970.6K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 11)

Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes

ہسپتال میں اُسکا پاؤں چیک کروانے کے بعد وہ میڈیسن اور آئنٹمنٹ لیے اُسے بازو کے گھیرے میں لیے گھر میں داخل ہوا ۔۔۔۔

ربیعہ بیگم لاؤنج میں بیٹھی ایک ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے اور دوسرے میں میگزین پکڑے ورق گردانی کر رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔

اریج کی آواز سنتی انہیں دیکھ تیزی سے ٹیبل پر کپ رکھتی انکے قریب آئیں۔۔۔۔

میری جان!!!!!؛

کیا ہوا ایسے کیوں آ رہی ہو ؟؟وہ متفکر ہوتیں اُسےدیکھتی گویا ہوئیں ۔۔۔

“مما “۔۔۔۔

اریج اپنی ماں کو دیکھ پھر سے رونے کے لیے تیار تھی۔۔۔۔

“کچھ نہی ہوا مما بس یونی ورسٹی میں پاؤں مڑ گیا تھا اسکا “۔۔۔

وہ اُسے صوفے پر بیٹھتا اُن کی پریشان صورت دیکھ کر بولا ۔۔۔۔۔۔

منہا جو دادی جان سے کچھ بات کر رہی تھی باہر سے آتی آوازوں کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔۔۔

یہ تو اریج کی آواز ہے۔۔۔دادی جان اُسکی آواز سنتی بولیں ۔۔۔۔

“لیکن وہ تو یونی ورسٹی گئی ہوئی ہے ۔۔۔۔آپ یہیں بیٹھیں میں دیکھ کر آتی ہوں “منہا تیزی سے اٹھتی کمرے سے باہر نکلی ۔۔۔

اریج اور سمیع کو دیکھ انکے قریب آ گئی ۔۔۔۔

کیا ہوا ہے تم لوگ تو یونی ورسٹی گئے تھے اتنی جلدی کیوں آ گئے ؟؟

وہ متفکر ہوتی انہیں دیکھتی بولی۔۔۔۔

بھابھی میرا پاؤں!!! ۔۔۔۔۔اریج اُسے دیکھتی معصومیت سے بولی ۔۔۔۔

“کیا ہوا ہے میری جان آپ کے پاؤں کو” ۔۔۔۔

“کچھ نہیں بس ہلکی سی موچ ہے ٹھیک ہو جائے گی یہ کچھ میڈیسین اور آئینٹمنٹ ہے ڈکٹر نے لگانے کے لیےدی ہے اور دو دن کا ریسٹ کہا ہے” ۔۔۔۔

ٹھیک ہو جائے گی انشا اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔

سمیع سبکو پریشان دیکھتا بولا۔۔۔۔

اریج کیسے مڑا پاؤں …! دھیان سے چلنا تھا ناں ۔۔۔۔ربیعہ بیگم اُسکے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ بولیں ۔۔۔۔

” مما آپ تو ایسے کہ رہی ہیں جیسے میں نے جان بوجھ کے لگوائی ہو “وہ لہجے میں ناراضگی سموئے بولی ۔۔۔۔

“نہیں میری جان آنٹی اسلیے پوچھ رہی ہیں کیوں کہ ہمیں آپکی فکر ہے ۔۔۔دیکھیں سب پریشان ہیں آپکے لیے ۔۔۔۔دادی کو معلوم ہوگا تو وہ بھی پریشان ہو جائیں گی “منہا اُسکو یوں منھ پھلاتے دیکھ بولی۔۔۔

سمیع آپ دادی کو یہاں لے آؤ انکے کمرے سے وہ بھی پریشان ہو رہی ہونگیں۔۔ منہا سمیع کو دیکھتی بولی اور اریج کے جانب متوجہ ہوئی ۔۔۔۔

اب بتائیں کیسے لگی آپکو ؟؟

اریج اُسے ساری بات بتاتی اپنا پاؤں دیکھانے لگی ۔۔۔۔

“شکر ہے ابھی وہ لڑکا وہاں موجود تھا ورنہ سمیع کو کیسے معلوم ہونا تھا ۔۔۔۔آپ اپنا فون ساتھ لے کر جایا کرو۔۔۔

اور اب جب یونی ورسٹی جاؤگی تو اُسکا شکریہ ضرور ادا کرنا ۔۔۔ایسے لوگ بہت کم ملتے ہیں جو اپنا کام چھوڑ دوسروں کی مدد کریں “منہا اُسکا پاؤں دیکھتی بولی۔۔۔

“بھابھی اب میں کیا کرونگی پہلے ہی اتنی چھٹیاں ہو چکی ہیں ۔۔۔۔اور میرے نوٹس بھی مکمل نہیں”…. وہ متفکر ہوتی بولی۔۔۔

” کوئی بات نہیں آپ اپنی کسی فرینڈ سے لے لینا ہم دونوں مل کر مکمل کر لیں گے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں” منہا اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔

لیکن بابھی وہ بھی زیادہ تر کلاس بنک کرتی ہیں ۔۔۔اور پھر مہینے بعد مڈ ٹرمز سٹارٹ ہو جانے ۔۔۔۔۔

کوئی بات نہی کسی سینئر سے بات کرنا وہ آپکی ہیلپ کر دے گا ۔۔۔اچھا اب ابھی سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ریلیکس رہو میں صدیقہ کو گرم دودھ لانے کا کہہ کر آتی ہوں ۔۔۔

کچھ کھا کر پھر آرام کرنا انشا اللہ اللہ شفا دے گا ۔۔۔وہ پیار سے اُسکا چہرہ تھپکتی بولی ۔۔۔

_________________________

منہا نے آج پھر سب کے لیے کافی ڈشز بنائیں۔۔۔۔۔

اریج کو دودھ کا گلاس دے کر اُسے کچھ وقت آرام کرنے کی ہدایت کرتی وہ کچن میں آ گئی ۔۔۔

فارغ بیٹھنے کی اسے عادت نہی تھی اسلیے چھوٹے موٹے کاموں میں لگی رہتی تھی ۔۔۔۔دادی جان کے لیے خود وہ کھانا بناتی ۔۔۔۔انکی دوائیوں کا خیال رکھتی تھی ۔۔۔۔زیادہ وہ دادی کے ساتھ ہی اپنا وقت گزارتی ۔۔۔۔۔۔۔

کچن سے فارغ ہوتی وہ چینج کرکے دادی کے پاس بیٹھی جو اپنے پاس سوئی ہوئی اریج پر کچھ پڑھ کر پھونک رہی تھیں ۔۔۔۔صبح سے ہی اُسے اپنی طبیعت بوجھل محسوس ہو رہی تھی لیکن پہلے اریج کے پاس بیٹھی رہی پھر کاموں میں مصروف اُسنے اَپنی طبیعت پر دھیان نہی دیا ۔۔۔لیکن اب سر درد سے پھٹ رہا تھا ۔۔۔۔۔

دادی کو آرام کرنے کا کہتی وہ خود بھی اپنے کمرے میں آ کر آرام کی غرض سے لیٹ گی ۔۔۔

یوں ہی لیٹے لیٹے وہ سو گئی ۔۔۔۔

____________________________

آج کا دن بہت تھکا دینے والا تھا ۔۔۔۔کچھ اُسے آتے ہوئے بھی کافی دیر ہو گئی ۔۔۔

دادی نے حمزہ کو اریج کا بتانے سے منع کیا تھا خوامخواہ اُس نے پریشان ہوتے رہنا تھا ۔۔۔۔

لیکن جب اُسے اریج کو چوٹ لگنے کا معلوم ہوا تو اُسے سمیع پر غصہ آیا ۔۔۔۔اس سے پہلے کے سمیع اُسکے اعتاب کا نشانہ بنتا دادی بول اٹھیں ۔۔۔۔

بیٹا میں نے ہی اُسے منع کیا تھا ۔۔۔۔زیادہ چوٹ نہی ہے آرام آ جائے گا جلد ہی ۔۔۔

وہ دادی کی بات پر سر ہلاتا اریج کے ماتھے پر لب رکھتا اُن سے منہا کا پوچھنے لگا۔۔۔۔

“منہا کہی دکھائی نہیں دے رہی” ارد گرد دیکھتے اُسکا پوچھا ۔۔..

واہ واہ بڑی یاد آ رہی ہے بیگم کی۔۔۔ہمارا تو کبھی ایسے آتے نہی پوچھا ۔۔۔۔۔

ہائے میرا بھائی بدل گیا ۔۔۔۔

سمیع دادی کے پاس بیٹھتا اُسکی جانب دیکھ کر اونچی آواز سے آہ وزاری کرنے لگا …

فضول گوئی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔حمزہ اُسکی جانب دیکھتے سختی سے بولا ۔۔۔

دیکھئے دادی اب انکو میرا بولنا بھی فضول لگنے لگا ۔۔۔وہ اُسکی بات کا اثر لیے بغیر دادی کی جانب چہرہ پھیرے معصومیت سے بولا ۔۔۔

حمزہ اُسکی ایک ہی تکرار سے زچ ہوتا اس سے پہلے اسکو پکڑتا ۔۔۔۔وہ دوڑ لگا گیا ۔۔۔

دادی اُسکی شرار ت سمجھتی مسکرانے لگیں ۔۔۔۔

تنگ کر رہا تھا تمہیں بس ۔۔۔

“منہا اپنے روم میں ہے آج صبح سے کاموں میں لگی ہوئی تھی آرام کرنے اپنے کمرے میں گئ تھی مجھے لگتا ہے سو گئی ہوگی ویسے بھی صبح سے اُسکے سر میں درد تھا”

اُسکی طبیعت کا سن اُسکا دل پریشان سا ہو گیا ۔۔۔۔

دادی آپ نے منع کرنا تھا نہ اُسکو طبیعت خرابی میں کیا ضرورت تھی کچھ کرنے کی ۔۔۔گھر میں اتنے ملازم موجود ہیں وہ کر لیتے ۔۔۔۔

“میں تو پہلے بھی کافی بار منع کر چکی ہوں لیکن تمہاری بیوی مڈل کلاس لڑکیوں میں سے ہے ۔۔۔۔جنہیں لگتا ہے شوہر کو اچھے کھانے کھلا کر قابو کیا جا سکتا ہے” ۔۔۔ربیعہ بیگم اُسکے قریب آتے ہوئے بے تاثر لہجے میں بولیں۔۔۔۔۔

“مما اُسے میں نے ہی کہا تھا کہ میرے لیے خود کھانا بنایا کرے” وہ اُنکی بات کا اثر لیے بغیر آرام سے بولا ۔۔۔

اُسے اپنی ماں سے بے تحاشا محبت تھی ۔۔۔اُسنے کبھی انہیں آگے جواب نہیں دیا تھا ۔۔۔چاہے وہ غلط بات ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔۔

اس لیے اب بھی ہمیشہ کی طرح نرمی سے بات کرتا وہ بولا ۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے بیٹا!! تمہاری مرضی جس چیز میں تم خوش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہاری خوشی کے لیے ہی میں نے لوگوں کی باتیں سننے کے باوجود تمہاری شادی کی ۔۔۔وہ بولتی اُس کی پیشانی پر لب رکھتیں وہاں سے چلی گئیں ۔۔۔۔

حمزہ خاموش سا انہیں جاتا دیکھتا رہا جب دادی کی آواز سے انکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔

“حمزہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں تم جانتے ہو اسکی عادت ہے اور ویسے بھی تمہاری ماں کی سہیلی اپنی بیٹی کے ساتھ تمہاری شادی کرنا چاہتی تھی اور اس بات کا اظہار وہ ربیعہ کے سامنے بھی کر چکی تھی ۔۔۔۔بس اسی لیے وہ اسے کچھ نہ کچھ سیکھاتی رہتی منہا کے خلاف”۔۔۔۔۔

دادی اُسے متفکر دیکھ رسانیت سے گویا ہوئیں

________________________________

کچھ دیر ان کے پاس بیٹھتا وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔کمرے میں قدم رکھتے ہی نظر اُس پر پڑی جو بیڈ کے بیچوں بیچ کمفرٹر میں دبکے سوئی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

قریب آتے ہی منہا کے چہرے پر نظر پڑتے سارے دن کی تھکن خودبخود ختم ہو گئی۔۔۔،،گہری نیند میں سوئی ہوئی وہ اُسے بہت معصوم لگی۔۔۔۔

اُسکی پیشانی پر لب رکھتا وہ فریش ہونے چلے گیا ۔۔۔۔منہا جو کچھ دیر پہلے ہی سوئی تھی اُسکے لمس سے کمساتی کروٹ بدل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ چینج کرتا اُسکے پاس آ کر ایک طرف لیٹا ۔۔۔اور منہا کو اپنے قریب کیے اُسکا سر اپنے سینے پر رکھتا آنکھیں موند گیا۔۔۔۔تھکن کی وجہ سے وہ بھی جلد ہی نیند میں چلا گیا ۔۔۔۔۔

حمزہ کی آنکھ کھلی تو پاس لیٹی منہا کو دیکھا جو ابھی بھی گہری نیند میں سوئی ہوئی تھی ۔۔۔اُس کے پاس سے آرام سے اٹھتا فریش ہوتا وہ نیچے چلے گیا ۔۔۔کچن میں جاتا ملازمہ سے ناشتہ لے کر آیا تو وہ ابھی تک ویسے ہی سوئی ہوئی تھی ۔۔۔۔

اس پر جھکتے اُسکے چہرے سے بال ہٹاتے ہوئے اُسے پُکارا ۔۔۔منہا اُسکی آواز پر اٹھ کر بیٹھی۔۔۔

گڈ مارننگ کیسی طبیعت ہے آپکی؟؟

اگر زیادہ خراب ہے تو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔۔۔وہ اُسے دیکھتا پریشانی سے بولا۔۔۔

نہیں اب بہتر ہوں بس سر میں درد تھا ۔۔۔رات میں میڈیسین لی تھی میں نے۔۔۔۔۔۔ وہ اُسے اپنے لیے متفکر دیکھ دھیمے لہجے میں بولی اور فریش ہونے چلی گئی۔۔۔

وہ فریش ہو کر بیٹھی تو اس نے ناشتے کی ٹرے اُسکے سامنے لا کر رکھی۔۔۔۔۔۔۔

آپ ویسے ہی ناشتا اوپر لے آئے میری طبیعت ٹھیک ہے ۔۔۔نیچے سبکے ساتھ ناشتا کرتے۔۔۔۔

دادی بھی پریشان ہو رہی ہونگی ۔۔۔وہ اپنا دوپٹہ شانوں پر پھیلاتی بولی۔۔۔۔۔

میں نے کسی کو بھی نہیں بتایا آپ کی طبیعت کا اور ویسے بھی سب ناشتہ کر چکے ہیں۔۔۔

ناشتا کرنے کے بعد و ہ ٹرے اٹھاتا ٹیبل پر رکھ کے خود ڈریسنگ روم میں چینج کرنے چلے گیا باہر نکل کر

وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑا اپنے بالوں کو جیل سے سیٹ کر رہا تھا گرے تھری پیس اُس پر خوب جچ رہا تھا۔۔۔

منہا کو یوں اُسکا کیئر کرنا ۔۔۔اُس سے بات کرنا بہت اچھا لگا ۔۔۔

“اب آپ ریسٹ کریں نیچے جانے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی کوئی کام کرنے کی ۔۔۔جب آپکی طبیعت خراب تھی تو کیوں اٹھیں تھی آپ”۔۔۔۔

منہا نے اُسے کوئی جواب نہیں دیا بس خاموشی سے سر جھکا گئی ۔۔۔

اُسے یوں سر جھکائے دیکھ وہ ایک دم نرم پڑا۔۔۔۔۔۔

اچھا اب اگر زیادہ طبیعت خراب ہوئی تو مجھے فون کرنا ہے آپ نے ۔۔۔۔ہم ڈاکٹر کے پاس چلیں گے اوکے ۔۔۔۔۔۔

منہا نے اثبات میں سر ہلاتے اُسکی جانب دیکھا ۔۔۔وہ اُسکے بالوں پر محبت سے لب رکھتے آفیس کے لیے نکل گیا ۔۔۔

منہا خاموشی سے اپنے کمرے سے منسلک ٹیرس پر آ کر کھڑی ہو گئی ۔۔۔گہرا سانس لیتی وہ تازہ ہوا کو اپنے اندر کھینچنے لگی ۔۔۔۔

زندگی کتنی بدل گئی تھی ۔۔۔۔اُس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا یوں اپنے گھر والوں سے دور ہوگی ۔۔۔

اپنے گھر والوں کو یاد کرتے اُسکی آنکھیں نم ہو گئی۔۔۔

کچھ اُسکی طبیعت عجیب سی ہو رہی تھی۔۔۔

پچھلے کچھ دنوں سے اُسے اپنی طبیعت میں عجیب بوجھل پن محسوس ہو رہا تھا سر میں ابھی بھی درد تھا ۔۔لیکن وہ اپنا وہم سمجھ کر ٹال گئی ۔۔۔۔۔

________________________________

نیچے آتے ہی وہ اریج کے پاس گئی اُسے سوتا دیکھ وہ باہر لان میں چلی گئی ۔۔۔۔تازہ ہوا اور پھولوں کی خوشبو اُسے بہت بھلی لگی ۔۔۔

کچھ وقت لان میں چہل قدمی کرنے کے بعد وہ لاؤنچ میں واپس آتی دادی کے قریب بیٹھ گئی ۔۔۔۔

کیا ہوا ہے منہا بیٹا؟؟؟وہ لہجے میں محبت سموئے اُس کی زرد پڑتی رنگ دیکھتی گویا ہوئیں

کچھ نہی دادی بس تھوڑا سر میں درد ہے ۔۔۔عجیب سی طبیعت ہو رہی ہے اسی لیے تازہ ہوا لینے گئی تھی ۔۔۔۔

اُسکی رنگت دیکھ انہیں اُسکی طبیعت کے بارے میں اندازہ تو ہو گیا تھا لیکن فلحال وہ خاموش رہیں ۔۔۔

کب سے ہےایسی طبیعت ؟؟؟

وہ کھوجتی نگاہوں سے منہا کے چہرے کی جانب دیکھ کر پوچھنے لگیں ۔۔۔

“دو تین دن سے ہی ایسی طبیعت ہو رہی ہے”وہ ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی۔۔۔۔

بیٹا حمزہ آتا ہے تو آپ اُسکے ساتھ جا کر ڈاکٹر کو دیکھا آؤ ۔۔۔۔

نہیں نہیں میں ٹھیک ہوں دادی جان ۔۔۔۔بس ویسے ہی لگتا بخار ہو رہا ہے۔۔۔۔آرام کرونگی تو ٹھیک ہو جاؤنگی ۔۔۔وہ جلدی سے اٹھکر بیٹھتی ہوئی بولی۔۔۔۔

وہ دادی کو اپنے ٹھیک ہونے کا یقین دلاتی واپس کمرے میں آ گئ ۔۔۔سر ہاتھوں میں تھامے وہ بیڈ پر بیٹھ گئی ۔۔۔

تقریباً سارا دن ہی اُسنے اپنے کمرے میں گزارا ۔۔۔۔ شام کو تھوڑی دیر اریج کے پاس بیٹھ کر وہ مغرب کی نماز ادا کرنے کے لئے کمرے میں آئی ۔۔۔۔

نماز میں کھڑے ہوتے ہی اسکو شدید چکر آیا ۔۔۔مشکل سے نماز مکمل کرتی وہ واشروم کی جانب دوڑتی واش بیسن پر جھکی ۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں وہ نڈھال سی ہو کر بیڈ پر لیٹ گئی ۔۔۔۔

حمزہ کمرے میں داخل ہوتا اُسے یوں لیٹا دیکھ فوراً قریب آیا۔۔۔

اُسکا خوبصورت سرخ و سفید چہرہ بلکل زرد تھا ۔۔۔۔ دوپٹہ شانوں پر گرا ہوا تھا ۔۔۔۔ سیاہ گھنے لمبے بال چٹیا سے نکلے بے ترتیب سے پشت پر بکھرے ہوے تھے ۔۔۔

منہا میری جان کیا ہوا آپکو ۔۔۔۔اتنی زیادہ طبیعت خراب تھی تو مجھے کیوں نہی بلایا ؟؟؟ وہ لہجے میں فکرمندی لیے اُس سے پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔

منہا اُسے دیکھ اٹھ کر اٹھکر بیٹھی لیکن سر چکرانے کی وجہ سے اُسکا بازو تھام کر اُسکے کندھے سے سر ٹکا لیا ۔۔۔۔۔۔

حمزہ اُسکی اتنی خراب حالت دیکھ حقیقت میں بوکھلا گیا ۔۔۔۔۔

اُسنے بہت کم اُسکے سر سے دوپٹہ اترا دیکھا تھا ۔۔۔وہ ہمیشہ بہت سلیقے سے دوپٹہ لیتی کے اُسکے بال نظر ہی نہیں آتے تھے۔۔۔حمزہ کی یہ خواہش ہی رہی تھی کے وہ اُسکے بالوں کو دیکھے انکی نرماہٹ کو اپنی انگلیوں پر محسوس کرے اور آج خواہش پوری ہوئی بھی تو کس طرح ۔۔۔۔۔۔۔۔

اُس کے چہرے سے بال ہٹاتا وہ محبت سے بولا “چلیں جلدی سے اٹھیں ہم ہسپتال چلتے ہیں “۔۔۔۔اور اٹھ کر الماری سے چادر نکال کر اُسے پکڑائی ۔۔۔جسے وہ تھام کر اپنے گرد اچھے سے لپیٹ گئی ۔۔۔

اُسکے گرد حصار بنائے وہ گاڑی تک لایا اور ہسپتال لے گیا۔۔۔۔۔۔

____________________________

“کانگریجولیشن!!!!! سر یور وائف از پریگننٹ “

ڈاکٹر مسکراتی ہوئی کہتی روم سے باہر نکل گئی ۔۔۔حمزہ خوش ہوتا جلدی سے ہسپتال کے پرائیویٹ روم میں داخل ہوا ۔۔۔

وہ سامنے بیڈ پر ٹانگیں لٹکائے بلکل خاموش سر جھکائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔

“منہا میری جان بہت بہت شکریہ ۔۔۔۔مجھے اتنی بڑی خوشی دینے کے لیے” اُسکے قریب آتے اُسکا چہرہ ہاتھوں میں تھامے وہ محبت سے بولا ۔۔

وہ کچھ نہیں بولی بس خاموش رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

___________________________

میڈیسین لیتے وہ واپس گھر کے لیے نکلے۔۔۔۔منہا خاموشی سے باہر چلتی گاڑیوں اور روشنیوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

جانے کیوں وہ اتنی خاموش تھی ۔۔۔۔اتنی بڑی خوشی کی خبر سن کر وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کے وہ کیا کہے ۔۔۔۔اُسے کچھ محسوس نہی ہو رہا تھا ۔۔۔اک کشمکش سی اندر چل رہی تھی جسے سمجھنے سے وہ قاصر تھی ۔۔۔