970.6K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 12)

Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes

گھر میں سب کو معلوم ہوتے ہی سب میں خوشی کی لہر دوڑ اٹھی۔۔۔۔اریج تو فوراً سے اُسکے گلے لگ گئی۔۔۔

دادی نے خوب دعائیں دی اور بلائیں لے ڈالی۔۔ سب اپنی اپنی جگہ بہت خوش تھے۔۔۔۔سب یوں ہی ساتھ بیٹھے باتوں میں مشغول ہو گئے

لیکن ایک فرد ایسا بھی تھا جسے یہ خبر سن کر کوئی خوشی نہی ہوئی تھی۔۔۔

کچھ دیر انکے پاس بیٹھتی وہ آرام کرنے کا کہتی اپنے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔۔حمزہ گاڑی میں بھی اُسکی خاموشی نوٹ کر چکا تھا لیکن کچھ بولا نہی ۔۔۔۔

اب بھی اُسکے یوں سب میں سے اٹھ کر جانے پر وہ خاموش رہا ۔۔۔۔دادی اُسکی لال ہوتی آنکھوں کو دیکھ چکی تھیں اسی لیے اُسے اپنے پاس بیٹھاتی گویا ہوئی ۔۔۔۔

” حمزہ بیٹا آپ نے منہا کا بہت خیال رکھنا ہے ۔۔۔اس وقت میں ایک عورت کو سب سے زیادہ اپنے شوہر کی ضرورت ہوتی ہے اور پریشان نہیں ہونا سب ٹھیک ہو جائے گا “۔۔۔۔۔

اُس کے سر پر ہاتھ پھیرتے وہ بولیں

” اب جاؤ اپنے کمرے میں اُسے دیکھو” ۔۔۔۔وہ سر ہلاتا اٹھ چلا گیا ۔۔۔

____________________________

کمرے میں داخل ہوا تو وہ بیڈ کراون سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔۔

خاموشی سے چلتا اُسکے قریب آیا ۔۔۔وہ جو آنکھیں موندے لیٹی تھی قدموں کی آہٹ کا احساس ہوتے فوراً سے آنکھیں کھولے اسے دیکھ اٹھ بیٹھی ۔۔۔۔

“منہا کیوں خاموش ہیں آپ؟؟ ۔۔۔کیا آپکو خوشی نہیں ہوئی اتنی بڑی خبر سن کر”؟؟؟ وہ اُسکے قریب بیٹھتا اُسکا ہاتھ تھامتا سوالیہ نگاہوں سے دیکھ بولا….

میں جانتا ہوں آپ پریشان ہیں پہلے ہماری شادی اور اب اس خبر سے ۔۔۔

“اگر آپ اس سب کے لیے ابھی تیار نہیں تو کوئی بات نہیں ہم کل ہی ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں” ۔۔۔

اُسنے یہ الفاظ خود پر کتنا ضبط کرتے ادا کیے تھے یہ صرف وہی جانتا تھا۔ ۔۔۔اندر سے روح ایسا سوچتے ہوئے بھی جھنجھنا اٹھی تھی ۔۔۔۔لال انگارا آنکھیں ضبط کی شدت کی گواہ تھیں جنہیں سختی سے میچے اُس نے یہ الفاظ ادا کیے تھے ۔۔۔۔

وہ نہیں چاہتا تھا کہ ایک بار پھر سے وہ اُسکے ساتھ زبردستی کرے ۔۔۔اُسے تکلیف دے ۔۔۔۔۔

ابھی تو وہ پہلے دی ہوئی تکلیف کا مداوا نہی تھا کر پایا۔۔۔ایسے میں وہ اُسکے ساتھ ایک اور زیادتی نہی کرنا چاہتا تھا ۔۔۔

“نہیں ایسی بات نہیں ہے بس میری طبیعت ٹھیک نہیں اسلیے” ۔۔۔۔ وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے آہستہ سے بولی۔۔۔۔

وہ جانتا تھا کے وہ پریشان ہے اپنے گھر والوں کی کمی کو محسوس کر رہی ہے اور کچھ وہ آنے والے وقت سے خوفزدہ تھی۔۔۔

“ٹھیک ہے آپ آرام کریں “

اسی لیے اُسے پرسکون کرنے کے لیے بولا۔۔۔۔

لیکن اگلے ہی پل حمزہ نے بے یقین ,اور دم بخود سا ہوتے اُسے دیکھا جو اُس سے اس عمل کی ہرگز توقع نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔۔۔

اُس کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔۔

“مجھے سمجھ نہیں آ رہا میں کیا کروں ۔۔۔میں خوش ہونا چاہتی ہوں لیکن ہو نہی پا رہی ۔۔۔۔مجھے میری مما کی بہت یاد آ رہی ہے ۔۔۔مجھے انکے پاس جانا ہے “۔۔۔۔

وہ روتے ہوئے ہچکیوں کے درمیان اٹک اٹک کر بولی ۔۔۔

حمزہ کو اُسکا اس طرح سے رونا تکلیف دے گیا ۔۔۔۔سختی سے لب بھینچے اُسکا نام پُکارا۔۔۔۔۔۔” منہا “۔۔اور اُس کے بالوں پر اپنے لب رکھے۔۔۔۔

روح میں ایک سکون سااترا کہ جیسا وہ سوچ رہا تھا ویسا کچھ نہی تھا ۔۔

“خاموش ہو جائیں ۔۔۔۔میں جاؤنگا ناں آپ کے گھر ۔۔۔انہیں راضی کرکے لے کر آونگا آپکے پاس “۔۔۔۔

” وہ نہی آئیں گے میں جانتی ہوں ۔۔۔۔میں نے انہیں بہت تکلیف دی ہے وہ اب مجھ سے کبھی بات نہیں کریں گے”۔۔۔۔وہ روتے ہوئے بولی

” کیوں بات نہی کریں گے جب انہیں سچائی کا علم ہوگا تو وہ خود چل کر آپکے پاس آئے گے “۔۔۔۔ وہ اس کے گرد اپنے بازو کا حصار بناتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔

“آپ سچ کہہ رہے ہیں”؟؟؟ اُسنے اُسکے سینے سے چہرہ اٹھا کر اپنی روئی ہوئی سرخ آنکھوں سے اُسے دیکھتے تصدیق چاہی ۔۔۔

کیا سچ میں وہ آئینگے؟؟ وہ لہجے میں تمام تر معصومیت لیے بولی ۔۔۔۔

حمزہ کو اُس پر ٹوٹ کر پیار آیا ۔۔۔۔۔”جی ضرور آئیں گے” ۔۔۔

آنسو صاف کرتا اسکی آنکھوں پر لب رکھتا وہ بولا ۔۔۔۔ اُسکے سینے سے لگی وہ ویسے ہی بیٹھی بیٹھی سو گئی ۔۔۔۔

اُس کی بھاری ہوتی سانسوں کی آواز سنتا وہ اُسے بیڈ پر سہی سے لٹاتا اُس پر کمفرٹر اوڑھا گیا ۔۔۔۔

اور اسکو پرسکون کرنے کے لیےاُسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا ۔۔۔۔۔

اُسکے سرخ چہرے کو دیکھتے اسکی نظر اُسکے گلابی ہونٹوں پر ٹھہر سی گئی ۔۔۔۔

جھک کر اُن پر محبت کی مہر ثبت کرتا جلدی سے دور ہوا ۔۔۔

اور ساتھ لیٹتا اُسکے بالوں میں منھ چھپائے آنکھیں موند گیا ۔۔۔۔۔۔۔

_____________________________

صبح منہا کی آنکھ کھلی تو حمزہ بیڈ پر موجود نہی تھااُسے اپنی رات کی بے اختیاری پر جی بھر کر غصہ آیا ۔۔۔۔

اٹھتی وہ فریش ہو کر ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہوتی بال بنانے لگی ۔۔۔۔

کھٹک کی آواز سے دروازہ کھلا ۔۔۔اور حمزہ ناشتے کی ٹرے لیے کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔۔ وہ جلدی سے بیڈ سے دوپٹہ اٹھاتے سر پر اوڑھ گئی۔۔۔۔

منہا کے بہت منع کرنےکے باوجود اُسنے اُسے زبردستی ناشتہ کروایا اور میڈیسین دی ۔۔۔اُسے کمرے میں رہنے کی ہدایت کرتا وہ کمرے سے نکلا ۔۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں ملازمہ کے ساتھ دوبارہ کمرے میں داخل ہوا ۔۔

ملازمہ کو سختی سے اُسے وقت پر دوائی دینے اور اُس کے کھانے کا خیال رکھنے کی ہدایت کی ۔۔۔۔۔

ملازمہ اثبات میں سر ہلاتے ٹرے اٹھاتی کمرے سے نکل گئی ۔۔۔۔

” اب آپ نے کمرے سے باہر نہی نکلنا زیادہ اوپر نیچے نہیں جانا اور وقفے وقفے سے کچھ نہ کچھ کھاتے رہنا ہے” الماری سے اپنا ڈریس لیتا وہ بولا ۔۔۔۔۔

منہا اُسکی بات سنتی پہلو بدلتی بولی ۔۔۔

” اچھا اب میں نیچے بھی نہ جاؤں تو کیا کروں سارا دن اکیلی کمرے میں بیٹھی رہوں ۔۔۔۔دیواروں کو دیکھتی رہوں” ۔۔۔منہا روٹھے ہوئے لہجے میں بولی ۔۔۔

“ٹھیک ہے پھر آپ میرے ساتھ نیچے جائیں گی اور جب تک میں واپس نہیں آ جاتا اکیلے آپ روم میں نہی آئیں گی “۔۔۔۔کہتا وہ چینج کرنے چلے گیا ۔۔۔

کچھ ہی دیر میں وہ اُس کو اپنے ساتھ لیے نیچے لاؤنج میں داخل ہوا ۔۔۔۔سب کو سلام کرتے اُسنے ملازمہ کو بلایا ۔۔۔۔

کیسی طبیعت ہے میری بیٹی کی ؟؟

دادی جان نے محبت سے اُسے ساتھ لگاتے پوچھا۔۔۔

“جی میں بلکل ٹھیک ہوں اب” اُسنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے جواب دیا

اب آپ یہاں بیٹھیں سب کے پاس ۔۔۔کچن میں جانے کی کوئی ضرورت نہی ہے ۔۔۔۔ وہ منہا کو ہدایت کرتا ہوا بولا

اور اگر مجھے پتہ چلا کہ یہ کیچن میں گئی ہیں تو اسی وقت تمہیں کام سے نکال دونگا ۔۔ملازمہ کی جانب متوجہ ہوتے وہ سختی سے اُسے تنبیہہ کرتا بولا

منہا منھ پھلاتی وہیں بیٹھ گئی ۔۔۔۔

” کیا ہوا ہے آپکو منھ پر کیوں بارہ بجھے ہوئے ہیں؟؟” سمیع انکے قریب بیٹھتا بولا ۔۔۔۔

” تمہارے بھائی کی وجہ سے بلاوجہ کی پابندیاں لگا رہے ہیں مجھ پر اب اگر میں اٹھوں بھی نہ تو ایک جگہ پر بیٹھی بیٹھی بس بور ہوتی رہوں “وہ روہانسی ہوتے بولی …

بس اتنی سی بات ہے میں ہوں نا آپکے پاس آپکی بوریت ختم کرنے کے لیے ۔۔۔۔۔

میں بس ابھی آیا کہتا ہوا وہ غائب ہو گیا اور کچھ ہی دیر میں لوڈو لیے انکے قریب آ بیٹھا ۔۔۔۔

چلیں آئیں ہم لوڈو کھیلتے ہیں ۔۔۔۔اریج بھی اٹھ کر بیٹھ گئی اور پھر تینوں اپنے سامنے لوڈو پھیلائے کھیلنے میں مشغول ہو گئے ۔۔۔۔

_____________________________

شام میں وہ سب کہ ساتھ لان میں بیٹھی ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہو رہی تھی ۔۔۔

“دادی پلیز مجھ سے یہ فروٹس نہی کھاے جا رہے ۔۔۔میں پہلے ہی بہت کھا چکی ہوں ۔۔۔میرا پیٹ بھر گیا ہے” ۔۔۔۔دادی جو اُسکے آگے فروٹ کی پلیٹ رکھ رہی تھیں وہ یہ دیکھ تنگ آتی بولی ۔۔۔

“بیٹا کھاؤ گی نہی تو صحت کیسے بنے گی ۔۔۔ماں صحت مند ہوگی تو بچہ بھی صحت مند ہوگا اسلیے میرا بیٹا خاموشی سے کھاؤ “۔۔۔۔۔وہ منھ بناتی رہ گئی لیکن دادی نے زبردستی اُسے سب فروٹس کھلائے۔۔۔

اریج اور سمیع کو پاس بیٹھے اسکو عجیب شکلیں بناتا دیکھ اپنی ہنسی ضبط کرنا مشکل ہو گیا تھا ۔۔۔۔

“دیکھ لیں دادی یہ لوگ مجھ پر ہنس رہے ہیں” وہ روہانسی ہوتی دادی کو شکایت کرنے لگی ۔۔۔

دادی نے انہیں گھورتے ہوئے ڈپٹ دیا

“.مزا آیا اب” ۔۔۔۔!

وہ مسکراتی ہوئی انکی جانب دیکھ بچوں کی طرح بولی ۔۔۔۔۔

دادی سمیت انکے مشترکہ قہقے گونجھے تھے۔۔۔۔۔۔منہا منھ بگاڑتی اٹھ گئی ۔۔۔”میں جا رہی ہوں اپنے روم میں آپ سب ملے ہوئے ہیں مجھے تنگ کر رہے ہیں” ۔۔۔اور پاؤں پٹختی اندر چلے گئی ۔۔۔۔

پیچھے سے سب آوازیں دیتے رہ گئے لیکن وہ نظر انداز کرتی چلی گئی۔۔۔

ابھی وہ اپنے کمرے میں آ کر بیٹھی ہی تھی کے اُسکا فون بج اٹھا ۔۔۔۔

اُسنے فون پکڑ کر یس کرتے کان سے لگایا ہی تھا کہ اُسکی پریشان سی آواز سنائی دی ۔۔۔۔

” کیسی طبیعت ہے آپکی ؟؟ کیا کھایا ۔۔۔۔کچن میں تو نہی گئی ۔۔۔۔۔اس وقت کہاں ہیں آپ” ؟؟۔۔۔۔

کیا ہو گیا ہے رک بھی جائیں۔۔۔۔

اُسے مسلسل سوال کرتا دیکھ وہ بولی ۔۔۔

“میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔کچھ نہی بہت کچھ کھایا ۔۔۔۔ اور اس وقت میں اپنے روم میں ہوں ۔۔۔۔۔

“اوپس !!! یہنہی بتانا تھا “۔۔۔۔وہ اپنے لبوں پر ہاتھ رکھتی بولی ۔۔

لیکن اب آپ بتا چکی ہیں ۔۔۔۔منہا میں نے آپکو منع بھی کیا تھا کہ روم میں اکیلے نہی جانا آپ نے پھر بھی میری بات نہی سنی۔۔۔۔

وہ متفکر سا بولا ۔۔۔۔

” ابھی آئی ہوں میں روم میں ۔۔۔نیچے سب مجھے تنگ کر رہے تھے اسلیے میں آ گئی ۔۔اور دادی نے صبح سے کھلا کھلا کر مجھے ایک ہی دن میں موٹا کر دینا ہے “

وہ روہانسی ہوتی بولی ۔۔۔

” اونہہ،، کس نے تنگ کیا آپ کو میں آ کر انکو سیدھا کرتا ہوں ۔۔۔ میری معصوم سی جان کو کیوں تنگ کر رہے ہیں “۔۔۔

۔لوہ اُسکی بات سنتی سرخ پر گئی ۔۔۔

وہ کل سے اُسکا بہت زیادہ خیال رکھ رہا تھا اور اریج اُسکے صبح والی بات پر بھی اُسکا اچھا ریکارڈ لگا چکی تھی اور اگر وہ اب کچھ کہتا تو تب بھی اُسی کے لیے مشکل ہونی تھی ۔۔۔اسی لیے وہ جھنجھلا کر بولی۔۔۔۔۔

” نہی آپ کسی کو کچھ مت کہیے گا پہلے ہی آپکی وجہ سے اریج مجھے صبح سے بہت تنگ کر چکی ہے” ۔۔۔

” اس میں تنگ کرنے والی کونسی بات ہے میں اپنی بیوی اور بےبی کا خیال رکھ رہا ہوں ” ۔۔۔۔

اُسکے شرارت بھرے لہجے کو وہ سمجھتی پھر سے روہانسی ہوتی بولی ۔۔۔۔

اب آپ بھی مجھے تنگ کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔

“میں آپ سے بھی بات نہی کرونگی اب” ۔۔۔کہتی فون بند کر گئی ۔۔۔۔

حمزہ مسکراتا ہوا نفی میں سر ہلاتا اُسکے نمبر پر کچھ بیھجتا فون رکھ گیا۔۔۔

میسیج کی ٹون پر اُسنے واٹس ایپانباکس اوپن کیا ۔۔۔۔جہاں اُسکا میسیج جگمگا رہا تھا ۔۔

اِک شام لکھوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سرے عام لکّھوں

کیا کیا میں تیرے نام لکھوں!!!!

تُجھے رات لکھوں یا چاند لکھوں۔۔۔۔

کیا کیا میں تیرے نام لکھوں!!!!

چرا کے آنکھ سے اپنی ہر خوشی۔۔۔۔۔

تیرے نام لکھوں!!!!

دل لکھوں یاں جان لکھوں

کیا کیا میں تیرے نام لکھوں!!!!

غزل پڑھتے اُسکی پلکیں لرزیں۔۔۔۔چہرہ الگ سرخ پڑ گیا جیسے وہ اس کے سامنے موجود ہو

_______________________

آج کافی عرصے بعد وہ کھل کر مسکراتا خدا کا شکر ادا کرنے لگا ۔۔۔۔اُسکا نارمل رویہ دیکھتے اُسکے دل کو سکون آیا تھا ۔۔۔ورنہ کل رات اُسکے اتنے شدید ردعمل سے وہ بوکھلا گیا تھا ۔۔۔۔

اب بس اُسکے گھر والوں سے بات کرنی تھی ۔۔۔یہ مرحلہ حل ہو جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا وہ سوچتا فون پر کسی کو کال ملانے لگا ۔۔۔