Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes Readelle 50364 Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 20) Last Episode (Part - 1)
No Download Link
Rate this Novel
Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 20) Last Episode (Part - 1)
Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes
وہ جو اُسے دیکھ کر کچھ سکون میں آئی تھی
اُسکا سرخ چہرہ دیکھ پریشان ہو گئی
خطرے کی گھنٹیاں دماغ میں بجنے لگی
کچھ بہت غلط ہونے کا احساس ،،،
لیکن اُسے یقین تھا اُس پر”….
وہ اُسے کبھی تنہا نہیں چھورے گا
یہ میں کیا سن رہا ہوں منہا!!
اُسکے بازوں پر سخت گرفت کرتے وہ بولا
آپ نے مما کے ساتھ بتميزی کی ہے
وہ نیچے بیٹھی اتنا رو رہی ہیں…
مجھے وضاحت چاہئے آپکے رویے کی
یہ کون سی غیر اخلاقی حرکت کی ہے آپ نے!
گھر میں آے ہوے مہمانوں کو کون یوں ذلیل کرکے نکالتا ہے
مجھے آپ سے یہ امید نہی تھی
منہا اُسکی سخت گرفت پر ترپ اٹھی ۔۔۔
تکلیف سے آنسو بہنے لگے
آپ نے اُن کی تو بات سںن لی
لیکن وجہ نہی پوچھی میری بتميزی کرنے کی
ہاں وہ کیوں اپنی غلطی بتائے گی آپ کو
منہا درشتی سے بولتی اپنا بازو چھڑوانے لگی
منہا۔۔۔۔۔ حمزہ غصے اور اشتعال سے دھاڑا
وہ اُسکی آواز سنتی کانپ کے رہ گئی
اپنی زبان کو قابو میں رکھیں یہ نہ ہو میں کچھ غلط قدم اٹھا دوں
اور نیچے جا کر مان سے معافی مانگیں اپنے رویے کی
وہ سرخ انگارا آنکھوں سے اُسے دیکھتا بولا
کیوں کیوں معافی مانگوں
جب میری غلطی ہی نہیں،،،
آپ ایک بار میری بات سن لیں ۔۔۔۔
پھر آپ جو کہیں گے میں کرونگی
لیکن ایک بار میری سن تو لیں
وہ بے بسی سے بولی
مجھے کچھ نہی سننا
بس آپ نیچے جا کر مما سے معافی مانگیں گی
وہ خود پر قابو پاتا بولا
بہت خوب “
تو آپکی مان کامیاب ہو گئی اپنے پلین میں
وہ تو چاہتی یہی تھی کے آپکو مجھ سی بدگماں کریں
اور مجھے لگتا ہے اُنکا پلین کام کر رہا ہے
جو آپ میری ایک بات سننے کے روادار نہیں
منہا۔۔۔!!
اس سے پہلے کے اُسکا ہاتھ اٹھتا ۔۔۔
وہ خود پر ضبط کرتا اپنا ہاتھ ہوا میں ہی روک گیا
جب کے منہا پھٹی آنکھوں سے اُسے بے یقینی سے دیکھنے لگی
اُس کے الفاظ،،، اُسکا اٹھتا ہاتھ دیکھ کر منھ میں ہی دم تور گئے
وہ تو یہ کبھی سوچ ہی نہی سکتی تھی کے یہ وقت بھی آئے گا
یہ وہ شخص نہی تھا جس نے اُسکے ساتھ رہنے ،،،،اُس پر یقین کرنے کا وعدہ کیا تھا،،
یہ وہ تو نہیں تھا
جو راتوں کو جاگ کر اُسکا خیال رکھتا ۔۔۔۔
جو اُسکی ایک آواز سے اٹھ کر بیٹھ جاتا
یہ تو کوئی اور تھا ۔۔۔
یہ اُسکا حمزہ نہی تھا
اُسکی آنکھوں میں بے یقینی دیکھ حمزہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔۔۔۔
میں ایسا نہی چاہتا تھا لیکن آپ نے مجھے مجبور کر دیا
وہ اپنی کن پٹی سہلاتا کمرے میں چکر لگاتا بولا
منہا بس اُسے دیکھتی رہ گئی جو آج اُس پر ہاتھ اٹھانے کے قریب تھا
وہ اُسے ساکت کھڑے دیکھ اُسکے قریب آیا
اور اُسے بازوں سے تھامے بولا ۔۔۔
آپ معافی مانگ رہی ہیں کے نہیں؟؟
تلخی سے بولتا اُس سے جواب مانگ رہا تھا
مجھے ہاں ۔۔۔یاں نہ میں جواب چاہیے؟؟
اُسکی آنکھوں میں اپنی سرخ آنکھیں ڈالے وہ اُس سے سوال کر رہا تھا
اُس کے الفاظ منہا کا دل زحمی کر رہے تھے لیکن اُسے کب پرواہ تھی
نہی میں معافی نہی مانگو گی
اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے وہ ڈیٹھ بنی بولی
آخر یہ شخص اُسکی بات سن کیوں نہی رہا
حمزہ کی گرفت اُس پر ڈھیلی ہوئ
ٹھیک ہے پھر ۔۔
۔اسکا مطلب میری بات کی کوئی ویلیو نہی آپکی نظر میں وہ غصے سے غراتا منھ موڑ گیا
آج میں جان گیا ہوں اپنی اوقات
وہ اس وقت کچھ سمجھنا ہی نہیں چاہ رہا تھا
منہا اُسکی بات سنتی ترپ گئی
حمزہ ایسی بات نہی ہے
آپ ایک بار میری”
وہ اُسکے قریب جاتی اُسکا ہاتھ پکڑتی اُسکا چہرہ اپنی جانب کرتی آنسو سے تر چہرے سے بولی
حمزہ اُسکی جانب سخت تاثرات سے دیکھتا اُسکا ہاتھ جھٹکتا اُسے خود سے دور کر گیا
اُس کے ہاتھ جھٹک کر دور کرنے سے منہا کا توازن برقرار نہ رہا اور وہ اُس سے دور جا گری
حمزہ جو اُس کے ہاتھ جھٹکتے باہر نکلنے لگا تھا
دھڑم،،، کی آواز سنتے مڑا
وہ نیچے گری پیٹ پڑ ہاتھ رکھتی تکلیف کی شدت سے دوہری ہو رہی تھی
وہ اس تمام صورت حال کو سمجھ نہیں پایا ۔۔۔
اُسکی چیخ سنتا خواس باختہ سا اُسکے قریب آیا
جو پیٹ پر ہاتھ رکھے آنسو بہا رہی تھی
منھ ام سوری،، ۔۔۔۔ام سوری “
کچھ نہیں ہوگا آپکو!!
میں کچھ نہی ہونے دونگا
اُسے باہوں میں لیے وہ جلدی سے نیچے کی جانب بھاگا
۔۔۔۔میرا بچہ ۔۔۔۔وہ روتی ہوئی بس یہی بول پائی
کچھ نہی ہوگا کچھ نہی منہا،
آپ ۔۔۔میں آپ کو کچھ نہیں ہونے دونگا ۔۔۔۔وہ اُسے تکلیف میں دیکھ خود بھی روتا ہوا بولا
دادو،،،
وہ اُسے بانہوں میں لیے دادو کو پُکارتا دیوانہ وار لاؤنج میں آیا
دادی جو منہا کو آرام کرنے کا کہتی خود بیٹھی تسبیح کر رہی تھی
آوازیں سنتی جلدی سے باہر آئی
سامنے کا منظر دیکھ اُنکی چیخ نکل گئی
منہا میری بچی وہ چیختی اُسکے قریب ایک
حمزہ کیا ہوا ہے منہا کو ،،،کیسے__؟
دادی جلدی چلیں پلیز،،
وہ اُسے لیے جلدی سے گاڑی میں بیٹھا
۔سامنے سے آتے اریج اور سمیع تمام صورت خال سمجھ نہ پائے اور تیزی سے اُنکی جانب لپکے
حمزہ جو گاڑی میں بیٹھتا کانپتے ہاتھوں سے گاڑی سٹارٹ کرنے لگا تھا
سمیع کی آواز سنتا اُسے دیکھتا بولا
بھای کیا ہوا ہے ۔۔۔بابھی،، ۔۔ بھا ۔۔۔کو کیا ہوا
اسکو تکلیف میں دیکھ سمیع کے منھ سے بمشکل کچھ الفاظ نکلے
سمیع بہت برا ہو گیا یار بہت ۔۔۔۔
وہ ٹوٹے ہوے لہجے میں بولا،،
تم جلدی سے منہا کے گھر والوں کو خبر کرو اور ہاسپٹل آ جانا
وہ بولتا گاری بھگا لے گیا ،،
ہاسپٹل کے سامنے گاری روکتے وہ اُسے لیے اندر بھاگا
ہسپتال کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے اُسکی تکلیف کا سوچتے اُسکی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے
کس قدر تکلیف میں تھی وہ
راستے میں دادی کی گود میں سر رکھے وہ چیختی بس اپنے بچے کو بچانے کا بول رہی تھی
یہ سب کیا ہو گیا مجھ سے ۔۔۔
اُس نے ایسا تو نہیں چاہا تھا
وہ تو اُسے تکلیف دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا
وہ خود کو شرمندگی کی اتھاں گہرائیوں میں ڈوبتا محسوس کر رہا تھا
آج اس کی وجہ سے اُسکی بیوی بچہ تکلیف میں تھے
زبان سے بس ایک ہی دعا نکل رہی تھی
آلہ میری بیوی بچے کو زندگی دے ،،،
اللہ میرے گناہ کی سزا میری بیوی کو نہ دینا
وہ خدا سے ہمکلام ہوتا بس یہی الفاظ دہرائے جا رہا تھا
سر آپکو ڈاکٹر صاحبہ اپنے کیبن میں بلا رہی ہیں
ایک سسٹر اُسکے قریب آتی بولی
وہ سر ہلاتا اپنی آنکھوں کی نمی کو چھپاتا دھڑکتے دل کے ساتھ کیبن میں داخل ہوا
بیٹھیے مسٹر شاہ
اور کچھ پیپر اُسکے سامنے رکھ دیئے ۔۔۔
وہ نا سمجھی سے پیپر دیکھتے ڈاکٹر کی جانب دیکھنے لگا
مسٹر شاہ مجھے بہت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کے آپکی وائف کے کیس میں بہت کامپلیکيشنز ہیں
میں نے پہلے بھی آپکو اُنکا بہت خیال رکھنے کا کہا تھا
لیکن اب ان کی کنڈیشن بہت خراب ہے
بہت زیادہ بلیڈنگ کی وجہ سے بچہ اور مان دونو کی جان کو خطرہ ہے
آپکو ان پیپر پر سائن کرنے ہو نگے تاکہ ہم فوری طور پر آپریٹ کر سکیں
میں اپنی پوری کوشش کرونگی دونو کو بچانے کی لیکن اگر آپ کسی ایک کو بچانا چاہیں تو کس کو بچاے گے
یہاں سائن کر دیں
ڈاکٹر اپنے پیشہ وارانہ لہجے میں بولتی پین اُسکے آگے رکھ گئی ۔۔۔
ڈاکٹر کی بات سنتا سدمے سے گنگ وہ اُسے دیکھنے لگا
یوں لگا جیسے ہاسپٹل کی چھت اُسکے سر پر آ گری ہو
ڈاکٹر اُسکی خالت دیکھتی بولی
میں سمجھ سکتی ہوں یہ بہت مشکل ہے
لیکن میں مجبور ہوں ۔۔۔۔
آپ بس خدا سے دونو کی زندگی کی دعا کیجئے
کانپتے ہاتھوں سے اُسنے پیپر پر سائن کیے اور اپنی متاعِ جان کی زندگی بچانے کا لیے کہا
لیکن مجھے میری بیوی بچہ دونوں سہی سلامت چاہیے وہ ڈاکٹر کو دیکھتا بولا
انشا اللہ ہم اپنی پوری کوشش کریں گے
آپ بھی دعا کریں دونو کی زندگی کے لیے
کہتی وہ کمرے سے نکل گئی
وہ سر تھامے وہی بیٹھتا شدتِ ضبط سے سر ہاتھوں میں گرائے آنسو بہانے لگا ۔۔۔۔
اُسکی ایک غلطی سے سب بکھر گیا ،،،
اُس نے تو اُسکے سنگ کتنے خواب سجائے تھے ۔۔۔۔
سب بکھر گئے ،،،
لیکن یہ تو اب خدا ہی جانتا تھا کے اُنکے خوابوں کو تعبیر ملنی تھی ،،،،یاں بکھرنے تھے،،
