Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes Readelle 50364 Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 19) 2nd Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 19) 2nd Last Episode
Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes
چار ماہ پر لگا کر گزر گئے
سب بہت خوش اور پرسکون تھے ،،
دونوں فیملیز کا ایک دوسرے کی طرف آنا جانا لگا رہتا
سمیع پر ترس کھاتے اُسکی یونی کی لڑکی جسے وہ پسند کرتا تھا اُسکے ساتھ اُسکی بات پکی کر دی گئی
اریج اور موسیٰ کے مطلق بھی منہا نے حمزہ سے بات کی
اُسکی رضامندی جان کر سب بہت خوش تھے
کسی کو بھی اس رشتے سے انکار نہ تھا
بلآخر دونو کے رشتے تہہ کر دیے گئے
اب بس منہا کے خیریت سے فارغ ہونے کا سبکو انتظار تھا
اُسکے بعد شادی کی ڈیٹ فائنل ہونی تھی
منہا نے جلدی شادی کرنے کا بہت کہا لیکن سب نے سختی سے انکار کر دیا
سب جانتے تھے اُسکی طبیعت ان دونوں کتنی بوجھل رہتی تھی اسلئے حمزہ نے سختی سے اسے آرام کرنے کا کہا
_____&&&_________
حمزہ اور منہا اپنی زندگی میں بہت خوش تھے
حمزہ اُسکا ہر طرح سے خیال کرتا ۔۔۔۔
اُسکی تمام خواہشیں سر آنکھوں پر رکھتا
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہوتا جا رہا تھا
منہا خود سے بلکل لاپرواہ بنی پھیرتی جسکی وجہ سے حمزہ ہر وقت اُسکا خیال رکھتا
منہا اُسکے بے جا روکنے ٹوکنے کی وجہ سے خفا ہو جاتی
جسکی وجہ سے بیچارہ اُسکے آگے پیچھے گھومتا پھرتا
سب اُسکا بہت خیال رکھتے
کیوں نہ رکھتے سب کی جان بستی اُس میں
اُسنے اپنے نرم رویے سے سبکے دل میں جگہ بنائی تھی
ڈاکٹر نے سختی سے اُسکی اچھی ڈایٹ کی ہدایت کی تھی
لیکن وہ منہا ہی کیا جو مان جائے
دن میں دس بار تو وہ اوپر نیچے کے چکر لگاتی
بلاآخر تنگ آتے حمزہ نے نیچے روم میں شفٹ ہونے کا فیصلہ کیا
لیکن وہاں بھی منہا نے اپنی مرضی کی
اُسکا کہنا تھا کہ اُسے اپنے روم کے بغیر نیند نہی آتی اس وجہ سے وہ نیچے شفٹ نہی ہوگی
یہاں بھی حمزہ کو ہار ماننی پڑی
کیوں کے ڈاکٹر نے اُسکے کیس میں تھوڑی سی کملیکشن بتائی تھی
جسکی وجہ سے حمزہ ہر چیز میں بہت احتیاط برتتا
حمزہ اُسے زیادہ اوپر نیچے نہی ہونے دیتا اسی وجہ سے وہ صبح خود اُسے اپنے ساتھ لیے نیچے آتا اور سختی سے دوبارہ کمرے میں جانے سے منع کرتا
جاتے وقت وہ دادو کو بھی اُسکا خیال رکھنے کا کہتا جاتا
سب کی بہت زیادہ کیئر کی وجہ سے اُسکا سراپا جلدی بھر گیا تھا
اب بھی وہ تیزی سے قدم اٹھاتے سیڑھیوں سے نیچے آ رہی تھی کے سامنے سے حمزہ نے آتے اُسے ٹوکا
اُسکی آواز سنتے اُسکے قدم تھمے
اوپس !!!۔۔۔
منہا آج تو _”تو گئی وہ ہولے سی بڑبڑای
پھر سے لیکچر ملے گا ،،
وہ لب دانتوں میں دبا گئی
حمزہ جو اپنی ضروری فائل بھول گیا تھا خود لینے آیا تھا
اُسے یوں تیزی سے آتا دیکھ ٹوک گیا
تیزی سے سیڑھیاں پھیلانگتا وہ اُس تک پہنچا
اور اُسکی کمر میں ایک بازو حائل کرتا اُسکا ہاتھ تھامے اُسے اپنے ساتھ لیے نیچے آیا
کتنی دفعہ میں نے آپکو منع کیا ہے کے بار بار اوپر نیچے نہی ہوا کریں
آخر کون سی زبان سنیں گی ” آپ “۔۔۔۔
مجھے بتا دیں !!…
کون سی ایسی آفت آ پری تھی جو آپکو کمرے میں جانا پڑا
وہ سخت لہجے میں بولتا اُسے لیے نیچے لاؤنج میں آیا
مجھے چارٹ کھانی تھی اسی لیے روم میں گئی
دادی نے سختی سے منع کیا تھا اسلیے میں چوری چھپے سکینہ ( ملازمہ)سے منگوانے لگی تھی
لیکن آپ آ گئے ،،
میرا سارا پلین کینسل کروا دیا
وہ منھ بناتی کاوچ پر بیٹھتی بولی
تو میری جان آپ نے کسی اور سے کہہ دینا تھا نہ خود آپ کو جانے کی کیا ضرورت تھی
یاں پھر مجھے کال کر دینی تھی
میں بھجوا دیتا کسی کے ہاتھ وہ اُسکے ساتھ بیٹھتا بولا
ہاں اور دادی کو پتہ چل جاتا وہ منھ بگاڑتی بولی
منہا اپنا نہیں تو میرا ہی خیال کر لیجئے
تو سہی ہی کہتی ہیں دادی
کچھ اچھا تو آپ نے کھانا نہی
آخر کیا رکھا ہے اس چارٹ اور گندے پاپڑوں میں
جو آپ چوری چھپے منگوا کے کھاتی ہیں
وہ سر پکڑتا بولا
بہت مزے کے ہوتے ہیں
اب منگواؤں گی نہ تو آپ کے لیے بھی ایک رکھونگی
خود ہی آپکو پتہ چلے گا کیا رکھا ہے اُن میں
وہ چہکتی ہوئی اُسکا طنز سمجھے بغیر بولی
اللہ!! ۔۔ یہ لڑکی “
یہ دیکھیں میرے جڑے ہاتھ وہ اُسکے آگے ہاتھ جورے بولا
مجھ پر تھوڑا ترس کھائیں
سارا دن مجھے آفیس میں یہی ٹینشن لگی رہتی ہے کے کہی آپ نے اپنا خیال رکھا ہوگا ۔۔۔۔
پتہ نہیں کچھ اچھا کھایا بھی ہو گا یاں پھر بس چارٹ اور گول گپے ہی کھاتی رہی
اللہ کی بندی اپنا خیال رکھا کریں
اچھی خوراک لیا کریں
ورنہ اب میں نے سچ میں دادی کو آپکی شکایت لگا
دینی ہے
جو آپ چوری چھپے کھاتی پھیرتی ہیں
وہ اُسے تنبیہہ کرتا بولا ،،
کیا آپ ایسا کریں گے میرے ساتھ!!….
مجھ سے تو کوئی پیار ہی نہی کرتا
ایک آپ ہی تھے جو منع نہی کرتے تھے اب آپ
لگا لیں شکایت
وہ روہانسی ہوتی بولی
لیکن میں بتا رہی ہوں
میں بھی اپنی مما کے گھر چلی جاؤنگی اور پھر ڈیلیوری کے بعد واپس آونگی وہ روتے ہوے اُسے دھمکی دیتی بولی
منہا میری زندگی __۔۔۔__”میری جان رونا نہیں
یار میں بس آپکے لیے کہہ رہا تھا
آپ کیوں نہی سمجھتی
اچھا چپ کریں کچھ نہی کہہ رہا
وہ اُسے ساتھ لگاتا بولا
اور جانے کی بات نہی کرنی
میرا ایک پل نہی گزرتا آپ کے بغیر ۔۔۔۔
مجھ غریب پر تھوڑا ترس کھائیں،،
اچھا ٹھیک ہے نہی جاؤنگی لیکن آپ رات میں میرے لیے پزا لے کر آئے گے
وہ بھی لارج والا
چہرہ اٹھاتی بولی
ڈن اور کچھ میری جان
ہاں اور میں اُس میں سے آپکو ایک پیس بھی نہی دونگی
وہ اُسکی شرٹ کے بٹنوں سے کھیلتی بولی
ٹھیک ہے جی نہی دیجئے گا
اب خوش وہ مسکراتا ہوا بولا
ہاں بہت وہ اُس سے دور ہوتے بولی
لیکن آپ نے اب دوبارہ روم میں نہی جانا اکیلے
یار مجھے تو اپنی فکر ستائے جا رہی ہے کیا بنے گا میرا
کیسے دو بچیوں کو سمبھالونگا میں”
وہ زیچ ہوتا بولا
سمبھالنا تو آپکو پرے گا ٫شاہ جی “
آپکو ہی شوق ستائے جا رہا تھا بےبی کا
اور میں پہلے بتا رہی ہوں
اُسکے سارے کام آپ ہی کریں گے
میں تو پہلے اتنے مہینوں سے اچھی نیند نہی سوئی
اسلیے رات آپ بیبی کو سنبھالیں گے اور اُسکے ساتھ جاگے گے
میں آرام سے اپنی نیندیں پوری کرونگی
وہ اُسکے سینے پر سر رکھتی بولی
میں خود اپنی بیٹی کو سنبھالوگا اُسکی فکر کرنے کی ضرورت نہیں آپکو
لیکن یہ جو نیندیں پوری کرنے والی بات ہے یہ سراسر ظلم ہے مجھ پر وہ معنی حیزی سے بولا
کوئی ظلم نہی میں پہلے بتا رہی ہوں دونو کو میری نیند بلکل بھی خراب کرنے کی ضرورت نہیں
میں جی بھر کے سونا ہے
کرنے ہی نہ دوں میں آپکو نیندیں پوری ۔۔۔
میں اپنا وقت آپکو بلکل بھی نیند کی نظر نہی کرنے دونگا پہلے بتا رہا ہوں اُسے دیکھتا وہ جل کر بولا
وہ مسکراتی اُسکا نام پکاڑ” گئی،،
جی شاہ کی جان!!..
اب کونسی فرمائش رہ گئی ہے
وہ مسکراتا بولا
منہا کا قہقہ گونجا
اب میں اتنا بھی نہی کھاتی شاہ آپ جان بوجھ کر مجھے بدنام کر رہے ہیں وہ اُسکے سینے پر ہاتھ مارتی بولی
جان شاہ آپ جتنا دل چاہے کھاؤ
کسی کی اتنی جرات میری بیوی کو کچھ بولے وہ اُسے پچکارتے بولا
اچھا پھر پزا کے ساتھ ایک کوک بھی لے کر آئیے گا اور نا خاموشی سے روم میں بجھوا دینا
وہ جو سمیع کنجوس ہے نا۔۔۔۔٫٫ اگر اُسنے دیکھ لیا تو مسکینوں کے جیسا منہ بناے گا اور پھر
نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے اُسے دینا پڑے گا وہ اتنے پیارے منھ کے زاویے بگاڑتی بولی کے حمزہ کو اُسکی اس حرکت اور ٹوٹ کر پیار آیا
جھکتا اُسکے گال پر لب رکھتے بولا
ٹھیک ہے میری جان جو آپکا حکم “
وہ اُسکی بات سنتی کھلکھلا دی
___________
سمیع بیچارے کی بھی پریڈ لگی ہوئی تھی
جب بھی حمزہ گھر نہ ہوتا وہی گنچکر بنا پھرتا
کبھی اُس سے کچھ منگواتی تو کبھی کہتی یہ تو وہ والا ہے ہی نہیں جو سکینہ لائ تھی
تھک کر وہ بیٹھ جاتا کے اُسی سے منگوا لو
یہ دیکھیں میرے ہاتھ بابھی تیسری دفعہ جا رہا ہوں ترس کھائیے مجھ پر کچھ
تھکا ہارا یونی سے آیا ہوں وہ دھپ سے صوفے پر بیٹھتا بولا
ہائے اللہ اب میں سمجھا بھائی بیچارے کیوں اتنے کمزور ہوتے جا رہے ہیں جتنا آپ نے مجھے ایک چیز کے لیے خوار کیا ہے
میرا معصوم بھائی تو پتہ نہیں کیا کیا لاتا پھرتا ہے
زیادہ اچھلنے کی ضرورت نہیں جا کر مجھے لا کر دو ورنہ حمزہ کو فون کرکے شکایت کرونگی تمہاری
حمزہ کا نام سنتے ہی وہ اٹھا
یوں ہی دھمکا ڈرا کر کام کرواتی ہیں آپ
اُسے دیکھ پاس آتی اریج مسکرا دی
اُن کا تو یہ روز کا ہی کام لگا تھا
اریج اور منہا مل جاتی اور سمیع بیچارہ اکیلا رہ جاتا ۔۔۔۔
_____________________
گرم موسم ہونے کی وجہ سے وہ لان کا سبز لونگ فروک کے ساتھ سفید پجامہ پہنے سفید ہی دوبٹہ کندھے پر ڈالے اپنے بھاری وجود کے ساتھ چھوٹے اسٹیپ لیتی سیڑھیاں اُتر رہی تھی
گھر میں اس وقت کوئی موجود نہی تھا اسی لیے دوبٹہ شانوں پر گرا ہوا تھا
چھوٹے قدم اٹھاتی وہ خاموشی سے کیچن کی جانب گئی
اور ملازمہ سے چارٹ کا باؤل پکڑے پوچھا
مرچیں زیادہ ڈلوائی تھی نہ ؟؟
جی جی بی بی جی بڑی کڑاری بنوائی ہے ملازمہ جلدی سے بولی
وہ سر ہلاتی باؤل لیتی دھیرے سے لاؤنج کے قریب سے گزر کر لان میں جانے لگی
جب اس کیا دھیان آوازوں کی جانب گیا
سیٹنگ روم سے آوازیں آ رہی تھی
اُس نے تھوڑے سے کھلے دروازے سے اندر جھانکا
ربیعہ بیگم اور اُن کی دو ماڈرن سی سہیلیاں بیٹھیں باتیں کر رہی تھی
وہ واپس مڑنے لگی لیکن اپنا نام سنتی ٹھٹھک کر رکی
تھوڑا سا دروازہ کھول کر اندر کا منظر دیکھا جہاں وہ بیٹھی اُنھیں اُس کے بارے میں کچھ بول رہی تھی
ربیعہ ڈارلنگ،،،
تم جانتی نہیں ان غریب مڈل کلاس لڑکیوں کو
انکا تو کام ہے امیر لڑکوں کو پھسا کر اُن سے شادی کرنا
عشق محبت کے چکر چلانا ۔۔۔۔
تاکے عیش کر سکیں اور ساتھ میں اپنے غریب گھر والوں کو بھی سپورٹ کر سکیں
تم کہاں ان چکروں میں پر گئی
تم جانتی نہیں ہو یہ جو بھولی بنی پھرتی ہیں یہ اصل میں بہت تیز ہوتی ہیں۔۔۔
سب کچھ اپنے نام کروا کر سبكو چلتا کرواتی ہیں
اور حمزہ تو ہے بھی بہت نیک بچہ
وہ بیچارہ تو پھنس گیا ہے
اور مجھے تو خیرت ہے تم پر تم کیسے اُس لڑکی کو اپنے گھر کی بہو بنا سکتی ہو؟؟….
جسکا کوئی سٹینڈرڈ” ہی نہیں
لیلٰی از رائٹ” ربیعہ ،،
یہ معصومیت کی دیویاں ایسی ہی ہوتی ہیں
تم کچھ دںن رکو تمہیں بھی اپنی اصلیت دیکھا دے گی
اب میں کیا کروں؟؟؟
ربیعہ بیگم سر پکڑتی بولی
ڈونٹ وری ڈارلنگ !۔۔۔۔
ہمارے ہوتے ہوے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں
ہمارے پاس ایک بہت اچھا پلین ہے
بس تمہیں کرنا یہ ہے کے کسی بھی طرح حمزہ کو منہا سے دور کرنا ہے
اُسے اُس سے بدگماں کرنا ہے
وہ کبھی اُس سے دور نہی ہوگا اب تو ویسے بھی وہ اُس کو اولاد دینے والی ہے
ربیعہ بیگم پریشان سی بولی
کونسا بچہ دوبارہ نہی ہو سکتا اور اگر اُسے بچہ چاہیے ہوا تو اُس سے بچہ لے کر اُسے چھوڑ دے
وہ شاطرانہ انداز میں بولی
اس سے پہلے کے وہ اور کچھ کہتی
منہا دروازہ کھول اندر داخل ہوئی
اُنکی باتیں سن اُسے اپنے پیروں پر کھڑے رہنا مشکل ترین عمل لگا
اتنی نفرت ۔۔۔اُسکا دماغ سنسنا اٹھا ،،
وہ ہمت کرتی اُنکے قریب گئی
وہ دراصل میں نے سوچا میں بھی آپکے نیک مشوروں سے مستفید ہو جاؤں
تو کون سے پلان بنائے جا رہے تھے میرے خلاف
ہاں سچ آپ حمزہ کو مجھ سے دور کرنے کی بات کر رہی تھی ۔۔۔۔
چچ بہت افسوس سے کہنا پر رہا ہے
پہلا پلان تو کینسل ہو گیا
کیونکہ جو شخص میرے بغیر ایک پل نہی رہ سکتا آپ اسے مجھ سے دور کرنے کی پلاننگ کر رہی ہیں
بہت افسوس ہوا
آنٹی آپ بھی ۔۔۔مجھے آپ سے یہ امید نہی تھی کے آپ بھی میرے بار ے میں ایسا سوچتی ہیں۔۔۔
آپ تو سب جانتی ہیں
کے کیس طرح آپ کے بیٹے نے مجھ سے زبردستی شادی کی ۔۔۔
پھر بھی آپ ایسا سوچ رہی ہیں
اور آپ دونو وہ اُنکی جانب مڑی
شرم آنی چاہیے اس عمر میں اس طرح کی پلاننگ کرکے دوسروں کا گھر خراب کرتے ہوے
ربیعہ یہ دو ٹکے کی لڑکی کس لہجے میں بات کر رہی ہے ہم سے،،، وہ آگ بگولا ہوتی بولی
منہا تم اپنے روم میں جاؤ ربیعہ بیگم تو اُسے اپنے سامنے دیکھ ہی گربرا گئی
کیوں ۔۔۔۔!!!کیوں__ جاؤ میں
اس وقت میری ذات کے مطلق بات ہو رہی ہے میں کیسے جا سکتی ہوں کہی
شرم آنی چاہیے آپ دونو کو
اب اس سے پہلے کے میں آپ دونو کو دھکے دے کر گھر سے نکلواؤں خاموشی سے اٹھ کر چلی جائے
ربیعہ یہ کیا کہہ رہی ہے تمہاری بہو،،
وہ حفت زدہ سی ہوتی ربیعہ بیگم کو دیکھتی بولی
منہا معافی مانگو ان سے
مہمان ہیں یہ میری ،،
اس طرح سے بات نہی کر سکتی تم ان سے”’
ان دو ٹکے کی عورتوں سے میں نہی معافی مانگوں گی
جلدی سے انہیں میرے گھر سے نکالیں میں انہیں ایک منٹ بھی اپنے گھر میں برداشت نہی کر سکتی
وہ کہتی کمرے سے نکل گئی
پیچھے وہ دونوں سیخ پا ہوتی ربیعہ بیگم کو دیکھتی بولی
بہت اچھی خاطر داری کروائی ہے ربیعہ!!!
وہ انہیں روکتی رہ گی لیکن وہ دونوں پاؤں پٹختی تن فن کرتی نکل گئی
پیچھے وہ سر پکڑ کے بیٹھ گئی
فون پکڑ کے حمزہ کو جلدی سے گھر بلایا
آج فیصلہ ہو ہی جائے
__________________
حمزہ اُنکا فون سنتا جلدی سے گھر آیا
پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کے وہ اُسے اتنے غصے میں بولی ہوں
وہ پریشانی سے اُنکے کمرے میں داخل ہوا
وہ سامنے سر پکڑے بیٹھی تھی
مما کیا ہوا ہے ؟؟..
کیا بات ہے !!!
آپ کیوں ایسے بیٹھی ہیں وہ متفکر سا اُنکا ہاتھ تھامتے بولا
تمہاری بیوی کے ہوتے کبھی کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے
شروع دن سے میں اس لڑکی کوبرداشت کرتی آئی ہوں
صرف تمہاری وجہ سے
لیکن اب میری برداشت ختم ہو گئی ہے
وہ آگ بگولا ہوتی بولی
مما ہوا کیا ہے ؟؟
کیا ہو سکتا ہے
غریب مڈل کلاس لڑکی کو تم نے میرے سر پر بٹھایا ہوا ہے
وہ اپنی اوقات دیکھا رہی ہے
آج اُسنے مجھے ذلیل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی
میری دوستوں کے سامنے مجھے اتنا بے عزت کیا
اُن سے اتنا روڈ بولی
اور جب میں نے معافی کا کہا تو مجھے بھی خوب باتیں سنای اور کہا کے یہ اُسکا گھر ہے
اُسکے شوہر کا گھر ہے
اُسکا سب سے زیادہ حق ہے
وہ اپنے سے چار باتیں لگاتی رونے لگی
مما ۔۔۔مما بس __پلیز ۔۔۔روئیں مت
میں پوچھتا ہوں منہا سے اُس نے ایسا کیوں کیا
وہ ایسی تو نہیں ہیں
ضرور انہوں نے کچھ کہا ہوگا پہلے وہ انہیں ساتھ لگاتا بولا
ربیعہ بیگم اُسکی بات سنتی غصے سے بولی
ہاں بیٹا سہی کہا تھا سب نے کے بیوی کے آتے ما ں جوٹھی لگنے لگی
بلا کبھی چوڑ نے بھی بتایا ہے کہ اُسنے چوری کی ہے
اُلٹا وہ بھی مجھ پر ہی الزام لگائے گی
وہ نحوّت سے بولتی چہرہ موڑ گئی
مما میرا وہ مطلب نہیں ۔۔۔
آپ فکر نہ کریں میں خود اُس سے بات کرتا ہوں
وہ آپ سے معافی مانگیں گی اپنے رویے کی
لکین پلیز آپ اس رویاں نہیں کریں
وہ اُن کے آنسو صاف کرتا بولتا اٹھ گیا
میں آتا ہوں ابھی
اپنے اندر اٹھتے غصے کو وہ قابو کرتا سیڑھیوں کے دو دو سٹیپ لیتا کمرے میں داخل ہوا
دھڑ کی آواز سے دروازہ کھولا تو وہ سامنے بیڈ پر لیٹی سو رہی تھی
وہ غصے سے لال ہوتا اُسکے قریب گیا اور اُسے جھنجھوڑ کر سیدھا کیا
منہا جو رو رو کر کچھ دیر پہلے ہی سوئی تھی کسی کے جھنجھوڑنے سے نیند سے جاگی
اور ہربڑا کر اُسے دیکھنے لگی
اُسے سامنے پاتے ہی سب یاد آتے اُسکی آنکھیں نم ہو گئی
حمزہ اُسکا نام پُکارا
لیکن اُسنے کب اسکو سنا
اُس کی تو آنکھوں پر جھوٹ کی پٹی بندھی تھی
