Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes Readelle 50364 Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 4)
No Download Link
Rate this Novel
Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 4)
Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes
دن ایسے ہی گزر رہے تھے بے کیف وقت کا کام تھا گزرنہ اور گزر رہا تھا ۔۔۔۔۔
_______________________
حمزہ گاڑی روکے ایک بیکری میں گیا ۔۔۔۔وہ اپنے دوستوں کے ساتھ باہر نکلا تھا کے اریج کی کال آئی اُسکے لیے چاکلیٹ لے کر آئے۔۔۔۔جیسے ہی وہ بیکری سے باہر نکلا اُسکی نظر موٹر سائیکل پر بیٹھے اس لڑکے پر پڑی جو شادی میں منہا کو لینے آیا تھا اسکے پیچھے یقیناً وہی بیٹھی تھی نقاب کیے۔۔۔۔۔۔۔
جلدی سے وہ گاڑی میں بیٹھا اور اُنکا پیچھا کرنے لگا بائیک ایک تنگ گلی میں چلی گئی وہ ونڈو سے اسے دور جاتا دیکھتا رہا۔۔۔”
تو تم یہاں رہتی ہو جلد ملے گے پھر” کہتے حمزہ گھر کی طرف روانہ ہوا
___________________________
وہ اپنے آفس میں بیٹھا کوئی فائل پڑھنے میں مصرف تھا جب آفس کا دروازہ کھلا
May i come in sir ????
اسکا پی اے اندر آنے کی اجازت مانگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
Yes Come in………
وہ فائل بند کرکے اسکی طرف متوجہ ہوا ۔۔کام کہا تھا تمہیں ایک ۔۔۔۔
“يس سر وہی بتانے آیا تھا “
“سر میںم کا نام منہا ہے ۔۔چھوٹی سی فیملی ہے نارمل طبقے کے لوگ ہیں ۔۔۔والد اُنکے کسی کی دکان پر کام کرتے ہیں ۔۔والدہ ہاؤس وائف ۔۔۔چھوٹا بھائی موسیٰ بٹ ہے جو یونی سے بی بی اے کر رہا ہے ۔۔۔میم نے ماسٹر ابھی ہی مکمل کیا ہے اور گھر کے پاس ایک مدرسہ میں جاتی ہیں ۔۔۔عمر ۲۳ سال ہے” ۔۔۔۔
ہممم گڈ ۔۔۔تم جا سکتے ہو
تو منہا میں پہنچ ہی گیا آپ تک ۔۔۔۔۔اس نے فائل کھولی جس پر اُسکا نمبر تھا ۔۔کچھ سوچتے ہوئے نمبر ڈائل کیا کال جا رہی تھی لیکن کوئی اٹھا نہی رہا تھا تیسری بار کال کرنے پر فون اٹھا لیا گیا۔۔
“السلامُ علیکم “۔۔۔
اسکی آواز سنتے ہی رگوں میں ایک عجیب ساسکون اُترا ۔۔۔
پیچھے سے بچوں کی آوازیں آ رہی تھیں ۔۔۔وہ سمجھ گیا کہ وہ اس وقت مدرسہ میں ہے ۔۔۔
جی کون؟؟دوسری طرف سے اس کی آواز پھرآئی۔۔۔۔
وہ بس آگے سے خاموشی سے اسکی میٹھی آواز سن رہا تھا۔۔۔۔
“بول بھی دو اب یا زبان نہیں ہے”۔۔۔اسکی جھنجلای سی آواز آئی ۔۔۔۔۔۔
حمزہ کو بے ساختہ ہنسی آئی اس کی بات پر لیکن وہ اپنی ہنسی کنٹرول کرگیا۔۔۔۔۔۔
“وعلیکم اسلام ! کیسی ہیں آپ”؟ اُسنے آرام سے کرسی کی پشت پر سر رکھتے پوچھا۔۔۔
کون ہو آپ ؟منہا نے تند لہجے میں پوچھا
۔۔۔۔جی میں حمزہ بات کر رہا ہوں ۔۔
کون حمزہ ؟
“آپ مجھے نہیں جانتیں ۔۔۔ آپ کو یاد ہے ہم شادی میں ملے تھے”۔۔۔۔۔۔وہ شدید صدمے میں چلا گیا تھا یہ سوچ کر کہ اسے تو یاد بھی نہیں۔۔۔۔۔۔
جی نہیں میں آپ کو بالکل نہیں جانتی۔۔۔آپکے پاس میرا نمبر کیسے آیا ؟
اگین کال مت کریے گا ۔۔۔نمبر بلاک کردونگی میں آپ کا ۔۔۔۔۔
ایک منٹ بس میری بات سن لیں پلیز !!!!!
“جی فرمائیں ” وہ چڑتے ہوئے بولی۔۔۔۔
“میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں اپنے گھر والوں کو بھیجنا چاہتا ہوں آپ کے گھر” حمزہ جلدی سے بولا
“بس بس یہ زیادہ ہو گیا ۔۔۔یہاں میں رشتے والی نہیں ہوں ۔۔آپ جا کے کسی اور سے رابطہ کریں ۔۔۔۔اور دوبارا کال مت کریے گا ۔۔۔میں مریم کو بتاؤں گی آپکا” ۔۔۔ یہ بولتے ساتھ اس نے کھٹاک سے فون بند کردی۔۔۔
کچھ لمحے تو وہ فون کو دیکھتا رہا پھر خاموشی سے اٹھا اور گھر کے لیے نکل گیا ۔۔۔۔
______________________________
السلام علیکم اس نے گھر میں داخل ہوتے بولا۔۔۔۔۔۔سب لان میں بیٹھے شام کی چائے پی رہے تھے ۔۔۔۔
اریج اور سمیع کو پیار کرنے کے بعد اس نے دادی کے کمرے کا رخ کیا۔۔۔۔۔
السلام علیکم دادی کیسی ہیں آپ؟؟؟؟؟
“وعلیکم السلام !! آج تو جلدی آ گئا میرا بیٹا “وہ اسے دیکھ محبت سے گویا ہوئیں۔۔۔۔
جی بس کچھ ضروری بات کرنی تھی آپ سے دادی۔۔۔۔ وہ انکے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولا
میرا بچہ کیا بات ہے؟؟؟ وہ متفکر سی اُسکی طرف دیکھ کر گویا ہوئیں۔۔۔
نہیں نہیں پریشانی والی بات نہیں دادی جان۔۔۔۔
بس آپکی خواہش پوری کرنے والا ہوں ۔۔۔۔شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔لڑکی پسند آ گئی ہے مجھے
“شکر خدا کا سفینہ بیگم جو کب سے اس کے پیچھے لگی ہوئی تھیں کہ شادی کر لو “۔۔۔۔خوشی سے بولی ۔۔۔۔
ما شاء االلہ کون ہے وہ ؟؟ کہاں رہتی ہے؟؟
بس پھردادی کے سوالات شروع تھے۔۔۔۔
رک تو جائیں ابھی میں بھی زیادہ نہی جانتا ۔۔۔۔بس مریم کی شادی پر دیکھا تھا۔۔۔اسکی دوست ہے ۔۔۔۔بس وہ مان جائے دادی جان بولتے وہ انکے ہاتھ تھام گیا۔۔۔۔
کیوں نہی مانے گی میرا بچہ اتنا پیارا ہے ۔۔۔نیک ہے ۔۔۔اللہ سب بہتر كرے گا ۔۔۔۔۔
میں مما سے بھی بات کرتا ہوں پھر آپ دونوں انکی طرف جائیے گا۔۔۔۔۔۔
“اور آپ نے جواب ہاں میں ہی لے کر آنا ہے “حمزہ اُنکے ہاتھ پر بوسہ دیتا ہوابولا ۔۔۔
“میرا بچہ جو چاہے گا وہی ہوگا “دادی نے اسے پیار سے تسلی دی۔۔۔۔
______________________________
رات میں کھانے سے فارغ ہو کر وہ فون پکڑ کے بیٹھی ہی تھی کہ کال آ گئی ۔۔۔
اس نے یس کرکے فون کان سے لگایا ۔۔۔
جی کون ؟؟…
“میں حمزہ شاہ” ۔۔۔۔۔
تم !!! کیوں کال کر رہے ہو میں نے منع کیا تھا ناں تمہیں۔۔۔۔
ہوںلڈ آن ۔۔۔۔پہلے میری بات سن لیں ۔۔۔۔میرے گھر والے آنا
چاہتے ہیں آپکے گھر ۔۔۔
“کیا؟؟دماغ ٹھیک ہے تمہارا ۔۔۔۔مطلب کیا فضول حرکت ہے ۔۔۔۔ میری منگنی ہو چکی ہے ۔۔۔۔۔آپ براے مہربانی مجھے تنگ نہ کریں اور کسی اور کو ڈھونڈ لیں ۔۔۔اور دوبارہ کال مت کیجئے گا “۔۔۔۔ وہ انتہائی غصے سے بولی۔۔۔
“رکو کال بند کی تو کل تمہارے پاس موجود ہوں گا۔۔۔سن لو غور سے میری بات ۔۔۔شادی تو میں بس تم سے ہی کرونگا” حمزہ غصے سے بولا اسکا تو منگنی والی بات سن کر ہی دماغ گوم گیا
“فضول مت بولو ۔۔۔بہت آئے گئے تم جیسے ایسے ہی لڑکیوں کو ڈرا دهمکا کے انکو ٹریپ کرتے ہو تم جیسے لوگ ۔۔۔لیکن غلط بندی سے بات کر رہے ہو ۔۔۔اب کال کی تو منّہ توڑ دونگی۔۔۔۔تم جانتے نہی ہو مجھے میری فیملی کو اسلیے دور رہو مجھ سے اور جا کر اپنے جیسی دیکھو کوئی” کہتے ساتھ منہا نے فون غصے سے بند کر دیا۔۔۔۔
حمزہ کی آنکھیں غصے کی شدت سے لال ہو گئیں تھیں ۔۔۔
“تم ابھی مجھے نہی جانتی منہا بیبی ۔۔۔حمزہ شاہ کو جب ایک چیز پسند آ جائے تو وہ اس پر کسی کی نظر بھی برداشت نہی کرتا ۔۔۔تم تو پھر جیتی جاگتی انسان ہو ۔۔۔۔میرا چین سکون لے کر تم مزے سے رہوگی ایسا نہی ہونے دونگا”
خود سے کہتے وہ گاڑی کی چابی اٹھا کر گھر سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔
