970.6K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 18)

Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes

سب کے جاتے ہی منہا اپنے کمرے میں آتے بیڈ پر نیم دراز ہو گئی ۔۔۔

سب کو سوچتی وہ بہت خوش ہوئی۔۔۔۔

اُسے اپنے سب رشتے واپس مل گئے تھے

اُسنے نہی سوچا تھا کے اتنی جلدی سب ٹھیک ہو جائے گا

حمزہ کمرے میں آتے خوشی سے نہال ہوتا اُسکی جانب بڑھا

اور اُسکے ہاتھ تھام کر بولا”

تھینک یو سو مچ یار ۔۔۔۔

“یو آر جسٹ لو!!!!

منہا خاموشی سے بیٹھی اُسے مسکراتی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

سچی مجھے لگا اگر آپ آج چلی گئیں تو میرا کیا ہوگا ۔۔۔۔

میں آپکے بغیر ایک دن نہی رہ سکتا اور آنٹی تو آپکو مہینے کے لیے لے کر جا نے کا کہہ رہی تھی ۔۔

اُنکی بات سنتے میری تو جان پر بن گئی تھی

آپ جانتی ہیں میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں ۔۔۔

میری زندگی میں آنے والی آپ پہلی اور آخری لڑکی ہیں

کچھ چیزیں ایک ساتھ اچھی لگتی ہیں “…

جیسے کہ آپ ‘اور میں”….

آپ کے آنے سے میں مکمل ہوں ۔۔۔آپکی موجودگی سے میری زندگی حسین ہے اُسنے منہا کے ہاتھ کی پشت پر اپنے لب رکھے

منہا نم آنکھوں سے اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔

بہت شکریہ میری فیملی سے مجھے ملوانے کا ۔میرے تمام رشتے لوٹانے کا “

حمزہ اُسکو اپنے ساتھ لٹاتے بولا

آپ شکریہ ادا کرکے مجھے شرمندہ نہ کریں ۔۔۔

یہ سب کچھ میری وجہ سے ہی ہوا تھا

اور ٹھیک بھی مجھے ہی کرنا تھا ۔۔۔

معافی چاہتا ہوں کے مجھے سب ٹھیک کرنے میں وقت لگ گیا

حمزہ اُسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتا بولا ۔۔

میں سب بھول گئی ہوں آپ بھی بار بار مجھ سے معافی مانگ کر مجھے شرمندہ نہ کریں

مجھے اچھا نہی لگتا ایسے،،

بس خدا کی مرضی تھی اُسنے ہمارا ملنا ایسا ہی لکھا تھا ۔۔۔

ہم کون ہوتے ہیں اُسکے فیصلوں میں کچھ بولنے والے

وہ مدھم آواز میں اُسکی جانب دیکھتی بولی۔۔۔

بیشک اللہ تعالیٰ بہتر فیصلے کرنے والا ہے ،،

میں سوچ رہا تھا کل ہم بّےبی کی شاپنگ کرنے چلتِے ہیں وہ اُسے دیکھتا خوش ہوتا بولا ۔۔۔

اتنی جلدی !!!.

کچھ وقت رک جائیں

اتنی جلدی کیا کرنا لے کر اور ویسے بھی ابھی تو ہمیں پتہ بھی نہیں کہ ۔۔۔۔

وہ کہتے چپ ہو گئی!!

تو کیا ہوا میں جانتا ہوں ہماری بیٹی ہی ہوگی بلکل آپ جیسی وہ اُسکی ناک پر لب رکھتا بولا

اُسکی بات سنتے اُسکی کھلکھلاہٹ پورے کمرے میں گونج اٹھی ۔۔۔۔

وہ خوش تھی بہت خوش اور پرسکون

اُسکی کھلکھلاہٹ سنتا حمزہ کو اپنے اندر تک سکون محسوس ہوا

______________

یونی ورسٹی میں اریج موسیٰ اور سمیع نے اپنا الگ ہی گروپ بنا لیا تھا ۔۔۔۔

ویسے تو وہ دونوں ساتھ ہوتے تھے

لیکن سمیع بھی اُن سے ملنے آ جاتا اور تینوں مل کر خوب مزا کرتے ۔۔

اُنکے مدٹرمز سٹارٹ ہونے والے تھے

اس لیے اریج زیادہ تر کلاس چھوڑ کر اُس کے پاس ہی موجود ہوتی ،،

ذہین تو وہ پہلے ہی بہت تھی لیکن موسیٰ کی مدد سے وہ اور اچھے سے تیاری کر پا رہی تھی

دوسری طرف موسیٰ نے سوچ لیا تھا کے پیپرز سے فری ہوتے ہی وہ اپنے اور اریج کے مطلق منہا سے بات کرے گا ۔۔۔

لیکن اس سے پہلے اریج کی رضامندی جاننا بہت ضروری تھی

اسلیے آج اُسنے سوچا تھا کے اریج سے اس مطلق بات کرے گا

کینٹین میں بیٹھی وہ مزے سے چپس کھا رہی تھی

اور ساتھ ساتھ موسیٰ سے اردگرد کی باتیں بھی کر رہی تھی

جب موسیٰ نے اپنے بھاری گھمبیر لہجے میں اُسکا نام پُکارا

اریج “۔۔۔

مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے وہ اُسے دیکھتا بولا۔۔۔۔جو دکھنے میں ایسی لگ رہی تھی جیسے آج پہلی مرتبہ وہ فرائز کھا رہی ہے

ہممم بولیں میں سن رہی ہوں

وہ ہنوز نیچے منھ کیے ہوئے بولی ۔۔۔

میری طرف بھی دیکھ لیں ۔۔۔

حمزہ جلتا ہوا بولا

اچھا بھئی بتائیں سن رہی ہوں وہ اُسکی جانب دیکھتی بولی ۔۔۔۔

وہ میں کہہ رہا تھا اسکا لہجہ ایک لمحے کے لیے لڑکھڑایا ۔۔۔

جی جی میں ہمہ تن گوش ہوں

وہ مسکراتی ہوئی بولی ۔۔۔

اگر میں آپکے گھر آپکے لیے پرپوزل بھیجو تو آپکو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا

وہ اپنی بات کہتے جانچتی نظروں سے اُسے دیکھنے لگا ۔۔۔

جو اُسکی بات سنتی گربڑا گئی ۔۔۔۔

چہرے ایک پل میں گلا ل ہوا

وہ اُسکی بات سنتی نظریں جھکا گئی ۔۔۔

اریج فور گود سیک

کچھ تو بولیں !!

اگر آپکو میں نہی پسند تو کوئی مسئلہ نہی

اُسے یوں خاموش نظریں جھکائے دیکھ وہ بولا ۔۔۔

نہی ایسی تو کوئی بات نہیں وہ ایک دم اُسکی جانب دیکھتی بولی ۔۔

مطلب میں پسند ہوں آپکو موسیٰ شریر لہجے میں بولا ۔۔۔

اب میں نے ایسا بھی نہی کہا وہ منھ پھلاتی بولی

اور دوبارہ سے چپس کی پلیٹ اپنے آگے کیے کھانے لگی ۔۔

تو پھر بتا دیں کیسی بات ہے

جیسا گھر والوں کو ٹھیک لگے

مجھے کوئی اعتراض نہیں،،

وہ کہتی اپنا بیگ کندھے پر ڈالتی اٹھ گئی

میری کلاس کا وقت ہو گیا پھر ملاقات ہوتی ہے وہ جلدی سے کہتی اُسکے پاس سے گزری

وہ اُسکی جیجھک سمجھ کر سر نفی میں ہلا گیا اور مسکراتا ہوا اُسکی پشت دیکھنے لگا

————————-

منہا کے منع کرنے کے باوجود حمزہ صبح آفیس نہیں گیا ۔۔۔

اور منہا کو لیے شاپنگ مال میں آیا

دونو مال میں بےبی کی شاپنگ کر رے تھے

حمزہ نے سب ڈریسز بےبی گرل کے لیے منہا کے کہنے کے باوجود ۔۔۔

جو بولتی رہی کے ایک دو ہی بےبی بواے کا ڈریس لے لیکن وہ اپنی پسند سے لیتا رہا ۔۔۔

تنگ آ کر منہا دوسری جانب دیکھنے لگی

اُسکا خراب موڈ دیکھ حمزہ اُسے لیے ٹوايز شاپ میں داخل ہوا۔۔۔

حمزہ ابھی ان کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔۔

چھوٹے بےبیز اتنی جلدی نہیں کھیلتے ان سے “

ہم ڈولز لیتے ہیں سوفٹ سی

اُس سے میری ڈول کھیلے گی وہاں بھی وہ اپنی مرضی کرتا سب اٹھاتا گیا ۔۔۔

اگر میری بات نہی سُنّی تھی تو مجھے لائے ہی کیوں ۔۔۔منہا پاؤں پٹختی ایک طرف بینچ پر بیٹھ گئ ۔۔۔

اچھا چلئیں آئیں اب آپ کی شاپنگ کرتے ہیں

اُسکا موڈ اچھا کرنے کے لیے وہ اُسکا ہاتھ تھامتے بولا ۔۔

شکر ہے میرا بھی خیال آیا۔۔۔

ورنہ مجھے تو لگا تھا آپ اپنے بےبی کے ہی ہو کے رہ گئے ہیں

منہا جل کر بولتی چلنے لگی ،،

ہاہاہا سیریسلی!!

آپ جیسلس ہو رہی ہیں حمزہ قہقہ لگاتا بولا

ہنہہ،،

مجھے کیا ضرورت ہے جلنے کی میں تو ویسے ہی کہہ رہی ہوں ۔۔۔

دو گھنٹے سے مجھے لیے گھوم رہے ہیں ۔۔۔

اب تو بوکھ سے میرے پیٹ میں درد ہونے لگی ہے منہا مسکین سی شکل بناتی بولی ۔۔۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُسے بوکھ بھی بہت لگتی تھی ،،،جسے کنٹرول کرنا اُسکے بس میں نہی تھا

اوہ،، آئم سوری یار

مجھے بلکل بھی اندازہ نہی تھا آپ مجھے پہلے بتاتیں۔چلیں اب جلدی سے چلتے ہیں

یہاں پاس ہی ریسٹورنٹ ہے آ جائیں وہاں چلتے ہیں اُسکی جانب دیکھتا بولا ۔۔۔

چیزیں لیتے اُسے واقع وقت کا خیال نہی رہا تھا ۔۔

کچھ ہی دیر میں وہ ریسٹورنٹ میں موجود تھے ۔۔۔

مینیو کارڈ پکڑتے اُس نے ویٹر کو آرڈر لکھوایا ۔۔۔۔

حمزہ جو فون میں مصروف تھا اُسے دیکھتی بولی ،

آپ اپنا آرڈر کر دیں میں تو کر چکی ہوں

آپ نے جو کیا ہے میں اُسی میں سے لونگا کہتا وہ پھر سے میسیج ٹائپ کرنے لگا ۔۔۔

کیا مطلب اُسی میں سے لونگا

میں کچھ نہی شیئر کرونگی آپ کے ساتھ”

جو کھانا ہے خود آرڈر کریں

منہا آرام سے بولتی ویٹر کو جلد آنے کا کہتی اردگرد دیکھنے لگی ۔۔۔

آپ نے اتنا زیادہ منگوایا مجھے لگا میرا بھی ساتھ میں ہے

حمزہ خیرت سے اسے دیکھتا بولا ۔۔۔

ہاں تو وہ سب میرے لیے ہے ناں “”

مجھے بوکھ لگی ہے میں کچھ نہی دونگی آپکو

اور ویسے بھی ہم دو ہیں اسلیے ہمارا کھانا بھی زیادہ ہے

حمزہ شاک کی کیفیت میں گھرا تھا جب ویٹر کی آواز سے اُسکی جانب متوجہ ہوا

سر آرڈر ۔۔۔

ہممم ہاں ” اُسنے اپنے لیے چائنیز ڈیش آرڈر کی

ٹیبل پر لوازمات دیکھتے حمزہ خیرت سے منہا کو دیکھتا بولا ۔۔۔۔

کیا آپ یہ سب اکیلی کھایں گی ؟؟

تقریاً سب ہی اسپائسی ڈشز اُسنے آرڈر کی تھی ۔۔۔

جی،،۔۔

اور کوئی نظر آ رہا ہے آپکو؟؟

جل کر کہتی وہ کھانے لگی ۔۔۔۔

حمزہ تو بس اُسکی کھاتے ہوے اسپیڈیں ہی دیکھتا رہ گیا

اُسے اتنی رغبت سے کھاتے دیکھ اُسے اپنی چاینیز ڈش ایک دم زہر لگی ۔۔۔

ٹشو سے ہاتھ صاف کرتی وہ حمزہ کے تاثرات کو دیکھے بغیر بولی

الحمدُ للہ بہت بوکھ لگی تھی مجھے

وہ تو لگ ہی رہا ہے اپنی سامنے منھ چرهاتی خالی پلیٹیں دیکھتا وہ بولا ۔۔۔۔

اور کچھ رہ گیا ہے تو وہ بھی بتا دیں اسکو شرمندہ کرنے کے لیے وہ بولا ۔۔۔۔

جبکہ اُسکی بات کا اُلٹا ہی اثر ہوا۔ ۔۔۔۔

ہاں مجھے آیس کریم بھی کھانی ہے وہ آپ لے کر

آئین میں گاڑی میں بیٹھ کر کھائونگی وہ اٹھتی ہوئی بولی ۔۔۔

جبکہ حمزہ تو اُسکی بات سنتا صدمے میں ہی چلے گیا ۔۔۔۔

اتنا کچھ کھانے کے بعد کیسے اُسکے پیٹ میں اتنی جگہ بچی ہے ۔۔۔

اُسے اس بات کا یقین ہوگیا تھا یقیناً اُسکے ٹونز تھے جبھی تو اُسکی بیوی تین لوگوں کا کھانا اکیلی بیٹھ کر کھا گئی ۔۔۔

کچھ بات بھی ایسی تھی جتنی اسکو پہلے بوکھ نہی تھی لگتی اب وہ اتنی ہی سپیڈ سے کھاتی تھی

وہ سر جھٹکتا بل پے کرتا اُسکی آیس کریم لیتا گاڑی میں بیٹھا

جو اُس سے پہلے ہی گاڑی میں بیٹھی اُسکا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔

آگے ہوتی اُس سے شکریہ بولتی آیس کریم کا پیک پکڑ گئ “

اور وہ بیچارہ اسی خوش فہمی میں رہا کہ اتنا اچھا لنچ کروانے پر اُسکی جانب سے کوئی خراج وصول ہونے لگا ہے ۔۔۔۔۔

وہ جلتا اُسے آیس کریم کھاتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔بندہ پوچھ ہی لیتا ہے بربراتا وہ گاڑی سٹارٹ کر گیا

گاڑی اپنی منزل پر روا دوا تھی لیکن حمزہ کا غم کم نہی ہو رہا تھا ۔۔۔