Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes Readelle 50364 Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 21) Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 21) Last Episode
Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes
وہ لڑکھڑاتے ہوے قدموں سے باہر آیا ۔۔
قریب بینچ پر بیٹھتا سر ہاتھوں میں تھام گیا”
سب میری وجہ سے ہوا ہے دادی ۔۔۔
میں ایسا نہی چاہتا تھا _”میں تو بس اُسے سمجھانا چاہتا تھا کہ اُس نے غلط کیا،،
لیکن یہ مجھ سے کیا ہو گیا،،،
وحشت زدہ سا بالوں کو مٹھیوں میں جکڑتے بولا
خوصلہ کرو میرے بچے سب ٹھیک ہو جائیگا
خدا اچھے لوگوں کے ساتھ کبھی برا نہی کرتا اور میری منہا تو دل کی اتنی اچھی ہے،،
آج بھی تمہاری ماں اور اُسکی سہیلیوں نے اُسے کیا کیا نہی سنایا
لیکن بچی خاموشی سے سب سنتی میرے پاس آتی بس روتی رہی
اتنی مشکل سے چپ کروا کر میں نے اُسے بیجھا تھا لیکن کیا پتہ تھا کے یہ سب ہونا ہے
وہ دادی کی بات سنتا مزید اذیت سے دوچار ہوتا سر جھکا گیا
دادی یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے ،،
لیکن میں ایسا نہی چاہتا تھا وہ نم آنکھوں سے اُنھیں دیکھتا بولا
اور پھر جھکے سر سے اُنھیں ساری بات بتاتا چلے گیا
حمزہ یہ کیا کر دیا تم نے بیٹا ،،
اُسے کتنا یقین تھا تم پر اور تم نے دادی ” دکھ سے بولتی خاموش ہو گئی
دادی آپ دعا کریں بس اُسکے لیے میں اُس کے بغیر نہی رہ سکتا
وہ میری رگوں میں خون بن کر دوڑتی ہے
میں کیسے اُسے تکلیف دے سکتا ہوں
اُسے ایسے لگ رہا تھا جیسے اُسکا دل دھڑکنا بند ہو جائے گا
سب ٹھیک ہو جائیگا تم منہا کے گھر والوں کو اطلاع کر دو اس وقت اُنکا یہاں ہونا ضروری ہے
کچھ ہی دیر میں سب ہاسپٹل میں موجود تھے ۔۔۔
منہا کی مما کا تو رو رو کر برا حال تھا
جبکہ ربیعہ بیگم بیٹے کی درگروں خالت دیکھ کر اپنے کیے پر پچهتا رہی تھی
لیکن اب کیا کر سکتی تھی
اسلیے خاموشی سے ایک طرف کرسی پر بیٹھ گئی
وہ مسلسل پریشانی سے کوریڈور کے چکر لگا رہا تھا
عجیب وسوسے اُسکے ذہن میں آ رہے تھے
حمزہ یہ دیکھیں کتنا پیارا ہے ناں
وہ خوشی سے نہال ہوتی بولی ۔۔۔۔
حمزہ اُسکی چہکتی آواز سنتا قریب آ گیا جو ہاتھوں میں چھوٹا سا پنک فروک پکڑے خوش ہو رہی تھی
سب سے پہلے ہم اُسے یہی پہنائے گے ۔۔اور پھر یہ وہ دوسرا ڈریس اٹھاتی بولی
جی میری جان آپ اُسکے ڈریس ہی بدلتی رہنا بس میرا پیارا بچہ،،
خوش “
حمزہ اُسکے گال پر لب رکھتا بولا تو وہ منھ بناتی بولی
تو ہاں نہ اتنے زیادہ تو ہیں میں اُسے سب ڈریس پہنا کر اُسکی پکس بناؤ گی ،،
آئی سی یو کے دروازے کے قریب کھڑے ہوتے گزرے لمحے اُسکی آنکھوں کے سامنے آ رہے تھے
اللہ مجھ پر رحم کر میرے مالک
میری بیوی اور بچی کی زندگی بحش دے میرے مولیٰ
آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کے دھاڑی میں جذب ہوا
ڈاکٹر نے ابھی تک کوئی تسلی بخش جواب نہی دیا تھا
سب کے لبوں پر بس اُسکی اور ننھی جان کی زندگی کے لیے دعا نکل رہی تھی
کچھ ہی دیر میں سسٹر کمبل میں لپٹا ننھا سا وجود لیے اُنکے قریب آئی سب اُسکی جانب لپکے
مبارک ہو سر بیٹی ہوئی ہے،،
اور آپکی وائف کی طبیعت بھی اب اسٹیبل ہے
سب اُسکے منھ سے یہ الفاظ سنتے پرسکون ہوتے
شکر ادا کرنے لگے
اُس ذات پاک کا جس نے انکی اولاد کی حفاظت کی
کچھ ہی دیر میں اُنھیں روم میں شفٹ کر دیا جائیگا
سسٹر نے ننھی سی جان کو اُسکی جانب بڑھایا وہ نم آنکھوں سے اُس ننھی گلابی گڑیا کو دیکھنے لگا اور کانپتے ہاتھوں سے محبت سے اُسے اپنی باہوں میں بھرا
اپنی اولاد کا پہلا لمس محسوس کرتے اُسکی آنکھیں بھیگ گئی ۔۔۔
وہ بلکل اپنی ماں کی کاپی لگ رہی تھی ۔۔۔
جھکتے اُسکے نرم نازک گلابی گال کو چوما
آنسو ٹوٹ کر گال پر بہا وہ اپنے خدا کا جتنا شکر ادا کرتا کم تھا ۔۔۔۔
سب اُسکے قریب آتے اُس چھوٹی سی جان کو دیکھنے لگے جو فلہال آنکھیں کھولنے کے موڈ میں نہی تھی
وہ سب کو بےبی میں گم دیکھ شکرانہ کے نفل ادا کرنے چلے گیا
__________________
ہاسپٹل میں قدم رکھتے ہی بس وہ یہی سوچ رہا تھا کے کیسے اُسکا سامنا کرے گا ۔۔۔۔
سوچیں اُسکا دماغ مفلوج کر رہی تھی
وہ اتنی تکلیف سہتے ہوئے اُسکی اولاد کو دنیا میں لای اور اُسنے کیا کیا اُسکے ساتھ
اُسکا مان یقین توڑ دیا ،،
کیسے نظریں ملاے گا وہ اب اُس سے
حقیقت جاننے کے بعد وہ خود سے نظریں ملانے کے قابل نہی رہا تھا
ہمیشہ اُسکی وجہ سے وہ معصوم تکلیف سہتی رہی تھی
پہلے زبردستی شادی کی پھر اُسکی اجازت کے بغیر زبردستی تعلق قائم کیا ۔۔۔۔
اور اب جب وہ اتنی مشکل سے نارمل زندگی کی طرف آئ تھی خوش رہنے لگی تھی
تو اُسنے کیا کر دیا
وہ شکستہ قدموں سے شکن زدہ سے صبح والے کپڑوں میں چلتا بینچ پر بیٹھ گیا
ربیعہ بیگم اُسکی خالت دیکھ کر ترپ گئی
اُسکے قریب آتی اُسکے ماتھے پر لب رکھتیں بولی
مجھے معاف کر دو میرے بچے۔۔۔
میں نے بہت غلط کیا وہ روتی ہوئی اُسکے آگے ہاتھ جوڑ گئی
مما یہ کیا کر رہی ہیں
پلیز میں آگے ہی بہت تکلیف میں ہوں
مجھے اور اذیت نہ دیں
وہ اُنکے ہاتھ تھامتے لبوں سے لگا گیا
میری جاں ۔۔۔۔میرا بچہ ۔۔۔سب میری وجہ سے ہوا ہے
میں نہ اُنکی باتوں میں آتی ۔۔۔
اور نہ یہ سب ہوتا
وہ روتی ہوئی بولی
اندر تمہاری بیوی بچہ تمہارا انتظار کر رہے ہیں اور تم یہاں بیٹھے ہو
اس وقت اُسے سب سے زیادہ تمہاری ضرورت ہے میرا بیٹا
ربیعہ بیگم اُسکا ہاتھ تھامتے بولی
وہ سرخ آنکھیں اٹھاتا انہیں دیکھتا کرب سے بولا
میں کیسے جاؤ اُسکے پاس میں نے بہت برا کر دیا
میری وجہ سے آج اُسے اتنی تکلیف برداشت کرنی پڑی
وہ کہتی رہی کے ایک بار میں اُسکی بات سںن لوں،،،
لیکن میں نے نہی سنی
وہ اذیت سے آنکھیں میچتا اپنے آنسو اندر اتارتا بولا
میں کیسے سامنا کرونگا اُسکا مما،،
میرے میں اُسکے سامنے جانے کی ہمت نہیں
وہ اُنکے سینے سے لگتا بولا
نہ میری جان ایسے نہی بولتے،،
وہ سب جانتی ہے ،،،
اس سب میں تمہارا کوئی قصور نہیں
اصل قصوروار تو میں ہوں
وہ اُسکا چہرہ ہاتھوں میں لیتی بولی
حمزہ میرا بیٹا یہ آپکی غلطی نہی ہے
اُس وقت خالات ہی ایسے تھے
اور ویسے بھی میں منہا کو سب بتا چکی ہوں کہ یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے
وہ تھوڑی سی ناراض ہوگی
تم اُسے راضی کرلو ۔۔۔اُسے اپنے ہونے کا یقین دلاؤں
اُس سے معافی مانگ لو
اُسکا دل بہت بڑا ہے وہ معاف کر دے گی
ابھی وہ کچھ اور بولتی کے منہا کی مما (کلسوم بیگم )
چلتی اُنکے قریب آئی
______________
اُس نے نیم بیہوشی میں ہلکی سی آنکھیں کھولی تو سب کو اپنے قریب پایا ۔۔۔۔
اُسکی نظر جس چہرے کو تلاش کر رہی تھی وہ کہی نہ تھا
وہ جانتی تھی وہ اُسکے سامنے کبھی نہی آے گا ۔۔۔
وہ اس سب کا قصور وار خود کو سمجھ رہا ہوگا
میری بچی میری جان تم ٹھیک ہو،،
منہا کو ہوش میں آتے دیکھ کلثوم بیگم اُسکے قریب آتے بولی
وہ انکے سہارے اٹھ کر بیٹھی ۔۔۔
جی مما میں بلکل ٹھیک ہوں
ربیعہ بیگم چھوٹی سی گلابی بچی کو اٹھائے اُسکے قریب آئی
اور ننھی سی جان کو اُسکی گود میں دیا
مبارک ہو میری جان بیٹی ہوئی ہے ۔۔
وہ اُسکا ما تھا چومتی بولی
بیٹی ۔۔۔۔
وہ اپنی گود میں موجود بچی کو نم آنکھوں سے دیکھنے لگی ۔۔۔
اُسکے گلابی نین نقش ہوبہو اُس پر تھے
وہ جھکتی اپنے لب اُسکے رخسار پر رکھ گئی
منہا ۔۔
۔ربیعہ بیگم اُسکے قریب بیٹھتی اُسکا نام پکاڑتی اُس کے قریب بیٹھ گئ
وہ جو بلکل بچی میں کھوئی ہوئی تھی اُنکی جانب متوجہ ہوئی ۔۔۔
منہا میں اپنے رویے کی معافی چاہتی ہوں وہ نادم سی نظریں جھکائے بولی ۔۔۔
نہی آنٹی اس سب کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔
میں جانتی ہوں آپ نے خود یہ سب نہی کیا ۔۔۔۔آپ سے کروایا گیا ہے
اور ویسے بھی جو گزر گیا اُسے بھول جائیں
میں سب بھول چکی ہوں ۔۔۔
آپ میری ماں کی جگہ ہیں اور ماں معافی مانگتی اچھی نہی لگتی وہ اُنکی نم آنکھیں دیکھتی بولی ۔۔۔
منہا پلیز میری غلطی کی سزا میرے بیٹے کو نہ دینا
وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے ۔۔۔۔
وہ تو میری وجہ سے بس غصے میں آ گیا تھا
ورنہ میرا بیٹا ایسا نہی ہے وہ اُسکے آگے ہاتھ جوڑنے لگی
میں جانتی ہوں اُس نے جان بوجھ کر ایسا نہی کیا ہوگا
آنٹی کیا ہو گیا ہے آپکو
میں جانتی ہوں سب ،،
پلیز اس طرح مجھے شرمندہ نہ کریں
خوش رہو میری بچی جیتی رہو
وہ مسکراتی اُسے دعائیں دینے لگی
————–
بیٹا آپکو منہا بلا رہی ہے آپ جاؤ اندر
وہ ایک نظر سب کو دیکھتا خود میں ہمت جمع کرتا اٹھا
اور دھیمے قدموں سے دروازے کے قریب رک گیا
آنکھیں میچتا وہ روم کا دروازہ کھول اندر داخل ہوا ۔۔۔سامنے سمیع اُسے گود میں لیے کھڑا تھا اور باقی سب اُس سے لینے کے لئے آگے پیچھے گھوم رہے تھے ۔۔۔۔
اور اُسکی رگ جان یہ منظر دیکھ مسکرا رہی تھی
لو بھائی آ گئے،،
اب بےبی صرف اپنے بابا کے پاس جائے گی تم لوگوں نے تو اُسے تنگ کر دیا ہے سمیع اُسکے قریب آتا حمزہ کو بےبی دیتے بولا
تو موسیٰ اور اریج کے چہرے پھول گئی
بھئی یہ کیا بات ہوئی کب سے میں اپنی باری کا انتظار کر ہی تھی
چلو ابھی دوبارہ آ کر اٹھا لینا ہماری ہی ہے یار
سب آہستہ آہستہ کمرے سے نکل گئے
وہ جو آنکھیں کھولے پٹر پٹر اپنے باپ کو دیکھ رہی تھی
حمزہ کی نظر اُسکے معصوم گلابی چہرے پر ٹھر سی گئی
جو ماں کی طرح تھی لیکن آنکھیں بلکل حمزہ کے جیسی تھی
اپنی گول موٹی موٹی گرے آنکھوں سے وہ اپنے باپ کو بڑے غور سے دیکھ رہی تھی
میں چاہتی ہوں میری بیٹی کی آنکھیں بلکل آپ جیسی ہوں ۔۔۔۔
اُسکے ذہن میں اُسکا بولا گیا جملہ گردش کیا
وہ جھکتا اُسکی آنکھوں پر اپنا لمس چھوڑ گیا
بچی بھی باپ کا لمس پاتے ہولے سے آنکھیں موند گئی
سارا پیار اب بیٹی کو ہی دے دیں گے
یاں میری لیے بھی کچھ رکھیں ہے منہا کی ناراض سی آواز اُسکے کانوں میں سنای دی
وہ چھوٹےقدم اٹھتا بےبی کو بےبی کورٹ میں ڈالتا اُسکے قریب بیٹھتا نظریں جھکائے دھیمے لہجے میں بولا
مجھے معاف کر دیں منہا
میں میں یہ نہی چاہتا تھا
معافی تو بہت چھوٹا لفظ ہے لیکن میں پھر بھی آپ سے معافی چاہتا ہوں
اپنے اب تک کے ہر اُس عمل کی جس سے آپکو تکلیف پہنچی
اُسکے لہجے میں گھلی نمی محصوس کرکے منہا ترپ کر اُسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام گئ
حمزہ یہاں دیکھیں میری طرف ۔۔۔
وہ اپنی سورخ ڈورو والی آنکھوں سے اُسے دیکھنے لگا
مجھے یہ نظریں کبھی جھکی ہوئی نہی چاہیے
نہ میرے سامنے اور نہ کسی اور کے
مجھے اپنا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والا شوہر پسند ہے
مجھے یہ نظریں جھکائے بولنے والا بندہ بلکل بھی نہی پسند
منہا میں بہت نادم ہوں ۔۔۔۔
مجھے جو مما نے بتایا میں نے اس پر یقین کر لیا
وہ لب بھينچتا بولا
میں ایسا نہی تھا چاہتا میں تو آپکو تکلیف دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا
پتہ نہیں کیسے !!
میں نہ چاہتے ہوے بھی آپکو تکلیف دینے کا سبب بنا
وہ بے بسی سے بولتا اُسکے ہاتھ نرمی سے تھامتے بولا
منہا اُسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ گئی
میں سب جانتی ہوں
آپکو مجھے کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں
میں جانتی ہوں کے آپ خود سے زیادہ مجھے چاہتے ہیں
جو شخص مجھے ایک کھروچ لگنے نہی دیتا وہ مجھے خود تکلیف کیسے دے سکتا ہے
مجھے خود سے زیادہ آپ پر یقین ہے
اب ایسے منھ لٹکا کے مت بیٹھیں
مجھے تو ہر وقت ہنستا مسکراتا میرے حمزہ سے محبت ہے
مجھے اُس شخص سے محبت ہے جس نے میری بے رخی،، ناراضگی کے باوجود میری تمام خواہشوں کا احترام کیا
وہ تھوڑا سا اُسکے قریب ہوتی اُسکے ماتھے پر اپنے لب رکھتی بولی
اور مجھے “
مجھے آپ سے پیار نہی محبت ہے،،
پیار تو ہر کسی سے ہو سکتا ہے۔۔۔
کسی کے لفظوں سے ،،، زرد پتوں سے
جنگلوں سی لمبی سڑک سے
کسی جھیل کنارے پرے پتھروں سے
مجھے محبت ہے آپ سے،،
محبت ہے کوئی ہر کسی سے نہی کرسکتا
محبت بس ایک سے ہوتی ہے اور ایک پر ختم
اور مجھے آپ سے بے پناہ محبت ہے،،
وہ اپنے اندر تک سکون اترتا محسوس کرتا اُسکی آنکھوں میں دیکھ اپنے گھمبیر لہجے میں بولا
کچھ لمحے ابھی سرکے ہی تھے کہ ایک باریک سی آواز اُسکے کانوں میں سنا ی دی
وہ مسکراتی ہوئی اپنی ننھی سی پری کو دیکھنے لگی
حمزہ اُسے کارٹ سے اٹھاتا اُسکے قریب لے آیا
دیکھ لیں یہ تو آتے ہی مجھ سے جلنے بھی لگی ہے
ہاہاہا حمزہ کا قہقہ گونج اٹھا
خدا کو مانیں بیگم میری چھوٹی سی جان پر اتنا برا الزام نہ لگائے ۔۔۔
وہ بےبی کو اُسکی گود میں ڈالتا بولا
حمزہ اسکی آنکھیں بلکل آپ جیسی ہیں نہ
وہ اُسکی آنکھوں کو انگلیوں کی پوروں سے چھوتی خوش ہوتی بولی
وہ اُسے دیکھنے لگا جو ماں کی کاربن کاپی تھی لیکن آنکھیں اُسنے حمزہ سے چورای تھی
وہ اُسے گود میں لیے ایک بار پھر سے اُسکی آنکھیں چُوم گیا ۔۔۔کبھی اُسکے ننھے ہاتھ چومتا
تھینک یو سو مچ منہا ۔۔۔
مجھے اتنا خوبصورت تحفہ دینے کے لئے
آگے جھکتا اُسکی پیشانی پر اپنے لب رکھ گیا ،،
اہمم اہم” کیا ہم اب اندر آ سکتے ہیں سمیع تھوڑا سا دروازہ کھولتا اندر جھانکتا بولا
وہ اب میری باری ہے بے بی کو اٹھانے کی پھر کوئی اور اٹھا لے گا
وہ اندر آتا حمزہ کی گود سے بےبی اٹھانے لگا ۔۔۔
نہی بھائی بلکل بھی نہی اس نے پہلے بھی اٹھایا تھا اب میں اٹھاؤں گی بےبی کو
اریج آگے ہوتی حمزہ کی گود سے ننھی پری کو لینے لگی
اندر آتے سب اُنھیں دیکھ کر مسکرا دیے ۔۔۔
منہا نام کیا رکھنا ہے ننھی شہزادی کا دادی اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔
اسکا نام اسکے بابا نے رکھ دیا ہوا ہے دادی جان وہ سبکو دیکھتی بولی
اچھا تو پھر ہمیں بھی تو بتائیے ہماری پری کا نام
موسیٰ مسکراتا ہوا بولا
حورب “”.
اسکا مطلب ؟؟
اریج اُسے دیکھتی بولی
جنّت کی حور،،
ماشا اللہ نام تو بہت خوبصورت ہے
سب کو نام بہت پسند آیا ۔۔۔۔
حمزہ سب کو آپس میں مصروف دیکھ اُسکے قریب ہی بیٹھ گیا ۔۔۔۔
الحمدللہ ۔۔۔۔۔ “بلیسڈ ٹو ہیو یو”
شکریہ میری زندگی اتنی حسین بنانے کے لئے ۔۔۔۔مجھے قبول کرنے کے لئے ۔۔۔۔۔
میرا خواب_ اے _دل” پورا کرنے کے لئے
منہا مسکراتی اُسکے کندھے پر سر رکھ گئی
دوسری طرف اب جنگ عظیم جاری ہو چکی تھی،،،،
بڑے چھوٹے سب ننھی حورب کے لیے کھڑے تھے ۔۔۔وہ دونوں سب کو دیکھ مسکرا دیے ۔۔۔۔
