Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

آج صبح سے ہی ملتان کا موسم خاصا ابرآلود تھا. دعا بار بار دعائیں مانگ رہی تھی کہ کسی طرح شایان کا ارادہ تبدیل ہو جائے. کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے نائلہ کو بڑی آس و امید سے کال کی کہ شاید وہ اس کی کچھ مدد کر سکے اور خود پر غصہ بھی آیا کہ اس نے پہلے نائلہ سے کیوں نہیں بات کی.
کیسی ہو _ شکر ہے تمہیں بھی میرا خیال آیا ورنہ میں تو سمجھی تھی کہ تم مجھے بھول ہی گئی ہو. بھئی بندہ شادی کے بعد اپنے پرانے رشتے داروں کو بھی یاد رکھتا ہے. نائلہ نے محبت بھرا شکوہ کیا ساتھ ہی لہجے میں شرارت بھی تھی. نائلہ آپ شکوے شکایت بعد میں کر لیجئے گا. پہلے میری مدد کریں. میں اس وقت بہت مشکل میں ہوں. دعا کی روندی آواز سن کر نائلہ ایک دم سنجیدہ اور پریشان ہو گی. جلدی بتاؤ کیا ہوا ہے ……. ؟؟ تمہیں شایان نے تو کچھ نہیں کہا. نائلہ کو دل ہی دل میں شایان پر شدید غصہ آ رہا تھا جس نے کہنے کے باوجود بھی دعا کا خیال نہیں رکھا اور اپنے اوپر افسوس بھی تھا کہ اتنے دنوں سے اس نے دعا کی خیریت کیوں معلوم نہیں تھی ……… ؟؟؟ نائلہ وہ دراصل شایان دعا نے کمرے کے بند دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے کہنا شروع کیا.
ہاں بولو کیا کیا ہے شایان نائلہ کے دل کی دھڑکن کافی تیز ہو چکی تھی کہ پتہ نہیں اب دعا اسے کیا بتانے لگی ہے ………. ؟؟
نائلہ وہ شایان مجھے آج زبردستی پنڈی لے کر جا رہی ہیں. دعا بار بار بند دروازے کو دیکھ رہی تھی.
تو ………… ؟؟ نائلہ نے سوالیہ انداز میں جواب دیا
تو یہ کہ میں وہاں جانا نہیں چاہتی. دعا کی بات ختم ہوتے ہی نائلہ نے سخت کا سانس لیا
دعا تم نے ہم سب کو “ہارٹ اٹیک” دینے کا ارادہ کر رکھا ہے. تمہارے سابقہ کارڈ کی وجہ سے تم جب بھی مجھے کال کرتی ہو میرے کان ایسے کھڑے ہو جاتے ہیں جیسے اب میں اپنے منہ سے کیا کہوں، نائلہ نے دانت پیستے ہوئے ڈانٹا
نائلہ آپ میری بات تو سنیں دعا نے احتجاج کیا. میں تو ڈر ہی گئی تھی کہ پتا نہیں شایان نے ایسا کیا کر دیا ہے. جو تم یوں پریشان ہو. بے وقوف لڑکی شکر ادا کرو کہ وہ تمہارے ساتھ اتنا اچھا سلوک کر رہا ہے ورنہ تو شوہر جلدی سسرال کی طرف منہ نہیں کرتے. اپنے گھر والوں پر صدقے واری جا رہے ہوتے ہیں اور سسرال کا نام سنتے ہی منہ پھلا لیتے ہیں. خبردار جو اب تم نے مجھے فون کرکے پریشان کیا تو ……..؟؟ فاروق بھائی کی طبیعت بھی پچھلے دنوں خراب تھی میں نے ہی شایان سے کہا تھا کہ پہلی فرصت میں چکر لگا لینا. نائلہ نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا جبکہ دعا مسکین سی شکل بنائے فون کو گھور رہی تھی. ابھی وہ اس صدمے میں ہی تھی کہ نائلہ نے کیوں اس کی کوئی مدد نہیں کی ……… ؟؟ کہ نوکرانی دروازے پر دستک دیتی اندر داخل ہوئی بی بی جی آپ کو بڑے صاحب نیچے بلا رہے ہیں. حاکم علی کا پیغام ملتے ہی دعا اپنے حلیے پر ایک نظر مارتی نیچے کی طرف چل پڑی. بیٹا آپ کچھ تیار ہی ہوجاتیں. شادی کے بعد پہلی بار آپ اپنے گھر جارہی ہیں. یہ باتیں میرے کرنے والی نہیں ہیں. اور اچھا بھی نہیں لگتا. اگر آج تمہاری ساس زندہ ہوتی تو مجھ سے بہتر تمہیں سمجھا سکتیں. خیر ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی
حاکم علی نے ایک نظر سادہ سی دعا کو دیکھتے ہوئے کہا
ابا جی اس کا شمار لڑکیوں کی اس قسم سے ہے. جو سال میں صرف ایک بار صابن سے منہ دھوتی ہیں. جس سے انہیں اور خاص طور پر دوسرے لوگوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ آج عید ہے. اورآپ اسے تیار ہونے کا کہہ رہے ہیں. موبائل پہ مصروف شایان نے کمنٹس پاس کیے.
زیادہ فضول گوئی کرنے کی ضرورت نہیں ہے. اگر بٹیا کو سادہ رہنا پسند ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں. خیریت سے جاؤ. اس کا خاص خیال رکھنا اور پہنچ کر اپنی عادت کے برخلاف مجھے اطلاع ضرور کردینا. حاکم علی نے دعا کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا جس پر شایان موبائل جیب میں ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا.
اگر آپ کہیں تو ہم نہیں جاتے _ دعا نے ایک بار پھر کوشش کی. ہییییییییییی ابا نے ایسا کب کہا ہے کہ نہ جاؤ ………..؟؟ شایان نے طنزاً مسکراتے ہوئے اپنے کان صاف کیے جبکہ دعا بدستور حاکم علی کی طرف دیکھ رہی تھی. نہیں نہیں میں ایسا کیوں کہوں گا. میری بیٹی جب چاہے اپنے بابا سے ملنے جا سکتی ہے. حاکم علی نے کھلے دل سے جواب دیا جب کہ دعا کا چہرہ ان کا جواب سن کر لٹک گیا. چلیں شایان کے کہنے پہ دعا مرے مرے سے قدم اٹھاتی گاڑی کی طرف چل پڑی.
تو نے سارا سامان دیکھ کر گاڑی میں رکھوا دیا ہے نااااااا کہیں کوئی چیز رہ نہ جائے اور ہاں یہ سوٹ کیس بھی سامان ساتھ رکھ دے. شایان سرمد کو کہتا گاڑی کا دروازہ دعا کے لیے کھولنے لگا
جی جناب سارا سامان پیچھے والی گاڑی میں موجود ہے. سرمد نے پیچھے اشارہ کیا جہاں ایک اور گاڑی بالکل تیار کھڑی تھی.
کپڑے تو ڈھنگ کے پہن لیتا. شایان نے ایک نظر سرمد کو دیکھتے ہوئے کہا جس پر خلاف معمول سرمد خاموشی سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا
گاڑی جیسے ہی حویلی کے گیٹ سے باہر نکلیں ہلکی ہلکی بارش شروع ہوگئی ” وہ سیانے کہتے ہیں کہ بارش میں سفر نہیں کرنا چاہیے میرے خیال سے ہمیں گاڑی موڑ لینی چاہیے ” دعا نے کمزور سی آواز میں روکنا چاہا جس پر شایان نے اسے بیک مرر میں گھورا. ویسے بھابھی بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں بارش میں سفر کرنا کسی طور بھی مناسب نہیں. سرمد نے فوراً دعا کی تائید کی. مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے جیسے تم دونوں کسی کی تعزیت یا پیشی میں جارہے ہو. ذرا اپنے اپنے حلیے اور شکل دیکھو
شایان کے طنز پر دونوں ہی اپنی اپنی جگہ خاموش ہو گے.
میں تو پہلی بار اپنے سسرال جا رہا ہوں اور بہت زیادہ خوش بھی ہوں. میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ جس پاگل لڑکی کا جن نکالنے میں پچھلی بار راولپنڈی کیا تھا اگلی بار میں اس کے ساتھ ہی سفر کر رہا ہوں گا.
شایان کی شوخ آواز گاڑی میں گونجی.
مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے کہ تھوڑی دیر میں تیری بولتی بند ہونے والی ہے. اگر عزت پیاری ہے اور تو اسی تیاری ساتھ سسرال پہنچنا چاہتا ہے تو مشورہ مفت سمجھ کر خاموش ہو جا. سرمد نے کن اکھیوں ساتھ دعا کو دیکھتے ہوئے محتاط انداز میں شایان کو وارننگ دی.
میرا تو اس موسم میں نصرت فتح علی خان کی غزل سننے کا دل کر رہا ہے اور خاص طور پر وہ غزل جس کے ایک شعر میں انہوں نے کہا تھا کہ “سوال ایسے پوچھے کہ شرما گئی” _ ویسے سوچنے والی بات ہے کہ کیسے سوال پوچھے ہوں گے ……….. ؟؟ شایان نے سرمد کی طرف دیکھتے ہوئے آنکھ ماری (تو نے خیریت ساتھ نہیں پہنچنا مجھے تو ایسا لگ رہا ہے. سرمد نے دل میں سوچتے ہوئے شایان کی طرف دیکھا) اس کے لئے تجھے استاد جی کے پاس جانا پڑے گا میرا مطلب ہے اوپر کی طرف ہوتے ہوئے ذرا زیادہ نیچے ہو کر سرمد نے جل کر جواب دیا تو شایان نے قہقہہ لگایا
دعا اپنے دماغ میں اب تک کئی طرح کے پلین بنا چکی تھی کہ وہاں جا کر کیا کہے گی اور اسے کس سے کیا کہنا ہے ………. ؟؟ کہ اتنی دیر میں بارش نے شدت اختیار کرلی تو مجبوراً ان لوگوں کو قریبی ریسٹورینٹ میں رکنا پڑا
🔖🔖🔖🔖🔖
ہاں جی ساری تیاری مکمل ہے ……. ؟؟ فاروق صاحب نے عذرا بیگم سے پوچھا
جی بھائی صاحب پورا گھر صاف کروا دیا ہے اور ان دونوں کا کمرہ بھی سجا دیا ہے. بس تازہ گلاب کے گلدستے رہ گئے ہیں جو وہ تھوڑی دیر میں آ کر لگا دیں گے. عذرا بیگم نے زبردستی مسکراتے ہوئے جواب دیا
اور کھانے وغیرہ کا مینیو بھی آپ نے خود دیکھ لینا تھا.
بے شک خانساماں ہے مگر پھر بھی نوکروں پر اتنا اعتبار اچھا نہیں ہوتا فاروق صاحب کے کہنے پر عذرا بیگم نے سر ہلایا
عذرا میں نے صدقے کے بکرے کا کہا تھا وہ ابھی تک آیا کہ نہیں ……… ؟؟ فاروق صاحب نے جاتے جاتے پلٹ کر پوچھا
ابھی تک تو کوئی بھی بکرا لے کر نہیں آیا. عذرا بیگم نے جواب دیا اور رخسانہ بیگم کے پورشن کی طرف چل پڑی.
عنایہ بیٹا اٹھ کر تیار ہو جاؤ. میں تمہیں صبح سے کہہ رہی ہوں. بھائی صاحب نے کہا ہے کہ شام تک وہ لوگ آجائیں گے تو ہم لوگوں نے ہی ان کا استقبال کرنا ہے. دیکھو ہمارے رویے سے انہیں اندازہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم ان سے ناراض ہیں یا کسی قسم کے حسد کا شکار ہیں. رخسانہ بیگم کے کہنے پر عنایہ اٹھ کر بیٹھ گئی.
اماں میرا دل نہیں کر رہا اور ہاں میں اس سے ناراض نہیں ہوں اور نہ ہی حسد کرتی ہوں. اس کے اپنے نصیب ہیں اور میرے اپنے عنایہ نے دکھ سے جواب دیا دیکھو میں تو کہتی ہوں تم دعا کے ساتھ ساتھ رہنا ذرا پتہ تو چلے کہ اس کے حالات کیسے ہیں………. ؟؟ ویسے مجھے پورا یقین ہے کہ کوئی نہ کوئی گڑبڑ ضرور ہوگی. رخسانہ بیگم کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ تھی. اماں مجھے ان قسم کے معاملات سے دور ہی رکھیں پلیز عنایہ کہتی ہوئی دوبارہ لیٹ گئی.
آئے ہائے اٹھو جلدی کرو. اپنا حلیہ درست کرو. کیا ہو گیا ہے تمہیں ……… ؟؟ رخسانہ بیگم نے اسے ڈانٹا.
میرا دل نہیں کر رہا عنایہ نے دوبارہ احتجاج کیا. مجھے نہیں معلوم جلدی سے تیار ہو کر بھائی صاحب کے پوشن میں آؤ. میں خود بھی وہاں ہی جا رہی ہوں. دیکھو تو سہی اب تک عذرا نے کیا انتظامات کیے ہے. رخسانہ بیگم کہتے ہوئے اس کے کمرے سے باہر نکلیں تو آگے سے عذرا بیگم ان سے ٹکرا گئی. ایک تو تم دیکھ کر نہیں چلتی. میرا سر آگے ہی درد کر رہا تھا جو کسر رہ گئی تھی وہ تم نے نکال دی. تم یہاں کر کیا رہی ہو ……… ؟؟ عذرا بیگم نے اپنا سر ملتے ہوئے قریب پڑی کرسی پر بیٹھ گئی. میں تمہیں لینے آئی تھی اب آ بھی جاؤ. کہاں رہ گئی ہو …….. ؟؟عذرا بیگم نے بھی قدرے ناگواری سے جواب دیا دیر اس لیے ہوئی ہے کہ میں عنایہ کو اٹھا رہی تھی مگر اس نے ایک ہی رٹ لگائی ہوئی ہے کہ “میرا جانے کو دل نہیں کر رہا” . پہلے تو دعا پر مرتی جاتی تھی. بہانے بہانے سے اس کے پاس جاتی تھی. مگر اب
رخسانہ بیگم خود بھی عنایہ کی حالت پر حیران تھی
چلو اچھا ہی ہوا جان چھوٹی، میری تو اپنی دلی خواہش تھی کہ ہماری بچی اس منحوس کے سائے سے بھی دور رہے. عذرا بیگم نے شکر کا کلمہ پڑھا ہے جبکہ رخسانہ بیگم اندر ہی اندر اس بات کو لے کر پریشان تھیں.
🔖🔖🔖🔖🔖
اللہ جی خوب بارش برسا اتنی برسا کہ ہم جا نہ سکیں.
دعا باہر پڑتی بارش کو دیکھ کر دعائیں مانگ رہی تھی جبکہ شایان شد پریشان تھا.
اگر ہم وقت پر نہ پہنچے تو ہماری ٹکٹ کینسل ہو جائے گی. شایان بار بار اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھ رہا تھا جبکہ سرمد یوں بیٹھا تھا جیسے اسے کسی چیز سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا.
تم دونوں کو کونسی موت پڑی ہوئی ہے …….. ؟؟ میں اتنا بور ہو رہا ہوں کچھ تو بولو _ شایان نے سامنے بیٹھے ہوئے اپنے دوست اور بیوی کو دیکھ کر کہا جس پر دعا نے اسے انتہائی غصےسے دیکھا چلو تم رہنے دو تمہاری طرف سے ہو گیا شایان فورا دعا کے تیور دیکھتے ہوئے کومنٹس دیے جس پر سرمد ہنس پڑا
دہشت ہے بھائی دہشت سرمد نے ہنستے ہوئے طنز کیا
تجھے میرے اصول یاد ہیں ناااااا
شایان نے آگے جھکتے ہوئے نرمی سے پوچھا
ہاں بالکل یاد ہیں. مگر افسوس کہ آپ کو خود بھول گئے. سرمد نے منھ بنایا
مطلب ……… ؟؟ شایان نے پوچھا
مطلب یہ کہ تم میرے ساتھ زبردستی کر رہے ہو. میں جانا نہیں چاہتا خواہ مخواہ مجھے ذلیل کروانے کے لئے لے کر جا رہے ہو. پتہ نہیں کیوں تمہارے دماغ میں میری بات نہیں آرہی…….. ؟؟ سرمد نے شدید احتجاج کیا
ہمممممم _ بارش پیاری ہو رہی ہے نااااا شایان کے جواب پر سرمد نے ایک نظر اسے اور دوسری باہر برستی بارش پر ڈالی.
تجھے میری آواز سنائی نہیں دے رہی سرمد نے شایان کے آگے اپنا منہ کرتے ہوئے قدر چیخ کر کہا
ہاں یار بارش کی آواز نہیں آرہی وہ شیشہ لگا ہوا ہے. پتا تو ہے شیشے سے آواز نہیں گزرتی. شایان نے سنجیدہ سے لہجے میں جواب دیا.
اچھااااااااااااا مجھے یہ بات معلوم نہیں تھی. سرمد نے مایوسی سے کرسی ساتھ ٹیک لگائی.
پھر تو تجھے یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ روشنی بذات خود اندھیرا ہے وہ جب کسی چیز پر پڑتی ہے تو اسے روشن کر دیتی ہے. شایان نے اسے ایسے بتایا جیسے یہ بہت ضروری بات ہو.
جی میں نے سن رکھا ہے ” چراغ تلے اندھیرا”
سرمد نے مسکراتے ہوئے جواب دیا.
ماشاءاللہ آپ کو سائنس کے بارے میں کافی معلومات ہے. مگر شاید آپ انگلش میں کمزور ہیں. آپ نے وہ سٹوری تو سن رکھی ہوگی جس کا مورل تھا.
“A friend in need is a friend indeed.”
سرمد کے پوچھنے پر شایان نے اپنا سر کھجایا. میں سٹوری کبھی لکھتا ہی نہیں تھا. سب جھوٹ ہوتا ہے اور مجھ سے جھوٹ لکھا نہیں جاتا. تمہیں تو پتہ ہے کہ میں کتنا سچا اور کھرا انسان ہوں. شایان کے جواب پر سرمد نے تالی بجائی اور اسے داد دی.
مجھے تو آپ پر پہلے بھی فخر تھا مگر اب آپ کی ذہانت پر میں قربان ہو گیا بے شک آپ کی عظمت کو چھونا میرے بس کی بات نہیں. سرمد نے دانت پیسے
بس یار کبھی غرور نہیں کیا ورنہ میری طرح گدی نشین سجادہ مخدوم شایان حاکم علی جیسے لوگ کہاں عام انسانوں ساتھ اٹھنا بیٹھنا پسند کرتے ہیں. شایان نے جواب دیا
ہاں مگر انہیں اٹھتے بیٹھتے ٹھوکتے ضرور ہیں. سرمد نے منہ بناتے ہوئے جواب دیا.
بس یار سر نہ کھا اور کافی ہی لے آ شایان کے کہنے پر سرمد سر ہلاتا وہاں سے چلا گیا تو اس کی توجہ دعا کی طرف گئی جو کہیں کھوئی ہوئی تھی.
کیا ہوا ……. ؟؟ شایان نے اس کے آگے چٹکی بجائی.
ابھی کہاں ہوا ہے، ابھی تو ہونا ہے ……… ؟؟ دعا نے کھوئے کھوئے سے لہجے میں جواب دیا.
ہاں یہ تو ہے تم نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ ابھی تو ہونا ہے. شایان نے شرارت سے اس کی طرف دیکھا تو وہ ہوش میں آئی.
تمہیں اس موسم کو دیکھ کر کچھ یاد نہیں آتا …… ؟؟ شایان نے سنجیدگی سے پوچھا
مثلاً ……… ؟؟ دعا نے بے ساختہ پوچھا
جیسے کوئی رومینٹک سا گانا
فلم کا سین یا کوئی نظم وغیرہ شایان کے جواب پر دعا کے چہرے پر زاویے بگڑے.
ویسے تم شکل سے اتنے لفنگے نہیں لگتے جتنی اپنی باتوں سے _ دعا کہتی ہوئی باہر دیکھنے لگی جب کہ شایان کرسی پر ٹیک لگا کر اسے گھورنے لگا. 🔖🔖🔖🔖🔖 میں نے کبھی آج تک جہاز میں سفر نہیں کیا تو مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے. دعا نے جہاز کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے شایان کا ہاتھ پکڑا کوئی ڈرنے والی بات نہیں ہے. زیادہ ڈرلگے تو باہر نکل جانا میں تمہیں روکوں گا نہیں. شایان کے جواب پر پیچھے آتے سرمد نے اپنی ہنسی دبائی جبکہ دعا نے مڑ کر شایان کی طرف غصے سے دیکھا میں نے کون سا تمہارا گردہ مانگ لیا ہے مشورہ ہی دیا ہے اگر پسند نہیں آیا تو نہ عمل کرنا سمپل شایان نے کندھے اچکائے اور سیٹ نمبر تلاش کرنے لگا
بیلٹ باندھ لی ہے یا نہیں. شایان نے سیٹ پر بیٹھتے ہوئے دعا سے کہا جو ناراض نظر آرہی تھی.
مجھے برسات کا موسم کبھی بھی پسند نہیں رہا اور آج کے بعد سے تو مجھے اس سے نفرت ہوگئی ہے. دعا نے بڑبڑاتے ہوئے سیٹ بلٹ باندھی.
مگر کیوں جبکہ یہ موسم شاعروں اور لڑکیوں کا پسندیدہ ہوتا ہے ………. ؟؟ شایان نے دلچسپی سے پوچھا
کیوں کہ اس موسم میں بارش کا جب دل کرتا ہے وہ منھ اٹھا کے ہمارے گھروں میں آ جاتی ہے اور ساری صفائی کا بیڑہ غرق یو جاتا یے. مگر جب ہمارا دل کرتا ہے کہ آج بارش ہو تب یہ دفع دور ہو جاتی ہے. دعا کہتی ہوئی باہر دیکھنے لگی
دعا تم ذرا بھی رومینٹک نہیں ہو کسی بھی عام لڑکی کی طرح شایان نے گلہ کیا
سادہ الفاظ میں میں بے شرم نہیں ہوں اور باقی باتوں کا مجھے نہیں پتہ دعا کے جواب پر شایان نے اب چپ رہنے کا فیصلہ کیا اور سیٹ ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں.
اللہ جی پلیززز مجھے بچا لینا میں سب کو کیا جواب دوں گی. دعا نے دل ہی دل میں دعائیں مانگیں اور شایان کی طرف دیکھا جو اب آنکھیں بند کئے آرام کر رہا تھا
وہ آپ بابا کو کیا کہیں گے …….. ؟؟ دعا کے پوچھنے پر شایان نے آنکھیں کھولیں.
“انکل” ہی کہوں گا “خال” و کہنے کو میرا دل نہیں کرتا. ذرا عجیب سا لگتا ہے. شایان کا جواب دعا کو غصہ دلا گیا.
میں بالکل سیریس ہوں. دعا نے دبا دبا سا غصہ کیا
تو میں بھی مذاق نہیں کر رہا میں بھی سیریس ہوں. شایان نے اسی لہجے میں جواب دیا.
میرا مطلب ہے آپ میرے بارے میں کیا کہیں گے ……. ؟؟ دعا نے نظریں جھکاتے ہوئے پوچھا
تمہارے بارے میں کیوں کچھ کہوں گا مجھے کیا تکلیف ہے……… ؟؟ شایان کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ دعا کیا پوچھنا چاہ رہی ہے.
تو کیا آپ میرے بارے میں ان سے بات نہیں کریں گے ……. ؟؟ دعا نہیں تصدیق چاہی.
بات تو میں ان سے کروں گا مگر تمہارے بارے میں نہیں بلکہ سرمد کے بارے میں وہ بھی شایان نےجان بوجھ کر جملہ ادھورا چھوڑا.
خیر اگر تم چاہتی ہو تو میں تمہارے بارے میں بھی بات کر لوں گا مگر کیا یہ بتا دینا ……..؟؟ شایان کا جواب دعا کو مزید الجھا گیا.
سرمد کی بات
مگر کونسی، اب سرمد نے کیا کیا ہے …….. ؟؟ دعا کے پوچھنے پر سرمد نے مڑ کر دعا کی طرف دیکھا جس پر وہ خاموش ہو گئی.
آہستہ نہیں بول سکتی خوامخواہ بیچارا پریشان ہو جائے گا اور سرمد سے کچھ نہیں ہوتا کیونکہ وہ کچھ کر ہی نہیں سکتا لہذا اب میں کروں گا……. ؟؟
تم سے تو خود نہیں ہوتا تم کیا کرو گے……؟ ؟ دعا نے شایان کے جواب پر بےساختہ کہا اور پھر اپنی زبان دانتوں میں لے لی شاید غلط بات بول دی اور دل میں خود کو کوستی ہوئی باہر دیکھنے لگی
جب کہ شایان پریشان تھا کہ اسے کیا ہوا ہے اچھی خاصی باتیں کر رہی تھی. ایک تو اس کے موڈ کا پتا نہیں چلتا. شایان بڑبڑاتا ہوا دوبارہ سیٹ ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں موند گیا.
🔖🔖🔖🔖🔖🔖
جاری ہے.