمد بات بلکل سیدھی کر ورنہ میں اپنا اصول توڑ دوں گا. شایان کے کہنے پر سرمد کا زندگی سے بھرپور قہقہہ گونجا
آپ کے ابا جی کا فون تھا. آگے مجھے بتانے کی ضرورت نہیں آپ خود سمجھدار ہیں. سرمد نے مصنوعی مسکراہٹ سے شایان کو دیکھا
جب اس طرح کی حرکتیں کرتا ہے تو کمینوں کا استاد لگتا ہے. کب سے اول فول بک رہا ہے سیدھی طرح کیوں نہیں بولا کہ ابا جی کا فون تھا. شایان نے جلدی سے اپنا موبائل نکالتے ہوئے نمبر ملایا.
اسلام علیکم ابا سائیں کال اٹینڈ ہوتے ہی شایان نے احترام سے انھیں سلام کیا. بیٹا جی کیا صورت حال ہے. کب تک واپسی ہے آپ کو معلوم ہے نااااا کہ اگلے مہینے سالانہ عرس ہے بہت تیاریاں کرنی ہیں. کارڈ چھپوانے ہیں. اس دفعہ پہلے سے زیادہ VIP لوگوں کے آنے کا امکان ہیں. آپ سمجھ رہے ہیں ناااااا مخدوم حاکم علی کی سنجیدہ اور رعب دار آواز میں چھپی دھمکی شایان بخوبی سمجھ رہا تھا.
بس دو دن تک واپسی ہے. آپ پریشان نہ ہوں. میں سب دیکھ لوں گا. آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا. شایان کے جواب پر وہ ہنسے
بیٹا جی تیسرا دن نہیں ہونا چاہیے. مجھے آپ کا یوں اپنے ننھال جانا بلکل پسند نہیں آیا. نائلہ کی وجہ سے خاموش ہیں ورنہ وہ لوگ _ حاکم علی نے کہتے ہوئے خاموشی اختیار کی. آپ بے فکر رہیں. میں پہنچ جاؤں گا. شایان نے مزید بحث سے بچنے کے لیے بات ختم کی. یہ جو تو کہہ رہا ہے اوہہہہہ سوری میرا مطلب ہے یہ جو آپ نے 1000 گرام کا کیپسول اپنے والد کو دیا ہے. آپ کے خیال میں انھیں اس سے افاقہ ہو گا…… ؟ سرمد کے سوال پر شایقن نے قریب پڑا تکیہ کھینچ کر اسے مارا.
ہر وقت بکواس کرتا رہتا ہے کبھی سیریس بھی ہو جایا کر شایان نے پر سوچ انداز میں کہا کیوں اتنا سوچ رہا ہے. آخر مسئلہ کیا ہے…… ؟ سرمد اب سنجیدگی اسے پوچھ رہا تھا. یار میں اس لڑکی کو بہت اچھے سے جانتا ہوں. نائلہ خالہ کی وہ بیسٹ فرینڈ تھی. نائلہ خالہ میری ہم عمر اور ہم دونوں دعا سے تقریباً سات سال بڑے ہیں. میں نے کبھی نائلہ کو خالہ نہیں سمجھا. وہ میری دوست ہیں اور دعا ان کی اسی واسطے سے ہمیشہ دعا کے بارے میں مجھے سب معلوم ہوتا رہا.
ہم دونوں کی کبھی ایک دوسرے سے براہ راست گفتگو نہیں ہوئی مگر نائلہ خالہ مجھ سے دعا کے بارے میں باتیں کرتیں رہتیں تھی. مجھے بھی ان کی باتیں سننا اچھا لگتا تھا.
پانچ سال پہلے میں نے پہلی بار ملتان میں ہی دعا کو چھوٹے ماموں کی شادی پر دیکھا تھا. بہت پیاری لگ رہی تھی اور زبان تو خیر _ شایان جان بجھ کر اپنی بےعزتی جو دعا کے ہاتھوں لڑکیوں کے ٹینٹ میں سگریٹ پینے کی وجہ سے ہوئی تھی چھپا گیا. بہت ہی پر اعتماد لڑکی تھی. مگر جو لڑکی میں نے آج دیکھی ہے وہ کم از کم دعا نہیں ہے. بلکل بھی نہیں شایان نے اپنا ماتھا مسلا
ہمممممم دعا تمہارے گھر بھی گئی تھی….؟؟؟ سرمد نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا
نہیں نہ ہم نے بلوایا نہ وہ آئی. شایان نے کندھے اچکائے
تم لوگ کچھ عجیب سے کزنز ہو. حالانکہ عام طور پر سب کی ننھال سے بہت بنتی یے. سرمد پشت کے بل بیڈ کر نیم دراز ہوا.
میری باقی سارے ننھال سے بہت بنتی ہے. مگر یہاں معاملہ “بھاگنے” کی وجہ سے الٹ ہے دوسرا نانو اسی خالہ کے دکھ سے چل بسیں اور مرتے دم تک یہی کہتیں رہیں کہ ” فاروق میری بیٹی کا قاتل ہے” _ شایان کہتا ہوا جیب سے سگریٹ نکال کر سلگانے لگا دعا کی امی کیسے فوت ہوئیں تھیں……؟ ؟؟ سرمد نے حیرت سے پوچھا سڑک کراس کرتے ہوئے گاڑی انھیں ہٹ کر گئی تھی ان لوگوں نے یہی بتایا تھا مگر جب تک ہم لوگ ملتان سے یہاں پہنچے انھوں نے خالہ کو دفنا دیا تھا. ہمارا انتظار بھی نہیں کیا. اسی بات پر ماموں لوگ خالو فاروق سے خوب لڑے. پھر میرے ابا جی نے درمیان میں پڑ کر بات ختم کی. خالہ کے مرتے ہی ہم سب نے فاروق خالو سے تمام رابطے اور ملنا جلنا چھوڑ دیا جو آگے ہی برائے نام تھا. سوائے نائلہ خالہ کے انھیں دعا بہت پیاری ہے وہ ملتی رہیں فون بھی کرتیں رہیں. میرے ہاتھوں سے ہی اسے تحفے بھیجتیں تھیں. شایان نے سگریٹ ختم کرتے ہوئے ایش ٹرے میں مسلا.
پھر اب کیا سوچا ہے کیا کرنا ہے…..؟ سرمد کے سوال پر شایان نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا
دیکھتے ہیں شایان کہتا ہوا اٹھ کر واش روم جانے لگا
ویسے نائلہ خالہ کا پلین بھی قابل عمل ہے. سرمد کی آواز پر شایان بغیر مڑے مسکرایا
تیرا پیٹ عورتوں سے بھی زیادہ ہلکا ہے. کوئی بات ہضم نہیں کر سکتا. تیرا علاج کرنا پڑے گا. شایان نے مصنوعی گھوری سے سرمد کو نوازتے ہوئے واشروم جا دروازہ بند کیا.
🔖🔖🔖🔖🔖
کیا زمانہ آ گیا ہے. مجھے تو رہ رہ کر بھائی صاحب پر افسوس ہو رہا ہے. چھٹانک بھر کی لڑکی نے کیسے انھوں بےوقوف بنایا ہوا ہے………. ؟؟؟
اللہ ایسی اولاد سے بچائے. رخسانہ بیگم نے سبزی بناتے ہوئے عنایہ سے کہا
ماما بس کریں ویسے ہی آپ اپنا بی پی ہائی کر رہی ہیں بات تو کچھ ہے نہیں عنایہ نے ٹی وی کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا.
آئے ہائے کیسے بات نہیں ہے……. ؟؟؟
مجھے تو دعا کے ننھال سے ویسے ہی بہت چڑ ہے. یہ مزاروں پر بیٹھنے والے فقیر اصل میں بہت بڑے ڈھونگی ہوتے ہیں.
ان لوگوں سے اللہ بچائے. تم تو خود خبریں دیکھتی رہتی ہو. کس طرح یہ عامل اور فقیر بابا عورتوں اور لڑکیوں کو ٹریپ کرتے ہیں.
یہاں تو بوڑھے مان نہیں وہ تو پھر جوان جہاں ہے رخسانہ بیگم کی تمام باتیں عنایہ بہت بیزاری سے سن رہی تھی مگر آخر لائن پر چونکی
ماماوہ ایسا نہیں ہے. عنایہ کو ایکدم کل والا منظر یاد آگیا
کا طرح اس نے عنایہ سے منہ موڑا تھا.
تمہیں کیسے پتہ کہ وہ ایسا نہیں ہے….؟
یہ سب ایسے ہی ہیں. ملتان کے لوگوں میں شادیاں طلاقیں کوئی بڑی بات نہیں سمجھی جاتی. وہاں عورت ہو یا مرد سبھی کئی کئی شادیاں کرتے ہیں.
پاکستان میں سب سے زیادہ طلاق کی شرح ملتان شہر کے لوگوں میں ہے.
یہ جاہل لوگ بیسویں صدی میں داخل ہو کر بھی آٹھارویں صدی میں جی رہیے ہیں.
رخسانہ بیگم نے دل کھول کر دیورانی کے میکے کی وجہ سے پورے ملتان کو ہی رگڑا لگا دیا.
ماما آپ ایک بار ان سے مل تو لیں. آپ کو اچھا لگے گا. میں تو کہتی ہوں انھیں بلا کر ہم اپنے گھر کا بھی حساب لگوا لیتے ہیں. عنایہ نے خوشی سے رخسانہ بیگم کے قریب بیٹھتے ہوئے خوشی سے کہا
ارے بی بی اپنے مشورے اپنے پاس ہی رکھو. جوان جہاں بچی کے ہوتے ہوئے میں تو ان مشٹنڈوں کو بلانے سے رہی. میرا میاں پردیس میں ہوتا ہے. اسےکیا منہ دکھاؤں گی کہ ایک اولاد تھی اس کی حفاظت بھی نہ کر سکی. رخسانہ بیگم برہم ہوئیں.
ماما پلیز عنایہ نے منت کی.
ارے ہٹو پیچھے کیا دماغ کھا رہی ہو. مجھے تو ملتان کے لوگ ہی نہیں پسند رخسانہ بیگم نے کچن کا رخ کیا.
ماما آپ صرف چچی کی مخالفت میں ایسا بول رہی ہیں. اتنا بڑا شہر ہے اور سارا شہر چچی کے میکے میں نہیں آتا. عنایہ چڑی.
بس میں مزید بحث کے موڈ میں نہیں ہوں. ہمارا ان لوگوں سے کوئی واسطہ نہیں اور تم بھی میری ایک بات کان کھول کر سن لو جب تک وہ غنڈے بھائی صاحب کے پوشن میں ہیں تم وہاں نہیں جاؤ گی. رخسانہ بیگم وارنگ دیتی ہوئی ہانڈی بنانے لگی جبکہ عنایہ بےبسی سے ان کی پشت کو دیکھ رہی تھی.
🔖🔖🔖🔖🔖🔖
دعا اپنی چارپائی پر لیٹی مسلسل غنودگی میں کچھ بڑبڑا رہی تھی. اس نے سختی سے چارپائی کی چادر کو اپنے ہاتھ سے پکڑا ہوا تھا جبکہ ماتھے پر ننھے منے قطرے بھی چمک رہے تھے.
نہیں میں ایسا کچھ نہیں کروں گی. مجھ میں گناہ کی تمیز ابھی باقی ہے. دعا نے شدید دکھ اور غصے سے اپنے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا جو زمانے میں نہایت شریف مشہور تھا مگر اس کا باطل بہت گندہ تھا.
دیکھو تم خامخواہ جزباتی ہو رہی ہو. یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے. جو تم یوں شور مچا رہی ہو. عرفان نے نرمی سے اس کا خوبصورت ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا.
تمہارے نزدیک یہ بڑی بات نہیں ہو گی مگر میرے نزدیک یہ گناہ ہے جسے کرنے کا میں سوچ بھی نہیں سکتی. دعا کا دماغ پھٹنے کو تھا.اس نے بےدردی سے اپنا ہاتھ اس شیطان کے ہاتھوں سے کھینچا.
دیکھو میری بات آرام سے سنو. زیادہ جذباتی نہ ہو. تم میری بیوی ہو اور میرا حکم ماننا تم پر فرض ہے. میری کمی جو چھپانا بھی تمہارا ہی فرض ہے.
اگر تم نے میری بات نہ مانی تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا. کیا تم دوسری طلاق برداشت کر لو گی…….؟ عرفان نے آخر میں شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے پوچھا
مجھے طلاق لینا منظور ہے مگر گناہ کرنا نہیں دعا نے آنکھوں میں آئی نمی پیچھے دھکیلتے ہوئے مضبوط لہجے میں کہا
سوچ لو تمہارے پاس آج کا دن ہے. ویسے میں نہ سننے کا عادی نہیں ہوں. عرفان نے اس کے قریب سے اٹھتے ہوئے غصے سے کہا
بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس وہ شخص جو شہر کا ایک نامی گرامی بزنس مین ہونے کے علاوہ ایک شوشل ورکر بھی تھا. لوگ اسے اس کی نیکیوں پر بھرپور دعاؤں سے نوازتے تھے. چند ماہ پہلے دعا بھی اسے دن رات دعائیں دیتی تھی مگ اب وہ اس وقت کو کوس رہی تھی جب اس کے نکاح میں آئی تھی.
عرفان نے گھٹنوں کے بل بیٹھی بےبس سی دعا پر ایک نظر دیکھا اور مسکرایا.
سویٹ ہارٹ تمہارے پاس میری بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے. تم تو پہلی طلاق کے بعد ہی بدنام ہو گئی تھی. اب تمہارا باپ تمہاری دوسری طلاق برداشت نہیں کر پائے گا.
آج کا دن ہے اچھے سے سوچ لو. کل میرا دوست لندن سے آ رہا ہے. وہ بس ایک ہفتہ ہی یہاں رکے گا میں نے مری میں ایک خوبصورت کمرہ بک کروا دیا ہے. عرفان اپنی ٹائی درست کرتے ہوئے اسے یوں بتا رہا تھا جیسے یہ عام بات ہو.
عرفان پلیز چپ کر جائیں. اتنی غلیظ بات کرتے ہوئے شرم نہیں آتی آپ کو دعا کی ہمت جواب دے گئی تھی.
میاں بیوی ایک دوسرے کا پردہ ہوتے ہیں اور آپ دعا کو اپنی آواز گلے میں پھنستی ہوئی محسوس ہو رہی تھی.
یہی یہی __ بات تو میں تمہیں سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ تم میرا پردہ رکھو میں دنیا جہاں کی آسائشیں تمہارے قدموں میں ڈھیر کر دوں گا. تمہارے اس احسان کے بدلے ساری زندگی تمہاری غلامی کروں گا.
دیکھو میں نے تم سے کوئی جھوٹ نہیں بولا شادی کی رات ہی بتا دیا تھا کہ میں “نا مرد” ہوں.
اگر تم نے میری بات آرام سے نہ مانی تو مجھے اپنا داغ دھونے کے لیے دوسرا طریقہ بھی آتا ہے. عرفان نے کہتے ہوئے اس کی طرف قدم بڑھا. دعا اپنے بچاؤ کے لیے پیچھے کھسکی مگر دیوار نے اس کی کوشش ناکام بنا دی.
خوف کی شدت سے وہ چیخی تو اپنے آپ کو اپنے کمرے میں پایا. دکھ اور غم سے ہمیشہ کی طرح وہ چلانے لگی اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ چیخ چیخ کر اپنے ساتھ ہوئے مظالم دنیا کو بتائے اور اس درندے کا چہرہ بے نقیب کرے.
میں اس زندگی سے تنگ آ گئی ہوں کاش خود کشی حرام نہ ہوتی. دعا نے سوچتے ہوئے دوبارہ تکیہ پر سر رکھا
“شکست کھا کے بھی توہینِ زندگی نہ ہوئی!
ہزار کام ہوئے ، ہم سے خودکشی نہ ہوئی! ۔ “
🔖🔖🔖🔖🔖🔖
جاری ہے.
