970.6K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 17)

Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes

بابا نہیں ۔۔۔۔” بابا آپ مجھے نہیں چھوڑ کے جا سکتے”

اٹھئیں ناں ” بابا ۔۔۔۔

وہ مسلسل اپنے بابا کا نام لیتی چیختی جا رہی تھی

منہا”….منہا “

حمزہ اُسکا نام پکارتے اُسے جنجھورنے لگا جو بند آنکھوں سے مسلسل چیختی ایک ہی نام پکاڑے جا رہی تھی

منہا ۔۔۔”

میری جان کیا ہو گیا ہے آنکھیں کھولیں ۔۔۔وہ اُسکا چہرہ تھپتھپاتے بولا۔۔۔۔

لیمپ کی مدھم روشنی میں وہ اسکو آنکھیں کھول دیکھنے لگی ۔۔۔

حمم۔۔۔۔حمزہ ” ۔۔۔ میرے بابا

اُسکا نام ادا کرتے وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی

کچھ بھی نہیں ہوا منہا ۔۔۔

سب ٹھیک ہے وہ اُسے اپنے سینے سے لگاتا بولا ۔۔۔

وہ سمجھ گیا تھا کے اُسنے یقیناً کوئی برا خواب دیکھا ہے جسکی وجہ سے وہ مسلسل رو رہی تھی۔۔۔

جلدی سے سائڈ ٹیبل سے پانی کا جگ لیتے وہ گلاس میں پانی انڈیلتے اُسکے ہونٹوں سے لگا گیا ۔۔۔۔

تھوڑا سا پانی پیتی وہ گلاس ہٹاتی بولی

مجھے بابا کے پاس جانا ہے ابھی اسی وقت وہ نم آنکھوں سے اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔

منہا سب ٹھیک ہے ۔۔۔

ہم صبح چلیں گے ۔۔۔میں خود آپکو لے جاؤنگا کل ۔۔۔

اس وقت اُنکی نیند خراب ہو جائیگی وہ محبت سے بولتا اُسکے بالوں پر لب رکھ گیا

نہی میں نے بہت بڑا ‘خواب” دیکھا

میرے بابا” ۔۔۔

مجھے ابھی بات کرنی ہیں اُن سے

وہ ٹھیک نہی تھے حمزہ آپ کیوں نہی سمجھ رہے میرا اس وقت اُن سے ملنا کتنا ضروری ہے

وہ بے بسی سے بولتی ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھر سے رونے لگی ۔۔۔

اچھا آپ پلیز اس طرح مت روئیں۔۔۔۔آپ ایسا کریں اپنے بھائی کو کال کرکے پوچھ لیں۔۔

وہ اسکو اس طرح روتا دیکھ ساتھ لگاتا بولا۔۔۔

ہمہم،،، میں کرتی ہوں ۔۔

وہ موسیٰ سے بات کرتی سب کی خیریت معلوم کرتی پرسکون ہوئی ۔۔۔

اُسکے سینے پر سر رکھ کر گہرا سانس کھینچتی وہ آنکھیں موند گئی

وہ اُسکے بال سہلاتا مختلف سوچوں میں گھرا ہوا تھا۔۔۔

نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی

ایک ہی ڈر ستاے جا رہا تھا کے اگر وہ اپنے گھر والوں سے ملنے کے بعد اُسے بھول گی تو۔۔۔”

پہلے ہی کافی وقت بعد تو وہ اُس کے ساتھ ہنسنے بولنے لگی ہے ،،،

عجیب کشمکش میں وہ خود کو گھڑا محسوس کر رہا تھا۔۔۔ دماغ الگ تانے بن رہا تھا ۔۔۔۔۔ ایک پل کے لیے وہ خود غرض ہوا ۔۔۔۔

سب خیالوں کو پس پشت ڈالتے وہ آنکھیں موند گیا

______________________

وہ باہر کھلےصحن میں بیٹھی آسمان کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

جب قدموں کی چاپ پر انہوں نے نظروں کا زاویہ پھیرا ۔۔۔۔

کیا کر رہی ہیں یہاں رات کے اس پہر۔۔۔

منہا کے بابا (ارتضیٰ صاحب) اُنکے قریب آتے بولے۔۔۔

کچھ نہی بس نیند نہی آ رہی تھی

تو ٹھنڈی ہوا لینے باہر آ گئی وہ اپنی آنکھوں کی نمی چھپاتی لہجے کو کافی حد تک نارمل رکھتی بولی ۔۔۔

لیکن مقابل بھی اُنکے شریک حیات تھے اُنکی رگ رگ سے واقف تھے

اچھا جہاں تک مجھے معلوم ہے آپکو تو ٹھنڈی ہوا بلکل نہی پسند

وہ انکا چہرا اپنی جانب کرتے بولے

کلثوم بیگم اُنکی جانب دیکھتی ہاتھوں میں چہرہ چھپائے رو پڑی “

مجھے ‘منہا ” بہت یاد آ رہی ہے

چار ماہ سے میں نے اپنی بچی کا چہرہ نہیں دیکھا ۔۔

اسکو میں ایک منٹ اپنی نظروں سے اوجھل نہی ہونے دیتی تھی اب چار ماہ سے اُسکا چہرہ تک نہیں دیکھا

وہ بے بسی سے بولیں

میرا دل پھٹ رہا ہے ۔۔۔۔پتہ نہیں میری بچی کیسی ہوگی “میرا دل ہول رہا ہے

مجھے اُسکے پاس جانا ہے ۔۔۔۔میں مر جاونگی اُسکے بغیر وہ روتے ہوے بولتی اُنکے کندھے سے اپنا سر ٹیکا گئی ۔۔۔۔

ارتضیٰ صاحب خود بھی اپنے پر سختی کا خول

چہرہاے پھر رہے تھے

لکین اب اپنی بیوی کی ایسی خالت دیکھ کر اُنکی اپنی آنکھیں نم ہو گئی ۔۔۔

آپکو میں نے کب منع کیا اُس سے ملنے سے ۔۔۔۔آپ رابطہ رکھیں اُس سے ۔۔۔اولاد ہے ہماری

اور اولاد تو غلطیاں کر جاتی ہے ۔۔۔مان باپ کا فرض ہے

اُنھیں معاف کرنا ۔۔۔اُنھیں سمجھآنا ۔۔۔

مجھے لگتا ہے ہم نے اپنی بیٹی کے ساتھ بہت غلط کر دیا ۔۔۔۔اُسے یوں ایک پل میں پرایا کر دیا …

اُنکی رندھی ہوئی آواز سن کر وہ ایک دم اُنکے کندھے سے سر اٹھا گئی اور کانپتی ہوئ آواز میں بولی ۔۔۔

وہ ٹھیک تو ہوگی نا؟؟

انشا اللہ مجھے اپنے رب پر یقین ہے ،،

ہماری بیٹی بلکل ٹھیک ہوگی ۔۔۔۔ہم کل ہی اُس سے ملنے جائے گے

میں بس اسلیے خاموش تھا کے کچھ دیر وہ ہم سے دور رہے اسکو اُسکی غلطی کا احساس ہو ۔۔۔

اُسے خود سے دور کیا تھا رشتا نہی ختم کیا

جلد اُسے اپنے ساتھ لے کر آئیں گے

وہ اُنکی آنکھوں میں بیٹی کے لیے تکلیف دیکھ سکتی تھی اسی لیے خاموشی سے سر کو جنبش دے گئ

_____________________

حمزہ نے منہا کے گھر والوں کو ساری بات بتا دی اور ان سے معافی مانگی۔۔۔

کلثوم بیگم سچ جان کر بلکل ساکت ہو گئی ۔۔۔۔ ارتضیٰ صاحب کا بھی حال کچھ ایسا ہی تھا ۔۔۔

وہ کیسے نہ سمجھ پائے اپنی بیٹی کو کلثوم بیگم اپنی بیٹی کا سوچتی ایک بار پھر سے رو دی “

حمزہ انکے قریب آتا اُنکے قدموں میں بیٹھ گیا ۔۔۔

آنٹی یقین جانئے میں آپکی بیٹی سے بہت محبت کرتا ہوں ۔۔۔

میں جانتا ہوں بہت تکلّیف دے چکا ہوں آپکو

لیکن ایک بار مجھے معاف کر دیں

ارتضیٰ صاحب نے اُسے اُنکے قدموں سے اٹھایا اور گلے لگاتے بولے

ہم اپنی بیٹی سے ملنا چاہتے ہیں

وہ خوش ہوتا اُنکے گلے لگ گیا ۔۔۔۔

ضرور وہ بھی آپ سے ملنے کے لیے بہت بے چین ہے

موسیٰ سبکو اکٹھا دیکھ خوش ہوتا اُنکے قریب آیا ۔۔۔۔میں بھی آپکی ہی فیملی کا فرد ہوں ۔۔

یاں داماد ملتے ہی مجھے بھول گئے وہ سب کا موڈ خوشگوار کرنے کے لیے بولا

تو ہم کب بھولے ہیں تمہیں آ جاؤ تم بھی حمزہ اُسکے گلے لگتا بولا ۔۔۔۔۔

آپی کیسی ہیں؟؟…

خود چل کر دیکھ لو وہ مسکراتا بولا

وہ خوش تھا اب سب تھیک ہو جائے گا

————————

منہا لان میں بیٹھی سب سے باتیں کر رہی تھی

پورچ میں گاڑی رکنے کی آواز آئی ،،

لو جی آپ کے سیاں جی آ گئے “

خود تو آپ کے بغیر رہتے نہی اور مجھ بیچارے پر ظلم کر رہے ہیں ۔۔۔۔

سمیع جلتا ہوا بولا ۔۔۔۔

منہا اُسکی بات سنتی جھینپ گئی اُسے آنکھیں دیکھاتی

وہ نظروں کا زاویہ پھیرتی اپنی ماں کو اپنے قریب آتا دیکھ رہی تھی۔۔۔

اُسکے سوچنے سمجھنے کی سلاحیت جیسے ختم ہو گئی ۔۔۔

وہ یک ٹک اپنی ماں کو قريب آتا دیکھ رہی تھی

اپنی مما سے ملو گی نہی وہ قریب آتی بولی

وہ اٹھتی اُنکے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔

دونو مان بیٹی مل کر رو دی ۔۔۔

اپنے بابا کو قریب آتا دیکھ وہ سر جھکا گئی ۔۔۔

مجھے معاف کر دیں بابا وہ سسکتی ہوئی بولی

نہیں میری جان معافی تمہیں نہی بلکہ ہمیں مانگنی چاہیے

وہ اُسے ساتھ لگاتے غمگین لہجے میں بولے۔۔۔

ہم جان گئے ہیں ساری حقیقت ۔۔۔

حمزہ نے سب بتا دیا ہے ہمیں ۔۔۔

ہم بہت شرمندہ ہیں میری بچی ہمیں معاف کر دو ۔کلثوم بیگم نم آنکھوں سے اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔

نہی مما مجھے اس طرح معافی مانگ کر گنہگار نہ کریں بس وقت اور خالات ایسے تھے آپکی غلطی نہیں

پیچھے ہی حمزہ اور موسیٰ بھی اُنکے قریب آ رہے تھے

وہ موسیٰ کے گلے لگتی اُسکا چہرہ ہاتھوں سے چھونے لگی ۔۔۔

اُسکے ماتھے پر لب رکھتی وہ اُسکے سینے سے لگ گئی

دونو بہن بھائی بے آواز رونے لگے

بابھی بس بھی کر دیں ۔۔۔۔

میں بھی یہی موجود ہوں۔۔۔۔

اپنے گھر والوں کو دیکھ آپ مجھے بھول گئ ۔۔۔

ہماری تو کوئی ویلیو ہی نہی رہی دادو

وہ خفا ہوتا بولا تو سب ہنس دیے ۔۔۔

ہاں نہ کب تک تمہیں برداشت کروں ۔۔۔منہا اُسکی جانب دیکھتی بولی

سمیع تو اُسکی بات سنتا بھونچا کے رہ گیا

منہا اُسکا چہرہ دیکھ کر مسکرا دی

سب ہنسی خوشی لاؤنج میں آ گئے ۔۔۔۔ سب لوگ منہا کی طرف سے اتنی بری خوشبری سنتے بہت خوش ہوئے

کلثوم بیگم اُسے ساتھ لگاتی بہت سی ہدایت کرنے لگی

اور حمزہ سے اُسے ساتھ لے کر جانے کی بھی بات کر لی

حمزہ کا تو منہا کے جانے کی بات سنتے ہی چہرہ اُتر گیا ۔۔

اُسے یوں خاموش دیکھ منہا خود ہی اُنھیں بولی

مما میں بعد میں آونگی زیادہ دیر کے لیے۔۔

خوشگوار ماحول میں سب بیٹھے باتیں کر رہے تھے ،

اریج آوازیں سنتی لاؤنج میں آئی تو سب بیٹھیں باتوں میں مشغول تھے ۔۔۔۔

سب کو حیرانی سے دیکھتی

وہ قریب آتی سلام کرتی اُنکے پاس بیٹھی جب اُسکی نظر پاس بیٹھے موسیٰ پر پڑی جو حمزہ سے مسکراتا کوئی بات کر رہا تھا ۔۔۔

آپ یہاں ۔۔۔۔

اریج اُسے خیرت سے دیکھتی بولی ۔۔۔جبکہ موسی بھی خیرت زدہ سا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

آپ جانتے ہیں ایک دوسرے کو منہا اُنھیں دیکھتی بولی

بابھی یہ وہی ہیں جنہوں نے میری ہیلپ کی تھی بتایا تھا ناں میں نے آپکو

وہ اپنی خیرت پر قابو پاتی بولی ۔۔۔

میں بھی کب سے یہ سوچ رہا تھا کہ یہ موصوف کہی دیکھے بالے لگتے ہیں

سمیع تھوڑی کھوجاتا بولا ۔۔۔

اریج اور سمیع دونو موسیٰ سے باتوں میں مصروف ہو گئے

منہا اپنے بھائ کی آنکھوں میں اریج کے لیے پسندیدگی دیکھ چکی تھی ۔۔

لیکن فلوقت خاموش رہی

اٹھتی سب کے لیے ریفریشمنٹ کا کہنے چلی گئی