Junoon e Ishq by Wafa Shah NovelR50535 Junoon e Ishq (Episode 33)
Rate this Novel
Junoon e Ishq (Episode 33)
Junoon e Ishq by Wafa Shah
گہری ہوتی رات جب سبھی ذی روح نیند کی وادیوں میں کھو کر سوئے ہوئے تھے ،،،، وہی آفتاب ملک نے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر زینیہ ملک کے کمرے میں قدم رکھے تھے ۔۔۔”
جہاں سامنے ہی وہ پری پیکر ،،، آفتاب ملک کے دل کا سکون لوٹنے کے بعد ،،،، آنکھیں موندے دنیا جہاں سے غافل دواوں کے زیر اثر گہری نیند سو رہی تھی ۔۔۔”
اسکے خوبصورت معصوم چہرے کو دیکھتے ایک لمحے کیلئے آفتاب کو اپنے دل میں سکون اترتا محسوس ہوا۔۔۔
لیکن دوسرے ہی پل اسکی آج کی حرکت یاد کرتے ،،،، غصے سے ایک بار پھر اسکی رگیں تن گئیں تھیں ۔۔۔
آخر کیا ضرورت تھی اسے اس بیوقوفی بھرے فعل کو انجام دینے کی ۔۔۔” اگر اسے یا پھر اسکے وجود میں پل رہی ننھی جان کو کچھ ہو جاتا تو وہ کیسے برداشت کر پاتا ۔۔۔”
لایعنی سوچوں کے گھیرے میں وہ بھاری قدم اٹھاتا اسکے قریب آ گیا تھا ۔۔۔”
آفتاب کی نظریں بیڈ پر بکھرے اسکے کھلے بالوں سے ہوتیں ،،،، اسکی بند آنکھوں اور پھر ستواں ناک سے ہوتے سختی سے بھینچے ہوئے پنکھڑیوں جیسے لبوں پر آ کر رکی تھیں ۔۔۔”
جس سے نیند میں ہونے کے باوجود بھی اسکے درد میں ہونے کا واضح پتا لگایا جا سکتا تھا ۔۔۔”
آفتاب نے نرمی سے جھکتے ہوئے اسکی پیشانی پر اپنے دل لب رکھے ۔۔۔۔”اور چند لمحوں کیلئے وہی پر ٹھہر گیا ۔۔”
جبکہ گہری نیند میں ہونے کے باوجود بھی زینیہ نے اسکا یہ لمس اپنی روح تک محسوس کیا ۔۔۔”
بہت غلط کیا ہے آپ نے میرے ساتھ ۔۔۔” یوں خود کو تکلیف پہنچا کر آپ نے میری روح کو تکلیف پہنچائی ہے ۔۔۔
جس کیلئے میں آپکو بالکل بھی معاف نہیں کروں گا ۔۔۔”
سزا بھگتنی ہوگی آپکو ۔۔۔” تڑپنا ہوگا ۔۔۔بالکل ویسے جیسے اس حال میں آپکو دیکھتے میں تڑپا تھا ۔۔۔”
اسکے دائیں گال کو نرمی سے سہلاتے وہ سپاٹ لہجے میں بول رہا تھا ۔۔۔”
جبکہ نظریں ہنوز اسکے سرخ لبوں پر ٹکا رکھی تھیں ۔۔”
میں آپکے قریب بھی رہوں گا ،،،، آپکی سانسوں میں بھی بسوں ،،،، لیکن بالکل اجنبیوں کی طرح ۔۔۔”
اسکے نچلے سرخ لب پر انگوٹھا رب کرتے آفتاب کی آنکھوں میں چمک ابھری تھی ۔۔۔”
جس پر اس نے جھک کر زینیہ کے نچلے لب کو اپنے ہونٹوں کی سخت گرفت میں جکڑا ۔۔۔”
زینیہ کے ہاتھ بےساختہ اسکے کندھے پر آئے تھے ۔۔۔”
آفتاب نے اسکے نرم ہاتھوں کے لمس کو محسوس کرتے اپنی شدت میں مزید اضافہ کیا تھا ۔۔۔”
زینیہ کو دی جانی والی میڈیسن میں نیند کی دوائی کی بھاری مقدار شامل تھی ۔۔۔”
تاکہ وہ ہر درد سے آزاد ہو کر پرسکون نیند سو سکے ۔۔۔”
لیکن اسکے باوجود بھی آفتاب کا یہ دہکتا ہوا لمس ،،،، اسے تڑپنے پر مجبور کر گیا تھا ۔۔۔”
بہت چاہنے کے باوجود بھی وہ اپنی آنکھیں نہیں کھول پا رہی تھی ۔۔۔”اسے ایسا لگ رہا تھا ،،،، جیسے وہ نائٹ میئر کا شکار ہو گئی ہو ۔۔۔کوئی اسے اپنے شکنجے میں جکڑے ،،، اسکے وجود سے اسکی سانسیں کھینچ رہا تھا ۔۔۔
جبکہ آفتاب کی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی ہوئی شدت کے ساتھ اسکے کندھوں پر زینیہ کی گرفت بھی مظبوط ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔”
زینیہ کے سانسیں اسکے سینے میں اٹکنے لگیں۔۔۔جہاں پہلے ہی گولیلگنے کا درد جو اب شدت اختیار کر چکا تھا ۔۔۔”
مزید تکلیف نا برداشت کرتے اسکی بند آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے ۔۔۔
جنہیں محسوس کرتے ہوئے وہ نرمی سے پیچھے ہوا ۔۔۔”
جس کے ساتھ ہی اس نے گہری سانس لیتے اپنی سانسوں کو درست کرنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔”
آفتاب کی نظریں اسکے خون چھلکاتے ہونٹوں سے پھسلتی حسین سراپے پر آئیں تھیں ۔۔۔”
گہری سانسیں بھرتا اسکا نازک سراپا ،،،، آفتاب کے جذبات میں طلاطم برپا کر گیا ۔۔۔”
اسکی سرخ آنکھوں میں زینیہ کیلئے قربت کی خماری چھانے لگی ۔۔”
اس نے نرمی سے جھکتے اسکے زخم پر اپنے لب رکھے ۔۔۔” جسے محسوس کرتے زینیہ تڑپ اٹھی تھی ۔۔۔”
آفتاب ۔۔۔”
اسکے کندھوں پر اپنی گرفت مظبوط کرتے بند آنکھوں کے ساتھ اسکا نام پکار گئی ۔۔۔”آفتاب کے ہونٹوں پر خوبصورت مسکراہٹ کھلی ۔۔۔”جبکہ آنکھوں میں جنون کی سرخی اتر آئی ۔۔۔
اس نے اپنا چہرہ اٹھا کر اسکے حسین چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔”
آپکے بہت پاس ہو کر بھی ،،،، بہت دور ہونے کا احساس دلاؤں گا زینیہ ملک ۔۔۔”
تاکہ آپکو میری تکلیف کا اندازہ ہو سکے ۔۔”
جو آپکو تکلیف میں دیکھتے آپکے دور جانے کے احساس سے پل پل میرے دل نے سہی ۔۔۔”
اسکے بہتے ہوئے آنسوؤں کو اپنے پوروں سے چنتے وہ سخت لہجے میں بولتا ایک جھٹکے میں اس سے دور ہوا تھا ۔۔۔”
زینیہ کو ایسا لگا جیسے کسی نے اسکے وجود کے حصے کو کاٹ کر اس سے علیحدہ کر دیا ہو ۔۔۔”
وہ تڑپ کر اپنی آنکھیں کھولتی ایک جھٹکے میں بیدار ہوئی ۔۔”
اس نے اپنی سرخ کانچ سی آنکھیں اپنے آس پاس گھمائیں ۔۔۔لیکن کمرے میں اسکے علاوہ کوئی بھی موجود نہیں تھا ۔۔۔”
وہ علیحدہ بات آفتاب ملک کی خوشبو اسے اپنے چاروں طرف رقص کرتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
اس نے اپنے دائیں ہاتھ کے پوروں سے اپنے نم لبوں کو چھوا ۔۔۔جن پر آفتاب ملک کا دہکتا لمس ابھی تک اپنی پوری آب و تاب سے موجود تھا ۔۔۔”
جسے محسوس کرتے اسکے مخملی لب مسکراہٹ میں ڈھلے ۔۔۔” زینیہ نے اپنا نچلہ لب دانتوں تلے دباتے ایک بار پھر پورے کمرے میں اپنی نظر دوڑائی ۔۔۔”
اسکا دل گواہی دے رہا تھا کہ آفتاب کچھ دیر پہلے یہی پر موجود تھا ۔۔” لیکن وہ اسکے سامنے کیوں نہیں آ رہا تھا ۔۔۔”
کتنے گھنٹے ہو گئے تھے اسے اپنے روبرو دیکھے ہوئے ۔۔۔” وہ لاکھ اس سے ناراض رہتا ،،، لیکن یوں آنکھوں سے اوجھل تو نا ہوتا ۔۔۔”
آفتاب کی بےرخی کو یاد کرتے اسکا دل اداس ہو گیا تھا ۔۔۔” اب اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ اپنے روٹھے ہوئے پیا کو کیسے منائے ۔۔۔
غلطی اسکی تھی تو منانا بھی اسے ہی تھا ۔۔۔لیکن کیسے یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔۔”
ایک تو اسے آفتاب کے غصے سے شدید ڈر لگتا تھا ۔۔۔” اور اوپر سے اسکی ناراضگی ۔۔۔”
آفتاب مان جائیں نا پلیز ،،،، مجھ سے آپکی یہ ناراضگی برداشت نہیں ہو رہی ۔۔۔”
ایک بار آ کر مجھے اپنے سینے سے لگا لیں ۔۔۔
وعدہ کرتی ہوں دوبارہ آپکی بات کبھی نہیں ٹالوں گی ۔۔۔”
نم لہجے میں بولتے ہوئے اس نے اپنی جلتی ہوئی آنکھیں بند کی تھیں ۔۔۔جس کے ساتھ آفتاب کا مسکراتا ہوا عکس اسکی آنکھوں میں آن سمایا تھا ۔۔۔”
آفتاب کے لبوں پر کھلی مسکراہٹ جبکہ دائیں گال میں ظاہر ہوتا بھنور ،،،، جسے آگے بڑھ کر اس نے چھونا چاہا ۔۔۔لیکن اس کے ساتھ وہ عکس ہوا میں تحلیل ہو گیا ۔۔۔”
جس پر زینیہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔۔۔اس نے اپنی بند آنکھیں کھولیں ۔۔
آفتاب ایک بار معاف کر دیں پلیز ۔۔۔”
اسکی ہچکیوں میں ایک التجا تھی ۔۔۔” لیکن اسے سننے والا اس وقت بہت دور تھا ۔۔۔”
اگر وہ اس وقت قریب ہوتا ۔۔۔تو اسے یوں روتے ہوئے دیکھ لمحے میں اسے اپنے سینے میں سمیٹ لیتا ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°
زرباب کو ہوش آتے ہی اس نے زینیہ کے پاس جانے کی رٹ لگا لی تھی ۔۔۔”
آفتاب جو فلحال اسکے سامنے نہیں جانا چاہتا تھا ،،، اسکی ضد کے سامنے ہارتا ہوا اسے لے کر زینیہ کے کمرے کی طرف بڑھا ۔۔۔”
کیونکہ فلحال اسکے علاوہ ہاسپٹل میں گھر کا کوئی دوسرا فرد موجود نہیں تھا ۔۔۔”
ایک تو وہاں زیادہ لوگوں کو رہنے کی اجازت نہیں تھی ۔۔۔دوسرا جہانزیب ملک کی طبیعت بھی زیادہ ٹھیک نہیں تھی ۔۔۔” جسکی وجہ سے اس نے زبردستی انہیں گھر بھیج دیا تھا ۔۔۔
اور جب زوہیب ملک اور عائشہ ملک نے زینیہ کے پاس رکنے کی بات کی تو اس نے زوہیب ملک کی طبیعت کو دیکھتے منع کر دیا تھا ۔۔۔” کیونکہ زینیہ کو اس حال میں دیکھ کر انکے سینے میں جو درد اٹھا تھا ۔۔۔”ڈاکٹر کے مطابق انہیں فلحال آرام کی ضرورت تھی ۔۔۔”
جو ہاسپٹل میں ناممکن تھا ۔۔۔”
اور جب انہوں نے پوچھا کہ وہ زینیہ اور زرباب کو ایک ساتھ کیسے دیکھے گا تو شعیب نے آگے بڑھ کر انہیں تسلی دی تھی کہ وہ آفتاب کے پاس ہی ہے وہ دونوں ہینڈل کر لینگے ۔۔۔
ویسے تو زینیہ کی حالت خطرے سے باہر تھی ۔۔۔لیکن اسکے باوجود بھی زوہیب کا اسے چھوڑ کر جانے کا بالکل دل نہیں تھا ۔۔۔
لیکن پھر آفتاب کے اسرار پر انہیں اسکی بات کا مان رکھنا پڑا تھا ۔۔۔” شعیب جو رات بھر آفتاب کے ساتھ ہی رہا تھا ۔۔۔”
زرباب کے ہوش میں آتے اور کل سے آفتاب کو بنا کچھ کھائے پیے ہی سب کا خیال کرتے دیکھ وہ کینٹین کی طرف بڑھ گیا تھا ۔۔۔”
تاکہ ان کیلئے کچھ ہلکا پھلکا کھانے کا انتظام کر سکے ۔۔۔”
زینیہ کے کمرے کا دروازہ کھولتے وہ زرباب کو لے کر اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔”
زینیہ جو پہلے سے ہی جاگ رہی تھی ۔۔۔ان دونوں کو اندر داخل ہوتے دیکھ نرمی سے مسکرائی تھی ۔۔۔”
جسے دیکھ زرباب تو فورا آفتاب کی گود سے اتر کر اسکی طرف بڑھا تھا ۔۔۔البتہ آفتاب ملک نے اس پر دوسری نظر بھی ڈالنا گوارہ نہیں کیا ۔۔۔”
جس سے زینیہ کا معصوم دل کٹا ۔۔۔”
لیکن پھر زرباب کے معصوم چہرے کی طرف دیکھتے وہ ہلکا سا مسکرائی ۔۔۔”
او مائی دود ( گوڈ ) جینی جان یہ آپ تو تیا (کو کیا ) ہو گیا ؟؟؟
زینیہ کو ہاسپٹل کے بیڈ پر پڑا دیکھ وہ پریشان لہجے میں بولا ۔۔۔”
بس ایسے ہی چھوٹی سی چوٹ لگ گئی تھی ۔۔۔لیکن اب میرا دوست میرا باب جان آ گیا ہے نا تو آپکی جینی جان بہت جلد ٹھیک ہو جائے گی ۔۔۔”
اسکے نرم گال کو نرمی سے چھوتے وہ مسکرا کر بولی تھی ۔۔۔
جبکہ اسکی بات پر زرباب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری ۔۔۔اس نے بیڈ کے پاس رکھی چیئر پر چڑھتے اوپر ہو کر زینیہ کے دائیں گال پر اپنے لب رکھے تھے ۔۔۔”
اب آپ جلدی تھیک ( ٹھیک ) ہونگی ۔۔۔”
اسکی حرکت پر جہاں زینیہ کی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی ۔۔۔” وہی سپاٹ نظروں سے انکی طرف دیکھتا آفتاب کمرے میں رکھے صوفے پر ریلکس انداز میں براجمان ہوتا پچھلے دو دنوں کے مسلسل رت جگے سے جلتی ہوئی اپنی آنکھیں بند کر گیا ۔۔۔”
زینیہ نے محبت سے آفتاب کی بند آنکھوں کو دیکھتے اپنے پاس ہی بیڈ پر بیٹھے زرباب کی طرف دیکھا جسکا بایاں گال اور نچلہ ہونٹ ابھی تک سوجھا ہوا تھا ۔۔جبکہ اسکے معصوم چہرے پر واضح ایشال کی انگلیوں کے نشان چھپے ہوئے تھے ۔۔۔”
جسے دیکھتے زینیہ کی آنکھیں بھیگی ۔۔۔”
اس نے بہت نرمی کے اسکے چہرے کو چھوا ۔۔۔باب جان یہ سب ؟؟۔۔۔” اسے اپنے قریب کرتے اسکے گال کو محبت سے چھوا ۔۔۔”
مجھے وہاں موجود گندی عولت ( عورت ) نے مالا ( مارا ) تھا ۔۔۔”
اور آپتو ( آپکو ) پتا ہے جینی جان وہ کہہ رہی تھی کہ میں ان تا بیٹا ہوں ۔۔۔” وہ میلی ماما ہیں ۔۔۔”
لیتن ( لیکن ) ماما تو کبھی اپنے بےبی کو اش طرح نہیں مالتی ( مارتی ) جیشے انہوں نے مجھے مالا ( مارا )۔۔۔”
وہ اس لیے میری جان کیونکہ وہ آپکی ماما نہیں تھیں ۔۔۔آپکی ماما میں ہوں ۔۔۔جو آپکی ماما ہونے کے ساتھ ساتھ آپکی دوست بھی ہے ۔۔۔آپکی جینی جان ۔۔۔
اسے اپنے دائیں کندھے کے ساتھ لگاتے نم لہجے میں بولتی وہ اس کے سر پر اپنے لب رکھ گئی ۔۔۔”
مجھے پتا ہے ۔۔۔ آپ ہی میلی ماما ہیں ۔۔۔مجھ شے اتنا پیال (پیار ) جو کلتی ( کرتی ) ہیں ۔۔۔”
اسکے گرد اپنے ننھے ہاتھ کا گھیرا بناتے زرباب نے اپنا چہرہ اسکے سینے میں چھپایا تھا ۔۔۔”
زینیہ نے اسکے گرد اپنے ہاتھ کی گرفت سخت کرتے اسے مزید خود میں بھینچتے اپنی ممتا کو سکون پہنچایا ۔۔۔”
جب بےدھیانی میں زرباب کا ہاتھ زینیہ کے زخم والی جگہ پر لگا تھا ۔۔۔زینیہ کے ہونٹوں سے درد سے سسکی برآمد ہوئی جسے سنتے زرباب فورا اس سے پیچھے ہوا ۔۔۔
جینی جان آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟
اسکے سرخ چہرے کو دیکھتے اس نے معصومیت سے سوال کیا تھا ۔۔۔
جبکہ زینیہ کے سسکنے اور زرباب کے سوال پر آفتاب نے اپنی جلتی ہوئی آنکھیں کھولیں تھیں ۔۔۔”
اور زرباب کو تقریبا زینیہ کے اوپر چڑھا دیکھ فورا اٹھ کر انکے قریب آیا تھا ۔۔۔”
زرباب انکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ابھی آپ انہیں تنگ مت کریں ۔۔۔اسے اپنی گود میں اٹھاتے فورا سے زینیہ سے دور کیا ۔۔۔”
نہیں میں ٹھیک ہوں ۔۔۔
زرباب کو واپس یہاں بٹھائیں ۔۔۔” زینیہ کی بات پر آفتاب نے سرخ نظروں سے اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔۔”
اسکی آنکھوں میں اتری لالی کو دیکھتے زینیہ نے فورا اپنی نظریں جھکائیں ۔۔۔
جنہیں ایک نظر دیکھنے کے بعد وہ زرباب کو لیتا دوبارہ صوفے کی طرف بڑھا ۔۔۔”
تبھی دروازہ ہلکا سا ناک کرتے شعیب اندر داخل ہوا تھا ،،،، جس کے پیچھے ہی رومان آیت اور انکے ساتھ ایک چھوٹی سی تقریبا چار پانچ سال کی بچی اندر داخل ہوئی تھی ۔۔۔”
السلام وعلیکم ۔۔۔”
رومان اور آیت نے مسکراتے ہوئے ایک ساتھ سلام کیا تھا ۔۔۔”
جسکا آفتاب نے خوش اسلوبی سے جواب دیا تھا ۔۔۔ جبکہ زینیہ انکے چہروں کو غور سے دیکھتی انہیں پہچاننے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔”
جسے دیکھتے آیت مسکرا کر اسکی طرف بڑھی ۔۔۔”
اب کیسی طبیعت ہے آپکی ؟؟؟؟
اسکی آواز کو سنتے لمحہ لگا تھا زینیہ کو اسے پہچاننے میں ۔۔۔” آپ آیت ہیں ؟؟؟ اور مائی گوڈ ۔۔۔کل تو آپ آئی کانٹ بلیو دس ۔۔۔”
اسکی بات پر آیت کے ہونٹوں کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی ۔۔۔
جی میں آیت ہی ہوں ۔۔۔ایکچلی کل ہم نے اپنا حلیہ تھوڑا بدلہ ہوا تھا ۔۔۔تاکہ ہمیں کوئی پہچان نا سکے ۔۔۔”
جس پر اس نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا تھا ۔۔۔”
کل جب رومان نے زینیہ کو اپنا پیچھا کرتے ہوئے پکڑا تو اسے مختصر لفظوں میں اپنا اور آیت کا تعارف بھی ساتھ کروایا تھا ۔۔۔
اور آیت نے ہی اسے نرم لہجے میں معاملے کی گھمبیرتا کے بارے میں بتاتے اسے وہی نیچے ٹھہرنے کا بولا تھا ۔۔۔
لیکن جب کافی دیر گزرنے کے بعد بھی وہ لوگ نیچے نہیں آئے تو ۔۔۔زینیہ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوئے اوپر کی طرف بڑھی تھی ۔۔۔”
جہاں آفتاب ایشال کا گلا دبوچے عمارت کے دہانے پر کھڑا تقریبا اسکی سانسیں چھین لینے کے در پر تھا ۔۔۔”
آفتاب کے ہونٹوں سے اپنے لیے محبت کا لفظ سنتے جہاں اس کے دل میں ایک سکون اترا تھا وہی ایشال کی التجاؤں اور اکھڑتی سانسوں پر وہ آفتاب کو نرمی سے پکار گئی تھی ۔۔۔
کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی ۔۔۔کہ آفتاب اپنے ہاتھ اس کم ظرف عورت کے خون سے رنگے ۔۔۔”
اور آفتاب نے اسکی بات کا مان رکھتے اسے چھوڑ دیا ۔۔۔” اس بات نے آفتاب کو اسکی نظروں میں مزید معتبر کر دیا تھا ۔۔۔”لیکن جب ایشال نے آفتاب پر گن تانی تو ۔۔۔اسے ایسا لگا جیسے کوئی اسکی زندگی چھین کر لیجا رہا ہو ۔۔۔
اور جیسے ہی ایشال نے ٹریگر دبایا وہ بھاگ کر اسکے سامنے آئی تھی ۔۔”
کیونکہ وہ اپنی جان تو دے سکتی تھی ۔۔لیکن کسی بھی حال میں آفتاب کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دے سکتی تھی ۔۔۔
اور اسے فخر تھا اس بات پر کہ آفتاب پر چلنے والی گولی اس نے خود پر لیتے اپنی محبت کا فرض نبھایا تھا ۔۔،
لیکن ان سب کے دوران وہ آفتاب کے جذبات کو اگنور کر گئی تھی ۔۔۔جس کی سزا اسے آفتاب کی ناراضگی کے صورت میں بھگتنی پڑ رہی تھی ۔۔۔”
°°°°°°°°°°°°°°°°
رومان اور شعیب تو آفتاب کے ساتھ صوفے پر براجمان ہو گئے تھے ۔۔۔جبکہ آیت زینیہ کے پاس بیٹھتی اسکا حال چال دریافت کرنے لگی تھی ۔۔۔”
ایسے میں رومان کے ساتھ لگ کر کھڑی ایک معصوم ننھی سی جان کو دیکھتے زرباب ملک کی آنکھیں چمکی اور آفتاب کی گود سے نکل کر اسکے قریب آیا تھا ۔۔۔”
جس پر چونک کر اس معصوم نے اپنے سامنے کھڑے زرباب ملک کی طرف دیکھا جو آنکھوں میں اشتیاق لیے اسکے معصوم چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔”
ہائے آئی ایم زلباب ملک اینڈ یوں ؟؟؟
اپنا ننھا سا ہاتھ اسکے سامنے بڑھاتے مسکرا کر بولا تھا ۔۔۔”جس پر چونک کر کمرے میں موجود سبھی افراد ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے۔۔”
اس نے پلٹ کر اپنے بابا کی طرف دیکھا ۔۔۔” جس نے مسکرا کر اشارہ کیا تھا ۔۔۔”
جس پر مسکراتی وہ دوبارہ زرباب کی طرف متوجہ ہوتی اسکی طرف بڑھا زرباب ملک کا ہاتھ تھام گئی تھی ۔۔۔”
چاھت ،،، چاھت رومان شاہ ۔۔۔” اس چھوٹی سی ڈول کے اتنے کونفیڈنس سے جواب دینے پر جہاں آفتاب اور شعیب نے اسکی طرف اشتیاق سے دیکھا ۔۔۔وہی زرباب کے ہونٹوں کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی ۔۔۔”
نائش نیم ۔۔۔”
مجھ شے دوشتی کرینگی ؟؟؟ اسکے نام کی تعریف کرتے زرباب نے اگلا سوال کیا تھا ۔۔۔”
جس پر وہاں بیٹھے تینوں مرد حیران سے اس چھوٹے سے بچے کی چالاکی پر عش عش کر اٹھے تھے ۔۔۔
جو ایک لمحے میں ہی بات دوستی پر لے آیا تھا ۔۔۔”جبکہ انکے برعکس آیت اور زینیہ نرمی سے مسکرائی تھیں ۔۔۔”
چاھت نے چند پل کیلئے اسکی کرسٹل گرے آنکھوں میں دیکھا ۔۔جو کافی حد اسکے بابا سے ملتی تھیں ۔۔اور پھر مسکرا کر ہاں میں سر ہلا گئی تھی ۔۔۔
جس پر زرباب خوش ہوتا اسکا ہاتھ یونہی تھام کر پاس ہی رکھے دوسرے سنگل صوفے پر براجمان ہو گیا ۔۔۔”
اور اس کے ساتھ چھوٹے چھوٹے سوال کرتا خود اپنے سکول کے دوستوں کے بارے میں بتانے لگا ۔۔۔”
ان دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مگن ہوتے دیکھ وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوئے ۔۔۔
جب شعیب نے آفتاب کے کان کے قریب جھکتے سرگوشی کی ۔۔۔
یہ بڑا ہو کر تجھ سے بھی چار ہاتھ آگے نکلے گا ۔۔۔” لکھوا لے مجھ سے یہ بات ۔۔۔”
آفتاب نے شعیب کی فضول بات پر تیکھی نگاہوں سے اسے گھورا تھا ۔۔۔”
ایسے کیا دیکھ رہا ہے ۔۔۔دیکھ تو سہی اپنے بیٹے کی طرف کیسے پل میں لڑکی کو پٹا کر اپنی دوست بناتا اس سے راز و نیاز کر رہا ہے ۔۔”
اور ایک ہم تھے جسے سکول تو دور کالج میں بھی کوئی لڑکی گھاس نہیں ڈالتی تھی ۔۔۔”
زرباب کو چاھت کے ساتھ ہلکی آواز میں بات کرتے دیکھ جسکا وہ مسکراتے ہوئے جواب دے رہی تھی شعیب جل کر بولا ۔۔۔
اب تیری شکل ہی ایسی تھی جسے دیکھتے لڑکیاں اپنا راستہ بدل لیتی تھیں ۔۔اس میں میرا اور میرے بیٹے کا کیا قصور ۔۔”
آفتاب نے لاپرواہی سے کہتے کندھے جھٹکے ۔۔۔” اتنی صاف بےعزتی پر حیرت سے شعیب کا منہ کھل گیا تھا۔۔۔
جبکہ پاس بیٹھے رومان شاہ کا قہقہہ بلند ہوا ۔۔۔”
آفتاب ۔۔۔”
رومان کو ہنستا دیکھ شعیب نے آفتاب کو گھورا ۔۔۔” کیا ؟؟؟ میں نے کچھ غلط بولا ۔۔۔”
نچلہ لب دانتوں تلے دباتے اس نے مسکراہٹ چھپائی ۔۔۔”
تجھ سے تو میں بعد میں نبٹو گا ۔۔۔فلحال مہمانوں کو دیکھ لوں ۔۔۔” ایک ایک لفظ پیستے وہ رومان کی طرف متوجہ ہوا تھا جو پل میں ایسا بن گیا ۔۔۔جیسے انکی کوئی بات سنی ہی نا ہو ۔۔۔”
اور سناؤ یار کیا لو گے ۔۔۔کھانے کیلئے کچھ لاؤں ۔۔”
مہمان نوازی کے فرض نبھاتے وہ خوش اسلوبی سے بولا ۔۔۔” نہیں لالا اسکی ضرورت نہیں ۔۔۔
ایکچلی ہم لوگ لاہور واپس جا رہے تھے ،،،، تو جانے سے پہلے لالا اور بھابھی سے ملنے کیلئے آئے تھے اور ساتھ میں انکی ایک امانت بھی لوٹانی تھی ۔۔۔”
نرمی سے بولتے وہ اپنے ساتھ لایا بیگ آفتاب کی طرف بڑھا گیا ۔۔۔”
جس میں ایشال کو دینے والی رقم اور پراپرٹی کے کاغذات موجود تھے ۔۔جنہیں زینیہ کی حالت کو دیکھتے وہ مکمل طور پر بھول چکا تھا ۔۔”
بہت شکریہ یار ۔۔۔
آفتاب سچ میں رومان کی ایمانداری سے کافی متاثر ہوا تھا ۔۔۔”
لالا ؟؟؟
رومان کے ان دونوں کو لالا پکارنے پر شعیب نے حیرت سے سوال کیا ۔۔۔
جی آفتاب لالا میں نے پرمیشن لی تھی ان سے ۔۔۔” او سہی ۔۔۔آپکو کوئی اعتراض تو نہیں اگر میں آپکو بھی لالا پکاروں تو ؟؟؟؟
نہیں یار بلکہ بہت اچھا لگا ۔۔۔”
ویسے رومان میں نے نوٹ کیا تم دوسرے آرمی آفیسرز سے کافی مختلف ہو ۔۔۔”
مطلب ۔۔۔”
شعیب کی بات پر رومان نے ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔”
مطلب یہ کہ میں کبھی ملا تو نہیں لیکن ہمیشہ یہی سنا کہ آرمی کے آفیسرز بہت سخت طبیعت کے مالک ہوتے ہیں ۔۔۔جلدی کسی سے گھلتے ملتے نہیں ۔۔اور نا ہی بات بات پر عام انسانوں کی طرح مسکراتے ہیں ۔۔۔
لیکن تمہاری نیچر تو بہت جولی اور فرینڈلی قسم کی ہے ۔۔۔” اسکے تفصیل سے بتانے پر شعیب کے ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ آئی تھی ۔۔”
جی آپ نے بالکل ٹھیک سنا ہے ۔۔۔اور چند سال پہلے تک میں بھی کچھ ایسا ہی تھا ۔۔”
لیکن پھر میری زندگی میں ایک ایسا انسان آیا جس نے مجھے مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ۔۔”
اچھا اور وہ تھا کون ؟؟؟ کہیں بھابھی کی بات تو نہیں کر رہے ۔۔۔
آیت کی طرف اشارہ کرتے جو زینیہ سے باتوں میں مصروف تھی شعیب نے شریر لہجے میں سوال کیا تھا ۔۔۔”
جسے ایک نظر دیکھنے کے بعد رومان نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔”
میں اپنے دوست پلس بہنوئی کی بات کر رہا ہوں ۔۔۔” جس نے مجھے اصل زندگی کسے کہتے ہیں ۔۔۔
اسکا مطلب سمجھایا۔۔”
اپنی تکلیف کو بھول کر زندگی کو کھل کیسے جیا جاتا ہے ۔۔۔
اسکا طریقہ سکھایا ۔۔۔”
میری زندگی مشکل ضرور تھی ۔۔۔لیکن جو اسکے ساتھ ہوا تھا ،،،، اسکے بعد مسکرانا تو دور کوئی عام انسان زندگی جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔۔”
لیکن میرا وہ دوست نا صرف خود مسکراتا رہا ،،،، بلکہ اپنی شرارتوں اور مسکراہٹوں سے دوسروں کے چہروں پر بھی خوشی کے پھول کھلاتا رہا ۔۔۔”
زارون شاہ کا ذکر کرتے رومان کے چہرے پر ایک الوہی خوشی کی جھلک دکھائی دے رہی تھی ۔۔۔”
جسے دیکھتے وہ دونوں بھی مسکرائے تھے ۔۔۔”
میرا دوست ،،،، میرا ہم ساتھی ۔۔۔
میجر زارون شاہ ۔۔۔”
رومان کے لہجے میں زارون کیلئے مان تھا
ایک عزت تھی ۔۔۔جسے ان دونوں نے شدت سے محسوس کیا ۔۔۔”
لالا ہمیں زندگی صرف ایک بار ہی ملتی ہے ۔۔۔اب یہ ہم پر ڈیپنڈ کرتا ہے کہ ہم اسے کس طرح گزارتے ہیں ۔۔۔”
اپنے غموں پر روتے ہوئے ۔۔۔
یا پھر اپنے رب کی رضا میں راضی ہوتے خوشی سے جیتے ہوئے ۔۔۔”
اپنی بات مکمل کرتے اس نے مسکرا کر ان دونوں کی طرف دیکھا ۔۔۔
جنہوں نے مطلب سمجھتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا تھا ۔۔”
