970.6K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 1)

Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes

چچ۔۔۔چھ ۔۔۔”چھوڑو مجھے میں نے کہا چھوڑو مجھے نہی جانا کہیں بھی تمہارے ساتھ” ۔۔۔ بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ وہ اس قدر اونچا دھاڑا کے منہا کانپ کے رہ گئی ۔۔کہا تھا نہ تم کو منہا بی بی کہ تم صرف میری ہو۔۔۔۔”حمزہ شاہ” کی۔۔۔۔۔۔۔

اب تم دیکھو میں کیا کرتا ہوں ؟؟؟اُسنے کہتے ساتھ ہی فون نکالا اور کسی کو کال کرنے لگا ۔۔۔تم ایسے سننے والوں میں سے نہیں ہو میری غلطی ہے کہ میں تمہیں پیار سے سمجھا رہا تھا اب تمہیں اپنی پاور دکھانے کا وقت آ چکا ۔۔۔۔

بہت سمجھا لیا پیار سے ۔۔۔ “ہاں کہاں ہو تم”؟؟؟ فون لاؤڈ اسپیکر پر لگاتے کہا۔۔۔۔۔ جی سر آپ حکم کریں میری آنکھوں کے سامنے ہے بندہ دوسری طرف موجود بندے کی آواز فون سے باہر گونجی ۔۔۔۔۔۔ایسا کرو چڑھا دو اس پر گاڑی منہا کی طرف دیکھتے ہوے وہ بولا-

منہا کا رنگ ایک پل میں متغیر ہوا اُسکے ایسا کہنے پر اور دماغ میں بس ایک چیز تھی۔۔۔ آج اُسکا بھائی بھی یونی گیا تھا ۔ اُسکی یونی ورسٹی میں فنکشن منعقد تھا اور اُس نے بھی اس میں حصہ لیا تھا۔۔۔۔

نہیں نہیں پلیز!!! تم ایسا کچھ نہیں کروگے تم جو کہو گے میں ویسا ہی کرونگی— پلیز ! میرے بھائی کو کچھ مت کرنا –وہ روتے روتے اٹکتی سانسوں کے ساتھ کہنے لگی ۔۔”پلیز!نہی ایسا مت کرنا میں تم سے نکاح کرنے کے لیے تیار ہوں”—

______________________

“بس کردو تم دونوں باہر تک شور جا رہا ہے تم دونوں کا”—

منہا کی والدہ نے دونوں کو ڈانٹا۔۔۔جنکے کان پر جوں تک نہیں رینگی وہ اپنی ہی لڑائی میں لگے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔ “آج آلینے دو تم لوگوں کے باپ کو بتاتی ہوں اُنہیں کوئی بات نہیں مانتے تم دونوں میری”ان کی والدہ نے تنگ آکر کہا۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاہاہاہا !!! مما آپ جانتی ہیں بابا ہمیں کچھ نہی کہیں گے ۔۔۔۔یہ ارشادات چھوٹے شہزادے کے تھے جو جانتا تھا کہ اُنکے پاپا جان اُنہیں کچھ نہی کہیں گے ۔۔۔۔اماں کی فلائنگ چپل اُسکی طرف آئی۔۔۔۔ اگر وہ وقت پر ایک طرف نہ ہوتا تو یقیناً اُسکا مّنہ سوجا ہوتا ۔۔۔۔۔۔

______________________________

یہ ہے” ارتضیٰ بٹ صاحب” کا چھوٹا سا آشیانہ جہاں وہ، انکی بیوی کلثوم بیگم اور دو بچے رہتے ہیں بڑی بیٹی “منہا ارتضیٰ” جو اپنی پڑھائی مکمل کرکے پاس ہی ایک مدرسہ میں پڑھ رہی ہے اور چھوٹا بیٹا “موسیٰ بٹ”جو یونی سے بی بی اے کر رہا ہے ۔۔۔وہ لوگ اپنی زندگی میں مطمئن اور خوش تھے یہ جانے بغیر کے آگے چل کے اُنکا آشیانہ بکھرنے والا ہے ۔۔۔لیکن یہ تو خدا ہی جانتا تھا کہ آگے کیا ہونے والا تھا کس کی زندگی میں نیا موڑ آنا تھا؟؟؟؟

منہا اب اپنے بابا سے اپنے بھائی کی شکایت کر رہی تھی جو وہ خاموشی سے سن رہے تھے ۔۔۔موسیٰ بری بات ہے۔ بہن نے جب کہا تھا کے اس کو باہر لے کے جاؤ تو کیوں نہی گئے؟؟بابا یہ جھوٹی ہے۔۔۔ میں نے اسکو کہا تھاکہ تھوڑا سا انتظار کرو لے جاتا ہوں لیکن یہ کہہ رہی تھی ابھی جانا ہے۔۔میں نے بھی کہا نہی لے کر جاؤنگا اُسنے مسکین سی صورت بناتے کہا ۔۔۔۔جو کلثوم بیگم دیکھ نہ سکی انکی تو اُنکے بیٹے میں جان بستی تھی یہ کہنا غلط نہی ہوگا کے انہوں نے اپنے دونوں بچوں کو بہت سینچ سينچ کر رکھا تھا ۔۔دنیا کی سختیوں سے بچا کر۔۔۔۔۔۔

بس کر دیں آپ میرے بیٹے کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں اپنی صاحبزادی کو سمبھال کے رکھیں جو فضول وقت میں الٹی خواہشات کرتی رہتی ہے ۔۔۔میں پوچھتی ہوں کیا ضرورت ہے ٹھنڈ کی راتوں میں باہر جانے کی ۔۔۔خود تو بیمار ہوگی اسکو بھی کرے گی پتا بھی ہے کے کتنی جلدی اسکو زکام ہو جاتا ہے۔۔۔۔کلثوم بیگم منہا کو گھورتے ہوئے بولیں۔۔۔۔

” دیکھ رہے ہیں نہ بابا آپ مما ہمیشہ اُسکی سائڈ لیتی ہیں اسی لیے تنگ کرتا ہے یہ مجھے”منہا ارتضیٰ صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے ناراضگی سے بولی۔۔۔۔۔۔۔

“میں تم دونوں سے محبت کرتی ہوں ماں کبھی اپنے بچوں میں فرق نہیں کرتی” کلثوم بیگم اُسکی بات سنتے بولیں

“مما آپ کیا جانے کتنا سکون ہے اس ہوا میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا جب لگتی ہے بہت سکون آتا ہے”۔۔ منہا اٹھ کر اُنکے گرد بانہیں پھیلائے گویا ہوئی ۔۔۔۔۔”جاؤ بی بی چھت پے جا کر لے آو ہوا باہر نہیں لے کر جائیگا تمہیں وہ ۔۔موسیٰ بیٹا تم اپنی اسائمنٹ بناؤ “کلثوم بیگم اسکی مسکے بازی کو سمجھتے ہوئے موسیٰ سے گویا ہوئیں۔۔۔۔۔

منہا کا منہ بن گیا اور خاموشی سے بیٹھ گئی ۔۔۔۔لے جاتا ہوں بس تھوڑا سا کام ہے اتنی بری شکل نہ بناؤ ۔۔۔۔۔موسیٰ اُسکی طرف دیکھتا بولا ۔۔۔۔۔ہیییں سچییی ۔اچھا پھر میں چادر لے کر آتی ہوں خوشی سے بولتی وہ جلدی سے اپنے کمرے میں چلی گئی

____________________________________