Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes Readelle 50364 Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 5)
No Download Link
Rate this Novel
Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do (Episode 5)
Khuwab Ay Dill Bikharne Naw Do By Yumna Writes
دن ایسے ہی بے کیف گزر رہے تھے ۔۔۔۔
اچانک حمزہ کو ایک ڈیل کے لیے دبئی جانا پر گیا اور اس سب میں وہ منہا کو لے کر بالکل غافل ہو گیا ۔۔۔۔۔
وہ سویا ہوا تھا موبائل کی مسلسل بجتی بیل سے اس کی آنکھ کھلی۔۔۔۔
“کیا بات ہے رفیق تم جانتے ہو کے میں ابھی آیا ہوں پھر اس گستاخی کا مطلب” ۔۔۔۔وہ فون اٹھاتے غصے سے دھاڑا رفیق کا تو رنگ ہی اُڑگیا ۔۔۔
اب بکو بھی کیا بات ہے؟؟؟
“سر وہ بات بہت ضروری تھی اسلئے کال کی ۔۔۔۔سر آپنے کہا تھا کے میڈم پر نظر رکھو ۔۔۔۔سر مجھے لگتا ہے میڈم کی شادی ہے میں نے اُنکا پیچھا کیا وہ بازار جا رہی تھیں انہیں اپنی والدہ سے بات کرتے سنا تھا میں نے وہ ان سے بات کررہیں تھیں شادی سے ریلیٹڈ” وہ جلدی جلدی اس کو سب بتانے لگا۔۔۔۔۔۔
یہ سننا تھا کے حمزہ کا چہرہ لال ہو گیا ۔۔۔۔”تو تم نے کر لی اپنی مرضی اب دیکھنا میں کیا کرتا ہوں”۔۔۔۔
اس نے فوراً اپنی واپسی کی ٹکٹ بک کروائی ۔۔۔ اس کے اندر پکتا لاوا کسی طور بھی کم نہیں ہورہا تھا ۔
________________________________
منہا مدرسہ سے نکل کر گھر واپس آ رہی تھی کہ اچانک اسکے قدموں کے پاس گاڑی رکی اور کسی نے اسے کھینچ کر اندر دھکا دیا۔۔۔۔۔منہا اس افتاد کہ لیے تیار نہ تھی…
اُسے سمجھ نہیں آئی ہوا کیا ہے ۔۔۔۔۔گاڑی ہواؤں سے باتیں کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
“کون ہو تم گاڑی روکو؟ ۔۔۔۔میں چیخ کے سبکو اکٹھا کر لونگی” وہ چیختی ہوئی اُسکا بازو جھنجھوڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔
جیسے ہی اسکی نظر مقابل پے پڑی رنگ ایک دم سے پھیکا پڑ گیا ۔۔۔۔۔
“تم !!۔۔۔۔تم یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔۔یہ کیا حرکت ہے روکو گاڑی” ۔۔۔۔۔
“میں نے کہا تھا نہ کے تم سے شادی صرف میں کرونگا پھر تمہیں میری بات سمجھ نہیں آئی تھی کیا”؟؟ حمزہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں بولا۔۔۔۔۔
“بکواس بند کرو اور روکو گاڑی” ۔۔۔۔۔۔ منہا غصے سے چلائی….
گاڑی ایک دم سے رکی کسی خاموش جگہ پر منہا بہت زیادہ خوفزدہ ہو گئی ۔۔۔۔حمزہ نے بازوں سے پکڑ کے اسکو باہر نکالا ۔۔۔۔اور فون پے ایک نمبر ڈائل کرکے سپیکر آن کر دیا ۔۔۔
بہت غلطی کی تم نے منہا۔۔۔تم جانتی نہی ابھی “حمزہ شاہ” کو ۔۔۔۔۔۔
اسپیکر پے جو بات اسنے سنی اس سے اُسکا دماغ ماؤف ہو گیا ۔۔۔۔۔
“نہی تم ایسا نہی کر سکتے ۔۔۔پلیز اُسے روکو پلیز میرے بھائی کو چھوڑ دو” ۔۔۔۔۔
میرا نکاح ہونے والا ہے پلیز ایسا نہ کرو میرے گھر والے لوگوں کو کیا کہیں گے ۔۔۔۔میں کیسے انکار کرونگی سبکو شادی کی تیاریاں مکمل ہونے والی ہیں اگلے مہینے میری شادی ہے ۔۔۔۔۔
اللہ کا واسطہ مجھے چھوڑ دو!!!
“مجھے صرف ہاں سنننی ہے ورنہ” کہتے ہی حمزہ نے گنتی شروع کی ۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ،،،،،، دو
رکو رکوتم جو کہو گے میں کرونگی ابھی وہ تین بولتا کہ وہ جلدی سے بول اٹھی ۔۔بس میرے بھائی کو کچھ مت کرنا ۔۔۔۔میں تم سے نکاح کے لیے تیار ہوں۔۔۔۔
سوچ لو ایک بار ۔۔۔اگر مجھے انکار ملا تو اگلی بار موقع نہیں دونگا ۔۔۔۔۔
“نہیں نہیں میں سچ کہہ رہی ہوں ۔۔۔جیسا تم کہوگے میں ویسا ہی کرونگی اُسے منع کرو۔۔۔۔۔ اسے بولو میرے بھائی سے دور رہے” منہا روتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
“تمہارا کام ہو گیا تم جا سکتے ہو ضرورت پڑی تو دوبارہ کال کرونگا “۔۔۔۔۔یہ کہتے ساتھ ہی حمزہ نے فون بند کردیا ۔۔۔۔۔اور منہا کی جانب متوجہ ہوا
دو دن بعد میرے گھر والے آئیں گے تمہاری طرف ۔۔۔جواب ہاں ہی ہونا چاہیے اُسکا گال تھپتھپا کر وہ اسے لیے گاڑی میں بیٹھا اور اُسے گھر چھوڑ کر واپس روانہ ہو گیا ۔۔۔
بس اسی کام کے لیے وہ آیا تھا تاکہ ایک دفعہ اُسے اپنے سٹائل میں سمجھایا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_____________________________
منہا خاموش سی گھر میں داخل ہوئی تو کلثوم بیگم نے اسے دیکھتے متفکر لہجے میں پوچھا ۔۔۔
منہا بیٹا آج اتنی لیٹ کیوں آئی ہو ؟؟
“مما کچھ نہی بس مدرسہ میں دیر ہو گئی” ۔۔وہ غائب دماغی سے انھیں جواب دیتی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔منہا اب آنے والے وقت کے لیے پریشان تھی کہ کیا ہوگا اب ۔۔۔۔۔کہاں پھنس گئی ہے وہ ۔۔۔۔یہی سوچتے سوچتے وہ روتی روتی سو گئی ۔۔۔۔۔
____________________________
شام میں اسکی آنکھ موسیٰ کی آواز سے کھلی جو کب سے اُسے ہی اٹھا رہا تھا ۔۔۔۔اُٹھ جاو آپی ۔۔۔میں برگر لے کر آیا ہوں ٹھنڈا ہو جانا ۔۔۔۔۔ہاں بس آ رہی ہوں ۔۔۔۔۔
منہا یہی سوچ رہی تھی کے اگر آج کچھ ہو جاتا تو ۔۔۔۔اسکی مما کی تو جان بستی ہے اپنے بیٹے میں اور وہ کیسے زندہ رہتی اپنے جان سے پیارے بھائی کے بغیر ۔۔۔۔۔۔۔
اللہ پاک اب میں کیا کروں آپ ہی میری مدد کرسکتے ہیں بس ۔۔۔۔۔۔۔
