Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes Readelle 50364 Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 8)
No Download Link
Rate this Novel
Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 8)
Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes
دن ایسے ہی بے معمول کے مطابق گزرنے لگے ۔۔۔۔ انکی شادی کو مہینہ ہونے والا تھا ۔۔۔لیکن منہا کے رویے میں فرق نہیں آیا ۔۔۔ویسے تو وہ سبکے ساتھ خوش رہتی تھی ۔۔۔۔۔کھلکھلاتی تھی ۔۔لیکن جیسے ہی حمزہ کو دیکھتی سنجیدہ
ہو جاتی ۔۔۔۔رات کو دیر سے کمرے میں جاتی ۔۔حمزہ نے بہت کوشش کی اسکو اسکے خول سے نکالنے کی ۔۔لیکن وہ خاموش رہی ۔۔۔حمزہ بہت کوشش کرتا اسکو بلانے کی اسکے ساتھ زیادہ وقت گزارتا۔۔۔لیکن وہ کوئی خاص جواب نہیں دیتی۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر میں سب سے اُسکا رویہ اچھا تھا ۔۔۔سب سے زیادہ وہ دادی جان کے ساتھ وقت گزارتی
اریج کے ساتھ اُسکی اچھی دوستی ہو چکی تھی۔۔۔ربیعہ بیگم کا کچھ وقت اپنے گھر سے باہر دوستوں کے ساتھ انکے وومن کلب میں گزرتا ۔۔۔کچھ اُنکا رویہ منہا کے ساتھ پچھلے کچھ دنوں سے کھینچا کھینچا سا تھا وہ منہا سے کچھ خاص بات نہیں کر رہی تھیں ۔۔۔
لیکن وہ اپنا وہم سمجھ کر ٹال گئی
منہا کے آنے سے گھر میں جو سب سے اچھی تبدیلی آئی تھی وہ یہ تھی کہ سب باقاعدگی سے نماز پرھنے لگے تھے۔۔۔۔۔دادی اس سب سے بہت خوش تھیں کیوں کہ وہ تو بارہا سبکو نماز پڑھنے کی تلقین کرتیں لیکن پھر سب اچھا کہہ کر اپنے کاموں میں لگ جاتے۔۔
حمزہ کو آواز دے کر وہ سب کو صبح نماز کے لیے اٹھانے انکے کمروں میں جاتی شروع میں تو اریج اور سمیع نے اٹھتے ہوئے بہت تنگ کیا لیکن اب انہیں بھی عادت ہو چکی تھی ۔۔۔اور پھر کچھ دیر دادی کے پاس بیٹھ کر قرآن پاک کی تلاوت کرکے اپنے کمرے میں جاتی تاکہ حمزہ سو چکا ہو حمزہ کو نماز کے لیے آواز دیتے ہی وہ جلدی سے روم سے نکل جاتی
لیکن حمزہ اس بات پہ ہی شکر گزار تھا کے آخر وہ اُسے اٹھاتی تو ہے۔۔۔
اور کسی نے تو نہیں لیکن دادی نے اُسکا کھینچا کھینچا سا رویہ حمزہ کے ساتھ نوٹ کیا تھا ۔۔۔۔
______________________________
آج بھی وہ ابھی تک روم میں نہی گئی تھی ۔۔۔گھڑی رات کے ۱۱ بجا رہی تھی ۔۔۔دادی نے اُسے اپنے کمرے میں بلایا ۔۔۔۔منہا بیٹا اگر میں آپ سے کچھ بولوں تو آپ برا تو نہی مانو گی
دادی جان کیسی بات کر رہی ہیں آپ بڑی ہیں حکم کریں۔۔۔۔۔۔
بیٹا آپ حمزہ سے ناراض ہو؟…وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولیں۔۔۔
“نہیں دادی جان ایسی بات نہیں ہے” اس نے انکی بات پر پہلو بدلتے کہا ۔۔۔۔
بیٹا میں جانتی ہوں کہ آپکو برا لگا جس طرح سے اسنے شادی کی ۔۔۔آپکے ساتھ زبردستی کی ۔۔۔۔لیکن بیٹا وہ آپ سے بہت محبت کرتا ہے ۔۔۔۔یہ مت سمجھنا کہ میں اسکی سائڈ لے رہی ہوں ۔۔۔۔مجھے پتہ ہے اسنے غلط کیا ہے ۔۔۔اُسے ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔۔۔
لیکن بیٹا آپ مجھے یہ بتاؤ اگر وہ جھوٹا ہوتا تو آپکے گھر رشتہ لانے کا نہ کہتا ۔۔۔۔لیکن آپ نے کیا کیا ۔۔آپ نے اسکے سچے جذبات کو جھوٹ کہہ کر ٹال دیا ۔۔۔۔اور اسکو مجبور کیا کہ وہ آپکے ساتھ زبردستی کرے۔۔۔۔
دیکھو میرا بچہ ۔۔۔۔حمزہ بہت اچھا ہے ۔۔۔۔اسکی ذات شروع سے ہی بہت ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہی ہے ۔۔۔۔پہلے وہ عمر کا اتنا عرصہ باہر پڑھائی میں گزار آیا ۔۔۔اور جب واپس آیا تو اسکے بابا کا انتقال ہو گیا ۔۔۔
وہ اپنے بابا کے ساتھ بہت اٹیچڈ تھا لیکن اُنکا غم اس نے اپنے اندر ہی رکھا ۔۔۔کبھی کسی کو کچھ نہ کہتا ۔۔۔اسنے اپنی تمام ذمہداریاں بخوبی نبھائیں ہیں ۔۔کبھی کسی کو کچھ نہ کہا صرف اسلیے کہ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ کمزور پڑا تو ہمیں کون سمبھالے گا ۔۔۔۔
پہلی دفعہ اسنے ہم سے کچھ مانگا ہم لوگ انکار نہ کر سکے ۔۔۔میں ایک دفعہ پھر اس کو ٹوٹتا ہوا نہی دیکھ سکتی تھی ۔۔۔میرا حمزہ تم سے بہت محبت کرتا ہے بیٹا ۔۔۔اسکو سمیٹ لو۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ بکھر جائے ۔۔۔۔میں جانتی ہوں وہ تمہیں کچھ کہتا نہیں لیکن محسوس بہت کرتا ہے جب تم اُس سے دُور بھاگتی ہو ۔۔۔لیکن وہ کبھی تم سے شکایت نہیں کرے گا ۔۔۔۔ہو سکے تو اسکو سمجھو ۔۔۔۔ایک دفعہ سب بھلا کر اسکے ساتھ آگے بڑھو۔۔۔وہ تمہیں شکایت کا موقع نہیں دے گا ۔۔۔ اُنہوں نے نم آنکھوں سے منہا کو دیکھتے کہا ۔۔۔۔۔”آج کل محبت کرنے والے لوگ بہت کم نصیب ہوتے ہیں اور ویسے بھی آپ تو علم رکھتی ہو بہت سمجھدار ہو “ماشاءاللہ” ۔۔۔۔
آپ تو جانتی ہو کہ خدا کی مرضی کے بغیر ایک پتہ نہیں ہل سکتا ۔۔۔۔۔تو یہ بھی تو خدا کی ہی مرضی تھی ۔۔۔اُسنے حمزہ کو آپ کے نصیب میں لکھا تھا بس ملنا کچھ اس طرح لکھا تھا “۔۔۔۔
منہا خاموشی سے نظریں جھکائے انہیں سن رہی تھی ۔۔
انکی بات مکمل ہوتے سر اٹھا کر انکی طرف دیکھتی بولی
“تو آپ بتائیں اس سب میں میرا کیا قصور تھا ۔۔۔میں کیوں پسی گئی اس سب کے درمیان ۔۔۔۔شادی سے ایک مہینہ پہلے مجھے انکار کرنے کے لیے فورس کیا گیا یہ کہہ کر جی کہہ کر کہ “مجھے تم سےمحبت ہے” ۔۔۔ محبت یہ تو نہیں ہوتی کہ جس سے محبت ہو اُسے یوں ذلیل کرو ۔۔۔۔میرے گھر والے میری شکل نہیں دیکھنا چاہتے ۔۔۔۔میرے بابا جنکا مجھے دیکھے بغیر گزارا نہیں ہوتا تھا وہ مہینہ ہو گیا مجھ سے منھ موڑے ہوئے ہیں۔۔۔۔
میرا بھائی میرے بابا کے ڈر سے مجھے چوری چوری کال کرتا ہے
خدا نے یہ سب نہیں کیا ۔۔۔آپکے پوتے نے کیا ہے ۔۔مجھے سب کی نظروں میں گرا دیا ۔۔۔مجھے ذلیل کر دیا ۔۔۔۔آج سب کی نظروں میں میرے لیے سوال ہے ۔۔۔۔۔میرے گھر والے پتہ نہیں کس کس کو جواب دیتے ہونگے ؟”
وہ آنسو سے تر چہرے سے انہیں دیکھتی بول رہی تھی
“آپ خدا پر سب نہ ڈالیں ۔۔۔۔خدا نے نہیں کہا تھا کہ مجھے یوں شادی سے کچھ دن پہلے ذلیل کرنے کو
جو لوگ محبت کرتے ہیں وہ تو اپنی محبت کو خوش دیکھنے کے لیے کچھ بھی کر جاتے ہیں لیکن اس نے کیا کیا زبردستی کی میرے ساتھ
معافی چاہتی ہوں دادی جان لیکن میں اتنا سب کچھ بھلا کر کبھی حمزہ کے ساتھ نہیں گزارہ کر سکتی ۔۔
“اُن کے ساتھ رہنا میری مجبوری ہے کیوں کہ میں اپنے ماں باپ کو ایک اور بار تکلیف نہیں دینا چاہتی اور میں خدا کی گنہگار نہیں ہونا چاہتی ۔۔۔لیکن میں سب کچھ بھلا بھی نہیں سکتی ۔۔۔۔۔میں صرف اس رشتے کو مجبوری کے تحت نبھا رہی ہوں اور نبھاؤں گی ۔۔۔۔۔جس شخص کی وجہ سے میری ذات پر نشانہ لیا گیا جسکی وجہ سے مجھے اپنے ماں باپ کی بے رخی دیکھنے کو ملی
میں کیسے اُسکے ساتھ سب کچھ بھلا کر زندگی گزار سکتی ہوں” ۔۔۔ وہ اتنے دن سے اپنے اندر پکتا غبار نکال گئی۔۔۔
دادی نے پیار سے اُسکے چہرے پر ہاتھ پھیرا
” میرا بچہ میں جانتی ہوں سب کچھ بھولانا آسان نہیں لیکن بس ایک موقع اُسے دے کر دیکھو ۔۔۔اور انشاء اللہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔حمزہ سب ٹھیک کر دے گا تمہارے گھر والے راضی ہو جائینگے میں خود بات کرونگی اُن سے ۔۔۔۔لیکن اس طرح اس سے دور رہ کر اُسے اتنی بڑی سزا نا دو ۔۔۔۔تم جانتی ہو نہ شوہر کا مقام ۔۔۔۔۔اور کچھ نہ سہی ایک دفعہ اپنے اللہ پر یقین رکھ کر اُسے ایک موقع دو ۔۔۔۔تھوڑی دیر اُسکے ساتھ گزارو۔۔۔۔۔۔شوہر کی ناراضگی سے تو اللہ بھی ناراض ہوتا ہے ۔۔۔
کیا تم اللہ کو ناراض کرنا چاہتی ہو ؟؟”انہوں نے سوالیہ نگاہوں سے اُسکی طرف دیکھا ۔۔۔
منہا نفی میں سر ہلا گئی ۔۔۔۔۔
“تو میرا بچہ اس طرح سے اس سے دور نہ رہو اُسکو وقت دو ۔۔۔اُسکے ساتھ بات کرو ۔۔۔۔اللہ خود تمہارے دل کو اُسکے لیے نرم کر دے گا ۔۔۔۔میری جان میری بات مانو گی نا” انہوں نے بڑی محبت سے اُسے دیکھتے پوچھا ۔۔۔۔
وہ سر ہاں میں ہلاتی انکے ساتھ لگ کر رونے لگی ۔۔۔۔۔۔
“بس میرا بچہ خاموش ہو جاؤ ۔۔۔اللہ بہت بہتر کرے گا میری بیٹی تو بہت سمجھدار ہے ۔۔۔۔اس طرح نہیں روتے ۔۔۔جاؤ شاباش اب اپنے کمرے میں جاؤ وہ تمہارا انتظار کر رہا ہوگا ۔۔۔۔بہت وقت ہو گیا “۔۔۔۔ وہ اسکے سر پر بوسہ دیتے ہوئے بولیں
__________________________
اُسنے کمرے میں قدم رکھا تو اندھیرے نے اُسکا اسقبال کیا ۔۔۔ وہ بیڈ پر خاموشی سے آڑا ترچھا لیٹا ہوا تھا منہا اندازہ نہ لگا سکی کہ وہ اٹھا ہوا ہے کے سو رہا ہے؟؟؟
وہ خاموشی سے چلتی ہوئی وہ اپنی طرف آئی اور ایک طرف لیٹ کر کمفرٹر اوڑھا اور سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔
نیند میں اُسے خود پر کچھ بوجھ محسوس ہوا آنکھ کھلی تو دیکھا حمزہ کا بازو اُسکے پیٹ پر پڑا تھا ۔۔۔۔ایک پل کے لیے اس پر جی جان سے غصہ آیا کہ اچھی بھلی نیند خراب کردی پر پھر خاموشی سے اُسکا ہاتھ تھامتی دور کرنے لگی لیکن اُسکا ہاتھ پکڑتے ہی اُسے ایسا لگا جیسے اُسنے کوئی گرم چیز پکڑ لی ہو ۔۔۔۔ایک دم سے اٹھ کر بیٹھتی اُسکا ہاتھ آرام سے پیچھے کرتی اُس پر جھک کر اسکی پیشانی پر اپنا ہاتھ رکھا
ہاتھ رکھتے ہی اُسے بخار کی حدت محسوس ہوئی ۔۔۔اُسکے چہرے کی طرف دیکھا جو نائٹ بلب کی روشنی میں بھی سرخ اور بے چین لگ رہا تھا۔۔۔۔۔اسی وجہ سے شاید وہ آتے ہی سو گیا تھا اور اب بخار تیز ہو گیا ۔۔۔۔
ایک پل کو دل کیا کہ اُسے ایسے ہی تکلیف میں چھوڑ کر سو جائے وہ کیوں خیال کرے اُسکا اس نے کیا تھا خیال ۔۔۔۔۔لیکن دوسرے پل ہی دل نے ملامت کی کہ منہا تم تو ایسی نہی ہو ۔۔۔کیوں خدا کی ناراضگی اٹھانی ؟؟
اٹھ کر لائٹ آن کرتی پاؤں میں جوتا اڑستی دروازہ کھول کر وہ کمرے سے نکلی ۔۔۔کچن کا رخ کیا ۔۔۔۔۔دودھ گرم کرکے گلاس میں ڈالا اور انڈے ابال کر چھیل کر پلیٹ میں رکھے۔۔۔۔ٹرے میں سب رکھتے پین کلر کیبن سے نکالی اور اپنے کمرے کی جانب چل دی۔۔۔۔۔
کمرے میں آتے ہی ٹیبل پر ٹرے رکھی اور بیڈ پر اُسکے نزدیک جا کر اُسے شانوں سے تھام کر ہلایا
حمزہ جو نیند میں بھی بے چین تھا اور اُسکا انتظار کرتا کرتا سو گیا تھا اس نے اپنی سرخ ڈورں والی آنکھیں کھولیں ایک پل کو منہا کو اسکی حالت پر رحم آیا پتہ نہیں کتنی دیر تک وہ اسکا انتظار کرتا رہا ہوگا دل میں سوچتی وہ اُسے دیکھتی ہوۓ بولی
” اٹھ کر بیٹھیں کچھ کها لیں پھر پین کلر لے لیجیے گا کہیں بخار اور تیز نہ ہو جائے” کہتی وہ ٹیبل سے ٹرے لے کر اُسکے سامنے آئی۔۔۔۔
حمزہ تو حیرت سے اُسے دیکھ رہا تھا کہ آج وہ اتنی مہربان کیسے ہو گئی۔۔۔۔۔وہ تو اُسے بلانا بھی گوارہ نہیں کرتی تو اُسے کیسے پتہ چلا اُسے بخار ہے ؟؟
جب وہ آفیس سے آیا تو سر درد سے پھٹ رہا تھا چائے پی کر کافی وقت اُسکا انتظار کرتا رہا لیکن وہ نہی آئی اور پھر پتہ نہی کب اسکی آنکھ لگ گئی اُسے پتہ نہیں چلا۔۔۔
وہ اٹھ کر بیٹھا تو منہا نے ٹرے اُسکے پاس کی اور کھانے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔۔
“میں دودھ نہیں پیوں گا بس ایگ لے لیتا ہوں “وہ بولتا پلیٹ سے ایک انڈہ اٹھا گیا
“نہیں بلکل نہی دودھ بھی ساتھ ہی پینا ہے یوں خالی پیٹ میڈیسن نہیں لینی “کہتے ساتھ وہ دودھ کا گلاس اُسکے ہاتھ میں تھما گئی ۔۔۔۔۔حمزہ اُسے دیکھتا گلاس منھ سے لگا گیا تھوڑا سا پی کر واپس رکھتے بس کہتا وہ ٹرے کو دور کر گیا۔۔۔۔
نہیں جی کوئی بس نہیں ہاتھ آگے کریں اُسکے ہاتھ میں پین کلر رکھتے گلاس اٹھا کر اُسے تھمایا جلدی سے یہ لیں اور گلاس اس کے منھ سے لگایا ۔۔۔۔۔حمزہ کڑوا سا منھ بناتا بولا
“میں دودھ نہی پیتا “
“یہ کیا بات ہوئی پینا چاہیے اچھا ہوتا ہے صحت کے لیے” وہ کہتی اُس سے خالی گلاس پکڑتے واپس ٹرے میں رکھتے ٹیبل پر رکھنے اٹھی ۔۔۔
حمزہ کو یوں اسکو اپنا خیال کرتا دیکھ دل میں بہت خوشی ہوئی کہ شکر وہ کچھ تو بولی بیشک اسکی طبیعت کے ہی بہانے سے ہی
چلیں اب لیٹ جائیں انشاء اللہ آرام آ جائیگا جلد ہی۔۔۔۔ درد تو نہیں ہو رہا کہیں ؟؟؟ وہ بیڈ پر بیٹھتی اسکی طرف دیکھتی ہوۓ بولی۔۔۔
“سر میں بہت درد ہے “حمزہ ایک ہاتھ سے سر دباتا بولا۔۔۔۔
منہا نے اٹھ کر لائٹ بند کی اور اسکے تھوڑا نزدیک بیٹھ کر اُسکا سر دبانے لگی
حمزہ کو اُسکے نرم ہاتھوں کا لمس اندر تک سکون دے گیا ۔۔۔۔وہ اسکے نزدیک ہوتا اسکی گود میں سر رکھ گیا ۔۔۔منہا جھجکتی ہوئی دور ہونے لگی تو اُسنے اُسکا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ اپنے ماتھے پر رکھا ۔۔۔
“ویسے سر دبانے میں آپ کو پرابلم ہورہی ہوگی اسلیے میں خود ہی نزدیک آ گیا” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ بولتا اپنی آنکھیں موند گیا
منہا کا دل اسکے اتنے نزدیک ہونے پر تیزی سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔کمر کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی ۔۔۔۔دل کیا اُس سے دور بھاگ جائے ۔۔۔لیکن خود کو روکتی وہ خاموشی سے اُسکا سر دبانے لگی ۔۔۔ اُسکے چہرے کی طرف دیکھا جو پرسکون ہوتا جلد ہی سو گیا تھا۔۔۔۔اُسے سویا ہوا وہ بہت معصوم لگ رہا تھا کالے خوبصورت بال جو پیشانی پر پھیلے ہوے تھے ۔۔۔۔۔۔اُسنے ہاتھ پھیر کر انہیں پیچھے کیا ۔۔۔۔
تیکھی ناک۔۔۔۔ بخار کی شدت سے تپتا سرخ چہرہ اور ہلکی بڑھھی ہوئی داڑھی ۔۔۔بلاشبہ وہ بہت خوبصورت تھا ۔۔وہ کسی بھی لڑکی کو اپنی طرف متوجہ کر سکتا تھا اپنی شاندار پرسنالٹی سے لیکن یہاں معاملہ کچھ اور تھا ۔۔۔۔
وہ اُسکے بال سنوارتے ہوئے آہستہ سے بولی ۔۔۔۔۔
“کاش تم میری زندگی میں نہ آتے حمزہ شاہ اور اگر آتے بھی تو یوں نہ آتے ۔۔۔۔۔
اگر آج تم میرے ساتھ زبردستی نہ کرتے تو یقیناً مجھے تم سے محبت ہو جاتی ۔۔۔۔۔
لیکن جس طرح زور زبردستی سے تم میری زنگی میں آئے تم نے مجھے توڑ دیا ۔۔۔۔اب میں چاہ کر بھی تم سے محبت نہی کر پاؤنگی” ایک آنسو ٹوٹ کر اُسکے گال پر بہا جسے اُسنے ہاتھ کی پشت سے بیدردی سے صاف کیا ۔۔۔
سلسلے جو وفا کے رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
حوصلے انتہا کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رکھتے ہیں !!!
ہم کبھی بد دعا نہیں دیتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ !!
ہم سلیقے دعا کے ۔۔۔۔۔۔۔ رکھتے ہیں !!!
اُن کے دامن بھی جلتے دیکھے ہیں ۔۔۔۔۔
وہ جو ۔۔۔۔۔۔۔۔ دامن بچا کہ رکھتے ہیں !!!
ہم نہیں ہیں شکست کے قائل !!
ہم سفینے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلا کے رکھتے ہیں !!!
جس کو جانا ہے وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چلا جائے !!
ہم دیئے سب بجھا کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رکھتے ہیں !!!
ہم بھی کتنے عجیب ہیں” محسن”
درد کو دِل بنا کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رکھتے ہیں !!!
(مُحسن نقوی)
