970.6K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 6)

Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes

ساری رات منہا بیٹھی یہی سوچتی رہی کہ کیسے گھر والوں سے بات کرے۔۔۔۔ وہ شادی سے منع کیسے کرے کوئی وجہ پوچھے گا تو وہ کیا جواب دے گی ۔۔۔۔۔کونسا جواز پیش کرے گی ۔۔۔۔۔

یاللہ کون سی مصیبت میں پھنس گئی اپنے سر کو ہاتھوں میں گرائے وہ خدا کو پکارنے لگی۔۔۔۔۔اللہ جی پلیز میری مدد کریں اس پاگل سے میری جان چھڑوا دیں میں کیا بولوں گی گھر والوں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روتے روتے ناجانے کس وقت اس کی آنکھ لگی۔۔۔۔۔۔۔

____________________________

“منہا اٹھ جاو بیٹا مدرسہ بھی نہیں گئی طبیعت تو نہیں خراب” ؟ کلثوم بیگم پریشان سی اُسکے ماتھے پر ہاتھ رکھتے بولیں۔۔۔

“نہیں مما بس ویسے ہی دل نہیں کر رہا تھا جانے کو” وہ اٹھتی ہوئی بولی ۔۔۔۔

“اچھا اٹھو پھر ناشتہ کرنے کرلو بہت وقت ہو گیا” کہتیں وہ کچن کی جانب چلی گئیں۔۔۔۔۔۔

اس نے بے دلی سے دو چار نوالے حلق سے اتارے۔۔۔۔۔۔۔۔

” وہ مما مجھے بات کرنی ہے آپ سے” ۔۔۔۔ پاس بیٹھی کلثوم بیگم کا ہاتھ پکڑ کر اُسنے کہا ۔۔۔۔۔

و وہ !”مما مجھے یہ شادی نہیں کرنی آپ منع کردیں انہیں” گہرا سانس لے کر وہ ایک ہی سانس میں بولی……

“تمہارا دماغ ٹھیک ہے منہا کیا بکواس کر رہی ہو شادی سے ایک مہینہ پہلے تم مجھے شادی سے انکار کرنے کا کہہ رہی ہو “کلثوم بیگم شدید برہم لہجے میں اسے ڈانٹتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“مما مجھے نہیں پتہ بس میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی آپ انکو انکار کر دیں” منہا لہجے کو مضبوط کرتی ہوئی بولی

اچھا تو یہ بات تمہیں پہلے نہیں یاد آئی اب جب سب تیاریاں ہو گئیں تو تمہیں یاد آیا ۔۔۔۔۔۔۔

میں کبھی بھی انکار نہیں کرونگی تمہارے بابا کو کیا بتاؤں گی۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ کس وجہ سے تم منع کر رہی ہو تم تو بہت خوش تھی شادی سے پھر اچانک کیا ہوا ؟؟

انہوں نے کھوجتی نگاہوں سے اسے دیکھتے استفسار کیا۔۔۔۔

“مما میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں اور اس کے گھر والے آنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

میں نہیں جانتی آپ بس انھیں انکار کر دیں اور بابا کو بھی بتا دیں” ۔۔۔۔۔کہتی وہ اٹھ کر چلی گئی

اور کلثوم بیگم اُسکی بات سے سکتے میں اتنی دیر وہیں بیٹھی رہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

انکی بیٹی تو ایسی نہیں تھی پھر یوں بیٹھے بٹھائے کیا ہو گیا کیا کریں گے وہ لوگ کیا جواب دیں گے اسکے سسرال والوں کو جو شادی کی تاریخ بار بار مانگ رہے ہیں ۔۔۔۔۔

اٹھ کر کانپتے ہاتھوں سے فون پکڑا اور منہا کے بابا کو کال کرکے جلدی گھر آنے کا کہا

________________________________

ارتضیٰ صاحب پریشان سے گھر میں داخل ہوئے کلثوم بیگم نے ساری بات انکو بتائی ۔۔۔۔۔۔

“بیگم آپ ویسے ہی پریشان ہو رہی ہیں اُسنے مذاق کیا ہوگا آپکو تنگ کرنے کے لیے میں پوچھتا ہوں اس سے” کہتے وہ منہا کے کمرے کی جانب چلے گئے

دروازہ بجا کر اندر داخل ہوئے تو وہ بیڈ کے ایک طرف خاموشی سے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔

“کیا بات ہے آج میرا بچہ بہت خاموش ہے طبیت ٹھیک ہے نہ ؟؟کیا سن رہا ہوں آپکی مما سے کیوں تنگ کرتی ہیں آپ انہیں جانتی بھی ہیں وہ فوراً پریشان ہو جاتی ہیں “ارتضیٰ صاحب اسے محبت سے ساتھ لگاتے گویا ہوئے

منہا کے لیے آنسو روکنا مشکل ہو گیا خاموشی سے اُن سے دور ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔

“بابا میں تنگ نہیں کر رہی میں بالکل سنجیدہ ہوں مجھے یہ شادی نہیں کرنی پلیز آپ انہیں منع کر دیں “وہ نظریں جھکائے بولی اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ اپنے باپ کی آنکھوں میں دیکھ کر جھوٹ بول سکے۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن بیٹا مسئلہ کیا ہے پہلے تو آپ راضی تھی آپ سے پوچھ کے ہی یہ رشتہ تہہ کیا تھا پھر اب کیا ہوا؟؟؟؟؟؟

آپ سے فہد نے کچھ کہا ہے تو بتاؤ مجھے میں بات کرتا ہوں اس سے ۔۔۔۔وہ اس کی بات کو ابھی بھی اسکی بچگانہ حرکت سمجھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔

“نہیں بابا اُسنے مجھے کچھ نہیں کہا لیکن میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی ۔۔وہ اچھا نہیں لگتا مجھے ۔۔۔۔میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں اور اس سے ہی شادی کرنا چاہتی ہوں”

منہا آنکھیں ميچے کانپتی آواز میں بولی ۔۔۔۔۔۔

ارتضیٰ صاحب بالکل خاموشی اسے دیکھتے رہے اور آہستگی سے اٹھ کر کمرے سی نکل گئے ۔۔۔۔۔

منہا بیٹھی بے آواز رونے لگی ۔۔۔۔۔وہ یک ٹک ایک ہی جگہ بیٹھی سوچ رہی تھی کہ یہ ہو کیا گیا ہے اُسکے ساتھ ۔۔۔وہ شخص کیوں اُسکی زندگی میں آیا ۔۔۔جسکی وجہ سے وہ اپنے ماں باپ کے سامنے شرمندہ ہوں رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

کیا بتائے وہ انہیں ۔۔۔۔۔۔

کچھ دیر بعد کلثوم بیگم کمرے میں داخل ہوئیں وہ خاموش بیٹھی آنسو بہا رہی تھی ۔۔۔۔

“کیوں اب کیوں رو رہی ہو تم ہمیں ذلیل کرنے میں تم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منہا کیا ایسی تربیت کی تھی میں نے تمہاری آج تمہارے باپ سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہی میں ۔۔۔۔بتاؤ مجھے اب میں کیا جواب دوں انکو کیا وجہ بتاؤں انکار کی ؟شادی سے ایک مہینہ پہلے تمہیں یاد آیا

تمہیں وہ پسند نہیں ۔۔۔۔۔لوگ کیا کہیں گے۔ ہمیں۔۔۔۔۔ ایک بار سوچا تم نے یہ سب “وہ اسکے بازو کو جنجھورتی بولیں

“مما پلیز !!آپ تو سمجھیں مجھے میں نہیں کر سکتی یہ شادی” اُسنے روتے ہوئے ماں کا ہاتھ تھامے کہا

ٹھیک ہے پھر بولو اپنے اس عاشق کو کل ہی اپنے گھر والوں کو بھیجے۔۔۔۔

جس سے تم کہو گی اسی سے ہوگی تمہاری شادی لیکن اتنا یاد رکھنا شادی کے بعد اس گھر کی طرف کبھی مر کے بھی نہ دیکھنا ہمیں۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم مر گئے تمہارے لیے اور تم ہمارے لیے ۔۔۔جو اولاد بوڑھاپے میں ماں باپ کو ذلیل کرے ایسی اولاد کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں روتے ہوئے کہتیں وہ اٹھ کر چلی گئیں۔۔۔۔

مما !!وہ انکی بات سن کر حیران رہ گئی ۔۔۔۔وہ جانتی تھی کہ وہ بہت غلط کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔

اُسکی بات کا سخت ردعمل ہوگا لیکن اس سے مکمل قطع تعلق کر دیا جائے گا اُسنے سوچا تک نہ تھا ۔۔۔۔۔ وہ اپنے بالوں کو کھینچتی اونچا اونچا رونے لگی۔۔۔۔۔۔

اللہ کرے مر جاؤ تم حمزہ شاہ۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔کیوں آئے تم میری زندگی میں وہ بےبسی کی آخری انتہا پر تھی لیکن سوائے رونے کے کوئی رستہ نہیں تھا اس کے پاس۔۔۔۔۔۔

باہر موسیٰ یہ سب سن کر پریشان تھا اور مما بھی بابا کے پاس بیٹھی رو رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔

____________________________

اسکے کہے کے مطابق اگلے دن حمزہ کی فیملی اُنکے گھر تھی ۔۔۔۔۔حمزہ کی فیملی تو بہت خوش تھی لیکن منہا کے والدین خاموش تھے ۔۔۔۔منہا کے والد نے ایک ہفتے میں رخصتی کی شرط رکھی ۔۔۔۔

ربیعہ بیگم(حمزہ کی والدہ) اتنی جلدی شادی کا سن کر پریشان ہوئیں کہ اتنی جلدی تیاری کیسے ہوگی ؟؟لیکن حمزہ کی دادی نے کہا کہ یہ کوئی مسلئہ نہی کیونکہ وہ جانتی تھیں ساری بات حمزہ انہیں بتا چکا تھا کہ اُسکی منگنی ہو چکی ہے پہلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔منہا اُن لوگوں کو بہت پسند آئی ۔۔۔۔۔دادی نے اُسکی انگلی میں رنگ پہنائی ۔۔۔۔۔شادی کی ڈیٹ فیکس ہوئی ۔۔۔۔ منہا کے گھر میں مکمل خاموشی تھی موسیٰ کی علاوہ کوئی اس سے بات نہیں کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسری طرف حمزہ کی فیملی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شادی کی شاپنگ شروع ہو چکی تھی۔۔۔دونوں طرف سے تیاری مکمل تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

______________________________

دیکھتے ہی دیکھتے وہ دن بھی آ پہنچا جب منہا کو اپنے ماں باپ کا گھر ہمشہ کے لیے چھوڑ جانا تھا۔۔۔۔۔

اس پورے ہفتے میں اس نے بہت کوشش کی مما سے بابا سے بات کرنے کی لیکن وہ اُسکی طرف دیکھ کر رخ موڑ لیتے۔۔۔۔ منہا کو یہ چیز بہت تکلیف دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

لیکن وہ خاموش رہی کیونکہ غلطی اُسکی تھی۔۔۔۔۔ اُسکے ماں باپ کو اُسکی وجہ سے لوگوں کی باتیں سننی پڑ رہیں تھی ۔۔۔۔۔لیکن وہ بھی کیا کرتی وہ بےبس تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سارے وقت میں حمزہ نے اس سے بالکل بھی بات نہیں کی اور ویسے بھی منہا کو کون سا پرواہ تھی اُسکی اسکا بس چلتا تو اسے دنیا سے ہی غائب کر دیتی ۔۔۔۔۔۔۔۔

جسکی بدولت آج اسے لوگوں کی عجیب نظروں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔۔۔اس کے جان سے پیارے ماں باپ اس سے بات تک ناکر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔

________________________________

منہا کو لا کر برائیڈل روم میں بیٹھایا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منہا کی والدہ کی آنکھیں نم ہو گئیں اسے دیکھ کر لیکن خاموش رہیں ۔۔۔۔۔

وہ لگ ہی بہت خوبصورت رہی تھی ۔۔۔۔سرخ لہنگے میں گولڈ کی تار کا کام ہوا ہوا تھا ۔۔۔۔بڑی بڑی آنکھوں کو لائنر کاجل سے اور حسین بنایا گیا تھا ۔۔۔ وہ بہت پیاری لگ ری تھی منہا کی آنکھیں ماں کو دیکھ کر پانیوں سے برھنے لگیں۔۔۔۔

آپی رونا نہیں ورنہ چوڑیل لگو گی۔۔۔۔۔۔۔ موسیٰ جو خود بھی اُداس تھا کہ بہن نے چلے جانا ہے وہ جلدی سے بولا ۔۔۔۔

۔۔۔۔ ویسے میں تو شکر کرونگا یہ جائیگی ۔۔۔۔

منہا کی سہیلیاں جو کہ اُسکے پاس ہی موجود تھیں اسکی باتیں سن کر سب کھلکھلا اٹھیغ ۔۔۔لیکن منہا کی آنکھیں نم ہو گئیں وہ جانتی تھی کہ وہ اُسکا موڈ اچھا کرنے کے لیے ایسا کہ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔

دادی اور حمزہ کی والدہ آ کے اُسے دیکھ کر بہت سی دعائیں دے کر گئیں۔۔۔ نکاح کے مراحل مکمل ہوئے ۔۔۔سب بہت خوش تھے سوائے اسکے مما بابا کے۔۔۔ منہا کو باہر لے کر جانے کے لیے موسی روم میں آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔

نیٹ کے دوپٹے سے گھونگھٹ کیے منہا اپنے بھائی کے ساتھ اسٹیج کی طرف قدم بڑھا رہی تھی ۔۔۔۔جیسے جیسے اسکے قدم آگے بڑھ رہے تھے حمزہ کے دل میں ہلچل مچ رہی تھی ۔۔۔۔۔

اُسنے خود کو مکمل طور پر گھونگھٹ میں چھپایا ہوا تھا وہ نہیں چاہتی تھی کہ نامحرم لوگ اُسے دیکھیں اور مرد حضرات کا انتظام بھی سیپریٹ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے دادی سے پہلے ہی اجازت لے لی تھی اور حمزہ کو بھی اس چیز سے کوئی اعتراض نہیں تھا۔۔۔۔۔

حمزہ نے ہاتھ بڑھا کر اسکو اپنے برابر میں کھڑا کیا ۔۔۔۔۔سب لوگ اس حسین جوڑے کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔اگر منہا خوبصورت تھی ۔۔۔تو حمزہ بھی کسی سے کم نہی تھا ۔۔۔۔

بھورے بال۔۔۔گرے آنکھیں ۔۔۔۔ہلکی بیئرڈ ۔۔۔گولڈن شیروانی میں وہ اپنی شاندار پرسنیلٹی کے ساتھ کھڑا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

رخصتی کا وقت آ پہنچا ۔۔۔ منہا روتی ہوئی باپ کے سینے سے لگی جانتی تھی کہ آج کے بعد شايد وہ انہیں دیکھ بھی نا پائے ۔۔۔

روتی ہوئی وہ ماں کے گلے لگی وہ بھی اسے ساتھ لگائے خود پر ضبط نارکھ سکیں ۔۔۔۔ موسیٰ سے ملتی اسے ماں بابا کا خیال رکھنے کا کہتی سب کی دعاؤں میں رخصت ہو کر نکلی ۔۔۔

کچھ لوگ باتیں بنا رہے تھے تو کچھ افسوس کر رہے تھے لیکن وہ بے بس تھی اس سب میں ۔۔۔۔۔۔

____________________________

بہت سی رسموں کے بعد اسے حمزہ کے کمرے میں بٹھایا گیا ۔۔۔۔روم بہت بڑا اور خوبصورت تھا ۔۔۔۔ اسے لگ رہا تھا اُنکے پورے گھر جتنا تو یہ ایک کمرہ ہے ۔۔۔لیکن منہا کو اس سب سے کوئی لینا دینا نہیں تھا وہ خاموش بیٹھی تھی۔۔۔ تھکن سے برا حال تھا ۔۔۔۔

“میں کیوں اس کا انتظار کروں میری طرف سے جائے جہنم میں”۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جیسے ہی اُٹھ کر ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہوئی ڈور کھلنے کی آواز آئی لیکن وہ مڑی نہیں جانتی تھی کہ وہی ہوگا ۔۔۔.. حمزہ اُسکی پیچھے آ کر کھڑا ہوا ۔۔۔۔

وہ جو آئینے میں دیکھتے اپنے دوپٹے کی پنز اتار رہی تھی اس کو آئینے میں بلکل اپنے پیچھے کھڑے پایا۔۔۔۔۔۔۔۔

دونوں کی نظریں ملی تھیں ایک پل کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔

منہا نے نظروں کا زاویہ بدلہ اسے مکمل طور پر نظر انداز کرتی وہ ایک طرف ہونے لگی ۔۔۔۔

“بیگم اتنی بھی جلدی کیا ہے پہلے مجھے جی بھر کے دیکھ تو لینے دیں آپکو ۔۔مجھے یقین تو کرنے دیں کے آپ میری ہو چکی ہیں” اُسکو بازوں سے تھامتا وہ باپنے قریب کر گیا ۔۔۔۔۔

منہا کی آنکھوں میں خوف کا عنصر تھا ۔۔۔اس نے اس سے دور ہونا چاہا۔۔۔۔۔۔۔

خاموشی میں اسکی چوڑیوں کی آواز نے ارتعاش پیدا کیا ۔۔۔

منہا کیا ہوا ریلیکس رہیں ۔۔۔۔حمزہ اُسکا خوف دیکھ کے بولا ۔۔۔اُسکا ہاتھ پکڑ کر بیڈ پر بٹھایا ۔۔۔ وہ اپنے آپ میں سمٹ رہی تھی۔۔۔ غیرارادی طور پر اس سے تھوڑا سا فاصلہ قائم کیا ۔۔۔۔

“نا نہ یہ دوری آج ممکن نہیں ۔۔۔۔۔ آپ جانتی نہی ہیں کہ آج میں کتنا خوش ہوں ۔۔۔مجھے یقین ہی نہی ہو رہا کہ آپ میرے سامنے مجود ہیں میری دسترس میں ہیں میری ہو چکی ہیں ۔۔۔۔میں جانتا ہوں آپکے ساتھ زبردستی کی ہے میں نے ۔۔۔لیکن اگر میں ایسا نہ کرتا تو آپ کبھی بھی میری بات سنتی۔۔۔

Am really sorry!!!!!

لیکن یقین مانیں میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں ۔۔۔بہت خوش رکھونگا آپکو” ۔۔۔۔یہ کہتے ساتھ ہی حمزہ نے اس کے ماتھے پر اپنا لمس چھوڑا ۔۔۔۔

پلیز حمزہ دور رہیں ۔۔۔ایسے زبردستی رشتے قائم نہیں ہوتے ۔۔۔۔۔۔۔ حمزہ شاہ ۔۔۔اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپکے ایک دفع معافی مانگنے سے میں آپکو معاف کردونگی تو سوچ ہے آپکی ۔۔۔۔

وہ نخوت سے کہتی رخ موڑ گئی

حمزہ نے اُسے کمر سے کھینچ کر خود پر گرایا ۔۔۔

“ٹرسٹ می ڈارلنگ ۔۔۔۔تمہیں بھی مجھ سے محبت ہو جائیگی “۔۔۔۔۔رات آہستہ آہستہ گزرتی گئی ۔۔۔۔۔حمزہ نہی جانتا تھا کہ یہ رات منہا کو اس سے اور دور کرے گی یا قریب۔۔۔۔

_______________________________

صبح اسکی آنکھ کھلی تو وہ اپنی ایک ٹانگ اس پر پھیلائے سو رہا تھا ۔۔رات کا سوچ کر منہا کو غصہ آ گیا ۔۔۔وہ اُٹھ کر فریش ہونے چلی گئی ۔۔۔

حمزہ کی جب آنکھ کھلی تو وہ بیڈ پر نہیں تھی ۔۔۔۔وہ اُٹھ کر بیٹھا تو وہ فریش سی باہر نکلی ۔۔۔۔ وہ اُٹھ کر اُسکے پاس آیا۔۔۔۔۔۔۔۔

منہا ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنے بال بنا رہی تھی ۔۔۔

“صبح بخیر زندگی”!!!!!

کہتے ہی اس نے منہا کے شانے پر اپنی ٹھوڑی ٹکائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منہا کے گال گلال ہوئے اس کے اتنے قریب ہونے پر ۔۔۔۔۔۔ وہ اس سے تھوڑا سا فاصلہ بنا کر کھڑی ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔

حمزہ اس کا ماتھا چومتا فریش ہونے چلا گیا ۔۔۔۔۔ جب وہ فریش ہوکر باہر نکلا تو منہا خاموش بیٹھی اُسکا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

کچھ دیر بعد وہ دونوں نیچے آ گئے ۔۔۔۔

‘ماشاء االلہ میری بیٹی کتنی پیاری لگ رہی ہے” دادی نے اُسکی تعریف کی ۔۔۔منہا جھنپ گئی ۔۔۔گال لال ہو گئے ۔۔۔

بھابھی بھائی نے کیا گفٹ دیا ؟۔۔۔۔۔ اریج اُسکے ساتھ بیٹھتی بولی

وہ،،،، وہ

اس سے پہلے کے منہا کچھ بولتی ۔۔۔۔حمزہ بول اٹھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

“بریسلٹ گفٹ کیا ہے آپکی بھابھی کو”

“واؤ !!! بھابھی دیکھائیے نہ مجھے بھی “اریج اشتیاق سے کہتی اُسکا ہاتھ تھام گئی

وہ اوپر روم میں ہی رہ گیا منہا بوکھلاتی جلدی سے بولی۔۔۔۔

“چلیں کوئی بات نہیں بعد میں دکھا دیجیے گا ” اریج پیار سے بولی اور اٹھکر اپنی دوست کی کال سننے چلی گئی

اتنی دیر میں منہا کی کزن اور موسیٰ ناشتہ لے آئے ۔۔

“اسلامُ علیکم”!!! موسیٰ نے اور اُسکی کزن نے انکے قریب آتے سلام کیا۔۔۔۔

“وعلیکم السلام بیٹا اسکی کیا ضرورت تھی” ؟ربیعہ بیگم اُسکو پیار دیتی ہوئی بولیں ۔۔۔۔منہا بھی اُٹھ کر اُنسے ملی ۔۔۔

سواۓ اریج کے (جو کہ ابھی تک اپنی دوست کو شادی کا احوال بڑے جوش و خروش سے سنا رہی تھی) سب نے مل کر ناشتہ کیا ۔۔۔

منہا بیٹا جاؤ اپنی کزن اور بھائی کو اپنے روم میں لے جاؤ ۔۔۔۔ دادی اس سے بولیں۔۔۔۔

منہا اٹھنے لگی تو حمزہ اسکے پاس آ کر بولا ۔۔۔۔۔رات آپکا گفٹ نہی دے پایا ۔۔۔۔ڈرا میں بریسلیٹ پڑا ہوا ہے پہن لیجئے گا ۔۔۔۔۔۔

منہا سر ہلاتی اُن دونوں کو لے کر اوپر کی طرف چلے گئی ۔۔۔۔

واہ آپی تمہارا روم بہت پیارا ہے موسیٰ کمرے میں قدم رکھتا بولا ۔۔۔۔منہا اُسے دیکھ ہلکا سا مسکرائی ۔۔۔

منہا حمزہ نے کیا گفٹ دیا اُسکی کزن نے اشتیاق سے پوچھا ۔۔۔منہا نے ڈریسنگ کی طرف رُخ کیا ۔۔

جہاں اسکی بتائی گئی جگہ کے مطابق بہت پیارا سا ایک باکس موجود تھا ۔۔جس میں بہت نفیس سی گولڈ کی بریسلیٹ تھی ۔۔۔جس کے اوپر “ایچ “لکھا تھا ۔۔۔۔ اُسنے باکس نکال کر انکی جانب بڑھآیا

“بہت پیارا ہے “منہا سے باکس لیتی کھول کر وہ بولی ۔۔۔۔۔۔۔

منہا تم خوش تو ہو نہ ؟

دیکھو تم فکر نہ کرو سب ٹھیک ہو جائیگا میں جانتی ہوں جن حالات میں تمہاری شادی ہوئی ہے وہ بہت مشکل حالات ہیں لیکن تم خود بھی جانتی ہو جو تم نے کیا اس سے آنٹی انکل کا ردِعمل ایسا ہی ہونا تھا ۔۔۔سب خاندان والے اتنی جلدی شادی کی وجہ پوچھ رہے ہیں کس کس کو ٹالیں وہ ۔۔۔۔۔

تم صبر سے کام لینا انشاء اللہ ایک دن سب سہی ہو جائیگا ۔۔۔

“جی “منہا سر جھکائے بولی۔۔۔۔۔۔۔