Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes Readelle 50364 Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 9)
No Download Link
Rate this Novel
Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 9)
Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes
فجر کے وقت حمزہ کی آنکھ کھلی نظر اسکی طرف اٹھی تو وہ ابھی تک ویسے ہی اُسکا سر گود میں رکھے بیٹھی بیٹھی سوئی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔حمزہ کو اس معصوم پر ترس آیا جو ساری رات ایسے ہی بیٹھی رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اٹھ کر بیٹھتا وہ اُسکے معصوم چہرے کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔جس لڑکی کے ساتھ اُسنے اتنا برا کیا “زبردستی کی وہ سب کچھ بھلا کر………ساری رات اُسکے لیےجاگتی رہی ۔۔۔۔جانے کب تک وہ اُسکا سر دباتی رہی ہوگی ؟؟وہ تو اُسکے نرم ہاتھوں کا لمس پآتے ہی نیند میں چلے گیا ۔۔۔ فجر کی آذان ہو رہی تھی ۔۔۔۔وہ اسی کشمکش میں تھا اُسے اٹھائے یا نہیں….! کچھ سوچ کے آگے بڑھتا
ایک ہاتھ اُسکی کمر کے گرد ڈال دوسرا گردن کے پیچھے لے جا کر اُسے سیدھا کرکے لٹایا وہ گہری نیند میں تھی تھوڑا سا کسمساتی پھر سے سو گئی۔۔۔۔۔
حمزہ اٹھ کر وضو کرنے چلے گیا ۔۔۔نماز ادا کرکے اُسکے قریب آ کر اُسکی پیشانی سے بال ہٹاتے اسے پُکارا۔۔۔۔
منہا ……!
اٹھ جائیں نماز کا وقت ہو گیا ۔۔۔۔ایک ہی آواز میں اُسنے مندی مندی سی آنکھیں کھولیں ۔۔۔آپ نماز ادا کر لیں میں سب کو اٹھا آتا ہوں۔۔۔منہا اپنا دوپٹہ لیتی سر ہلاتی واشروم میں چلی گئی
_______________________
وہ اریج کو اٹھانے اُسکے روم میں گیا جو مزے سے سو رہی تھی ۔۔۔اٹھ جائیں میرا بیٹا نماز کا وقت ہو گیا ہے ۔۔۔اُس پر سے کمفرٹر ہٹاتے وہ بولا لیکن اسکی بات کا اثر لیے بغیر “اچھا “بولتی وہ کروٹ لیتی پھر سے سو گئی۔۔۔۔۔
نماز کا وقت چلے جائے گا اٹھ جاؤ ۔۔۔پھر سو جانا اب کی بار اُسکے سر پر کھڑے ہوتے وہ بولا جلدی کرو شاباش اسکو بازوں سے پکڑ کر بیٹھاتا وہ بولا
میں سمیع کو دیکھ کر آتا ہوں۔۔۔” دوبارہ نہی سونا جلدی سے وضو کرو۔۔۔وہ “جی” بولتی اٹھ گئی۔۔۔۔۔۔
“سمیع” کو اٹھانے گیا تو اُسنے بھی ویسے ہی تنگ کیا ۔۔۔پتہ نہیں کیسے روز منہا انہیں اٹھاتی ہے……. وہ سر ہلاتے دادی کو سلام کرتا انکے پاس بیٹھتا بولا۔۔۔۔
بیٹا انکا تو روز کا یہی کام ہے وہ ایسے ہی اٹھاتی ہے انہیں زبردستی ۔۔۔۔۔آپ بتاؤ میرے بیٹے کی طبیعت کیسی ہے ؟؟اور منہا کیوں نہی آئی آج آپ کیوں آ گئے؟؟
جی الحمدللہ میری طبیعت بہتر ہے اب ۔۔۔۔۔رات میں وہ میری وجہ سے جاگتی رہی اسلیے میں نے اُسے آرام کرنے کا کہا اور خود آ گیا لیکن انکی ہمت ہے بہت تنگ کرتے ہیں یہ دونوں ہی ۔۔۔دادی اسکی بات پر مسکراتی ہوئی بولی ۔۔۔ماشا اللہ بہت پیاری اور اچھی بچی ہے منہا ۔۔۔اللہ میرے دونوں بچوں کی جوڑی سلامت رکھے صدا خوش رکھے (آمین)
“جاو میرا بیٹا آرام کرو”دادی اس پر پھونک مارتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔۔
اُس نے کمرے میں قدم رکھا تو اُسے کمفرٹر میں دبکے پایا ۔۔۔خاموشی سے آ کر ایک طرف لیٹ گیا اور جلد ہی اُسے دیکھتے نیند میں چلے گیا۔۔۔۔۔۔
صبح جب منہا کی آنکھ کھلی تو وہ کمرے میں نہی تھا وقت دیکھا تو “دس “بج رہے تھے اسکا مطلب وہ کب کا جاچکا تھا ۔۔۔۔جلدی سے اٹھ کر کپڑے لیتی وہ وآشروم میں بند ہو گئی ۔۔۔۔فریش ہو کر وہ نیچے آئی ۔۔۔۔دادی کے کمرے میں جاتے انہیں سلام کیا ۔۔۔۔
“اٹھ گئی میری بیٹی “۔۔۔۔
جی دادی آج تھوڑی دیر ہو گئی پتہ ہی نہی چلا ۔۔۔کوئی بات نہیں بیٹا میں جانتی ہوں حمزہ کو بخار تھا آپ اُسے دیکھتی رہی ہوگی۔۔۔
اریج کہاں ہے نظر نہی آ رہی اور سمیع؟؟؟
بیٹا وہ دونوں یونی گئے ہیں لیٹ آئیں گے ۔۔۔آپ جاؤ شاباش ناشتہ کر لو پہلے ہی کافی وقت ہو گیا ۔۔۔۔اتنی دیر بھوکے نہیں رہتے ۔۔وہ اُسے ہدایت کرتی بولیں…….
“جی میں کرتی ہوں” ۔۔۔اٹھ کر کچن کا رخ کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔ملازمہ کو ناشتے کا کہتی وہ وہیں کرسی پر بیٹھتی اُسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔صدیقہ آپ ایسا کریں آج کھانا نہ بنانا ۔۔۔آج کھانا میں بناؤنگی اُس سے چائے کا کپ پکڑتے وہ بولی ۔۔۔۔کیوں بی بی جی کیا میرا بنایا آپکو پسند نہی آيا ؟؟ کچھ اور بنا لوں آج؟؟ ۔۔۔۔۔
نہی نہیں ایسی بات نہیں ہے ویسے ہی آج میرا دل کر رہا ہے اسلیے ۔۔۔چائے کا گھونٹ لیتی وہ بولی ۔۔۔۔آپ کو میں چیزیں بتاتی جاتی ہوں آپ وہ نکال کر دیتی جائیں ۔۔۔ناشتے سے فارغ ہو کر وہ کیبن کے نزدیک ہوتی بولی ۔۔۔۔ دادی جو کب سے اُسکا انتظار کر رہی تھی خود ہی باہر آ گئیں ………
منہا بیٹا کیا کر رہی ہو وہ کچن کے پاس آتی اُسے دیکھ گویا ہوئثی ۔۔۔”دادی جان آپ کیوں آ گئیں یہاں میں آ جاتی “وہ آگے بھرتی اُنکا ہاتھ تھام کر متفکر ہوتی بولی اور انہیں پاس پری کرسی پر بیٹھایا۔۔۔۔۔
کوئی بات نہی بچے میں اکیلی بیٹھی تھی اسلیے یہاں آ گئی ۔۔۔وہ اُسکے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے بولیں
“کیا بنا رہی ہے میری بیٹی”؟؟؟ اُسے ایپرن پہنے دیکھ وہ بولیں ۔۔۔۔۔
میں نے سوچا آج کچھ اچھا سا بناتی ہوں” ۔۔۔۔۔گھر میں مجھے عادت تھی موسیٰ کے لیے روز کچھ’ خاص” بنانے کی…. وہ افسردگی سے اپنے گھر کو سوچتی بولی۔۔۔
کچھ نہی ہوتا میرا بیٹا سب ٹھیک ہو جائے گا بناؤ آپ نے جو بنانا ہے اس بہانے میں بھی اپنی بیٹی کے ہاتھ کا کھانا کھاونگی ویسے تو مجھے روز صدیقہ کے ہاتھ کے پھیکے کھانے پڑتے ہیں ۔۔وہ اُسے دیکھ مسکراتی ہوئی بولیں۔۔۔۔۔”جی!! کیوں نہی آج آپ میرے ہاتھ کا بنا کھانا کھائیں گی۔۔۔
آپ چلیں روم میں آپ یہاں نہیں بیٹھیں گیں میں کھانا بنا کر آتی ہوں پھر ہم دونوں گارڈن میں بیٹھ کر چائے پیں گے۔۔۔وہ اُنکا ہاتھ تھامتی کچن سے باہر نکلی اور انکے کمرے تک لے گئی
واپس کچن میں آئی ڈوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھا۔۔۔ملازمہ کے آگے سبزیاں رکھتی بولی “آپ یہ کاٹ دیں “اور جلدی سے دوسری طرف کام میں لگ گئی۔۔۔۔
“چکن کڑاہی اور فرائیڈ رائس” بنا کر اُسنے اپنے اور دادی کے لیے چائے رکھی۔۔۔صدیقہ کو چائے باہر لانے کا کہتی خود وہ چینج کرنے اپنے روم میں چلی گئی
______________
چینج کرکے نماز ادا کی اور دادی کے کمرے میں آتے انہیں ساتھ لے کر باہر لان میں آئی ۔۔۔۔صدیقہ باہر ٹیبل پر چائے رکھ گئی ۔۔۔۔موسم بھی بہت حسین تھا۔۔۔ دادی کے ساتھ باتیں کرتے چائے پی۔۔۔
گاڑی سے اترتے سمی اور اریج بھی انہیں لان میں بیٹھا دیکھ وہی آ گئے ۔۔۔۔ انکے نزدیک آتے سلام کرتا وہ بولا “کونسی چغلیاں ہو رہی ہیں میرے بھائی کی “؟؟
“نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں” ۔۔۔منہا ججھکتی جلدی سے بولی۔۔۔
“ریلیکس،،،بھابھی ۔۔یہ صرف آپکو تنگ کر رہا ہے” اریج منہا کا پریشان سا چہرہ دیکھ کر بولی اور انکے ساتھ ہی کرسی پر بیٹھ گئی ۔۔۔۔
بھابھی ایک کام تھا آپ سے بہت ضروری “اگر کر دیں گی تو مان جاؤنگا آپکو “۔۔۔۔سمیع بولتا انکے قریب گھاس پر بیٹھ گیا ۔۔۔
“جی بولیں”
بھابھی پرمیشن لے دیں بھائی سے کل کی ۔۔۔یونی میں کنسرٹ ہے بہت مزا آنے والا ہے لیکن بھائی نہی جانے دیں گے ۔۔۔۔پلیز آپ اُن سے پرمیشن لے دیں ۔۔۔۔وہ متانت سے منہا کو دیکھتا مسکین سی صورت بنا کر بولا
“مم …میں ،میں کیسے لوں ؟؟ “آپ خود بات کرنا ناں اُن سے وہ مان جائیں گے “وہ گڑبراتے ہوئے جلدی سے بولی۔۔۔
مان تو جانا تھا لیکن اب اس نے اپنا شور مچایا ہوا ہے وہ اریج کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا ۔۔۔اور میں جانتا ہوں اسکی وجہ سے بھائی نے مجھے بھی نہی جانے دینا۔۔۔
“کیوں بھئی کیوں نہی جانے دینا میں خود بات کرونگی بھائی سے مجھے تو جانا ہے اور میں جاؤنگی” ۔۔۔اتنا مزہ آنے والا ہے میری سب فرینڈز آئیں گیں ۔۔۔۔ہم سب نے تو پلان بھی بنا لیا ہے ۔۔۔اریج اُتاولی ہوتی بولی۔۔۔۔
اچھا جاؤ تم لوگ جا کر فریش ہو کر آرام کرو۔۔ دادی انہیں بحث کرتا دیکھ ڈپٹتی ہوئی بولیں
وہ دونوں منھ کے زاویے بگاڑتے اٹھ کر چلے گئے
____________________
رات کو سب ڈنر کے لیے بیٹھے ۔۔۔۔منہا کچن میں ملازمہ کے ساتھ مصروف تھی ۔۔۔۔
یار بھابھی آبھی جائیں آج تو بہت اچھی خوشبو آ رہی ہے۔۔۔۔۔ سمیع ٹیبل پر کہُنی ٹکائے بولا ۔۔۔۔
ملازمہ کے ساتھ کھانا لگوا کر وہ بھی حمزہ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی۔۔
“کیوں نہیں میری بیٹی نے اتنی محنت سے بنایا ہے آج کھانا صرف خوشبو ہی نہی کھانا بھی بہت مزے کا ہوگا ٫دادی سمیع کو دیکھتے بولیں جو جلدی سے کھانا اپنی پلیٹ میں ڈال رہا تھا ۔۔۔۔
واہ !!!بھابھی کیا کھانا بنایا ہے مزا آگیا ۔۔۔دل کر رہا ہے آپکے ہاتھ چُوم لوں۔۔۔وہ چمچ میں چاول بھرتا ہوا بولا۔۔۔
اوں ہوں!! حمزہ نے اُسے گھورا “خاموشی سے کھانا کھاؤ”۔۔۔ میں کونسا سچ میں چومنے لگا تھا۔۔۔جانتا ہوں آپکی ہی ہیں ۔۔۔وہ منھ بناتا بولا
اریج نے اُسے مسکراہٹ دباتے ہوئے دیکھا اورمنہا اُسکی بات سے سرخ پڑتی سر جھکا گئی
” آپ کو کیا ضرورت تھی کھانا بنانے کی؟؟ ان سب کاموں کے لیے ملازمہ موجود ہے “۔۔۔ربیعہ بیگم منہا کو دیکھتے سپاٹ چہرے سے بولی
“نہیں آنٹی مم میرا ابھی” اُسکے الفاظ منہ میں ہی تھے کہ حمزہ بول اٹھا۔۔۔”میں نے کہا تھا مما منہا کو کیوں کے میں اپنی بیوی کے ہاتھ کا کھانا ٹیسٹ کرنا چاہتا تھا “۔۔۔۔منہا اُنکا سپاٹ چہرہ دیکھتی اچانک گھبراتے ہوئے دادی کی جانب دیکھا جو اُسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
انہوں نے آنکھوں سے اُسے تسلی دینے والے انداز میں ہاتھ سے اشارہ کیا ۔۔۔۔وہ سر جھکائے خاموشی سے پلیٹ پر جھکتی کھانا کھانےلگی ۔۔۔
حمزہ نے اسکو دیکھا جو گرین پاجامے پر لونگ کرتا پہنے ہمیشہ کی طرح ڈوپٹہ سلیقے سے لیے پریشانی سے انکی بات پر سر جھکا گئی ۔۔۔۔
اریج آپ نے مجھ سے کچھ بات کرنی تھی ؟؟ اُس نے بات بدلنی چاہی۔۔۔۔حمزہ اُسکی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتا بولا۔۔۔۔
“جی بھائی “۔۔۔۔وہ پانی پیتی فوراً سے بولی ۔۔۔۔
اس نے ڈرتے ہوئے منہا کی طرف دیکھا اور پھر حمزہ کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔۔وہ بھائی ہماری یونی میں کل کنسرٹ ہے اور مجھے بھی جانا ہے ۔۔۔۔
“پلیز پلیز !!بھائی انکار مت کیجئے گا میری سب فرنڈز بھی آ رہی ہیں” وہ اُسکے چہرے کا جائزہ لیتی ہوئ بولی جہاں سختی تو بلکل نہی تھی لیکن نرمی بھی نہی تھی ۔۔۔
آپ جانتی ہیں نہ اس طرح کے فنکشن پر میں آپکو جانے کی اجازت بلکل نہی دیتا تو پھر پوچھنے کا مقصد ۔۔۔حمزہ نے سنجیدگی سے اُسکی طرف دیکھتے پوچھا ۔۔۔۔
لیکن بھائی مجھے جانا ہے۔۔۔۔۔خرابی کیا ہے اس میں سمیع بھی تو ہوگا ساتھ میں۔۔۔
اور میں سب کو بول چکی ہوں آنے کا ۔۔مجھے جانا ہےبھائی ۔۔۔۔وہ ضد کرتی ہوئی بولی ۔۔۔
سمیع بھی نہیں جائے گا آپکے ساتھ آپ دونوں کل گھر رہو ہے ۔۔۔
“اور خرابی ایک نہی بہت سی ہیں” ۔۔۔۔۔میں نے کہہ دیا بس وہ دو ٹوک لہجے میں بولا ۔۔۔۔۔
“بھائی!!!بھائی ہر دفعہ آپ ایسے ہی کرتے ہیں “وہ پر شکوہ نظر اُس پر ڈالتی پاؤں پٹختی اپنے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔۔اُس کے ساتھ ہی ربیعہ بیگم بھی اٹھ گئیں ۔۔حمزہ بھی اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔
” بھابھی پلیز آپ میری تو بات کریں بھائی سے میں نے پہلے بھی کہا تھا بھائی نہی مانیں گے اب اس کی وجہ سے میرا بھی پلان خراب ہو گیا”۔۔۔سمیع دانت پیستے ہوئے بولا
“میں بات کرونگی” وہ سر ہلاتی ہوئی اٹھی اور دادی کا ہاتھ تھام کر انہیں لاؤنج میں بیٹھاتی وہ ملازمہ کو برتن سمیٹنے کا کہتی اریج کے کمرے کی جانب گئی۔۔۔
دروازہ بجا کر تھوڑا سا کھولا اور اندر آنے کی اجازت لی ۔۔۔لیکن جواب نہ پا کر وہ خاموشی سے اندر داخل ہوئی
روم میں قدم رکھتے ہی وہ اُسکے قریب گئی جو بیڈ کے ایک طرف بیٹھی رونے کا شغل فرما رہی تھی۔۔
منہا اُسے روتا دیکھ جلدی سے اُسکی جانب بڑھی ۔۔۔۔”کیا ہوا ہے اریج”؟؟….
“میری جان کیوں رو رہی ہو “؟؟؟
بھائی ہمیشہ ایسے کرتے ہیں مجھے جانے نہیں دیتے ۔۔۔میری سب فرینڈز آئیں گی وہاں ۔۔۔
میری کتنی انسلٹ ہوگی جب میں نہی جاؤنگی سب میرا مذاق اڑائیں گی۔۔۔۔وہ ہچکیوں سے روتے ہوے سرخ چہرہ اٹھاتی ہوئی بولی ۔۔
اووہ ہو!! کیا ہو گیا تم تو اتنی بہادر ہو یوں چھوٹی سی بات پر رونے بیٹھ گئی ۔۔۔۔اس طرح نہی کرتے میری جان ۔۔۔اُسکے چہرے سے آنسو صاف کرتے وہ بولی ۔۔۔۔
“اچھا بتاؤ آپ صرف اس بات پر رو رہی ہو کہ حمزہ نے جانےسےمنع کر دیا” ؟؟؟اُسکو دیکھ کر منہا نے اپنی بات کی تائید کرنی چاہی ۔۔۔۔
اریج نے ہاں میں سر کو جنبش دی ۔۔۔”اور کیا ہمیشہ ایسے کرتے ہیں بھائی” ۔۔۔وہ اُسے دیکھ شکایتی انداز میں بولی۔۔۔
منہا اُسکی بات پر ہنس دی اور اُسکے رونے کی شدت سے سرخ ہوتے گالوں پر پیار کیا ۔۔۔
میری جان یہ بھی کوئی رونے والی بات ہے؟۔۔۔
چلو اب آپ مجھے بتاؤ کنسرٹ میں صرف لڑکیاں ہونگی؟؟
“نہیں لڑکے بھی ہونگے اکٹھا پروگرام ہے سارا “…وہ سوں سوں کرتے بولی۔۔۔۔
اب دیکھو آپ اپنے بھائی سے پوچھ رہی تھی خرابی کیا ہے وہاں پر؟؟ ۔۔۔۔
سب سے بڑی خرابی تو یہ ہے کہ لڑکیاں اور لڑکے اکٹھے ہیں ۔۔۔۔کوئی روک تھام نہیں ہوگی ۔۔۔
اتنے زیادہ لوگوں میں اگر سمیع ہو بھی تو اُسکے آپکے ساتھ ہونے کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کے اتنی بھیڑ میں دھکے لگنے سے آگے پیچھے ہو جاتے سب ۔۔۔
خدا نخواستہ اگر وہاں پر آپ کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جائے ،؟؟تو کون ذمےدار ہوگا اسکا ۔۔۔۔
طرح طرح کے لوگ ہوتے ہیں وہاں پر ۔۔۔۔
اور پتہ نہیں اُن میں کتنے غلیظ نظروں والے ہوتے ہیں۔۔۔جو لوگ برقع پہنے ہوئی لڑکی کو نہی چھوڑتے وہ تنگ لباس پہننے والی کو کیاکچھ نہی کہیں گے؟؟…
تم خود بتاؤ کتنا بولڈ ڈریس ہوتا ہے وہاں کی لڑکیوں کا ۔۔۔کیا تم بھی انکی طرح کے لباس پہننا چاہتی ہو۔۔۔۔کیا تمہارے گھر میں اس طرح کا ماحول دیا گیا ہے ۔۔۔۔
کیا تم وہاں اپنی نمائش کرنا چاہتی ہو۔۔؟؟
اریج اُسکی طرف دیکھتی نفی میں سر ہلا گئی۔۔۔
تو میری جان تمہیں یہ نظر آیا کے تمہارے بھائی نے تمہارے جانے سے انکار کیا ۔۔۔یہ نہی دیکھا کے وہ کیوں روکتے ہیں۔۔۔وہ آپکو لوگوں کی گندی نظروں سے بچانا چاہتے ہیں۔۔۔آپ کو اس طرح کے لوگوں سے دور رکھنا چاہتے ہیں ۔۔۔وہ آپ کو منع صرف آپکی حفاظت کی لیے کرتے ہیں
آپ جانتی ہو وہاں کسی کا بھی لباس قابل قبول نہیں ہوتا ۔۔۔۔لڑکے لڑکیاں اکٹھے کنسرٹ کے بہانے ملتے جلتے ہیں۔۔۔بہآنے بہانے سے لڑکیوں کو ہاتھ لگاتے ہیں شیطان کا کوئی پتہ نہی کسی بھی وقت حملّہ آور ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا تم اس طرح کے گندے ماحول میں جانے کے لیے رو رہی ہو؟؟۔۔۔۔۔
ہمیں تو خدا کا شکر گزار ہونا چاہیے کے “اللہ پاک” ہمیں شیطان کے شر سے محفوظ رکھے (آمین)
اور کنسرٹ میں ہے ہی کیا ۔۔۔گانے بجانے والوں کو بلایا جاتا ہے۔۔۔آپ انکو دیکھنے جانا چاہتی ہو ۔۔۔جو آپ لوگوں کے ہی پیسوں سے آ کر آپ کے آگے ناچتا گاتا ہے اور آپ لوگ انکو دیکھنے کے لیے دھکے کھاتے پھرتے ہو۔۔۔
میری جان آپکے بھائی آپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔۔۔ آپ اس طرح اُن سے خفا نہ ہو۔۔۔
“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم” کا فرمان ہے:
“عورت پردے میں رہنے کی چیز ہے……جس وقت وہ بے پردہ ہو کر باہر نکلتی ہے۔۔۔۔تو شیطان اُس کو جھانک جھانک کر دیکھتا ہے”۔۔۔۔!
ایک اور جگہ ارشاد ہے:
” ” آپ صل اللہ علیہ وسلم ” نے فرمایا یہ بناؤ سنگھار کرکے اترا اترا کر چلنے والی عورت کی مثال اُس تاریکی کی ہے جس میں بلکل بھی روشنی نہ ہو”..
آپ چاہتی ہو کے شیطان آپ کے ساتھ ساتھ رہے کیا
آپ ہمارے پیارے نبی کی بات پر عمل نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔ کیا آپ اللہ کی ناراضگی مول لینا چاہتی ہیں؟؟ منہا اسکو سوالیہ نگاہوں سے دیکھتی بولی۔۔۔
سوری بھابھی میں ایسا نہیں چاہتی وہ نظریں جھکاتے شرمندگی سے بولی ۔۔۔۔۔
میری جان میرا مقصد آپکو شرمندہ کرنے کا نہی ۔۔۔میں صرف آپ کو بتانا چاہتی تھی کے جب ہمارے بڑے ہمیں کسی کام سے روکیں تو اس میں ہماری ہی بھلائی ہوتی ہے ۔۔۔۔وہ ہمارے دشمن نہی ہوتے ہماری حفاظت اور ہماری اصلاح کے لیے ہمیں روکتے ٹوکتے ہیں ۔۔۔۔۔
“اور سوری مجھے نہیں اپنے بھائی کو بولو جن سے آپ سخت رویہ اختیار کر گئی”۔۔۔۔۔وہ اُسکا ہاتھ تھپکتی ہوئی اٹھ گئی۔۔۔اب میں چلتی ہوں ابھی مجھے آپکے بھائی سے سمیر کے جانے کے لیے بھی پرمیشن لینی ہے ۔۔۔۔۔۔
آپ اٹھو جلدی سے فریش ہو کر نیچے آؤ ۔۔۔اُسے بولتی وہ جلدی سے اپنے کمرے کی طرف گئی ۔۔۔۔جانتی تھی اجازت طلب کرنا زیادہ مشکل ہے ۔۔۔پتہ نہیں جب وہ اُس سے پوچھے گئ تو کیا کہے گا ۔۔۔دل میں ڈر بھی تھا اور خدشہ بھی کے غصہ نہ ہو جائے ۔۔۔۔یہ سب سوچیں سوچتی وہ اپنے روم کے دروازے کے سامنے کھڑی ہوئی کہ اب کیا کروں جاوں یا نہیں؟؟
____________________________________
