No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
نائلہ وقت سے بہے پہلے اسٹیشن پہنچ گئیں تھی. جیسے ہی دعا کو آتے دیکھا ان کی آنکھیں پانیوں سے بھرنے لگیں.
دعا میری بچی _ نائلہ نے محبت سے کہتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگایا. اپنے منہ زور جذبات پر دعا بھی قابو نہ پا سکی اور ان کے گلے لگتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رو دی. وہ دونوں ایک دوسرے ساتھ لگیں ایسے رو رہیں تھیں جیسے صحرا میں بادل بہت مدت بعد برسے اور زور سے برسے. ان عورتوں کی عقل واقعی میں نہیں ہوتی یا ہم مردوں کو ایسا لگتا ہے سرمد نے شایان کے کان میں سرگوشی کی جو انتہائی بیزاری سے دونوں کو دیکھ رہا تھا.
پتہ نہیں شایان نے کندھےاچکائے اتنی شدید گرمی میں آپ دونوں تو کھڑی رہ سکتیں ہیں لیکن ہم نہیں. اگر مجھ سے ملنے کا پروگرام کینسل کر دیا ہے تو بتا دیں. تاکہ میں گاڑی میں جا کر بیٹھوں. شایان کی آواز پر دونوں جدا ہوئیں. ہر وقت بکواس نہ کرتے رہا ہو. نائلہ نے ناراضگی سے اسے دیکھتے ہوئے کندھے پر پیار دیا. پھر فاروق صاحب کو سلام کر کے اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگیں. خالہ حویلی آئیں گئیں یا سیدھا اپنا گھر شایان نے اپنی بلیک مرسڈیز کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے پوچھا
میں حویلی ہی آ رہی ہوں تم فاروق بھائی کو لے کر پہنچو نائلہ نے دعا کو گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا.
چلیں سرمد فاروق صاحب کو گاڑی میں بیٹھا کر سامان ڈگی میں رکھنے لگا
گاڑی جیسے ہی ایک قدیم دیو قامت لکڑی کے دروازے پاس پہنچی وہ خودبخود کھلتا چلا چلا گیا. دعا نے یہ منظر حیرانگی سے دیکھا
نائلہ یہ دروازہ بلکل کسی قدیم خونی محل کا لگتا ہے. جہاں بہت ساری روحیں رہتیں ہیں. یا جہاں بہت سارے قتل ہوتے ہیں. انگریزی فلموں میں ایسا ہی دیکھاتے ہیں. دعا کے یوں بولنے پر نائلہ نے پہلے حیرت پھر بے یقینی سے اسے دیکھا
کیا ہوا ……؟ ؟؟نائلہ کی حیرانگی پر دعا نے تشویش سے پوچھا
کچھ نہیں نائلہ کو امید نہیں تھی کہ اتنی جلدی دعا باتیں کرنے لگے گی یہ بھائی حاکم علی کے بزرگوں کی حویلی ہے. اس کے بہت سارے حصے ہیں. مردان خانہ، زنان خانہ، مہمان جانہ، ایک حصہ صرف فنکشن وغیرہ کے لیے مخصوص ہے. ایک حصے میں جرگہ بیٹھتا ہے. ایک حصہ میں مریدین آتے اور اپنے مسائل بیان کرتے ہیں اور ایک حصہ درگاہ سے جڑا ہے. گاڑی اب ایک طویل سڑک پر چل رہی تھی جس کی دونوں طرف درخت تھے. اس حویلی کے لوگ آپس میں صرف عید پر ہی ملتے ہوں گے اپنی بات کے آخر میں دعا کھلکھلا کر ہنسی تو ساری گاڑی اس کے قہقہوں سے گونج اٹھی.
شکر ہے. اللہ تیرا شکر ہے یہ بچی بھی بولی، ہنسی اللہ سائیں اب اسے اسی طرح ہنستے مسکراتے رکھنا. نائلہ دل ہی دل میں اس کی نظر اتارتی دعائیں مانگ رہی تھی. بلآخر گاڑی ایک اور آہنی خوبصورت گیٹ پر رکی اور پہلے ہارن پر ہی گیٹ کھل گیا. یہ جگہ اندر سے کافی مختلف اور لگثری تھی. پہلے ایک وسیع و عریض لان جس کی ایک سائیڈ پر سوئمنگ پول تھا پھر ایک اور خوبصورت دروازہ جہاں گاڑی رکی. دعا نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنی چادر سنبھالتی گاڑی سے باہر نکلی. ان کے آگےشایان کی گاڑی تھی. وہ لوگ بھی باہر نکلے. دروازہ عبور کرتے ہی ایک وسیع لاؤنچ منتظر تھا وہ رنگ برنگی تیز روشنیوں سے سجا ہوا تھا. جدید طرز کا فرنیچر اور اعلیٰ ترین فرش اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے تھے. نائلہ یہ لاؤنچ کتنا بڑا اور خوبصورت ہے نااااااا دعا پوچھ رہی تھی یا بتا رہی تھی نائلہ سمجھ نہیں سکی.
بیٹی تیرے ننھال والے ملتان کے رئیس ہیں. مذاق تھوڑا ہی ہے. وہ تو ہماری آپا کی قسمت خراب تھی جو تیرے ابا ساتھ بھاگ گئی. ورنہ آج وہ زندہ ہوتی اور ملکہ جیسی زندگی گزار رہی ہوتی. نائلہ نے آہ بھری
نائلہ کی بات سے دعا کا چہرہ فوراً مرجھا گیا. اس نے نظر اٹھا پر اپنے سامنے بیٹھے باپ کو دیکھا جو شایان ساتھ گفتگو میں مصروف تھے.
میرے بابا جیسا کوئی نہیں ہے. کوئی بھی نہیں انھوں نے مجھ پر آنکھ بند کر کے اعتبار کیا ہے. ساری دنیا کی دولت مل کر بھی میرے بابا کا مقابلہ نہیں کر سکتی. دعا ایک دم تلخ ہوئی اچھا اچھا ٹھیک ہے. نائلہ نے اسے برہم ہوتا دیکھ کر فوراً بات بدلی تم فریش ہو جاؤ پھر کھانا کھاتے ہیں. مجھے تو بہت زوروں کی بھول لگی ہے. نائلہ نے پیار سے اس کی چادر درست کی. شایان نے اونچی آواز میں کچھ کہا جسے وہ سمجھ نہیں پائی شاید وہ سرائیکی بول رہا تھا خیر جو بھی تھا اس کے بولتے ہی دو تین بندے اور دو عورتیں لاؤنچ میں داخل ہوئیں شایان نے ہاتھ سے دعا کی طرف اشارہ کیا تو دعا جو اس وقت سے حیرت میں سب کو گھور گھور کردیکھ رہی تھی نظریں پبیر گئیں. ان ساتھ جا کر منہ ہاتھ دھو آؤ پھر کھانا کھاتے ہیں. نائلہ نے اوپر جاتی سیڑھیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دعا سے کہا نہیں میں تو اوپر نہیں جاؤں گی. اب منہ ہاتھ دھونے کے لیے مجھ سے اتنا سفر نہیں ہوتا. میرے ہاتھ صاف ہیں. دعا کے انکار پر نائلہ نے بے بسی سے اسے دیکھا جو بے مقصد ضد کر رہی تھی. شایان نے پھر کچھ کہا مگر دعا سمجھنے سے قاصر تھی. اس کے تاثرات اور اشاروں سے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اسی کے بارے میں کچھ کہہ رہا ہو. چلو میں بھی تمہارے ساتھ ہی چلتی ہوں ہم کھانا اوپر ہی کھا لیں گے. اب ٹھیک ہے ……. ؟؟ نائلہ نے تشکر بھری نظروں سے شایان کو دیکھتے ہوئے دعا سے کہا جس پر وہ سر ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی. اتنا بڑا کمرہ دعا نے جیسے ہی کمرے میں پاؤں رکھا حیرت سے اس ہال نما کمرے کو دیکھا
یہ پرانی زمانی کی حویلی ہے. ابھی تو بھائی صاحب اور شایان نے کافی تبدیلیاں کی ہیں. اگر تم اپنے نانا کے وقت اس حویلی کو دیکھتی تو حیران رہ جاتی. نائلہ نے دعا کی حیرت پر اسے بتایا.
نانا کا اس حویلی سے کیا تعلق …… ؟؟؟
یہ تو خالو کی ہے ناااآ _ دعا کو نائلہ کی بات سمجھ نہیں آئی. حاکم علی بھائی ہمارے کزن ہءں. چچا کے بیٹے پہلے سب اکٹھے ہی رہتے تھے. مگر جب تمہارے ماموں باہر شفٹ ہو گئے تو یہ ساری حویلی اور اس کے انتظامات حاکم بھائی نے سنبھال لیے. شایان بھی کچھ عرصہ پہلے ہی امریکہ سے آیا ہے. یہ بھی وہاں ہی ہوتا تھا. نائلہ کے جواب پر دعا کچھ پریشان سی ہو گئی.
تمہاری ماں کی دو بہنیں اور ایک بھائی ہے. تمہاری ماما اور شایان کی ماما فوت ہو گئیں ہیں جبکہ میں اور تمہارے ماموں ابھی زندہ ہیں.
باقی وہ یہاں نہیں رہتے. وہ شروع سے باہر ہی پڑھے اکلوتے ہونے کی وجہ سے تمہارے نانا کے بہت لاڈلے تھے. پاکستان صرف شادی کے لیے آئے تھے پھر دوبارہ امریکہ ہی چلے گئے. تم نے بھی تو ان کی شادی اٹینڈ کی تھی یاد کرو ……؟ ؟؟ نائلہ کے یاد کرانے پر دعا کچھ عجیب نظروں سے دیکھنے لگی وہ آخری شادی تھی جسے دعا نے بہت انجوائے کیا تھا. اس کے بعد تو اس کی زندگی میں دکھ ہی دکھ لکھ دیے تھے. دعا کی خاموشی پر نائلہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا. جیسے اچھا وقت نہیں رہتا بلکل ویسے ہی برا وقت بھی گزر جاتا ہے. پیچھے مڑ کر دیکھنا چھوڑ دو. نائلہ نے محبت بھرے لہجے میں تسلی دی. برے وقت بھی گزر جاتا ہے لیکن اس کی کڑواہٹ ختم نہیں ہوتی. دعا نے آہستہ سا کہتے ہوئے اپنی آنکھیں صاف کی. اچھا چھوڑو ابھی ہم اچھا سا، مزےدار سا کھانا کھائیں گے اس کے بعد میں تمہاری ساری باتیں سنوں گی. ہم خوب باتیں کریں گے. نائلہ کی بات پر دعا نے ہاں میں سر ہلایا. 🔖🔖🔖🔖🔖 چلو بھئی جلدی کرو وہ ہمارا انتظار کر رہا ہے اور ایک تم ہو کہ عرفان نے سستی سے ناشتہ کرتی دعا کو دیکھ کر کہا
بس تیار ہونے لگی ہوں. آپ مجھے ناشتے تو کرنے دیں. دعا نے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے جواب دیا جبکہ دل کسی پتے کی طرح کانپ رہا تھا کہ اگر بابا نہ آئے تو کیا ہو گا …….. ؟؟؟
بار بار نظریں غیر ارادی طور پر گھڑی کی طرف اٹھ رہیں تھیں. بابا پلیز آ جائیں دعا دل ہی دل میں فاروق صاحب ساتھ مخاطب تھی. تمہارا ناشتہ آج ختم ہو گا کہ نہیں ……. ؟؟ عرفان نے موبائل کان سے ہٹاتے ہوئے قدرے برہم لہجے میں پوچھا جا رہی ہوں. اتنے ناراض کیوں ہو رہے ہیں…….. ؟؟ دعا نے اپنے تاثرات کو چھپاتے ہوئے نرمی سے جواب دیا وہ نہیں چاہتی تھی کہ عرفان کو اس پر زرا بھی شک ہو. سنو رکو کیا پہننے لگی ہو ……. ؟؟ عرفان نے کال بند کرتے ہوئے دعا کو آواز لگائی
کپڑے اندر کا دکھ اور غصہ چھپائے اس کے منہ سے صرف اتنا ہی نکلا.
ہاہاہاہاہا کمال کرتی ہو ہاررررر میرا مطلب تھا کونسا ڈریس پہننے لگی ہو …….. ؟؟ عرفان نے اسے دونوں بازوؤں سے تھاما
منافق، کمینہ ترین انسان سانپ سے زیادہ زہریلا، کاش برے لوگوں کے چہرے بتا دیتے کہ یہ برے ہیں ان سے بچ کر رہو.
جیسے اللہ نے اپنی خوف ناک مخلوق سے خبردار کیا ہے. دعا نے عرفان کو دیکھتے ہوئے دل میں سوچا
کیا دیکھ رہی ہو. دیکھو پریشان مت ہو کچھ نہیں ہو گا اور نہ ہی کسی کو کچھ پتہ چلے گا …….. ؟؟ عرفان نے اپنی ذہنیت کے مطابق تسلی دی. جس پر دعا نے ناگواری سے اس کا حصار توڑا.
میں جو کل کپڑے لایا تھا اس میں ایک بلیک کلر کی ساڑھی ہے وہ پہن لو. اُس نے خاص طور پر تمہارے لیے لی تھی. بےغیرتی کی تمام حدیں توڑتے ہوئے عرفان نے دعا سے کہا
اللہ جی پلیزززز جلدی سے بابا کو بھیج دیں. دعا خامخواہ ہی ہر کام کو لیٹ کر رہی تھی. وقت کا کام ہے گزرنا. جو دھیرے دھیرے گزر رہا تھا.
دعا جب تیار ہو کر باہر نکلی تو بلیک ساڑھی میں اس کی خوبصورتی دیکھنے والے کو خیرہ کر رہی تھی. تھوڑی دیر کے لیے تو عرفان بھی ساکت رہ گیا.
میں نے تو کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ تم اتنی خوبصورت لگ سکتی ہو.
عرفان نے دعا کو سراہتے ہوئے چلنے کا اشارہ کیا. یہ دعا کی شادی شدہ زندگی میں پہلی بار ہوا تھا کہ عرفان نے اسے یوں دیکھا تھا جیسے کوئی اپنے محبوب کو دیکھتا ہے.
جوں جوں دعا گاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی اسے اپنے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی. وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ اب آگے کیا اور کیسے کرنا ہے …….. ؟؟
کیونکہ یہ تو طے یے کہ وہ گناہ نہیں کرے گی دعا نے دل میں حتمی فاصلہ کرتے ہوئے آنکھیں موند لیں. اس سے پہلے کے گاڑی گیٹ کراس کرتی. دعا نے عرفان کو کسی سے انتہائی تمیز سے سلام کرتے سنا.
انکل آپ اور اس وقت باوجود انتہائی پر اعتمادی کے عرفان کا لہجہ اس وقت گھبراہٹ کا شکار تھا.
آپ لوگ شاید کہیں جا رہے ہیں. میں آپ کو کبھی ڈسٹرب نہ کرتا مگر دعا کی پھپھو میری تایا زار انتقال کر گئیں ہیں. فاروق صاحب کے لہجے سے ایسا محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہوں. دعا نے فاروق صاحب کی طرف حیرانگی سے دیکھا
انکل کوئی بات نہیں. ہم پھر کبھی چلے جائیں گے. آپ دعا کو لے جائیں میں بھی بس آپ لوگوں کے پیچھے ہی آ ریا ہوں. عرفان نے ہمیشہ کی طرح انتہائی عاجزی اور فرمانبرداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا.
جو عرفان دعا کے سامنے تھا وہ کوئی اور شخص تھا اور یہ عرفان بلکل مختلف شخص دعا جب بھی عرفان کا رویہ اپنے گھر والوں سے دیکھتی پریشان ہو جاتی.
عرفان انتہائی محبت اور ادب سے دعا کے گھر والوں ساتھ پیش آتا. خوب مہمان نوازی کرتا. فاروق صاحب کی ہر بات پر آمین کہتا کبھی ان کے سامنے سر اٹھا کر بات نہیں کرتا تھا.
عرفان کی اجازت ملتے ہی دعا اندر گئی اور کپڑے بدل کر باہر نکلی. اب وہ سادہ سے لان کے سوٹ اور بلیک چادر میں تھی.
خبردار جو کسی سے کوئی ایسی ویسی بات کی ورنہ نتائج کی ذمہ دار تم ہو گی عرفان نے دعا کو پیسے پکڑاتے ہوئے دھمکی دی.
بیٹا اس کی کیا ضرورت تھی. آپ اس طرح دعا کا خیال رکھتے ہیں کہ میں بھی شرمندہ ہو جاتا ہوں. فاروق صاحب نے عرفان سے مصافحہ کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور دعا ساتھ بائیک پر بیٹھ کر چل دئے.
پھر نائلہ بہت غور سے ایک ایک لفظ سن رہی تھی جو دعا کے لبوں سے ادا ہو رہا تھا.
میرا سر پھٹنے لگا ہے. دعا نے اپنا سر تھام لیا.
اچھا تم پریشان نہ ہو میں تمہارے لیے گولی اور دودھ لاتی ہوں. نائلہ دعا کا کندھا تھپکتی کمرے سے باہر آ گئی.
🔖🔖🔖🔖🔖
یہ نمبر سرمد صاحب کا ہے …….. ؟؟ سرمد نے جیسے ہی کال اٹینڈ کی ایک خوبصورت نسوانی آواز اس کے سپیکر سے نکلی.
سرمد صاحب _ سرمد نے حیرت کی زیادتی ساتھ زیر لب دھرایا. جی مجھے تو انھوں نے ہی دیا تھا. دوسری طرف شاید جو بھی تھا مگر کافی عجلت میں لگ رہا تھا. جی محترمہ یہ نمبر میرا یعنی آپ کے “سرمد صاحب” کا ہی ہے سرمد کا لہجہ شرارتی ہوا.
وہ میں راولپنڈی سے بول رہی ہوں. کچھ دیر کے بعد ہچکچاتے ہوئے بتایا گیا.
اچھا مگر میں تو ملتان سے بات کر رہی ہوں. ویسے ایک مشورہ دوں اتنی دور دور کالزز نہ کیا کریں موبائل خراب ہو جاتا ہے. سرمد نے اپنی ہنسی دبائی.
جی دوسری طرف سے حیرانگی ساتھ پوچھا گیا.
آپ چھوڑیں ان باتوں کو اور یہ بتائیں کہ کال کیوں کی ہے ……… ؟؟
میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہوتا. وہ میں کافی مصروف بندہ ہ. سرمد نے پاس بیٹھے شایان کو کن اکھیوں سے دیکھتے ہوئے رعب ڈالا
پہلے بتائیں آپ کو یاد تو آ گیا ہے نااااا کہ میں کون ہوں……. ؟؟؟ عنایہ نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے پوچھا
بی بی آپ نے وائس کال کی ہے. ویڈیو نہیں تو مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ آپ کون ہیں …….. ؟؟ سرمد نے آس پاس بیٹھے لوگوں کو دیکھتے ہوئے جواب دیا.
میں دعا کی کزن یاد آیا. جیسے ہی عنایہ نے دعا کا لفظ استعمال کیا سرمد چونکا
جی جی آ گیا یاد تو آپ ہیں کہیے کیا بات کرنی تھی ……؟ ؟ سرمد اب سنبھل گیا تھا
وہ مجھے ایک تعویذ بنوانا ہے. جتنے بھی ہیسے لگے پرواہ نہیں عنایہ نے دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے قدموں کی آواز آ رہی ہے.
اچھا پھر بات کروں گی. عنایہ نے جلدی سے فون بند کر دیا.
چل یارررر نکال ہزار کا نوٹ فون پاکٹ میں ڈالتے ہوئے سرمد نے جھک کر شایان کے کان میں سرگوشی کی
خیر ہے گرمی سر کو لگ گئ ہے _شایان نے مصروف سے انداز میں جواب دیا.
تُو نے کہا تھا جس دن تجھے کسی لڑکی نے گھاس ڈالی میں تجھے ہزار کا نوٹ دوں گا. ابھی مجھے ایک لڑکی کی کال آئی ہے. سرمد کی بات سنتے ہی شایان طنزاً مسکرایا.
ابھی مصروف ہوں پھر تیرا کچھ کرتا ہوں. شایان نے اردگرد بیٹھے لوگوں کی طرف نظر مارتے ہوئے جواب دیا
🔖🔖🔖🔖🔖🔖
جاری ہے.
