No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
بس اس نمونے کی کمی رہ گئی تھی. اس کو کس نے بلوایا ہے….. ؟؟؟رخسانہ بیگم نے عذرا بیگم سے پوچھا
بھائی صاحب کے خیال میں ان کی بٹیا پر کسی نے “جادو” کر دیا ہے. تبھی اس کا گھر نہیں بس رہا یہ کل کا چھوکرا اس کا علاج کرنے آیا ہے _ عذرا بیگم نے تمسخر سے کہتے ہوئے رخسانہ بیگم کی طرف دیکھا جو ان کی بات پر ہنس رہیں تھیں. چلو جی یہ شوق بھی پورا کر کے دیکھ لیں. ویسے حد ہے میں نے ایسا باپ آج تک نہیں دیکھا. لوگ تو ایسی باتیں چھپاتے ہیں اور بیٹی کو سختی سے منع بھی کرتے ہیں کہ کسی سے ذکر مت کرنا مگر یہاں تو بھائی صاحب اشتہار لگا رہے ہیں. رخسانہ بیگم کے لہجہ میں حقارت تھی. ماما آپ ادھر چچا کے پوشن میں بیٹھیں ہیں. ادھر ابو کا فون آیا ہوا ہے عنایہ نے ناراضگی سے ماں کی طرف دیکھا جو ہر وقت فاروق چچا کے پوشن میں عذرا پھپھو ساتھ گپے مارتیں رہتیں تھیں.
آج کیوں فون کیا ہے. ابھی کل تو بات ہوئی ہے. خیر ہے…… ؟؟؟
تُو نے تو کوئی شکایت نہیں لگائی. ایک تو میری اولاد ہی میری دشمن ہے ان کے ہوتے ہوئے مجھے کسی دشمن کی کمی محسوس نہیں ہوتی. رخسانہ بیگم بولتی ہوئی اپنے پوشن کی طرف چل دی جبکہ عنایہ وہیں پھپھو پاس بیٹھ گئی.
پھپھو ڈرائنگ روم میں کون ہے….. ؟؟؟
ڈرائنگ روم سے باتوں کی آواز آسانی سے برآمدے میں پڑے تخت پوش پر بیٹھی عنایہ کو سنائی دے رہی تھیں.
بھائی صاحب نے ملتان سے کسی پیر کو بلوایا ہے. بلکہ پیر نہیں یوں سمجھ لو اس کے لیے کھیلنے کے لیے ایک نیا کھلونا خریدا ہے. عذرا بیگم کے جواب پر عنایہ نے سر نفی میں ہلایا.
پھپھو آپ کیسی باتیں کرتیں ہیں. میری تو دعا ہے کہ وہ جلدی جلدی ٹھیک ہو جائے پھر ہم پہلے کی طرح کھیلا کریں گے. ہائے کتنا مزہ آتا تھا. عنایہ نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے پر جوش لہجے میں کہا
عنایہ ہوش کرو. مجھے اور تمہاری ماں کو اس کے ساتھ تمہارا اٹھنا بیٹھنا بلکل پسند نہیں.
اول تو وہ بلکل ٹھیک ہے اسے عادت ہو گئی ہے نئے نئے مردوں سے شادی کرنے کی دوسرا اگر ایسا ہی کچھ ہے تو پاگل خانے بھیج دیں تاکہ ہم سب کی جان سکھی ہو. عذرا بیگم کہتی ہوئی تخت پوش سے نیچے اتری
غلط بات ہے. پتہ نہیں کیوں آپ اور ماما اس ساتھ ایسا سلوک کرتیں ہیں. حالانکہ وہ بہت اچھی ہے. عنایہ کو دکھ ہوا.
لڑکی جتنی تیری عمر ہے اتنا ہمارا تجربہ ہے. وہ لڑکی بہت چالاک ہے تیری جیسی کو تو وہ یوں گھما دے. عذرا بیگم نے چٹکی بجائی.
اس سے پہلے کے عنایہ مزید کچھ کہتی ڈرائنگ روم سے نکلتے فاروق صاحب کے پیچھے شخص کو دیکھ کر حیران رہ گئی.
سفید سوٹ، اجرک کی چادر کندھے پر ڈالے، ہلکی ہلکی بڑھی داڑھی اس کے سفید رنگ کو مزید اجاگر کر رہی تھی. دراز قد،. کسرتی وجود عنایہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ پیر کون ہے….. ؟؟؟
بیٹا یہ ملتان سے آئیں ہیں. دعا کے کزن مخدوم شایان قریشی اور یہ ان کے دوست سرمد ہیں. فاروق صاحب نے باری باری دونوں کا تعارف کرایا. جس پر سرمد نے سر ہلا کر دونوں کو سلام کیا جبکہ شایان چہرہ پھیر گیا. دعا کا کمرہ اوپر ہے فاروق صاحب نے سیڑھیوں کی طرف اشارہ کیا تو عذرا پھپھو کو ہوش آیا.
ارے ایسے کیسے جوان جہاں لڑکوں کو اس کے کمرے میں لے جا رہے ہیں عذرا نے دہائی دی
میرے خیال سے آپ پہلے اپنے گھر والوں سے مشورہ کر لیں. شایاں اپنی رعب دار آواز میں مڑتے ہوئے کہا تو عنایہ اس کی آواز میں کھو گئی.
پہلی نظر کی محبت کا وجود ہوتا ہے وہ اس پر آج ایمان لے آئی تھی. اتنا وجہی مرد اس نے آج تک نہیں دیکھا تھا. عنایہ تو بس اس کے سحر میں کھو گئی تھی.
عذرا آپ خاموش رہیں فاروق صاحب نے غصے سے انھیں جواب دیا اور شایان کو اوپر چلنے کا اشارہ کیا.
توبہ توبہ یہ تو قیامت کی نشانی ہے باپ خود بیٹی کے کمرے میں جوان مرد لے کر جا رہا ہے. بھائی صاحب کی عقل تو گھاس چرنے چلی گئی ہے. لوگ کیسی کیسی باتیں بنائیں گے….؟
چل تیری ماں کو بتا کر آتی ہوں. عذرا بیگم نے اپنی چادر درست کی اور عنایہ کو اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا مگر وہ تو مسلسل سیڑھیوں کی طرف دیکھ رہی تھی جہاں سے ابھی ابھی شایان گزرا تھا.
🔖🔖🔖🔖🔖
آپ یہاں بیٹھیں میں اسے بلا کر لاتا ہوں. کمرے کے باہر پڑے صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فاروق صاحب نے دروازے پر ہلکی سی دستک دی. دو تین بار دستک دینے پر لاک کھلنے کی آواز آئی اور فاروق صاحب کمرے میں داخل ہوتے ہوئے ان کی نظروں سے اوجھل ہوئے.
یہ سب کیا ماجرا ہے…… ؟؟؟
فاروق صاحب کے جاتے ہی سرمد کی زبان حرکت میں آئی جو کب سے خاموش تھی.
کونسا…..؟؟ ؟
شایان نے اپنا کان کھجاتے ہوئے پوچھا
یہی جو نیچے آنٹی گوہر افشائی کر رہیں تھیں. ایک طرف باپ مرتا جا رہا ہے اور دوسری طرف وہ مارنے پر تلے ہوئے _ سرمد کی وضاحت پر شایان کے چہرے پر لمحہ بھر مسکان آ کر معدوم ہو گئی. میرا ایک مشورہ ہے. یقین مان اگر تو اس پر سنجیدگی سے عمل کرے تو بہت ترقی کرے گا. شایان نے اس کی طرف جھکتے ہوئے سرگوشی کی. کیا…..؟ سرمد نے فوراً پوچھا شاعری شروع کردے کسی طنزومزاح کے پروگرام میں میزبان لگ جا تیرے اندر ایک نہیں بلکہ دو تین میراثیوں کی روح ہے.
تو اپنی اس “خداداد” صلاحیت سے بےخبر ہے. جو تجھ میں “کوٹ کوٹ” کر بھری ہوئی ہے. جس کی وجہ سے تجھے میں نے کافی دفعہ “کوٹا” بھی ہے. شایان کے اس قدر سنجیدگی سے دیے گئے غیر سنجیدہ مشورے پر سرمد نے اسے دکھ بھری نظر سے دیکھا
اس سے بڑھ کر اور دکھ کیا ہو گا جب یار یار نہ رہے سرمد نے دہائی دی.
اس سے بڑا دکھ “طلاق” ہے مگر تو اس دکھ سے آشنا نہیں. قسم سے اگر تو لڑکی ہوتا تو میں پہلے تجھ سے شادی کرتا پھر طلاق دیتا تب تجھے اندازہ ہوتا. شایان کا موڈ ایک دم فریش ہو گیا تھا.
شکریہ مخدوم شایان قریشی میں محض آپ کی تسکین کے لیے اپنی جنس نہیں بدل سکتا سرمد منہ پھر کر بیٹھ گیا.
ویسے تیرے انداز بلکل بیویوں والے ہیں دوستوں والے نہیں _ شایان مسلسل اپنی ٹانگ ہلا رہا تھا. اگر میری جیب میں اس وقت پیسے ہوتے تو میں ابھی اسی وقت _ سرمد نے رک کر سانس لی.
واپس چلا جاتا شایان نے لقمہ دیا.
جی نہیں بلکل بھی نہیں اگر میری جیب میں اس وقت پیسے ہوتے تو میں ہوٹل سے ایک زبردست چائے کی پیالی ساتھ کریم رول کھاتا مگر افسوس سرمد نے آہ بھری
تھوڑی دیر پہلے ڈرائنگ روم میں جو کھایا تھا وہ “گھاس” تھی. شایان نے طنز کیا
تُو نے کھانے ہی کب دیا فوراً تو جانے کے لیے کھڑا ہو گیا تھا. سرمد نے گلہ کیا
جن لوگوں کی آنکھیں نہیں بھرتیں وہ ساری زندگی بھوکے ہی رہتے ہیں. شایان نے کہتے ہوئے اردگرد دیکھا
اچھا چھوڑ دفع کر ہر وقت دوست کو کوستے رہنے سے بد شگونی ہوتی ہے. سرمد کی بات پر شایان مسکرانے لگا
ویسے مزاق سے ہٹ کر تیری خالہ کے سسرال والے کچھ عجیب سے لوگ ہیں. میرا مطلب بتمیزززز بدلحاظ سے سرمد نے عذرا بیگم کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہا
خیر سب تو ایسے نہیں ہیں تم نے شاید صرف آنٹی پر ہی غور کیا ہے. شایان نے عنایہ کا حوالہ دیا.
ویسے پیاری لڑکی تھی مگر میں نے جان بجھ کر اس کا ذکر نہیں کیا کہ تجھے برا لگے گا. سرمد نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا.
میری خالہ ساتھ ان لوگوں نے کبھی اچھا سلوک نہیں کیا لہذا میرا دل میں ان کے لیے کوئی محبت نہیں ہے. وہ تو نائلہ خالہ نے زور دیا تھا تو می انکار نہ کر سکا
دعا بہت لاڈلی ہے نائلہ خالہ کی _ بلکہ کچھ عرصہ پہلے تک تو سب کی ہی لاڈلی تھی. شایان نے سنجیدہ سے بتایا. تیری خالہ نے ایسا کیا کیا تھا جو وہ انھیں اپنا نہ سکے…… ؟ سرمد اب بلکل سیریس تھا. وہی جو بےوقوف لڑکیاں کرتیں ہیں خالو جوانی میں کافی خوبصورت تھے. ہماری خانقاہ پر اپنے یونی ٹرپ ساتھ آئے تھے.
بس پھر خالہ نے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ساری زندگی کے لیے اپنی زلت کا بندوبست کیا. شایان تلخ سا مسکرایا.
مطلب….؟ سرمد نے اپنے اندازے کی جانچ کے لیے پوچھا
بھاگ کر شادی کی تھی. انجام تمہارے سامنے ہے. ایک تو وہ غیر خاندان کی تھیں. دوسرا بھاگ کر آئیں تیسرا بیٹا پیدا نہ کر سکیں تو شایان کندھے اچکائے.
پہلے بھی کبھی یہاں آیا ہے…..؟ سرمد نے ماحول کو مزید سنجیدگی سے بچایا.
جب یہ دعا بی بی پیدا ہوئی تھی تو نانا نانی خالہ سے ناراض تھے مگر پھر بھی بیٹی تھی ان سے رہا نہ گیا میرے والد کے ہاتھ چیزیں بھجوائیں تھیں. تب میں بھی ابو ساتھ یہاں آیا تھا شایان نے بےتاثر لہجہ میں بتایا.
یارررر ایسا نہیں لگ رہا جیسے ہم لیبل روم کے باہر بیٹھیں ہوں اور بے چینی سے ڈاکٹر کا انتظار کر رہے ہوں کہ کب وہ آ کر کہے “مبارک ہو بیٹا ہوا ہے” سرمد نے شایان کو بار بار ٹائم دیکھتے ہوئے انتہائی سنجیدگی سے پوچھا
استغفراللہ سرمد ، میرے اصول میں یہ بات شامل نہیں کہ میں دوست پر ہاتھ اٹھاؤں ورنہ تیری اس قدر غیر مہزب بکواس پر تیرا منہ توڑ دیتا. شایان نے اپنی ہنسی دباتے غصے سے کہا
بس بس رہنے دے اپنے اصول کو _ ہاتھ نہیں اٹھاتا ہر وقت تو لات مارتا رہتا ہے ابھی بھی میری پسلی میں درد ہے. سرمد نے مسکین شکل بنائی.
تو غلط کام نہ کیا کر ، نہیں ماروں گا ابھی شایان نے اتنا ہی کہا تھا کہ فاروق صاحب دروازہ کھول کر باہر نکلے 🔖🔖🔖🔖🔖 وہ دراصل مردوں سے بہت ڈرنے لگی ہے. میں نے بتایا نااااا کہ وہ عجیب چیزوں سے ڈرتی ہے تو فاروق صاحب کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیسے کہیں…..؟؟ ؟
میرے خیال سے نامحرم مردوں سے سبھی لڑکیوں کو ڈرنا چاہیے. یہ ڈر تو بہت اچھا ہے. شایان اٹھ کھڑا ہوا.
بیٹا آپ برا مت منانا مگر صرف شایان ہی اندر جا سکتے ہیں. بڑی مشکل سے میں نے اسے منایا ہے آپ دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر کہیں وہ آپ لوگوں پر حملہ نہ کر دے. فاروق صاحب شرمندہ ہوئے.
کوئی بات نہیں. میں یہاں ہی ٹھیک ہوں. (مجھے اپنی شکل بگاڑنے کا کوئی شوق نہیں). آخری جملہ سرمد نے زیر لب دہرایا.
شایان نے فاروق صاحب کے ساتھ جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا تو جس چیز نے اسے حیران کیا وہ اس کمرے کی حالت تھی.
باقی گھر کی نسبت یہ کمرہ ضرورت سے زیادہ ہی سادہ تھا. ایک چار پائی، ایک ٹو سیٹر صوفہ اور ایک چھوٹا سا میز جو چارپائی ساتھ پڑا تھا. باقی سارا کمرہ خالی تھا.
فاروق صاحب نے اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود ٹیرس کی طرف بڑھ گئے.
چند لمحے ہی گزرے ہوں گے کہ ایک دبلی پتلی لڑکی جو کم از کم اسے دعا نہیں لگی فاروق صاحب کا بازو پکڑے اندر داخل ہوئی.
ہلکے گلابی رنگ کے پرنٹڈ لان سوٹ پر سادہ سا نیٹ کا دوپٹہ لپیٹے وہ فاروق صاحب ساتھ چارپائی پر سمٹ کر بیٹھ گئی.
شایان نے گہری نظروں سے اس کا جائزہ لیا. اس کی رنگت حد سے زیادہ سفید تھی جیسے کوئی تھیلیسیمیا کا مریض ہوتا ہے. آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے اور شدید کمزور، ڈری سہمی سی یہ تو وہ دعا ہے ہی نہیں جس نے ماموں کی شادی پر شایان کی بینڈ بجائی تھی. بیٹا یہ شایان ہیں تمہاری بڑی خالہ کے بیٹے انھیں خاص طور پر نائلہ نے بھیجا ہے. وہ آپ کے بارے میں بہت فکر مند ہو رہیں تھیں. آپ ان سے فون پر بات جو نہیں کرتیں اس لیے فاروق صاحب نے پیار سے دعا کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بتایا.
شایان نے نوٹ کیا وہ بلکل ایسے بیٹھی تھی جیسے اس کمرے کا حصہ ہی نہ ہو. حالانکہ وہ دعا کے لیے دل میں کوئی ہمدردی نہیں رکھتا تھا پھر بھی اس کی حالت پر دکھی ہوا.
فاروق صاحب نے بہت ادھر ادھر کی باتیں کی مگر وہ لڑکہ ٹس سے مس نہ ہوئی. اس نے ایک بار بھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا. یہ بات شایان نے نوٹ کی کہ اسے عام باتوں سے کوئی غرض نہیں. اسے بلانے کے لیے کچھ خاص کہنا ہو گا
نائلہ خالہ نے مجھے آپ کو لانے کے لیے کہا ہے. کیا آپ ملتان چلیں گئیں…..؟ ؟؟
شایان نے جیسے ہی یہ جملہ ادا کیا ایک جھٹکے سے دعا نے اس کی طرف دیکھا. موٹی موٹی آنکھوں میں سرخ ڈورے، کچھ دیر وہ بےخیالی میں شایان کو دیکھتی رہی جیسے کچھ کھوج رہی ہو.
چلیں گئیں نااااا شایان نے دوبارہ مخاطب کیا.
نہیں تم مجھے وہاں جا کر بیچ دو گے. تم مجھے دھوکے سے لینے آئے ہو. تمہیں اسی نے بھیجا ہے. میں جانتی ہوں.
اچانک دعا چیخی اور آس پاس کچھ تلاش بھی کرنے لگی.
دعا کی اس اچانک بدلتے رویہ پر شایان گھبرا کر کھڑا ہو گیا جبکہ فاروق صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ تھی.
چلے جاؤ یہاں سے میں تمہیں جان سے مار دوں گی. دعا نے شایان کا گریبان پکڑا تو فاروق صاحب کو ہوش آیا. وہ جو اتنے عرصے بعد دعا کو بولتا دیکھ کر خوش ہو رہے تھے اس کے جارحانہ عزائم پر پریشان ہوئے.
دعا انھیں چھوڑ دو یہ وہ نہیں ہیں جو تم سمجھ رہی ہو. فاروق صاحب نے دعا کو پیچھے کرنے کی کوشش کی جبکہ شایان ایسی کوئی کوشش نہیں کر رہا تھا.
دعا کچھ دیر بولتی اور چیختی رہی پھر شدید کمزوری اور ڈپریشن کی وجہ سے فاروق صاحب کے بازو ؤں میں جھول گئی.
فاروق صاحب نے احتیاط سے اسے چار پائی پر لٹایا جبکہ شایان باہر نکل گیا.
میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں. مگر آپ کا شکر گزار بھی ہوں کتنے عرصے بعد وہ بولی ہے ورنہ صرف اونچا اونچا روتی تھی. فاروق صاحب کی آنکھوں میں نمی تھی.
آپ ہہلے ڈاکٹر کو بلوا کر اس کا چک اپ کروا لیں باقی باتیں بعد میں کرتے ہیں. شایان نے انھیں تسلی دی.
آپ پلیزز واپس مت جائیں میرا دل گواہی دیتا ہے وہ آپ کی برکت سے جلد ٹھیک ہو جائے گی. میں منہ مانگی رقم دوں گا. میرا سب کچھ اسی کے لیے ہے. فاروق صاحب جزباتی ہو رہے تھے.
آپ پہلے ڈاکٹر کو کال کریں ہم بعد میں بات کرتے ہیں. شایان نے فاروق صاحب کا کندھا تھپکا
آپ کی برکت سے وہ جلد ٹھیک ہو جائے گی _ یہاں آپ کی برکت سے لوگ خراب ہو رہے. سرمد نے فاروق صاحب کے جاتے ہی نقل اتاری. میرا اصول ہے کہ میں شایاں نے ابھی بولنا شروع ہی کیا تھا کہ سرمد فاصلہ پر ہو گیا.
ایک مہربانی کر اپنا یہ اصول توڑ دے. کم از کم ہاتھ لات سے کم ہی تکلیف دیتا ہو گا. تو مجھ پر ہاتھ اٹھا لیا کر _سرمد کی بات پر شایان پر سوچ انداز میں مسکرایا. وہ آپ کی برکت سے جلد ٹھیک ہو یا نہ ہو مگر مجھے لگتا ہے کہ آپ اس کی برکت سے ٹھیک ہو جائیں گے سرمد نے شرارات کے ساتھ کہتے ہوئے نیچے کا رخ کیا مبادہ شایان ہاتھ ہی نہ اٹھا لے.
🔖🔖🔖🔖🔖
جاری ہے.
