Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes Readelle 50364 Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 3)
No Download Link
Rate this Novel
Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 3)
Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes
وہ برائیڈل روم میں انٹر ہوئی تو سمن کی آواز آئی تم کہاں رہ گی تھی ؟؟؟
“یار کچھ نہی بس ٹکڑا گئی تھی کسی سے اسلئے “ساتھ ہی دونوں مریم کی جانب متوجہ ہوئیں جو فوٹو سیشن کروانے میں بزی تھی جیسے ہی کیمرا بند ہوا وہ دونوں اسکی طرف گئیں
“ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو” دونوں نے دل کھول کے اُسکی تعریف کی ۔۔۔اللہ تمہارے نصیب بہت اچھے کرے۔۔۔آمین
Thnk u soo much for coming
“مجھے یقین نہیں آ رہا کے منہا تم آئی ہو” مریم لہجے میں حیرانگی سموئے اس کے ہاتھ تھام کر بولی۔۔۔۔۔۔
“میں نے کیوں نہیں تھا آنا تم بلاؤ اور میں نہ آؤں ہو ہی نہیں سکتا “منہا مسکراتی ہوئی بولی ۔۔۔
ایسے ہی باتوں میں اور پکس بنانے میں وقت گزر گیا اور سب واپسی کی راہ لینے لگے۔۔۔۔منہا نے موسیٰ کو کال کرکے بلا لیا ۔۔۔۔سمن بھی مل کے جا چکی تھی اسے اکیلے انتظار کرنا بہت مشکل لگ رہا تھا
“آ بھی جاو موسیٰ کہاں رہ گئے ہو یار “۔۔۔۔۔۔۔
حمزہ کی نظر اس پر پڑی جو پارکنگ ایریا میں ایک طرف کھڑی کسی کا انتظار کر رہی تھی اور مسلسل فون پے بات کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Excusse me
آپ یہاں کیا کر رہی ہیں ؟؟
منہا نے مڑ کر اسے دیکھا جو کہ اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ “وہ مجھے لینے آنے والے ہیں اسلیے یہاں کھڑی ہوں”
“آپ اندر جا کر انتظار کر لیں باہر ٹھنڈ ہو رہی ہے”وہ اس طرف دیکھتے نرمی بولا۔۔
“میرا بھائی آ رہا ہے بس ٹریفک کی وجہ سے لیٹ ہو گیا “
منہا جواب دے کر جیسے ہی پلٹی موسیٰ بائک اسکے پاس لے آیا۔۔۔۔وہ خاموشی سے بیٹھ گئی
حمزہ شاہ اسے دوڑ جاتا دیکھتا رہا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کے اُسے کیوں اتنا عجیب فیل ہو رہا ہے ایسے جیسے کوئی چیز دل سے دور جا رہی ہو ۔۔۔لیکن وہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر تھا ۔۔سر جھٹک کے اندر کی جانب قدم بڑھائے۔۔۔۔۔
_______________________________
بھائی آپ کہاں چلے گئے تھے؟؟؟ میں کب سے آپکو دیکھ رہی ہوں ۔۔۔اریج بولتے ہوۓ اسکے پاس آئی ۔۔۔
بیٹا میں یہاں ہی تھا بس آ رہا تھا ۔۔۔کیا ہوا میرے بچے کو ؟؟؟
کیا سمیع نے تنگ کیا میرے بچے کو ۔۔۔۔۔حمزہ اپنی چھوٹی لاڈلی بہن کو اپنے بازو کے گھیرے میں لیتے بولا۔۔۔
کیونکہ اُسکا چھوٹا بھائی سمیع ہمیشہ ہی اُسے تنگ کرتا رہتا تھا۔۔۔اور وہ صرف حمزہ کے ہی قابو آتا تھا ۔۔۔۔۔
نہیں بھائی سمیع نے کچھ نہی کہا ۔۔۔۔مجھے گھر جانا ہے میں تھک گئی ہوں اور مما چل نہیں رہیں ۔۔۔۔آپ انکو بولیں ناں ۔۔۔۔۔
“اچھا میرا بیٹا میں بولتا ہوں ۔۔۔آپ موڈ اچھا کرو اپنا”
کچھ ہی دیر میں وہ لوگ گھر روانہ ہو گئے کیونکہ ایسا ہو ہی نہی سکتا تھا کہ حمزہ شاہ اپنی بہن کی بات نہ مانے۔۔۔
“بھائی آپ ہمیشہ اسکی بات مانتے ہیں اور اس سے ہی زیادہ پیار کرتے ہیں مجھے کوئی پیار نہی کرتا “سمیع جو اریج سے 2 سال بڑا تھا جان بوجھ کر لہجے کو نم کرکے بولا ۔۔۔۔
حمزہ نے اسے مڑ کے دیکھا جو بیک سیٹ پر مما کے ساتھ بیٹھا خفا خفا سا بول رہا تھا ۔۔۔۔
“سمیع تم خود کو چھوٹی بہن سے کمپیئر کر رہے ہو ۔۔میرے لیے تم دونوں ایک جیسے ہو آئندہ ایسی بات نہ کرنا۔۔۔۔وہ بس چھوٹی ہے تم سے بچی ہے اس لیے زیادہ لاڈلی ہے”
Yayyy Yahoooo!!!!!!!!
اریج خوشی سے چیخی ۔۔۔۔دیکھا تم نے ۔۔۔بھائی پھر بھی مجھے ہی زیادہ پیار کرتے ہیں،،،ہیں نہ بھائی ؟
جی میرا بچہ ۔۔لیکن بھائی اس سے بھی ویسا ہی پیار کرتے ہیں میری جان……….
بس تم نے انہیں سر پر چڑھایا ہوا ہے حمزہ ۔۔۔ مما انہیں آپس میں بحث کرتے دیکھ بولیں ۔۔۔اب خاموش بیٹھ جاؤ دونوں جسکی آواز آئی باہر نکال دونگی ۔۔۔۔۔
اریج نے معصوم چہرہ بنا کر حمزہ کو دیکھا اور خاموش ہو گئی۔ ۔۔۔۔
____________________________
یہ تھی چھوٹی سی” شاہ فیملی” ۔۔۔۔جس میں “حمزہ شاہ” گھر کا بڑا بیٹا ہے، اس سے چار سال چھوٹا”سمیع”اور سب سے چھوٹی بہن گھر بھر کی لاڈ لی “اریج” اور گھر میں “دادی جان “اور جان سے پیاری انکی “مام”۔۔۔۔
والد کے انتقال کے بعد سے بزنس حمزہ ہی سمبھال رہا تھا ۔۔جب وہ اپنی اسٹڈیز مکمل کرکے لندن سے واپس آیا تو ان دنوں اُنکے والد بیمار رہنے لگے اور پھر ایسے ہی ایک دن ان سب کو اکیلا چھوڑ کر اس دنیا چھوڑ کر چلے گئے ۔۔۔۔
اسکے بعد سے سب کچھ حمزہ سنبھال رہا تھا۔۔۔۔۔
__________________________________
“منہا کیسی رہی شادی کیسی لگ رہی تھی مریم “؟؟؟اسکے آتے ساتھ ہی کلثوم بیگم نے سوالات شروع کردیئے ۔۔۔
“دکھاتی ہوں مما اچھی لگ رہی تھی تھی ۔۔دولہا بھائی بھی پیارے ہیں ۔۔اچھا کپل ہے ۔۔۔۔میں چینج کرکے آجاؤں پھر آپ کو شادی کی تصاویر دیکھاتی ہوں ۔۔ ان سے کہتی وہ اٹھ کر کمرے میں چلی گئی ۔۔۔۔
چینج کر کے واپسنیچے آتے انکو فنکشن کی تصاویر دکھائیں ۔۔۔
سارا دن کی تھکی ہوئی جب وہ سب سے فارغ ہو کے لیٹی تواچانک آنکھوں کے سامنے ایک چہرہ لہرایا۔۔۔۔۔۔
انہہہہہ ہہہوں!!!!! استغفار میں کیوں اُسے سوچ رہی ہوں ۔۔۔
کروٹ بدل کے وہ سونے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔تھکن کے باعث وہ جلد ہی نیند میں چلی گئی
_______________________
حمزہ واشروم سے شاور لے کر نکلا ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہوتے اُسنے تولیے سے اپنے بال رگڑے ۔۔۔۔
خود پر پرفیوم سپرے کرتے اُس نے شیشے میں اپنا عکس دیکھا ۔۔۔
اچانک اسکی آنکھوں کے سامنے اُسکا معصوم چہرہ آ گیا ۔۔۔۔
وہ پہلے بھی کافی لڑکیوں سے ملا تھا لیکن آج تک اُس نے کبھی کسی کو بلاوجہ خود سے اتنا فرینک نہ کیا تھا۔۔۔
لیکن منہا کو دیکھتے وہ نہی جانتا تھا کہ اُسے اتنا عجیب احساس کیوں ہو رہا ہے ۔۔۔کیوں وہ اُسے سوچ رہا ہے ۔۔۔وہ تو اُسکا نام بھی نہی جانتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
کیسے پتہ لگواؤں اُسکا۔۔۔مجھے تو نام تک نہی معلوم اُسکا ۔۔۔۔
کچھ دیر اسے سوچتا وہ ایک نتیجے پر پہنچتا لیٹتا آنکھیں موند گیا ۔۔۔
_________________________________
اگلے دن رات کو ریسیپشن تھا ۔۔وہ لوگ اسلام آباد کے لیے نکل گئے تھے ۔۔۔دل میں یہی خواہش تھی کہ ایک دفعہ وہ نظر آ جائے کہ اچانک سے اریج سے اس کے پاس آئی ۔۔۔۔۔
“بھائی اگر دن کا فنکشن ہوتا تو ہم یہاں سے شاپنگ کرتے” اریج افسردگی سے بولی۔۔۔۔
ہاں بھائی اس موٹی کو تو بس ہر وقت ایک کام آتا ہے ۔۔۔شاپنگ ،شاپنگ اور بس شاپنگ !!!!! سمیع اسے چڑاتا ہوا بولا۔۔۔۔۔
“بھائی دیکھیں اسنے مجھے موٹی کہا” ۔۔۔
“سمیع تمیز سے بات کیا کرو بہن سے “حمزہ نے سمیع کو ڈانٹا۔۔۔۔۔۔۔۔
“سوری” وہ منہ بناتا ہوا بولا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
______________________________
گھر آ کر بھی بس اُسکا خیال دماغ سے جا ہی نہی رہا تھا۔۔۔۔ وہ لیٹا لیٹا اُٹھ بیٹھا اسے اپنی حالت سمجھ نہیں آ رہی تھی ایسا کیوں ہو رہا ہے ۔۔۔
بات اتنی سی تھی کے “حمزہ شاہ ” یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ اُسے بھی محبت نے چن لیا ہے ۔۔۔۔۔وہ جو لڑکیوں سے دور بھاگتا تھا آج ایک لڑکی کو ایک نظر دیکھنے کے لیے بے چین ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے نیندیں طویل کرلیں یار
تم مجھ سےخواب میں ملا کرنا ہے
___________________________
Hiii Girl whts up ???
منہا نے فون پکڑا تو سمن کا میسیج تھا۔۔۔۔۔۔
کچھ نہیں اپنے لیے نوڈلز بنا رہی تھی ۔۔۔تم بتاؤ کیا حال چال ہیں؟؟ ۔۔۔۔
میرے تو بلکل ٹھیک حال ہیں تم سناؤ ۔۔۔۔
کہیں شادی پر ٹکرانے والے ہینڈسم کو یاد تو نہی کر رہی تھی ۔۔۔۔وہ لہجے میں شرارت سموئے گویا ہوئی۔۔۔
منہا کا دل کیا اگر وہ اُس کے سامنے موجود ہوتی تو اُسکا سر پھاڑ دیتی۔۔۔
بکواس بند رکھو اپنی سچ ہی کہتے ہیں سیانے اپنے راز کسی کو نہیں دینے چاہیے ۔۔۔۔بعد میں وہ تمہاری طرح ذلیل کرتاہے ۔۔۔ منہا چڑتی ہوئی بولی ۔۔۔۔
یار کیا ہو گیا ہے ۔۔۔غصہ کیوں ہو رہی ہے مذاق کیا تھا میں نے ۔۔۔جانتی ہوں تمہارا دل تو فہد بھائی کے پاس ہے ۔۔۔ انکے علاوہ تم نے کسی اور کو کیوں سوچنا ۔۔۔۔وہ معنی خیزی سے بولی ۔۔۔۔
اگر تم نے یہی بکواس کرنی ہے تو میں فون بند کر رہی ہوں۔۔۔۔
منہا زچ ہوتی بولی اور ایک ہاتھ میں نوڈلز کا باؤل پکڑے صوفے پر بیٹھی ۔۔۔
اچھا سنو اب سچ میں تنگ نہیں کر رہی ۔۔۔۔شادی کا تو بتاؤ کب تک ہونی ہے؟؟؟ وہ سنجیدہ ہوتی بولی ۔۔۔
انشا اللہ ایک دو ماہ تک کا کہہ رہی ہیں مما ۔۔۔وہ لوگ تو کب سے تاریخ مانگ رہے ہیں لیکن ہماری طرف سے ہی دیر ہو رہی ہے ۔۔۔۔منہا رسانيت سے بولی ۔۔۔۔
اچھا پہلے بتا دینا یہ نہ ہو لاسٹ ٹائم پر ہمیں معلوم ہو ۔۔۔
جی جی میڈم جو حکم۔۔۔۔یوں ہی باتوں کے درمیان وقت کا اندازہ نہی ہوا
_____________________________
