Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes Readelle 50364 Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 7)
No Download Link
Rate this Novel
Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 7)
Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes
شام کو ولیمہ کا فنکشن تھا ۔۔۔منہا کو بیوٹیشن تیار کرنے آئی تھی ۔۔۔۔آخری ٹچ دیتے ہوئے اسنے منہا کی دل سے تعریف کی ۔۔۔
میم آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں ۔۔۔آپکی آنکھیں بہت حسین ہیں۔۔۔منہا بس خاموش رہی ۔۔۔۔اتنی دیر میں دروازہ کھلا ۔۔۔۔ حمزہ اپنی شاندار پرسنالٹی لیے بلیک پینٹ کورٹ میں کھڑا اسکو دیکھ رہا تھا ۔۔۔جو اسکو کسی پری سے کم نہی لگ رہی تھی ۔۔۔۔آگے بڑھ کر اسنے بیوٹیشن کو باہر جانے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔وہ خاموشی سے باہر نکل گئی ۔۔۔۔
وہ چلتا ہوا اسکے پاس آیا ۔۔۔بہت پیاری لگ رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔اور بریسلیٹ اٹھا کر اسکے ہاتھ میں پہنایا ۔۔۔
کیسا ہے ؟اس نے محبت سے پوچھا لیکن اُسکو خاموش دیکھ کر اسکے ہاتھ کو تھام کر باہر کی طرف رُخ کیا ۔۔۔۔۔
___________________________
حال میں پہنچے تو سب اُنکے ہی انتظار میں تھے ۔۔۔وہ بہت آرام سے اسکے ساتھ قدم سے قدم ملا کر اسٹیج تک گئی ۔۔۔۔سب سے مل کر وہ بیٹھی اپنی گھر والؤں کا انتظار کر رہی تھی دل میں خدشہ تھا کہ کوئی آئے گا بھی یا نہیں ۔۔۔۔۔
اس سے ملنے صرف موسیٰ آیا تھا اُسکی آنکھیں انکی بے رخی کا سوچ ایک پل میں نم ہوئیں۔۔۔۔
اُسکے جاننے والا تو کوئی تھا نہیں اسلیے خاموشی سے نظریں جھکائے وہ بیٹھی رہی ۔۔۔۔حمزہ اپنے آفیس کے کالیگ کے ساتھ مصروف تھا دوسری طرف
اُسکے پردے کا خیال کرتے ہوئے مرد حضرات کے لیے الگ حال تھا ۔۔۔۔جلد ہی تقریب اپنے احتتام پر پہنچی اور وہ لوگ گھر آ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
______________________
منہاخاموشی سے جیولری اُتار رہی تھی جب پیچھے سے حمزہ نے آ کر اسے اپنے حصار میں لیا ۔۔۔۔اتنی خاموش کیوں ہیں ۔۔۔ ناراض ہیں کیا ابھی تک ؟؟
“دور رہیں مجھ سے ۔۔۔ وہ غصے سے اُسے دیکھتی پھٹ پڑی۔۔۔۔۔۔۔ہر بات پر زبردستی کرتے ہیں ۔۔۔پہلے شادی زبردستی کی اوراب” وہ کہتی نم لہجے سے رخ موڑ گئی ۔۔۔۔غلام بنا لیا ہے مجھے اپنا ۔۔۔۔۔میری تو کوئی مرضی ہی نہی ۔۔۔وہ روتے ہوئے سرخ چہرے سے ہچکیوں کے درمیان بولی۔۔۔۔
“آپکو کس نے کہا کہ آپ غلام ہیں ۔۔۔۔آپ تو میرے دل کی ملکہ ہیں ۔۔۔۔۔آپکو میرا پیار قید لگ رہا ہے میرا قریب آنا برا لگ رہا ہے۔۔۔۔۔
آپ یقین کریں منہا میرا گزارا آپکے بغیر ممکن نہی ۔
۔۔اور میں جانتا ہوں آپ کے گھر والے ناراض ہیں اسلیے آپ اُداس ہیں
آپ یقین کریں میں بہت جلد انہیں راضی کر لونگا اور آپکو ان سے ملوانے وہاں لے جاؤنگا ۔۔۔۔لیکن پلیز اس طرح رو کے خود کو تکلیف نہ دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔جائیں فریش ہو جائیں” وہ اُسکے آنسو صاف کرتا بولا ۔۔۔۔۔
وہ تیزی سے اس سے دور ہوتی ڈریسنگ روم میں چلی گئی ۔۔۔ وہ باہر آئی تو حمزہ کمرے میں موجود نہیں تھا شکر کا کلمہ پڑھتے وہ جلدی سے کمفرٹر لیے لیٹ گئی
___________________________
صبح اُسکی آنکھ کھلی تو حمزہ پاس لیٹا سو رہا تھا وہ اٹھ کر فریش ہوئی اور نیچے چلی گئی
نیچے آتے ہی سبكو سلام کرکے وہ دادی جان کے پاس بیٹھ گئی ۔۔۔۔
بیٹا حمزہ نہیں آیا ؟؟
“جی وہ سوئے ہوئے تھے میں اسلیے آ گئی” وہ دھیمے لہجے میں بولی
“اچھا کوئی بات نہیں میرا بچہ “وہ پیار سے اُسکے سر پر ہاتھ پھیرتے بولیں
“منہا بیٹا حمزہ کو بلا لاؤ ناشتہ لگ گیا ہے” ربیعہ بیگم اسے کہتی ملازمہ سے ناشتا لگوانے لگیں
جی،،،وہ کہتی اپنے کمرے کی جانب چلی گئی
روم میں قدم رکھا تو وہ ابھی بھی ہنوز ویسے ہی سو رہا تھا
منہا کو اسے اٹھانا دنیا کا مشکل ترین کام لگا ۔۔۔۔ججھکتی ہوئی اُسکے قریب گئی ہاتھ بڑھا کر اسکے کندھے کو ہلایا اٹھ جائیں سب آپکا ویٹ کر رہے ہیں نیچے
لیکن وہ اٹھنے کی بجائے اُسکا ہاتھ تھام کر اپنے گال کے نیچے رکھتے پھر سے سو گیا
منہا جھنجھلا گئی اُسکی اس حرکت سے
نواب صاحب کے نخرے دیکھو یہاں میں اٹھانے کی تگودو میں ہوں اور مسٹر میرا ہاتھ تھامے چھوٹے بچے کی طرح سو رہے ہیں
اٹھ جائیں پلز سب انتظار کر رہے ہیں آپکا اُسنے اپنا ہاتھ کھینچتے ہوئے اونچی آواز سے کہا
حمزہ جاگ چکا تھا لیکن اسے تنگ کرنے کی غرض سے جان بوجھ کے اٹھ نہیں رہا تھا
وہ کروٹ بدل کر سویا ہوا بنا
افّف میرے خدایا ایک کو گھر چھوڑ کے آئی تھی اب یہ مسٹر بھی ویسے ہی ڈھیٹ ملے
وہ پاؤں پٹخکتی جانے کے لیے مڑی کہ اچانک حمزہ نے اُسکا ہاتھ تھام لیا
“ڈھیٹ تو میں ہوں بیگم اسی لیے تو آپ میرے پاس ہیں” وہ بولتا اسے اپنے قریب کر گیا
منہا کا تو غصے سے چہرہ لال ہو گیا کے وہ جان بوجھ کر اُسے تنگ کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
جلدی ریڈی ہو جائیں سب ویٹ کر رہے ہیں وہ نظروں کا زاویہ بدلتی بولی
حمزہ نے اسے بغور دیکھا
جو پنک کلر کا سمپل سے ہلکی ایمبرائیڈری والا ڈریس پہنے دوپٹہ سلیقے سے سر پر اوڑھے ۔۔۔۔ہلکی پنک لپسٹک لگائے سادگی میں بھی اُسکا ایمان ڈگمگا رہی تھی
اس سے پہلے کے وہ کوئی گستاخی کرتا وہ وارڈروب سے اپنا ڈریس لیتا واشروم میں بند ہو گیا
منہا کاوچ پر بیٹھی اُسکا انتظار کرنے لگی
جیسے ہی وہ باہر آیا دونوں روم سی باہر نکلے
حال میں قدم رکھتے سب کے قریب آتے دونوں نے ایک ساتھ سلام کیا حمزہ نے منہا کے لیے کرسی کھینچ کر اُسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور ساتھ والی کرسی پر بڑی شان سے براجمان ہوا
“وعلیکم السلام!! میرا بیٹا نیند پوری ہو گئی آپکی “ربیعہ بیگم پیار سے اُسے دیکھتی بولیں
“جی مما بہت اچھی اور پرسکون نیند آئی” وہ معنی حیزی سے منہا کو دیکھتا بولا جسکا رنگ اُسکی اس حرکت سے ایک دم سرخ ہوا
“منہا بیٹا ٹھیک سے کھاؤ آپکا اپنا گھر ہے” دادی نے اُسکو ٹوکا جو صرف جوس پی رہی تھی
وہ سر ہلاتی بریڈ کا سلائس اٹھا کر اس پر جیم لگانے لگی
باتوں کے درمیان ناشتہ کیا گیا
حمزہ کی ضروری میٹنگ تھی وہ آفس چلا گیا اور منہا سب کے ساتھ باتوں میں مصروف ہو گئی
اریج منہا سے اُسکی پسند نہ پسند اور باقی باتیں پوچھ رہی تھی جنکا جواب منہا بس ہوں ہاں میں دے رہی تھی ۔۔۔۔دادی نے اُسکی خاموشی محسوس کی تو اسے اپنے کمرے میں بھیج دیا
جاو منہا بیٹا تھوڑی دیر آرام کرلو ۔۔۔۔۔آنے دو اس گدھے کو میں پوچھتی ہوں کہ نئی نویلی دلہن کو چھوڑ کر آفس چلا گیا ہے
منہا سر ہلاتی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی
شام میں جب وہ کافی دیر نیچے نہیں آئی تو اریج اُسکے پاس آ گئی۔۔۔۔بھابھی میں آ جاؤں ؟؟
جی جیآ جائیں پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بولی
وہ آپ نیچے نہی آئیں تو میں نے سوچا میں آپکے پاس آ جاتی ہوں آپکو برا تو نہیں لگا میرا یوں آپ کے روم میں آنا ۔۔۔ اریج اسکے پاس بیٹھتے ہوئے بولی
نہیں ایسی کوئی بات نہیں بہت اچھا کیا تم آ گئی میں بس نیچے ہی آنے والی تھی ۔۔۔۔اریج سے بات کرکے وہ اتنا تو سمجھ گئی تھی کہ وہ کافی فرئینک طبیعت کی تھی۔۔۔ جسکی وجہ سے منہا بھی زیادہ دیر خاموش نہ رہ سکی باتوں میں وقت گزرنے کا دونوں کو احساس ہی نہیں ہوا ۔۔۔
اُف بہت وقت ہو گیا بھابھی آ جائیں نیچے چلتے ہیں بھائی آنے والے ہونگے ۔۔۔منہا بھی سر ہلاتی مسکراتی اسکے ساتھ اٹھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمزہ گھر آیا تو اُسے منہا دکھائی نہیں دی ۔۔۔۔دادی کے کمرے میں گیا انکو سلام کرکے منہا کا پوچھا
بیٹا وہ اپنے کمرے میں ہے اریج بھی اُسکے ساتھ ہے ۔۔۔میں نے ہی اُسے بھیجا ہے کہ اس سے باتیں کرے تاکہ اُسکا دل بھی بہل جائے
حمزہ اپنا بیگ ایک طرف رکھتا انکے پاس بیٹھ گیا ۔۔۔
دیکھو میرا بیٹا جن حالات میں تمہاری شادی ہوئی ہے وہ ایک لڑکی کے لیے قبول کرنا بہت مشکل ہے اسلیے بہت محبت سے اُسکے ساتھ رہو ۔۔۔۔اُسے کچھ وقت دو ،،،،اُسے سمجھو۔۔۔۔
اُسے احساس دلاو اپنی محبت کا ۔۔۔۔تم اُسے اکیلا چھوڑ آفیس چلے گئے ۔۔۔
جانتے بھی ہو کے اُسے اس وقت سب سے زیادہ تمہاری ضرورت ہے ۔۔۔۔ دادی اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے بولیں
میری پیاری دادی آپ بلکل ٹھیک کہہ رہی ہیں بس تھوڑا سا کام تھا اس وجہ سے جانا پڑا
آپ فکر نہ کریں میں جانتا ہوں ۔۔۔۔
بس اسے کچھ وقت دینا چاہتا تھا تاکہ وہ ہمارے رشتے کو سمجھ سکے اچانک جس طرح سے شادی ہوئی اس وجہ سے میں چاہتا تھا کہ اُسےکچھ اسپیس دوں ۔۔۔۔وہ اُنکا ہاتھ چومتا بولا
“اچھا اب جاؤ اپنے روم میں اور فریش ہو کر اُسے کہیں باہر کھانے پر لے جاؤ ” دادی اس سے بولیں
“جو حکم آپ کا” اُسنے مسکراتے ہوئے کہا اور دادی کے روم سے باہر قدم رکھا اور ربیعہ بیگم سے مل کر اوپر کی جانب جانے لگا
نظر اس پر پڑی جو اریج کی کسی بات پر مسکراتی نیچے آ رہی تھی
اُسے دیکھ منہا کی مسکراہٹ ایک دم غائب ہوئی ۔۔۔۔
“اسلام علیکم بھائی ”” آپ کب آئے ۔۔۔میں ابھی بھابھی سے یہی کہہ رہی تھی کہ آپ کے آنے کا وقت ہو گیا” اریج اسے سلام کرتی ہوئی بولی
سلام کا جواب دیتا وہ بولا” میرا بیٹا میں بس ابھی آیا ہوں۔۔۔۔آپ نے بھابھی کو تنگ تو نہیں کیا زیادہ “۔۔۔۔۔حمزہ نے مسکراتے ہوئے اُسے بولا
“اللہ بھائی ۔۔۔بھابھی کے آتے ہی آپ بدل گئے ۔۔۔۔میں کیوں تنگ کرونگی بھابھی کو” اُسنے منھ پھلاتے کہا
ہاہاہا میرا بیٹا مذاق کر رہا تھا ۔۔۔۔اس دوران منہا خاموشی سے ایک طرف سے نکلتی نیچے چلی گئی
حمزہ نے اُسکا جانا محسوس کیا لیکن خاموشی سے اریج کو فریش ہونے کا کہتا اپنے کمرے کی جانب چلا گیا
__________________________
منہا نیچے آ کر لاونج میں بیٹھی تو ربیعہ بیگم اور اریج بھی اُسکے پاس بیٹھ گئیں ۔۔۔۔
بیٹا حمزہ نہیں آیا ابھی تک؟؟انہوں نے منہا سے پوچھا۔۔۔
جی ،،،،ابھی آئے ہیں چینج کرنے گئے ہیں۔۔۔منہا انہیں دیکھ جلدی سے بولی
” تو میرا بیٹا آپ جاؤ روم میں دیکھو اُسے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں اور خود بھی ریڈی ہو جاؤ
آج باہر ڈنر پر جانا ہے آپ نے بتایا تھا اُسنے مُجھے ۔۔۔جائیں شاباش میری بیٹی”
منہا خاموشی سے “جی” بولتی کمرے کی جانب چل دی۔۔۔
روم میں قدم رکھتے ہی اس نے ارد گرد دیکھا وہ کہیں نظر نہ آیا۔۔۔۔
واشروم سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی ۔۔۔وہ شکر ادا کرتی خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گئی
گھر کی یاد آئی تو موسیٰ کا سوچتی فون اٹھا کر اُس کا نمبر ملایا جو فوراً اٹھایا گیا
سلام دعا کے بعد اس نے مما بابا کی طبیعت کا پوچھا ۔۔۔اور اس سے باتوں میں پتہ ہی نہیں چلا کب حمزہ اُسکے قریب بیٹھا
احساس تو اُسے تب ہوا جب حمزہ نے اُسکے بالوں سے کیچر نکالا۔۔۔ایک دم فون ہاتھ سے چھوٹتے بچا ۔۔۔ ۔۔۔۔دل کانوں میں بجتا سنائی دیا
اُسے دوبارہ بات کرنے کا بولتی فون بند کرتی اُس سے دور ہونے لگی
لیکن اُسکی یہ کوشش ناکام ٹھہری ۔۔۔حمزہ نے اُسکے گرد حصار بنایا اور اُسکے قریب ہو کر اُسکے بالوں سے آتی خوشبوں کو اپنے اندر اُتارا ۔۔۔۔منہا اُسکی اس حرکت سے کپکپاتی دور ہونے لگی۔۔۔
کب تک ناراض رہنے کا ارادہ ہے جان دل۔۔۔وہ گھمبیر آواز میں اُسکا رخ اپنی طرف کرتا بولا۔۔۔۔ منہا خاموش رہی۔۔۔۔
” اچھا چلیں جائیں تیار ہو جائیں ڈنر پر جانا ہے ہم نے” اُسنے کہتے اس پر گرفت ڈھیلی کی۔۔۔ منہا اس سے دور ہوتی تیزی سے ڈریس لیتی ڈریسنگ روم میں بند ہو گئی
حمزہ تیار ہوتا نیچے چلا گیا ۔۔۔۔۔۔
پیچ لونگ فراک پہنے وہ باہر نکلی اور ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہوتی تیار ہونے لگی
ہلکا سا میک اپ کیا اور دوپٹہ حجاب سٹائل میں لپیٹا ۔۔۔۔سفید بڑی سی چادر اپنے گرد پھیلائے وہ خود کا جائزہ لیتی نیچے کی جانب گئی
حمزہ جو اُسے دیکھنے کے لیے اوپر آنے لگا تھا اُسے آتا دیکھ وہیں رک گیا ۔۔۔۔پیچ لونگ نیٹ کی فراک پر حجاب لیے وہ اُسے کوئی پری لگی ۔۔۔۔اس نے بے ساختہ ہاتھ اُسکی طرف بڑھایا
جسے منہا نظر انداز کرتی آگے بڑھنے لگی لیکن اُسکی چادر پاوں میں پھنس گئی ۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ گرتی حمزہ نے فوراً اُسے تھام لیا ۔۔۔اور اُسکے گرد حصار بناتا اُسکے ساتھ نیچے لاؤنج میں قدم رکھا ۔۔۔۔
واؤ بابھی ,,,,,
You look prett
سمیع اُسے دیکھتا بولا ۔۔۔۔ وہ اُسکی تعریف سے جھنپ گئی ۔۔۔ “بھابھی ہیں تمہاری “اریج اُسے روکتی بولی ۔۔۔تو کیا بھابھی کی تعریف نہیں کرتے ۔۔۔بھابھی آپ بتائیں میں نے کچھ غلط کہا سمیع نے منہا سے پوچھا جس نے فوراً نفی میں گردن ہلای۔۔۔۔سب انکو دیکھ ہنس پڑے
ما شاء االلہ میرے دونوں بچے بہت پیارے لگ رہے ہیں ۔۔۔۔اللہ نظربد سے بچائے( آمین)
اریج اور سمیع کی تکرار جاری تھی اس سے پہلے کے حمزہ انکو کچھ بولتا ربیعہ بیگم بول اٹھیں
بیٹا انکو چھوڑو انکا روز کا کام ہے جاؤ آپ لوگ ۔۔۔۔۔
حمزہ نے باہر نکلتے گاڑی کے قریب آتے اُسکی طرف کا دروازہ کھول پہلے اُسے بٹھایا
وہ گاڑی میں بیٹھی تو حمزہ نے دوسری طرف جگہ سنبھالی ۔۔۔۔گاڑی میں مکمل خاموشی تھی ۔۔۔منہا خاموشی سے باہر کی جانب دیکھ رہی تھی
حمزہ نے ایک فائیو سٹار ہوٹل کے سامنے گاڑی روکی ۔۔۔۔ہوٹل بہت بڑا تھا منہا کو باہر سے ہی دیکھ پریشانی ہونے لگی ۔۔۔۔کیونکہ وہ نقاب کے بغیر تو بلکل بھی کہیں نہیں جاتی تھی اور اس طرح کے بڑے ہوٹل میں تو ہر طرح کا بندہ موجود ہوتا ہے
حمزہ نے اتر کر اُسکی طرف کا دروازہ کھولا ۔۔۔۔میں نقاب کے بغیر نہیں جانا چاہتی منہا اُسکی طرف دیکھ پریشانی سے بولی ۔۔۔
تو آپکو کس نے منع کیا ہے جان دل آپ کریں نقاب میں آپکے سامنے کھڑا ہوں ۔۔۔۔
منہا نے اپنے حجاب سے نقاب کیا اور چادر اچھے سے اپنے گرد پھیلائے گاڑی سے باہر قدم رکھا۔۔۔۔حمزہ مسکراتے اُسکا ہاتھ تھامتا اندر کی جانب چل دیا ۔۔۔۔۔اور اُسے لیے ایک کیبین میں بیٹھا تاکہ وہ پرسکون رہے
خاموشی سے کھانا کھایا گیا ۔۔۔۔کھانے کے دوران حمزہ کی کسی بات کا وہ جواب دے دیتی ورنہ خاموش رہتی ۔۔۔۔۔بل ادا کرتے وہ لوگ
واپسی کے لیے نکلے ۔۔۔۔۔۔۔۔گاڑی میں ہلکا ہلکا میوزک چل رہا تھا ۔۔۔حمزہ نے منہا کا ہاتھ پکڑا اور ساتھ خود بھی گنگنانے لگا
چاند آسمانوں پر لاپتہ لاپتہ
چل کے میرے گھر آ گیا
میں خوش قسمت ہوں با خدا شکریہ
ہو جائے پوری یہ دعا شکریہ
تیرے بن میری جانا کبھی ایک دن بھی گزارا نہی
تیری آرزو نے خود سے بیگانہ کر دیا ۔۔۔۔۔۔
مینے تجھے تحفے میں یہ دل دیا ۔۔۔۔
تونے مجھے بدلے میں یہ جہاں دیا
تیرے بن میری جانا کبھی ایک دن بھی گزارا نہی
چاند آسمانوں پر لا پتہ ہو گیا
۔۔۔۔۔چل کر میرے گھر آ گیا
منہا نے ہاتھ چھغروانے کی کوشش کی
لیکن حمزہ نے گرفت اور سخت کردی ۔۔۔۔منہا خاموش رہی جانتی تھی ضدی انسان ہے اپنی مرضی کرنے والا ہے
