Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes Readelle 50364 Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 16)
No Download Link
Rate this Novel
Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 16)
Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes
دن یونہی خوشگوار اور معمول کے مطابق گزر رہے تھے۔۔۔
اریج اکثر موسیٰ سے بات کر لیتی ۔۔۔جو مشکل ہوتی پڑھائی میں وہ پوچھ لیتی ۔۔۔۔اب تو وہ کافی حد تک فرینک ہو چُکے تھے ۔۔۔اور اس میں بھی زیادہ ہاتھ موسیٰ کی نرم طبیعت کا تھا ۔۔۔
جسکی وجہ سے اریج اُس سے بلا جھجک بات کر لیتی
لیکچر لے کر وہ اپنے دوست سجاول کے ساتھ گراؤنڈ میں بیٹھا کچھ ڈسکس کر رہا تھا ۔۔۔۔
جب اسے دور سے وہ اپنے گروپ کے ہمراہ آتی ہوئی دکھائی دی ۔۔۔
کسی بات پر وہ ہنس رہی تھی
یلو کلر کی شلوار قمیص پہنے،، سفید دوپٹے کا حجاب کیے وہ اُسے اپنی جانب متوجہ کر گئی۔۔۔۔
وہ مبہوت ہو کر اُسکی ہنسی دیکھنے لگا ۔۔۔۔
اچانک اُسکی نظر قریب ہی کھڑے دو لڑکوں پر پڑی جو اریج کو بڑی کمینگی سے دیکھ رہے تھے۔۔
“سجاول میں ابھی آتا ہوں تم یہی بیٹھو “
وہ غصے سے مٹھیاں بھینچتا بولا
سجاول جو اپنے کام میں مصروف نیچے منھ کرکے سوال حل کر رہا تھا اُسے اچانک اٹھتا دیکھ پریشان ہوا
کیا بات ہے موسیٰ یار سب خیریت ہے نہ ؟؟؟۔۔۔
” ہاں سب ٹھیک ہے میں آتا ہوں ابھی “کہتا وہ اٹھ گیا ۔۔۔
چلتے ہوئے اُسکے قریب آتے وہ سرد لہجے میں بولا۔۔۔
اریج اٹھئیں یہاں سے ۔۔
موسیٰ کی سرد آواز پر وہ بوکھلاتی اُسے دیکھتی جلدی سے اٹھتی بولی۔۔۔
” آپ !!کچھ کام تھا “
کیوں کہ سب لڑکیاں معنی حیزی سے اُسے دیکھ رہی تھی
“جی!!
اٹھئیں یہاں سے “وہ سنجیدگی سے اُسے دیکھتے بولا
اریج جلدی سے اٹھی اور اُسکے پیچھے گراؤنڈ سے نکل گئی ۔۔۔۔
اریج اُسکا سرد انداز دیکھ ایک پل میں خوفزدہ ہوئی ۔۔۔۔
کوريڈور میں آ کر وہ روکا اور اُسکی طرف مڑا۔۔۔
اریج جو پہلے ہی گھبرا رہی تھی اُسکی سرخ آنکھیں دیکھ دو قدم پیچھے ہوئی ۔۔۔
“آپکو خود دکھائی نہی دیتا کیا وہ اپکو کن نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
اپنے اِرد گرد سےانجان مت رہا کریں” ۔۔۔۔وہ اُسکی جانب دیکھ سختی سے بولا ۔۔۔۔
اُسکا سخت انداز دیکھ اریج کی آنکھیں پل میں نم ہوئی ۔۔۔۔
اور یہ نمی موسیٰ کی آنکھوں سے چھپ نہیں سکی ۔۔۔۔۔ اُسے فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔۔۔۔
” آئم ،،سو ،،سوری ۔۔۔۔
میں آپکو یوں ہرٹ نہی کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔بس مجھے غصّہ آ گیا “۔۔۔
اُسکا نرم رویہ دیکھتے ہی اریج کے روکے ہوئے آنسو رخسار پر بکھرے ۔۔۔۔
اُسے روتے دیکھ موسیٰ کے دل کو کچھ ہوا ۔۔۔
“لک!! آئم ریلی سوری یار “
اُسکے چہرے سے نظریں ہٹاتا وہ بولا ۔۔۔۔ورنہ اُسکی نم پلکیں دیکھ اُسکا دل ایک الگ لے پر دھڑکا تھا ۔۔۔
بس میں انہیں دیکھ کر خود پر کنٹرول نہیں رکھ پایا ۔۔۔۔
وہ اپنے مخصوص نرم لہجے میں بولا۔۔۔
“آپ نے مجھے ڈرا دیا ۔۔ اتنے غصے سے بات کی مجھ سے “
اریج آنسو صاف کرتی بولی ۔۔۔
موسی کی نظر اُس پر ٹھر سی گئی ۔۔۔۔
رونے کی وجہ سے دودھیا رنگت میں سرخی نمایاں ہو رہی تھی ۔۔۔دراز بھیگی پلکیں لرز رہیں تھی ۔۔۔۔
دراز پلکیں ، وصال آنکھیں
مصوری کا۔۔۔۔۔۔۔ کمال آنکھیں
شراب رب نے ۔۔۔۔۔۔حرام رکھ دی
تو پھر کیوں رکھی ۔۔۔۔۔۔۔خلال آنکھیں
ہزاروں ان سے ٫٫٫٫قتل ہوئے ہیں
خدا کے بندے سنبھال آنکھیں۔۔۔۔۔
اُس کی اٹھتی گرتی پلکیں دیکھ موسیٰ اُسے دیکھتا رہ گیا ۔۔۔
سچ ہی کہا ہے کسی نے آنکھیں دل کا آئینہ ہوتی ہیں وہ اُسے دیکھتا سوچ رہا تھا ۔۔۔۔
اسکو دیکھ موسیٰ اپنے دل کی بے ہنگم دھڑکنوں کو محسوس کرتا جلدی سے اُس پر سے نظروں کا زاویہ بدل گیا ۔۔۔
وہ اب بچوں کی طرح منھ پھلاتی اُس سے شکوہ کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
“میں ایسا نہی چاہتا تھا ۔۔میں اپنے سخت رویے کی معافی چاہتا ہوں “وہ شرمندہ ہوتا بولا۔۔۔۔
” ہممم ٹھیک ہے معافی آپکو ایک صورت میں ملے گی” وہ اُسے یوں شرمندہ دیکھ شرارت سے بولی
وہ جان گئی تھی کہ وہ کیوں اُسے وہاں سے اٹھنے کا بول رہا تھا ۔۔۔۔۔
اُن لڑکوں کی عجیب نظریں تو وہ خود بھی نوٹ کر چکی تھی لیکن نظرانداز کرتی باتوں میں لگ گئی ۔۔۔
_____________________________
منہا ٹیرس پر کھڑی تازہ ہوا لے رہی تھی ۔۔۔
حمزہ نے کمرے میں قدم رکھا تو اُسے ٹیرس پر کھڑا پایا۔۔۔
یہاں کیا کر رہی ہیں۔۔؟؟
حمزہ نے پیچھے سے اُسے اپنے حصار میں لیا اور اُسکے کان کے قریب سرگوشی کی ۔۔۔۔
آپ،،آپ کب آئے ۔۔۔؟؟
منہا اُسکے حصا ر میں مسکراتی بولی
“ابھی آیا ہوں ۔۔۔۔۔
آپ بتائیں یہاں کھڑی میرا انتظار کر رہی تھیں” ۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھتے پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔
“خوش فہمی ہے آپکی” منہا مسکراتی ہوئی بولی ۔۔۔
” اور مجھے اس خوش فہمی میں ہی رہنا ہے” حمزہ چمکتی آنکھوں سے اُسے دیکھتے بولا۔۔۔۔
“اچھا جائیں آپ چینج کرکے آئیں ۔۔۔۔میرا دل گھبرا رہا ہے
باہر چلتے ہیں واک پر کچھ دیر” ۔۔۔۔ وہ اس کی طرف مڑتی ہوئی بولی
“اگر زیادہ طبیعت خراب ہو رہی ہے تو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں”۔۔۔
حمزہ متفکر ہوتا اُسکا چہرہ ہاتھوں میں لیتے بولا۔۔۔
“نہیں طبیعت نہیں خراب بس ویسے ہی تھوڑا ڈل سا محسوس کر رہی ہوں ۔۔۔
باہر جاؤنگی تو بہتر محسوس کرونگی” اُسے پریشان ہوتا دیکھ منہا بولی ۔۔۔
اُسکا دل صبح سے ہی بہت پریشان تھا ۔۔۔
حمزہ اُسے دیکھ فکر مند ہوا ۔۔۔
“بس ویسے ہی طبیعت عجیب ہو رہی ہے ۔۔۔پریشانی کی بات نہیں “
منہا اُسے اپنے لیے متفکر دیکھ بولی ۔۔۔
“اچھا میں آتا ہوں آپ ریڈی رہیں ۔۔۔۔پھر واک پر چلتے
ہیں “
کچھ دیر میں وہ اس کے ساتھ آہستہ اسٹیپ لیتے سیڑھیوں سے نیچے اتر رہی تھی ۔۔۔
__________________________
پارک میں اُس کے ساتھ چلتے وہ اردر گرد روشنیوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔کئی خوشگوار لمحے اچانک اُسکی آنکھوں کے سامنے آئے ۔۔۔۔
آنکھیں فوراً نم ہوئیں ۔۔۔
وہ کافی وقت بعد باہر کی ہوا میں کھل کر سانس لے رہی تھی۔۔۔
حمزہ اُسے خاموش دیکھ کر خود ہی اُسے مخاطب کر گیا۔۔۔
” منہا اتنی خاموش کیوں ہیں؟؟؟…. کیا اپنے گھر کی یاد آ رہی ہے “؟؟؟….
وہ سر کو اثبات میں جنبش دیتے بولی ۔۔۔۔”مجھے موسیٰ کی یاد آ رہی ہے ۔۔۔۔
“آپکو پتہ ہےمجھے ٹھنڈ بہت پسند ہے ۔۔۔۔
میں مما کے ساتھ ضد کرکے موسیٰ کے ساتھ رات میں باہر نکلتی ۔۔۔
اور وہ بیچارہ ۔۔۔ٹھنڈ سے کانپ رہا ہوتا تھا “۔۔۔۔
وہ اُسکے بازو میں اپنا ہاتھ ڈالتی مسکراتی ہوئی بولی….
کافی وقت وہ لوگ باتیں کرتے رہے ۔۔۔جب منہا کی نظر دور پانی پوری والے ٹھیلے پر پڑی ۔۔۔۔
” حمزہ مجھے وہ کھانے ہیں “
وہ دور سے اُس طرف اشارہ کرتی بولی ۔۔۔۔
“اچھا چلیں آ جائیں پھر مل کر کھاتے ہیں”۔۔۔۔وہ مسکراتا ہوا اُسکی جانب دیکھتا بولا ۔۔۔۔
آپ بھی کھائیں گے ؟؟؟
وہ حیرت اور بےيقینی کے ملے جلے تاثر سے بولی ۔۔۔۔
” کیوں جب آپ کھا سکتی ہیں تو میں کیوں نہیں ” وہ بھی جواب میں مسکراتے ہوئے بولا
منہا تو مزے لے لے کر کھا رہی تھی ۔۔۔۔
لیکن حمزہ نے ابھی پہلا ہی کھایا تھا کہ مرچ سے اُسکا چہرہ لال ہو گیا ۔۔۔۔
پّ ۔۔۔پانی ۔۔۔۔۔
وہ کھانستا ہوا بولا ۔۔۔۔
منہا نے جلدی سے آدمی سے پانی لیتے گلاس حمزہ کے منھ سے لگایا جسے وہ ایک ہی سانس میں پی گیا ۔۔۔
آپ ٹھیک ہیں؟؟؟
منہا اُسے پریشانی سے دیکھتی بولی ۔۔۔۔
“ہاں ۔۔۔بس تیکھا بہت تھا ۔۔۔۔
آپ کیسے کھا رہی ہیں ۔۔۔۔مجھے سے تو ایک نہیں کھایا جا رہا” ۔۔۔۔
وہ اُسکی جانب دیکھتے پوچھنے لگا ۔۔۔۔
” کہاں کوئی زیادہ تیکھا تو نہی ہے۔۔۔۔اتنا مزے کا ہے “
وہ سوں سوں کرتی بولی ۔۔۔۔
حمزہ نے پاکٹ سے رومال نکالتے اُسکی جانب بڑھایا ۔۔۔
جیسے وہ مسکراتے ہوئے تھام گئی
مرچوں کی وجہ سے اُسکی چھوٹی سی ناک سرخ پڑ رہی تھی ۔۔۔۔لیکن وہ پرواہ کیے بغیر مزے لیتی کھا رہی تھی
کچھ دیر اور واک کرنے کے بعد انہوں نے واپس گھر کے لیے قدم بڑھائے ۔۔۔۔
“آپ اچھے ہوتے جا رہے ہیں” ۔۔۔۔
منہا اُسکے کندھے پر سر رکھتی مسکراتی ہوئی بولی
” میں پہلے بھی اچھا ہی تھا آپ نے کبھی مجھ غریب پر نظر ہی نہیں ڈالی” ۔۔۔۔
وہ مسکین شکل بناتا بولا۔۔۔۔اور اُسکی کمر کے گرد بازو حائل کر گیا
منہا اُسکی بات سنتی کھلکھلا دی ۔۔۔۔
“منہا” بھاری گھمبیر لہجے میں اُسکا نام پُکارا گیا
“جج،، جی “منہا نے اُسکی جانب دیکھا
مجھے “بیٹی” چاہیے ۔۔۔۔
وہ محبت پاش نظروں سے اُسے دیکھتے بولا
منہا اُس سے تھوڑا فاصلہ اختیار کر گئی
شرم سے پلکیں لرزنے لگیں۔۔۔۔رخسار تپ سےگئے ۔۔۔
“ایسے نہیں دیکھیں پلیز”
منہا اُنگلیاں مرورتی ادھر ادھر نظریں دوڑاتے ہوئے بولی
پھر کیسے دیکھوں ؟؟۔۔۔۔
وہ اُسکے ساتھ قدم بڑھاتا مسکراتے ہوئے بولا۔۔
“حمزہ اگر اب آپ نے مجھے یوں دیکھا تو ،،،، تو
تو میں نے ناراض ہو جانا” ۔۔۔۔وہ روہانسی ہوتی بولی
” ہاہاہا!!! اچھا یار نہیں دیکھتا “
وہ اُسے اپنے حصار میں لیتا گھر میں داخل ہوتا محبت بھرے انداز میں بولا۔۔۔
______________________________
“کس صورت میں”؟؟…
موسیٰ اُسے نرم نگاہوں سے دیکھتا بولا۔۔۔
” زیادہ گھبرانے کی ضرورت نہیں کوئی بہت مشکل کام نہیں کہنے لگی ۔۔۔
بس کینٹین سے کچھ کھلا دیں ۔۔۔۔بہت بھوک لگ رہی ہے “وہ بیچارہ سا منھ بناتی بولی ۔۔۔۔
موسیٰ اُسکی معصومانہ بات سنتا مسکرا دیا
” جی جی کیوں نہی ۔۔۔۔آ جائیں بھوک تو مجھے بھی لگ رہی ہے “
دونوں نے کینٹین کی جانب قدم بڑھائے
دونو ہی اپنی فیلنگز سے انجان تھے
یا پھر جان بوجھ کر سمجھنا نہی چاہ رہے تھے ۔۔۔۔
