Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

ٹرین اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی. رات کی تاریکی ٹرین کے اندر اور باہر یکساں اندھیرا کیے ہوئے تھی.
اپنے اردگرد سے بےخبر وہ مسلسل آنے والے حالات کے بارے میں سوچ رہا تھا.
کیا میں اپنے ماں باپ اور اس کے جلاد جیسے باپ کی امیدوں پر پورا اتر سکتا ہوں …..؟ ؟؟
یقیناً نہیں _ اپنی سوچ پر خود ہی مسکراتے اس نے پینٹ کی جیب سے سگریٹ کی ڈبی نکالی. مجھ سے آج تک جو کام صحیح ہوئے ان میں میرا کوئی ہاتھ نہیں تھا وہ اس لیے صحیح ہوئے کہ وہ غلط ہو ہی نہیں سکتے تھے.
اور جو غلط ہوئے وہ میرے سے تو کیا ٹھیک ہونے تھے کسی دوسرے سے بھی درست نہ ہوئے _ شان نے مسکراتے ہوئے سگریٹ کی راکھ باہر پھینکی. پھر ان لوگوں کو مجھ سے اتنی امیدیں کیوں ہیں ……. ؟؟؟ جبکہ میرا سابقہ ریکارڈ بھی بہت خراب ہے. “بہت” کا لفظ تو میں نے مروت میں استعمال کیا ہے اصل میں خراب ہی خراب ہے. آدھی جلی سگریٹ شایان نے باہر پھینکی اور سیٹ ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں موند لی. آخر ایسا بھی کیا ہے جو اسے اب تک دو دفعہ طلاق ہو چکی ہے …… ؟؟؟ اچھی خاصی لڑکی ہے. جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے آخری بار میں نے اسے ماموں کی شادی پر دیکھا تھا. تب تک تو سبھی اس کے گن گا رہے تھے اور وہ بھی اس سے پہلے شایان اس کے بارے میں مزید سوچتا اپنے ساتھ کی گئی اس کی بتمیزی یاد آ گئی.
ایک نمبر کی بتمیز اور بدلحاظ لڑکی ہے. تبھی طلاق ہوئی ہو گی شایان سوچتے ہوئے دوبارہ سیدھا ہو کر بیٹھا
اگر تجھے نیند نہیں آ رہی تو میرے لیے چائے ہی لے آ
سرمد نے شایان کی بےچینی نوٹ کرتے ہوئے برتھ سے آواز لگائی
تو ابھی تک زندہ ہے دیکھنے میں تو نہیں لگ رہا تھا شایان نے مصنوعی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اوپر دیکھا
اگر تو نے مزید کچھ دیر مجھے کھانے کو کچھ نہ دیا تو یقیناً مجھے “کچھ کچھ” ہو جائے گا. سرمد کے جواب پر شایان نے سر نفی میں ہلایا.
تیرے ساتھ تو پتہ نہیں اللہ نے کونسا معاملہ رکھا ہے ورنہ عام انسان تو اتنی دیر بھوکے پیاسے نہیں رہ سکتے
سرمد نے برتھ سے نیچے چھلانگ لگائی تو دھمک کی وجہ سے کچھ سوئے ہوئے مسافر بیدار ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگے.
بزرگوں کہاں اترنا ہے …… ؟؟؟ سرمد کے سوال پر وہ ادھیڑ عمر شخص اسے گھورتے ہوئے دوبارہ آنکھیں موند گیا.
نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا. ایک تو میں ان کی مدد کر رہا تھا کہ کہیں بےخبری میں ان کا اسٹیشن ہی نہ گزر جائے اور وہ سرمد نے اپنے سامنے بیٹھے شایان کی طرف دیکھا
ابھی تھوڑی دیر میں جہلم آ جائے گا جو کچھ لینا ہوا ایک دفعہ ہی لے آنا شایان نے جیب سے پیسے نکالتے ہوئے سرمد کی طرف بڑھائے.
ظالم انسان اتنے تھوڑے پیسے ان میں کیا آئے گا …… ؟ مجھے پتہ ہوتا کہ تو ملتان سے راولپنڈی مجھے یوں اس ٹرین میں ہلا ہلا کر بھوکا پیاسا لے کر جائے گا تو میں کبھی تیرے ساتھ نہ آتا. سرمد نے منہ بناتے ہوئے پیسے جیب میں رکھے. ملتان تو جیسےتو بڑے ڈھاٹھ سے رہ رہا تھا. میرا منہ مت کھلوانا سارا دن درگاہ پر پڑا رہتا تھا اور لنگر شایان کی مسکراہٹ طنز میں بدل رہی تھی. اچھا اچھا ٹھیک ہے زیادہ طنز کرنے کی ضرورت نہیں ہے مجھے سب یاد ہے سرمد بدمزہ ہوتا کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا جبکہ شایان ایک بار پھر پرانے واقعات کے تانے بانے بننے لگا
اس کا نام کیا ہے ….. ؟ سرمد نے باہر دیکھتے ہوئے پوچھا
جہلم جہلم کا اسٹیشن پہلے آئے گا. شایان نے بے خیالی میں جواب دیا. میں نے تیری کزن کا نام پوچھا ہے اسٹیشن کا نہیں سرمد چڑا
دعا، دعا فاروق نام ہے. شایان نے آہستہ سا زیر لب دہرایا.
اسے تو میرے خیال سے کسی کی بدعا لگ گئی ہے. اگر وہ اپنا نام تبدیل کر لے تو کافی improvements آئیں گی کیا خیال ہے…..؟ سرمد نے اپنی بات کی تائید شایان سے چاہی.
تو نے راولپنڈی پہچنا ہے یا یہاں سے ہی واپس جائے گا…..؟ شایان نے سنجیدگی سے پوچھا
یہی عادت مجھے تیری سب سے بری لگتی ہے. یہ جو تو منٹ منٹ بعد دھمکیاں دینے لگتا ہے. سرمد کہتا ہوا باہر دیکھنے لگا جہاں جہلم کا اسٹیشن رات میں اپنی چمک دھمک سے مسافروں کی توجہ حاصل کر رہا تھا.
🔖🔖🔖🔖🔖
دعا بٹیا کہاں ہیں….؟؟ ؟ فاروق صاحب نے عزرا بیگم سے پانی کا گلاس لیتے ہوئے پوچھا
اس نے کہاں ہونا ہے. اپنے کمرے میں ہی ہے. عذرا بیگم نے ناگواری سے جواب دیا.
ایک تو وہ بن ماں کی بچی ہے اوپر سے جو کچھ اس ساتھ ان تین سالوں میں ہوا ہے وہ بلکل زندگی سے دور ہو گئی ہے.
میں چاہتا ہوں آپ اسے زندگی کی طرف لانے میں میری مدد کریں. آخر آپ میری بہن ہیں. پھپھو ہونے کے ناطے آپ کا بھی تو کچھ فرض ہے نااااا فاروق صاحب نے فکرمندی اور دکھ بھرے لہجے میں کہتے ہوئے گلاس ٹیبل پر رکھا
بھائی صاحب معاف کیجیے گا مگر یہ سب آپ کی ڈھیل اور نرمی کا ہی نتیجہ ہے.
میں آپ کو سمجھاتی رہی مگر آپ نے میری ایک نہ سنی. اس لڑکی کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا ہے اس میں کسی اور کا نہیں آپ کا ہاتھ ہے.
ہر وقت بےجا حمایت، ہر ضد پوری، ہر فرمائش سر آنکھوں پر
اس لڑکی کو حکمرانی کی عادت پڑ گئی تھی اور کچھ نہیں.
آپ خود سوچیں ایک دفعہ تو ایسا ہو سکتا ہے مگر دوسری دفعہ میرا تو دل نہیں مانتا. یہ کوئی ڈرامہ ہے. عذرا بیگم نے ہمیشہ کی طرح دعا کے خلاف زہر اگلا. جس پر فاروق صاحب سرد آہ بھر کر رہ گئے.
وہ کب تک آئے گا ….؟؟ ؟ عذرا بیگم نے جاتے جاتے پلٹ کر سوال کیا جس پر فاروق صاحب نے ناسمجھی سے انھیں دیکھا
آپ کے سالے کا بیٹا
عذرا بیگم کے لہجے میں تمسخر کا عنصر نمایاں تھا.
عذرا سوچ سمجھ کر بولا کرو. وہ کوئی عام انسان نہیں ہے. اس کے آباؤاجداد خانقاہ کے گدی نشین چلے آ رہے ہیں. بڑا دین دار گھرانہ ہے.
میں نے سنا ہے ان کے پاس لوگ دور دور سے اپنے مسائل لے کر آتے ہیں اور شفا یاب ہو کر جاتے ہیں. فاروق صاحب کے لہجے میں فخر تھا.
بھائی صاحب رہنے دیں ان درگاہوں اور خانقاہوں کے پجاریوں کو _ سب فراڈ ہے دھوکہ ہے. یہ لوگ معصوم عوام کو بےوقوف بنا کر اپنی تجوریاں بھرتے ہیں. آپ کا سسرال مجھے کبھی بھی پسند نہیں رہا. جاہل کہیں کے
جنڈے پوجنے والے _ عذرا بیگم نے حقارت سے فاروق صاحب کی طرف دیکھا عذرا کچھ تو خدا خوفی کرو. وہ اللہ والے ہیں. فاروق صاحب کو دکھ ہوا. ہم اچھی خاصی خوشحال زندگی گزار رہے تھے. مگر افسوس ہمارے خاندان کو یہ گدی نشین کھا گئے. نہ آپ دوستوں ساتھ ملتان عرس پر جاتے اور نہ وہ بلا ہمارے پلے پڑتی. معزرت مگر جیسی ماں تھی ویسی ہی بیٹی ہے. کیا دین دار گھرانوں کی لڑکیاں ایسی ہوتیں ہیں…… ؟؟؟ عذرا بیگم کا اشارہ فاروق صاحب کی “لو میرج” کی طرف تھا. جسے وہ بخوبی سمجھ رہے تھے. عذرا پرانی باتوں کو بھول جاؤ. میں نے ذاتی طور پر دعا کی خالہ سے درخواست کی تھی تب وہ اپنے گدی نشین کو بھیجنے پر راضی ہوئے ورنہ یہ لوگ یوں کسی کے گھر نہیں جاتے. فاروق صاحب کی بات پر عذرا بیگم چپ کر گئیں. عذرا میرا دل کہتا ہے کہ میری بچی پر کسی نے تعویز کرایا ہوا ہے. وہ حساب لگا کر بتائیں گے پھر دیکھتے ہیں کہ کیا کرنا ہے. مجھے ہر صورت اپنی بیٹی کا گھر بسانا ہے. بھائی صاحب دعا پر کسی نے کوئی جادو ٹونہ نہیں کیا ہوا آپ خامخواہ پیسہ برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں. اچھے خاصے عقل مند ہیں. پھر ایک لڑکی کے ہاتھوں بےوقوف کیوں بن رہے ہیں….؟؟ ؟ وہ آپ کی نرمی کا فائدہ اٹھا رہی ہے. ہوش کریں _ کوئی سایہ یا تعویذ نہیں ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اسی طرح آپ کی نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے منہ پر کالک مل دے. عذارا بیگم کہتیں ہوئیں کمرے سے باہر نکل گئیں جبکہ دنیا جہاں کے سخت مزاج اور مغرور فاروق صاحب اپنی بیٹی کی حالتِ زار پر نوح کنعاں تھے.
🔖🔖🔖🔖🔖
لوگوں کے نزدیک ٹیلی فون ایک زبردست ایجاد ہے مگر مجھے اس سے شدید نفرت ہے میرے بس میں ہوتا تو میں ساری دنیا سے اس منحوس ایجاد کو ختم کر دیتی جو میری خوشیوں کی قاتل ہے.
دعا ٹیرس پرکھڑی اس منحوس دن کو یاد کر رہی تھی.
(دعا کا ماضی)
وہ بھی کیا دن تھا. ہر طرف شادی کا شور تھا. گھر مہمانوں سے بھرا پڑا تھا. بابا نے پورے گھر کو برقی قمقموں اور لائٹوں سے سجایا تھا. آخر ان کی شہزادی کی شادی تھی.
بابا آپ نے بہت زیادہ خرچا کر دیا ہے. پتہ نہیں کیوں مگر مجھے اچھا نہیں لگ رہا دعا نے محبت سے فاروق صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
یہ کیسی باتیں کر رہی ہو. میں نے تمہارے لیے کچھ نہیں کیا جو بھی کیا ہے اپنی بیٹی کے لیے کیا ہے. فاروق صاحب کی بات پر وہ مسکراتی ہوئی اپنے حنائی ہاتھ دیکھنے لگی.
آج تمہاری مہندی ہے اور کل بارات پھر میری بیٹی بہت دور چلی جائے گی. فاروق صاحب افسردہ ہوئے
مگر میری ایک بات یاد رکھنا. دعا میں تمہاری شادی ایک اچھے پڑھےلکھے انسان سے کر رہا ہوں. لیکن اگر زندگی کے کسی بھی حصے میں تمہیں یہ احساس ہو کہ میرا فیصلہ غلط ہے.
یا وہ انسان کی جگہ حیوان نکل آئے. تو میری پیاری اور بہادر بیٹی کسی کی پرواہ مت کرنا. یہ گھر تمہارے باپ کا ہے اور تمہارے لیے ہمیشہ کھلا رہے گا.
دکھ مت سہنا، گھٹ گھٹ کر مت جینا واپس آ جانا سمجھی …… ؟ فاروق صاحب کی بات پر دعا نے سر ہلایا بابا کیا شاہد اچھے نہیں ہیں…… ؟؟؟ کسی خدشے کے تحت دعا نے باپ سے پوچھا اچھا ہے تو اپنی بیٹی کے لیے پسند کیا ہے ناااااا ورنہ کوئی ایرا غیرا مجھے پسند آتا ہے ……؟ فاروق صاحب نے سوالیہ نظروں سے دعا کی طرف دیکھا
پھر آپ ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں…..؟
وہ بہت اچھا ہےمگر بیٹا یہ دنیا اپنا باطل چھپانے میں ماہر ہے اس لیے سمجھایا ہے. فاروق صاحب نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا
پیلے جوڑے میں وہ بالکل سرسوں کے کھیت میں کھلا پھول لگ رہی تھی. اس کے انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی تھی جو اس کے حسن کو مزید چار چاند لگا رہی تھی.
ہر کوئی دعا کی قسمت پر رشک کررہا تھا سوائے اس کی تائی اور پھپھو کے جو ہمیشہ ہی اس سے نفرت کرتیں آئیں تھیں. وجہ دعا کو کبھی معلوم نہ ہو سکی.
دعا تم بہت خوش قسمت ہو. قسم سے تمہاری ساس کیا زبردست چیزیں لائی ہے. سنا ہے ایک ہیرے کی انگوٹھی بھی ہے. عنایہ نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے سرگوشی کی.
اچھااااااا دعا بس اتنا ہی کہہ سکی مگر دل میں اتنے چاہےجانے پر ایک غرور سا سر اٹھانے گا کہ میں تو پیدا ہی چاہے جانے کے لیے ہوئی ہوں.
مگر اللہ کو غرور کرنے والا دل بلکل پسند نہیں وہ تو صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے.
مہندی کا فنکشن پورے عروج پر تھا کوئی دعا کی قسمت پر رشک کر رہا تھا اور کوئی حسد پھر یوں ہوا کے کسی حاسد کی نظر دعا کو لگ گئی اور وہ پوری تقریب ایک فون کی ” گھنٹی” کھا گئی.
بارات دیکھنا کسی کو نصیب ہی نہ ہوئی تھوڑی دیر پہلے جو لوگ دعا کو خوش قسمت کہہ رہے تھے اب ماں کی طرح منحوس کہنے لگے.
اک سحر تھا جو ٹوٹا
دعا نے دونوں کانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے سر نفی میں ہلایا اور آنکھوں سے اشک رواں تھے.
میرے ساتھ ہی کیوں _ اللہ جی میرے ساتھ ہی کیوں…..؟؟ ؟ خاندان میں اور بھی تو لڑکیاں ہیں مگر ہر بار میں ہی کیوں…..؟؟ ؟ آسمان کی طرف سے اٹھائے وہ ہمیشہ کی طرح شکوہ کرنے میں مصروف تھی کہ گیٹ پر بجتی مسلسل بل نے اس کی توجہ زبردستی اپنک طرف مبذول کرائی. شاید اس کا مسیحا آن پہنچا تھا. 🔖🔖🔖🔖🔖 جدید طرز سے آراستہ ڈرائنگ روم میں اس وقت سرمد اور شایان دیوان سیٹ پر بڑے ڈھاٹ سے بیٹھے تھے. سامنے ٹیبل پر رنگ برنگے لزیز چیزیں رکھیں تھیں. یاررررر تیرے خالو کہ گھر والے مجھے بہت پسند آ گئے ہیں. میزبان کو بلکل ایسا ہی ہونا چاہیے سرمد نے پیزا ساتھ بھرپور انصاف کرتے ہوئے کہا جبکہ شایان کچھ اکتایا سا لگ رہا تھا.
دیکھ ساری چیزیں ہمارے آگے رکھ کر خود چلے گئے ہیں. اب “ہم” آسانی سے سب کھا سکتے ہیں. سرمد نے گلاب جامن منہ میں رکھتے ہوئے دوبارہ شایان کو مخاطب کیا.
ہم نہیں صرف تم کیونکہ مجھے یہ بیکری آئٹم بلکل پسند نہیں شایان ٹانگ پر ٹانگ رکھے بے چینی سے ہلا رہا تھا.
اوہہہہہ سوری یہ چیزیں تو ہم انسانوں کے لیے ہیں. آپ تو سرمد نے ابھی مزید اپنی زبان کے جوہر دکھانے تھے مگر فاروق صاحب کو اندر آتا دیکھ کر خاموش ہو گیا.
آپ بھی کھائیں نااااا اتنا لمبا سفر تھا. یقیناً تھک گئے ہوں گے…… ؟؟؟ فاروق صاحب نے شایان کو بیٹھا دیکھ کر پوچھا
نہیں یہ کسی کے گھر کچھ نہیں کھاتے
اس سے پہلے شایان بولتا سرمد بول پڑا.
کیوں……؟ بےساختہ فاروق صاحب نے پوچھا
یہ اکیلے نہیں کھاتے ان کے ساتھ “جن پریاں” کھاتیں ہیں تو خوراک کم پڑجاتی ہے لہذا یہ کسی مرید کو پریشان نہیں کرنا چاہتے.
یہ صرف آستانے پر ہی کھانا کھاتے ہیں. سرمد کی شرارت فاروق صاحب کو تو سمجھ نہیں آئی مگر شایان کا دل کیا اس کی گردن مڑوڑ دے.
آپ بھوکے پیاسے کیسے رہیں گے……. ؟؟ فاروق صاحب سچ مچ پریشان ہو گئے
آپ میری فکر نہیں کریں. یہ بتائیں کہ مسئلہ کیا ہے….. ؟؟؟
شایان نے قدرے سخت اور سنجیدہ لہجے میں پوچھا
وہ میں نے ساری بات نائلہ سے کی تھی. فاروق صاحب تھوڑے سے ہچکچائے.
نائلہ خالہ نے ابا سے کیا کہا کیا نہیں _ مگر مجھے آپ کے منہ سے سننا ہے. ہاں ایک اور بات سچ بولیں گے تو علاج کا فائدہ بھی ہو گا. حساب بھی درست آئے گا. جھوٹ کی صورت میں صرف نقصان ہی نقصان ہے کیونکہ عمل الٹا ہو جاتا ہے. شایان نے فاروق صاحب کو ڈرایا. نہیں میں جھوٹ نہیں بولتا. فاروق صاحب نے گلا صاف کیا. سب یہی کہتے ہیں شایان کے جواب پر فاروق صاحب کے ساتھ ساتھ سرمد نے بھی حیرت سے اسے دیکھا
میری اکلوتی بیٹی دعا کے ساتھ تین سال سے کچھ مسئلہ ہو گیا ہے. وہ راتوں کو اٹھ کر چیخنے لگتی ہے. اپنے بال نوچتی ہے. دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بھی نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کرتی.
فاروق صاحب اتنا کہہ کر خاموش ہو گئے جبکہ شایان انھیں گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا.
اور…….. ؟؟؟ کچھ دیر خاموشی کے بعد شایان نے بات میں پہل کی.
وہ مختلف چیزوں سے ڈرنے لگی ہے. فاروق صاحب نے الجھتے ہوئے دونوں کی طرف دیکھا
اس میں اتنا پریشان ہونے والی کیا بات ہے…… ؟
اکثر لڑکیاں اپنی باتیں منوانے کے لیے ایسی حرکتیں کرتیں ہیں. اکلوتی اولادیں عموماً نارمل نہیں ہوتیں. لڑکیاں جذباتی ہوتیں ہیں اور معمولی چیزوں سے ڈر بھی جاتیں ہیں اس میں عجیب کیا ہے….. ؟؟؟ شایان بدمزہ ہوا.
وہ ان چیزوں سے ڈرتی ہے جن سے کوئی بچہ بھی ڈر نہیں سکتا جیسے _ فون کی گھنٹی، بارش، میوزک، لائٹنگ عروسی ملبوسات وغیرہ فاروق صاحب کے جواب پر شایان کے ساتھ ساتھ سرمد کوبھی حیرت کا شدید جھٹکا لگا. کیا……. ؟؟؟ دونوں نے بیک وقت کہا جی بلکل ایسا ہی ہے وہ ان جیسی بہت سی چیزوں کو دیکھ کر شور مچا دیتی ہے. فاروق صاحب نے عینک اتار کر اپنی آنکھیں صاف کیں. کیا وہ شروع سے ایسی ہے….. ؟؟؟ شایان جانتا تھا کہ وہ ایک چلچل شوخ لڑکی تھی مگر جان بجھ کر سوال کیا نہیں پچھلے تین سال سے وہ ایسی ہو گئی ہے پہلے بلکل ٹھیک تھی. بلکل اپنے سکول کالج میں پوزیشن ہولڈر رہی یے. بہت سارے تقریری مقابلے بھی جیتے ہیں. اس کی لکھائی بہت خوبصورت تھی اور پینٹنگ بھی کمال کرتی تھی مگر اب فاروق صاحب کی آواز میں نمی گھلنے لگی.
مگر اب کیا….؟؟؟ سرمد بھی اب پوری طرح فاروق صاحب کی طرف متوجہ ہو گیا تھا.
مگر اب وہ بلکل خاموش ہو گئی ہے. بولتی ہی نہیں میرے کان اس کے منہ سے بابا سننے کے لیے ترس گئے ہیں. فاروق صاحب شدید جزبات کی رو میں بہہ رہے تھے.
جہاں تک میں سمجھا ہوں آپ کی بچی ساتھ سائیکالوجیکلی اور میڈیکلی ایشوز ہیں. آپ نے ہمیں خامخواہ زحمت دی. اسے کسی اچھے سائیکیٹرسٹ کو دکھائیں اور مکمل میڈیکل چیک اپ کرائیں. شایاں نے اٹھتے ہوئے مشورہ دیا
سب کچھ کر لیا ہے ڈاکٹرز کہتے ہیں اسے کچھ نہیں ہے وہ بلکل ٹھیک ہے. میں اپنے طور پر سب کر چکا ہوں. نائلہ (دعا کی چھوٹی خالہ ) کہتی کسی اللہ والے کو دکھائیں شاید کوئی جادو ٹونہ ہو فاروق صاحب کی بات پر شایان مسکرایا.
سب اللہ والے ہیں کیونکہ ہم سب اللہ کے بندے ہیں. میرے خیال سے ایک اولاد خاص طور پر بیٹی کے حق میں باپ کی دعا سے زیادہ کسی کی دعا اہمیت نہیں رکھتی.
اگر مجھے زرا بھی علم ہوتا کہ بس اتنی سی بات ہے تو میں کبھی ملتان سے یہاں نہ آتا. خود بھی نماز پڑھا کریں گھر والوں کو بھی تاکید کریں اور اپنی بیٹی کو بھی سب ٹھیک ہو جائے گا. چلتا ہوں. شایان فاروق صاحب کا کندھا تھپکتا دروازے کی طرف بڑھنے لگا جبکہ شایان کی اس قدر جلدبازی پر سرمد حیران تھا. سب اللہ والے نہیں ہوتے کچھ شیطان بھی ہوتے ہیں آپ نے پوچھا نہیں تین سال پہلے ایسا کیا ہوا تھا. وہ ایسی کیوں ہو گئی ؟؟؟؟ فاروق صاحب کی آواز پر شایان نے رک کر انھیں دیکھا.
طلاق ایسا بڑا مسئلہ نہیں جتنا آپ لوگ بنا رہے یا آپ کی بیٹی نے بنا لیا ہے. میرے خیال سے آپ کی بیٹی معزرت کے ساتھ ڈرامے کر رہی ہے. آج کل ٹی وی ڈراموں کا اثر لڑکیوں نے کچھ زیادہ ہی لے لیا ہے. دو تھپڑ لگائیں ٹھیک ہو جائے گی.
شایان کے اس قدر سفاک مشورے پر سرمد کو یقین نہیں آیا کہ یہ وہی شایان بول رہا ہے جو سارے رستے اس کے لیے پریشان آیا ہے.
آپ لگا دیں “دو تھپڑ”
میں کچھ نہیں کہوں گا. بشرطیہ وہ دو تھپڑ لگنے سے ٹھیک ہو جائے. فاروق صاحب کے طنز کو شایان نے واضح محسوس کیا.
سوچ لیں ہم یہ جھوٹی موٹی کے جن اسی طرح نکالتے ہیں شایان اب بلکل فاروق صاحب کے مقابل تھا.
مجھے منظور ہے. ہر طریقہ منظور ہے. بس میری بچی زندگی کی طرف لوٹ آئے. فاروق صاحب کا جواب شایان کو لاجواب کر گیا.
طلاق کی وجوہات کیا تھیں……؟ اب کی بار شایان نے دوبارہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے قدرے نرم لہجے میں پوچھا
وجوہات نہیں تھیں وجہ تھی. بس ایک وجہ
فاروق صاحب نے سر جھکاتے ہوئے آہستہ آواز میں جواب دیا
وجہ…..؟ شایان نے دہرایا
جی بس ایک وجہ فاروق صاحب اب سنجیدگی سے شایان کو دیکھ رہے تھے جو حیران تھا.
کیا تھی وجہ…..؟؟ سرمد نے تجسس کے مارے بے چینی سے پوچھا
نامرد _
یک لفظی جواب تینوں کو خاموش کر گیا.
🔖🔖🔖🔖🔖🔖
جاری ہے