Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

تمہاری بات ہوئی ہے اس سے …… ؟؟ نائلہ نے تجسس سے پوچھا
ہوئی تھی _ شایان نے گہرا سانس لیتے ہوئے جواب دیا. کیسی ہے …. ؟؟ نائلہ کے سوال میں اس کے لیے فکر ہی فکر تھی. سچ سننا چاہیں گی یا شایان نے جملہ ادھورا چھوڑا.
شایان پلیززز اس کے لیے کچھ کرو التجا کی گئی.
کیا کروں
بتائیں کیا کروں …… ؟؟ شایان کو ایک دم غصہ آیا.
جو میں نے چاہا ہے کیا ویسا ممکن نہیں …… ؟؟ جواب کی بجائے پھر سوال آیا.
خالہ آپ کے خیال سے وہ سب اتنا آسان ہے. شایان نے منہ بناتے ہوئے پارک میں پڑے بینچ کو دیکھا
تم کوشش کرو مجھے یقین ہے کہ تم جیت جاؤ گے. نائلہ نے پر اعتماد لہجہ میں کہا
فلحال تو ابا جی کی فکر ہے کل تک کا وقت دیا ہے. شایان نے اپنی کنپٹی مسلی.
تم ان کی فکر نہ کرو. انھیں میں دیکھ لوں گی. بس آتے ہوئے میری شہزادی کو بھی لیتے آنا. نائلہ کا لہجہ منت بھرا تھا.
آپ کی شہزادی اب مکمل طور پر چڑیل بن چکی ہے. شایان ہلکا سامسکرایا
شایان خبردار جو اسے ایسا کہا تو میری جان ہے اس میں
نائلہ نے وارنگ دی.
اچھا تو یہ بات ہے اس میں آپ کی جان ہے اور مجھ میں …… ؟؟ شایان نے خفگی سے پوچھا
تمہاری اپنی جگہ ہے اس کی اپنی ہے. کیا بچوں والی باتیں لے کر بیٹھ گئے ہو ……. ؟؟ نائلہ نے قدرے اونچی آواز میں جواب دیا.
اچھا ناراض مت ہوں اور مجھے ایک بات کا بلکل سچ سچ جواب دیں. اگر آپ چاہتی ہیں کہ میں اسے اپنے ساتھ لاؤں تو شایان اب بینچ پر بیٹھا اپنے پاؤں ہلا رہا تھا.
پوچھو ……. ؟؟ نائلہ نے بغیر تمہید کے جواب دیا.
اس کی پہلی طلاق میری تحقیق کے مطابق آپ کی وجہ سے ہوئی تھی. تبھی آپ کا بھی اب گھر میں آنا جانا بند ہو گیا.
اگر یہ سچ ہے تو آپ نے ایسا کیوں کیا. جبکہ آپ تو اس کے ساتھ محبت کی دعوےدار ہیں …….. ؟؟ شایان نے سنجیدگی سے سوال کیا.
کاش میں نے وہ سب نہ سنا ہوتا. مجھے دکھ ہے کہ وہ شادی میری وجہ سے ختم ہوئی. پر میں کیا کرتی اپنی آنکھوں سے اس کی بربادی دیکھتی رہتی …….. ؟؟ نائلہ کی آواز ایک دم بدل گئی تھی.
کیا ہوا تھا ……. ؟؟ شایان نے پھر سوال دہرایا
ہونا کیا تھا. شاہد اور دعا کا نکاح فون پر ہوا تھا. وہ دوبئی سیکورٹی گارڈ کی نوکری کرتا تھا اس لیے بار بار پاکستان نہیں آ سکتا تھا.
شاہد کی فیملی زیادہ بڑی نہیں تھی. اس کی تین بہنیں اور ایک ماڈرن سی ماں تھی. نائلہ تھوڑ ا سا ہنسی.
آپ ہنسی کیوں ……؟ ؟ شایان کو حیرت ہوئی
بس شاہد کی ماں کا حلیہ یاد آ گیا تھا. بیچاری کے پاس نیا نیا دوبئی کا پیسہ آیا تھا مگر سلیقہ نہیں
خیر چھوڑو. نائلہ نے سر جھٹکا
دعا کو ان لوگوں نے کہاں دیکھا تھا ……؟ ؟؟ شایان نے عادت سے مجبور ہوتے ہوئے جیب سے سگریٹ کی ڈبی نکالی.
شاہد کی ایک بہن دعا ساتھ کالج میں پڑھتی تھی. نائلہ کے جواب پر شایان نے ہنکار بھری
یعنی دوست نے دشمن کی کمی پوری کی. لعنت ایسی دوستی پر شایان نے سگریٹ سلگایا.
نہیں اس کی کوئی غلطی نہیں تھی. تم پہلے میرے بات پوری دنو پھر سوال کرنا اور اگر اب بیچ میں تم بولے تو میں فون بند کر دوں گی اور کچھ نہیں بتاؤں گی. نائلہ نے دھمکی دی
آپ مخدوم حاکم کے اکلوتے بیٹے کو دھمکی دے رہی ہیں. شایان نے جتلایا
میں اس اکلوتے کی مرمت بھی کر سکتی ہوں. کیونکہ میں شیر کی خالہ ہوں
نائلہ کے جواب پر شایان ہنسا
اچھا آگے شایان کو دلچسپی ہونے لگی تھی. بس وہ مہندی والے دن ہی دوبئی سے آیا تھا. دونوں گھرانے خوش تھے. بھائی صاحب نے ایک ہی شرط رکھی تھی کہ شاہد جلد از جلد دعا کو ساتھ لے جائے گا جس پر اس کی ماں تھوڑی ناراض تھی اور وجہ ہمیں بعد میں سمجھ آئی. نائلہ نے ایک سرد آہ خارج کی. مہندی والے دن بار بار شاہد کا فون آ رہا تھا کہ وہ دعا سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہے. سب اس کوچھیڑ کر فون بند کر دیتے
“کہ اب جو بھی بات کرنی ہے کل کرنا.”
مگر میری چھٹی حس مجھے کچھ غلط ہونے کا اشارہ کر رہی تھی. آخر ایسی بھی کیا بات ہے جو وہ بار بار بات کرنے پر بضد ہے. نائلہ کی بات پر شایان نے سگریٹ نیچے پھینکتے ہوئے مسلا.
آپ کے اندر اچانک CID کی روح آ گئی. شایان نے چھیڑا
بلکل ایسا ہی تھا. دعا کہ لاکھ احتجاج کرنے کے باوجود میں نے اسے بات کرنے پر راضی کیا. نائلہ کو اپنے اوپر فخر ہوا.
وہ بات کیوں نہیں کرنا چاہتی تھی …….. ؟؟ شایان کے منہ سے اچانک نکلا
کچھ تو حیا کا تقاضا تھا اور کچھ وہ اپنی تائی اور پھپھو سے خوفزدہ تھی کہ اگر انھیں پتہ چل گیا تو وہ آج کے دن کا بھی لحاظ نہیں رکھیں گئیں. نائلہ کی وضاحت پر شایان نے سر ہلاتے دوسرا سگریٹ نکالا
اب اسی تم دعا کی خوش قسمتی سمجھو یا بد قسمتی مگر میں نے دوسری طرف سے فون اٹھا لیا تاکہ ان دونوں کی باتیں سن سکوں. نائلہ کی بات پر شایان کو کھانسی کا مصنوعی دورہ پڑا.
خالہ آپ کو شرم نہیں آئی نئے شادی شدہ ہونے والے جوڑے کی باتیں سنتے ہوئے. آپ نے اخلاقی جرم کیا شایان نے شرارت کی.
شایان بات سننی ہے یا فون بند کر دوں. نائلہ نے دھمکی دی.
میرے پاس دو سگریٹ رہ گئے ہیں. تب تک کوشش کریں کہ بات مکمل کر لیں کیونکہ پھر میرا سر درد شروع ہو جاتا ہے. شایان نے جمائی لی.
اتنے سگریٹ کیوں پیتے ہو. اللہ کرے تمہاری بیگم جو بھی ہو اسے سگریٹ سے نفرت ہو تاکہ تمہارے ساتھ ساتھ ہماری بھی جان چھوٹے. نائلہ نے ناگواری سے کہا جس پر شایان ہنس دیا.
آپ کو لگتا ہے کہ میں ” اسے” اتنا سر چڑھاؤں گا …….. ؟؟ شایان نے ہنستے ہوئے پوچھا
بیوی بے شک کندھے تک بھی نہ آتی ہو مگر وہ سر ضرور چڑھ جاتی ہے چڑھانی نہیں پڑتی. نائلہ کے جواب پر شایان نے کندھے اچکائے
چلیں دیکھتے ہیں. پہلے آپ اپنی بات تو پوری کریں. شایاں پھر سنجیدہ ہوا
شاہد نے سلام دعا کے بعد جو الفاظ کہے انھوں نے میرے پاؤں کے نیچے سے زمین چھین لی. میں خواب میں بھی ایسا نہیں سوچ سکتی تھی.
اس نے دعا سے کہا کہ یہ شادی میں صرف اپنی ماں کے لیے کر رہا ہوں. کیونکہ بہنوں کی شادیاں ہو جائیں گئیں تو وہ اکیلی رہ جائیں گی.
دوسرا وہ گھر کے کام نہیں کر سکتیں تو انھیں بہو کی شدید ضرورت یے.( یعنی بغیر تنخواہ کے نوکرانی ) نائلہ کی آواز می غصہ شامل ہونے لگا تھا.
دعا بس “ہمممم ہاں” کر رہی تھی وہ بچی تھی اس کی باتوں کو سمجھنے سے قاصر مگر مجھھ سب سمجھ آ رہی تھی .
اور میرا ڈر اس وقت حقیقت کا روپ دھار گیا جب اس نے دعا سے کہا کہ
میں یا میری ماں تم سے کبھی بچوں کا سوال نہیں کریں گی کیونکہ میں باپ نہیں بن سکتا بلکہ میں تو شوہر بننے کے لائق بھی نہیں ہوں. یہ شادی صرف ماں کے اصرار پر کر رہا ہوں.
انھوں نے مجھے تم سے یہ بات کرنے سے منع کیا تھا مگر میرا ضمیر نہیں مانا. میری بہن( دعا کی دوست) تمہیں بہت پسند کرتی ہے اور میں اپنی بہن کو دھوکہ نہیں دے سکتا.
امید ہے تم میری بات سمجھ گئی ہو گی. میں تمہاری ہر ضرورت پوری کروں گا. ہر مہینے تمہیں علیٰحدہ خرچا بھیجا کروں گا. تمہیں دوبئی کی سیر بھی کراؤں گا.
بدلے میں تمہیں میرا راز رکھنا ہو گا. معاشرے کے سامنے،. میری بہن کے سامنے بولو ساتھ دو گی ناااااا شاہد نے دعا سے وعدہ لیا جو اس بےوقوف نے فوراً کر لیا. نائلہ نے بات ختم کی.
پھر آپ نے پھڈا ڈال دیا ہو گا شایان نے آخری سگریٹ بھی بجھا کر نیچے پھینکی
بلکل میں نے بھائی صاحب سے بات کی. انھوں نے میری بات سنجیدگی سے سنی بھی اور فوراً ایکشن بھی لیا.
حالانکہ دعا کی پھپھو اور تائی نے بہت کوشش کی کہ یہ شادی ہو جائے مگر میں نے نہیں ہونے دی.
بھائی صاحب نے رات کو ہی شاہد کو بلوایا. کافی بحث مباحثے کے بعد وہ مان گیا. بھائی صاحب نے اسے فوراً طلاق دینا کا کہا جس پر اس کی ماں نے بہت شور مچایا.
مگر شاہد میں تھوڑی انسانیت باقی تھی. اس نے ہمارے تمام مہمانوں کے سامنے دعا کو طلاق دی. یوں وہ بیچاری بارات والے دن طلاق یافتہ ہو گئی.
پھر پھپھو اور تائی کے طعنے شروع تھے. مگر میں نے اسے حوصلہ دیا. نائلہ کی بات پر شایان مسکرایا
کیساحوصلہ دیا تھا کہ وہ بلکل ہار گئی ……؟ ؟ شایان نے طنز کیا
مجھے اس کی دوسری طلاق کی حقیقت نہیں معلوم _
اسی لیے تمہیں بھیجا ہے. نائلہ نے ڈانٹا
آپ اپنے بےجا غصہ کی وجہ سے ہی نقصان اٹھاتی ہیں. کم غصہ کیا کریں. اچھا نہیں ہوتا. شایان کہتا ہوا نائلہ کا جواب سنے بغیر ہی کال کاٹ گیا.
🔖🔖🔖🔖
ابھی بمشکل دوائیوں کے زیر اثر وہ سوئی ہی تھی کہ ایک دم پورا گھر فون کی گھنٹی سے گونج اٹھا.
سب حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے. جیسے پوچھ رہے ہوں “یہ ٹیلی فون کی تار کس نے جوڑی ……. ؟؟؟”
اسی کو تکلیف ہوئی ہو گی جسے آج کل سب کا “ابا” بننے کا شوق چڑھا ہوا ہے. تائی امی پاؤں پٹخاتی اپنے پوشن کی طرف چل دی.
بمشکل وہ سوئی تھی مگر اس گھنٹی نے اسے پھر خوابوں کی دنیا سے نکال کر حقیقی دنیا میں لا پٹخا جو بہت تلخ ہے.
تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا ……. ؟؟؟
کیا بگاڑا تھا میں نے تمہارا ……. ؟؟؟
وہ روتی ہوئی مسلسل اس سجے سنورے کمرے کی چیزوں پر اپنا غصہ اتار رہی تھی. جبکہ مقابل مکمل اطمینان کے ساتھ اپنی شیروانی کے بٹن کھول رہا تھا. چہرے پر مسکراہٹ بدستور قائم تھی.
میں نے تم پر اعتبار کیا اور تم نے میرے اعتبار کی دھجیاں اڑا دیں.
جو کمرے تھوڑی دیر پہلے اپنی سجاوٹ سے مہمانوں کی آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا. اب اس کی حالت ابتر تھی.
خوبصورت پھولوں کی پتیاں اپنے پیروں کے نیچے روندتے ہوئے وہ اب اس کی طرف بڑھ رہا تھا.
تم خامخواہ بات کو ہوا دے رہی ہو. ایسا بھی کیا ہو گیا ……… ؟؟؟
اور تمہارا تو “شور” کرنا بلکل بھی نہیں بنتا. تمہارے ساتھ کونسا سا پہلی بار ہوا ہے. وہ تمہارے ماموں بتا رہے تھے کہ پہلے بھی _ اس نے جان بجھ کر بات ادھوری چھوڑی.
دیکھو میں نے تمہیں سب سچ سچ اس لیے بتا دیا ہے کہ میں جھوٹ نہیں بولتا تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ تمہارا جیون ساتھی ایک سچا انسان ہے.
وہ اب گھنٹوں کے بل اس کے پاس بیٹھا انتہائی دوستانہ لہجے میں بات کر رہا تھا جبکہ وہ اس کی ڈھٹائی پر حیران تھی.
” اب کیا ہے جو تیرے پاس آؤں
کس مان پہ تجھ کو آزماؤں”
دعا خاموشی سے بیٹھی بیڈ شیٹ کو گھور رہی تھی.اس کے ذہن میں مسلسل عرفان جے الفاظ گونج رہے تھے.
میں نے کیسی قسمت پائی ہے …….. ؟؟؟
پھپھو کہتی ہیں دعا تم شادی نہ کیا کرو جس مرد سے بھی شادی کرتی ہو وہ “نامرد” بن جاتا ہے.
میں انھیں کیسے سمجھاؤں کہ اس میں میرا قصور نہیں ہے. دعا نے بیچارگی سے ادھر ادھر دیکھا
عرفان تم نے بھی میری مجبوری کو کیش کرنے کی کوشش کی جبکہ میں دل سے تمہاری احسان مند تھی. تم تو شاہد سے بھی گئے گزرے نکلے. دعا نے اپنے آنسو صاف کیے.
🔖🔖🔖🔖🔖
جاری ہے