970.6K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 13)

Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes

وہ جو اسکو گاڑی تک چھوڑ کر واپس اپنی کلاس لینے کے لیے جانے لگا تھا پاؤں میں کسی چیز کے اٹکنے سے ایک دم سنبھلا ۔۔۔۔نیچے جھک کر دیکھا تو کسی کا یونی ورسٹی کارڈ تھا ۔۔۔۔

اٹھا کر دیکھا تو اُسکی تصویر تھی ۔۔۔نیچے نام درج تھا ۔۔۔”اریج شاہ،،

وہ زیرِ لب بڑبڑایا ۔۔۔ اُسکا نام لیتے اُسکی آنکھوں کے سامنے اُسکا معصوم رویا ہوا چہرہ آ گیا ۔۔۔ اُس نے چمکتی آنکھوں سے مسکراتے ہوئے

کارڈ کو اپنے بیگ میں رکھا اور کلاس لینے چلے گیا ۔۔۔

_______________________

شام میں اُس سے بات کرنے کے بعد وہ کچھ دیر آرام کی غرض س لیٹ گئی اور جلد ہی اُسکی آنکھ لگ گئی ۔۔۔

آنکھ کھلی تو اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔۔۔

وقت دیکھا تو آٹھ بج چکے تھے ۔۔۔جلدی سے اٹھ کر منھ پر پانی کہ چھینٹے مارتی وہ دوپٹہ سہی سے لیتی نیچے چلی گی ۔۔۔

نیچے آتے ہی ڈائننگ روم کا رخ کیا ۔۔۔۔اس وقت سب وہیں موجود تھے۔۔۔

” ارے منہا بیٹا آ جاؤ ہم آپکا ہی انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔

حمزہ نے بتایا کہ آپ سو رہی ہیں اسلیے آپکو اٹھانا مناسب نہیں سمجھا ۔۔۔طبیعت ٹھیک ہے نہ آپکی “؟؟ دادی اُسے دیکھتیں تشویش زدہ لہجے میں گویا ہوئیں ۔۔۔

ج۔،،۔۔۔جی میں ٹھیک ہوں پتہ ہی نہی چلا کب سو گئی وہ سر جھکاتے شرمندہ ہوتی بولی ۔۔۔

کوئی بات نہی بچے اس میں پریشان ہونے والی کونسی بات ہے ۔۔وہ اُسے شرمندہ ہوتے دیکھ محبت سے بولیں

“آ جائیں منہا ڈنر سٹارٹ کریں” حمزہ اُسے کھڑے دیکھ پیار بھرے لہجے میں بولا ۔۔۔۔

“نہی مجھے نہی کھانا کچھ بھی صبح سے میں بہت کھا چکی ہوں ۔۔۔اب میرا بلکل بھی دل نہی چاہ رہا “۔۔۔وہ منہ بسورتے بولی

” منہا آ کر یہاں بیٹھیں اور کھانا شروع کریں” حمزہ قدرے سخت لہجے میں بولا ۔۔۔

وہ منھ بناتی پاؤں پٹختی اُسکے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی ۔

۔۔

“میرا بچہ تھوڑا سا کھا لو “دادی اُسے پیار سے پچکارتے ہوئے بولیں ۔۔۔۔

اُسنے تھوڑا سا پلاؤ اپنی پلیٹ میں ڈالا اور جھک کر خاموشی سے چھوٹے چھوٹے چمچ لیتی اپنے منہ میں ڈالنے لگی ۔۔۔

اُسکا سر جھکانا اس کی ناراضگی کا صاف اظہار تھا جسے حمزہ اچھے سے سمجھ چکا تھا اسی لیے اپنے لب دانتوں میں دبائے اپنی مسکراہٹ ضبط کرتا خاموشی سے کھانے لگا ۔۔۔

ابھی کچھ پل ہی گزرے تھے اُسے سر جھکائے ہوئے کہ اُسکے کانوں میں کسی کی دبی دبی ہنسی کی آواز سنائی دی ۔۔۔۔

چہرہ اٹھا کر دیکھا تو اریج اور سمیع لب دباتے اُسکی حالت کے مزے لے رہے تھے ۔۔۔۔

انکو یوں ہنستا دیکھ اسکا چہرہ پل میں سرخ ہوا ۔۔۔

“دیکھیں یہ دونوں پھر سے میرا مذاق اڑا رہے ہیں” وہ روہانسی ہوتی حمزہ کا بازو جنجھورتی بولی ۔۔۔۔

“نہی ایسی تو کوئی بات نہیں ہم تو خاموشی سے ڈنر کر رہے ہیں” ۔۔۔وہ دونوں چہرے پر معصومیت لاتے حمزہ کی جانب دیکھ بولے۔۔۔

حمزہ سے منہا کا پریشان سرخ چہرہ دیکھا نہ گیا اسی لیے بول اٹھ ۔۔۔۔

” تمیز سے رہو تم دونوں ہنسنے والی کونسی بات ہے ۔۔۔۔ میری بیوی کو تنگ کرنے کی ضرورت نہیں وہ بہت معصوم ہے اور بھابھی ہے تمہاری۔۔۔۔۔۔۔

اگر اب میری بیوی کو تنگ کیا تو بہت برا پیش آؤں گا “وہ انہیں سختی سے بولتا منہا کی جانب متوجہ ہوا جسکا چہرہ انکی بےعزتی ہوتی دیکھ کھل اٹھا تھا ۔۔۔۔

منہا اُنھیں آنکھوں میں شرارت لیے دیکھ رہی تھی اور آنکھوں میں واضح پیغام تھا کہ بچو اب ہنسو تم لوگ ۔۔۔

حمزہ کی ڈانت سنتے اُن دونوں کے چہرے اتر گئے تھے خاموشی سے سر جھکائے وہ ڈنر کرنے لگے ۔۔۔

مشکل سے تھوڑے سے چاول اُسنے اپنے حلق میں اتارے۔۔۔۔۔ کہ اُسکا سخت دل خراب ہوّا۔۔۔

وہ تیزی سی اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب دوڑی ۔۔۔حمزہ اُسکو یوں بھاگتے دیکھ پریشان ہوا۔۔۔۔

اٹھتا وہ بھی اُسکے پیچھے پیچھے کمرے میں گیا ۔۔۔۔۔۔

____________________________

وہ کلاس لے کر گراؤنڈ میں بیٹھی تھی ۔۔۔۔آتے ہی اُسے اسائنمنٹ کی الگ پریشانی لگ گئی تھی جو کل تک جمع کروانا تھا اور اُسے کچھ آتا ہی نہی تھا ۔۔۔

اس نے لڑکیوں کی زبانی سنا تھا کہ سر بہت سخت ہیں کوئی بہانے نہی سنتے اُلٹا چھٹی کے نام پر اور سخت ہو جاتے ہیں تب سے وہ اور زیادہ پریشان تھی ۔۔۔۔اور کل کا سوچتے دل کانپ رہا تھا ۔۔۔۔۔

وہ خاموشی سے سر جھکائے بیٹھی تھی جب کسی کی آواز سے وہ اپنی سوچوں سے نکلی

السلام علیکم۔۔۔!

کیسی ہیں آپ۔۔۔۔پاؤں کیسا ہے آپکا؟

اس نے چونک کر چہرہ اٹھا کر اُسکی جانب دیکھا جو چہرے پر دلکش مسکراہٹ سجائے اُس سے حال احوال پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

‘وعلیکم السلام ۔۔۔۔ الحمداللہ اب بہتر ہوں پہلے سے “وہ آہستگی سے بولتی پھر سے چہرہ جھکا گئی ۔۔۔

یہ آپکا کارڈ اُس دِن سیڑھیوں میں ہی گر مجھے ملا تو میں نے رکھ لیا ۔۔۔۔بس یہی دینے آیا تھا ۔۔۔وہ کارڈ اُسکی جانب بڑھاتا بولا

بہت شکریہ آپکا ۔۔اگر اُس دِن آپ نہ ہوتے تو پتہ نہیں میں کیا کرتی ۔۔

اُس سے کارڈ تھامتے وہ تشکرانا لہجئے میں بولی

نہیں اس میں شکریہ کی کوئی بات نہیں ۔۔۔ایک دوسرے کی مدد کرنا ہم سب کا فرض ہے ۔۔۔۔

وہ شائستہ لہجے میں بولا وہ مسکراتی سر ہلا گئی ۔۔۔

” اف یو ڈونٹ مائنڈ کین آئی آسک یو آ کویسچن”؟؟۔۔۔

(اگر آپ برا نہ مانیں تو میں آپ سے ایک سوال پوچھ سکتا ہوں)

وہ اُس سے تھوڑا فاصلے پر بیٹھتا بولا ۔۔۔

جی جی پوچھیں۔۔۔اریج چہرے پر زبردستی مسکراہٹ لاتی بولی

کیا کوئی پریشانی ہے آپ اس طرح سے بلکل خاموش اکیلی بیٹھی ہوئی ہیں۔؟؟

وہ اُسکا متفکر چہرہ دیکھتا پوچھ بیٹھا۔۔۔۔

“اٹس اوکے ۔۔۔۔۔!! اگر آپ نہی بتانا چاہتیں تو” وہ اُسکے جھکے ہوئے چہرے کو دیکھتا بولا ۔۔۔

” نہی مجھے بلکل بھی برا نہی لگا “۔۔۔۔ وہ جلدی سے بولی

میں اُس دِن کے بعد آج آئی ہوں اور آتے ہی مجھے پتہ چلا کہ کل اسائمنٹ جمع کروانی ہے ۔۔۔اور مجھے کچھ نہی معلوم کہ میں اتنے تھوڑے وقت میں کیسے بناوگی ۔۔۔۔کس سے ہیلپ لوں گی ۔۔۔۔۔۔

بھابھی نے کہا تھا کسی سینئر سے ہیلپ لے لینا لیکن مجھے ڈر لگ رہا ہے اگر کسی نے میری ہیلپ نہ کی تو میری انسلٹ ہو جانی۔۔۔

وہ نم لہجے سے اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔

بس اتنی سی بات ہے ۔۔۔وہ استفہامیہ انداز میں بولا

“جی”اُسے دیکھتی سر ہلا گئی ۔۔۔

پھر تو کوئی مشکل ہی نہی ۔۔۔میں ہوں نا ۔۔۔

میں بھی بی بی اے کے سیکنڈ لاسٹ سمسٹر میں ہوں ۔۔۔میں آپکی ہیلپ کر دونگا ۔۔۔ٹیک اٹ ایزی۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا

آپ کو کیسے پتہ میرے ڈیپارٹمینٹ کا ؟؟؟ وہ حیرت سے پوچھ بیٹھی ۔۔۔۔

آپ کے کارڈ سے دیکھا ۔۔۔۔ وہ بولا

“ہمم!!!

کیا سچ میں آپ میری مدد کریں گے”؟ وہ خوشی سے نہال ہوتی بولی ۔۔۔

“جی بالکل لیکن ابھی میری کلاس ہے ۔۔۔آپ بھی اپنی کلاس لے لیں۔۔۔اس کلاس کے بعد یہیں پر ملتے ہیں ۔۔پھر مل کر اسائنمنٹ بنا لیں گے” ۔۔۔۔ وہ اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولا

“جی ٹھیک ہے” ۔۔۔۔۔

وہ شکریہ کہتی کلاس لینے کے لیے اٹھ گئی ۔۔۔

_____________________

ایک گھنٹے بعد جب وہ واپس آئی تو وہ وہاں پہلے سے ہی موجود تھا ۔۔۔

مقابل نے اُسے اپنے قریب آتے بڑے غور سے دیکھا ۔۔

پنک فراک کے ساتھ وائٹ کیپری پہنے ہم رنگ دوپٹے کا حجاب لیے وہ اُسکے قریب آتی سلام کرکے بیٹھ گی۔۔

میں آپکو ضروری ٹاپکس پر نشان لگا دیتا ہوں اور ساتھ ساتھ سمجھا بھی دیتا ہوں ۔۔۔۔

کل آپ انہی کو نوٹ کرکے اسائمنٹ بنا کر لے آئیے گا ۔۔۔۔وہ اس کے ہاتھ سے کتاب لیتے ہوئے بولا

وہ سر ہلاتی اُسکی طرف متوجہ ہوئی ۔۔۔۔جو اُسے سمجھانے ساتھ ساتھ ضروری ٹاپکس کو انڈرلائن بھی کرتا جا رہا تھا ۔۔۔

کچھ ہی دیر میں وہ اُسے کافی حد تک سمجھا چکا تھا جس سے اُسکی اسائنمنٹ بنانے میں کافی مدد ہوتی۔۔

“سمجھ آیا ہے آپکو؟؟ اگر کچھ سمجھ نہیں آ رہا تو بے ججھک پوچھ لیں ۔۔۔اور کل اسآئیمنٹ جمع کروانے سے پہلے ایک بار مجھے دیکھا لیجیے گا ۔۔۔میری فرسٹ کلاس فری ہے کل میں یہیں پر آپکا انتظار کرونگا”۔۔۔ وہ کتاب بند کرتا ہوا بولا

آپکا بہت بہت شکریہ !!!وہ خوش ہوتی اُسے دیکھتے ہوۓ بولی ۔۔۔۔

اگر آج آپ میری مدد نہ کرتے تو صبح میری بہت انسلٹ ہونی تھی ۔۔۔۔

نہی کوئی بات نہیں آپکو جس چیز میں مشکل لگے آپ مجھ سے پوچھ سکتی ہیں ۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا

“تھینک یو سو مچ” وہ بھی مسکراتی ہوئی اُسکی طرف دیکھتی ہوئی بولی

ایک پل کے لیے وہ اُس کی مسکراہٹ دیکھتا مبہوت رہ گیا ۔۔۔۔

“میں اب جاؤں میری کلاس کا وقت ہو گیا” وہ اُسکی نظروں سے خائف ہوتی ججھکتی ہوئی بولی ۔۔۔۔

“جی جی ضرور”!!! وہ ایک دم اپنی بے اختیاری پر شرمندہ ہوتا بولا ۔۔۔

_______________________________

وہ نڈھال سی بیسن پر جھکی ہوئی تھی اُس تک جاتا وہ جلدی سے اُسکی کمر سہلانے لگا

اور اسکو ساتھ لگائے بیڈ تک لایا ۔۔۔وہ بیٹھتی گہری سانس لے کر خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔کچھ ہی پل میں اُسکا چہرہ زرد پڑ گیا تھا ۔۔۔

وہ اُسکے قریب بیٹھتا اُسکا سر اپنے سینے سے لگا گیا

“طبیعت زیادہ خراب ہو رہی ہے” ؟؟وہ متفکر ہوتا محبت سے اُس سے استفسار کرنے لگا ۔۔۔۔

” میں نے کہا بھی تھا آپ سے کہ مجھے بھوک نہیں ہے لیکن آپ نے زبردستی کی”

وہ اٹکتی سانسوں کے درمیان بولی۔۔۔۔۔اور کچھ وقت ایسے ہی اُسکے سینے کے ساتھ لگی رہی ۔۔۔۔

کہ تیزی سے اٹھتی پھر سے وہ واشروم کی جانب بھاگی۔۔

وہ اُسکے ساتھ واشروم میں اُسکے پیچھے کھڑا ہوتا اسکی کمر سہلانے لگا ۔۔۔۔۔

چہرے پر پانی گرآتے وہ سیدھی ہوئی ۔۔۔

اُسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتا وہ پھر سےاُسے بیڈ تک لایا۔۔۔

“ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں”۔۔۔۔۔وہ اُسکے بال سہلاتا محبت اور پریشانی کے ملے جلے تاثر سے بولا۔۔۔

“نہی اسکی ضرورت نہیں صبح بھی ایسے ہی وومٹ ہو رہی تھی ۔۔۔دادی نے کہا تھاکہ ایسا ہی ہوتا ہے اس کنڈیشن میں” وہ ہانپتی ہوئی بولتی بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگا گئی ۔۔۔

دوپٹہ ایک طرف کندھے پر گرا تھا ۔۔۔

اُسکا دوپٹہ ٹھیک کرتے وہ اُسکے ساتھ بیٹھتا اُسکا سر اپنے شانے پر رکھتا اُسکے بال سہلانے لگا ۔۔۔

منہا کو اُسکی اس حرکت سے کافی حد تک سکون محسوس ہوا۔۔۔۔۔جلد ہی وہ پرسکون ہوتی اسکے شانے سے لگی ہی سو گئی ۔۔۔

حمزہ کچھ وقت اُسکی نرم گرم سانسوں کی آواز سنتا رہا حب اُسے مکمل یقین ہو گیا کہ وہ گہری نیند میں جا چکی ہے اُسکا سر خاموشی سے تکیے پر رکھا ۔۔۔۔اُسکی پیشانی پر لب رکھتا اُس پر کمفرٹر سہی سے اڑاتا اور اٹھ کر لائٹ آف کرتا نائٹ لیمپ آن کرتا اُسکے قریب لیٹ گیا۔۔۔۔۔۔۔