970.6K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 15)

Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes

وہ کوریڈور سے گزر کر پارکینگ کی طرف جانے لگا جب پیچھے سے” رکیں پلیز” کی آواز سنتے ایک دم اُسکے قدم تھمے۔۔۔

“اریج ” اُسے رکتے دیکھ تیزی سے اُسکی جانب بڑھی ۔۔۔اُسکے قریب آتے وہ رک کر اپنا سانس بحال کرنے لگی ۔۔۔۔

“افف ایک تو آپ نے مجھے اپنا نام نہی بتایا میں کب سے رکیں رکیں بولی جا رہی ہوں۔۔۔۔

ہزار بندہ سن کر رک گیا لیکن آپ نے نہیں سنا “

وہ جنجھلاتی ہوئی بولی ….

اوہ آئم سوری مجھے جلدی تھی میں دھیان نہی دے پایا

مقابل خجالت سے اُسے دیکھتا بولا ۔۔۔

آپ بتائیںاسائمنٹ سبمٹ کروا دی؟ ۔۔۔سر نے دیکھی ۔۔۔کیسا رسپانس دیا ؟؟؟

۔۔۔۔پسند آئی اُنھیں ۔۔۔؟؟؟

موسیٰ نے سوالوں کی بوچھاڑ کردی

“اففف رک بھی جائیں آپ تو سٹارٹ ہی ہو گئے” ۔۔۔

اُسے سوالوں کے بھرمار کرتے دیکھ وہ بولی ۔۔۔

” جی میں نے پہلی ہی کلاس میں جمع کروا دی تھی ۔۔۔۔سر کو بہت پسند آئی ۔۔۔۔سر نے ساری کلاس کے سامنے مجھے ایپریشیٹ کیا “وہ مسکراتی ہوئی بولی

“اور اسکا سارا کریڈٹ آپکو جاتا ہے،۔۔۔

تھنک یو سو مچ “”

” اوہ میں پھر بھول گئی “وہ اپنے سر پر ہاتھ مارتی بولی

دراصل میں آپ سے پوچھنے آئی تھی کہ صبح آپکی فرسٹ کلاس فری ہے کیا؟؟؟

وہ ایکچوئلی مجھے کچھ ٹاپکس کلیئر کرنے ہیں ۔۔۔۔آپ مجھے سمجھا دیں گے “وہ اُسکی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھتی بولی ۔۔۔

“جی میں سمجھا دونگا کوئی مسئلہ نہی اور آپ یوں میرا بار بار شکریہ ادا کرکے مجھے شرمندہ نہ کریں پلیز” وہ اُسکی جانب دیکھتے بولا ۔۔۔

“اوکےاب نہیں بولتی” وہ مسکراتے ہوئے بولی

چلیں پھر صبح ملاقات ہوتی ہے ابھی مجھے زرا جلدی ہے ۔۔۔کہتے اُسنے قدم بڑھائے

“اوہو نام تو بتاتے جائیں اپنا کل پھر میں آپکو ڈھونڈتی پھروں گی “۔۔۔۔ وہ جھنجھلا کر بولی

وہ مسکراتا ہوا پلٹا ۔۔۔۔

” موسیٰ بٹ” اور آپکو ڈھونڈھنے کی ضرورت نہیں میں گراؤنڈ میں ہی بیٹھونگا آپ وہاں آ جائیے گا ۔۔۔ وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا

اوکے اور میں” اریج شاہ”

وہ بھی مسکراتی ہوئی اُسے دیکھتی بولی اور الوداعی کلمات ادا کرتے اسکو دور جاتے ہوئے دیکھنے لگی

“”موسیٰ”” ۔۔۔۔۔

اُسکا نام زیر لب لیتے وہ سمیع کو کال کرنے لگی ۔۔۔۔

_____________________________

وہ نیچے لاؤنج میں بیٹھی اریج کی جانب متوجہ تھی جو اُسے یونی ورسٹی کی باتیں سنا رہی تھی ۔۔۔۔دادو بھی وہیں بیٹھی اُسکی باتیں سنتی مسکرا رہی تھیں

حمزہ اُسکی طبیعت خرابی کا دادو کو بتاتا مطمئن کر چکا تھا

اسلیے اُس سے کسی نے بھی کوئی سوال نہیں کیا ۔۔۔

سمیع جو قریب بیٹھا تھا اچانک اپنے دل پر ہاتھ رکھتا بولا ۔۔۔

بھابھی میری پیاری بھابھی ۔۔۔!!!

کیا کام ہے!!!

زیادہ مسکے لگانے کی ضروری نہیں

کام بتاؤ ؟؟ وہ اس کی طرف دیکھتے مسکراتے ہوئے بولی

بھابھی میں سوچ رہا تھا کث آپ اکیلی ہوتی ہیں سارا دن بور ہو جاتی ہیں ۔۔۔۔

اسلیے اگر آپ دو ہو جائیں تو آپکی بوریت ختم ہو جائے گی ۔۔۔۔۔ وہ اس کے نزدیک بیٹھتا ہوا بولا

دو ۔۔مطلب؟؟؟

منہا اُسکی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھتی بولی۔۔

“میری معصوم بھابھی یہ بہت تیز ہے ۔۔۔۔ اریج اُسکی جانب دیکھتی بولی ۔۔۔۔؟ یہ اپنی شادی کے مطلق بات کر رہا ہے آپ سے “۔۔۔۔

کیوں ایسی ہی بات ہے نہ سمیع؟؟…اریج اُسے دیکھتی بولی ….

تو وہ شرمانے کی ایکٹنگ کرتے چہرہ جھکا گیا ۔۔۔۔اُس کو یوں شرماتے دیکھ منہا کا قہقہ گونجھا ۔۔۔

“بیٹا جی یہ تو ابھی بھول ہی جاؤ کہ ایسا کچھ ہوگا۔ابھی خاموشی سے پڑھائی مکمل کرو اور اپنے بھائی کا ساتھ دو کاروبار میں پھر کچھ سوچیں گے “

دادی اُسکا کان پکڑتی ہوئے بولیں

“آہ دادی جان سب کچھ ساتھ ساتھ ہوتا رہے گا “وہ اپنا کان مسلتا بولا ۔۔۔

اور ویسے بھی میں تو بھابھی کا ہی احساس کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

“تم میرا احساس تو رہنے ہی دو ۔۔۔میں بلکل بھی بور نہیں ہوتی آپ سب ہیں نہ میرے پاس “منہا ٹیبل پر پڑی پلیٹ سے چپس اٹھاتی بولی ۔۔۔۔

” بھابھی آپ اسے چھوڑیں میری بات سنیں

کل بھی آپ اتنی جلدی سو گئیں تھی میری بات ہی نہیں سنی اور اب بھی اسکی طرف ہو گئی ہیں” ۔۔۔۔

اریج منھ پھولتے بولی۔۔۔

‘جی میری جان تم بولو میں سن رہی ہوں” منہا اُسکا پھولا ہوا چہرہ دیکھتی بولی۔۔۔

” اچھا میں یہ بتا رہی تھی کہ اُسکے دیے گئے ٹاپکس کی وجہ سے سر نے میری پوری کلاس کے سامنے تعریف کی۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تو اکاؤنٹنگ کے سر پیر کا پتہ ہی نہیں چلتا ۔۔۔۔

سچی یار میرے لیے تو وہ فرشتہ ہی ظاہر ہوا “۔۔۔۔

اُسکی بات سنتی منہا کو اپنا بھائی یاد آ گیا

وہ اکثر کہتا تھا کہ آپی تم مجھے کچھ سمجھتی نہیں ہو اور پوری کلاس میرے آگے پیچھے گھومتی ہے۔۔۔۔

اسکو بھی تو اکاؤنٹنگ بہت پسند تھی اُسکا فیورٹ سبجیکٹ تھا ۔۔۔۔۔

اُسے سوچتے ایک دم سے اُسکی آنکھیں بھیگ گئیں

“اور نہ میں نے آج آتے ہوےث اُسکا نام بھی پوچھ لیا ۔۔۔۔

کیوں کہ کچھ میرے ٹاپکس جو کلیئر نہی ہوئے تھے کل وہ بھی اُس سے سمجھ لونگی ۔۔۔

اُسکے سمجھانے کا انداز بہت اچھا ہے” ۔۔۔۔ اریج مزید اسکے بارے میں بتاتے ہوئے بولی

منہا کو نام جاننے میں اشتیاق ہوا۔۔۔ایک مبہم سی اُمید تھی شاید وہ اُسکا بھائی ہوتا ۔۔اسلیے پوچھ بیٹھی

” کیا نام ہے اُسکا؟؟؟؟”

———————————–

اسلام علیکم”۔۔۔۔سلام کرتے حمزہ دادی کے آگے جھکتے اُن سے پیار لیتے سب کے ساتھ آ بیٹھا ۔۔۔

منہا جو اریج کی بات سن رہی تھی سلام کا جواب دیتی پھر سے اُسکی جانب متوجہ ہوئی ۔۔۔

کیوں میری بیوی کو گھیرے بیٹھے ہو دونوں؟؟

منہا کو انکے درمیان بیٹھے اتنی توجہ سے انکی باتیں سنتا دیکھ حمزہ رہ نہ سکا اور بول اٹھا۔۔۔۔۔

آپ کو تنگ تو نہی کر رہے یہ دونوں؟؟

منہا کی جانب دیکھتے اُس نے نرمی سے استفسار کیا

نن، نہیں!!! ۔۔۔۔سب کی نظروں سے خائف ہوتی وہ جلدی سے بولی ۔۔۔۔

اریج اور سمیع اُسے شکایتی نظروں سے دیکھنے لگے ۔۔

۔اور ایک دوسرے کو آنکھوں میں اشارے کنارے کرنے لگے ۔۔۔۔

منہا انکی حرکات دیکھ جلدی سے اٹھتی بولی “میں پانی لے کر آتی ہوں آپ کے لیے” ۔۔۔

نہیں رہنے دیں آپ بیٹھی رہیں ۔۔۔

میں چینج کر کے آتا ہوں آپ لوگ بیٹھیں۔۔۔

اُسکے جانے کے بعد سمیع اور اریج اُسے ہی دیکھ رہے تھے جو اُنگلیاں مروڑتی ارد گرد دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

اُنکی جانب دیکھتے تنگ آتی وہ بولی۔۔۔۔

” کیا ہے ۔۔۔۔کیوں مجھے اس طرح دیکھ رہے ہو دونوں؟؟”

“ایک بات بتائیں اتنا ہم نے آپکو تنگ نہی کیا جتنا آپ

نے بھائی کو ہمارے پیچھے لگوا دیا ہے”

سمیع نے تپتےہوئے کہا ۔۔۔

‘می،،میں نے انکو کچھ نہیں بولا وہ بس خود ہی

اچھا چھوڑو بھی یہ بات اریج تم مجھے نام بتا رہی تھی اُسکا” ۔۔۔

اریج سر اثبات میں ہلاتی بولنے لگی

مم،،،اس سے پہلے کے وہ نام لیتی ۔۔۔۔

سمیع کی آواز آئی ۔۔۔۔۔

“یہاں میں اتنی اہم بات کر رہا ہوں بھابھی میری زندگی کا فیصلہ ہو رہا ہے اور آپکو نام جاننے کی پڑی ہے” ۔۔۔۔

و ہ اونچی آواز سے دہائی دیتا بولا۔۔۔

منہا کو اُسے ایسے عورتوں کی طرح بولتے دیکھ ہنسی آئی ۔۔۔۔

_ اچھا نہی پوچھ رہی کچھ ۔۔۔۔۔تم بتاؤ کیا بات ہے اب؟” ۔۔۔

وہ اُسکی طرف گھوم کر سوال کرنے لگی

“زیادہ کچھ نہی بس اپنے شوہر نامدار کو بول کر کہیں ٹانکا فٹ کروا دیں میرا بھی ۔۔۔۔

میرا بھی کوئی جانو، ۔۔۔۔شونا ہو ،،۔۔۔۔

میں اُس سے دل کے دکھ درد شیئر کر سکوں”۔۔۔

“کون سے دکھ درد ہیں تمہارے زرا مجھے بھی تو بتاؤ ۔۔۔۔۔

حمزہ نیچے کی جانب آتا اُسکی بات سن چکا تھا ۔۔۔۔اسلیے اُنکے قریب آتا بولا ۔۔۔۔

سمیع ہڑبڑا کر سیدھا ہوا ۔۔۔۔

“نہیں۔۔۔ کوئی بھی،، کچھ بھی نہیں ہم تو بس ویسے ہی بات کر رہے تھے” وہ گھبراتے ہوئے بولا

” نہی سمیع بتا دو اگر کوئی بات ہے تو “منہا شرارتی نگاہوں سے اسے دیکھتے بولی ۔۔۔۔

” بھابھی اللہ کا واسطہ بچا لو ۔۔۔۔آپ جو بولیں گی وہ کرونگا “وہ آگے جھکتا منہا کے کان کے قریب بڑبڑایا ۔۔۔

چاٹ لا کر دو گے ؟؟

منہا ابرو اچکاتی اُسے دیکھتے پوچھنے لگی۔۔۔

” ہاں ہاں سب لا دونگا ۔۔۔اللہ کی بندی”

وہ چہرے پر معصومیت طاری کرتا بولا

“ٹھیک ہے پھر ڈن”

“وہ تو ویسے ہی کوئی یونی ورسٹی کی بات سنارہا تھا ۔۔۔چلیں آ جائیں سب ڈنر کرلیں”۔۔۔۔

سمیع کی رکی سانسیں بحال ہوئی تھیں

منہا سب کو دیکھتی بولی اور کچن میں ملازمہ کو کھانا لگانے کا بولنے چلے گی ۔۔۔۔

___________________________

حمزہ فون کان سے لگائے ٹیرس پر کھڑے ہوئے کسی سے بات کر رہا تھا۔۔

منہا اُسے ایک نظر دیکھ بیڈ پر نیم دراز ہو گئی۔۔۔

نیند تو اُسے بہت آ رہی تھی لیکن کچھ دیر ایسے ہی لیٹی حمزہ کا انتظار کرتی رہی ۔۔۔

لیکن جب وہ نہیں آیا تو کروٹ بدل کر سو گئی ۔۔۔

حمزہ نے اپنے خاص بندے کو کہہ کر فہد کو اٹھوایا تھا

اس وقت وہ اُسی سے بات کر رہا تھا

“جی سر آپ کا کام ہو گیا ہے ۔۔۔۔

اسکی تو ہم نے ایسی خدمت کی ہے کہ دوبارہ کبھی آپ کی جانب دیکھنے کا بھی نہیں سوچے گا “۔۔۔

دوسری جانب سے آدمی بولا۔۔۔

“بات کرواو میری اس سے” وہ سنجیدگی سے بولا

اُن لوگوں نے اُسکی اچھی دُرگت بنائی تھی کہ اب تو اُسکی آواز بھی نہیں نکل رہی تھی ۔۔۔

“پلیز !!انہیں بولو مجھے چھوڑ دیں ۔۔۔میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا “۔۔۔۔

فہد تکلیف سے دوہرا ہوتا بولا۔۔۔

حمزہ کو اُسکے کہے گئے الفاظ ایک بار پھر سے طیش دلا گئے ۔۔۔۔۔

” جان تو تم گئے ہوگے کہ تمہیں کس چیز کی

سزا ملی ہے ۔۔۔۔۔

اور اگر نہی جانے تو میں یاد کروا دیتا ہوں ۔۔

یہ سزا تمہیں میری بیوی کو تکلیف دینے کی وجہ سے ملی ہے “۔۔۔۔حمزہ سرسراتےلہجے میں بولا

آ تو میں خود جاتا ۔۔۔لیکن بات ایسا ہے کہ میرے پاس اتنے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے وقت نہیں اسلیے میرے بندے کو بیھجا ۔۔۔۔

اُمید ہے اُس نے تمہیں بہت اچھے سے سمجھایا ہوگا

اور سمجھ تو تم گئے ہوگے۔۔۔

یاد رکھنا اب دوبارہ کبھی میرے گھر کی طرف آنکھ اٹھانے کی کوشش کی تو جان سے جاؤ گے “۔۔۔۔۔

حمزہ غصہ سے غرایا ۔۔۔۔۔

” دل تو میرا یہی کر رہا تھا کہ تمہاری زبان کاٹ دوں جس سے تم نے میری بیوی کو تکلیف دی ۔۔۔۔

اور تمہاری ٹانگیں توڑ کر رکھ دوں ۔۔۔جن پر چل کر تم میرے گھر آئے ۔۔۔

لیکن رحم آ گیا کہ تمہاری اس حالت کو دیکھ کر تمہارے ماں باپ کا کیا ہوگا ؟؟

چّ،،، چچ۔۔۔۔۔

کیسے سنبھالیں گے تمہیں۔۔۔

اسلیے کوشش کرنا کہ اب کبھی میرے سامنے نہ آؤ ورنہ میں اپنا ارادہ بدل سکتا ہوں” ۔۔۔۔

سرد لہجے میں کہتے اُسنے فون بند کردیا

ٹیرس کا دروازہ بند کرتا وہ روم میں آیا تو وہ سو چکی تھی۔۔۔

وہ لائٹ آف کرتا اُسکے قریب آتا اُس کے ماتھے پر لب رکھتا

پرسکون ہوتا اُسکی گردن میں چہرہ چھپا کر سو گیا ۔۔۔۔

سارا اشتعال ۔۔۔ ساراغصہ کہیں دور جا سویا۔۔۔۔