Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes Readelle 50364 Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 10)
Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes
“کیوں میں کیوں ڈرو اُس سےمجھے جانا چاہیے”
وہ ایک پل میں فیصلہ کرتی” آیت لکرسی ” پڑھتے دروازے کی ناب گھوماتی کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔۔
وہ بیڈ پر نیم دراز لیپ ٹاپ گود میں رکھے چہرے پر سخت تاثرات لیے کچھ کام کر رہا تھا ۔۔۔۔
منہا اُسکے تھوڑا قریب آتی اُسے مخاطب کرتے ہوئے بولی۔۔۔امّ۔۔۔وہ نہ۔۔۔مجھے کچھ بات کرنی ہے آپ سے! ۔۔۔۔آپ فری ہیں؟؟…
دل پر قابو پاتی دھڑکنوں کو سمبھالتی وہ اپنی اُنگلیاں مروڑتی اُسکی طرف دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔
“ہنہہ!جی بولیں میں سن رہا ہوں!۔۔۔
حمزہ کے تیزی سے لیپ ٹاپ پر چلتے ہوئے ہاتھ ساکت ہوے ۔۔۔اُس نے اپنی سرخ پڑتی آنکھوں سے اُسے دیکھا ۔۔۔۔
اُسکی سرخ پڑتی آنکھوں سے منہا کو خوف محسوس ہوا ۔۔۔ایک پل کو دل کیا بھاگ جائے کمرے سے ۔۔۔لیکن اب تو بول چکی تھی ۔۔۔۔اپنا اعتماد بحال کرتی وہ اُسکے نزدیک بیڈ پر بیٹھتی گویا ہوئی۔۔۔۔۔
وہ۔۔۔وہ مجھے ناں اجازت چاہیے تھی آپ “سے۔۔۔
اجازت کس بات کی؟؟ ۔۔۔حمزہ نے ابرو اچکائی…
منہا اپنے خشک پڑتے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہولے سے “بڑبڑائی”۔۔۔۔۔۔”کس مشکل میں پھسا دیا مجھے سمیع”۔۔۔۔
حمزہ نےاُسکے ہلتے لبوں کو بڑے غور سے دیکھا
” اسکو یوں زچ ہوتا دیکھ۔۔۔” اُسکے لبوں پر بڑی جاندار مسکراہٹ نمودار ہوئی جسے وہ کمال مہارت سے چھپا گیا۔۔۔۔
جانتا تھا کس نے بھیجا ہے اسے سفارش کرنے …………
” بولیں میں سن رہا ہوں”۔۔۔۔وہ اُسکی طرف دیکھ قدرے نرمی سے بولا۔۔۔۔
منہا جو سوچتی پریشان ہو رہی تھی بات شروع کیسے کرے اُس کی آواز سے ہڑبڑا گئی۔۔۔
وہ۔۔۔ ہاں۔۔۔ “ہاں وہ پلیز آپ سمیع کو جانے کی اجازت دے دیں ناں پلیز !!!!
وہ اُسکی جانب التجایہ نظروں سے دیکھتی بولی…اور اُسکے تھوڑا قریب ہوتے اُسکا بازو تھام گئی
حمزہ نے اُسکی چلاکی سمجھتے گہری نظروں سے اُسے دیکھا۔۔۔
پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اُسے دیکھ گویا ہوا۔۔۔
” آپ جانتی ہیں کہ اریج کو میں باہر انکار کر چکا ہوں جس کی وجہ سے وہ مجھ سے خفا بھی ہے۔۔۔اب اگر میں سمیع کو اجازت دونگا تو وہ مجھ سے اور زیادہ خفا ہو جائے گی کہ میں صرف اُسے ہی کیوں نہی جانے دے رہا”۔۔۔۔
” وہ ابھی بچی ہے نہیں سمجھ سکتی کہ میں اُسے کیوں ایسے فنکشنز پر جانے سے روکتا ہوں لیکن آپ تو سمجھدار ہیں جانتی ہیں ساری بات ۔۔۔۔ایسے میں سمیع گیا تو وہ مزید مجھ سے خفا ہو جائے گی”۔۔۔وہ اپنی دلکش گھمبیر آواز میں منہا کی جانب دیکھتا بولا۔۔۔
“جی میں جانتی ہوں اور سمجھتی بھی ہوں”منہا اپنے لہجے میں مضبوطی لاتے بولی ۔۔۔۔”آپ اُسکی طرف سے پریشان نہ ہوں اور نہ ہی اُسکی ناراضگی کو دل پر لیں ۔۔۔وہ چھوٹی ہے اُسے معلوم نہیں جلدی میں کیا بول جاتی ہے ۔۔۔۔
وہ آپ سے بہت زیادہ ایکسپکٹیشنز رکھتی ہے۔۔۔۔اُسے لگتا ہے آپ اُسے کبھی انکار نہی کرئیں گے۔۔۔۔اسی لیے بس آپ کے انکار پر خفا ہو گئی ۔۔ٹھیک ہو جائیگی آپ اُسے پیار سے سمجھائے گے تو۔۔۔اور رہی سمیع کی بات تو وہ کچھ نہیں کہے گی میں جانتی ہوں ۔۔بس آپ اجازت دے دیں۔۔۔۔وہ ماشا اللہ سمجھدار ہے اور اپنا اچھا برا جانتا ہے ۔۔بس کچھ وقت کے لیے اپنے دوستوں کے ساتھ جانا چاہتا ہے ۔۔۔۔ایسے میں اگر ہم اُس پر سختی کرئیں گے تو وہ مزید ضد کرے گا “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” لڑکیاں سمجھ جاتی ہیں بات لیکن لڑکے تھوڑا وقت لیتے ہیں اور ویسے بھی ماشا اللہ وہ چھوٹا نہیں ہے ۔۔۔۔اپنی حدود جانتا ہے ۔۔۔۔
اسلیے آپ اُسے جانے سے مت روکیں۔۔۔بس یہ گذارش ہے آگے آپکی مرضی آپ مجھ سے بہتر سمجھتے ہیں انکے لیے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں”۔۔۔۔
منہا کہتی ہوئی اُسکے قریب سے اٹھنے لگی ۔۔۔۔
حمزہ نے اُسکا ہاتھ تھام کر اپنے قریب کیااور اُسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیتے منہا کی سیاہ آنکھوں میں دیکھتے گھمبیر آواز میں بولا
“سب کی فکر ہے آپکو سوائے میرے”
منہا کی پلکیں لرزیں اور دل الگ سپیڈ پر دھڑک رہا تھا اس کی اتنی قربت پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کچھ نظر کرم مجھ پر بھی کر دیں ۔۔۔مجھ غریب کا بھی بھلا ہو جائے گا”
دلکش انداز میں کہتے ہوئے اُسنے اُسکے ہونٹوں پر انگھوٹھا پھیرتے دانتوں سے آزاد کروایا ۔۔۔۔۔
“یہ ظلم نہ کریں ان پر صرف میرا حق ہے”
اس پر جھکتے ہوئے شدت سے اُسکے رخسار پر اپنا لمس چھوڑتے پیچھے ہٹتے ہوئےاُسکے گلال ہوتے خوبصورت چہرے کو دیکھنے لگا۔۔۔۔جو اُسکی زرا سی قربت سے لال ہو چکا تھا
منہا اسکو اتنے قریب دیکھے دل کو سمبھالتی دور ہونے لگی۔۔۔۔۔۔
“منہا کب تک یوں گریز برتیں گئیں بس مجھے کچھ وقت دے دیں آپ کے سب رشتے آپ کے پاس ہونگے۔۔۔۔۔ میں آپ سے اپنے ہر عمل کی معافی چاہتا ہوں ۔۔۔۔بس تھوڑی سی گنجائش میرے لیے بھی دل میں پیدا کر لیں۔۔۔۔کچھ وقت میرے ساتھ بھی گزار لیا کریں ۔۔۔اسکو آپ میری گذارش سمجھ لیں”
اُسکا ہاتھ تھامے شدتِ جذبات سے بولتا اُن پر لب رکھ گیا۔۔۔۔
“میں کوشش کرونگی”
وہ اپنا ہاتھ کھینچتی اُسکے قریب سے اٹھتی ہوئی بولی اور باہر کی جانب قدم بڑھائے ۔۔۔
جب وہ اچانک پیچھے سے بول اٹھا ۔۔۔۔”ٹھیک ہے آپ اُسے کہیں کے وہ جا سکتا ہے لیکن وقت پر واپس آ جائے زیادہ دیر باہر نہ رہے” ۔۔۔۔
“چّھچھورا” اُسے نئے لقب سے نوازتی پلٹے بغیر کمرے سے نکلتی نیچے کی طرف بھاگی۔۔۔۔
______________________________
لاؤنج میں آکر اُسکے قدم تھمے جہاں سمیع اور دادی موجود تھے۔۔
“بیٹا آرام سے منہا کیوں اتنی ہڑبڑی میں آ رہی ہو” ۔۔۔دادی اُسے یوں تیزی سے آتا دیکھ ٹوک گئی ۔۔۔
اُفف !!سو سوری دادی جان” وہ کان پکڑتے بولی۔۔۔
اور سمیع کی جانب دیکھا جو اُس کے بولنے کا ہی منتظر تھا ۔۔۔۔
“کیا ہوا بھابھی بھائی نے کیا کہا ۔۔۔۔نہیں مانے نہ؟؟ مجھے معلوم تھا “۔۔۔وہ افسردہ ہوتا صوفے سے ٹیک لگاتا بولا ۔۔۔۔
“اچھا اگر میں انہیں منا لوں تو مجھے کیا ملے گا “؟؟؟؟منہا اپنی تھوڑی پر انگلی رکھتے شرارتی نگاہوں سے اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔۔
کیا چاہیے آپکو؟ ۔۔۔۔
آپ بس اجازت لے دیں۔۔۔۔آپ جو کہیں گی وہی لے دونگا آپکو ۔۔۔وہ ہاتھ جوڑتا مسکین سی شکل بناتا بولا۔۔۔۔
آہ ہاں۔۔۔۔چلو ٹھیک ہے پھر آج رات کو تم مجھے اور اریج کو آئسکریم کھیلانے باہر لے کر جاو گے ۔۔۔۔
اوکے ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔وہ ہاتھ کے انگھوٹھے سے اشارہ کرتا بولا۔۔۔
اب تو جائیں پلیز اجازت لے آئیں!!!!!
“وہ تو میں کب کی لے چکی” وہ لاپرواہی سے کندھے اُچکاتی بولی ۔۔۔۔
“کیا سچ ۔۔۔سچ میں بھائی نے اجازت دے دی “۔۔۔وہ اٹھتا خوشی سے اُسے دیکھتا بولا ۔۔۔۔
“جی ہاں اب تم ہمیں لے کر جاؤ گے رات کو ۔۔۔۔اور ساتھ میں شاپنگ پر بھی” ۔۔۔۔
اریج قریب آتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
کیوں بھئی زیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں بھابھی نے بس آئسکریم کا ہی بولا تھا ۔۔۔وہ چڑتا ہوا بولا ۔۔۔
” ٹھیک ہے پھر میں بھائی کو کہتی ہوں تمہیں بھی نہ جانے دیں اور میں جانتی ہوں وہ میری بات سے انکار نہی کریں گے’وہ کندھے اچکاتی ہوئی منہا کو دیکھ بولی ۔۔۔۔
منہا اپنی مسکراہٹ ضبط کرتی سر ہلا گئی ۔۔۔
بھابھی یہ تو چیٹنگ ہے پہلے تو ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی!!! سمیع منھ پھلاتا بولا ۔۔۔۔
ڈیل منظور ہے تو بولو ورنہ ہم چلے ۔۔۔۔۔منہا اریج کا ہاتھ تھامتی بولی ۔۔۔۔
بھابھی آپ بھی اس چڑیل کے ساتھ مل گئی ہیں وہ صدمے سے اُسے دیکھتا بولا ۔۔۔اریج کندھے اچکا گئی سوچ لو پھر ۔۔۔۔۔! اریج آنکھیں نچاتے بولی
اچھا اچھا ٹھیک ہے لے جاؤنگا میری پیاری بہنننن۔۔۔۔۔وہ دانت پیستے ہوئے بولا
“لیکن انہوں نے سختی سے کہا ہے کے زیادہ لیٹ نہی کرنا آپ نے جلدی گھر آ جانا “۔۔۔۔منہا اُسے تنبیہہ کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
ہائے تھینک یو سو مچ بھابھی ۔۔۔تسی گریٹ ہو ۔۔۔وہ ہاتھ نچاتا بولا ۔۔۔۔
اور سب کے چہروں پر اُسکی اوور ایکٹنگ دیکھ مسکراہٹ بکھر گئی ۔۔۔
______________________________________
انہیں یونیورسٹی جوائن کیے ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔۔۔
دونوں کے ڈیپارٹمینٹ الگ تھے ۔۔۔
اریج بی بی اے کے پہلے سمسٹر میں تھی ۔۔۔جبکہ سمیع ایم بی اے کر رہا تھا ۔۔۔۔
پہلے ہی وہ کافی چھٹیاں کر چکی تھی مزید دیر کرکے وہ پیچھے نہی رہنا چاہتی تھی۔
اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف جاتے ہوئے اریج نے دوڑ لگائی۔۔۔۔ کیونکہ سمیع کی وجہ سے وہ پہلے ہی لیٹ ہو چکی تھی ۔۔۔ ارد گرد دیکھا تو بہت کم سٹوڈنٹس تھے جو باہر تھے ۔۔۔۔
تیزی سے سیڑھیاں عبور کرتی اچانک اُسکا مقابل سے سخت تصادم ہوا اور اُسکا پاؤں مڑا ….اس سے پہلے کے وہ پیچھے کی طرف گرتی ۔۔۔مقابل نے اُسکی کمر کے گرد ہاتھ ڈالے اُسے گرنے سے بچا لیا ۔۔۔
آہ مما !!!! اریج کی زوردار چیخ نکلی اور وہ آنسو بہاتی وہیں سیڑھیوں کے بیچو بیچ بیٹھ گی ۔۔۔
ایکسکیوزمی !!!! آپ ٹھیک ہیں؟؟؟
مقابل اپنی گھمبیر آواز میں اُس پر جھکتا بولا۔۔۔
“نہیں دیکھ نہی رہے اتنی زور کی لگی ہے”۔۔۔
وہ چیختی ہوئی پھاڑ کھانے والے انداز میں بولی اور پھر سے رونے لگی ۔۔۔۔
‘پلیز آپ اٹھنے کی کوشش کریں” وہ اُسکے پاس پنجوں کے بل بیٹھتا اُسکی نیچے گری ہوئ کتابیں اٹھاتا بولا۔۔۔
کیسے اٹھوں اتنا درد ہو رہا ہے…… وہ آنسو صاف کرتی اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔
وہ اسکے آنسو سے تر معصوم چہرے کی طرف دیکھتا شائستگی سے بولا ۔۔۔۔
“میں مدد کرتا ہوں آپکی” ۔۔۔۔۔۔۔کتابیں اُسکی طرف بڑھاتا وہ بولا ۔۔۔
آپ پکڑیں انکو اور ان پر اپنا وزن ڈال کر اٹھنے کی کوشش کریں ۔۔۔۔۔
اریج کو اُس کی یہ حرکت بہت پسند آئی۔۔۔۔۔۔
ہاتھ بڑھاتی کتابوں کو تھامے اُن پر اپنا وزن ڈالے اُس نے اٹھنے کی کوشش کی ۔۔۔
اُسکا بیگ تھامتا وہ دھیرے سے بولا ۔۔۔آرام سے ۔۔۔
زیادہ تکلیف تو نہی ہو رہی ۔۔۔اریج کے چہرے پر تکلیف کے آثار واضح تھے ۔۔۔
ریلنگ کا سہارا لیتے وہ اپنے پاؤں پر وزن ڈالتی تکلیف برداشت کرتی ہوئی بامشکل اٹھی ۔۔۔۔”مجھ سے نہی چلا جائے گا “
وہ نم آنکھوں سے اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔
“آپ پلیز میرے بھائی کو کال کر دیں ۔۔۔۔میرا بھائی بھی اسی یونی میں ہے ۔۔میرا تو فون بھی آج گھر رہ گیا “
بولتی وہ پھر سے رونے لگی ۔۔۔۔
” بیلو جینز پر فیروزی لونگ فرراک پہنے ڈوپٹے کا حجاب کیے” اُسکا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا ۔۔
درد کی شدت سے گلابی پڑتا چہرہ ۔۔۔۔رونے کی وجہ سے بیگھی پلکیں ۔۔۔اور گلابی ہونٹ ۔۔۔۔
اُسکے حسین سراپے کو دیکھ اُسکے دل نے ایک بیٹ مس کی ۔۔۔۔
دیکھیں پلیز آپ ایسے نہیں روئیں۔۔۔ مجھے اُنکا نمبر بتائیے میں بات کرتا ہو اُن سے ۔۔۔۔۔
اسکو یوں شدت سے آنسو بہتا دیکھ وہ پریشانی سے بولا۔۔
اس نے سمیع کو کال کرتے اُسے جلدی سے بلایا ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں سمیع وہاں پہنچا ۔۔۔
وہ اُسے دیکھ ایک بار پھر سے رونا شروع ہو گئی ۔۔۔”کیا ہو گیا میری جان ۔۔۔۔کچھ نہی ہوتا ۔۔۔کہا لگی” ؟؟…..
وہ اُسکے آنسو صاف کرتا پریشانی سے اُسے دیکھتے استفسار کرتا بولا
“پاؤں مڑ گیا ہے”……..
وہ روتے ہوئے پاؤں کی جانب اشارہ کرنے لگی ۔۔۔۔
اچھا میرا بیٹا کچھ نہی ہوتا ۔۔۔۔۔ہم ابھی ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ٹھیک ہو جائے گا کچھ نہیں ہے بس چھوٹی سی موچ ہے ۔۔۔۔
وہ نیچے جھکتا اُسکے پاؤں کا معائنہ کرتا بولا۔۔۔اور اُسے محبت سے ساتھ لگاتے اُسے لیے گاڑی تک آیا ۔۔۔۔
“بہت بہت شکریہ آپ کی ہیلپ کا” ۔۔۔۔۔۔
وہ اریج کو گاڑی میں بیٹھاتا مڑتا ہوا اُس کی جانب دیکھتا تشکر بھرے لہجے میں بولا۔۔۔۔
نہیں اس میں شکریہ کی کوئی بات نہی یہ انکا بیگ اور کتابیں ۔۔۔۔وہ اُسکی جانب دونوں چیزیں بڑھاتا ہوابولا۔۔۔۔
“معذرت چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ہماری وجہ سے آپکو پریشانی ہوئی “
سمیع اُس سے بیگ اور کتابیں پکڑتا گاڑی میں رکھتا بولا ۔۔۔۔
نہیں اس میں معذرت کی کوئی بات نہیں ۔۔۔کسی کے کام آنا اچھی بات ہے نہ کہ بری ۔۔۔۔
اس لیے آپ معذرت کرکے مجھے شرمندہ نہ کریں۔۔۔وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے اُسکی جانب دیکھتا بولا ۔۔۔
اس سب میں اریج نے پہلی بار اُسے غور سے دیکھا ۔۔۔۔
” دراز قد ۔۔۔۔۔ گندمی صاف رنگت پر گہری سیاہ آنکھیں اور ہلکی دھاری ۔۔۔۔ مسکراہٹ کی وجہ سے گالوں پر پڑتے گڑھے واضح ہو رہے تھے جو اُسے اور دلکش بنا رہے تھے” ۔بلاشبہ وہ بہت شاندار پرسنالٹی کا مالک تھا ۔۔۔
سمیع اُس سے مصافحہ، کرتا شکریہ ادا کرتا گاڑی کا ڈور کھولے فرنٹ سیٹ پر بیٹھا اور گاڑی کا رخ ہسپتال کی جانب کیا
_____________________________
